Kiraya par dene ka bayan
کرایہ پر دینے کا بیان
اجارہ : کرایہ پر دینا
استیجار : کرایہ پر لینا
مؤجر : کرایہ پر دینے والا
مستاجر : کرایہ پر لینے والا
اجیر : مزدور
سوال : اجاره کیا ہے؟
جواب : یہ عوض کے ساتھ منافع پر عقد کرنا ہے ۔
سوال : کیا اس کی صحت کے لیے شرائط ہیں ؟
جواب : جی ہاں! اس کے لئے شرط ہے کہ منافع اور اجرت معلوم ہو ۔
سوال : کونسے عوض کے ساتھ کرایہ پر لیا جائے ؟
جواب : اس عوض کے ساتھ کرایا پر لیا جائے جس کی مقدار معلوم ہو ۔اور جو (چیز) میں ثمن بن سکتی ہے۔وہ اجارہ میں اجرت بن سکتی ہے ۔
سوال : عوض کی مقدار عدد کے ساتھ یا وزن کے ساتھ معلوم ہوتی ہے ۔لیکن منافع کیسے معلوم ہوتے ہیں ؟
جواب : منافع کبھی مدت کے ساتھ معلوم ہوتے ہیں ۔جیسے مکانوں کو رہائش کے لئے مہینہ یا سال کے لیے کرائے پر لینا اور زمینوں کو کاشتکاری کے لیے مثلا سال یا دو سال کے لئے کرایہ پر لینا۔پس عقد (اجارہ) مدت معلومہ پر صحیح ہوگا ۔جونسی مدت ہو اور کبھی (منافع) نام لینے اور کام کرنے سے معلوم ہوتے ہیں ۔جیسے کسی شخص نے کوئی کپڑا رنگنے یا کپڑا سینے کے لئے کرایہ پر لیا یا جانور کرایا پر لیا تاکہ اس پر معلوم مقام تک معلوم مقدار لادے یا اس پر معلوم مسافت تک سوار ہو اور کبھی( منافع) معین کرنے اور اشارہ کرنے سے معلوم ہوتے ہیں ۔جیسے کسی نے کوئی شخص کرایا پر لیا تاکہ وہ اس غلہ کو معلوم مقام تک منتقل کرے ۔

No comments: