Iqalah ka bayan

اِقَالَہ کا بیان

سوال : اقالہ کیا ہے اور سفید شریعت میں اسکا حکم کیا ہے؟

جواب : اقالہ اس عقد کو ختم کرنا ہے جس کو فروخت کنندہ اور خریدار نے آپس میں مکمل کیا اور یہ (یعنی اقالہ) دونوں (یعنی بائع اور مشتری) کی باہم رضامندی کے ساتھ ثمنِ اول کے مثل کے عوض جائز ہے۔

سوال : اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک ثمنِ اول سے زیادہ یا اس سے کم کی شرط لگائے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ شرط باطل ہےاور (مبیع) ثمنِ اول کے مثل کے عوض لوٹائی جائے۔

سوال : اقالہ فسخ ہے یا نئی بیع؟

جواب : حضرت ابوحنیفہ رحمہ اللّہ کے قول کے مطابق یہ (یعنی اقالہ) باہم عقد کرنے والے دو شخصوں کے حق میں فسخ (ہے) اور ان کے غیر کے حق میں نئی بیع ہے۔ 

سوال : اقالہ کا حکم کیا ہے جب ثمن یا مبیع ہلاک ہوجائے؟

جواب : ثمن کا ہلاک ہونا اقالہ کی صحت سے نہیں روکتا اور مبیع کا ہلاک ہونا اس کی صحت سے روکتا ہے۔

سوال : کچھ مبیع ہلاک ہو جائے تو باقی (مبیع) میں اقالہ کا حکم کیا ہے؟

جواب : اقالہ باقی (مبیع) میں جائز ہے۔

فائدہ : جب باہم عقد کرنے والے دو شخصوں میں سے ایک اپنے عقد پر پشیمان ہو پس وہ اپنے ساتھی سے التماس کرے کہ وہ بیع کو توڑ دے تو (بیع) کو توڑنا اس کیلئے مستحب ہے اور اس میں بڑا ثواب ہے۔




No comments:

Powered by Blogger.