Surah Baqrah Summary written by me ( pending )
جو کتاب مسلمانوں پہ نازل کی گئی ہے یعنی قرآن
اور جو پہلی کتابیں نازل ہوئیں ان سب پر ایمان اور آخرت پر یقین کے بارے میں احکامات
کافروں کے لیے وعید
اللہ نے انکے ( کافروں ) کے دلوں پہ مہر لگائی انکی آنکھوں پر پردہ ڈالا
اللہ اور اللہ پر ایمان لانے والوں کے کفار کی دھوکہ بازی ( مگر اصل میں کفار خود ہی کو دھوکہ دے رہے تھے )
کہا گیا زمین میں فساد نہ کرو مگر انہوں نے فساد مچایا اور کہا ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔مگر یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ۔
ایمان والوں کے منہ پہ انکے ہیں اور جب اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور اہل ایمان کے ساتھ تو مزاح کر کے آئے ہیں لیکن یہ جانتے نہیں اللہ انہی کا مذاق بنا رہا ہے اور انکی رسي دراز کر رہا ہے ۔
یہ کس سے مزاح کر رہے ہیں اُن سے جنکا رب اللہ ہے پھر دیکھ لو اللہ پاک کیسے انکو بے بس کردیتا ہے کہ بجلی کی گرج اور تیز روشنی میں یہ کچھ دور چلتے ہیں اور پھر وہی اندھیرا ہوجاتا ہے تو رک جاتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ان کی بصارت و سماعت دونوں چھین لیتا بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
جب اللہ نے آدم کو بنایا اور فرشتوں سے کہا کہ " میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
آدم کو چیزوں کے نام سکھائے
درخت کی طرف جانے سی منع کرنا
شیطان کے ورغلانے پہ پھل کا کھانا
اور جنت سے نکال کر دنیا میں بھیجا جانا
آدم علیہ السلام کا اپنے اللہ سے توبہ کے کلمات سیکھنا
اور توبہ اللہ کے ہاں قبول ہونا ۔
بنی اسرائیل کی ناشکری
اللہ کا فرمان کہ میری نعمتوں کا شکر کرو جو میرے ساتھ تمہارا عہد تھا اسکو پورا کرو تو میرا جو عہد تم سے تھا وہ میں پورا کروں گا اور تم مجھ ہی سے ڈرو۔
میری آیات کو کم قیمت پر نہ بیچو میرے غضب سے بچو اور باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مت چھپاؤ
نماز قائم کرنے کا حکم زکوۃ دینے کا حکم
مشکل وقت میں نماز اور صبر سے کام لینے کا حکم
دوسروں کو نیکی کا حکم دینا اور خود عمل نہ کرنا کیسا ہے
آخرت کے بارے میں
اس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا نہ کسی کی سفارش قبول ہوگی نہ فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا
فرعون کا ذکر
یاد کرو جب اللہ نے تم کو فرعونيوں کی غلامی سے نجات دلائی جو تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے
یاد کرو جب اللہ نے سمندر پھاڑ کر راستے بنائے تمہیں بخیریت وہاں سے گزارا اور فرعونیوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے غرقاب کیا
موسیٰ علیہ السلام کا 40 دن کے لیے بلایا جانا
موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد قوم کا بچھڑے کو معبود بنا لینا
من سلویٰ اُتارا جانا اور ان لوگوں کے بڑوں نے ظلم کیا ( لیکن خود پر ہی )
اللہ کا حکم تھا جب بستی میں جانا تو حطۃ حطۃ
کہتے ہوئے جانا کہ اللہ تمہاری خطاؤں کو درگزر فرما دے گا مگر ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کہا
اور آخر اللہ نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی جو وہ کر رہے تھے
موسیٰ علیہ السلام کے عصا مارنے پہ 12 چشمے پھوٹے
ہر قبیلے نے اپنی جگہ سے پانی لیا اور اس وقت ہدایت کی گئی کہ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
بنی اسرائیل کی نافرمانیاں
جب انہوں نے کہا اے موسیٰ ہم ایک ہی کھانے پہ صبر نہیں کرسکتے اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے لیے ساگ ترکاری کھیرا لکڑی گیہوں لہسن پیاز دال وغیرہ بھی پیدا کرے
موسیٰ علیہ السلام کا انکو سمجھانا کہ ایک اعلیٰ چیز کے بدلے تم ادنٰی چیزوں کو ترجیع دے رہے ہو جاؤ کسی عام بست ی سے بھی یہ سب مل جائے گا
اور آخر وہ لوگ پستی و ذلت میں دھنستے گئے اور اللہ کے غضب میں آگئے کیوں کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے تھے اُنکی نافرمانیاں بڑھتی جارہی تھیں اور وہ حدود شرع سے نکل رہے تھے ۔
سورۃ بقرہ میں اس قوم کا ذکر جو بندر بن گئے تھے
آیت نمبر 65
پھر تمہیں اپنی قوم کے ان لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نہ سبت کا قانون توڑا تھا ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہے طرف سے تم پہ دھتکار پھٹکار پڑے ۔
بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم
جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کا حکم پہنچایا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے
تو بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ تم ہم سے مذاق کرتے ہو ؟
اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہے طرح سے تنگ کیا اے موسیٰ اپنے رب سے پوچھو گائے کیسی ہونی چاہیے ۔۔
رنگ کیسا ہو ؟ بہت سارے سوال ایک گائے کے متعلق ۔ صرف موسیٰ علیہ السلام کو تنگ کرنا مقصود تھا مگر وہ اپنے اللہ سے سارے سوالات پوچھتے رہے گائے کے متعلق ۔ اور اپنی قوم کو جواب دیتے رہے اور گائے ذبح کی گئی ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت کے شیاطین جو لوگوں کو جادو اور سحر کا علم دیتے تھے
وہ شیاطین پیچھے پڑے تھے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں ( ہاروت و ماروت ) پر نازل کی گئی تھی
لوگ اُن سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال سکیں ( ظاہر تھا کہ اللہ کے حکم کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے مگر اسکے باوجود ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود انکے لیے نقصان دہ تھی اور اُنہیں معلوم تھا جو اس چیز کا خریدار بنا اسکا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا
کتنی بری متاع تھی جسکے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ۔۔۔ کاش انہیں معلوم ہوتا
( یہودی اور عیسائی ) انکے طریقے پہ نہ چلو ورنہ اللہ کی پکڑ ہوگی
خانہ کعبہ کے بارے میں اللہ پاک کے احکامات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے
اللہ پاک نے کعبہ کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام جہاں کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو اور ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کو تاکید کی تھی کہ میرے گھر کو طواف اور اعتکاف اور رُکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو ۔
اور حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت اسماعیل علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے
"اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے"
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا :
اے میرے رب ! اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اسکے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے
"اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے"
"اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے"
جواب میں اللہ نے فرمایا تھا
اور جو نہ مانے گا دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا مگر آخر کار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے ۔
پھر اللہ پاک فرماتے ہیں :
"اب کون ہے، جو ابراہیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو، اس کے سو ا کون یہ حرکت کرسکتا ہے؟ ابراہیمؑ تو وہ شخص ہے، جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہوگا"
"اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: مسلم ہو جا، تو اس نے فوراً کہا: میں مالک کائنات کا مسلم ہو گیا"
"اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوبؑ اپنی اولاد کو کر گیا اس نے کہا تھا کہ: میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا"
Sight Of Right
No comments: