Murtadon ke ahkam ka bayan
مرتدوں کے احکام کا بیان
سوال : کبھی بعض مسلمان اسلام سے پھر جاتے ہیں
(اللّه تعالی کی پناہ)
پس ان کے احکام بیان فرمائے ؟
جواب : آنے والے مسائل کو زبانی یاد کیجئے ۔
(١)
جب کوئی مرد اسلام سے پھر جائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے پس اگر اس کا کوئی شبّہ ہو تو اسے دور کیا جائے اور اسے تین دن قید کیا جائے اگر وہ مسلمان ہو جائے تو بہتر وگرنہ اسے قتل کر دیا جائے ۔
(٢)
پس اگر اسلام پیش کرنے سے پہلے کوئی قاتل اسے قتل کر دے تو یہ اس کے لئے مکروہ ہیں اور لیکن قصاص اور دیت میں سے کوئی شے اس کے ذمے نہیں ۔
(٣)
جب عورت مرتد ہوجائے (اللہ تعالی کی پناہ) تو تحقیق اسے قتل نہ کیا جائے بلکہ اسے ہمیشہ کے لئے قید کیا جائے یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے ۔
(۴)
مرتد کی ملک اس کی رِدّت کی وجہ سے اس کے اموال سے زوال موقوف کے طور پر زائل ہوجاتی ہے پس اگر وہ مسلمان ہو جائے تو اس کی املاک اپنے حال کی طرف لوٹ آتی ہیں اور اس کے مسلمان ورثہ کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اور اس نے اپنی ردت کی حالت میں جو کمائی کی وہ فیئ بن جاتی ہے اسے بیت المال میں رکھ دیا جائے ۔
(۵)
اگر وہ مرتد ہو کر دارالحرب میں چلا جائے اور قاضی دارالحرب کے ساتھ اس کے لاحق ہونے کا فیصلہ دے دے تو اس کے مدبر اور اس کی امہات اولاد آزاد ہوجائیں گی اور جو دیون اس کے ذمے تھے ان کی ادائیگی کا وقت پہنچ جائے گا اور اس نے اسلام کی حالت میں جو کمائی کی وہ اس کے مسلمان ورثہ کی طرف منتقل ہو جائے گی اور جو دیون اسے اسلام کی حالت میں لازم ہوئے ان کو اس میں ادا کیا جائے گا جو اس نے کمائی کی اس حال میں کہ وہ مسلمان تھا اور جو دیون اس کو اس کی ردت کی حالت میں لازم ہوئے ان کو اس میں سے ادا کیا جائے گا جو اس نے ردت کی حالت میں کمائی کی ۔
(٦)
اور اس نے اپنی ردت کی حالت میں اپنے اموال میں سے جو چیز بھی بیچی یا اسے خریدا اس میں تصرف کیا تو وہ موقوف ہے پس اگر وہ مسلمان ہو جائے تو اس کے عقود صحیح ہوجائیں گے اور اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیا جائے یا دارالحرب میں چلا جائے تو وہ خود وہ (عقود) باطل ہو جائیں گے ۔
(٧)
اگر وہ دارالحرب میں چلے جانے کے فیصلے کے بعد دارالاسلام کی طرف مسلمان ہوکر لوٹ آئے بس وہ اپنے ورثہ کے قبضے میں موجود اپنے مال میں سے کچھ بعینہ پالے تو اسے لے لے ۔
(٨)
مرتد خاتون اپنی ردت کی حالت میں اپنے مال میں تصرف کرے تو اس میں اس کا تصرف جائز ہے ۔

No comments: