Murabahah or Toliyaah ka bayan

مُرَابَحَهُ اور تَوْلِیَه کا بیان

سوال : فقہاء کےعرف میں مرابحہ اور تولیہ کی تفسیر کیا ہے؟

جواب : مرابحہ عقد اول کے ذریعہ جس (مبیع) کا مالک ہوا اسے ثمنِ اول کے عوض نفع کی زیادتی کے ساتھ منتقل کرنا ہے۔
تولیہ : عقدِ اول کے ذریعہ جس (مبیع) کا مالک ہوا اسے ثمنِ اول کے عوض نفع کی زیادتی کے بغیر منتقل کرنا ہے۔

سوال : کیا مرابحہ اور تولیہ کی صحت کیلئے کوئی شرط ہے؟

جواب : مرابحہ اور تولیہ صحیح نہیں ہوتی یہاں تک کہ عوض اس میں سے ہو جس کی مثل ہے جیسے کیلی اور وزنی
 (چیز)

سوال : ایک شخص نے مثلاً کپڑا خریدا اور تحقیق اسے دھویا اور اس کی میل کچیل دور کی یا اسے رنگا یا اس پر بیل بوٹے بنائے پس اس صورت میں کپڑے کی قیمت بڑھ گئی یا اناج خریدا پس اسے اپنے گھر اٹھوا لایا اور مزدور کی مزدوری دی یا کپڑوں کا ریشم یا اس کے علاؤہ (کسی اور شے) کی کناری لگائی تو اس (سلسلہ) میں مرابحہ کا طریقہ کیا ہے؟

جواب : مرابحہ ان صورتوں میں جائز ہے لیکن وہ یہ نہ کہے: میں نے اسے اتنے میں خریدا بلکہ کہے: یہ (چیز) مجھے اتنے میں پڑی۔

سوال : ایک شخص نے اپنا سامان مرابحہ کے طور پر بیچا اور خریدار نے اسے اس کے قول میں سچا یقین کیا پھر وہ خیانت پر مطلع ہوا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : جب خریدار مرابحہ میں خیانت پر مطلع ہو تو حضرت ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کے نزدیک وہ با اختیار ہے اگر چاہے تو (مبیع) کو پورے ثمن کے عوض لے لے اور اگر چاہے تو لوٹا دے۔

سوال : اگر تولیہ میں خیانت پر مطلع ہو تو کیسے کرے؟

جواب : اپنے فریق کی سچائی کا یقین کرتے ہوئے جس (مقدار) کا اضافہ کیا ثمن سے اس کی کمی کر دے۔

سوال : کیا اس (مسئلہ) میں حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ اور آپ کے صاحبین رح کے درمیان اختلاف ہے؟

جواب : جی ہاں! (صاحبین رحمہ اللہ) کا اس میں اختلاف ہے پس حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے فریق پر اعتماد کرتے ہوئے جس (مقدار) کا اضافہ کیا ثمن سے اسکی کمی کر دے اور یہ (حکم) مرابحہ اور تولیہ دونوں میں ہے اور (بیع) توڑنے کا اختیار نہیں اور حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں (صورتوں) میں اسے (بیع توڑنے کا) اختیار دیا جائے گا۔




No comments:

Powered by Blogger.