Masla ko durust karne ka bayan

مسئلہ کو درست کرنے کا بیان

سوال : جب مسئلہ کی اصل یعنی اس کا مخرج ورثہ پر منقسم ہو جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں اور کبھی ممکن ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک فریق کے حصے ان پر منقسم نہ ہوں پس جب اس طرح ہو تو مسئلہ کو کیسے درست کیا جائے؟

جواب : اولاً جان لیجیے کہ اعداد کے درمیان تماثل ، تداخل ، توافق ، اور تباین ہوتا ہے پس دو عددوں کے درمیان تماثل کا مطلب یہ کے کہ ان میں سے ایک دوسرے کے برابر ہو جیسے تین اور تین اور تداخل کا مطلب یہ ہے کہ دو عدد مختلف ہوں اس حیثیت سے کہ دو عددوں میں سے اکثر ، اقل پر صحیح تقسیم کے طریق پر منقسم نہ ہو جیسے نو کے ساتھ تین اور دو عددوں کے توافق کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ، اقل پر منقسم نہ ہو لیکن وہ دونوں تیسرے عدد پر صحیح تقسیم کے طریق پر منقسم ہو جائیں جیسے بیس کے ساتھ آٹھ کہ چار ان دونوں کو تقسیم کرتا ہے پس یہ دونوں عدد متوافق ہیں اور دو عددوں کے تباین کا مطلب یہ ہے کہ دو عددوں میں سے اکثر ، اقل پر صحیح تقسیم کے طریق پر منقسم نہ ہو جیسا کہ تیسرا عدد برابری کے طریق پر ان دونوں کو تقسیم نہیں کرتا جیسے دس کے ساتھ نو ۔
جب آپ یہ جان چکے تو ثانیاً جان لیجیے کہ اگر ورثہ میں سے ایک فریق کے حصے ان پر منقسم نہ ہوں تو جن کے حصے ٹوٹ گئے ان کے عدد کو مسئلہ کی اصل یا اس کے عول میں ضرب دیجیئے اگر مسئلہ عائلہ ہو پس ضرب سے جو حاصل ہو تو آپ اس سے حصے نکال لیں اور اس سے مسئلہ درست ہوجائے گا ان شاء اللّٰه جیسا کہ جب میت بیوی اور دو بھائیوں کو چھوڑے تو بیوی کے لیے رُبع اور دونوں بھائیوں کے لیے تین رُبع ہیں اور یہ (تین ربع) دو بھائیوں پر کسر کے بغیر منقسم نہیں ہوتے پس دو بھائیوں کے عدد کو اور وہ دو ہے مسئلہ کی اصل میں اور وہ چار ہے ضرب دیجیئے پس آٹھ حاصل گا اور اس سے مسئلہ درست ہو جائے گا پس دو حصے بیوی کے لیے اور چھ حصے دونوں بھائیوں کے درمیان مشترک ہوں گے ۔ یہ حکم تب ہے جب حکم تب ہے جب سروں کے عدد اور حصوں کے درمیان تباین ہو اور بہرحال جب ان کے حصے ان کے عدد کے موافق ہوں تو ان کے وَفقِ عدد کو مسئلہ کی اصل میں ضرب دیجیے جیسا کہ جب میت بیوی اور چھ بھائیوں کو چھوڑے تو بیوی کے لیے رُبع اور بھائیوں کے لیے تین رُبع یعنی تین حصے ہیں اور یہ تین حصے ان چھ بھائیوں پر منقسم نہیں ہوتے تو آپ ضرب کے محتاج ہوئے پس جب آپ ان کے عدد کے ثُلث یعنی دو کو اور وہ یہ ہے جس کو ہم ان کے وفق عدد کا نام دیتے ہیں۔

مسئلہ کی اصل پر ضرب دیجیے تو مسئلہ اس سے درست ہو جائے گا کیونکہ دو کو چار میں ضرب دینے سے اٹھ حاصل ہوتا ہے۔ پس بیوی دو حصے لے گی اور چھ بھائی ایک ایک حصہ لیں گے یہ مثال ہے جس سے مسئلہ غیر عائلہ کی تصحیح واضح ہوتی ہے۔ بہرحال جب مسئلہ عائلہ ہو تو اس کی مثال تباین کی صورت میں یہ ہے کہ جب ترکہ شوہر اور ماں و باپ کی طرف سے تین بہنوں پر منقسم ہو تو مسئلہ کی اصل چھ سے ہوگی۔ اور وہ سات کی طرف عول کرے گا اور مسئلہ اکیس سے درست ہو جائے گا۔
بہرحال جب مسئلہ ایسا عائلہ ہو کہ اس میں توافق ہے اور محتاج ہو کہ اسے اس کے عول میں ضرب دی جائے تو اس کی مثال یہ ہے کہ عورت مر گئ اور شوہر ،ماں باپ اور چھ بیٹیوں کو چھوڑ گئ تو مسئلہ کی اصل بارہ سے یے پس شوہر کیلیے رُبع ہے یعنی تین (حصے) ماں باپ کےلیے دو سُدس ہے یعنی چار ( حصے) اور چھ بیٹیوں کے لیے دو ثُلث ہے اور وہ ( یعنی دو ثلث ) آٹھ ( حصے) ہیں پس مخرج تنگ ہوگیا اور مسئلہ پندرہ کی طرف عُول کر گیا اور بیٹیوں کے حصے یعنی آٹھ ان کے سروں کے عدد پر ٹوٹ گئے اور سروں کے عدد اور حصوں کے درمیان نصف کے ساتھ موافقت ہے پس ہم نے انکے سروں کے عدد کو نصف کی طرف لوٹایا اور وہ ( یعنی نصف ) تین ہے پس ہم نے اس کو عول میں ضرب دی تو پندرہ کو تین میں ضرب دینے سے پینتالیس حاصل ہوق تو اس سے مسئلہ درست ہوگیا پس شوہر نو حصے لے گا، ماں باپ بارہ حصے لیں گے اور بیٹیاں چوبیس حصے لیں گی ہر ایک چار حصے ( لے گی ) پس مخرج اور تقسیم درست ہوگئے۔

سوال : یہ جو آپ نے ذکر فرمایا اس سے ہم نے مسئلہ کو درست کرنے کی (مختلف ) صورتیں معلوم کیں جب حصے ایک فریق پر ٹوٹ جائیں پس اگر دو فریقوں یا زائد پر ٹوٹ جائیں تو پچیدہ مشکل مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟

جواب : جب دو فریقوں یا زائد کے حصے ٹوٹ جائیں تو دو فریقوں میں سے ایک کو دوسرے میں ضرب دیئجیے پھر جو جمع ہو اسے تیسرے فریق میں سے ضرب دیئجیے پھر جو جمع ہو اسے مسئلہ کیا اصل میں (ضرب دیئجیے) یہ حکم تب ہے جب دو فریقوں یا زائد کے سروں کے اعداد کے درمیان تٙبٙایُن ہو جیسا کہ جب ( کوئی شخص ) دو بیویوں ، پانچ دادیوں ، ماں کی طرف سے تین بھائی اور ایک چچا کو ( چھوڑ کر ) مر جائے ( تو ) اس ( مسئلہ) کی اصل بارہ سے ہے دو بیویوں کے لیے رُبع ( یعنی ) تین ( حصے ) ہیں ( پانچ) دادیوں کے لیے سُدس ( یعنی) دو حصے ہیں ، ماں کی طرف سے ( تین ) بھائیوں کے لیے ثُلث ( یعنی ) چار ( حصے) ہیں اور چچ کے لیے وہ ہے جو باقی رہ جائے اور وہ تین ( حصے ) ہیں اور بیویوں دادیوں اور بھائیوں پر حصے ٹوٹ گئے پس دو بیویوں کے عدد کو اور وہ دو ہے دادیوں کے عدد میں ( اور وہ پانچ ہے ) ضرب دیئجیے تو دس ہو جائے گا پھر دس کو تین یعنی بھائیوں کے عدد میں ضرب دیئجیے تو تیس ہو جائے گا پھر تیس کو مسئلہ کی اصل میں ضرب دئجیے اور وہ ( یعنی مسئلہ کی اصل ) بارہ ہے تو تین سو ساٹھ حاصل ہوگا اور اس سے مسئلہ صحیح ہو جائے گا پس اگر اعداد برابر ہوں ( تو ) ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کفایت کرے گا جیسا کہ جب( میت) دو بیویاں اور دو بھائی چھوڑے تو مسئلہ چار سے ہوگا، دونوں بیویاں رُبع (یعنی) ایک حصہ اور دونوں بھائی باقی ماندہ ( یعنی) تین (حصے) لیں گے پس ہر فریق کے حصے اس پر ٹوٹ گئے پس جب آپ چاہیں کہ مسئلہ کو درست کیا جائے ( تو ) دو کو ہوگا اور مسئلہ اس سے درست ہو جائے گا پس دونوں بیویاں رُبع یعنی دو ( حصے) لیں گی کہ ہر ایک ایک ایک ( حصے لی گی) اور دونوں بھائی چھ ( حصے لیں گے) کہ ہر ایک تین تین ( حصے ) لے گا۔ اور جب چار کو ضرب دی جائے تو وہ آپ کو دوسرے ( عدد ) سے کفایت کرے گا۔
اور اگر دو عددوں میں سے ایک دوسرے کے موافق ہو تو آپ ان میں سے ایک کے وٙفق کو دوسرے کے کل میں ضرب دیں پھر جو جمع ہو اسے مسئلہ کی اصل میں ( ضرب دیں) جیسے چار بیویاں ، ایک بہن اور چھ چچے تو چھ نصف کے ساتھ چار کے موافق ہے پس ان میں سے ایک کے نصف کو دوسرے کے کل میں ضرب دئجیے پھر جو جمع ہو اس کو مسئلہ کی اصل میں ( ضرب دئیجیے ) تو اڑتالیس ہو جائیں گے اور اس سے مسئلہ درست ہو جائے گا پس جب مسئلہ درست ہو جائے تو ترکہ میں ہر وارث کے حصوں کو ضرب دئجیے پھر جو جمع ہو اسے اس پر تقسیم کئیجیے جس سے فریضہ درست ہو جائے اور ہر وارث کا حق نکل آئے۔





No comments:

Powered by Blogger.