Ijarah torne or iske az khud tootne ka bayan
اجارہ توڑنے اور اس کے (ازخود) ٹوٹنے کا بیان
سوال : جب باہم عقد کرنے والے دو (شخصوں) میں سے کوئی ایک مر جائے تو کیا عقد اجارہ اس (حال) پر باقی رہتا ہے جس پر تھا؟
جواب : اس بارے میں دیکھا جائے گا کہ اگر اس نے اپنے لئے عقد (اجارہ) کیا تھا تو اس کی موت سے عقد( اجارہ) ٹوٹ جائے گا اور اگر اس نے اپنے سوا کسی کے لیے عقد اجارہ کیا تھا جیسے وکیل اپنے موکل کے لئے ، ولی بچے کے لیے اور والد اپنے ولد کے لئے (عقد اجارہ کرے) تو (عقد اجارہ) نہیں ٹوٹتا ۔
سوال : کیا عذروں کی وجہ سے عقد اجارہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب : جی ہاں ان کی وجہ سے اجارہ ٹوٹ جاتا ہے جیسے کسی نے بازار میں دکان کرایے پر لی تاکہ اس میں تجارت کرے پس اس کا مال ضائع ہوگیا اور جیسے کسی نے مکان یا دکان کرایہ پر دی پھر وہ تنگدست ہو گیا پس اسے ایسے دیون لازم ہو گئے کہ وہ این (دیون) کو ادا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا مگر اس کے ثمن کے ذریعے جس کو اس نے کرایہ پر دیا تو قاضی عقد اجارہ توڑ دے گا اور اس مکان اور دکان کو دین (کی ادائیگی) میں بیچ دے گا ۔
سوال : جانور کرایہ پر لیا تاکہ اس پر سفر کرے پھر اسے سوجھا کے سفر نہ کرے تو کیا یہ ایسا عذر ہے جو اجارہ
توڑنے میں معتبر ہو ؟
جواب : جی ہاں یہ ان عذروں میں سے ہے جو اجارہ توڑنے میں معتبر ہوتے ہیں۔
سوال : ایک شخص مسافروں کو اپنے جانور کرایہ پر دیتا ہے بس اس نے ایک شخص سے عقد کیا تاکہ اسے سوار کرے پھر اسے سفر سے عذر سوجھا تو عقد اجارہ توڑنا اس کے لئے (جائز) ہے ؟
جواب : (عقد اجارہ) توڑنے میں اسے معتبر عذر شمار نہیں کیا جاتا اور اس کے ذمہ ہے کہ اپنے مزدور کے ساتھ جانور بھیجے یا خود چلے۔

No comments: