Musalhat ka bayan

مصالحت کا بیان

سوال : کیا امام (المسلمین) کے لیے جائز ہے کہ وہ اہلِ حرب کی کسی جماعت سے مصالحت کرے؟

جواب : یہ جائز ہے اگر اس میں مسلمانوں کے لیے بہتری ہو۔

سوال : اگر ان سے ایک مدت پر مصالحت کرے پھر صلح توڑنے کو زیادہ نفع مند سمجھے (تو) اسکا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ جائز ہے لیکن صلح توڑنے سے پہلے جنگ کرنے میں پہل نہ کرے۔ 
اللّہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں
وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خَيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْه‍ِمْ عَلٰى سَوَآءٍ  اِنَّ الْلّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِيْنَ 
°
 
الانفال:58

  ترجمه: ”اور اگر آپ کسی قوم سے خیانت (یعنی عہد شکنی) کا اندیشہ کریں تو (اس اطلاع) میں برابری (کی بنیاد) پر عہد ان کی طرف ڈال دیجئے۔ بلاشبہ اللّہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا" 

سوال : اگر وہ خیانت (یعنی عہد شکنی) میں پہل کریں تو امام کیا کرے؟

جواب : جب یہ (عہد شکنی) ان کے (باہمی) اتفاق سے ہو تو (امیرِ لشکر) ان کی طرف عہد ڈالے بغیر ان سے جنگ کرے۔

سوال  : کیا امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اہلِ حرب سے مصالحت کرے اور اس پر مال لے؟

جواب : یہ جائز ہے اسمیں کوئی حرج نہیں اور مصالحت پر ان سے جو کچھ لیا جائے وہ جزیہ کے مصارف میں خرچ کیا جائے۔




No comments:

Powered by Blogger.