Khiyaar e Rooiyat ka bayan
خیارِ رُٶُیَت کا بیان
سوال : ایک شخص نے ایسا مال خریدا جیسے دیکھا نہیں تو یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟
جواب : اس صورت میں بیع جائز ہے لیکن خریدار کو خیار(حاصل)ہے جب اسے دیکھے اگر چاہے اسے لے لے اور اگر چاہے اسے واپس کردے۔
سوال : کیا اس خیار میں مدت کی تعیین ہے؟
جواب : اس میں مدت کی تعیین نہیں پس یہ خیال ساقط نہیں ہوتا جب تک اس کا مبطل(یعنی باطل کرنے والا)نہ پایا جائے اور مبطل وہ ہے جو رضا کا فائدہ دے۔
سوال : اس(شخص)کے لئے خیار کے بارے میں آپ کا قول کیا ہے جس نے ایسی(چیز) بیچی جسے اس نے دیکھا نہیں؟
جواب : اسےخیار(حاصل) نہیں
سوال : خریدار نے غلہ کے ڈھیر کے ظاہر کو یا کپڑے کے ظاہر کو اس حال میں کہ وہ لپٹا ہوا ہے یا باندی کے چہرے کو یا جانور کے چہرے اور سرین (یعنی اگاڑی اور پچھاڑی) کو دیکھ لیا تو کیا یہ رویت (یعنی دیکھنا) خیار کے باطل ہونے میں معتبر ہے ؟
جواب : یہ رویت معتبر ہے اور اس رویت کے بعد اسے خیار (حاصل) نہیں ۔
سوال : اگر مکان کا صحن دیکھے اور اس کے کمروں کا مشاہدہ نہ کرے تو کیا یہ رویت معتبر ہے ؟
جواب : یہ رویت معتبر ہے اصحاب متون نے جو ذکر فرمایا ہے اس کی بنا پر اس صورت میں اسے خیار حاصل نہیں اور وہ یعنی اصحاب متون کا قول اس پر مبنی ہے کہ کوفہ کے مکانات مختلف نہیں ہوتے تھے اور فتوی حضرت زفر رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر ہے پس تحقیق آپ فرماتے ہیں کہ کمروں کے اندر سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ مکانات مختلف ہوتے ہیں ۔
سوال : جب نابینا بیچے یا خریدے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اس کا بیچنا اور اس کا خریدنا جائز ہے اور اسے خیار رویت حاصل ہے جب وہ خریدے ۔
سوال : وہ کیسے دیکھے حالانکہ اسے نظر نہیں آتا ؟
جواب : اس کا ہاتھ سے چھونا جبکہ مبیع چھونے سے معلوم ہو اور اس کا سننا جبکہ سننے سے معلوم ہوا اور اس کا چکھنا جبکہ چکھنے سے معلوم ہو دیکھنے کے قائم مقام ہے ۔
سوال : ایک شخص کو نظر نہیں آتا اور وہ زمین خریدنا چاہتا ہے تو کیسے پہچان کریں ؟
جواب : زمین خریدنے میں اسے حال بیان کرنے پر اکتفا کیا جائے کیونکہ اس کے لیے (زمین) کی پہچان کا صرف یہی راستہ ہے پس جب اسے حال بیان کر دیا جائے اور وه خریدنے پر راضی ہوجائے تو اس کا خیار ساقط ہوجائے گا ۔
سوال : ایک شخص نے اپنے غیر کی ملک اس کے حکم کے بغیر بیچی تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : مالک اس صورت میں بااختیار ہے اگر چاہے بیع نافذ کر دے اور اگر چاہے توڑ دے اور اسے (بیع) نافذ کرنے کا حق (حاصل) ہے بشرطیکہ جس (شے) پر عقد کیا گیا ہے (یعنی مبیع) باقی ہو اور باہم عقد کرنے والے دونوں شخص اپنے حال پر ہوں ۔
سوال : ایک شخص نے اپنے عقد میں دو کپڑے خریدے اور عقد سے پہلے ان دونوں میں سے ایک کو دیکھ چکا تھا پھر اس نے (عقد کے بعد) دوسرے کو دیکھا توکیا ان دونوں کو واپس کرنا اس کیلئے جائز ہے ؟
جواب : اس کے لئے یہ جائز ہے ۔
سوال : ایک شے دیکھی پھر مدت کے بعد اسے خرید لیا تو کیا خیار رویت اس کیلئے ثابت ہوگا ؟
جواب : اگر یہ شے اس حالت پر باقی ہے جس (حالت) پر اس نے اسے اس سے پہلے دیکھا تو اسے خیار (حاصل) نہیں اور اگر اس نے اسے بدلا ہوا پایا تو اسے خیار (حاصل) ہے ۔
سوال : خریدار مر گیا حالانکہ اسے خیار رویت حاصل تھا تو اس کی موت کے بعد خیار کا حکم کیا ہے ؟
جواب : بیع مکمل ہوگئ اور خیار باطل ہوگیا اور (خیار) اس کے ورثہ کی طرف منتقل نہیں ہوگا ۔

No comments: