Makanon dukanon or zameenon ko kiraya par lene ka bayan

مکانوں ، دکانوں اور زمینوں کو کرایہ پر لینے کا بیان 

سوال : مکانوں اور دکانوں کو کرایہ پر لینے کا کیا حکم ہے ؟

جواب : مکانوں کو رہائش کیلئے کرایہ پر لینا اور دکانوں کو صنعت اور تجارت کے لئے کرایہ پر لینا جائز ہے ۔

سوال : پس کیا مستاجر کے لئے جائز ہے  کہ وہ ان دو دکانوں میں جو چاہے کام کرے ؟

جواب : جی ہاں ! اس کے لئے جائز ہے کہ وہ ان دو دکانوں میں جو چاہے کام کرے مگر لوہار کا کام ،دھوبی کا کام اور پسائی کا کام کیونکہ یہ (کام) موجر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں 

سوال : کیا کاشتکاری کے لیے زمینوں کو کرایہ پر لینا جائز ہے ؟

جواب : کاشتکاری کے لیے ان کو کرایہ پر لینا جائز ہے لیکن عقد صحیح  نہیں ہوتا ۔مگر یہ کہ اس چیز کو بیان کر دے جن  کو ان میں کاشت کرے یا شرط لگا دے کے اس کو کاشت کرنے کا اختیار ہے جو چیز چاہے اور پانی اور راستہ عقد میں داخل ہوں گے اگرچہ شرط نہ لگائی گئی ہو ۔

سوال : کیا میدان کو کرایہ پر لینا جائز ہے اس میں تعمیر کرے اس میں درخت خرما یا دیگر درخت لگائیں ؟

جواب : ان کاموں کے لیے میدان کو کرایہ پر لینا جائز ہے ۔

سوال : پودے لگانے اور تعمیر کرنے کے لیے میدان کرایا پر لیا اور اجارہ کی مدت ختم ہوگئی وہ یہ میدان اس کے مالک کو کیسے سپرد کردے ؟

جواب : اسے لازم ہے کہ وہ یہ عمارت اور پودا اکھیڑ دے اور میدان سپرد کردے اس حال میں کے  (عمارت اور پودے سے) خالی  ہو  ۔مگر  یہ کہ مالک زمین پسند کرے  عمارت اور پودے کی قیمت مستاجر کو ادا کرے اس حال میں کہ پودا وغیرہ (اکھڑا )ہو  اور اس عمارت اور پودے کا مالک ہو جائے یا اس عمارت اور پودے کو اس حال پر  چھوڑنے پر راضی ہوجائے پس  عمارت اور پودا اس مستاجر کےاور زمین اس ( مالک زمین) کی ہوجائے گی

سوال : زمین کرایہ پر لی اور موجر  نے شرط لگائی کے  فلاں اس میں رہائش کرے اور فلاں کو معین کر دیا  تو کیا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کے غیر  کو رہائش دے؟

جواب : مستاجر کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کے غیر  کو رہائش دے کیوں کہ زمین استعمال کرنے والے کے بدلنے سے نہیں بدلتی

سوال : دوکان کو کرایہ پر لینے کا حکم کیا ہے اس صورت میں کہ موجر کہے اگر آپ نے اس میں عطر فروش کو رہائش دی تو مہینے میں ایک درہم کے عوض ہے اور اگر آپ نے لوہار کو  سکونت دی تو مہینے میں دو درہموں کے عوض ہے  ؟

جواب : یہ ایجاد (کرایہ پر دینا) اور  استیجار (اور کرایہ پر لینا ) جائز ہے۔اور دونوں کاموں میں سے جون سا کام کیا تو اس کام میں مقرر کردہ کرایا  کا حقدار ہوگا اور یہ حکم حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک ہے اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں کہ اجارہ فاسد ہے ۔

سوال : مکان کرایہ پر لیا کہ ہر ماہ  مثلا ایک درہم کے عوض  ہے تو اس  عقد کا حکم کیا ہے؟

جواب : ایک ماہ کے لئے عقد صحیح ہے اور باقی مہینوں کے لیے یہ عقد فاسد ہے مگر یہ کہ تمام مہینوں کو بیان کر دیں اس حال میں کہ وہ   ماہ معلوم ہوں  پس  اگر آنے والے ماہ  کی ایک گھڑی رہائش کرلی  تو موجر کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے مکان سے نکالے یہاں تک کہ وہ ماہ  ختم ہوجائے اسی طرح ہر ماہ کے شروع میں ایک دن  یا ایک گھڑی رہائش کرلے (تو یہی حکم ہے )۔

سوال : ایک مکان ایک سال کے لئے مثلا دس درہم کے عوض  کرایہ پر لیا اور ہر ماہ کی قسط اجرت  بیان نہیں کی تو اس کا حکم کیا ہے ؟

جواب : یہ اس کے لئے جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ۔

سوال : مستاجر  نے مکان پر قبضہ کرلیا اور اس میں رہائش نہیں کی تو اس کا حکم کیا ہے ؟

جواب : مکان کے منافع پر قدرت رکھنے کی وجہ سے  اس کے ذمہ اجرت ہے اگرچہ اس نے اس میں رہائش نہیں کی ۔

سوال : مکان کرایہ پر لیا اور    غاصب  نے اس کے قبضہ سے اسے  غصب کر لیا ۔تو اس صورت میں اجرت کا حکم کیا ہے ؟

جواب : جب اس میں رہائش کرنے سے پہلے اسے غصب کر لے تو ساری اجرت ساقط  ہو جائے گی اور وہ اگر اس میں رہائش کرے پھر غاصب اسے غصب کر لے تو جتنی مدت اس نے رہائش کی اس کی اجرت اسے لازم ہوگی اور جو مدت باقی رہ گئی کی اجرت ساقط ہوجائے گی ۔

سوال : مکان  کرایہ پر لیا اور اس میں ایسا عیب  پایا جو رہائش کے لئے نقصان دہ ہے تو وہ کیا کرے ؟

جواب : تو اسے عقد توڑنے کا حق حاصل ہے ۔

سوال : جب مکان گر جائے  یا زمین کا پانی یا چکی کا پانی ختم ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب : عقد اجارہ توڑنے کے بغیر از خود ٹوٹ جائے گا.

سوال : مشترک چیز کو کرایہ پر دینے کا حکم کیا ہے؟

جواب : حضرت ابو حنفیہ رحمہ اللہ کے نزدیک مشترک چیز کو کرایہ پر دینا جائز نہیں اور بہر حال صاحبین رحمہ اللہ کے نزدیک تو اس کو کرایہ پر دینا جائز ہے




No comments:

Powered by Blogger.