Janwar ki janayat ka bayan
جانور کی جنایت کا بیان
سوال : جب جانور (کسی کو) رونددے (تو)کس پر ضمان واقع ہوگا؟
جواب : (جانور) کا سوار ایسی (چیز)کا ضامن ہوگا جس کو (جانور) اپنے ہاتھ سے روندے اور جس کو (اپنے ہاتھ سے) نقصان پہنچاے یا اپنے منہ سے کاٹے اور اس(چیز) کاضامن نہیں ہوگا جس کو (جانور) اپنا پاوں یا اپنی دم مارے۔
سوال : اگر (جانور) راستے میں لید کرے یا پیشاب کرے پس اس سےکوئی انسان ہلاک ہوجائے (تو) کیا سوار ضامن ہوگا؟
جواب : ضامن نہیں ہوگا۔
سوا. : تحقیق آپ نے سوار کے ضمان کو ذکر فرمایا پس (جانور کو) ہلاک کرنے والے یاکھنچنے والے کے ضمان کا حکم کیا ہے؟
جواب : ہانکنے والا اس (چیز) کا ضامن ہے جس کو جانور اپنے ہاتھ یا اپنے پاوں سے نقصان پہنچاے اور کھنچنے والا اس (چیز) کاضامن ہوگا جس کو (جانور) اپنے ہاتھ سے نقصان پہنچاے اپنے پاوں سے نہیں۔
سوا. : کوئی شخص (جانوروں کی) قطار کھنچ رہا ہے پس جانوروں میں کسی (جانور) نے کسی انسان یا مال کو روندد یا (تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : (جانوروں کی) قطار کو کھینچنے والا اس (چیز) کا ضامن ہے جس کو جانور رونددے پس اگر اس کے ساتھ ہانکنے والا ہے ضمان دونوں کے ذمہ ہے۔
سوا. : کوئی شخص (جانوروں کی) قطار کھینچ رہا ہے پس جانوروں میں سے کسی (جانور) نے کسی انسان یا مال کو رونددیا (تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : (جانوروں کی) قطار کو کھنینچے والا اس (چیز) کا ضامن ہے جس کو جانور رونددے پس اگر اس کے ساتھ ہانکنے والا ہے تو ضمان دونوں کے ذمہ ہے۔
سوال : دوگھڑ سواروں نے ایک دوسرے کو مارا پس دونوں مرگئے تو کس پر دیت واجب ہوگی؟
جواب : ان دونوں میں سے ہر ایک عاقلہ دوسرے کی دیت ہے۔

No comments: