Jan me qisas ke Masail

جان میں قِصاص کے مسائل

سوال : قصاص کیا ہے؟

جواب : وہ یہ ہے کہ قاتل کو مقتول کی جان کے عوض قتل کیا جائے اور دائمی طور پر ہر محفوظ الدم (شخص) کو قتل کرنے سے قصاص واجب ہوتا ہے بشرطیکہ اسے قصداً قتل کیا جائے۔

سوال : آزاد کو آزاد کے عوض، آزاد کو غلام کے عوض غلام کو آزاد کے عوض اور غلام کو غلام کے عوض قتل کرنے کا حکم کیا ہے؟

جواب : آزاد کو آزاد کے عوض، آزاد کو غلام کے عوض (قصاص غلام کے آقا کے لیے ہو گا)، غلام کو آزاد کے عوض اور غلام کو غلام کےعوض قتل کیا جائے۔ 

سوال : ذمی اور مُسْتٙامِنْ کے عوض قصاص کا حکم کیا ہے؟

جواب : مسلمان کو ذمی کے عوض قتل کیا جائے اور مستامن کے عوض قتل نہ کیا جائے جیسا کہ ذمی کو مستامن کے عوض قتل نہیں کیا جاتا۔

سوال : مرد کو عورت کے عوض اور برعکس (یعنی عورت کو مرد کے عوض ) قتل کرنے، بڑے کو چھوٹے کے عوض قتل کرنے اور تندرست کو نابینے، لنجے اور پاگل کے عوض اور ناقص الاعضاء کے عوض قتل کرنے کا حکم کیا ہے ؟

جواب : ان سب میں قصاص جاری ہوتا ہے۔
اللہ تعالی شانہ فرماتے ہیں

وَکَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْھَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَ الْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنَّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاص 
(المائدة : ۴۵)
ترجمہ : "اور ہم نے ان پر (تورات) میں فرض کیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ ناک کے عوض ناک، کان کے عوض کان اور دانت کے عوض دانت اور (خاص) زخموں کا (بھی) بدلہ ہے "۔

سوال : کسی شخص نے اپنے بیٹے یا اپنے غلام یا اپنے مدبر یا اپنے مکاتب کو قتل کیا یا اپنے والد کے غلام کوقتل کیا تو کیا اس میں قصاص ہے؟

جواب : ان سب میں قصاص نہیں ہے۔

سوال : کوئی شخص اپنے باپ کے خلاف قصاص کا وارث ہوا تو کیا وہ قصاص لے اور اپنے باپ کو قتل کرے ؟

جواب : قصاص اس صورت میں باپ  کی حرمت کی وجہ سے ساقط ہو جائے گا۔

سوال : نابالغ بچہ یا پاگل نے عمداً قتل کیا تو کیا اس سے قصاص لیا جائے؟

جواب : نابالغ بچہ اور پاگل کا عمد خطا ہے اور اس میں عاقلہ پر دیت ہے۔

سوال : جب قاتل، مقتول کے اولیاء کے ساتھ مال پرصلح کر لے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس کا حکم یہ ہے کہ قصاص ساقط ہو جائے گا اور مال واجب ہو جائے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔ 

سوال : اگر شرکاء میں سے کوئی قصاص معاف کر دے یا عوض پر اپنے حصے سے صلح کر لے تو باقی شرکاء کیسے کریں ؟ 

جواب : قصاص دونوں صورتوں میں ساقط ہو جائے گا اور باقیوں کیلئے دیت میں سے ان کا حصہ ہوگا وہ چاہیں تو دیت لے لیں یا ہر ایک اپنے حصے سے صلح کرے یا معاف کر دے پس قاتل پر واجب ہے کہ ان کو مشقت میں نہ ڈالے اور اس (مال) کو اچھی طرح سے ادا کرے جس کا اس نے التزام کیا جیسا کہ مقتول کے اولیاء کیلئے مناسب ہے کہ (قاتل) کو تنگی میں نہ ڈالیں ۔

اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں۔ 
فَمَنْ عُفِیَ لَہ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءُ فَاتِّبَاع بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدآء اِلَیْہ بِاِحْسَان
 ( البقرہ : ١٧)
 ترجمہ: ’’پس جس کو اس کے بھائی (یعنی فریق مخالف) کی طرف سے کچھ معافی ہو جائے (مگر پوری معافی نہ ہو ) تو (مدی کے ذمے) معقول طور پر (خون بہا کا) مطالبہ کرنا اور ( قاتل کے ذمے) خوبی کے ساتھ اس کے پاس پہنچا دینا (ہے)" ۔

سوال :  کسی شخص نے جماعت کو قتل کیا پس مقتولین کے اولیاء حاضر ہو گئے تو کیا اسے ان کے لئے قتل کیا جائے؟

جواب : جی ہاں! مقتولین کے تمام اولیاء کے لئے اسے قتل کیا جائے اور ان کے لئے اس (قتل) کے سوا کوئی شے نہیں ہے پس اگر ان (اولیاء) میں سے ایک حاضر ہو جائے اور اس کے لئے (قاتل) کو قتل کر دیا جائے تو باقیوں کا حق ساقط ہو جائے گا۔

سوال : جماعت نے کسی کو قتل کیا تو کیا اس میں قصاص ہے؟

جواب : جی ہاں! اس میں قصاص واجب ہو گا اور ان سب کو قتل کر دیا جائے۔

سوال : ایک شخص کہ اس پر قصاص ہو گیا لیکن وہ مر گیا قبل اس کے کہ اس سے قصاص لیا جائے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : قصاص اس سے ساقط ہو گیا اور اس کے مال میں کوئی شے واجب نہیں ہوگی۔

سوال : غلام نے قتل عمد کا اقرار کیا (تو) کیا قصاص اسے لازم ہوگا؟

جواب : جی ہاں! قصاص اسے لازم ہوگا۔

سوال : کسی شخص نے دوسرے کو قصداً تیر مارا پس تیر اس کے غیر کی طرف نفوذ کر گیا پس وہ دونوں
مر گئے تو اس بارے میں قصاص اور دیت کا حکم کیا ہے؟

جواب : تیر مارنے والے کے ذمہ پہلے (مقتول) کے لئے قصاص ہے اور دوسرے (مقتول) کے لئے (تیر مارنے والے) کی عاقلہ کے ذمہ دمیت ہے۔

سوال : کسی شخص نے اپنے غلام کو مُکاتٙب بنایا پس وہ مکاتب قتل کر دیا گیا (تو) کون قصاص لے؟

جواب : اگر اس مکاتب کا آقا کے سوا کوئی وارث نہیں تو آقا کے لئے قصاص ہے اگر اس نے وفا(حقوق واجبہ کے پورا کرنے کے لائق مال) نہیں چھوڑی اور اگر اس نے وفا چھوڑی ہے اور اس کا وارث آقا کے سوا ہے تو اس کے لئے کوئی قصاص نہیں اگرچہ ورثه آقا کے ساتھ جمع ہو جائیں (کیونکہ حقدار مشتبہ ہو گیا کیونکہ حقدار آقا ہے اگر وہ غلام ہو کر مرا اور وارث ہے اگر وہ آزاد ہو کر مرا)

سوال : کسی شخص نے اپنے غلام کو کسی کے پاس رہن رکھا پس وہ مرہون غلام قتل کر دیا گیا (تو) کیا
اس صورت میں قصاص واجب ہوگا ؟

جواب :  قصاص واجب ہوگا بشرطیکہ راہن اور مرتہن مطالبہ میں جمع ہو جائیں۔

سوال : ایک شخص نے کسی شخص کو قصدا زخمی کیا پس زخمی صاحب فراش رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا (تو) کیا قصاص اس صورت میں واجب ہو گا ؟

جواب : جی ہاں ! واجب ہوگا۔

سوال : قصاص کیسے لیا جائے؟

جواب : قصاص صرف تلوار کے ساتھ (جائز) ہے ۔



No comments:

Powered by Blogger.