Khiyaar e Aib ka bayan
خیار عیب کا بیان
سوال : ایک شخص نے کوئی چیز خریدی پھر وه اس میں ایسے عیب پر مطلع ہوا جو فروخت کنندہ کے پاس تھا تو کیا مبیع کو واپس کرنا اس کے لیے جائز ہے ؟
جواب : اگر خریدار نے بیع کے وقت اور قبضہ کے وقت عیب نہیں دیکھا تھا اور فروخت کنندہ نے اس (عیب) کو بیان نہیں کیا تو وه با اختیار ہے اگر چاہے اسے پورے ثمن کے عوض لے لے اور اگر چاہے اسے لوٹا دے ۔
سوال : کیا خریدار کیلئے (جائز) نہیں کہ وہ (مبیع) کو روک لے اور (عیب کا) نقصان لے لے ؟
جواب : یہ اس کیلئے (جائز) نہیں ۔
سوال : ان مسائل میں کون سا عیب معتبر ہے ؟
جواب : ہر وه چیز جو سودا گروں کے ( عرف و) عادت میں ثمن کی کمی کو لازم کرے تو وه عیب ہے ۔
سوال : بعض ان عیوب کو بیان کیجیے جن کے سبب مبیع کو لوٹانا خریدار کے لئے جائز ہے ؟
جواب : بھاگنا بچھونے میں پیشاب کرنا اور چوری کرنا بچے میں عیب ہے جب تک وه بالغ نہ ہو پس جب وه بالغ ہو جائے تو یہ عیب نہیں اور گندا
دہہن ہونا اور گندہ بغل ہونا باندی میں عیب ہے اور غلام میں عیب نہیں اِلاٙ یہ کہ بیماری کی وجہ سے ہو اور زنا اور مملوک کا وٙلٙدُ الزِّنا ہونا باندی میں عیب ہے غلام (میں) نہیں ۔
سوال : خریدار کے پاس عیب پیدا ہوا پھر وه ایسے عیب پر مطلع ہوا جو فروخت کنندہ کے پاس تھا تو وہ اب کیا کرے ؟
جواب : اس کیلئے (جائز) ہے کہ وه عیب کے نقصان کے ساتھ رجوع کرے اور مبیع نہ لوٹائے الا یہ کہ فروخت کنندہ (مبیع) کو اس عیب کے ساتھ لینے پر راضی ہوجائے جو (عیب) خریدار کے پاس پیدا ہوا ۔
سوال : کپڑا خریدا اور اسے کتر لیا اور اسے سی لیا یا اسے رنگ لیا یا ستو خریدا پس اس میں گھی ملا دیا پھر وه اسے عیب پر مطلع ہوا جو فروخت کنندہ کے پاس تھا تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : وه عیب کے نقصان کے ساتھ رجوع کرے اور (مبیع) کو بیعنہ لینا فروخت کنندہ کے لیے (جائز) نہیں ۔
سوال : اس شخص کے بارے میں آپ کا قول کیا ہے جس نے غلام خریدا اور اسے آزاد کر دیا یا اس کے پاس مر گیا پھر وه ایسے عیب پر مطلع ہوا جو فروخت کنندہ کے پاس تھا ؟
جواب : وه غلام کے نقصان کے ساتھ رجوع کرے اور غلام واپس نہ کرے کیونکہ (غلام) واپس کرنے اور واپس لینے کا محل باقی نہیں رہا ۔
سوال : اگر خریدار غلام کو قتل کردے یا مبیع کھانا ہو پس اسے کھا لے پھر ایسے عیب پر مطلع ہو جو فروخت کنندہ کے پاس تھا تو کیا وه ( فروخت کنندہ) پر کسی شے کے ساتھ رجوع کرے ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ کے قول میں وہ (فروخت کنندہ) پر کسی شے کے ساتھ رجوع نہ کرے اور (صاحبین) فرماتے ہیں کہ عیب کے نقصان کے ساتھ رجوع کرے ۔
سوال : غلام بیچا پس خریدار نے اسے آگے بیچ دیا پھر عیب کی وجہ سے پہلے خریدار پر لوٹا دیا تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وه اسے پہلے فروخت کنندہ پر لوٹائے ؟
جواب : اگر دوسرے فروخت کنندہ نے ۔۔۔۔ اور وه پہلا خریدار ہے (مبیع) کو قاضی کے حکم سے قبول کیا ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اسے اپنے فروخت کنندہ پر لوٹائے اور اگر قاضی کے حکم کے بغیر قبول کیا ہو تو اس کے لئے یہ (جائز) نہیں ۔
سوال : ایک شخص نے غلام خریدا اور فروخت کنندہ نے کہا میں (مبیع کے) ہر عیب سے بری ہوں پھر خریدار عیب پر مطلع ہوا تو کیا عیب دار مبیع لوٹانا اس کے لیے جائز ہے ؟
جواب : اس وقت عیب کی وجہ سے (مبیع) لوٹانا اس کے لیے جائز نہیں اگرچہ فروخت کنندہ نے تمام عیوب کا نام نہ لیا ہو اور انہیں شمار نہ کیا ہو ۔
(تنبیہ)
سامان میں ملاوٹ کرنا اور عیب چھپانا حرام ہے ۔

No comments: