Munaskha ka bayan
مُنٙاسٙخٙہ کا بیان
سوال : کبھی واقع ہوتا ہے کہ ورثہ میں سے کوئی مر جاتا ہے قبل اس کے کہ ترکہ تقسیم کیا جائے تو اس وقت ان زندوں پر میراث کیسے تقسیم کی جائے جو مردہ اول اور مردہ دوم سے وارث ہوں؟
جواب : اگر مردہ دوم کو مردہ اول سے جو ( حصہ ) پہنچے تو وہ اس کے ورثہ کے عدد پر منقسم ہو جائے ( تو ) دونوں مسئلے اس سے درست ہوں گے جس سے پہلا درست ہوا جیسا کہ جب کوئی خاتون مر جائے اور شوہر، بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑ جائے ( تو ) مسئلہ کی اصل چار سے ہوگی، شوہر رُبع ( یعنی) ایک حصے لے گا اور تین حصے اللہ تعالیٰ کے فرمان للذکر مثل حظ الا نثیین کے تحت اولاد کے درمیان ( تقسیم ہوں گے) پھر اولاد کے حصے ان پر ٹوٹ گئے پس ہم نے سروں کے عدد کو اور وہ چار ہے ( کیونکہ بیٹے کو دو بیٹیوں کی جگہ مقرر کیا جاتا ہے) مسئلہ کہ اصل میں ضرب دی اور وہ ( یعنی مسئلہ کہ اصل ) چار ہے پس سولہ حاصل ہوگیا، شوہر اس میں سے چار ( حصے) اور بیٹا چھ ( حصے ) لے گا اور وہ ہر بیٹی تین تین حصے لے گی کی پھر تقسیم سے پہلے اور مذکورہ (بالا) بیٹا اور مذکورہ (بالا) دو بیٹیاں. چھوڑ گیا. (تب) بھی مسئلہ سولہ سے درست ہوگا. بیٹا آٹھ (حصے) لےگا. اور ہر بیٹی چار چار(حصے) لے گی
یہ جو ہم نے ذکر کیا اس کی مثال ہے کہ دوسرے مسئلہ کی اصل کے درمیان اور مردہ دوم مردہ اول سے جو حاصل کرے اس کے حصے کے عدد کے درمیان تساوی ہو اور ہم اس بارے میں کسی ضرب یا عمل کے محتاج نہیں ہوئے پس جب اب دونوں کی درمیان تواقفق یا تداخل ہو تو دوسرے مسئلہ کے وفق کو پہلے مسئلہ کی تصیح میں ضرب دیجئے. پھر اس وفق کو مردہ اول کے ورثہ کے حصوں میں ضرب دیجئے، ان دو ضربوں سے جو حاصل ہوا اس کی وجہ سے دنوں مسئلے درست ہو جائیں گے جیسا کہ جب کوئی خاتون مر جائے اور شوہر اور دو بھائی چھوڑ جائے (تو) مسئلہ چار سے درست ہوگا، شوہر نصف(یعنی) دو حصے لے گا اور دونوں بھائی باقی ماندہ کا ایک ایک حصہ لیں گے پھر ترکہ کی تقسیم سے پہلے شوہر مر گیا اور اس نے صرف چار بیٹے چھوڑے اور دوسرے مسئلہ کی اصل کے درمیان اور نردہ دوم نے مردہ اول سے جو حاصل کیا اس کے عدد کے درمیان نصف کے ساتھ توافق ہے تو دوسرے مسئلہ کی اصل کے نصف یعنی دو کو پہلے مسئلہ کی تصیح یعنی چار میں ضرب دیجئے (تو) آپ کو آٹھ حاصل ہو گا. پھر اس وفق کو مردہ اول کے ورثہ کے حصوں میں ضرب دیجئے،. پس دونوں بھائی دو دو حصے لیں گے اور شوہر کے بیٹے ایک ایک حصہ لیں گے اور اگر ان دونوں کے درمیان مباینت ہو تو ہر دوسری تصیح کو ہر پہلی تصیح میں ضرب دیجئے اور مبلغ دونوں مسئلوں کا مخرج ہے. پس مردہ اول کی ورثہ لے حصوں کو دوم کی تصیح میں یا اس کے وفق میں ضرب دی جائے اور مردہ دوم کے ورثہ کے حصوں کو اس میں جو اس لے قبضے میں ہے یا اس کے وفق میں ضرب دی جائے جیسا کہ عورت مر جائے اور شوہر، بیٹی، ماں اور بھائی کو چھوڑ جائے(تو) مسئلہ بارہ سے ہوگا. شوہر ربع یعنی تین حصے لےگا اور بیٹی نصف یعنی چھے حصے لےگی اور ماں سدس یعنی دو حصے لے گی اور بھائی باقی ماندہ یعنی ایک حصہ لےگا.پھر شوہر مر گیا اور اس نے پہلی بیوی کے علاوہ بیوی، باپ اور ماں کو چھوڑا تو مسئلہ چار سے ہوگ؛، بیوی ربع یعنی ایک حصہ لے گی اور ماں باپ باقی ماندہ یعنی تین حصے لیں گے. اور شوہر نے پہلی بیوی کے ترکہ سے جو حاصل کیا اس لے درمیان اور دوسرے مسئلے کی اصل کے درمیان تباین ہے، پس ہم دوسرے مسئلے کی اصل کو پہلے مسئلہ کی اصل میں ضرب دیں گے تو اڑتالیس حاصل ہوگا پس اس سے دونوں مسئلے درست ہو جائیں گے پھر ہم مردہ اول کے زندہ ورثہ کے حصوں کو دوسرے مسئلہ کی اصل میں ضرب دیں گے اور وہ ( یعنی دوسرے مسئلہ کی اصل ) چار ہے پھر ہم مردہ دوم کے ورثہ کے حصوں کو اس میں ضرب دیں گے جو مردہ دوم نے مردہ اول سے حاصل کیا پس پہلی مردہ خاتون کی بیٹی چوبیس (حصے) اور پہلی مردہ خاتون کی ماں آٹھ ( حصے) اور اسکا بھائی چار ( حصے) لے گا اور زندہ دوسری بیوی تین ( حصے) لے گی اور مردہ دوم کا باپ چھ (حصے) لے گا اور اس کی ماں تین ( حصے ) لے گی پس ان کا مجموعہ اڑتالیس ہو جائے گا۔
فائدہ : جب مُنٙاسٙخہ کا مسئلہ درست ہو جائے اور آپ اس ( حصہ) کو معلوم کرنا چاہیں جو دراہم کے حبات میں سے ہر ایک کو پہنچے تو آپ اس ( عدد) کو اڑتالیس پر تقسیم کریں جس سے مسئلہ درست ہوا پس جو خارج ( قسمت ) ہوتو آپ اسکے لیے ہر وارث کے حصوں میں سے ایک حبہ لے لیں ۔
واللّه تعالیٰ اعلم بالصواب ۔

No comments: