Qasaamat ka bayan
قسَامَت کا بیان
سوال : کوئی شخص محلّہ میں مقتول پایا گیا، معلوم نہیں کس نے اس کو قتل کیا (تو) اسکا قاتل کیسے معلوم کیا جائے؟
جواب : نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا ہے اور وہ اس محلہ کے لوگوں میں سے پچاس مردوں سے قسم لینا ہے اور اس کا نام ”قسامت" رکھا جاتا ہے۔
سوال : ان پچاس کو کون منتخب کرے اور ان سے کیسے قسم کی جائے؟
جواب : (مقتول کا) ولی ان کو منتخب کرے اور ان میں نابالغ بچہ، پاگل، خاتون، غلام، مدبر اور مکاتب نہ ہو اور وہ قسم کھائیں کہ ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں اسکا قاتل معلوم ہے۔
سوال : پس جب وہ قسم کھا لیں (تو) کیا وہ مکمل طور پر بری ہو جائیں گے؟
جواب : وہ بری نہیں ہوں گے بلکہ اس محلہ کے لوگوں کے خلاف دیت کا فیصلہ دیا جائے گا۔
سوال : جب مقتول کا ولی خود محلہ کے لوگوں میں سے ہو (تو) کیا اس سے بھی قسم لی جائے؟
جواب : اس سے قسم نہ لی جائے اور نہ اس کے خلاف دیت کا فیصلہ دیا جائے اگرچہ وہ قسم کھائے۔
سوال : وَلِیِّ (مقتول) نے پچاس مردوں کو منتخب کیا پس ان میں سے کسی نے قسم کھانے سے انکار کر دیا (تو) کیسے کیا جائے؟
جواب : اسے قید کیا جائے یہاں تک کہ وہ قسم کھائے۔
سوال : (مقتول کے) ولی نے انتخاب کیا لیکن محلہ کے لوگوں میں سے پچاس کا عدد پورا نہیں ہوتا تو اس بارے میں کس (چیز) کا فیصلہ دیا جائے؟
جواب : اس نے جن کو منتخب کیا ان پر قسمیں مکرر ہوں گی یہاں تک کہ پچاس قسمیں پوری ہو جائیں۔
سوال : محلہ میں مردہ پایا گیا اور اس پر کوئی زخم نہیں ہے تو کیا اس میں قسامت یا دیت جاری ہو گی؟
جواب : اس صورت میں اس میں نہ دیت ہے اور نہ قسامت ہے۔
سوال : مردہ پایا گیا کہ اس کی ناک یا اس کی سُرین یا اس کے منہ سے خون بہہ رہا ہے تو کیا اس میں قسامت واجب ہو گی؟
جواب : اس مردے کو مقتول شمار نہیں کیا جائے گا پس اس صورت میں کسی پر قسامت ہے اور نہ دیت ہے۔
سوال.: اگر خون اسکی آنکھوں یا اس کے کانوں سے نکل رہا ہو (تو) اسکا کیا حکم ہے؟
جواب : وہ مقتول ہے اور اس میں قسامت واجب ہو گی۔
سوال : ایسے جانور کی پشت پر مقتول پایا گیا جسے کوئی شخص ہانک رہا ہے تو اس میں کیا واجب ہو گا؟
جواب : ہانکنے والے کی عاقلہ پر دیت واجب ہو گی محلہ کے لوگوں پر نہیں۔
سوال : کسی انسان کے گھر میں مقتول پایا گیا تو اس میں کس سے قسم لی جائے؟
جواب : صرف مکان کے مالک سے قسم لی جائے اور دیت اسکی عاقلہ پر واجب ہو گی۔
سوال : ایک محلہ کہ اس میں کئی گھر ہیں جن کے (کچھ) مالک ہیں اور دوسرے (اِجارہ یا عاریت وغیرہ پر) رہائشی لوگ ہیں تو کیا ان سب میں سے پچاس مردوں کا انتخاب کیا جائے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قسامت میں مالکوں کے ساتھ رہائشی لوگ داخل نہیں ہوں گے اور یہ (قسامت) آپ رحمہ اللّٰہ کے نزدیک اہلِ خطہ(وہ لوگ کہ حاکم نے ان کے لیے خط کھینچ دیا ہو اور اپنے خط کے ذریعے زمینوں کو تقسیم کر دیا ہو تا کہ ان کے حصے ممتاز ہو جائیں) پر ہے خریداروں پر نہیں اگرچہ (اہلِ خطہ) میں سے ایک باقی رہ گیا ہو۔
سوال : اگر کشتی میں مقتول پایا جائے تو قسامت کس پر واجب ہو گی؟
جواب : کشتی میں (موجود) سواروں اور ملاحوں پر واجب ہو گی
سوال : اگر (مقتول) محلہ کی مسجد میں پایا جائے (تو) قسامت کس پر واجب ہو گی؟
جواب : اہلِ محلہ پر واجب ہو گی۔
سوال : اگر جامعِ مسجد یا شاہراہِ اعظم میں مقتول پایا جائے تو کون سے محلے سے پچاس مردوں کو منتخب کیا جائے؟
جواب: ان دونوں صورتوں میں قسامت نہیں ہے اور دیت بیت المال پر واجب ہے۔
سوال : اگر (مقتول) دو بستیوں کے درمیان پایا جائے تو ان دونوں میں کس (بستی کے لوگوں) پر قسامت واجب ہو گی؟
جواب : ان دونوں میں نزدیک ترین (بستی کے لوگوں) پر واجب ہو گی۔
سوال : اگر (مقتول) جنگل میں پایا جائے تو اس بارے میں کس سے قسم لی جائے؟
جواب : اگر مقتول ایسے جنگل میں پایا جائے کہ اس کے قرب میں کوئی آبادی نہیں ہے تو اس بارے میں قسم لینا نہیں ہے اور اس کا خون رائیگاں ہے۔
سوال : اگر (دریائے) فرات میں مردہ پایا جائےتو کس جگہ سے قسم کھانے والے منتخب کئے جائیں؟
جواب : اگر (دریائے فرات) کے درمیان (مردہ) پایا جائے جس کے پاس سے پانی گزر رہا ہے تو وہ (مردہ یعنی اسکا خون) رائگاں ہے اور اگر وہ کنارے کے ساتھ محبوس ہے تو قسم بستیوں میں سے اس جگہ سے نزدیک ترین (بستی کے لوگوں) کے ذمہ ہے۔
سوال : اگر (مقتول کا) ولی اہلِ محلہ میں سےکسی ایک معین کے خلاف (قتل کا) دعویٰ کرے تو کیا (اہلِ محلہ) سے قسامت ساقط ہو جائے گی؟
جواب : ساقط نہیں ہو گی۔
سوال : اگر (اہلِ محلہ) کے علاوہ کسی کے خلاف (قتل کا) دعویٰ کرے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : قسامت اور دیت ان سے ساقط ہو جائےگی۔
سوال : کسی شخص سے قسم لی گئی تو اس نے کہا کہ فلاں نے اسے قتل کیا ہےتو کیا اس کے قول پر فیصلہ دیا جائے؟
جواب : اس کے قول پر فیصلہ نہ دیا جائے بلکہ اس سے قسم لی جائے اور وہ کہے : ”قسم بخدا! میں نے قتل نہیں کیا اور نہ مجھے فلاں کے سوا اس کا قاتل معلوم ہے۔"
سوال : اہلِ محلہ میں سے دو شخصوں نے (اہلِ محلہ) کے سوا کسی شخص کے خلاف گواہی دی کہ اس نے قتل کیا ہے (تو) کیا ان دونوں کی گواہی قبول کی جائے؟
جواب : ان دونوں کی گواہی قبول نہ کی جائے
( یہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کا قول ہے اور صاحبین رحمہما اللّہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی گواہی قبول کی جائے۔)

No comments: