Sood ka bayan

سود کا بیان 


سوال : لغت اور شریعت کی رو سے سود کیا ہے؟

جواب : سود لغت کی رو سے مطلق زیادت کا نام ہے اور بہر حال سفید شریعت کی اصطلاح میں تو وہ دو قسموں کی طرف منقسم ہے
 (۱)
 بیع کا سود
 (۲)
 قرض کا سود 
اور یہ دونوں حرام ہیں اور تحقیق(سود) لینے والے اور دینے والے کے حق میں سخت وعید وارد ہوئی ہے۔

سوال : قرض کا سود کیا ہے؟

جواب : وہ یہ ہے کہ کوئی شخص مثلا دراہم یا دنانیر قرض میں دے اور قرض دار پر شرط لگائے کہ وہ اسے اس سے زیادہ ادا کرے جو اس نے قرض میں دیا۔

سوال : بیع کا سود کیا ہے؟

جواب : وہ یہ ہے کہ کیلی یا وزنی (چیز) اس کی جنس کے عوض زیادت کے طور پر بیچے یا کیلی یا وزنی (چیز ) اس کی جنس کے عوض یا غیر جنس کے عوض ادھار کے طور پر بیچے۔

سوال : کیا اس (سلسلہ) میں نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے نص وارد ہوئی ہے؟

جواب : حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ سونے کو سونے کے عوض، چاندی کو چاندی کے عوض، گندم کو گندم کے عوض ، جو کو جو کے عوض,کھجور کو کھجور کے عوض اور نمک کو نمک کے عوض برابر سرابر دست بدست (بیچو) پس جس نے زائد لیا یا زائد دیا تو تحقیق اس نے سود کا ارتکاب کیا، (سود) لینے والا اور دینے والا اس جرم میں برابر ہیں۔
اور حضرت عبادہ بن الصامتؓ روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ سونے کو سونے کے عوض، چاندی کو چاندی کے عوض، گندم کو گندم کے عوض، جو کو جو کے عوض، کھجور کو کھجور کےعوض اور نمک کو نمک کے عوض برابر سرابر دست بدست (بیچو) پس جب یہ شرطیں مختلف ہو جائیں (مثلاً سونے کے عوض چاندی یا گندم کے عوض جو وغیرہ) تو جیسے چاہو بیچو بشرطیکہ دست بدست ہو۔ 
 پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان چھ چیزوں کو ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ ان چیزوں کو ان کی جنس میں سے
بعض کو بعض کے عوض نہ بیچا جائے ۔  الا یہ کہ برابر سرابر دست بدست ہو اور بیان فرمایا کہ جو زائد ہوجائے پس وہ سود ہے جس جانب سے بھی ہو اور فرمایا کہ (سود) لینے والا اور دینے والا اس (جرم) میں برابر ہیں اور خلاف جنس کے عوض ان قسموں کی فروخت کو برابری اور زیادت کے طور پر جائز قرار دیا بشرطیکہ دست بدست ہو۔
اور حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان چیزوں کے ذکر سے استنباط فرمایا کہ سود کو ثابت کرنے میں علت کیل مع الجنس یا وزن مع الجنس  ہے کیونکہ یہ چیزیں یا تو کیل ہیں اور یا وزنی ہیں پس جب کیلی چیز کو اس کی جنس کے عوض یا وزنی چیز کو اس کی جنس کے عوض برابر سرابر بیچا جائے تو بیع جائز ہے اگرچہ وہ ( کیلی یا وزنی چیز ) ان (چھ) چیزوں کے علاوہ ہو اور اگر دونوں جانبوں میں سے کسی ایک (جانب) سے زائد ہو جائے تو جائز نہیں اور جب دونوں جنس مختلف ہو جائیں تو زیادت جائز ہے اور ادھار حرام ہے، اور جب دونوں وصف یعنی جنس اور وہ معنی جو اس کے ساتھ ملایا گیا ہو اور وہ (معنی) اس (چیز) کا کیلی یا وزنی ہونا ہے (یعنی قدر ) نہ پائے جائیں تو زیادت اور ادھار دونوں حلال ہیں۔ اور جب دونوں (وصف جنس اور قدر) پائے جائیں تو زیادت اور ادھار حرام ہیں اور جب ان دونوں میں سے ایک (وصف) پایا جائے تو زیادت حلال اور ادھار حرام ہے 

سوال : ایک طرف سے عمدہ گندم اور دوسری طرف سے ناقص گندم ہے تو کیا اس (بیع) میں زیادت جائز ہے؟

جواب : اس صورت میں زیادت جائز نہیں کیونکہ جنس ایک ہے اور تمام وزنی چیزوں اور کیلی چیزوں میں یہی حکم ہے۔

سوال : اجناس کے بارے میں ان کا کیلی یا وزنی ہونا کیسے معلوم ہو گا؟

جواب : ہر ایسی چیز کہ رسولؐ الله علیه نے اس میں زیادت کی تحریم پر کیل کے لحاظ سے تصریح فرمائی تو وہ ہمیشہ کیلئے کیلی ہے اگرچہ لوگوں نے اس میں کیل کو چھوڑ دیا ہو جیسے گندم، جو، کھجور اور نمک والی چیز کہ رسولؐ اللہ نے اس میں زیادت کی تحریم پر وزن کے لحاظ سے تصریح فرمائی تو وہ ہمیشہ کیلئے وزنی ہے اگرچہ لوگوں نے اس میں وزن کو چھوڑ دیا ہو جیسے سونا اور چاندی۔ اور وہ (چیز) کہ نبی کریمؐ نے اس کے بارے میں تصریح نہیں فرمائی تو وہ لوگوں کی عادات پر محمول ہے پس جب دو (شخص) اسی چیز کی باہم خریدو فروخت کریں جس میں عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے تو اگر (لوگ) وزن کے ساتھ کسی چیز کی بیع میں باہم پہچان رکھتے ہوں تو وہ وزنی ہے اور اگر کیل کے ساتھ کسی (چیز) کی باہم پہچان رکھتے ہوں تو وہ کیلی ہے اور اگر عدد کے ساتھ باہم خرید و فروخت کرنے کی باہمی
ایمان رکھتے ہوں تو وہ عددی ہے۔

سوال : بیوع میں جانبین سے قبضہ کرنے کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب عقد ، اثمان کی جنس یعنی سونے اور چاندی پر واقع ہو تو ایسے (عقد) میں (اسی ) مجلس میں اس (عقد) کے دونوں عوضوں پر قبضہ کرنے کا اعتبار کیا جاتا ہے اور اس (عقد) کا نام ”بیع صرف‘‘ رکھا جاتا ہے اور جو (عوض) أثمان کے سوا اس میں سے ہو جس میں سود (جاری ہوتا)  ہے تو اس میں تعیین کا اعتبار کیا جاتا ہے اور اس میں جانبین سے قبضہ کرنے کی شرط نہیں لگائی جاتی۔

سوال : کیا گندم کی بیع اس کے آٹے یا اس کے ستو کے عوض اور آٹے کی بیع ستو کے عوض جائز ہے ؟ 

جواب : یہ بیوع جائز نہیں نہ زیادت کے طور پر اور نہ برابری کے طور پر۔

سوال : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک جانور کے عوض گوشت کی بیع کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ بیع جائز ہے

سوال : اس (مسئلہ) میں صاحبین کا قول کیا ہے؟

جواب : حضرت ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے اس(مسئلہ) میں اپنے شیخ حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی موافقت کی ہے اور بہر حال حضرت محمد رحمتہ اللہ علیہ تو آپ فرماتے ہیں کہ بیع جائز نہیں یہاں تک کہ گوشت اس (گوشت) سے زیادہ ہو جو جانور میں (موجود) ہے پس گوشت اپنے مثل(گوشت) کے عوض  اور زیادت,سَقَط(یعنی سری,پاۓ اور کھال ) کےعوض ہو جاۓ گی.

سوال : پختہ تازہ کھجور کی بیع چھوارے کے عوض برابر ,سرابر اور انگور(کی بیع) کشمش کے عوض اسی طرح یعنی (برابرا سرابر)میں حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول کیا ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک یہ دونوں بیع جا ئز ہیں کیونکہ جنس متحد ہے اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ (بیع) جا ئز نہیں 

سوال : جب زیتون کو روغن زیتون یا تل کو روغن تل کے عوض بیچے تو کیا یہ بیع صحیح ہے؟

جواب : یہ بیع جائز نہیں اِلَّا یہ کہ روغن زیتون اس (روغن) سے زیادہ ہو جو زیتون میں ہے اور روغن تل اس (روغن) سے زیادہ ہو جو تل میں (ہے)پس تیل اپنےمثل(تیل) کے عوض اور زیادت کھلی کے عوض ہو جاۓ گی

سوال : کیا مختلف(قسم کے) گوشت کہ ان کے بعض کی بعض کے عوض زیادت کےطور پر بیع جائز ہے؟

جواب : جی ہاں! یہ (بیع ) جائز ہے 

سوال : اگر اونٹ,گاۓ اور بکری کے دودھ کہ ان کے بعض کو بعض کے عوض زیادت کےطور پربیچے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : یہ بھی جائز ہے

سوال : ایک شخص نے ردی کجھور کے سرکہ کو انگور کےسرکہ کےعوض زیادت کےطور پر بیچا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : یہ بھی جائز ہے

سوال : گندم کی روٹی کو گندم کے عوض یا آٹے کے عوض زیادت کے طور پر بیچنے میں آپ کا قول کیا ہے؟

جواب : یہ بھی جائز ہے

سوال : گندم کی روٹی کو گندم کے عوض یا آٹے کے عوض زیادت کے طور پر بیچنے میں آپ کا قول کیا ہے؟

جواب : یہ بھی جائز ہے

سوال : ایک شخص نے اپنے غلام کو تجارت کی اجازت دی پھر اس سے کوئی چیز خریدی اور اس سے سودی معاملہ کیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : آقا اور اس کے غلام کے درمیان سود (متحقق ) نہیں پس یہ معاملہ جائز ہے کیونکہ غلام اور جو کچھ اس کے قبضہ میں ہے (وہ) آقا کی ملک ہے

سوال : مسلمان نے دارالحرب میں حربی سے سودی (معاملہ) کیا تو اس بارے میں (شرعی) حکم کیا ہے؟

جواب : دارالحرب میں مسلمان اور حربی کے درمیان سود(متحقق) نہیں 




No comments:

Powered by Blogger.