Makrooh Bayoo ka bayan
مکروہ بیوع کا بیان
اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں
یٙا اٙیُّھا الّٙذِیْنٙ اٰمٙنُوْا اِذٙا نُوْدِیٙ لِلصّٙلٰوةِ مِنْ یّٙوْمِ الْجُمُعٙةِ فٙاسْعٙوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وٙ ذٙرُوالْبٙیْع
ترجمہ
اے ایمان والو جب جمعہ کے روز نماز جمعہ کے لئے اذان کہی جائے تو اللہ کی یاد یعنی خطبہ نماز کی طرف فوراً چل پڑو اور خرید و فروخت اور دیگر مشاغل چھوڑ دو
بس بیع جمعہ کی اذان کے وقت اور اس کے بعد ممنوع ہے یہاں تک کہ وہ نماز جمعہ سے فارغ ہو جائے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نٙجٙشْ( نون و جیم کے فتح کے ساتھ یہ ہے کہ خریدار مبیع کا سامان اس کی قیمت کے بقدر لگا چکا ہو مگر کوئی آدمی ارادہ خریداری کے بغیر وہی مبیع کا ثمن بڑھا دے تاکہ خریدار زائد ثمن پر خرید لے تو ایسی بیع مکروہ ہے کیونکہ اس میں خریدار کا نقصان ہے۔
دوسرے کے بھاؤ پر بھاؤ لگانے سے(بھاؤ پر بھاو لگانے سے مراد یہ ہے کہ بائع اور مشتری مبیع کے ثمن پر متفق ہو چکے ہوں مگر تیسرا آدمی کہہ دے کہ میں یہ مبیع زیادہ ثمن پر خریدتا ہوں یا ایسی مبیع کم ثمن پر فروخت کرتا ہوں تو یہ بیع مکروہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں خریدار کا اور دوسری صورت میں فروخت کنندہ کا نقصان ہے) ،تٙلٙقِّی جٙلٙبْ (تلقی جلب کی ایک صورت یہ ہے کہ قحط سالی میں شہر کے بعض تاجر شہر سے باہر آکر دیہات کے اناج والے قافلے سے سارا غلہ خرید لیں تاکہ حسب منشا قیمت پر فروخت کریں اور دوسری صورت یہ ہے کہ بعض شہری تاجر شہر سے باہر آکر قافلے والوں سے سستے داموں فروخت کریں اور شہر کا بھاو ان پر مخفی رکھیں اور قافلے والے خود بھی شہر کے بھاؤ سے ناواقف ہوں تو ایسی بیع مکروہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں شہریوں کا اور دوسری صورت میں قافلے والوں کا نقصان ہے) سے اور دیہاتی کے لیے شہری کی بیع ( دیہاتی کے لیے شہری کی بیع کا مطلب یہ ہے کے زمانہ قحط میں کوئی دیہاتی اناج لیکر آئے اور شہری اس سے کہے کہ عجلت نہ کر میں گراں قیمت پر فروخت کروں گا تو یہ بیع مکروہ ہے کیونکہ اس میں شہریوں کا نقصان ہے) سے منع فرمایا ہے۔
فائدہ
جو شخص دو نابالغ غلاموں کا مالک ہو ،ان دونوں غلاموں میں سے ایک دوسرے کا ذو رحم محرم یعنی نسبتی قرابتدار ہو تو مالک کے لئے جائز نہیں کہ وہ بیع کے ذریعے ان دونوں کے درمیان تفریق کرے بایں طور کہ یہ غلام ایک شخص کو اور دوسرا غلام کسی دوسرے شخص کو بیچ دے اور اسی طرح جب ان دونوں میں سے ایک بالغ اور دوسرا نابالغ ہو پس اگر وہ ان دونوں کے درمیان تفریق کرے تو یہ مکروہ ہے اور بیع جائز ہے اور اگر وہ دونوں بالغ ہوں تو ان کے درمیان تفریق کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

No comments: