Wadiyat ka bayan

ودیعت کا بیان

ودیعت: امانت
مُوْدِع(اسم فاعل):کسی کے پاس امانت رکھنے والا یعنی مالکِ امانت
مُودَع(اسم مفعول): جس کے پاس امانت رکھی جائے یعنی امین

سوال : لغت اور شریعت کی رو سے ودیعت کیا ہے؟

جواب : یہ ودع سے مشتق ہے اور وہ (بمعنی) حرک یعنی (چھوڑنا) ہے، یہ اس لغوی معنی ہے اور بھر حال شریعت کی رو سے تو یہ اشیاء کو مالک کی ملک پر باقی رکھنے کے ساتھ ایسے (شخص) کے پاس امانت رکھنے کا نام ہے جو حفاظت کرنے میں تصرف کا اہل ہے۔

سوال : ودیعت کا حکم کیا ہے جب وہ امین کے قبضے میں ہو؟

جواب : ودیعت امین کے قبضہ میں امانت ہے اور وہ اس کا ضامن نہیں ہوگا جب تعدی کے بغیر اس کے قبضے میں ھلاک ہوجائے۔ 

سوال : کیا امین کے ذمہ واجب ہے کہ وہ خود اس (امانت)کی حفاظت کرے؟

جواب : اس پر (واجب) ہے کہ وہ خود یا اس شخص کے ذریعے (امانت) کی حفاظت کرے جو اس کے عیال میں ہے پس اگر وہ ان کے غیر کے ذریعہ اس کی حفاظت کرے یا کسی دوسرے کے پاس امانت رکھے تو (ضامن) ہوگا مگر یہ کہ اس کے مکان میں آگ لگ جائے پس وہ اسے اپنے پڑوسی کے سپرد کردے یا وہ کشتی میں ہو اور اسے ڈوبنے کا اندیشہ ہو پس وہ اسے دوسری کشتی کی طرف پھینک دے تو اس وقت وہ ضامن نہیں ہوگا کیونکہ اس نے یہ( کام ) مودع کی خیرخواہی کے لئے کیا.

سوال : امانت کے مالک نے امین سے کہا کہ اسے اپنی بیوی کو سپرد مت کیجئے گا پس انے اسے(بیوی) کو سپرد کردیا یا اس نے (امین) سے کہا کہ اس کمرے میں اس کی حفاظت کیجئے پس اس نے اس مکان کے دوسرے کمرے میں اس کی حفاظت کی اور امانت ھلاک ہوگئی (تو) کیا امین ضامن ہوگا.

جواب : وہ ان دونوں صورتوں میں ضامن نہیں ہوگا لیکن جب وہ دوسرے مکان میں اس کی حفاظت کرے تو اس کا ضامن ہوگا ۔

سوال : مودع امانت واپس لینے کے لئے آیا اور اس نے اس کے لئے مزدور  اجرت پر لیا (تو) یہ اجرت کس کے ذمہ واقع ہوگی؟

جواب : امانت رکھی گئی چیز کے واپس کرنے کی اجرت مودِع کے ذمہ ہے۔

سوال : امانت کے مال کے ضمان کا کیا حکم ہے جب وہ امین کے مال کے ساتھ مل جائے یا وہ اپنے فعل کے ذریعہ اسے ملا دے؟

جواب : اگر امانت کا مال اس کے فعل کے بغیر اس کے مال کے ساتھ مل جائے تو وہ اپنے ساتھی کا شریک ہے اور اگر وہ اسے ملا دے یہاں تک کہ وہ جدا نہ ہو تو اس کا ضامن ہوگا۔

سوال : ضمان کے وجوب کا کیا حکم ہے جب امین امانت کے مال میں سے خرچ کر لے؟

جواب :  جب امین امانت کا تمام مال خرچ کر دے تو تمام (مال) کا ضامن ہوگا اور اگر اس کا کچھ حصہ خرچ کردے اور باقی ہلاک ہوجائے (تو) وہ اس مقدار کا ضامن ہوگا جو اس نے خرچ کیا۔ 

سوال : اگر کچھ (مال) خرچ کرے پھر اس کا مثل واپس کردے پس اسے باقی (مال) کے ساتھ ملا دے تو کل یا بعض (امانت) کا ضامن ہوگا؟

جواب : کل (امانت) کا ضامن ہوگا.

