Janayaat ka bayan

جنایات کا بیان 

سوال : لغت اور شریعت کی رو سے جنایت کا مطلب کیا ہے؟

جواب : جنایت لغت کی رو سے ایسے فعل کا ارتکاب کرنا ہے جس میں کسی کا نقصان ہو۔اور فقہإ کے عرف میں یہ ہے کہ کوٸی کسی پر اس کی جان میں یا اس کی اعضاء میں ظلم کرے اور جان پر ظلم سے مراد قتل ہے برابر ہے یہ(قتل) خطأً ہو یا قصداً (ہو) اور أعضاء پر ظلم سے(مراد) مثلاً ہاتھ یا پاٶں یا کان کاٹنا یا آنکھ پھوڑنا ہے۔

سوال : کیا قتل کٸی قسموں کی طرف منقسم ہوتا ہے؟

جواب : قتل پانچ قسموں پر
(منقسم ہے)
(١)
عمد
 (٢)
شِبہ عمد
 (٣)
خطا
 (٤)
قاٸم مقام خطا 
(٥)
قتل بسبب

سوال : پانچوں قسموں کی ان کے أحکام کے بیان سمیت تعریف کیجیۓ؟

جواب 

(١) 
قتلِ عمد : وہ ہے کہ ہتھیار یا أعضاء کو جدا کرنے میں قاٸم مقام  جیسے دھاری دار لکڑی،پتھر یا آگ کے ذریعہ اس کو مارنے کا ارادہ کیا جاۓ اور اس(قتل) کا مُقتَضٰی گناہ،میراث سے محرومی اور قصاص ہے إلّا یہ کہ(مقتول کے) أولیإ معاف کر دیں اور اس میں کفارہ نہیں ہے۔

(٢) 

شِبہ عمد : یہ ہے کہ ایسی(شے)کے ساتھ مارنے کا ارادہ کیا جاۓ جو ہتھیار نہیں اور قاٸم مقام ہتھیار(بھی) نہیں اور یہ(حکم) حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے اور آپ رحمہ اللہ تعلیٰ کے صاحبین رحمہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب بڑے پتھر یا بڑی لکڑی کے ساتھ مارے تو یہ بھی عمد ہے اور شِبہ عمد(صاحبین رحمہا اللہ تعالیٰ) کے نزدیک یہ ہے کہ ایسی(شے)کے ساتھ اس کو مارنے کا ارادہ کیا جاۓ جس سے عام طور پر قتل نہیں ہوتا اور شِبہ عمد کا مُقتَضٰی دونوں قولوں کے مطابق گناہ اور کفارہ ہے اور اس میں قصاص نہیں بلکہ اس میں عاقلہ پر دیتِ مُغَلَّظَہ ہے اور آپ عنقریب ان کلمات کے مطالب اس(عبارت) میں جان لیں گے جو آرہی ہے  ان شاء اللہ تعالیٰ۔
(٣) 
قتلِ خطا دو قسم پر منقسم ہے

(الف)
 ارادہ میں خطأ اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص کو شکار سمجھ کر تیر مارے پس اچانک وہ آدمی ہو۔
 (ب) 
فعل میں خطا اور وہ یہ ہے کہ نشانہ پر تیر مارے پس وہ آدمی کو لگ جاۓ اور اس کا مُقتَضٰی کفارہ اور عاقلہ پر دیت(اور اس میں میراث سے محرومی بھی ہے۔ہدایہ)ہے اور اس میں(یعنی قتلِ خطاکی دونوں صورتوں میں قتل کا)گناہ نہیں۔ 
(٤)
 قاٸم مقام خطا : اور وہ سونے والے کی مثال ہے(جو) کسی پر الٹا جاۓ پس اسے قتل کردے تو اس(قتل) کا حکم(قتلِ) خطا کا حکم ہے۔
(٥)
 قتل بسبب : اور وہ یہ ہے کہ کوٸی شخص مثلاً راستے میں کنواں کھودے یا اپنی ملک کے غیر میں پتھر رکھ دے تو اس کی وجہ سے کوٸی ہلاک ہو جاۓ  اور اس کا مُقتَضٰی عاقلہ پر دیت ہے اور اس میں کفارہ نہیں ہے(اور میراث سے محرومی بھی نہیں




No comments:

Powered by Blogger.