Sone or Chandi ke Istamal ka bayan

 
  سونے اور چاندی کے استعمال کا بیان

سوال : سونے اور چاندی کے استعمال کا حکم کیا ہے؟


جواب : آنے والے مساٸل کو زبانی یاد کیجیۓ:

(١) 
سونے اور چاندی کا زیور پہننا مرد کے لیے جاٸز نہیں اور عورتوں کے لیے جاٸز ہے۔  
(٢) 
جاٸزنہیں کہ بچہ سونا اور ریشم پہنے۔
 (٣) 
مردوں کے لیے انگوٹھی (پہننے)  میں کوٸی حرج نہیں جب کہ وہ چاندی کی ہو بشرطیکہ وہ (انگوٹھی) ایک مِثقَال(چار ماشہ چار رتی یعنی ٤ٕ٣٧٤ گرام اوزان شرعیہ مع تتمہ) کو پورا نہ کرے(یعنی اسکا وزن مثقال سے کم ہو)اور چاندی کے سوا سے جاٸز نہیں۔ 
(٥) 
سونے اور چاندی کے برتن سے کھانا،پینا،تیل لگانا اور خوشبو لگانا جاٸز نہیں جیسا کہ مردوں اور عورتوں  سب کے لیۓ (سونے اور چاندی) کے چمچے کے ساتھ کھانا اور ان دونوں کی سلاٸی کے ساتھ کے آنکھوں میں سرمہ لگانا جاٸز نہیں۔
 (٦) 
کانچ،سیسہ،بَلُّور اور عقیق کے برتن کے استعمال میں کوٸی حرج نہیں۔
 (٧)
 حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک چاندی چڑھاۓ ہوۓ برتن میں پینا،چادی چڑھاٸی ہوٸی زین پر سوار ہونا اور چاندی چڑھاٸی ہوٸی کرسی پر بیٹھنا جاٸز ہے بشرطیکہ وہ چاندی کی جگہ سے پرہیز کرے۔
 (٨) 
قرآن پاک کو سونے چاندی سے آراستہ کرنے اور سونے کے پانی سے مسجد کو نقش و نگار کرنے اور مزین کرنے میں کوٸی حرج نہیں۔





No comments:

Powered by Blogger.