Rahan ka bayan

رہن کا بیان

 راہن: رہن رکھنے والا
مرتہن: رہن لینے والا
مرہون: جس چیز کو رہن رکھا جائے
رہن:مصدر ہے رہن رکھنا اور یہ مرہون کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے

سوال : رہن لغت اور (شرعی)اصطلاح کی رو سے کیا ہے؟

جواب : وہ لغت کی رو سے کسی شے کو روکنا ہے جس سبب سے ہو اور شریعت کی اصطلاح میں کسی چیز کو کسی حق کے عوض محبوس بنانا ہے کہ اس ( محبوس شے) کے ذریعہ (حق) وصول کرنا ممکن ہو

سوال : رہن کیسے منعقد ہوتا ہے اور  کب مکمل ہوتا ہے؟

جواب : رہن ایجاب و قبول سے منعقد ہوتا ہے اور مرتہن مرہون پر قبضہ کر لے اس حال میں کہ (مرہون) جمعہ کردہ , فارغ کردہ اور جدا کردہ ہو (تو) عقد ( رہن) اس میں مکمل ہو گیا

سوال : ایجاب و قبول پائے گۓ لیکن مرتہن نے مرہون پر قبضہ نہیں کیا تو اس کا کیا حکم ہے؟
 
جواب : جب تک مرتہن مرہون پر قبضہ نہ کرے تو راہن بااختیار ہے اگر چاہے (مرہون) مرتہن کے سپرد کر دے اور اگر چاہے رہن سے رجوع کرلے اور جب راہن مرہون کو سپرد کر دے اور مرتہن اس پر قبضہ کر لے تو مرہون مرتہن کے ضمان میں داخل ہو گیا

سوال : رہن کس  لئے مشروع کیا گیا ہے؟
 
جواب : (رہن) وثیقہ لینے اور دین وصول کرنے کے لئے مشروع کیا گیا ہے تاکہ قرض خواہ کا حق ضائع نہ ہو پس رہن دین مضمون (وہ دین ہت جو ذمہ میں واجب ہو ادا یا ابراء کے بغیر ذمہ سے ساقط نہ ہو,چونکہ  ہر دین مضمون ہوتا ہے تو مضمون دین کی تاکید ہے بعض علماء فرماتے ہیں  دین مضمون سے مراد وہ دین ہے جو فی الحال ذمہ میں واجب ہو تو رہن بدین مضمون,رہن بالدرک سے احتراز ہے اور درک مبیع کے  استحقاق  کے وقت ثمن کے ضمان کا نام ہے)  کے عوض ہی صحیح ہوتا ہے

سوال : مرتہن نے مرہون پر قبضہ کر لیا اور (مرہون)اس کے قبضہ میں ہلاک ہو گیا (تو) ضمان کس پر واقع ہو گا؟

جواب : تحقیق ہم بیان کر چکے ہیں کہ مرتہن جب مرہون پر قبضہ کر لے تو وہ اس کے ضمان میں داخل ہو جاتا ہے اور فقہاء نے ذکر فرمایا ہے کہ (مرہون) اپنی قیمت میں سے اور دین میں سے کم کے عوض مضمون ہے 

سوال : ان کے قول ( مرہون) اپنی قیمت میں سے اور دین میں سے کم کے عوض مضمون ہے " کا مطلب کیا ہے ؟

جواب : اس کا مطلب آنے والی تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے, جب مرہون, مرتہن کے قبضہ میں ہلاک ہو جائے اور اس (مرہون),کی قیمت اور دین برابر ہوں تو مرتہن اپنا دین حکماً وصول کرنے والا ہو گا  اور اگر اس (مرہون) کی قیمت دین سے کم ہو تو (قیمت)کے بقدر (دین) سے ساقط ہو جائے گا اور مرتہن, راہن پر بقیہ کے ساتھ یعنی باقی ماندہ دین کے ساتھ رجوع کرے گا اور اگر مرہون کی قیمت دین سے زائد ہو اور  ( مرہون) مرتہن کے قبضہ میں ہلاک ہو جائے تو (قیمت کی) جو (مقدار) دین سے زائد ہو وہ امانت کے حکم میں ہے اس پر امانت کے احکام جاری ہوں گے پس جب یہ مرہون مرتہن کے قبضہ میں ہلاک ہو جائے تو (مرتہن) اس زائد (مقدار) کا ضامن نہیں ہو گا کیونکہ امانات مضمون نہیں ہوتیں اور تمام دین ساقط ہو گیا کیونکہ مرتہن کے پاس جو مرہون ہلاک ہوا وہ اس کے دین کے مقابل ہو گیا

سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا ہے کہ رہن مکمل ہو جاتا ہے جب مرتہن مرہون پر قبضہ کر لے اس حال میں کہ (مرہون)جمع کردہ , فارغ کردہ اور جدا کردہ ہو تو کیا اس قید کا کوئی فائدہ ہے؟

جواب : یہ قید ہر اس (چیز) کو نکال دیتی ہے جو اس طرح نہ ہو پس مشاع (مثلا آدھا گھر یا تہائی غلام یا چوتھائی کپڑے ) کا رہن جائز نہیں اور درخت خرما کے بغیر درخت خرما کی شاخوں پر (موجود) پھل کا رہن (جائز)نہیں اور زمین کے بغیر زمین میں (موجود) کھیتی کا رہن (جائز) نہیں اور پھل کےبغیر درخت خرما کا رہن جائز نہیں  اور کھیتی کے بغیر زمین کا رہن جائز نہیں

سوال : کیا امانتوں مثلا ودیعتوں اور مانگی ہوئی چیزوں کے عوض رہن صحیح ہے؟

جواب :  ان کے عوض رہن صحیح نہیں کیونکہ یہ ( یعنی امانات ) ہلاک ہونے کی وجہ سے مضمون (یعنی ذمہ میں واجب)نہیں ہے

سوال : کیا مضاربتوں میں راس المال اور شرکت کے مالوں کے عوض رہن صحیح ہے؟
 
جواب : مضاربت اور شرکت کے مال کے عوض (رہن) صحیح نہیں

سوال : کیا (بیع) سلم کے راس المال (بیع) صرف کے ثمن اور مسلم فیہ کے عوض رہن صحیح ہے

جواب : ان عوضوں کے عوض رہن صحیح نہیں.

سوال: دو (شخصوں)نے بیع سلم یا بیع صرف کا باہم عقد کیا اور مرتہن نے مرہون پر قبضہ کر لیا اور (مرہون),عقد کی مجلس میں ہلاک ہو گیا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : (بیع) صرف  اور (بیع) سلم مکمل ہو گئی اور مرتہن اپنا حق حکما وصول کرنے والا ہو گیا

سوال : دو شخصوں نے باہم عقد رہن کیا اور مرہون کو کسی عادل کے پاس رکھنے پر متفق ہو گئے تو  کیا اس میں کوئی حرج نہیں؟

جواب : اس میں کوئی حرج نہیں

سوال : باہم عقد رہن کرنے والے دونوں شخص مرہون کو کسی عادل کے پاس رکھنے پر راضی ہو گئے تو کیا ان دونوں میں سے کسی ایک کے لئیے جائز ہے کہ وہ مرہون کو عادل کے قبضہ سے نکال لے اور اس سے مرہون لے لے؟

 جواب : یہ فعل راہن  کے لئے جائز نہیں اور نہ ہی مرتہن  کے لئے جائز ہے ۔

سوال : اگر مرہون عادل کے قبضہ میں ہلاک ہوجائے تو ضمان کس پر واقع ہوگا ؟

جواب : یہ ضمان مرتہن پر واقع ہوگا کیونکہ مرہون اس کے ضمان میں ہلاک ہوا ہے اور مرتہن اس وقت اپنا دین حکما وصول کرنے والا ہوگا جیسا کہ اگر مرہون خود مرتہن کے پاس ہوتا اور ہلاک ہوجاتا ۔

سوال : دراھم، دنانیر ،کیلی اور وزنی چیز کو رہن رکھنے میں آپ کا قول کیا ہے ؟

جواب : ان چیزوں کا رہن رکھنا جائز ہے پس اگر ان کو ان کی جنس کے عوض رہن رکھا جائے اور مرہونہ اشیاء ہلاک ہوجائیں تو مرہونہ اشیاہخء دین میں سے اپنے مثل کے عوض ہلاک ہوں گی اگرچہ دین اور مرہون عمدگی اور گھڑائی میں مختلف ہوں۔

سوال : کسی کا اپنے علاوہ کسی پر دین تھا پس اس نے اس سے اپنے دین کا مثل لے لیا اور اسے خرچ کر دیا پھر اسے علم ہوا کہ وہ یعنی دین کا مثل کھوٹے درہم تھے  تو اس بارے میں کیسے فیصلہ دیا جائے گا ؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک اس کے لیے باقی کوئی چیز نہیں اور وہ اپنا دین حکما وصول کرنے والا ہے اس کی وجہ سے جو اس نے لیا اور خرچ کردیا اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں کہ کھوٹے درہموں کا مثل لوٹا دے اور کھرے درہموں کا مثل واپس لے۔

سوال : ایک ہزار کے عوض دو غلاموں کو رہن رکھا پھر ان دونوں میں سے ایک کا حصہ دٙیُن میں سے ادا کر دیا تو کیا اس کیلئے جائز ہے کہ وہ اس غلام پر قبضہ کرے جس کا حصہ ادا کر چکا؟

جواب : ان دونوں میں سے کسی (غلام) پر قبضہ کرنا اس کیلئے (جائز) نہیں یہاں تک کہ باقی دٙین ادا کرے اور ان دونوں (غلاموں) کو ایک ساتھ لے لے۔

سوال : راہن نے مرتہن یا کسی عادل یا ان دونوں کے علاوہ کسی کو وکیل بنایا کہ وہ دٙیُن کی ادئیگی کے وقت کے پہنچنے پر مرہون چیز کو فروحت کردے تو اس وکالت کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ وکالت جائز ہے۔

سوال : جب عقد رہن میں مذکورہ وکالت کی شرط لگائی جائے تو کیا راہن کیلئے جائز ہے کہ وہ وکیل کو معزول کردے؟

جواب : اس کیلئے یہ (جائز) نہیں پس اگر وہ اسے معزول کردے تو معزول نہیں ہوگا۔

سوال : اس(صورت) میں آپ کا قول کیا ہے جب راہن مر جائے اس حال میں کہ عقد رہن میں وکالت کی شرط لگائی گئی ہو(تو) کیا (راہن) کی موت سے وکیل معزول ہوجائے گا؟

جواب : معزول نہیں ہوگا۔

سوال : کیا مرتہن کیلئے (جائز)ہےکہ وہ اپنے دٙین کی وجہ سے راہن کو طلب کرے اور اسے اس کی وجہ سے قید کرے باوجود یکہ وہ (یعنی مرتہن)رہن پر قابض ہے؟

جواب : (مرتہن) کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنے دٙین کی وجہ سے (راہن) سے مطالبہ کرے کیونکہ رہن اسے اس (فعل) سے نہیں روکتا۔

سوال : مرتہن نے مرہون پر قبضہ کرلیا اور راہن مرہون چیز کو بیچناچاہتا ہے تاکہ اس کے ثمن سے دٙیُن ادا کرے(تو)کیا مرتہن پر واجب ہے کہ وہ (راہن) کر(مرہون) کے فروخت کرنے پر قدرت دے؟
 
جواب : یہ اس پر (واجب)نہیں اور راہن سے کہا جائے:"دٙین ادا کیجئے پھر اپنا مرہون لیجئے"پس جب وہ دٙین ادا کر دے تو مرتہن سے کہا جائے:"مرہون (راہن) کو سپرد کر دیجئے"۔

سوال : راہن نے مرتہن کی اجازت کی بغیر مرہون کو بیع کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ بیع موقوف ہے یہاں تک کہ مرتہن (بیع کو) نافذ کردے یا راہن اپنا دٙین ادا کردے۔

سوال : غلام کو رہن رکھا اور مرتہن نے اس پر قبضہ کرلیا پھر راہن نے مرتہن کی اجازت کے بغیر اسے آزاد کردیا کیااس کی آزادی نافذ ہوگی؟

جواب : جی ہاں!اس کی آزادی نافذ ہے۔

سوال : (غلام) ک آزادی نافذ ہونے کے بعد مرتہن کے پاس وثیقہ لینے یا (دین) وصول کرنے کیلئے کیا باقی رہے گا؟

جواب : اگر راہن خوشحال ہےاور دٙین نقد ہے(یعنی اس کی ادائیگی فی الفور لازم ہے)تو اس (راہن)سے دٙیُن ادا کرنے کا مطالبہ کیا جائے اور اگر (دین)ادھار ہے(تو)غلام کی قیمت لے اور اس(قیمت)کو (غلام ) کی جگہ مرہون بنا دیا جائے یہاں تک کہ ادئیگی دٙیُن کا وقت آجائے اور اگر (راہن)تنگدست ہے تو (مرتہن )غلام سے اس کی قیمت میں کمائی کرائے پس اس (کمائی) کے ذریعہ سے دٙیُن ادا کیا جائے پھر غلام آقا پر رجوع کرے

سوال : غلام آقا پر کیوں رجوع کرے؟

جواب : کیونکہ (آقا) نے (غلام) کو مفت آزاد کیا اور تحقیق(غلام) نے اپنی آزادی کے بعد (آقا) کادٙیُن ادا کرنے کیلئے کمائی کی۔

سوال : راہن نے مرہون کو ہلاک کردیا اور(مرہون) مرتہن کے پاس  باقی نہ رہا پس اب (مرتہن) کیسے کرے؟

جواب : راہن اس(مرہون) کی قمیت ادا کرے جس کو اس نے ہلاک اور اس قمیت کو (مرہون) کی جگہ مرہون بنا دیا جائے۔

سوال : مرتہن نے رہن پر قبضہ کر لیا پس اجنبی نے (مرتہن)کے قبضہ میں( موجود مرہون) کو ہلاک کر دیا تو کون ہلاک کرنے والے سے ضمان لے اور کس(چیز ) کو مرتہن کے پاس مرہون بنایا جائے؟

جواب : (اجنبی )سے ضمان لینے میں مرتہن ہی  مدمقابل  ہے پس اس اجنبی سے قمیت لے اور اسے اپنے پاس مرہون بنا دے۔

سوال :طمرہون پر راہن کی جنایت کا حکم کیا ہے؟

جواب : مرہون پر راہن کی جنایت مضمون (یعنی ذمہ میں واجب  )ہے۔

سوال : اس بارے میں آپ کا قول کیا ہے جب مرتہن مرہون پر جنایت کرے؟

جواب : مرہون پر (مرتہن)کی جنایت اپنےبقد دٙین کو ساقط کر دیتی ہے اور (مرتہن) اس (مقدار)کاضامن ہوتا ہے جو دٙین سے زائد ہوجائے۔

سوال : جب مرہون، راہن یا مرتہن پر یا ان مالوں پر جنایت کرے تو ضمان کس پر واقع ہوگا؟

جواب : مرہون کی جنایت (راہن و مرتہن) پر اور ان کے مالوں پر رائگاں ہے۔

سوال : مرتہن ایسے گھر کا متحاج ہے جس میں وہ مرہون کی حفاظت کرے پس اس نے اس (مقصد)کیلئے گھر کرایہ پر لیا تو کرایہ کوندے گا؟

جواب : یہ کرایہ مرتہن پر واجب ہوتا ہے۔

سوال : اگر مرہون مثلاً بکری یا اونٹ ہو اور چروا ہے کی ضرورت ہو جو(مرہون جانور) کو چرائے تو چرواہے کی اُجرت کس پر واجب ہوگی؟

جواب : چروا ہے کی اُجرت راہن پر واجب ہوتی ہے۔

سوال : مرہون کا خرچ کس پر واجب ہوتاہے؟

جواب : راہن پر واجب ہوتا ہے۔

سوال : کبھی مرہون کی افزائش ہوتی ہے جیسے دودھ،بچہ ،اون،مطلق،درختِ خرما کا پھل تو کون اس افزائش کا مالک ہوتا ہے؟

جواب : مرہون کی افزائش راہن کیلئے ہے لیکن وہ اس پر قبضہ نہیں کرسکتا بلکہ وہ(افزائش) اصل (مرہون) کے ساتھ مرہون ہو گی۔

سوال : افزائش،اصل(مرہون) کے ساتھ مرتہن کے پاس تھی کہ افزائش ہلاک ہوگی تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : افزائش کسی چیز کے بغیر ہلاک ہوتی ہے۔

سوال : اگر اصل(مرہون)ہلاک ہوجائے اور افزائش باقی رہ جائے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : راہن (افزائش)کو اس کے حصہ(دین)کےعوض چھڑائے اور دین کو قبضہ کے دن میں (موجود)مرہون کی قمیت پر اور چھڑانے کے دن اس کے بقدر ساقط ہو جائے اور جو (مقدار)افزائش کو پنہچے تو راہن اس کے عوض (افزائش)کو چھڑالے۔

سوال : مرتہن نے مرہون کو لے لیا پھر وہ اس میں اضافہ چاہتا ہے یا راہن دین میں اضافہ چاہتا ہے تو سفید شریعت میں ان دونوں اضافوں کا حکم کیا یے؟

جواب : حضرت ابوحنیفہ و حضرت محمد کے نزدیک مرہون میں اضافہ جائز ہے اور دین میں جائز نہیں پس مرہون (دین میں اضافہ کی صورت میں) ان دونوں (یعنی اصل دین اور اضافہ جائز شدہ دین)کے عوض مرہون نہیں ہوگا۔ اور حضرت یوسف فرماتے ہیں کہ دونوں اضافے جائز ہیں۔

سوال : (کسی)نے دو شخصوں سے قرض لیا اور دونوں کے پاس ایک چیز کو رہن رکھا تو اس رہن کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ رہن رکھنا اور رہن لینا جائز ہے تمام چیز ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس مرہون ہے۔

سوال : اس مرہونہ چیز میں ضمان کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ (مرہونہ چیز) ان دونوں پر ایک کے حصہ دین کی مقدار کے عوض مضمون (یعنی ذمہ میں واجب )ہے۔

سوال : اگر ان دونوں میں سے ایک اپنا دین ادا کردے (تو)کیا (مرہونہ چیز)کا آدھا حصہ یا اس کا کچھ چھڑا سکتا ہے؟

جواب : نہیں چھڑا سکتا بلکہ تمام (مرہونہ چیز) دوسرے کے قبضہ میں مرہون ہے یہاں تک کہ وہ اپنا دین وصول کرلے۔

سوال : غلام بیچا اس شرط پر کہ خریدار ثمن کے عوض کوئی معین چیز اس کے پاس رہن رکھے پس خریدار مرہون کو سپرد کرنے سے رک جائے تو اس بیع اور عقد رہن کا حکم کیا ہے؟


جواب : بیع صحیح ہے لیکن خریدار کو مرہون کے سپرد کرنے پر مجبور نہ کیا جائے اور فروخت کنندہ اس وقت بااختیار ہے اگر چاہے رہن کو چھوڑنے پر راضی ہو جائے اور اگر چاہے بیع توڑ دے الا یہ کہ خریدار ثمن ادا کر دے یا مرہون کی قیمت فروخت کنندہ کو دے دے پس وہ (قیمت) اس کے پاس مرہون ہو جائے گی یہاں تک کہ ثمن وصول کر لے

سوال : کیا مرتہن کے لیے جائز ہے کہ اپنی بیوی اور اپنی اولاد کے ذریعہ مرہون کی حفاظت کرائے؟

جواب : مرتہن کے لیے جائز ہے کہ وہ خود، اپنی بیوی، اپنی اولاد اور اپنے اس خادم کے ذریعہ (مرہون) کی حفاظت کرے جو (خادم) اس کے عیال میں (داخل) ہے

سوال : اگر وہ اپنے عیال میں (موجود شخص) کے غیر کے ذریعہ  (مرہون) کی حفاظت کرے یا اسے کسی کے پاس امانت رکھ دے (تو) اسکا کیا حکم ہے.؟

جواب : (مرتہن) ضامن ہوگا کیونکہ وہ اس (فعل) کی وجہ سے تعدی (یعنی حد سے تجاوز) کرنے والا بن گیا

سوال : اگر مرتہن مرہون میں تعدی کرے تو اس سے کیسے ضمان لیا جائے؟

جواب : ضمانِ غصب کی طرح اس سے (مرہون) کی پوری قیمت کا ضمان لیا جائے

سوال : مرتہن نے مرہون کو راہن کی طرف لوٹا دیا (تو) اسکا کیا حکم ہے.؟

جواب : مرہون اس صورت میں مرتہن کے ضمان سے نکل گیا پس اگر راہن کے قبضہ میں ہلاک ہو جائے تو کسی شے کے بغیر ہلاک ہو گا


سوال : مرتہن نے مرہون کو اس کے راہن کی طرف لوٹا دیا پھر وہ ( مرہون) کو اپنے قبضہ میں واپس لینا چاہتا ہے (تو) کیا یہ اس کے لیے (جائز) ہے؟

جواب : (مرہون) کو واپس لینا (مرتہن) کے لیے جائز ہے پس جب وہ اسے دوسری مرتبہ لے لے (تو) ضمان اس پر لوٹ آئے گا.


سوال : جب راہن دَیْن ادا کرنے سے پہلے مرجائے (تو) مرتہن اپنا دَیْن کیسے وصول کرے؟

جواب : جب راہن مر جائے تو اسکا وصی مرہون کو بیچ دے اور اس (کے ثمن) کے ذریعہ دَیْن ادا کرے اور اسکی قیمت میں سے جو باقی رہ جائے وہ راہن کے وَرَثَہْ کیلئے میراث ہوگا


سوال : مرہون کو کون فروخت کرے جب (راہن میت) کا وصی نہ ہو؟

جواب : قاضی اسکا وصی مقرر کرے اور اسے (مرہون) کو فروخت کرنے اور مرتہن کا دَیْن ادا کرنے کا حکم دے




No comments:

Powered by Blogger.