Mazarbat ka bayan
مضاربت کا بیان
رب المال : رقم وغیرہ کا مالک
رأس المال : اصل رقم وغیرہ
مضارب : کسی سے رقم وغیرہ لے کر کاروبار کرنا
سوال : لغت اور شریعت کی رو سے مضاربت کیا ہے؟
جواب : مضاربت ضرب سے ماخود ہے (جو) زمین پر چلنے کے معنی میں ہے اور شریعت کی رو سے یہ دو شریکوں میں سے ایک کی طرف سے مال اور دوسرے کی طرف سے کام کے عوض نفع میں شرکت پر عقد کرنا ہے اور یہ صحیح نہیں ہوتی مگر اس مال کے ساتھ ، جسے ہم گزشتہ باب میں بیان کر چکے۔
سوال : کیا مضاربت کی صحت کیلئے شرائط ہیں؟
جواب : جی ہاں ! اس کی صحت کیلئے دو کاموں کی شرط لگائی جاتی ہے:
(۱)
یہ کہ مال مضارب کو سپرد کیا گیا ہو اس حیثیت سے کہ اس میں رب المال کا تصرف ( اور قبضہ ) باقی نہ رہے۔
(۲)
یہ کہ نفع ان دونوں کے درمیان مشترک ہو اس حیثیت سے کہ ان میں سے کوئی ایک متقین درہموں کا حقدار نہ ہو۔
سوال : جب مضاربت عقد کی حیثیت سے صحیح ہو جائے تو کام کرنے والے کیلئے کیا جائز ہے؟
جواب : جب مضاربت مطلق ہو (یعنی) زمان، مکان اور سامان کے ساتھ مقید نہ ہو (تو) مضارب کیلئے جائز ہے کہ وہ بیچے اور خریدے جو (چیز) چاہے، سفر کرے، بضاعت پر (مال) دے اور وکیل بنائے ۔ اور اگر رب المال معین شہر یا معین سامان میں تصرف کو خاص کر دے (تو) مضارب کیلئے جائز نہیں کہ وه اس سے تجاوز کرے۔
سوال : مال کے مالک نے زمان کی حیثیت سے انتہا مقرر کر دی یعنی مضاربت کو مدت معلومہ کے ساتھ موقت کر دیا تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ جائز ہے اور مضارب کو لازم ہے کہ وہ اس (مدت) سے تجاوز نہ کرے اور عقد (مدت) گزرنے کے ساتھ باطل ہو جاتا ہے۔
سوال : کیا مضارب کیلئے جائز ہے کہ وہ کسی دوسرے کو مال مضاربت پر دے؟
جواب : یہ اس لیے جائز نہیں مگر یہ کہ رب المال اسے اجازت دے یا اس سے کہے کہ اپنی تدبیر رسائی کی مطابق کام کیجئے۔
سوال : پس اگر مضارب نے اپنے سوا (کسی) کو مال مضار بت پر دے دیا اور رب المال نے اس عمل کی اجازت نہیں دی (تو) کیا مضارب اول رب المال کے مال کا ضامن ہو گا ؟
جواب : ضامن ہوگا لیکن نفس عقد کے ساتھ نہیں اور مضارب ثانی کے تصرف کرنے کے ساتھ نہیں بلکہ مضارب اول رب المال کیلئے مال کا ضامن ہو گا جب مضارب ثانی کو نفع ہو پس جب مضاربت ثانی کو نفع ہو تو مضارب اول رب المال کیلئے مال کا ضامن ہو گا۔
سوال : رب المال نے اپنا مال مضارب کو دیا اس شرط پر کہ نفع ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہے اور اس کے ساتھ اسے اجازت دی کہ وہ دوسرے کو مال مضاربت پر دے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ جائز ہے۔
سوال : نفع ان تینوں کے درمیان کیسے تقسیم کیا جائے گا؟
جواب : اس بارے میں دیکھا جائے گا، اگر رب المال اپنے لیے آدھے نفع کی شرط لگائے اور کہے کہ اللہ تعالی جو روزی پہنچائیں تو وہ ہمارے درمیان آدھی آدھی ہے‘ اور مضارب اول نے مال مضارب ثانی کو دے دیا اس شرط پر کہ نفع ان دونوں کے درمیان تین تہائی ہے لیکن اس کے دو تہائی مضارب ثانی کیلئے ہیں اور اس کا ایک تہائی (مال) کے مالک (یعنی مضارب اول) کیلئے ہے پس دو نفع حاصل ہو اس کا آدھا رب المال کیلئے اور اس کا تہائی مضارب ثانی کیلئے اور اس کا چھٹا حصہ مضارب اول کیلئے ہو گا اور اگر رب المال کہے کہ 'تحقیق اللہ تعالی جو روزی پہنچائیں پس وہ ہمارے درمیان آدھی آدھی ہے' اور مضارب اول، مضارب ثانی سے کہے کہ "جو آپ نفع اٹھائیں پس میرے لیے اس میں سے دو تہائی ہے اور آپ کیلئے ایک تہائی ہے (تو) تہائی مضارب ثانی کیلئے اور دو تہائی رب المال اور مضارب اول کے درمیان (مشترک) ہوگا۔
سوال : اگر رب المال نے اپنے لیے آدھے نفع کی شرط لگائی اور کہا کہ 'اللہ تعالی جو روزی پہنچائیں تو میرے لیے اس کا آدھا ہے' اور مضارب اول نے مال کسی دوسرے کو آدھے (نفع) کے ساتھ مضاربت پر دے دیا تو نفع کیسے تقسیم کیا جائے گا؟
جواب : نفع رب المال اور مضارب ثانی کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کیا جائے گا اور مضارب اول کے لئے کوئی چیز نہیں ہوگی۔
سوال : اگر مضارب ثانی اس صورت میں اپنے لیے نفع کے دو تہائی کی شرط لگائے اور مضارب اول اس پر راضی ہو جائے تو رب المال کو اور مضارب ثانی کو کیا (نفع) پہنچے گا ؟
جواب : رب المال آدھا نفع اور مضارب ثانی اور آدھا نفع لیگا اور مضارب اول مضارب ثانی کے لیے اپنے مال میں سے نفع کے چھٹے حصہ کی مقدار کا ضامن ہوگا تاکہ اس کے لیے (نفع کے) دو تہائی مکمل ہوجائیں۔
سوال : ایک شخص کے اس کے پاس مال ہے اس نے وه (مال) مضاربت پر دوسرے شخص کو دے دیا اور مضارب نے رب المال کے باپ یا اس کے بیٹے کو غلام دیکھا (جو) بازار میں فروخت کیا جارہا ہے تو کیا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ ان کو خریدے ؟
جواب : مضارب کے لیے (جائز) نہیں کہ وہ رب المال کے باپ یا اس کے بیٹے کو خریدے اور نہ ایسے (شخص) کو خریدے جو (رب المال) پر آزاد ہو جائے ۔
سوال : پس اگر وه خرید لے تو اس بارے میں کس (چیز) کے ساتھ فیصلہ دیا جائے ؟
جواب : فیصلہ دیا جائے کہ اس نے اسے اپنے لئے خریدا اور اسے مضاربت کے مال سے شمار نہ کیا جائے ۔
سوال : کیا مضارب کیلئے جائز ہے کہ وه ایسے (شخص) کو خریدے جو اس پر آزاد ہوجائے ؟
جواب : اگر مال نفع مند ہو جائے تو اس کیلئے (جائز) نہیں کہ وه ایسے (شخص) کو خریدے جو اس پر آزاد ہو جائے اور اگر وہ ان کو خرید لے تو وه مضاربت کے مال کا ضامن ہوگا اور اگر اس مال میں نفع نہیں ہوا (تو) اس کیلئے جائز ہے کہ وه ان کو خریدے ۔
سوال : خریدنے کہ بعد (مذکورہ بالا غلاموں) کی قیمت بڑھ گئ اور نفع ظاہر ہوا تو کیا اس صورت میں اس کا حصّہ آزاد ہو جائے گا اور رب المال کو تاوان دے گا ؟
جواب : ان (غلاموں) میں اس کا حصّہ آزاد ہو جائے گا اور وه رب المال کیلئے کسی چیز کا ضامن نہیں ہوگا اور لیکن آزاد شدہ غلام رب المال کیلئے اپنی (قیمت) میں سے اس کے حصّہ کی قیمت میں کمائی کرے گا ۔
سوال : کیا مضارب کے لئے جائز ہے کہ وه مال بیچے ؟
جواب : اس کے لئے جائز ہے کہ وه نقد کے ساتھ ادھار کے ساتھ بیچے کیونکہ یہ تجارت کی ضرورات میں سے ہے
سوال : جب مضارب مضاربت کے مال سے غلام یا باندی خریدے تو کیا اس کیلئے جائز ہے کہ وه غلام یا باندی کا نکاح کرائے ؟
جواب : یہ اس کے لئے جائز نہیں ۔
سوال : مضاربت کے مال میں مضارب کے تصرف کا حکم کیا ہے جب رب المال اسے معزول کردے ؟
جواب : جب رب المال اسے معزول کرنے کا علم نہیں ہوا یہاں تک کہ اس نے خریدا یا بیچا تو اس کا تصرف جائز ہے اور اگر اسے اپنے معزول کرنے کا علم ہو جائے اور مال اس کے قبضہ میں (موجود) سامان ہے تو اس کیلئے (جائز) ہے کہ وه اسے فروخت کرے اور معزول کرنا اسے اس (عمل) سے نہیں روکتا پھر اس کیلئے جائز نہیں ہے کہ وه اس (سامان) کے ثمن سے کوئی دوسری چیز خریدے اور اگر (رب المال ) اسے معزول کرے اس حال میں کہ راس المال دراہم اور ونانیر ہیں (جو) تحقیق نقدی بن چکے تو اس کیلئے ان میں تصرف کرنا (جائز) نہیں ۔
سوال : رب المال اور مضارب جدا ہوگئے اس حال میں کہ مال میں دیون ہیں (تو) کون ان کو حاصل کرے گا اور ان کو وصول کرے گا ؟
جواب : اگر مال میں نفع ہوا ہے تو قاضی مضارب کو دیون وصول کرنے پر مجبور کرے گا اور مال میں نفع نہیں ہوا تو وصول کرنا اسے لازم نہیں ہوگا اور اس سے کہا جائے گا کہ وصول کرنے میں رب المال کو وکیل بنایے ۔
سوال : راس المال یا نفع میں سے ہلاک ہونے والی (رقم) کا حکم کیا ہے ؟
جواب : مضاربت کے مال سے جو (رقم) ہلاک ہوگی راس المال میں سے نہیں پس اگر ہلاک ہونے والی (رقم) نفع سے زائد ہو جائے تو اس میں مضارب پر ضمان نہیں ہے ۔
سوال : دونوں نفع تقسیم کرتے رہے اس حال میں کہ مضاربت اپنے حال پر تھی پھر تمام مال یا کچھ (مال) ہلاک ہوگیا تو وہ کیسے کرے ؟
جواب : دونوں نفع واپس کریں یہاں تک کہ رب المال راس المال وصول کر لے پس اگر کوئی چیز بچ جائے تو وہ ان کے درمیان (مشترک) ہوگی اور اگر راس المال سے کم ہوجاے تو مضارب ضامن نہیں ہوگا ۔
سوال : اگر دونوں نفع نقصان تقسیم کر چکے تھے اور مضاربت توڑ دی پھر دوسری مرتبہ (مضاربت) کا عقد کیا اور تمام مال یا کچھ (مال) ہلاک ہوگیا تو کیا وه دونوں پہلا نفع واپس کریں گے ؟
جواب : اس صورت میں پہلا نفع واپس نہیں کریں گے کیونکہ پہلے نفع کا دوسری مضاربت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
سوال : کونسی صورت میں مضاربت باطل ہو جاتی ہے ؟
جواب : جب رب المال یا مضارب مر جائے تو مضاربت باطل ہوجاتی ہے جیسا کہ باطل ہوجاتی ہے جب رب المال مرتد ہوجائے (اللہ کی پناء) اور دارالحرب (یعنی کفرستان) چلا جائے اور مضاربت کا عقد مدت گزرنے سے بھی باطل ہوجاتا ہے جب رب المال اس کو موقت کردے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ۔

No comments: