Jo shakhs Daar ul harb me musalman hojae uske hukam ka bayan

جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال : کافروں میں سے جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو جائے تو کیا وہ اسلام کے سبب سے اپنی جان کی حفاظت کرنے والا ہے؟

جواب : وہ اپنی جان کی,اپنی نابالغ اولاد کی,ہر ایسے مال کی جو اس کے قبضے میں ہے اور ہر ایسی امانت کی حفاظت کرنے والا ہے جو امانت مسلمان یا ذمی کے قبضے میں اس کی ہے.

سوال : کافروں میں سے کوئی مسلمان ہوا اس  حال میں کہ دارالحرب میں اس کی زمین یا بیوی یا نابالغ اولاد ہے تو ان چیزوں کا حکم کیا ہے جب ہم ان پر غالب ہو جائیں؟

جواب : جب ہم دارالحرب پر غالب ہو جائیں تو اس کی زمین,اس کی بیوی,اس کا حمل اور اس کی بالغ اولاد سب فئی یعنی مال غنیمت ہیں اور اس کے غلاموں  میں سے جس نے جنگ کی تو وہ بھی فئی ہے.

سوال : کوئی شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گیا اس حال میں کہ حربی کے قبضے میں یا مسلمان یا ذمی کے قبضے میں اس ما غصب شدہ مال ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس کا جو مال حربی کے قبضے میں ہے تو وہ فئی ہے غصب ہو یا ودیعت اور جو مال مسلمان یا ذمی کے قبضے میں غصب ہو تو وہ حضرت ابو حینفہ رحمہ اللہ کے نزدیک فئی ہے اور حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مال فئی نہیں ہوگا(حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول حضرت محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہے)



No comments:

Powered by Blogger.