Janaiz ke ahkaam or mayat ko ghusal dene ka tariqa

جنائز کے احکام و میت کو غسل دینے کے طریقے کا بیان

سوال : حاضرین ، مُحتَضَر یعنی وہ جس کے پاس اس کی موت حاضر ہوگئی،، کے ساتھ کیسے کریں؟

جواب : جب مرد کے پاس موت حاضر تو اُسے اس کی دائیں کروٹ پر قبلہ رُخ کیا جائے اور اسے شہادتین کی تلقین کی جائے پس جب وہ مر جائے تو (حاضرین) اس کے دونوں جبڑے باندھ دیں اور اس کی دونوں آنکھیں بند کر دیں اور عورت کا حکم اس میں (مرد) کے مثل ہے

سوال : جب مردہ مر جائے تو اسے کیسے غسل دیا جاۓ؟

جواب : جب وہ اسے غسل دینے کا ارادہ کریں تو طاق مرتبہ دھونی دئیے ہوئے تخت پر اسے رکھ دیں اور اس کی ننگیز پر کپڑا ڈال دیں اور اس کے کپڑے اتار دیں اور کلی اور ناک میں پانی دیئے بغیر اسے وضو کرائیں اور گل خیرو کے ساتھ اس کا سر اور اسکی داڑھی دھوئیں پھر اسے اس کی بائیں کروٹ پر لٹا دیا جائے پس اسے دھویا جائے یہاں تک کہ معلوم ہوجائے کہ پانی تحقیق اس (حصہ بدن) تک پہنچ چکا ہے جو تخت سے ملا ہوا ہے پھر اسے اس کی دائیں کروٹ پر لٹا دیا جائے پس اسے دھویا جائے یہاں تک کہ معلوم ہوجائے کہ پانی تحقیق اس (حصہ بدن) تک پہنچ چکا ہے جو تخت سے ملا ہوا ہے پھر غسل دینے والا اسے بٹھائے اور اپنی طرف سہارا دے اور اس کے پیٹ کو نرمی سے ملے پس اگر اس میں کچھ نکلے تو اسے دھو ڈالے اور اس کے غسل کو نہ لوٹائے پھر اسے اس کی بائیں کروٹ پر لٹائے اور اسے دھوئے پھر اس پر وہ پانی ڈالے جس میں کافور ملا ہو اور تحقیق تین مرتبہ (دھونا) مکمل ہوا۔

سوال : کیا صفائی کے لیے پانی کے سوا کوئی چیز استعمال کی جائے؟

جواب : جی ہاں ! پانی کو بیر کے پتوں یا اُشنان کے ساتھ جوش دیا جائے پس اس کے ساتھ غسل دیا جائے اور اگر صابن استعمال کرے جائز ہے۔

سوال : اگر یہ چیزیں نہ پائی جائیں؟

جواب : خالص پانی کافی ہے۔






No comments:

Powered by Blogger.