Muzaraat ka bayan
مزارعت کا بیان
مزارعت: بٹائی پر معاملہ کرنا
سوال : لغت اور اصطلاح کی رو سے مزارعت کیا ہے؟
جواب : یہ زَرُعّ (بیج ڈالنا) سے (باب) مفاعلہ ہے اور فقہاء کی اصطلاح میں زمین کے مالک کا کسی شخص سے معاملہ کرنا کہ وہ اس ( زمین ) کو کاشت کرےاور وہ مشترک طور پر لے گا جو اس میں سے پیدا ہو جیسے مثلا تہا ئی اور چو تھائی۔
سوال : ہمارے تینوں ائمہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک مزارعت کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک باطل ہےاور بہرحال (صاحبین رحمہمااللہ تعالیٰ کے نزدیک تو یہ چار صورتوں پر (مبنی) ہے تین ان میں سے جائز ہیں اور چوتھی (صورت) با طل ہے۔پس چار صورتوں م کو یاد کر لیجئے جیسا کہ درج ذیل ہے۔
(1)
زمین اوربیج ایک کے ہوں اور دوسرے کا ہو۔
(2)
زمین ایک کی ہوں اور کام بیل اور بیج دوسرے کے ہوں
(3)
زمین ۔بیج اور بیل ایک کے ہوں اور کام دوسرےکا ہو۔ پس یہ تینوں صورتیں جائز ہیں
(4)
زمین اور بیل ایک کے ہوں اور بیج اور کام دوسرے کے ہوں اوریہ صورت ہے۔
سوال : (صاحبین رحمہما اللّه ) کے نزدیک مزارعت جائز صورتوں میں کس شرط کے ساتھ صیح ہوتی ہے؟
جواب : دو شرطوں کے ساتھ صحیح ہوتی ہے
(1)
یہ کہ(مزارعت) معلوم مدت پر ہو
(2)یہ کہ پیداوار ان دونوں کے درمیان مشرک ہو
سوال : دو(شخصوں ) نے مزارعت کا عقد کیا اورانہوں نے دونوں میں سے ایک کیلئے متعین قفیز کی شرط لگائی (تو) اس مزارعت کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ مزارعت باطلہ ہے۔
سوال : جب دونوں شرط لگائیں کہ ندیوں پر یا نالوں پر پیدا ہو (وہ) ان دونوں میں سے ایک کے لئے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ باطل ہے۔
سوال : جب مزارعت صحیح ہو جائے تو پیداوار کیسے تقسیم کی جائے ؟
جواب : وہ دونوں پیداوار کواس کے مطابق آپس میں تقسیم کریں جس کی انہوں نے شرط لگائی اور کارکن کے لئے کچھ نہیں جب زمین کچھ پیدا نہ کرے۔
سوال : مزارعت فاسد ہوگئی اور زمین نے پیداواردی اور کارکن نے اس میں کام کیا تو پیداوار ان دونوں میں کیسے تقسیم کی جائے؟
جواب : ان کے درمیان تقسیم نہیں ہے بلکہ پیداوار بیج والے کے لئے ہوگئی پس اگر بیج زمین کے مالک کی طرف ہے تو کارکن کے لئے اس کی اجرت مثل ہے جو اس پیدوار کی مقدار پر زائد نہ کی جائے جس کی اس کے لئے شرط لگائی گئی اور حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیں اس کے لئے اس کی اجرت مثل ہے اس حال میں کے وہ (اجرت ِ مثل)پہنچنے والی ہو جس (مقدار ) کو پہنچ جائے۔اوراگر بیج کارکن کی طرف سے ہے تو زمین کے مالک کے لئے (زمین ) کی اجرت مثل ہے۔
سوال : بیج کا مالک اجرت عقدِ مزارعت کے بعد کام سے رک گیا تو کیا اسے اس پر مجبور کیا جائے؟
جواب : اسے مجبور نہ کیا جائے۔
سوال : اگر (کام سے)وہ رک جائے جس کی طرف سے بیج نہیں ہے تو اس بارے میں کیسے فیصلہ دیا جائے؟
جواب : قاضی اس کام پر مجبور کریں۔
سوال : جب مزارعت کی مدت ختم ہو جائے اس حال میں کہ کھیتی نہیں پکی تو وہ دونوں کیسے کریں؟
جواب : وہ کھیتی کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ وہ پک جائے اور کا شتکار کے ذمہ زمین کی پیداوار میں اس کےحصہ کی اجرت مثل ہے اور وہ دونوں اپنے حقوق کی مقدار کے مطابق کھیتی کا خرچہ برداشت کریں۔
سوال : دونوں میں سے کون کاٹنے ،گاہنے ،کھلیان میں لے جانے میں اور اساون کرنے کی اجرت برداشت کرے؟
جواب : یہ اجر ت وہ دونوں اپنے حصوں کے مطابق کریں پس اگر وہ دونوں کارکن کے ذمہ اس کی شرط لگائیں تو مزارعت فاسد ہو جاے گی۔
سوال : جب باہم عقد کرنے والے دو شخصوں سے ایک مر جائے تو کیا عقد اپنے حال پر باقی رہتا ہے؟
جواب : ان دونوں میں سے ایک کے مرنے سے مزارعت باطل ہو جاتی ہے۔

No comments: