Maazoon Ghulam ka bayan

مآذون (غلام) کا بیان

سوال : مآذون کون ہے؟

جواب : یہ محجور کی ضد ہے اور تحقیق آپ کتاب الجبر میں جان چکے ہیں کہ مجر کے اسباب تین ہیں یعنی چین، غلامی اور پاگل پن ۔ اور یہاں ہم اس غلام کے مسائل بیان کریں گے جسے اس کے آقا نے خرید و فروخت کی اجازت دے دی اور ان مسائل کے آخر میں ہم مأذون بچے کے بعض مسائل ذکر کریں گے۔

سوال : جب آقا اپنے غلام کو تصرف کرنے کی اجازت دے دے (تو) اس کے تصرفات کا حکم کیا ہے ؟

جواب : جب آقا اپنے غلام کو (تصرف کرنے کی) عام اجازت دے تو اس کا تصرف تمام تجارات میں جائز ہے اور اس کے لئے جائز ہے کہ وہ خریدے، بیچے ، رہن رکھے اور رہن طلب کرے اور اگر اسے تجارت کی ایک قسم میں اجازت دے اس کے سوا میں نہیں تو وہ تمام (تجارات) میں مآذون ہے۔

سوال : جب اسے کسی معین چیز میں اجازت دے مثلا اسے پینے کے لئے کپڑا یا گھر والوں کے لئے غلہ خریدنے کا حکم دے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ تجارت میں اجازت نہیں پس یہ اجازت اس کے ساتھ مقید ہو گی اس نے جس کا حکم دیا اور اس پر مآذون کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ .

سوال : ديون، غصب کردہ چیزوں اور امانتوں کے بارے میں مآ زون کے اقرار کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ اقرار ہے۔

سوال : جب (آقا) اسے عام اجازت دے (تو) کیا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ نکاح کرے؟

جواب : اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ نکاح کرے اور (جائز) نہیں کے غلاموں اور باندیوں میں سے جسے خریدے اس کا نکاح کرائے۔

سوال : کیا اس کے لئے جائز ہے کہ اس غلام کو مکاتب بنائے جسے اس نے خریدا یا اسے مال کے عوض آزاد کرے ؟

جواب : یہ جائز نہیں۔

سوال : کیا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ ہبہ کرے یا صدقہ کرے؟

جواب : اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ عوض کے ساتھ با عوض کے بغیر ہبہ کرے مگر یہ کہ تھوڑا سا کھانا ہدیہ کرے یا اسے مہمان بنائے جو اسے کھلائے۔

سوال : غلام کہ اس کے آقا نے اسے اجازت دی ہیں وہ تجارت میں مشغول ہو گیا اور دیون لازم ہو گئے تو کون ان ( دیون ) کو ادا کرے؟

جواب : اس کے دیون اس کی گردن کے ساتھ کے متعلق ہیں، اسے قرضخواہوں کے لئے (دیون کی ادائیگی ) میں بیچا جائے مگر یہ کہ مولی مالی دے کر اسے چھڑا لے۔ پس جب اسے بیچا جائے تو اس کا ثمن ان کے درمیان حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ پس اگر اس کے دیون میں سے کچھ باقی رہ جائے تو آزادی کے بعد اس سے اس (دین) کا مطالبہ کیا جائے۔

سوال : مأذون غلام کو دیون لازم ہو گئے (جو ) اس کے مال اور اس کی گردن کو گھیر لیں (تو) کیا آقا اس (چیز) کا مالک ہو گا جو اس (غلام) کے قبضہ میں ہے؟

جواب : آقا اس کا مالک نہیں ہوگا۔ اور اس پر متفرع ہوتا ہے کہ آقا جب اپنے مآذون غلام کے غلاموں کو آزاد کرے تو وہ آزاد نہیں ہوں گے اور یہ (حکم) حضرت ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک ہے اور (صاحبین ) رحمهما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ آقا اس (چیز) کا مالک ہو گا جو اس کے مآذون غلام کے قبضہ میں ہے اگر دیون نے اسے گھیر لیا ہو۔

.سوال : آقا کا اپنے مآذون مدیون غلام کو آزاد کرنے کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب آقا اسے آزاد کرے تو اس کی آزادی نافذ ہو جائے گی اور آقا قرض خواہوں کے لئے اس کی قیمت کا ضامن ہو گا۔ اور دیون میں سے جو باقی رہ جائے آزاد کردہ ( غلام ) سے اس کا مطالبہ کیا جائے گا۔

سوال : مآذون غلام کا اپنے آقا کو (کوئی چیز) بیچنے کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب مآزون غلام اپنے آقا کو کوئی چیز اس کی قیمت کے مثل یا زائد کے عوض بیچے (تو) جائز ہے اور اگر نقصان کے ساتھ بیچے (تو) جائز نہیں اور یہ کم تب ہے جب اس (غلام) کے ذمہ دین ہو اور اگر اس کے ذمہ دین نہ ہو تو بیع ان کے درمیان ثابت نہیں ہوگی کیونکہ غلام اور جو کچھ اس کے قبضہ میں ہے وہ سب آقا کی ملک ہے۔

سوال : اگر آقا اپنے مآذون غلام کو کوئی چیز بیچے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : قیمت کے مثل یا کم کے عوض جائز ہے قیمت سے زائد کے عوض جائز نہیں اور یہ (حکم) بھی اس (صورت) کے ساتھ مقید ہے جب غلام مدیون ہو پس اگر (آقا) ثمن پر قبضہ کرنے سے پہلے ( ربیع ) اسے سپرد کر دے (تو) من باطل ہو جائے گا (یعنی بیع جائز نہیں ہو گی )۔ 

سوال : اگر (آقا ، مبیع ) کو اپنے قبضہ میں روک لے یہاں تک کہ ثمن وصول کر لے (تو) اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب : یہ جائز ہے۔

سوال : جب آقا اپنے غلام پر جبر کرے تو کیا وہ محجور ہو جائے گا؟

جواب : وہ اس کے جبر کرنے سے محجور ہو جائے گا بشرطیکہ حجر بازار والوں کے درمیان ظاہر ہو جائے۔

سوال : مأذون غلام کے حجر کی دوسری صورت کیا ہے؟

جواب : جب آقا مر جائے یا پاگل ہو جائے یا وہ مرتد ہو کر دارالحرب چلا جائے (خدا کی پناہ) تو مأذون غلام محجور علیہ ہو جائے گا اور اسی طرح جب مآذون غلام بھاگ جائے تو وہ محجور علیہ ہو جائے گا ۔ اور  ماذون باندی جب اپنے آقا (کے جماع) سے بچہ جنے تو یہ اس پر جبر ہے۔

سوال : دیون ، غصب کردہ چیزوں اور امانتوں کے بارے میں مادون غلام کے اقرار کا علم کیا ہے جب اس پر جبر کیا جائے؟

جواب : حضرت ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک یہ تمام (اقرار) اس مال میں جائز ہیں جو اس کے قبضہ میں ہے اور (صاحبین ) رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کا اقرار صحیح نہیں ۔

سوال : بچے کے ولی کا پچے کو تجارت میں اجازت دینے کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ اجازت صحیح ہے جب وہ اسے اجازت دے دے تو وہ خرید و فروخت میں مآزون غلام کی طرح ہے پس اس کا تصرف نافذ ہو گا بشرطیکہ وہ خرید و فروخت کی سمجھ رکھتا ہو۔





No comments:

Powered by Blogger.