Jizyah ka bayan

جزیہ کا بیان 


سوال : جزیہ کیا ہے ؟ 

جواب : یہ وہ ہے جو اہل ذمہ سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں  کی حفاظت کرنے کی وجہ سے لیا جاتا ہے اور یہ دو قسم پر (منقسم) ہے 
(1)
جزیہ  (جو ) باہمی رضامندی اور صلح کے ساتھ مقرر کیا جاۓ (تو ) یہ اس کے مطابق مقرر ہوتا ہے جس پر اتفاق واقع ہو
 (2) 
اور جزیہ کے امام اس کو مقرر کرنے میں ابتدا کرے  جب وہ کافروں پر غالب ہو اور ان کو ان کی ملکوں پر بر قرار رکھے ۔ 

سوال : اس جزیہ میں تفصیل کیا ہے جس کو امام ( ابتداء)  مقرر کرے ؟ 

جواب : ظاہر مالداری والے مالدار پر ہر سال میں اڑتالیس درہم مقرر کرے اس سے ہر مہینے میں چار درہم لے اور متوسط حال حال  والے پر چوبیس درہم ( مقرر کرے ) اس سے ہر مہینے میں درہم لے اور کام کرنے والے فقیر پر بارہ درہم (مقرر کرے ) ہر مہینے میں ایک درہم  ہے ۔ 

سوال : کیا اہل ذمہ میں کوئی ایسا ہے جس  سے  جزیہ  نہ لیا جائے ؟ 

جواب : عورت پر ، نا بالغ پر ، لنجے پر ، کام نہ کرنے والے فقیر پر اور ان راہبوں پر جزیہ نہیں ہے جو لوگوں سے میل میلاپ نہیں رکھتے ۔ 

سوال : کیا تمام کفار پر جزیہ مقرر کیا جاتا ہے یا بعض قومیں  اس سے مستثنٰی ہے ؟ 

جواب : اہل کتاب (یعنی یہود ونصاریٰ)  آتش پرستوں اور عجم کے بت پرستوں پر مقرر کیا جاتا ہے اور عرب کے بت پرستوں  پر مقرر نہیں کیا جاتا جیسا کہ  مرتدوں  پر مقرر نہیں کیا جاتا کیونکہ  یہ دو قسمیں کہ ان کے لیۓ صرف اسلام یا تلوار ہے ۔ 


سوال : ذمی مسلمان ہوگیا حالانکہ اس کے ذمہ جزیہ ہے (تو ) کیا ( جزیہ ) اس سے ساقط ہو جاۓ گا ؟

جواب : جی ہاں ! ساقط  ہوجاۓ گا ۔ 

سوال :  ذمی پر دو سال جمع ہوگئے ( تو ) کیا اس صورت میں  جزیہ  لینے  میں  نرمی  برتی  جائے ؟ 

جواب جی ہاں ! نرمی برتی جاۓ اور  دونوں  جزیے باہم  داخل ہوجائیں گے  اور ایک جزیہ  پر  اکتفا کیا جاۓ ۔ 

سوال : کیا لوگوں  میں ایسے  ہیں  جن  سے  اس  زکوٰة کا دو چند  لیا جاۓ  جو ( زکوٰة) مسلمانوں  سے  لی  جاتی ہے ؟ 

جواب : جی ہاں! بنو تغلب کے عیسائی  کہ  ان  کے مالوں سے اس زکاة کا دو چند  لیا  جاۓ جو ( زکوٰة ) مسلمانوں  سے  لی جاتی ہے اور ان کے مردوں اور عورتوں  سے لیا  جاۓ اور ان کے بچوں سے نہ لیا جاۓ ۔



No comments:

Powered by Blogger.