Ibaaq ka bayan
اِباق کا بیان
سوال : اِباق کا مطلب کیا ہے؟
جواب : یہ غلام اور باندی میں (موجود) ایسی سرکشی ہے جس کے سبب سے وہ مالک سے قصداً بھاگتے ہیںاور بھاگنے والے کا نام آبقُ رکھا جاتا ہے۔
سوال : مملوک بھاگ گیا پس کسی شخص نے اسے اس کے آقا کے پاس لوٹایا(تو)کیا یہ لوٹانے والا اپنے(اس)کام پر مزدوری کا مستحق ہوتا ہے؟
جواب : جی ہاں! اس کے لیے مزدوری ہے،اگر اسے تین دن یا زاٸد کی مسافت سے اسے لوٹاۓ تو اس کے لۓ چالیس درہم ہیں آقا ان(درہموں)کو ادا کرے گا اور اگر اسے اس سےکم(کی مسافت) سے لوٹاۓ تو (مزدوری) اس کے حساب کے(مطابق)ہو گی۔
سوال : اگر غلام کی قیمت چالیس درہموں سے کم ہو تو(لوٹانےوالے)کے لیے کس(چیز) کا فیصلہ دیا جاۓ؟
جواب : اس کے لۓ ایک درہم کم(غلام)کی قیمت کا فیصلہ دیا جاۓ۔
سوال : کسی شخص نے بھاگنے والے کو پکڑا تاکہ اسے اس کے آقا کے پاس لوٹاۓ پس غلام اس سے بھاگ گیا(تو) اس کی مزدوری کا حکم کیا یے؟
جواب : اس کے لیے کوٸی مزدوری نہیں جیسا کہ اس کو بھگانے میں اس کے ذمہ کوٸی شے نہیں اور مناسب ہے کہ وہ گواہ بناۓ جب پکڑے کہ وہ اسے پکڑ رہا ہے تاکہ اسے اس کے آقا کے پاس لوٹاۓ۔
سوال : بھگوڑا غلام مرہون تھا پس کسی شخص نے اس کو پکڑا اوراسے لے آیا(تو)مزدوری کس پر واجب ہو گی؟راہن یا مرتہن پر؟
جواب : وہ مرتہن کے ذمہ ہے۔

No comments: