Shufaa ka bayan

شفعہ کا بیان

سوال : لغت اور شریعت کی رو سے شفعہ کیا ہے؟

جواب : یہ شفع سے ماخوذ ہے اور وہ ضم یعنی ملانے کے معنی میں ہے اور فقہاء کی اصطلاح میں یہ یعنی شفعہ ہمسائیگی کے نقصان کو دور کرنے کے لئیے مکان اور زمین میں مالک ہونے کے حق کا نام ہے مثلا جب کوئی شخص اپنا مکان یا اپنی زمین بیچے اور اس کا شریک یا اس کا پڑوسی اس بیع پر مطلع ہو تو اس کے لئیے جائز ہے کہ اس بیع پر اعتراض کرے اور مبیع اس ثمن کے عوض لے لے جس کے عوض اس کے غیر نے اسے خریدا اور یہ جس کے لئیے شفعہ کا حق ثابت ہوتا ہے کا نام شفیع رکھا جاتا ہے

سوال : شفعہ کے ثبوت میں تفصیل کیا ہے؟

جواب : یہ یعنی شفعہ نفس مبیع میں خلیط کیلئیے اور خلیط شریک ہے پھر حقِ مبیع جیسے پانی اور راستہ میں شریک کے لئیے پھر پڑوسی کے لئیے ثابت ہے اور نفس مبیع میں شریک کے ہوتے ہوئے پانی اور راستہ میں شریک اور پڑوسی کے لئیے شفعہ نہیں ہے پس اگر نفس مبیع میں شریک شفعہ سپرد کر دے تو شفعہ پانی میں شریک یا راستہ میں شریک کیلئیے ہے پس اگر یہ بھی شفعہ سپرد کر دے تو شفعہ پڑوسی کے لئیے ثابت ہے.

سوال : شفعہ کب ثابت ہوتا ہے,کب پختہ ہوتا ہے اور کب مملوک ہوتا ہے؟

جواب : شفعہ عقد بیع کے ساتھ ثابت ہوتا ہے اور گواہ بنانے کے ساتھ پختہ ہوتا ہے اور لینے کے ساتھ مملوک ہوتا ہے جب خریدار شفعہ کو سپرد کر دے یا قاضی اس کا فیصلہ کر دے 

سوال : گواہ بنانے کی صورت بیان فرمائیے؟

جواب : جب شفیع کو بیع کا علم ہو تو وہ اپنی اس مجلس میں جس میں وہ موجود ہے اس پر دو شخصوں کو گواہ بنائے کہ تحقیق وہ شفعہ کا مطالبہ کرتا ہے اور اس اشہاد کا نام طَلَبِ مُواثَبَت رکھا جاتا ہے پھر وہ مجلس سے اٹھے اور فروخت کنندہ کے خلاف اگر مبیع اس کے قبضہ میں ہو یا خریدار کے خلاف اگر وہ مبیع پر قبضہ کر لے یا زمین کے پاس گواہ بنائے پس جب وہ یہ کام کر لے تو اس کا شفعہ پختہ ہو گیا اور اس اشہاد کا نام طلب تقریر رکھ جاتا ہے.

سوال : جب شفیع یہ سب کچھ کر چکے پھر طلب کو مؤخر کرے اور قاضی کے پاس چند دنوں تک حاضر نہ ہو تو کیا تاخیر کی وجہ سے اس کا حق ساقط ہو جائے گا؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک طلب مواثبت اور طلب تقریر کے بعد تاخیر کی وجہ سے شفعہ ساقط نہیں ہوتا اور حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اشہاد کے بعد عذر کے بغیر ایک ماہ تک مطالبہ چھوڑ دے تو اس کا شفعہ باطل ہو جائے گا.

سوال : حمّام اور پن چکی میں شفعہ کا حکم کیا ہے؟

جواب : زمین میں شفعہ ثابت ہے اگرچہ زمین اس میں سے ہو جس کی تقسیم نہ ہوتی ہو اور اس  عموم میں حمام,پن چکی,کنواں اور چھوٹے مکانات داخل ہیں.

سوال : عمارت اور باغ میں شفعہ کا کیا حکم ہے؟

جواب : عمارت اور باغ میں شفعہ نہیں,بشرطیکہ میدان کے بغیر فروخت کیا جائے.

سوال : کیا ساز و سامان اور کشتیوں میں شفعہ ثابت ہوتا ہے؟

جواب : ان میں شفعہ نہیں ہے.

سوال : کیا حق شفعہ میں مسلمان اور ذمی کے درمیان فرق ہے؟

جواب : مسلمان اور ذمی شفعہ کے استحقاق میں برابر ہیں.

سوال : کیا شفعہ ثابت ہوتا ہے اس صورت میں جب وہ ہبہ کے ذریعہ زمین کا مالک ہو؟

جواب : اس بارے میں قانون ہے کہ تحقیق شفعہ اس صورت میں ثابت ہوتا ہے جب وہ مالی عوض کے ذریعہ زمین کا مالک ہو برابر ہے کہ خریدنے کے ذریعہ یا عوض کی شرط کے ساتھ ہبہ کے ذریعہ ہو.بہر حال جب ایسے خالص ہبہ کے ذریعہ مالک ہو جس میں عوض نہ ہو تو تحقیق اس میں ثابت نہیں ہوتا اور اس قانون پر حکم مستنبط ہوتا ہے اس مکان میں جس کے عوض کسی شخص نے عورت سے نکاح کیا ہو یا اس کے عوض عورت نے خلع کیا ہو یا اس کے عوض مکان کرایہ پر لیا ہو یا اس کے عوض دم عمد سے صلح کی ہو یا اس کے عوض غلام کو آزاد کیا ہو یا اس کے متعلق انکار یا سکوت کے ساتھ صلح کی ہو پس ان تمام صورتوں میں شفعہ ثابت نہیں ہوتا. بہر حال جب مکان کے متعلق اقرار کے ساتھ صلح کرے تو اس میں شفعہ ثابت ہو گا کیونکہ یہ صلح بیع کے حکم میں ہے.


سوال : طلب مواثبت اور طلب تقریر کے بعد حق شفعہ شفیع کو کیسے حاصل ہو گا؟

جواب : شفیع قاضی کے پاس آئے اور دعوی کرے کہ فلاں نے مکان یا زمین خریدی ہے اور میں شفعہ طلب کرتا ہوں پس قاضی,مدعی علیہ...اور وہ خریدار ہے..سے اس مکان یا زمین کے بارے پوچھے پس اگر وہ مدعی کی اس ملک کا اعتراف کرے جس کے ذریعہ وہ حق شفعہ طلب کرتا ہے تو اس کے خلاف فیصلہ دے دے یعنی وہ خریدار کو حکم دے کہ یہ مکان یا زمین شفیع کو سپرد کردے اور اس سے ثمن لے لے  اور اگر خریدار شفعہ میں مدعی کے حق کا انکار کرے تو قاضی مدعی کو بینہ(بین کا مونث ہے بمعنی دلیل و حجت،مراد گواہ ہے) قائم کرنے پر مجبور کرے پس اگر وہ بینہ قائم کرنے سے عاجز ہو تو وہ یعنی قاضی خریدار سے قسم لے پس وہ قسم کھائے اللہ کی قسم وہ یعنی خریدار نہیں جانتا کہ وہ یعنی شفیع اس کا مالک ہے جس کو اس نے ذکر کیا ہے اس میں سے جس کے ذریعہ وہ شفعہ کرتا ہے پس اگر وہ قسم سے انکار کر دے یا شفیع کا بینہ قائم ہوجائے تو قاضی خریدار سے پوچھے کہ کیا اس نے خریدا ہے یا نہیں پس اگر وہ خریدنے کا انکار کرے تو قاضی شفیع سے کہے کہ بینہ قائم کیجیے  پس اگر وہ اس سے عاجز ہو تو خریدار سے قسم لے پس وہ قسم کھائے کہ اللہ کی قسم میں نے نہیں خریدا یا قسم کھائے اللہ کی قسم یہ مدعی اس مکان پر شفعہ کا مستحق نہیں ہوتا اس وجہ سے جس اس نے ذکر کی۔ 

سوال : کیا قاضی کی مجلس میں ثمن کو حاضر کرنا شفیع  پر واجب ہے جس وقت وہ قاضی کے پاس مقدمہ بازی کے لیے حاضر ہو؟ 

جواب : قاضی کے فیصلے سے پہلے ثمن کو حاضر کرنا شفیع پر واجب نہیں  پس جب قاضی اس کے حق میں شفعہ کا فیصلہ دے دے تو ثمن کو حاضر کرنا اسے لازم ہوگا ۔

سوال : شفیع نے شفعہ کے ساتھ مکان لیا پھر وہ کسی عیب پر مطلع ہوا یا اس نے مکان کو نہیں دیکھا تھا تو خیار عیب کی وجہ سے یا خیار رؤیت کی وجہ سے مکان واپس کرنا اس کے لئیے جائز ہے؟

جواب : جی ہاں! اس کے لئیے جائز ہے کہ وہ خیار عیب کی وجہ سے یا خیار رؤیت کی وجہ سے مکان واپس کرے.

سوال : کیا شفیع کے لئیے جائز ہے کہ فروخت کنندہ سے مقدمہ بازی کرے؟

جواب : اگر مبیع فرخت کنندہ کے قبضہ میں ہے تو شفیع کے لئیے جائز کے کہ وہ شفعی میں اس سے مقدمہ بازی کرے لیکن قاضی بینہ کو نہ سنے یہاں تک کہ خریدار حاضر ہو جائے پس جب خریدار حاضر ہو جائے تو قاضی اس کی موجودگی میں بیع توڑ دے اور فروخت کنندہ کے خلاف شفعہ کا فیصلہ دے اور ذمہ داری اس پر ڈال دے.


سوال : شفیع نے گواہ بنانا چھوڑ دیا جس وقت اسے بیع کا علم ہوا تو اسکا کیا حکم ہے؟

جواب : اگر وہ گواہ بنانا چھوڑ دے جس وقت اسے بیع کا علم ہو حالانکہ وہ (گواہ بنانے) پر قدرت رکھتا ہے تو اس کا شفعہ باطل ہو جائے گا اور اسی طرح اسکا شفعہ باطل ہو جائے گا اگر وہ مجلس میں گواہ بناۓ اور باہم عقد کرنے والے دونوں (شخصوں) میں سے کسی کے خلاف یا زمین کے پاس گواہ نہ بناۓ۔

سوال  : اپنے شفعہ سے ایسے عوض پر صلح کی جسے وہ لے چکا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس صورت میں اسکا شفعہ باطل ہو گیا اور جو عوض لے چکا اسے واپس کرنا اس پر واجب ہے۔

سوال : خریدار یا شفیع مر گیا (تو) کیا اس وجہ سے شفعہ ساقط ہو جاتا ہے؟

جواب : جب شفیع مر جائے تو اس کا شفعہ باطل ہو گیا اور خریدار مر جائے (تو) شفعہ ساقط نہیں ہوا 

سوال : شفیع نے وہ (چیز) بیچ دی جس کے ذریعہ وہ شفعہ کرتا ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب شفیع اپنی اس ملک کو بیج دے جس کے ذریعہ وہ شفعہ کرتا ہے قبل اس کے کہ اس کے حق میں شفعہ کا فیصلہ دیا جاۓ تو اسکا شفعہ باطل ہو جائے گا۔

سوال : ایک شخص نے جسی شخص کو وکیل بنایا تاکہ اسکا مکان بیچے پس وکیل نے اس مکان کو بیچ دیا باوجود یکہ اسے شفعہ کا حق (حاصل) تھا (تو) کیا۔ شفعہ طلب کرنا اس کے لیے جائز ہے؟

جواب : اسکا حق ضائع ہو گیا اور اس کے لیے شفعہ (جائز) نہیں۔

سوال : ایک شخص مکان خریدنا چاہتا ہے لیکن وہ معاملہ کرنے میں گھاٹے سے ڈرتا ہے پس کوئی شخص اسکے لیے فروخت کنندہ کی طرف سے تاوان کا ضامن ہو گیا اور جب بیع مکمل ہوگئی (تو) اس شخص نے اپنا شفعہ طلب کیا کیونکہ وہ شفیع تھا تو کیا اس کے حق میں شفعہ کا فیصلہ دیا جاۓ؟

جواب : شفعہ کا حق اس کے لیے باقی نہ رہا کیونکہ بیع اس کی طرف مکمل ہوئی۔

سوال : شرط خیار کے ساتھ فروخت کیا (تو) کیا شفیع کے لیے (جائز) ہے کہ سہ اپنے حق کے لیے جھگڑا کرے؟

جواب : اس صورت میں شفیع کے لیے شفعہ (جائز) نہیں کیونکہ فروخت کنندہ کا خیار مبیع کو اسکی ملک سے نکلنے سے روکتا ہے۔

سوال : شرط خیار کے ساتھ فروخت کیا پھر خیار کے ساتھ ساقط کر دیا پس شفیع نے شفعہ کا دعویٰ کیا تو اسکے دعویٰ کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب فروخت کنندہ نے خیار کو ساقط کر دیا تو شفیع کیلیے (شفعہ) طلب کرنا جائز ہے۔

سوال : شرط خیار کے ساتھ خریدا پس شفیع آیا (کہ) اپنا حق طلب کرے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : شفیع کا دعویٰ اس صورت میں صحیح ہے کیونکہ مبیع فروخت کنندہ کی ملک سے نکل گئی۔

سوال : بیع فاسد کے طور پر مکان خریدا تو اس (مکان) میں شفعہ کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب فاسد خریداری کے طور پر خریدے تو خریدی ہوئی (چیز) میں شفعہ نہیں اور باہم عقد کرنے والے دونوں شخصوں میں سے ہر ایک کو فساد کی صورت میں (بیع) توڑنے کا حق ہے پس جب وہ فسخ کو ساقط کر دے تو شفع واجب ہوجاۓ گا۔

سوال : ذمی نے مکان شراب یا سور کی قیمت کے عوض خریدا اور اس (مکان) کا شفیع مسلمان یا ذمی ہے تو دونوں اپنا حق کیسے لیں؟

جواب : ذمی شراب کے مثل اور سور کی قیمت کے عوض لے اور مسلمان (مکان) شراب اور سور کی قیمت کے عوض لے۔

سوال : جب شفیع اور خریدار ثمن کی مقدار میں اختلاف کریں تو کس کے قول کو لیا جاۓ؟

جواب : خریدار کے قول کو اسکی قسم کے ساتھ لیا جائے۔

سوال : پس اگر دونوں میں سے ایک بینہ قائم کر دے (تو) قاضی کیسے فیصلہ دے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ اور حضرت محمد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ شفیع کے بینہ کے ساتھ فیصلہ دے اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ خریدار کے بینہ کے ساتھ فیصلہ دے۔

سوال : خریدار اور فروخت کنندہ کا اختلاف ہوگیا پس خریدار نے اس سے زائد ثمن کا دعویٰ کیا فروخت کنندہ جس (ثمن) کا دعویٰ کرتا ہے تو شفیع دونوں ثمنوں میں سے کون سے (ثمن) کے عوض لے؟

جواب : اس میں دو صورتیں ہیں: اگر فروخت کنندہ ثمن پر قبضہ کر چکا تو شفیع مبیع کو اس (ثمن) کے عوض لے جو خریدار نے بتایا اور فروخت کنندہ کے قول کی طرف توجہ نہ دی جائے اور اگر فروخت کنندہ نے ثمن پر قبضہ نہیں کیا تو شفیع (مبیع کو) اس (ثمن) کے عوض لے جو فروخت کنندہ نے بتایا اور یہ خریدار کی طرف سے کمی ہوجاۓ گی۔
۔
سوال : کبھی واقع ہوتا ہے کہ فروخت کنندہ ثمن میں کمی کر دیتا ہے یا کم (ثمن) پر باہم راضی ہونے اور باہم عقد کرنے کے بعد خریدار ثمن میں اضافہ کر دیتا ہے تو شفیع دونوں ثمنوں میں سے کون سے (ثمن) کے عوض مبیع کو لے؟

جواب : جب فروخت کنندہ خریدار سے کچھ ثمن کم کر دے تو یہ (کم کردہ مقدار ثمن) شفیع سے ساقط ہو جائے گی اور اس سے تمام ثمن کم کر دے تو (ثمن) شفیع سے ساقط نہیں ہوگا کیونکہ (تمام ثمن کم کرنا) اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوتا اور جب خریدار فروخت کنندہ کیلئے اضافہ کرے تو اضافہ شفیع کو لازم نہیں ہو گا۔

سوال : ایک شخص نے ادھار ثمن کے عوض مکان خریدا پس شفیع نے شفعہ کا دعویٰ کیا اور اس کے حق میں اس (مکان) کا فیصلہ دے دیا گیا تو کیا اسے نقد ثمن کی ادائیگی پر مجبور کیا جائے؟

جواب : شفیع اس بارے میں بااختیار ہے اگر چاہے ثمن کے عوض اسے لے لے اور اگر چاہے صبر کرے اور مدت ختم ہوجاۓ پھر وہ اسے لے لے اور نقد ثمن (کی ادائیگی) پر مجبور نہ کیا جائے۔

سوال : ایک شخص نے کیلی یا وزنی (چیز) کے عوض مکان خریدا اور شفیع نے چاہا کہ وہ اس مکان کو لے لے تو وہ فروخت کنندہ یا خریدار کو کیا ادا کرے؟

جواب : وہ اسے کیلی یا وزنی (چیز) کا مثل ادا کرے۔

سوال : اور اگر سامان کے عوض مکان بیچا جاۓ تو شفیع کیا دے جب وہ (مکان) لینا چاہے؟

جواب : سامان کی قیمت کے عوض اسے لے۔

سوال : اگر زمین کے عوض زمین خریدے تو شفیع کس (چیز) کے عوض (زمین) لے؟

جواب : شفیع ان دونوں (زمینوں) میں سے ہر ایک (زمین) کو دوسری (زمین) کے عوض لے۔
۔
سوال : مکان بیچا گیا اور اس میں کسی شخص کا شفعہ کا حق تھا اور (شفیع) کو خبر پہنچی کہ وہ (مکان) ہزار کے عوض بیچا گیا ہے پس اس نے شفعہ سپرد کر دیا پھر اسے علم ہوا کہ وہ اس سے کم کے عوض بیچا گیا یا وہ (مکان) گندم یا جو کے عوض بیچا گیا جس کی قیمت ہزار یا زائد ہے (تو) کیا اسے شفعہ کا حق حاصل ہوگا؟

جواب : اسکا شفعہ کو سپرد کرنا معتبر نہیں اور اسکا حق باقی ہے کیونکہ خبر دھوکہ تھی۔

سوال : مکان ہزار درہم کے عوض بیچا گیا پس اس نے شفعہ سپرد کر دیا پھر ظاہر ہوا کہ وہ دیناروں کے عوض بیچا گیا ہے جن کی قیمت ہزار درہم ہے (تو) کیا یہ دھوکہ ہے؟

جواب : یہ دھوکہ شمار نہیں کیا جاۓ گا اور سپرد کرنے کے بعد شفعہ کا حق اس کیلیے باقی نہیں رہا۔

سوال : اسے (خبر) پہنچی کہ فلاں نے مکان یا زمین خریدی ہے پس اس نے شفعہ سپرد کر دیا پھر اسے علم ہوا کہ خریدار اس کے سوا ہے (تو) شفعہ کا ساقط ہونے میں کیا حکم ہے؟

جواب : اس وجہ سے اسکا حق ساقط نہیں ہوا اور اسے (حق) شفعہ (حاصل) ہے۔

سوال : (کسی) نے کسی شخص کو وکیل بنایا کہ اس کیلیے مکان خریدے پس اس نے اسے اس کیلیے خریدا اور شفیع نے دعویٰ کر دیا تاکہ اپنا حق لے پس اس بارے میں کون مدمقابل ہو گا؟

جواب : مدمقابل اس بارے میں وہ وکیل ہے جس نے بیع کا عقد کیا مگر یہ کہ وہ (مکان) موکل کو سپرد کر دے پس اس وقت مدمقابل موکل ہوگا۔

جواب : میدان خریدا اور اس میں گھر بنا دیا یا درخت کا پودا لگا دیا پھر شفیع کیلیے اس (میدان) کا فیصلہ کر دیا گیا تو شفیع اس عمارت اور درخت کے ساتھ کیا کرے؟

جواب : شفیع بااختیار ہے اگر چاہے اس (میدان) کو ثمن اور عمارت و درخت کے پودے کی قیمت کے عوض لے لے اس حال میں کہ (عمارت اور درخت کے پودے) اکھڑے ہوئے ہوں اور اگر چاہے تو خریدار کو اس دونوں کے اکھڑنے پر مجبور کرے۔

سوال : شفیع نے مکان لیا پس اس میں عمارت بنا دی یا درخت کا پودا لگا دیا پھر مکان میں حق ثابت ہوگیا اور مکان میں حق ثابت ہونے کہ وجہ سے بیع توڑ دی گئی (تو) شفیع کیا کرے؟

جواب : اس ثمن کے ساتھ رجوع کرے جو اس نے ادا کیا اور عمارت و درخت کے پودے کی قیمت کے ساتھ رجوع نہ کرے۔

سوال۔ کسی کے عمل کے بغیر مکان گر گیا یا اسکی عمارت جل گئی یا باغ کا درخت خشک ہوگیا اور شفیع کیلیے اس کا فیصلہ کر دیا گیا تو شفیع اس کس (چیز) کے عوض لے؟

جواب : شفیع با اختیار ہے اگر چاہے اسے تمام ثمن کے عوض لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔

سوال : اگر خریدار عمارت توڑ دے اور مکان باقی رہ جائے (تو) شفیع اسے کتنے (ثمن) کے عوض لے؟

جواب : اگر چاہے (تو) اسے اس کے حصہ ثمن کے عوض لے لے اور اگر چاہے (تو) شفعہ کر دے اسے اور اسے ملبہ لینے کا (حق حاصل) نہیں۔

سوال : زمین خریدی جس میں درخت  خرما ہے جس پر پھل (لگا ہوا) ہے اور شفیع کیلیے زمین کا فیصلہ دے دیا گیا پس اس وقت وہ خالی زمین لے یا اسے اسکے پھل سمیت لے؟

جواب : وہ اسے اسکے پھل سمیت لے۔

سوال : درخت خرما اور پھل سمیت زمین خریدی پھر اس (پھل) کو توڑ لیا اور شفیع کیلیے زمین کا فیصلہ دے دیا گیا تو شفیع کو اس بارے میں کس چیز کا حکم ہے؟

جواب : شفیع سے کہا جاۓ ثمن میں سے کچھ پھل کا حصہ کم کیجیے اور جو (چیز) باقی رہ گئی ہے اسے باقی ثمن کے عوض لیجیے۔

سوال : ایک شخص نے مکان خریدا پس شفیع نے شفعہ سپرد کر دیا پھر خریدار نے خیار رؤیت کی وجہ سے یا شرطِ خیار کی وجہ سے یا عیب کی وجہ سے (مکان) کو فروخت کنندہ پر لوٹا دیا (تو) شفیع کیلیے شفعہ کا حق لوٹ آۓ گا؟

جواب : اس بارے میں دیکھا جاۓ گا اگر خریدار نے اس (مکان) کو قاضی کے ساتھ فیصلہ پر لوٹایا تو اس کیلیے شفعہ (کا حق باقی) نہیں ہے اور اسکا حق نہیں لوٹے گا اور اگر قاضی کے فیصلے کے بعد اس کو لوٹایا یا دونوں نے (بیع) فسخ کر دی تو شفیع کیلیے شفعہ (کا حق باقی) ہے۔

سوال : کئی حصے دار زمین میں باہم شریک ہیں پس انہوں نے (زمین) کو تقسیم کیا (تو) کیا شفعہ کا حق اس میں پڑوسی کیلیے ثابت ہوگا؟

جواب : اس صورت میں پڑوسی کیلیے شفعہ (ثابت) نہیں ہے کیونکہ تقسیم، بیع نہیں ہے اور سوائے اس کے نہیں یہ (یعنی تقسیم) کو جدا کرنا ہے۔

سوال : مکان بیچا گیا جس کے کئی شفیع ہیں اور ان میں سے ہر ایک نے چاہا کہ وہ شفعہ لے (تو) وہ مکان کو آپس میں کیسے تقسیم کریں گے؟

جواب : وہ اسے آپس میں اپنے سروں کے عدد پر تقسیم کریں اور اس میں املاک کے اختلاف کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔

سوال : اس کے لیے مثال بیان کیجیے۔

جواب : ایک مکان تین شخصوں کے درمیان (مشترک) ہے ان میں سے ایک کیلیے آدھا حصہ ہے اور دوسرے کیلیے اسکا تہائی ہے اور تیسرے کیلیے چھٹا حصہ ہے پس آدھے حصے والے نے اپنا حصہ بیچ دیا (تو) ہر شفیع کیلیے اس کے ساتھی کے حصہ کے مثل حصہ ہوگا برابر سر۔ پس چھٹے حصے والے کا حصہ کم نہیں ہوگا۔

سوال : ثمن کے عوض مکان خریدا پھر فروخت کنندہ کو کپڑا دے دیا پس شفیع مکان کو کس (چیز) کے عوض لے گا؟

جواب : وہ اسے ثمن کے عوض لے گا نہ کہ کپڑے (کے عوض) کیونکہ عقد (کپڑے) پر واقع نہیں ہوا اور سواۓ اس کے نہیں وہ دوسرے عقد کی وجہ سے اسکا مالک ہوا۔

سوال : کیا بعض صورتوں میں شفعہ کا حق ساقط ہو جاتا ہے؟

جواب : جب مکان بیچے مگر ایک ہاتھ کہ مقدار اس جانب کی لمبائی میں جو شفیع سے ملتی ہے تو اس وجہ سے شفیع کا حق باطل ہوجاۓ گا کیونکہ شفیع کی ملک کے ساتھ اتصال نہیں پایا گیا اور یہ (ایک) حیلہ ہے لوگ شفعہ ساقط کرنے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔

سوال : کیا یہاں دوسرا حیلہ ہے اسکے سوا جو آپ نے ذکر فرمایا؟

جواب : فقہاء نے حیلہ ذکر فرمایا ہے اس کے سوا جو (ابھی) ذکر کیا گیا اور وہ یہ ہے کہ مکان میں سے ایک حصہ ثمن کے عوض خریدے پھر اس کے باقی حصہ کو خریدے پس شفعہ کا حق پڑوسی کو پہلے حصے میں حاصل ہوگا دوسرے حصے میں نہیں۔

سوال : پس کیا (شفعہ) ساقط کرنے میں حیلہ مکروہ ہے؟

جواب : حضرت ابو یوسف کے نزدیک مکروہ نہیں اور حضرت محمد رحمتہ اللہ کے قریب مکروہ ہے۔





No comments:

Powered by Blogger.