walaa ka bayan

وٙلاء کا بیان 

سوال : لغت اور شریعت کی رو سے وٙلاء کیا ہے؟ 


جواب : یہ وٙلِیُ بمعنی قرب سے مشتق ہے اور شروع میں یہ وہ (میراث) ہے کہ آدمی اپنی (ملک) کسی شخص کی آزادی کے سبب یا عقد موالات کے سبب اس کا مستحق ہوتا ہے پس وٙلاء کی وہ قسمیں ہیں وٙلاء عتاقہ اور ولاء موالات


سوال : ان احکام کو بیان کیجیئے جو وٙلاء عتاقہ کے متعلق ہیں؟ 


جواب : جب کوئی شخص اپنے مملوک کو آزاد کردے نر ہو یا مادہ تو اسکی ولاء آزاد کرنے والے کیلئے ہے۔ برابر ہے کہ اسے مال کے عوض آزاد کرے یا اسے مفت آزاد کرے اور جب مکعب, آقا کی موت کے بعد آزاد ہوجائے تو اسکی وٙلاء اس آزاد کرنے والے کے ورثہ کے لئے ہے جس نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا پھر مر گیا۔


سوال : کسی شخص نے غلام یا باندی کو مُدٙبٙر بنایا یا باندی کو اُم وٙلٙد بنایا پھر وہ مر گیا تو کون ان کی ولاء کا مستحق ہوگا؟


جواب : ان کی وٙلاء آقا کے لئے ہے کیونکہ وہ اس کی طرف سے آزاد ہوئے.


سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ جو ذُو رٙحم مُحٙرٙم کا مالک بنا وہ (مملوک) اس (مالک) پر آزاد ہو گیا تو اس (آزادی) کی وجہ سے وٙلاء حاصل ہوتی ہے؟ 


جواب : جی ہاں! اس آزادی کی وجہ سے وٙلاء حاصل ہوتی ہے. (مدت) میں ولد جنے۔


سوال : اگر وہ اپنی آزادی کے بعد چھ ماہ سے زائد (مدت) میں (ولد) جنے (تو) اس حمل کی وٙلاء کس کے لئے ہوگی؟


جواب : اسکی وٙلاء بھی ماں کے آقا کے لئے ہے مگر یہ کہ غلام آزاد ہوجائے.....اور وہ (غلام) اس (حمل) کا باپ ہے....پس جب غلام آزاد ہوجائے تو وہ اپنے بیٹے کی وٙلاء اپنے آقاؤں  کی طرف کھینچ لے گا۔


سوال : عجم میں سے کسی مرد نے ایسی آزاد کردہ خاتون سے نکاح کیا جس کو عرب نے آزاد کیا پس اس نے اولاد جنی تو اسکی اولاد کی وٙلاء کا حکم کیا ہے؟ 

جواب : حضرت ابو حنیفہ رح و حضرت محمد رحمہا اللہ تعالی کے نزدیک اسکی اولاد کی ولاء سے اسکے آقاؤں کے لئے ہے اور حضرت یوسف رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اسکی اولاد کی ولاء انکے باپ کے لئے ہے کیونکہ نسب آباء کی طرف
 (جاتا ہے )


سوال : کسی شخص نے اپنے مملوک کو آزاد کیا اس شرط کے ساتھ کہ اسکے لئے ولاء نہیں ہے یا یہ کہ اسکی ولاء عام مسلمانوں کے لئے ہے (تو) کیا یہ صحیح ہے؟ 


جواب : یہ باطل ہے اور ولاء اسکے لئے ثابت ہے جس نے آزاد کیا اور اسکا انکار کوئی شے نہیں۔


سوال : اس ولاء سے کونسا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ 


جواب : یہ ولاء تٙعصِیب ہے اور وہ انسان کو عُصبہ بناتا ہے وہ ہے جو اٙصحٙاب الفروض کے بعد میراث کا مستحق ہوتا ہے پس اگر آزاد کردہ (غلام) کا نسب کی جانب سے عصبہ ہے تو وہ آزاد کرنے والے کی بہ نسبت میراث کے زیادہ لائق ہے اور اگر اسکا نسب کسی کی جانب نہیں ہے تو اسکی میراث آزاد کرنے والے کے لئے ہے اور مولائے عتاقہ عصبہ نسبیہ سے متاخر ہے اور ذوی الارحام پر مقدم ہے


سوال : اگر آقا مر جائے پھر آزاد کردہ (غلام) مر جائے اور آقا کی اولاد ہے تو ان میں سے کون اس کا وارث ہوگا؟



جواب : آقا کے بیٹے اس کے مستحق ہونگے اسکی بیٹیاں نہیں۔ (٢) کونکہ ولاء والا تٙعصِیب ہے اور عورت کے لیے تٙعصِیب نہیں


 سوال : کیا خواتین کو ولاء عتاقہ حاصل ہوتی ہے؟ 


جواب : جی ہاں! حاصل ہوتی ہے بشرطیکہ وہ (خواتین) آزاد کریں یا وہ آزاد کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا یا وہ مکاتب بنائیں یا وہ مکاتب بنائے جس کو انہوں نے مکاتب بنایا یا مدبر بنائیں یا وہ مدبر بنائے جس کو انہوں نے مدبر بنایا وہ ان خواتین کے آزاد کردہ (غلام) یا ان (خواتین) کے آزاد کردہ (غلام) کے آزاد کردہ (غلام) کی ولاء کھینچ لے.


سوال : آقا مر گیا اور اس نے بیٹا اور دوسرے بیٹے کے بیٹے چھوڑے پھر آزاد کردہ (غلام)مر گیا تو ان میں سے کون اس آزاد کردہ (غلام) کی میراث لے گا؟



جواب : بیٹا اس کا وارث ہوگا بیٹے کے بیٹے نہیں کیونکہ ولاء بڑے یعنی اقرب کے لئے ہے اور صلبی بیٹا بیٹے کے بیٹوں کی بہ نسبت میت کے زیادہ قریب ہے


سوال : ولاء موالات اور اس کے احکام بیان کیجیئے؟

جواب : جب کوئی شخص کسی شخص کے ہاتھ پر مسلمان ہو اور اس سے اس شرط پہ موالات کرے کہ وہ اس کا وارث ہوگا اور اسکی طرف سے تاوان دے گا جب وہ جنایت کرے یا اپنے غیر کے ہاتھ پر مسلمان ہو اور وارث ہونے اور تاوان ادا کرنے پر اس سے موالات کرے تو ولاء صحیح ہے اور اسکا تاوان اس کے آقا کے ذمہ ہے پس اگر وہ مر جائے اور اسکا کوئی وارث نہ ہو تو اسکی میراث آقا کے لئے ہے اور اگر اسکا وارث ہے تو وہ (آقا) کی بہ نسبت زیادہ مقدار ہے.


سوال : وہ شخص کہ ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے موالات کی اور ان میں سے ایک نے چاہا کہ وہ اپنی ولاء سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہوجائے (تو)کیا یہ اسکے لئے جائز ہے؟


جواب : جی ہاں! جائز ہے بشرطیکہ اس نے اس کی طرف سے تاوان نہ دیا ہو پس جب وہ اسکی طرف سے تاوان دے دے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو اس کے غیر کی طرف منتقل کرے.

فائدہ : مولائے عتاقہ کے لئے (جائز) نہیں کہ وہ کسی سے موالات کرے




No comments:

Powered by Blogger.