Mutfariq Masail
متفرق مساٸل
(١)
قرآن پاک میں تَعشِیر(فصل کے لیے ہر دس آیات پر نشان لگانا اور تَنقِیط نقطے اور اعراب لگانا تنبیہ
گزشتہ زمانے میں” تَنقِیط“مکروہ تھا کیونکہ وہ لوگ صریح عرب تھے اور لحن و تصحیف سے محفوظ تھے اب چونکہ رب سے عجم کا اختلاط ہو چکا ہے لہذا تَنقِیط مستحب ہےکیونکہ ترکِ تَنقِیط حفظِ قرآن میں مخل ہے۔
جوہرہ)مکروہ ہے۔
(٢)
خصیوں سے خدمت لینا مکروہ ہے۔
(٣)
چوپایوں کو خصی کرنے میں کوٸی حرج نہیں۔
(٤)
خچر طلب کرنے کے لیے گھوڑی پر گدھے کو کودانے میں کوٸی حرج نہیں۔
(٥)
جاٸز ہے کہ ہدیہ ار اجازت میں غلام اور بچے کا قول قبول کیا جاۓ۔
(٦)
معاملات میں فاسق کا قول قبول کیا جاۓ۔
(٧)
دِیانات کی خبروں میں صرف عادل کا قول قبول کیا جاۓ۔
(٨)
نامرد أجنبی خاتون کو دیکھنے میں مرد کی طرح ہے۔
(٩)
مرد کے لیے جاٸز ہے کہ وہ اپنی باندی سے اس کی اجازت کے بغیر عزل کرے۔
(١٠)
فتنہ کے زمانے میں(اہلِ فتنہ) کو ہتھیار بیچنا مکروہ ہے۔
(١١)
اس کو شیرہ انگور بیچنے میں کوٸی حرج نہیں جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ اس کی شراب بناۓ گا۔

No comments: