Musaqat ka bayan
مُساقات کا بیان
سوال : مُساقات کیا ہے؟
جواب : یہ لغت کی رو سے سٙقیُ (یعنی سراب کرنے )کا (باب )مفاعلة ہے اور یہ فقہاء کی اصلاح میں پھل دار درختوں کو مثلاً تنہائی یا چوتھائی (پیداوار ) پر کارکن کو دینا ہے جو ان ( درختوں ) میں کام کرے ۔
سوال : اس معاملہ کا حکم کیا ہے ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمة اللہ تعالی کے نزدیک یہ معاملہ باطل ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمّد رحمہما اللّه تعالی فرماتے ہیں کہ مساقات جائز ہے بشرطیہ وہ دونوں معلوم مدت ذکر کریں اور پھل کا حصہ بطریق مشترق مقرر کریں اور فتوی ( صاحبین رحمہما اللّه تعالی ) کے قول پر ہے ۔
سوال : کون سے درختوں میں مساقات صحیح ہے ؟
جواب : یہ درختِ خرما اور انگوروں میں اور ان کے علاوہ درختوں اور ترکاریوں میں اور بینگنوں کی جڑوں میں صحیح ہوتی ہے ۔
سوال : کیا اس بارے میں کوئی شرط ہے ؟
جواب : جب درختِ خرما یا اسکے سوا (درخت وغیرہ ) مساقات پر دے اور عمل سے پھل زیادہ ہو تو جائز ہے اور اگر ( پھل ) انتہا کو پہنچ جاۓ یعنی عمل سے (پھل ) زیادہ نہ ہو (تو ) عقد مساقات جائز نہیں ۔
سوال : جب مساقات فاسد ہوجاۓ تو کارکن کو کیا دیا جاۓ ؟
جواب : اسے اس کی اجرت مثل دی جاۓ ۔
سوال : کیا یہ ( یعنی مساقات مختلف صورتوں میں سے کسی صورت میں باطل ہو جاتی ہے ؟
جواب : جی ہاں ! یہ ( عقد مساقات کرنے والے ) دونوں (شخصوں ) میں سے کسی ایک کے مرنے سے باطل ہوجاتی ہے جیسا کہ اس کی وجہ سے مزارعت باطل ہوجاتی ہے۔
سوال : کیا بعض حالات میں مساقات توڑ دی جاتی ہے ؟
جواب: (مساقات ) عذروں کی وجہ سے توڑ دی جاتی ہے جیسا کہ ان کی وجہ سے اجارہ توڑ دیا جاتا ہے ۔

No comments: