Istelaad ka bayan

اِستیلاد کا بیان

سوال : اِستیلاد کیا ہے؟

جواب : جب آقا اپنی باندی سے صحبت کرے پس وہ اس سے ولد جنے تو کہا جائے گا کہ وہ (آقا) کی ام ولد ہے اور یہ(حکم) اس شرط کے ساتھ ہے کہ (آقا) اعتراف کرے کہ وہ(ولد) اس کا ولد ہے اور اس صورت میں اس (ولد) کا نسب (آقا) سے ثابت ہوجائے گا۔

سوال : ان احکام کو بیان کیجئے جو ام ولد کے معتلق ہیں؟

جواب : (ام ولد) کو بیچنا (کسی کو) اس کا مالک بنانا جائز نہیں اور آقا کےلئے جائز ہے کہ وہ اس سے صحبت کرے اور اس سے خدمت لے اور اسے اجرت پر دے اور اس کی شادی کرائے اور جب آقا مرجائے تو وہ تمام مال سے آزاد ہوجائے گی اور ورثہ کےلئے اور قرضخواہوں کےلئے کمائی کرنا اسے لازم نہیں ہوگا اگرچہ آقا پر قرض ہو اور اگر (آقا) اس کی شادی کرادے پس وہ ولد لے آئے تو وہ ولد اپنی ماں کہ حکم میں (داخل) ہے یعنی (ماں) کی آزادی کے ساتھ آزادہوجائے گا۔

سوال : تحقیق آپ نے اِستیلاد کو مقید کیا ہے اس کے ساتھ کہ آقا اقرار کرے کہ "یہ ولد میرا ہے" پس اگر وہ اس کا اقرار نہ کرے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : (آقا) کی طرف سے اعتراف کے بغیر نسب ثابت نہیں ہوگا پس جب وہ نفی کردے تو اس (ولد) کا نسب (آقا) سے منتفی ہوجائے گا۔

سوال : کسی مرد نے اپنے غیر کی باندی سے نکاح کے ذریعہ۔صحبت کی پس اس نے اس سے (ولد) جنا پھر وہ (مرد) اس (باندی) کا مالک ہوگیا(تو)کیا وہ اس کی ام ولد بن جائےگی؟

جواب : جی ہاں!وہ اس کی ام ولد بن جائے گی اور اس پر ام ولد کے احکام جاری ہوں گے۔

سوال : ایک شخص کہ اس کی باندی ہے پس اس(شخص) کے باپ نے اس کی باندی سے صحبت کرلی اور وہ ولد لے آئی اور اس (شخص)کے باپ نےدعوی کیا کہ وہ(ولد) اس کا بیٹا ہے (تو)کیا ولد کا نسب (باپ)سے ثابت ہوجائے گا؟

جواب : (ولد) کانسب اس کے اس باپ سے ثابت ہوجائے گا جس نے دعوی کیا اور باندی اس کی ام ولد بن جائےگی۔

سوال : جب (باندی) اس کے اس باپ کی ام ولد بن جائے جس نے دعوی کیا کہ وہ (ولد)اس کا بیٹا ہے تو کیا اس پر اس(باندی)کی قمیت اپنے اس بیٹے کےلئے واجب ہوجائے گی جواس (باندی)کا مالک تھا؟

جواب : جی ہاں!اس بیٹے کےلئے (باندی)کی قمیت باپ پر واجب ہوجائے گی۔

سوال : اور کیا(باپ) کے ذمہ (باندی) کی قمیت کے سوا عقْر(عورت کا مہر جب اس سے شبہ کے ساتھ صحبت کی جائے)یا ولد کی قمیت میں سے کوئی شے ہے؟

جواب : اس میں سے کوئی شے اس کے ذمہ نہیں ہے۔

سوال : باپ کے باپ نے اپنے پوتے کی باندی سے صحبت کی پس وہ ولد لے آئی اور اس نے نسب کا دعوی کیا(تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب باپ مردہ ہو تو اس صورت میں نسب دادے سے ثابت ہوجائے گا اور اگر باپ زندہ ہے (تو) نسب دادے سح ثابت نہیں ہوگا۔

سوال : وہ حصہداروں کی باندی ہے پس وہ ولد لے آئی اور ان دونوں میں سے ایک نے دعوی کیا کہ "وہ(ولد) اس کا بیٹا ہے"(تو)کیا اس کا نسب اس سے ثابت ہوجائے گا؟

جواب : جی ہاں! اس کا نسب اس سے ثابت ہوجائے گا اور باندی اس کی ام ولد بن جائے گی اور اس کے ذمہ اس کے حصہ دار کےلئے (باندی) کا آدھا عفر اور اس کیآدھی قمیت ہے اور ولد کی قمیت میں سے کوئی شے اس کے ذمہ نہیں۔

سوال : اگر دونوں شریک دعوی کریں کہ"یہ ولد میرا ہے"تو ان کےدرمیان کیسے فیصلہ دیا جائے؟

جواب : اس(ولد) کا نسب ان دونوں سے ثابت ہوجائے گا اور باندی ان دونوں کی ام ولد بن جائے گی اور ان دونوں میں سے ہرایک کے ذمہ آدھا عقر ہے اور وہ دونوں اس (عقر) کا تبادلہ کر لیں گے جو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے دوسرے کے ذمہ ہے۔

سوال : جب دونوں( حصہ داروں ) میں سے کوئی ایک مر جائے یا یہ ولد مرجاے تو کیسے میراث کا فیصلہ دیا جائے؟

جواب : بیٹا ان دونوں میں سے ہر ایک سے کامل بیٹے کی میراث کا وارث ہوگا اور وہ دونوں اس (ولد) سے ایک باپ کی میراث کےوارث ہوں گے۔

سوال : کسی شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا پس مکاتب نے باندی خریدی اور(مکاتب) کے آقا نے اس (باندی) سے صحبت کی پس وہ ولد نے آئی اور آقا نے دعوی کیا کہ"یہ ولد میرا ہے" تو اس( آقا ) سے نسب کے ثبوت کا حکم کیا ہے؟ اوراس پر اپنے مکاتب غلام کےلئے کیا واجب ہوگا؟

جواب : اگر مکاتب (آقا) کی تصدیق کردے تو (ولد)کا نسب (آقا)سے ثابت ہوجائے گااوراس کہ ذمہ (باندی) کا عفر اور اس کے ولد کی قمیت ہوگی لیکن وہ اس کی ام ولد نہیں بنے گی اور اگر مکاتب اس کی تکذیب کردے تو نسب اس سے ثابت نہیں ہوگا۔



No comments:

Powered by Blogger.