Tadbeer ka bayan
تدبیر کا بیان
سوال : تدبیر کیا ہے؟
جواب : وہ یہ ہے کہ آقا اپنے غلام سے کہےکہ "جب میں مر جاؤں تو تو آزاد ہے" یا کہے کہ"تو میرے بعد آزاد ہے" یا "تو مُدَبَّر ہے" یا کہے کہ "تحقیق میں نے تجھے مُدَبَّرْ بنایا"
سوال : پس جب آقا یہ کہے تو کس(چیز) کا فیصلہ دیا جاۓ؟
جواب : غلام (اسی وقت) مُدَبَّرْ بن جاۓ گا اور تب آزاد ہو گا جب اس کا آقا مر جاۓ گا اور اس کو بیچنا اور ہبہ کرنا جائز نہیں اور آقا کےلیے جائز ہے کہ وہ اس (مدبر) سے خدمت لے اور اسے اجرت پر دے
سوال : اگر اپنی باندی کو مُدَبَّرْ بناۓ(تو) کیا اس کےلیے جائز ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اس سے صحبت کرے یا کسی مرد سے اس کی شادی کراۓ؟
جواب : دونوں کام اس کےلیے جائز ہیں
سوال : (مُدَبَّرَہْ) کے آقا نے کسی مرد سے اس کی شادی کرادی پس اس نے اس (مرد) کےلیے ولد جنا تو اس (ولد) کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ ولد اپنی ماں کے ساتھ مُدَبَّرْ ہو جاۓ گا
سوال : جب وہ آقا جس نے مُدَبَّرْ بنایا مر جاۓ(تو) کیا مدبر کسی چیز کے بغیر مفت آزاد ہوجاۓگا یا اپنے ورثہ کےلیے اپنی قیمت میں کمائی کرےگا؟
جواب : اس میں تفصیل ہے: جب مُدَبَّر مال کی تہائی سے نکل آۓ تو وہ کسی شے کے بغیر آزاد ہے پس اگر اس غلام کے سوااس (میت) کا مسل نہ ہو تو وہ اپنی قیمت کی دو تہائی میں میت کے ورثہ کےلیے کمائی کرے گااور اگر آقا پر ایسا قرض ہو جو اس کے تمام مال کو گھیر لے تو غلام اپنی تمام قیمت میں(میت) کے قرض خواہوں کےلیے کمائی کرے گا
سوال : آقا نے تدبیر کو کسی صفت پر معلق کیا مثلا کہا کہ اگر میں اپنی اس بیماری میں یا اپنے اس سفر میں یا اس بیماری سے مر جاؤں,(تو) کیا غلام مُدَبَّرْ بن جاۓگا؟
جواب : وہ اس صورت میں مُدَبَّرْ نہیں ہوگا اور اسی وجہ سے اس کو بیچنا اور ہبہ کرنا جائز ہے لیکن جب آقا اس صفت پر مر جاۓ جو اس نے ذکر کی(تو) غلام اس طرح آزادہو جاۓ گا جس طرح مُدَبَّرْ آزاد ہوتا ہے یعنی تہائی (مال) سے کیونکہ شرط تحقیق پائی گئی

No comments: