Rad ka bayan
رد کا بیان
سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ جب ورثہ میں عصبہ نہ ہو تو تحقیق اصحاب الفروض کے حصوں کے بعد باقی مال ذوی الفروض پر لوٹایا جاتا ہے پس ہم پوچھتے ہیں کہ یہ رد, نسبی اور سببی دونوں عصبات کے نہ پائے جانے کے وقت متحقق ہوتا ہے یا تب متحقق ہوتا ہے جب نسب کی وجہ سے عصبات نہ پائے جائیں؟
جواب : یہ (رد) دونوں جانبوں کے عصبات کو شامل کرتا ہے پس جب سبب کی جانب سے میت کا عصبہ ہو اور وہ مولائے عتاقہ ہے (تو) وہ میراث کا مستحق ہوتا ہے اور ذوی الفروض کے حصوں میں سے جو باقی رہ جائے وہ ذوی الفروض پر نہیں لوٹایا جاتا
سوال : یہاں ایک دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے ذکر فرمایا کہ باقی مال نسبی ذوی الفروض پر لوٹایا جاتا ہے تو آپ نے اس کو نسبی کے ساتھ مقید کیوں کیا ؟
جواب : کیونکہ یہ مال خاوند بیوی پر نہیں لوٹایا جاتا

No comments: