Mutfariq Masail
متفرق مسائل
(1)
دو مسئلوں میں جو مال باقی رہ جائے اس کا ثلث ماں کے لیے مقرر کیا جاتا ہے ۔
پہلا (مسئلہ) یہ ہےکہ کوئی خاتون مر گئی اور اپنا شوہر اور ماں باپ چھوڑ گئی تو شوہر نصف لے گا اور ماں باپ باقی کو تین ثلث میں لیں گے کہ ایک ثلث ماں کے لیے ہے اور دو ثلث باپ کے لیے ہیں اور دوسرا
(مسئلہ ) یہ ہے کہ کوئی شخص مر گیا اور بیوی اور ماں باپ چھوڑ گیا تو بیوی کیلئے ربع ہے اور اسکے حصے کے بعد جو باقی رہ جاۓ وہ ماں باپ کیلئے تین ثلث میں (منقسم) ہے ایک ثلث ماں کیلئے ہے اور دو ثلث باپ
کیلئے ہیں ۔
(2)
کوئی شخص مر گیا اور چچا کے دو بیٹے چھوڑ گیا ،ایک ان میں سے ماں کی طرف سے بھائ بھی ہے تو بھائی کیلئے سدس ہے اور باقی ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہے ۔
(3)
کوئی خاتون مر گئ اور شوہر ،ماں یا نانی، ماں کی طرف سے کئی بھائی باپ و ماں کی طرف سے ایک بھائی چھوڑ گئ تو شوہر کیلئے نصف ،ماں کیلئے سدس اور ماں کی اولاد کیلئے ثلث ہے اور باپ و ماں کی طرف سے بھائی کیلئے کچھ نہیں ۔
(4)
جب جماعت غرق ہو جائے یا دیوار جماعت پر گر جاے پس معلوم نہ ہو کہ ان میں سے کون پہلے مرا ہے تو ان میں سے ہر ایک کا مال اسکے زندہ ورثہ کیلئے ہے۔
(5)
جب مجوسی میں دو رشتہ داریاں جمع ہو جائیں کہ اگر وہ دونوں (رشتہ داریاں) دو شخصوں میں جدا ہوں تو ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وارث ہوتا ہے تو یہ مجوسی ان دونوں رشتہ داریوں کی وجہ سے وارث ہوگا۔
( 6)
مجوسی ان فاسد نکاحوں کی وجہ سے وارث نہیں ہوتے جن کو وہ اپنے دین میں حلال سمجھتے ہیں ۔
(7)
زنا کے ولد اور لعان کرنے والی خاتون کے ولد کا عصبہ ان دونوں کی ماں کا آقا ہے ۔
(8)
جو شخص مر جاے اور حمل چھوڑ جاے تو حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک اسکا مال روک لیا جائے یہاں تک کہ عورت اپنا حمل وضع کردے ۔
(9)
حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک دادا میت کے بھائیوں کی بہ نسبت میراث کا زیادہ حقدار ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحیمہمااللہ فرماتے ہیں کہ دادا میت کے بھائیوں کے ساتھ مقاسمہ کرے گا مگر یہ مقاسمہ اسے ثلث سے
کم دے
(10)
جب جدات جمع ہو جائیں تو سدس ان میں سے قریب ترین کیلئے ہے۔
( 11)
دادا اپنی ماں کو محروم کر دیتا ہے اور ماں کے باپ کی ماں کسی حصے کی وارث نہیں ہوتی اور ہر نانی اپنی ماں کو محروم کردیتی ہے۔
(12)
جب آزاد کردہ غلام اپنے آقا کا باپ اور اپنے آقا کا بیٹا چھوڑے تو طرفین ( یعنی حضرت ابو حنیفہ اور حضرت محمد رحمہ اللہ تعالیٰ) کے نزدیک اس کا مال بیٹے کے لیے ہے اور حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ باپ کے لیے سدس اور باقی بیٹے کے لیئے ہے۔
(13)
اگر (آزاد کردہ غلام) اپنے آقا کا دادا اور اپنے آقا کا بھائی چھوڑے تو حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مال دادے کے لیئے ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ (مال) ان دونوں کے درمیان ( مشترک) ہے۔
(14)
ولاء عتاقہ کو نہ فروخت کیا جائے نہ اس کا ہبہ کیا جائے۔

No comments: