Khiyaar e shart ka bayan
خِیارِ شرط کا بیان
سوال : فروخت کنندہ اورخریدار کے لئے خیار شرط کا حکم کیا ہے؟
جواب : خیارشرط جائز ہے اس کے لئے جس نے فروخت کیا یا خریدا۔
سوال : کیا اس میں مدت کی تعیین ہے؟
جواب : خیار کی مدت تین دن یا اس سے کم ہےاور حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ جاٸز نہیں اور حضرت یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تین دن یا اس سے زیادہ جاٸز ہے بشرطیکہ صاحبِ خیار مدت معلومہ بیان کر دےاور اس کا ساتھی اس پر راضی ہو۔
سوال : دوشخصوں نے باہم خرید و فروخت کی اور فروخت کنندہ نے اپنے لیے خیار مقرر کر لیا اور خریدار نے مبیع پر قبضہ کر لیا اور مبیع خیار کی مدت میں اس کے قبضہ میں ہلاک ہوگٸی تو اس کاحکم کیا ہے؟
جواب : اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ فروخت کنندہ کا خیار اس کی مِلک سے مبیع کے نکلنے کو نہیں روکتا پس جب خریدار اس پر قبضہ کرلے تو تحقیق اس نے فروخت کنندہ کی مِلک پر قبضہ کر لیا پس جب(مبیع)خیار کی مدت میں اس کے قبضہ میں ہلاک ہوجائے تو وہ اس کا ضامن ہوگا مثل کےساتھ جبکہ(مبیع) مثلی ہو اور قیمت کے ساتھ جبکہ وہ غیر مثلی ہو۔
سوال : اگر خریدار اپنے لیے خیار مقرر کرلے تو کیا یہ(خیار) فروخت کنندہ کی مِلک سے مبیع کے نکلنے کو روکتا ہے؟
جواب :خریدار کاخیار فروخت کنندہ کی مِلک دے مبیع کے نکلنے کو نہیں روکتا مگر حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خریدار بھی اس مبیع کا مالک نہیں ہوتا اور حضرت یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ اس کا مالک ہو جاتا ہے۔
سوال : پس اگر مبیع خریدار کے قبضہ میں ہلاک ہوجاۓ اس حال میں کہ اس نے اپنے لیے خیار مقرر کیا ہو تو اس ہلاک ہونے والی مبیع کا ضمان کس پر واقع ہوگا؟
جواب : خریدار پر واقع ہوگا اور ثمن کے عوض ہلاک ہو گا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ(یعنی خریدار)فروخت کنندہ کو وہ ثمن ادا کرے گا جس(ثمن)کے عوض اس نے خریدا۔
سوال : اگر خریدار کے قبضہ میں موجود مبیع میں عیب داخل ہوجاۓ اس حال میں کہ خیار(بھی خریدار)کو(حاصل)ہو توکس(چیز)کے ساتھ حکم لگایا جاۓ گا؟
جواب : جب ایسا عیب ہو جو زاٸل نہ ہو مثلاً جب غلام کا ہاتھ کاٹ دیا جاۓ تو وہ(یعنی عیب دار مبیع)ہلاک ہونے والی(مبیع)کی طرح ہےاور وہ(یعنی عیب دار مبیع)خریدار پر اس ثمن کے عوض ہلاک ہوگی جس(ثمن)کے عوض اس نے اسے خریدا۔اور اگر عیب عارضی ہو مثلاً جب غلام بیمار ہو جاۓ٥و وہ یعنی خریدار مدتِ خیار میں اپنے خیار پربرقرار ہےپس جب مدت(خیار)گزر جاۓاور عیب برقرار ہےتو رد کے مشکل ہونے کی وجہ سےبیع لازم ہوجاۓ گا۔
سوال : صاحب خیار کے لیے خیار کا فاٸدہ کیا ہے؟
جواب : اسے(حق حاصل)ہےکہ مدت خیار میں بیع توڑ دے اور اسے(حق حاصل)ہےکہ(مدت خیار)میں اسے نافذ کردے۔
سوال : کیا صاحب خیار کو لازم ہے کہ وہ اپنے ساتھی کی موجودگی میں(بیع)توڑے یا نافذ کرے؟
جواب : اگر وہ اسے اس کی عدم موجودگی میں نافذ کرے تو جاٸز ہےاور اگر توڑے تو دوسرے کی موجودگی کے بغیر جاٸز نہیں۔
سوال : غلام خریدا اس شرط پر کہ وہ نانباٸی یا کاتب ہے پس خریدار نے اسے اس کے خلاف پایا تو کیا کرے؟
جواب : خریدار بااختیار ہے اگر چاہے تو اسے پورے ثمن کے عوض لے لے اور اگر چاہے تو بیع توڑدےاور غلام واپس کر دے۔
سوال : باہم خریدوفروخت کرنے والے دو شخصوں میں سے ایک کو خیار(حاصل)تھااور صاحب خیار بیع نافذ کرنے سے پہلے اور مدتِ(خیار)پوری ہونے سے پہلے مرگیا تو کیا اس کا خیار وُرَثَہ کی طرف منتقل ہوگا؟
جواب : اس صورت میں اس کا خیار باطل ہو گیا اور وُرَثَہ کی طرف منتقل نہیں ہو گا اور بیع تحقیق مکمل ہو گٸی۔

No comments: