Shirkat ka bayan
شرکت کا بیان
سوال : شرکت کیا ہے ؟
جواب : یہ دو مالوں کا ملنا ہے اس حیثیت سے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے جدا نہ ہو اور یہ (یعنی اختلاط) یا تو دونوں طرف سے ملانے سے ہوتا ہے یا ملانے کے بغیر (از خود) ملنے سے ہوتا ہے جیسے جب دونوں (شریک) مال کے وارث ہوجائیں یا مال انہیں ہی ہبہ کر دیا جائے یا کسی عمل کے بغیر ان میں سے ایک کا مال دور سے مل جائے اس حیثیت سے کہ وہ جدا نہ ہو ۔
سوال : شرکت کی اقسام بیان کیجیے ؟
جواب : شرکت دو قسم پر (مبنی) ہے : شرکت املاک اور شرکت عقود۔
سوال : شرکت املاک کیا ہے ؟
جواب : اس کی صورت یہ ہے کہ دو شخص کسی چیز کے وارث ہوجائیں یا دونوں اسے خرید لیں پس وہ اس (چیز) کے دونوں کی مملوک ہونے میں باہم شریک ہوجائیں۔
سوال : اس شرکت کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اس کا حکم یہ ہے کہ دونوں شریکوں میں سے کسی کے لئے دوسرے کے حصہ میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے حصے میں اجنبی کی طرح ہے۔
سوال : شرکت عقود کیا ہے ؟
جواب : یہ چار قسم پر (مبنی) ہے اور ان میں سے ہر ایک کے احکام ہیں :
١-
شرکت مُفٙاوٙضٙہ
٢-
شرکت عنان
٣-
شرکت صنائع
۴-
شرکت وجوہ۔
سوال : شرکت مفاوضہ کی تعریف اور اس کے احکام بیان فرمایئے؟
جواب : شرکت مفاوضہ یہ ہے کہ دو شخص باہم شریک ہوں پس وہ دونوں اپنے مال ، اپنے تصرف اور اپنے دین (یعنی مذہب) میں برابر ہوں اور یہ (شرکت) وکالت اور کفالت پر منعقد ہوتی ہے پس ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے گھر والوں کے اناج و لباس کے سوا جو (چیز) خریدتا ہے وہ شرکت پر (مبنی) ہوتی ہے اور دیون میں سے جو دین ہر ایک کو اس (چیز) سے بدل بن کر لازم ہو جس میں باہم شریک ہونا صحیح ہوتا ہےتو دوسرا اس کا ضامن ہے اور یہ شرکت دو عاقل بالغ مسلمانوں کے درمیان جائز ہوتی ہے اور آزاد و غلام کے درمیان، بچے اور بالغ کے درمیان اور مسلمان و کافر کے درمیان جائز نہیں ہوتی۔
سوال : دوشخصوں نے شرکت مفاوضہ کا باہم عقد کیا پھر ان دونوں میں سے ایک (شخص) مال اور اس (چیز) کا وارث ہو گیا جس میں شرکت صحیح ہوتی ہے یا مال اسے ہبہ کردیا گیا اور وہ اس کے قبضے میں پہنچ گیا (تو) کیا شرکت اپنے حال پر باقی رہے گی ؟
جواب : شرکت مفاوضہ اس وجہ سے باطل ہوجائے گی اور شرکت (شرکت) عنان ہوجائے گی۔
سوال : کیا جو (کچھ) آپ نے ذکر فرمایا اس کے سوا کوئی چیز شرکت مفاوضہ کی صحت کے لئے شرط ہے ؟
جواب : جی ہاں ! جو (کچھ) ہم نے ذکر کیا اس کے سوا یہاں ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ شرکت مفاوضہ درہم ، دنانیر اور چالو سکوں کے ساتھ منعقد ہوتی ہے اور ان کے ماسوا میں جائز نہیں ہوتی الا یہ کہ لوگ اس چیز کے ساتھ باہم معاملہ کرتے ہو جیسے سونے کا ڈھیلا اور چاندی کا ٹکڑا پس ان کے ساتھ شرکت صحیح ہوتی ہے۔
سوال : (شریکین) کے پاس درہم و دنانیر نہیں ہیں بلکہ ان کے پاس سامان ہے (تو) وہ کیسے کریں جب دونوں (تجارت میں) باہم شریک ہونا چاہیں؟
جواب : ان دونوں میں سے ایک اپنا آدھا مال دوسرے کے آدھے مال کے عوض بیچ دے پھر وہ شرکت کا عقد کریں۔
سوال : شرکت عنان کیا ہے ؟
جواب : وہ یہ ہے کہ دو شخص تجارات کی خاص قسم میں شریک ہوں یا عمومِ تجارات (یعنی تعیین کے بغیر مطلق تجارت) میں شریک ہوں۔
سوال : اس شرکت کا حکم کیا ہے ؟
جواب : یہ شرکت جائز ہے اور وکالت پر منعقد ہوتی ہے کفالت پر نہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک جو (چیز) شرکت کے لیے خریدے اس کے ثمن کا اسی سے مطالبہ کیا جائے دوسرے سے نہیں اور وہ اپنے شریک پر اس کے حصہ (ثمن) کے ساتھ رجوع کرے اور دیون میں سے جو (دٙین) جس کسی کو لازم ہو (تو) دوسرا اس کا ضامن نہیں ہوتا۔
سوال : کیا اس شرکت میں مال میں (کسی جانب سے) زیادت صحیح ہوتی ہے یا برابری ضروری ہے؟
جواب : اس شرکت میں مال میں (کسی جانب سے) زیادت صحیح ہوتی ہے جیسا کہ اس میں برابری صحیح ہوتی ہے اور مال کی برابری کے ساتھ (کسی جانب میں) نفع میں زیادۃ بھی جائز ہے۔
سوال : کیا جائز ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنے بعض مال کے ساتھ (شرکت عنان) کا عقد کرے بعض (مال) کے ساتھ نہیں؟
جواب : جی ہاں! یہ جائز ہے۔
سوال : یہ شرکت کس (چیز) کے ساتھ صحیح ہوتی ہے؟
جواب : یہ (شرکت) اس کے ساتھ صحیح ہوتی ہے جس کو ہم نے (شرکت) مفاوضہ میں بیان کیا ہے یعنی درہموں ، دیناروں اور اس (چیز) کے ساتھ لوگ جس کے ساتھ باہم معاملہ کرتے ہیں جیسے سونے کا ڈھیلا اور چاندی کا ٹکڑا۔
سوال : کیا یہ شرکت صحیح ہوتی ہیں جب ان میں سے ایک کے دینار اور دوسرے کے درہم ہوں؟
جواب : اس صورت میں شرکت صحیح ہوتی ہے۔
سوال : اس بارے میں آپ کا قول کیا ہے جب دونوں مال یا ان میں سے ایک (مال) ہلاک ہوجائے قبل اس کے کہ وہ دونوں کوئی چیز خریدیں؟
جواب : شرکت باطل ہوجائے گی۔
سوال : اگر دونوں میں سے ایک اپنے مال کے عوض کوئی چیز خریدے اور دوسرے کا مال خریدنے سے پہلے ہلاک ہوجائے تو ان کے درمیان کس (چیز) کا فیصلہ دیا جائے؟
جواب : خریدی ہوئی (چیز) ان کے درمیان (مشترک) ہو گی اس (نفع) پر جس کی انہوں نے شرط لگائی اور جس نے خریدا وہ اپنے شریک پر اس کے حصہ ثمن کے ساتھ رجوع کرے۔
سوال : دو شخص چاہتے ہیں کہ وہ شرکت عنان کا عقد کریں اور اپنے اموال نہ ملائیں (تو) کیا اس صورت میں یہ شرکت صحیح ہوتی ہے؟
جواب : جی ہاں! یہ شرکت صحیح ہوتی ہے اور (شرکت) عنان میں دونوں مالوں کا ملانا شرط نہیں۔
سوال : دو (شخصوں) نے شرکت عنان کا عقد کیا اور ان دونوں میں سے ایک نے اپنے لئے متعین درہموں کی شرط لگائی (کہ نفع میں سے اتنے درہم میرے ہوں گے اور باقی تقسیم ہوگا) تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس صورت میں شرکت صحیح نہیں ہوتی کیونکہ تحقیق ممکن ہے کہ نفع حاصل نہ ہو مگر وہ جو اس نے شرط لگائی۔
سوال : مَفَاوَضَہ کرنے والےدونوں(شخصوں)اور عَنان کے دونوں شریکوں کو کس (عمل) کا اختیار دیا جاتا ہےاس (چیز) میں جس میں وہ شریک ہوۓ؟
جواب : مَفَاوَضَہ کرنے والے دونوں(شخصوں) اور عَنان کے دونوں شریکوں میں سے ہر ایک کے لیے جاٸز ہے کہ وہ مال بضاعت پر دے اور(مال ) مضاربت پر دے اور ایسے (شخص) کو وکیل بناۓ جو اس(مال) میں تصرف کرے اور رہن کھے اور رہن لے اور اس پر اجنبی کو اجرت پر لے اور نقد و ادھار کے ساتھ بیچے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کا قبضہ امانت کا قبضہ ہے(یعنی ازخود ہلاک ہونے کی صورت میں ضمان نہیں ہوگا)۔
سوال : شرکتِ صناٸع کی صورت کیا ہے؟
جواب : اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً دو درزی یا دو رنگریز شریک ہوں اس پر کہ دونوں کام لیں اور کماٸی ان کے درمیان (مشترک) ہو گی۔
سوال : ان دونوں میں سے ہر ایک کو کیا لازم ہوگا؟
جواب : ان دونوں میں سے ہر ایک جو کام لے گا وہ اسے لازم ہو گا اور اس کے شریک کو لازم ہو گا۔
سوال : اگر ان دونوں میں سے ایک کام کرے دوسرا نہیں(تو) کیا جس نے کام کیا وہ تنہا(کماٸی کا)حقدار ہوگا؟
جواب : وہ تنہا حقدار نہیں ہو گا بلکہ کماٸی ان دونوں کے درمیان آدھی آدھی ہوگی۔
سوال : شرکتِ وُجوہ کیا ہے؟
جواب : وہ یہ ہے کہ دو شخص شریک ہوں اس شرط پر کہ وہ دونوں اپنی اپنی وجاہت(اور امانت)کی بنا پر خریدیں اور بیچیں اس حال میں کہ ان کے پاس مال نہیں ہے اور یہ شرکت جاٸز ہے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کا وکیل ہوتا ہے اس میں جو وہ خریدتا ہے۔
سوال : کیا اس(شرکت)میں نفع میں زیادت جاٸز ہے؟
جواب : اس شرکت میں نفع میں زیادت جاٸز نہیں پس اگر وہ دونوں شرط لگاٸیں کہ خریدی ہوٸی(چیز) ان کے درمیان آدھی آدھی ہے تو نفع(بھی)اسی طرح ہوگااور اگر شرط لگاٸیں کہ خریدی ہوٸی(چیز) تین تہاٸی ہوگی (یعنی ایک کے لیے ایک تہاٸی اور دوسرے کے لیے دو تہاٸی) تو نفع(بھی)اسی طرح ہو گا۔
سوال : لکڑی چننے،گھاس جمع کرنے اور شکار کرنے میں شرکت کا کیا حکم ہے؟
جواب : یہ شرکت جاٸز نہیں پس ان دونوں میں سے ہر ایک نے جو شکار کیا یا لکڑی چنی یا گھاس جمع کی تو وہ اس کے لیے ہے اس کے ساتھی کے لیے نہیں مال میں ان دونوں کی شرکت ہے اور نہ نفع میں۔
سوال : ایک شخص کا خچر ہے اور دوسرے کا مشکیزہ ہے پس وہ دونوں پانی کھینچنے اور لوگوں میں اسے بیچنے پر باہم شریک ہوۓ اس شرط پر کہ کماٸی ان کر درمیان(مشترک)ہو گی(تو)کیا یہ شرکت صحیح ہے؟
جواب : یہ شرکت صحیح نہیں۔
سوال : اگر ان دونوں(شریکوں) میں سے ایک پانی کو ان دونوں (یعنی خچراور مشکیزہ)کے ساتھ کھینچے (تو) کیسے ان کے درمیان فیصلہ دیا جاۓ اس میں جو اس نے کمایا؟
جواب : تمام کماٸی اس کے لیے ہو گی جس نے پانی کھینچا اور اس کے ذمہ مشکیزہ کی اجرت ہے اگر کام کرنے والا خطر کا مالک ہے اور(اس کے ذمہ)خچر کی اجرت مثل ہے اگر کام کرنے والا مشکیزہ کا مالک ہے۔
سوال : دو شخصوں نے شرکتِ فاسدہ کا عقد کیا اور نفع حاصل ہوا (تو) نفع ان کے درمیان کیسے تقسیم کیا جاۓ؟
جواب : رأس المال میں ان کے مال کے بقدر تقسیم کیا جاۓ اور زیادت کی شرط باطل ہو گی۔
سوال : کیا دونوں شریکوں میں سے ایک دوسرے کے مال کی زکٰوة ادا کر سکتا ہے؟
جواب : ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے مال کی زکٰوة اس کی اجازت کے بغیر ادا نہ کرے۔
سوال : اگر ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو اس کی زکٰوة ادا کرنے کی اجازت دے پس ان میں سے ہر ایک( زکٰوة) ادا کردے (تو)کیا ضمان واجب ہوگا؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک دوسرا اس کا ضامن ہوگا جو اس نے خرچ کیا برابر ہے کہ اسے پہلے (شخص) کی اداٸیگی کا علم ہو یا علم نہ ہو آپ کے صاحبین رحمہااللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ وہ ضامن نہیں ہوگا جب اسے پہلے (شخص) کی اداٸیگی کا علم نہ ہو۔
سوال : کیا عقد (شرکت) کو توڑنے کے بغیر(شرکت)کے منعقد ہونے کے بعد شرکت باطل ہو جاتی ہے؟
جواب : شرکت باطل ہو جاتی ہےاس(صورت) میں جب دونوں شریکوں میں سے ایک مرجاۓ یا ان دونوں میں سے ایک مرتد ہوجاۓ اور دارالحرب (یعنی کفرستان) چلا جاۓ(اللہ کی پناہ)۔

No comments: