Iqrar ka bayan
اقرار کا بیان
مقر: اقرار کرنے والا
مقر لہ: جس کے لیئے اقرار کیا جائے
مقر بہ: جس چیز کا اقرار کیا جائے
سوال : شریعت مطہرہ میں اقرار کا کیا حکم ہے؟
جواب : جب آزاد بالغ عاقل کسی حق کا اقرار کرے تو اسکا اقرار اسے لازم ہوگیا مجہول ہو وہ (چیز) جس کا اس نے اقرار کیا یا معلوم اور اقرار کرنے والا اپنے اقرار کی وجہ سے پکڑا جاتا ہے۔
سوال : مجہول (چیز) کی وجہ سے اسے کیسے پکڑا جاۓ؟
جواب : اس سے کہا جاۓ کہ مجہول (چیز) کی وضاحت کرے پس اگر وہ وضاحت نہ کرے تو قاضی اسے وضاحت پر مجبور کرے۔
سوال : (کسی) نے کہا کہ فلاں کیلیے میرے ذمہ کوئی ایسی چیز ہے پس لوگوں نے اس سے وضاحت طلب کی اور قاضی نے اسے (وضاحت کرنے پر) مجبور کیا پس اس نے وضاحت کی اور کہا میرے ذمہ پانی کا قطرہ یا گندم کا دانہ ہے مثلاً تو اسکا کیا حکم ہے؟
جواب : اسکا یہ قول قبول نہیں کیا جاۓ گا بلکہ اسے لازم ہوگا کہ وہ ایسی (چیز) بیان کرے جس کی قیمت ہو۔
سوال : (کسی) نے معلوم یا مجہول (چیز) کا اقرار کیا اور مُقَرَلَهٗ نے اس سے زائد کا دعویٰ کیا تو کس کے ساتھ فیصلہ کیا جاۓ؟
جواب : جب مجہول (چیز) کا اقرار کرے یا کہے کہ اس کے لیے میرے ذمہ مال ہے تو اسکے بیان میں مرجع اس (مقر) کی طرف ہے اور (معتبر) قول اس (بیان) میں (مقر) کا قول اسکی قسم کے ساتھ ہے اور اسکا قول قلیل اور کثیر (مقدار) میں قبول کیا جاۓ گا۔
سوال : اگر کہے کہ اس کے لیے میرے ذمہ بڑا مال ہے پھر وضاحت کرے اور کہے کہ وہ دس درہم ہیں تو کیا اس (وضاحت) میں اسکی تصدیق کی جاۓ؟
جواب : اس صورت میں دو سو درہموں سے کم میں اسکی تصدیق نہ کی جائے۔
سوال : اگر کہے کہ اس کیلیے میرے ذمہ بہت سے درہم ہیں پھر وضاحت کرے اور کہے کہ وہ تین (درہم) ہیں مثلاً (تو) کیا اس (وضاحت) میں اسکی تصدیق کی جائے؟
جواب : جب اس نے دراہم کو کثرت کے ساتھ موصوف کیا تو دس درہموں سے کم میں اسکی تصدیق نہ کی جائے۔
سوال : اگر کہے کہ اس کے لیے میرے ذمہ دراہم ہیں تو کتنے (درہموں) کے ساتھ اسے پکڑا جاۓ؟
جواب : تین درہموں کے ساتھ اسے پکڑا جاۓ کیونکہ (تین) جمع کا کم ترین (فرد) ہے اِلَّا یہ کہ وہ ان سے زائد کو بیان کرے۔
سوال : اگر کہے کہ اس کیلئے میرے ذمہ اتنے اتنے درہم ہیں یا کہے کہ اس کے لیے میرے ذمہ اتنے اور اتنے درہم ہیں تو اسکا کیا حکم ہے؟
جواب : پہلی صورت میں گیارہ درہموں سے کم میں اور دوسری صورت میں اکیس (درہموں) سے کم میں اسکی تصدیق نہ کی جائے۔
سوال : جب کہے لَهٗ عَلَیّ (اس کے لیے میرے ذمہ) ہے یا قَبِلی (میری جانب سے) ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ دین کا اقرار ہے.
سوال : اور اگر کہے لَہ عِنْدی اس کے لئیے میرے پاس ہے یا مَعی میرے ساتھ ہے تو اس اقرار کو کس پر محمول کیا جائے؟
جواب : یہ اس کے قبضہ میں موجود امانت کا اقرار ہے.
سوال : ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا اور کہا کہ میرے لیے تیرے ذمہ ہزار درہم ہیں پس مخاطب یا (مدعی علیه) نے کہا کہ میں نے وہ ادا کر دیے یا اس نے کہا کہ انکو پرکھ لیجیے یا انکو وزن کر لیجیے یا مجھے ان (کی ادائیگی) کی مہلت دیجیے تو اسکا کیا حکم ہے؟
جواب : یہ (کلام) اقرار پر محمول کیا جاۓ۔
سوال : کسی شخص کیلیے میعادی دین کا اقرار کیا پس مقرله نے دین کے بارے میں تصدیق کی اور میعاد کے بارے میں اسکی تکذیب کی تو کیا میعاد کا فیصلہ دیا جاۓ گا یا اس (دَین) کی ادائیگی اسے فی الحال لازم ہوگی؟
جواب : (دَین) کی ادائیگی اسے فی الحال لازم ہو گی اور میعاد کے بارے میں مقرله سے حلف لیا جاۓ گا۔
سوال : دَین کا اقرار کیا اور اپنے اقرار کے ساتھ متصلاً کسی چیز کا استثنا کیا تو اسکا کیا حکم ہے؟
جواب : استثنا صحیح ہوگیا اور باقی اسے لازم ہوگیا اور اس (سلسلہ) میں کم اور زیادہ کا استثنا برابر ہے۔
سوال : اس بارے میں اپکا قول کیا ہے جب وہ تمام کا استثنا کرے؟
جواب : استثنا باطل ہوگا اور اقرار اسے لازم ہوگا۔
سوال : اگر کہا کہ اسکے لیے میرے ذمہ دینار کم یا گندم کا قفیز کم سو درہم ہیں تو کتنے (درہموں) کے ساتھ فیصلہ دیا جاۓ؟
جواب : سو درہموں کا فیصلہ دیا جاۓ اور اس میں سے دینار یا (گندم کے) قفیز کی قیمت متشنیٰ کر لی جاۓ۔
سوال : (کسی) نے کہا کہ اس کیلیے میرے ذمہ ایک سو اور ایک درہم ہے پس اس نے سو پر ایک درہم کا عطف کیا اور تمیز کو حذف کردیا تو اسکے ذمہ کیا واجب ہوگا؟
جواب : ایک سو درہم اور ایک درہم اسکے ذمہ واجب ہوں گے اور کہا جاۓ گا کہ اس نے لفظ درہم کو حذف کردیا جو مائة (یعنی سو) کی تمیز ہے۔
سوال : اگر ایک سو اور ایک کپڑے کا اقرار کیا تو اسکے ذمہ کیا واجب ہوگا؟
جواب : ایک کپڑا اسے لازم ہوگیا اور سو کی تفسیر میں اسکی طرف رجوع کیا جاۓ۔
سوال : کسی شخص کے لیے کسی حق کا اقرار کیا اور اپنے اقرار کے ساتھ متصلاً ان شاءاللہ کہا تو اسے کیا لازم ہوگا؟
جواب : اسے کچھ لازم نہیں ہوگا کیونکہ یہ استثنا کلام کو سرے سے ختم کر دیتا ہے اور اسے ایسا بنا دیتا ہے گویا کہ وہ نہیں ہوا۔
سوال : ایک شخص نے کسی کے لیے کسی حق کا اقرار کیا اور کہا میں مثلاً تین دن تک با اختیار ہوں (تو) اسکا کیا حکم ہے؟
جواب : اقرار لازم ہے اور خیار باطل ہے کیونکہ خیار فسخ کیلیے (مشروع) ہے اور اقرار فسخ کو قبول نہیں کرتا۔
سوال : کسی شخص کے لیے مکان کا اقرار کیا اور اسکی عمارت اپنے لیے مستثنیٰ کر لی تو اسے کیا لازم ہوگا؟
جواب : مکان اور عمارت دونوں اسے لازم ہوں گے اور استثنا کی پرواہ نہیں کی جاۓ گی۔
سوال : اگر کہے اس مکان کی عمارت میری ہے اور میدان فلاں کا ہے تو کیا اس صورت میں اسکی تصدیق کی جائے گی؟
جواب : جی ہاں اسکی تصدیق کی جائے گی۔
سوال۔ ٹوکرے میں (موجود) کھجور کا اقرار کیا اسے کیا لازم ہوگا؟
جواب : کھجور اور ٹوکرا دونوں اسے لازم ہوں گے
سوال : کسی جانور کا اقرار کیا اس حال میں کہ وہ اصطبل میں ہے تو اس کے خلاف کس چیز کا فیصلہ دیا جائے؟
جواب : اس کے خلاف صرف جانور کا فیصلہ دیا جائے
سوال : اگر کہے میں نے رومال میں موجود ایک کپڑا غصب مجا یا کہے اس کے لئیے میرے ذمہ کپڑے میں موجود کپڑا ہے تو اس کے خلاف کس چیز کا فیصلہ دیا جائے؟
جواب : اس کے خلاف کپڑے اور رومال دونوں اور اسی طرح دونوں کپڑوں کا فیصلہ دیا جائے گا
سوال : اگر کہے اس کے لئیے میرے ذمہ دس کپڑوں میں موجود ایک کپڑا ہے تو اسے کیا لازم ہو گا؟
جواب : حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف ایک کپڑا اسے لازم ہو گا اور حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے گیارہ کپڑے لازم ہوں گے
سوال : کسی نے اقرار کیا کہ اس نے فلاں سے ایک کپڑا غصب کیا اور وہ ایک عیب دار کپڑا لایا اور کہا کہ یہ وہی کپڑا ہے تو کیا اس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا؟
جواب : اس بارے میں اس کی قسم کے ساتھ اس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا
سوال : درہموں کا اقرار کیا اور کہا کہ وک درہن کھوٹے ہیں تو اس کے ذمے کیا واجب ہوگا؟
جواب : اس بارے میں بھی اس کی قسم کے ساتھ اس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا
سوال : کسی نے کہا کہ اس کے لئیے میرے ذمہ پانچ در پانچ ہیں وہ اس قول سے ضرب اور حساب کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : ایک پانچ اسے لازم ہوں گے
سوال اگر کہے میں نے پانچ کے ساتھ پانچ کا ارادہ کیا ہے تو اس کے ذمہ کیا واجب ہوگا؟
جواب : اس کے ذمے دس واجب ہوں گے
سوال : جب کہے اس کے لئیے میرے ذمہ ایک درہم سے دس تک ہیں تو اسے کیا لازم ہو گا
جواب : ابتداء اور اس کا ما بعد اسے لازم ہوں گے اور غایت ساقط ہو گی پس وہ نو درہم ادا کرے گا اور یہ حکم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہھما اللہ فرماتے ہیں کہ غایت کو مغیا میں داخل کرتے ہوئے اسے پورے دس لازم ہوں گے
سوال : جب کہے اس کے لئیے میرے ذمہ اس غلام کا ثمن ہزار درہم ہیں جو غلام میں نے اس سے خریدا اور میں نے اس پر قبضہ نہیں کیا تو کیا چیز اسے لازم ہو گی؟
جواب : اگر معین غلام ذکر کیا تو مقر لہ سے کہا جائے گا کہ اگر آپ چاہیں تو غلام سپرد کر دیں اور ہزار درہم لے لیں وگرنہ آپ کیلئیے اس کے ذمہ کچھ نہیں اور اگر غلام ذکر کیا اور اسے معین نہیں کیا تو حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول میں ہزار درہم اسے لازم ہوں گے
سوال : اگر کہا اس کیلئیے میرے ذمہ شراب یا سور کا ثمن ہزار درہم ہیں تو اس کے ذمہ کیا واجب ہو گا؟
جواب : ہزار درہم اسے لازم ہوں گے اور اس کا قول وہ ہزار درہم شراب یا سور کا ثمن ہے قبول نہیں کیا جائے گا.
سوال : کسی نے کہا اس کیلئیے میرے ذمہ کا سامان کا ثمن ہزار درہم ہیں اور وہ کھوٹے ہیں اور مقر لہ نے اس کا قول رد کر دیا اور کہا وہ درہم کھرے ہیں تو ان دونوں کے درمیان کیسے فیصلہ دیا جائے گا؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول میں کھرے درہم اسے لازم ہوں گے حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ اور حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے یہ یعنی کھوٹوں والی بات موصولاً کہی تو اس کے اس قول میں اس کی تصدیق کی جائے گی کہ تحقیق وہ درہم کھوٹے ہیں اور اگر اس نے یہ یعنی کھوٹوں کی بات مفصولاً کہی تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی
سوال : کسی شخص کیلئیے انگوٹھی یا تلوار کا اقرار کیا تو اس کے ذمہ کیا واجب ہو گا؟
جواب : نگینہ سمیت انگوٹھی اور نیام و پڑتلہ سمیت تلوار اسے لازم ہو گی
سوال : ڈولی کا اقرار کیا اور لکڑیوں اور پردے کے ذکر سے خاموش رہا تو اسے کیا لازم ہو گا؟
جواب : لکڑیوں اور پردہ سمیت ڈولی اسے لازم ہو گی.
سوال : کسی نے کہا تحقیق فلاں خاتون کہ اس کے پیٹ میں حمل ہے اور اس حمل کیلئے میرے ذمہ ہزار درہم ہیں تو کیا یہ اقرار صحیح ہو گا؟
جواب : اس بارے میں دیکھا جائے گا اگر اس نے کہا کہ فلاں نے اس کے لئیے وصیت کی یا کہا اس کا باپ مر گیا پس یہ حمل اس کا وارث ہو گیا تو اقرار صحیح ہے اور اگر اس نے اقرار کو مبہم رکھا تو اقرار صحیح نہیں ہو گا اور یہ تفصیل حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے اور حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تفصیل کے بغیر اقرار صحیح ہے اور وہ لازم ہو گا جس کا اس نے اقرار کیا
سوال : کسی شخص کیلیئے باندی کے حمل یا بکری کے حمل کا اقرار کیا تو کیا یہ صحیح ہے؟
جواب : یہ اقرار صحیح ہے اور جس کا اس نے اقرار کیا لازم ہے.
سوال : مریض نے اپنے مرض وفات میں دیون کا اقرار کیا اس حال میں کہ اس کے ذمہ اس کی صحت میں موجود دیون ہیں اور کچھ دیون اسباب معلومہ کی وجہ سے اسے لازم ہو گئے تو کون سے دیون ادائیگی میں مقدم کیے جائیں؟
جواب : صحت کا دین اور وہ دین جو اسباب کی وجہ سے معلوم ہے اس دین پر مقدم ہے جس دین کا اقرار اس نے اپنے مرض وفات میں کیا
سوال : پس اگر اس کے ذمہ ایسے دیون نہ ہوں جو اسے صحت میں لازم ہوئے ہوں تو ان دیون کا حکم کیا ہے جن کا اس نے مرض وفات میں اقرار کیا؟
جواب : اس کا یہ اقرار جائز ہے اور مقر کہ ورثی کی بہ نسبت زیادہ حقدار ہے
سوال : مریض کے اقرار کا حکم کیا ہے جب وہ بعض وارثوں کیلئیے اقرار کرے؟
جواب : وارث کے لئیے اس کا اقرار باطل ہے الا یہ کہ باقی ورثہ اس اقرار میں اس کی تصدیق کریں
سوال : اجنبی کیلئیے مرض وفات میں اقرار کیا پھر کہا تحقیق وہ میرا بیٹا ہے تو ان دونوں اقراروں کا حکم کیا ہے؟
جواب : نسب کے متعلق اس کا اقرار درست ہے پس مقر لہ ثابت النسب ہو جائے گا اور کے متعلق اس کا اقرار باطل ہو جائے گا.
سوال : مرض وفات میں اجنبی خاتون کیلئیے مال کا اقرار کیا پھر اس سے نکاح کر لیا تو اس کے اقرار کا حکم کیا ہے؟
جواب : مال کے متعلق اس کا اقرار درست ہے اور وہ اقرار نکاح کرنے سے باطل نہیں ہو گا.
سوال : ایک شخص نے مرض وفات میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر اس کے لئیے دین کا اقرار کیا اور مر گیا تو یہ خاتون اس کے مال میں سے کیا لے گی؟
جواب : دین اور اس می میراث میں سے جو گم ہو گا وہ اس مال میں سے لے گی.
سوال : کسی لڑکے کے بارے میں اقرار کیا کہ تحقیق وہ اس کا بیٹا کے اور اس لڑکے کا مثل اس والد کے مثل کے لئیے پیدا ہو سکتا ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اگر اس لڑکے کا معروف نسب نہیں ہے اور وہ لڑکا اس کے اقرار کے بارے میں اس کی تصدیق کرتا ہے تو اس کا نسب اقرار کرنے والے سے ثابت ہو جائے گا.
سوال : اگر اقرار کرنے والے والا مریض ہو اور وہ کسی لڑکے کے لئیے اقرار کرے کہ تحقیق وہ اس کا بیٹا ہے اور اس کا نسب ثابت ہو گیا پھر اقرار کرنے والا مر گیا تو یہ لڑکا میراث میں مقر کے ورثہ کے ساتھ شریک ہو گا؟
جواب : جی ہاں میراث میں ان ورثہ کے ساتھ شریک ہو گا.
سوال : کیس کسی شخص کا یہ اقرار جائز ہے کہ فلاں اس کا والد,فلاں اس کی والدہ,فلاں اس کی بیوی اور فلاں اس کا ولد یا اس کا آقا ہے؟
جواب : جی ہاں ان سب کے متعلق اقرار درست ہو گا.
سوال : عورت کا والدین,خاوند اور آقا کے بارے میں اقرار کا حکم کیا ہے؟
جواب : ان سب کے متعلق اس کا اقرار درست ہے.
سوال : ولد کے بارے میں اس عورت کے اقرار کاحکم کیا ہے؟
جواب : جب شوہر اس بارے میں اس عورت کی تصدیق نہ کرے تو اس کا اقرار قبول نہیں کیا جائے گا پس اگر اس کی تصدیق کر دے یا دائی جنائی اس کے بچہ جننے کی گواہی دے دے تو اس کے شوہر سے نسبت ثابت ہو جائے گا
سوال : جس نے والدین اور ولد کے علاوہ کسی نسب کا اقرار کیا جیسے یوں کہے یہ میرا بھائی ہے یا یہ میرا چچا ہے تو کیا اس کا اقرار قبول کیا جائے گا؟
جواب : نسب کی حیثیت سے اقرار قبول نہیں کیا جائے گا بہر حال میراث کی حیثیت سے تو دیکھا جائے گا اگر مقر کا معروف قریب یا بعید وارث ہے تو وہ مقر لہ کی بہ نسبت میراث کا زیادہ حقدار ہو گا پس اگر اس کا وارث نہیں ہے تو مقر لہ اس کی میراث کا مستحق ہو گا
سوال : ایک شخص کہ اس کا باپ مر گیا پس اس شخص نے بھائی کا اقرار کیا تو اس کا نسب ثابت ہو جائے گا؟
جواب : نسب ثابت نہیں ہو گا لیکن مقر لہ میراث میں مقر کے ساتھ شریک ہو گا

No comments: