Makatab ka bayan

مکاتٙب کا بیان 

سوال : آقا کا اپنے غلام کو مکاتب بنانے کا مطلب کیا ہے؟

جواب وہ یہ ہے کہ آقا اپنے غلام یا اپنی باندی سے کہے کہ تحقیق میں نے تیرے ذمہ مثلا ہزار درہم مقرر کر دیئے تو وہ مجھے قسطوں میں ادا کرے گا پہلی قسط اتنی اور آخری قسط اتنی پس اگر تو ادا کردے تو آزاد ہے اور اگر تو عاجز ہوجائے تو تو غلام ہو جائے گا  بس جب غلام اسے قبول کرلے تو وہ مکاتب بن جائے گا اس معاملے کا نام کتابت رکھا جاتا ہے اور اس مال کا نام بدل کتابت رکھا جاتا ہے جو مال غلام،آقا کو ادا کرے گا ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں 
والّٙذِیْنٙ یٙبْتٙغُوْنٙ الْکِتٙابٙ مِمّٙا مٙلٙکٙتْ اٙیْمٙانُکُمْ فٙکٙاتِبُوْھُمْ اِنْ عٙلِمْتُمْ فِیْھِمْ خٙیْرًا (النور: ٣٣) 
ترجمہ اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں تو بہتر ہے کہ ان کو مکاتب بنا دیا کرو اگر ان میں بہتری کے آثار پاؤ

سوال : کیا جائز ہے مال میں شرط لازم کی جائے کہ نقد ہو یا لازم ہے کہ وہ ادھار ہو؟ 

جواب : جائز ہے کہ مال میں شرط لازم کی جائے کہ نقد ہو جیسا کہ جائز ہے کہ وہ ادھار ہو اور جائز ہے کہ وہ قسط وار ہو۔

سوال : کیا جائز ہے کہ آقا اپنے نابالغ غلام کو مکاتب بنائے؟

جواب : یہ اس کے لئے جائز ہے بشرطیکہ نابالغ غلام خرید و فروخت کی سمجھ رکھتا ہو۔

سوال : جب آقا اپنے غلام کو مکاتب بنائے تو کونسا حکم اس کے متعلق ہوتا ہے؟
 
جواب : جب کتابت صحیح ہوجائے تو مکاتب آقا کے تصرف سے نکل جاتا ہے اور اس کی ملک سے نہیں نکلتا پس غلام کے لئے جائز ہے کہ وہ بیچے ،خریدے اور سفر کرے۔ 

سوال : کیا مکاتب کے لئے جائز ہے کہ وہ شادی کرے ؟

جواب : یہ اس کے لئے جائز نہیں مگر یہ کہ آقا اسے اجازت دے دے۔ 

سوال : مکاتب غلام  مال کتابت  کی ادائیگی کے لیے کماتا ہے تو کیا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس میں سے ہبہ کرے یا صدقہ کرے؟

جواب : جو اس نے کمایا اس میں سے تھوڑی شے کے سوا ہبہ نہ کرے اور صدقہ نہ کرے۔

سوال : کیا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی کے لیے ضامن ہوجائے؟

جواب : یہ اس کے لئے جائز نہیں۔

سوال : مکاتب نے باندی خریدی پس اس سے صحبت کی اور اس نے اس سے ولد جنا تو اس ولد کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ ولد کتابت میں داخل ہوگیا اور اس کا حکم اس کے باپ کے حکم کی طرح ہوگیا  اور اس کی کمائی اس کے لئے ہے۔

سوال : آقا نے اپنی باندی سے اپنے غلام کا نکاح کرا دیا پھر ان دونوں کو مکاتب بنا دیا  پس باندی نے اس غلام سے ولد جنا تو اس ولد کا حکم کیا ہے ؟

جواب : ولد اپنی ماں کی کتابت میں داخل ہوجائے گا اس کی کمائی اس کے لئے ہوگی ۔

سوال : کسی مرد نے اپنی باندی کو مکاتب بنایا پھر اسے صحبت کی تو کیا اس پر کوئی شے واجب ہوتی ہے؟

جواب : جی ہاں اس پر عُقْر واجب ہوتا ہے

سوال : اگر مکاتب آقا باندی پر یا اس کے ولد پر جنایت کرے تو اس جنایت کا حکم کیا ہے؟

جواب : جنایت اسے لازم ہوگی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس جنایت کی وجہ سے پکڑا جائے گا  جیسا کہ جب آقا کا غیر ان دونوں پر جنایت کرتا تو پکڑا جاتا ۔

سوال : آقا نے اپنی مکاتبہ باندی کا مال برباد کر دیا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس نے باندی کا جو مال برباد کیا تو اس کا تاوان دے گا۔

سوال : مکاتب نے اپنے باپ یا اپنے بیٹے کو خریدا تو کیا وہ اس پر آزاد ہو جائے گا؟

جواب : وہ فی الحال اس پر آزاد نہیں ہوگا لیکن وہ اس کے ساتھ اس کی کتابت میں داخل ہو جائے گا بس مکاتب آزاد ہوگا تو باپ یا بیٹا اس کے ساتھ آزاد ہو جائے گا۔

سوال : مکاتب نے اپنی ام ولد کو اس کے ولد سمیت خرید لیا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : ام ولد کا ولد کتابت میں داخل ہوگیا اور ام ولد کو بیچنا اس کے لئے جائز نہیں۔

 سوال : مکاتب نے اپنے باپ یا بیٹے کے علاوہ ذو رحم محرم کو خریدا تو کیا وہ اس کی کتابت میں داخل ہو جائے گا؟ 

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک وہ اس کی کتابت میں داخل نہیں ہوگا مگر وہ یعنی مکاتب اور جس کو اس نے خریدا کے درمیان ولادت کی رشتہ داری ہو۔ 

سوال : مکاتب بدل کتابت قسط، قسط کی صورت میں ادا کرتا ہے پھر وہ قسط ادا کرنے سے عاجز ہوگیا تو کیا قاضی اسے عاجز قرار دے دے۔

جواب : قاضی مکاتب کے حال میں غور  ۔ فکر کرے پس اگر دوسروں کے ذمہ اس کا قرض ہو جسے وہ ادا کرے یا مال ہو جو اس کے پاس آجائے تو قاضی اسے عاجز قرار دینے میں جلدی نہ کرے اور اسے دو دن یا تین دن کی مہلت دے اور اگر اس کے پاس ادائیگی کی کوئی صورت نہ ہو اور آقا اسے عاجز قرار دینے کا مطالبہ کرے تو قاضی اسے عاجز قرار دے دے اور کتابت توڑ دے اور یہ حکم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک ہے( حضرت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی کا مسلک بھی یہی ہے)اور حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قاضی اسے عاجز قرار نہ دے یہاں تک کہ اس کے ذمہ دو قسطیں لگاتار گزر جائیں۔

سوال : جب مکاتب عاجز ہو جائے تو کیا وہ غلامی کی طرف لوٹ آئے گا؟

جواب : جی ہاں وہ غلامی کی طرف لوٹ آئے گا جیسا کہ وہ تھا اور تمام کمائیاں جو اس کے قبضہ میں ہیں وہ اس کے آقا کی ہوجائیں گی۔

سوال : مکاتب مرگیا اس حال میں کہ اس کے پاس بدل کتابت ادا کرنے کی مقدار مال ہے تو کیا اس کی موت کی وجہ سے کتابت توڑنے کا فیصلہ دیا جائے؟

جواب : کتابت توڑنے کا فیصلہ نہ دیا جائے اور اس کے مال میں سے وہ مال کتابت ادا کیا جائے جو اس کے ذمہ ہے اور اس کی زندگی کے اجزاء میں سے آخری جزء میں اس کی آزادی کا فیصلہ دیا جائے۔

سوال : قاضی نے مکاتب کی زندگی کے اجزاء  میں سے آخری جزء میں اس کی آزادی کا فیصلہ دیا اس کے مال میں سے وہ ادا کر دیا جو اس کے ذمہ ہے اور اس کے بعد اس کا مال باقی رہ گیا تو کون اس مال کو لے گا؟

جواب : اس کے ورثاء اس مال کو لیں گے۔

سوال : اور مکاتب میت کی اولاد کا حکم کیا ہیں؟

جواب : اولاد کی آزادی کا فیصلہ بھی دیا جائیگا.

سوال : مُکَاتَب نے وفا(حقوق واجبہ کے پورا کرنے کے لائق مال)نہیں چھوڑی اور کتابت (کے زمانہ) میں پیدا شدہ ولد چھوڑا (تو)اس ولد کا کیا حکم ہے؟کیا یہ(ولد)کتابت پر باقی رہے گا؟

جواب : یہ ولد مُکَاتَب ہے پس وہ اپنے باپ کی کتابت میں اسکی قسطوں کے مطابق کمائی کرے گاپس جب وہ (بدل کتابت)ادا کردے (تو) ہم (اسکے باپ)کی موت سے پہلےاسکے باپ کی آزادی کا فیصلہ دینگےاور ولد بھی آزاد ہو جائیگایہ(حکم)تب ہے جب ولد کتابت (کے زمانے) میں پیدا ہواہو اور اگر مُکَاتَب ایسا ولد چھوڑے جسکو اس نے کتابت میں خریدا تو اس(ولد)سے کہا جائیگا کہ یا تو(بدل)کتابت نقد ادا کرو وگرنہ تجھے غلامی میں لوٹا دیا جائیگا.

سوال : مسلمان شخص نےاپنے غلام کو شراب یا سور کے عوض مُکَاتَب بنایا(تو)اس کتابت کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس صورت میں کتابت فاسد ہے

سوال : پس اگر مُکَاتَب شراب یا سور ادا کر دے تو کیا اسکی آزادی کا فیصلہ دے دیا جائے؟

جواب : جی ہاں!اسکی آزادی کا فیصلہ دے دیا جائے اور اسے لازم ہے کہ وہ اپنی قیمت(کی ادائیگی)میں کمائی کرے مقررہ (بدلِ کتابت) سے کم نہ کیا جائےاور اس پر اضافہ کر دیا جائے

سوال : اپنی ذات کی قیمت کے عوض مُکَاتَب بنایا (تو)اس کتابت کا کیا حکم ہے؟

جواب : مقدار,جنس اور وصف کی حیثیت سے قیمت کی جہالت کی وجہ سے یہ کتابت بھی فاسد ہے اور اسکے باوجود اگر قیمت ادا کر دی تو آزاد ہو جائیگا۔

سوال : غلام کو غیر موصوف جانور کے عوض یا ایسے کپڑے کے عوض مُکَاتَب بنایا جسکی جنس بیان نہیں کی گئی(تو)اس کتابت کا کیا حکم ہے؟

جواب : کتابت پہلی صورت میں جائز ہے اور دوسری صورت میں ناجائز ہے.

سوال : اپنے دو غلاموں کو ہزار درہم کے عوض ایک(عقدِ)کتابت میں مُکَاتَب بنایا(تو)کیا یہ کتابت صیحیح ہے؟

جواب : جی ہاں!کتابت صیحیح ہے پس جب وہ دونوں(بدلِ کتاب )ادا کر دیں جو انکے ذمہ ہے(تو)وہ دونوں آزاد ہو جائینگے اور اگر وہ دونوں عاجز ہو جائیں تو غلامی کی طرف لوٹا دئیے جائینگے

سوال : اپنے دو غلاموں کو اس شرط پر مُکَاتَب بنایا کہ ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی جانب سے ضامن ہے (تو) اس کتابت کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ کتابت جائز ہے اور ان دونوں میں سے جو تمام مال کتابت ادا کردیگا تو وہ اور اسکا ساتھی آزاد ہو جائینگےاور وہ جس نے (مالِ کتابت) ادا کیا اپنے ساتھی پراس (مالِ کتابت) کے نصف کے ساتھ رجوع کریگا جو اس نے ادا کیا

سوال : اپنے غلام کو مُکَاتَب بنایاپھر اسے فوراً آزاد کر دیا(تو) اسکا کیا حکم ہے؟

جواب : وہ (آقا) کے آزاد کرنے سے آزاد ہو جائیگا اور مالِ کتابت اس سے ساقط ہو جائیگا.

جواب : اپنے غلام کو مُکَاتَب بنایا پھر وہ مر گیا تو کیا اس سے کتابت ٹوٹ جائیگی؟

جواب : (کتابت)نہیں ٹوٹے گی اور  مُکَاتَب سے کہا جائیگا کہ مال اسکی قسطوں کے مطابق آقا کے ورثہ کو ادا کر.

سوال : اگر ورثہ میں سے کوئی اسے آزاد کر دے(تو)کیا اسکی آزادی نافذ ہو جائیگی؟

جواب : اگر ان میں سے کوئ اسے آزاد کر دے تو اسکی آزادی نافذ نہیں ہوگی اور اگر وہ سب آزاد کر دیں تو آزاد ہو جائیگا اور مالِ کتابت اس سے ساقط ہو جائیگا.

سوال : کیا آقا کے لئےجائز ہے کہ وہ اپنی ام ولدکو مُکَاتَبہ بنائے؟

جواب : یہ جائز ہے لیکن اگر آقا مالِ کتابت کی ادائیگی سےپہلے مرجائے تو مال(امِ ولد)سے ساقط ہو جائیگا کیونکہ وہ اسکی امِ ولد ہونے کی وجہ سے اسی وقت آزاد ہو گئی.

سوال : اپنی باندی کو مُکَاتَبہ بنایا پس اس سے صحبت کی اور اس نے اس کے لئے (ولد) جنا تو اب یہ باندی کیا کرے؟

جواب : یہ (باندی) بااختیار ہےاگر چاہے کتابت پر قائم رہے پس جب مال ادا کر دیگی (تو) آزاد ہو جائیگی اور اگر چاہے اپنے آپکو عاجز قرار دے اور وہ اسکی امِ ولد ہے پس وہ(آقا)کی موت کا انتظار کرے تاکہ اس کی ذات آزاد ہو جائے.

سوال : اگر اپنی مدبرہ کو مکاتبہ بنائے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ کتابت جائز ہے پس  اگر آقا مر جائے اس حال میں کہ اس باندی کے سوا اس کا کوئی مال نہ ہو تو وہ باندی بااختیار ہے یا تو اپنی قیمت یا کتابت کے تمام مال میں کمائی کرے

سوال : کسی شخص نے اپنی باندی کو پہلے مکاتبہ بنایا پھر اسے مدبرہ بنا دیا تو اس تدبیر کا حکم کیا ہے؟اور باندی اس وقت کیا کرے؟

جواب : یہ تدبیر درست ہے اور باندی کو اختیار ہے اگر چاہے کتابت پر قائم رہے اور اگر چاہے اپنے آپ کو عاجز قرار دے اور وہ مدبرہ ہے اور اس وقت اس پر تدبیر کے احکام جاری ہوں گے

سوال : پس اگر وہ اپنی کتابت پر قائم رہے اور آقا مر جائے تو کیا وہ آزاد ہوجائے گی اس وجہ سے کہ وہ مدبرہ ہے؟

جواب : اگر آقا مر جائے بعد اس کے کہ باندی نے کتابت پر قائم رہنے کو پسند کرلیا اور اس باندی کے سوا آقا کا کوئی مال نہیں ہے تو حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وہ باندی با اختیار ہے اگر چاہے کتابت کے مال کے دو تہائی یا اپنی قیمت کے دو تہائی میں کمائی کرے
( صاحبین رحمھما اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے اقل میں کمائی کرے)

سوال : مکاتب غلام نے مال کتابت  سے غلام خریدا اور اس خریدے ہوئے غلام کو مال کے عوض آزاد کردیا تو کیا یہ اس کے لئے جائز ہے ؟

جواب : جائز نہیں 

سوال : جب مکاتب اس خریدے ہوئے غلام کو عوض کے ساتھ ہبہ  کر دے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ ہبہ درست نہیں 

سوال : اگر مکاتب خریدے ہوئے غلام کو مکاتب بنالے تو اس کتابت کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ کتابت درست ہے اور کتابت کے دونوں عوضوں کی ادائیگی میں دیکھا جائے پس اگر دوسرا مکاتب پہلے مکاتب کے آزاد ہونے سے پہلے بدل کتابت ادا کر دے تو دوسرا مکاتب آزاد ہوجائے گا اور اس کی ولاء پہلے آقا کے لِیے ہے اور اگر وہ پہلے مکاتب کی آزادی کے بعد بدل کتابت ادا کرے تو اس کی ولاء پہلے مکاتب کے لئے ہے

سوال : اگر مکاتب نے اپنی اس باندی کا نکاح کرا دیا جس کو اس نے خریدا تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب : جی ہاں یہ جائز ہے



No comments:

Powered by Blogger.