سوال : مودِع آیا (کہ) اپنی امانت طلب کرے پس (امین) نے (امانت) اس سے روک لی باوجود یہ کہ وہ (امانت) سپرد کرنت پر قدرت رکھتا ہے اور اس کے بعد امانت تعدی کے بغیر اس کے پاس ہلاک ہوگئی(تو) اس صورت میں ضمان کا کیا حکم ہے؟ 

جواب : وہ اس صورت میں (امانت) کا ضامن ہوگا اور یہ نہ کہا جائے گا کہ اس نے اس میں تعدی نہیں کی کیونکہ مودع کے طلب کرنے کے بعد سپرد کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود اس کا روک لینا تعدی میں شمار کیا جائے گا۔

سوال : امین نے امانت میں تعدی کی اس طور پر کہ وہ (امانت) جانور تھا پس وہ اس سوار ہوگیا یا کپڑا (تھا) پس اسے پہن لیا یا غلام( تھا) پس اس نے اس سے خدمت لی یا اس (امانت) کو اپنے کے غیر کے پاس امانت رکھ دیا پھر اس نے تعدی کو زائل کردیا اور(امانت ) اپنے قبضہ میں لوٹا دی (تو) کیا ضمان کا حکم اپنے حال پر باقی رہے گا؟

جواب : اس صورت میں ضمان زائل ہو گیا۔ 

سوال : امانت کا مالک آیا اور اس نے اپنی امانت طلب کی پس امین نے اس سے (امانت) کا انکار کر دیا (تو)  اس بارے میں ضمان کا کیا حکم ہے؟

جواب : امین اس (امانت) کا ضامن ہوگا ایسا ضمان جو ٹلتا نہیں اور بدلتا نہیں یہاں تک کہ جب وہ اعتراف کی طرف لوٹ آئے (تو ) ضمان سے بری نہیں ہوگا اگرچہ امانت اس کے فعل کے بغیر ہلاک ہوجائے کیونکہ انکار تعدی میں سے ہے۔

سوال : کیا امین کے لئے جائز ہے کہ وہ (امانت) کو سفر میں لے جائے؟

جواب : جی ہاں ! یہ اس کے لئے جائز ہے بشرطیکہ مودِع نے اسے اس سے روکا نہ ہو اور وہ (امانت کو ) نکالنے کی وجہ سے اس (کے ضائع ہونے ) پر اندیشہ نہ کرے۔

سوال : اگر (امانت) میں بوجھ اور مشقت ہو تو اس کو سفر میں لے جانے والے کا حکم کیا ہے؟

جواب :  سابقہ شرط کے ساتھ اس صورت میں بھی سفر کرنا جائز ہے۔

سوال : دو شخصوں نے ایک شخص کے پاس امانت رکھی پھر ان دونوں میں سے ایک حاضر ہوا ( کہ) اس (امانت) میں سے اپنا حصہ طلب کرے(تو) کیا امین اسے اس کا حصہ دے دے؟

جواب :  وہ اسے کچھ نہ دے یہاں تک کہ دوسرا حاضر ہوجائے اور یہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے اور آپ کے صاحبین حضرت ابو یوسف و حضرت محمد فرماتے ہیں کہ وہ اسے اس کا حصہ دے دے۔

سوال :  اگر ایک شخص دو شخصوں کے پاس کوئی چیز امانت رکھے (تو) کیا ان دونوں میں سے ایک کے لئے جائز ہے کہ وہ پوری (امانت) دوسرے کو دے دے؟

جواب : یہ جائز نہیں بلکہ دونوں آپس میں امانت کو تقسیم کریں پس ان میں سے ہر ایک (امانت) کے آدھے حصے کی حفاظت کرے اور یہ (حکم )اس (چیز) میں ہے جو تقسیم ہوتی ہے بہر حال جب اس میں سے ہو جو تقسیم نہیں ہوتی تو جائز ہے ان دونوں میں ایک دوسرے کی اجازت سے اس کی حفاظت کرے۔

سوال : اگر امانت مالک کے مکان کی طرف لوٹا دے اور (مالک) کو (امانت )کے سپرد نہ کرے تو کیا وہ (امانت) کا ضامن ہوگا جب (امانت) ہلاک ہوجائے؟ 

جواب : جی ہاں ! ضامن ہوگا ۔

سوال : امانت رکھی گئی چیز واپس کرنے کی اجرت کون برداشت کرے ؟

جواب : جس نے امانت رکھی وہ (اجرت)  کو برداشت کرے ۔





No comments:

Powered by Blogger.