Mukhtalif Masail

مختلف مسائل 

سوال : ایک شخص نے کوئی چیز خریدی تو کیا اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے بیچنا اس کے لئے جائز ہے ؟

جواب : جب ایسی چیز خریدے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہے تو اسے بیچنا جائز نہیں یہاں تک کہ اس پر قبضہ کر لے اور بہرحال جو چیز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی اور وہ زمین ہے تو شیخین یعنی ابوحنیفہ اور حضرت ابو یوسف رحمھما اللہ کے نزدیک جائز ہے کہ خریدار اپنے قبضے سے پہلے اسے بیچ دے اور حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبضے سے پہلے بیع زمین میں بھی جائز نہیں

سوال : کیا قبضہ کرنے کے بعد دوبارہ ناپنا اور وزن کرنا خریدار کو لازم ہوتا ہے؟

جواب : اگر کیلی چیز کیل کی شرط کے ساتھ یا وزنی چیز وزن کی شر  کے ساتھ خریدی تو اسے بیچنا اور اسے کھانا حرام ہے یہاں تک کہ کیلی چیز میں کیل اور وزنی چیز میں وزن کو لوٹائے

سوال : ایک شخص نے سامان بیچا اور ثمن پر قبضہ نہیں کیا تو کیا اس کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنے قبضے سے پہلے ثمن میں تصرف کرے ؟

جواب : یہ جائز ہے 

سوال : کیا بیع مکمل ہونے کے بعد ثمن میں یا مبیع میں اضافہ جائز ہے ؟

جواب :  خریدار کے لئے جائز ہے کہ وہ فروخت کنندہ کے لیے ثمن میں اضافہ کرے جیسا کہ فروخت کنندہ کے لیے جائز ہے کہ وہ خریدار کے لئے ممبئی نے اضافہ کرے۔

سوال : اگر فروخت کنندہ ثمن میں کمی کرے تو اس کا حکم کیا ہے ؟

جواب : یہ بھی جائز ہے۔

سوال : جب خریدار ثمن میں اضافہ کرے یا فروخت کنندہ مبیع میں اضافہ کرے یا فروخت کنندہ ثمن میں کمی کرے تو کیا اس کمی یا اضافہ کے ساتھ استحقاق متعلق ہو گا؟ 

جواب جی ہاں ان سب کے ساتھ استحقاق متعلق ہوگا (پس ثمن میں اضافہ کرنے کی صورت میں خریدار مبیع کا مستحق نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ تمام ثمن یعنی اصلی ثمن اضافہ شدہ ثمن فروخت کنندہ کو سپرد کر دے اور فروخت کنندہ کو مبیع روکنے کا حق حاصل ہے یہاں تک کہ تمام ثمن وصول کر لے جب مبیع میں استحقاق ثابت ہوجائے تو خریدار اپنے فروخت کنندہ سے تمام ثمن وصول کرنے کا حق دار ہے اور جب مبیع کا مستحق  بیع کو نافذ کر دے تو وہ تمام ثمن کا حقدار ہے مبیع میں اضافہ کرنے کی صورت میں خریدار ثمن ادا کرنے کے بعد تمام مبیع یعنی اصل مبیع اور اضافہ شدہ مبیع کا حقدار ہے ۔ثمن میں کمی کرنے کی صورت میں خریدار باقی ماندہ ثمن ادا کرنے پر مبیع کا حقدار ہے فروخت کنندہ کو کل یا بعض مبیع روکنے کا حق نہیں اسی طرح شفیع بھی باقی ماندہ ثمن ادا کرنے پر مبیع کا مستحق ہے)

سوال : نقد ثمن کے عوض بیچا  پھر فروخت کنندہ نے اس ثمن کی معلوم مدت  تک معیاد مقرر کر دی تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : نقد ثمن کی معیاد مقرر کرنے سے ثمن میعادی ہو گیا اسی طرح ہر دین معجّل کے مالک کی طرف سے معیاد مقرر کرنے سے میعادی ہوجاتا ہے مگر قرض کیونکہ اس کی معیاد مقرر کرنا صحیح نہیں (مطلب یہ ہے کہ اگر قرض ادا کرنے کے لیے معیاد مقرر کر دی جائے تو قرض درست ہوجاتا ہے اور میاد باطل ہو جاتی ہے چناچہ قرض خواہ قرضدار سے فوری مطالبہ بھی کرسکتا ہے جب کہ دین کا مطالبہ مقرر میعاد سے پہلے درست نہیں ہوتا اور قرض اور دین میں فرق یہ ہے کہ قرض وہ مال کہلاتا ہے جس کو آدمی اپنے اموال میں سے جدا کرکے دوسرے کو نفع اٹھانے کے لئے دے دے اور قرض لینے والے کے ذمے جو ثابت ہوتا ہے وہ دین ہے قرض نہیں اور دین وہ کہلاتا ہے جو عقد کی وجہ سے یا کسی کی کوئی چیز ہلاک کرنے کی وجہ سے ذمہ میں واجب ہو)




No comments:

Powered by Blogger.