Mayat ko uthane or dafan karne ka bayan

(میت کو)
اٹھانے اور دفن کرنے کا بیان

سوال : مرد لوگ میت کو کیسے اٹھائیں اور اُسے کیسے لے چلیں؟

جواب : جب میت کو اٹھانا چاہیں تو اس کے تخت کے چاروں پائے پکڑ لیں اور اسے دوڑے بغیر جلدی لے چلیں اور جو اسے اٹھانا چاہے پس چاہیے کہ وہ جنازے کا دایاں سرہانہ اپنے دائیں کندھے پر پھر اس کی دائیں پائنتی اپنے دائیں کندھے پر پھر اس کا بایاں سرہانہ اپنے بائیں کندھے پر پھر اس کی بائیں پائنتی اپنے بائیں کندھے پر رکھے۔

سوال : کیا لوگ قبرستان میں بیٹھ سکتے ہیں؟

جواب : جی ہاں قبرستان میں بیٹھنا جائز ہے لیکن مردوں کی گردنوں سے جنازہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے۔

سوال : قبر کیسی ہو؟

جواب : قبر آدھے قد تک یا سینہ تک کھودی جائے اور اگر اضافی کریں تو اچھا ہے اور قبر میں لحد بنائی جائے اور وہ اولی و افضل ہے پس اگر زمین نرم ہو اور وہ شَقّ اختیار کریں تو وہ جائز ہے۔

سوال : میت کو قبر میں کیسے داخل کیا جائے ؟

جواب : اس جانب سے داخل کیا جائے جو قبلہ کے قریب ہے اور جو اسے اس کی لحد میں رکھے وہ یہ کہے بسم اللّٰه وبالله و علی ملۃ رسول اللّٰه
اور پہلو کے بل لیٹنے والے کی طرح اسے اس کی دائیں کروٹ پر قبلہ رخ کردے اور کفن کی وہ گرہیں کھول دے جو انہوں نے کفن کھلنے کے اندیشہ سے لگائیں اور کچی اینٹوں کو لحد پر برابر کردیا جائے پھر مٹی ڈالی جائے۔

سوال : اگر لحد برابر کرنے میں پکی اینٹیں ، لکڑی اور بانس استعمال کریں تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : پکی اینٹیں اور لکڑی مکروہ ہے اور بانس میں کوئی حرج نہیں۔


سوال : مٹی ڈالنے کے بعد قبر کیسی بنائی جائے؟

جواب : قبر اونٹ کی کوہان کی طرح بنائی جائے اور چوکور نہ بنائی جائے اور ایک بالشت سے زیادہ بلند نہ کی جائے ۔

سوال : قبروں کو گچ کرنے اور ان کو گچ ، سیمنٹ وغیرہ سے پختہ کرنے کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ سب گناہ ہے نبی کریم صلی اللّٰه علیه واله وسلّم نے اس سے منع فرمایا ہے۔


سوال : بچہ پیدا ہوا اور چلّایا پھر مر گیا اس پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب : جو بچہ پیدا ہونے کے چلایا یا اس سے ایسی شے پائی گئی جو زندگی پر دلالت کرتی ہے اس کا نام رکھا جائے اور اسے غسل دیا جاۓ اور اس پر نماز پڑھی جائے۔

سوال : اگر بچہ نہیں چلّایا اور ایسی شے نہیں پائی گئی جو زندگی پر دلالت کرے؟

جواب : اسے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور دفن کردیا جائے اور اس پر نماز نہ پڑھی جائے۔






No comments:

Powered by Blogger.