Muaaqil ka bayan
معاقل کا بیان
سوال : آپ نے ایک سے زائد مرتبہ ذکر فرمایا کہ عاقلہ قاتل کی طرف سے دیت ادا کرے تو عاقلہ کا مطلب کیا ہے؟
جواب : عقل اور معقلہ قاتل کی طرف سے دیت ادا کرنا ہے اور جو عاقل ہیں یعنی (قاتل) کی طرف سے دیت ادا کرتے ہیں ان کو "عاقلہ" کہا جاتا ہے اور ہر ایسی دیت جو نفس قتل سے واجب ہو (صلح سے نہیں) وہ عاقلہ پر واجب ہوتی ہے اور عاقلہ حضرت ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک "اہل دیوان(وہ لشکر جن کے نام دیوا یعنی رجسٹر میں درج ہوں) " ہیں اگر قاتل ان میں سے ہو اور دیت ان کے سالانہ وظیفوں میں سے تین سالوں میں وصول کی جائے پس اگر سالانہ وظائف تین سالوں سے زائد یا کم میں نکلیں تو ان (وظائف) سے وصول کی جائے اور اگر قاتل اہل دیوان میں سے نہ ہو تو اس کی عاقلہ اس کا قبیلہ ہے ان پر تین سالوں میں (دیت) کی قسط مقرر کی جائے اور ان میں سے ایک پر چار سے زائد درہم مقرر نہ کئے جائیں ہر سال میں ایک درہم اور دو دانق(درہم کے چھٹے حصے کا سکہ) ہیں اور چار درہموں سے کم کر دیا جائے جب قبیلہ کے افراد زیادہ ہوں اور قاتل عاقلہ کے ساتھ (ادائیگی دیت میں) داخل ہو گا پس جو (دیت) ادا کی جائے وہ (یعنی قاتل) ان میں سے ایک کی طرح ہو گا۔
سوال : اگر قبیلہ اس کی وسعت نہ رکھے تو دیت کہاں سے مکمل کی جائے؟
جواب : قبائل میں سے قریب ترین (قبیلہ کے لوگوں) کو ان کے ساتھ ملایا جائے۔(یعنی نسب کے لحاظ سے جو قبیلہ قریب ترین ہو پس عصبات کی ترتیب کے مطابق الاقرب فالاقرب ملایا جائے)
سوال : تفصیل کے ساتھ بیان کیجئے جس (دیت) کو عواقل ادا کرتے ہیں اور جس (دیت) کو ادا نہیں کرتے؟
جواب : پہلے اس (دیت) کو زبانی یاد کیجئے جس کو عواقل ادا کرتے ہیں
(١)
شِبہ عمد کی دیت عاقلہ ادا کرتی ہے اور تحقیق ہم
(اس سے)
پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اس کی دیت مغلظہ ہے۔
(٢)
قتل خطا کی دیت عاقلہ پر ہے۔
(٣)
قتل بسبب کی دیت عاقلہ پر واجب ہوتی ہے۔
(۴)
راستے میں روشن دان یا پرنالہ نکالا پس وہ کسی انسان پر گر گیا اور وہ ہلاک ہو گیا تو اس کی دیت عاقلہ پر ہے۔
(۵)
نابالغ بچے اور پاگل کا عمد خطا ہے اور اس میں عاقلہ پر دیت ہے۔
(٦)
جب آزاد غلام پر خطا جنایت کرے تو جنایت جنایت کرنے والے کی عاقلہ پر ہو گی۔
(غلام پر جان سے کم جنایت عاقلہ ادا نہیں کرے گی)
بہرحال وہ دیت جو عاقلہ ادا نہیں کرتی تو اس کی تفصیل درج ذیل ہے
(١)
ہر عمد جس میں قصاص شبہ سے ساقط ہو جائے تو اس کی دیت قاتل کے مال میں ہے عواقل اس (دیت) کو ادا نہیں کریں گے۔
(٢)
جب باپ اپنے بیٹے کو عمداً قتل کر دے تو دیت اس کے مال میں تین سالوں پر (منقسم) ہے اس کی عاقلہ اسے ادا نہیں کرے گی۔
(٣)
عاقلہ غلام کی جنایت۔
(۴)
اور اس جنایت کی دیت ادا نہیں کرے گی جنایت کرنے والا جس (جنایت) کا اعتراف کرے اور اس کی دیت اس کے مال میں واجب ہوتی ہے اور اس کی عاقلہ کے خلاف اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ جی ہاں! اگر (عواقل) اسکی تصدیق کر دیں تو (دیت) ان پر واجب ہو گی۔
(۵)
عاقلہ اس (مال) کو ادا نہیں کرے گی جو صلح سے لازم ہوا ہو۔
متفرق مسائل
(١)
آزاد کردہ غلام کی عاقلہ اس کے آقا کا قبیلہ ہے۔
(٢)
مولائے موالات کہ اس کی طرف سے اس کا آقا اور اس کا قبیلہ دیت ادا کریں گے۔
(٣)
عاقلہ دیت کے بیسویں حصے سے کم کو ادا نہیں کرے گی بیسویں حصے اور (اس سے) زائد کو ادا کرے گی اور جو (بیسویں حصے) سے کم ہو وہ جنایت کرنے والے کے مال میں (واجب) ہے۔

No comments: