Qatal Basabab ka bayan

قتل بسبب کا بیان

سوال : کسی شخص نے مسلمانوں کے راستہ میں کنواں کھودایا اس میں کوئی پتھر رکھ دیا پس اس وجہ سے کوِئی انسان ہلاک ہوگیا (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : (کنواں کھودنے والے) کے ذمہ کامل دیت ہے اور وہ (دیت) اس کی عاقلہ پر واجب ہو کی اور تحقیق ہم (اس سے)پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ اس (قتل)میں کفارہ نہیں ہے۔

سوال : اگر اس (کنویں) سے کوئی چوپایہ ہلاک ہوجائے تو اسکے خلاف کس (چیز) کا فیصلہ دیا جائے؟

جواب : اس کے خلاف اس کے مال میں (چوپایہ) کے ضمان کا فیصلہ دیا جائے۔

سوال : اگر راستے میں روشن دان یا پرنالہ نکالے پس وہ کسی انسان پر گر جائے اور وہ ہلاک ہوجائے (تو)اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس سے کامل دیت واجب ہوگی اور اس کی عاقلہ اس (دیت)کو ادا کرے گی۔

سوال : کسی شخص نے اپنی مِلک میں کنواں کھودا پس اس سے انسان ہلاک ہو گیا تو کنواں کھودنے والا ضامن ہوگا؟

جواب : وہ کسی شے کا ضامن نہیں ہوگا۔

سوا.  : مسلمانوں کے راستے کی طرف جھکی دیوار(ہے) پس اس کے مالک سے اس کو توڑنے کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے اس کو نہیں توڑا یہاں تک کہ وہ گرمی اور اس سے کوئی جان یا مال ہلاک ہوگیا (تو)کیا وہ اس کا ضامن ہوگا؟

جواب : جب اس سے اس کو توڑنے کا مطالبہ کیا جائے اور اس کے خلاف گواہ بنائے جائیں پس وہ اس (دیوار) کو اتنی مدت میں نہ توڑے جس میں وہ اس کو توڑے پو قدرت رکھتا ہے(تو) وہ اس جان یا مال کا ضامن ہوگا جو اس (دیوار) سے ہلاک ہوجائے۔

 سوال : ذمی نے اس(دیوار) کے توڑنے کا مطالبہ کیا وہ اس بارے میں مسلمان کی طرح ہے؟

جواب : مسلمان اور ذمی اس بارے میں برابر ہیں۔

سوال : دیوار کسی شخص کے گھر کی طرف جھک گئی پس اس گھر کے مالک کے غیر نے اس کو توڑنے کا مطالبہ کیا اور وہ نہ توڑی گئی اور اس سے کوئی جان یا مال ہلاک ہوگیا (تو) کیا (مالک) ضامن ہوگا؟

جواب : مطالبہ اس بارے میں صرف گھر کے مالک کو (گھر) میں (اجارہ) یا عاریت وغیرہ پر رہائشی لوگ ہو(تو) ان کے لئے (جائز) ہے کہ وہ اس سے مطالبہ کریں






No comments:

Powered by Blogger.