Tasveer ke bare me Ahkamat
تصویر کی قباحت اور اس کی سخت وعیدیں
تصویر کی مُمانعت،وعیدیں،مروّجہ شکلیں اور اس سے بچنے کا طریقہ کار
ایک بڑا اور سخت گناہ جس کی احادیث ِ کثیرہ میں بڑی سختی کے ساتھ مُمانعت آئی ہے وہ تصویر بنانے،کھینچنے اوررکھنےکا گناہ ہے،جس میں بکثرت ابتلاء نظر آتا ہے،بلکہ اس گناہ کےکثرت سے پھیل جانے اور عام ہوجانے کی وجہ سے اب تو دلوں سے اس کی قباحت و شناعت اور گناہ ہونے کا تصوّر ہی نکلتا جارہا ہے ، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مسلمان اس کے گناہ ہونے کو تسلیم کرنے کیلئے ہی تیار نہیں ، ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں اِس گناہ سے اُن کے باز آنے اور توبہ کرنے کی کیا اُمید کی جاسکتی ہے۔
تصویر کی مُمانعت
حضرت جابرفرماتےہیں:”نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصُّورَةِ فِي البَيْتِ، وَنَهَى عَنْ أَنْ يُصْنَعَ ذَلِكَ“نبی کریمﷺ نے گھر میں تصویر رکھنے اور تصویر بنانے سے منع فرمایا ۔
(ترمذی:1749)
تصویر کے بارے میں قرآن و حدیث کے اندر بڑی سخت اور شدید وعیدیں آئی ہیں جن کی تفصیل ذیل میں ذکر کی جارہی ہے
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:”لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ“نبی کریمﷺاپنے گھر میں کوئی ایسی چیز نہ چھوڑتے تھے جس میں تصویریں ہوں،مگر یہ کہ آپ اُس کو توڑ ڈالتے تھے۔
(بخاری :5952)
اُمّ المؤمنین سیدتناحضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:”قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَعَلَّقْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَنْزِعَهُ فَنَزَعْتُهُ“ نبی کریمﷺایک سفر سے تشریف لائے ، میں نے ایک پردہ لٹکارکھا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ،آپﷺنے مجھے اُس کے اُتاردینے کا حکم دیا تو میں نے اُتاردیا۔
(بخاری :5955)
نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے زمانہ میں حضرت عمر بن الخطاب کو جبکہ وہ بطحاء میں تھے ،اِس بات کا حکم دیا کہ وہ کعبہ مشرفہ میں جائیں اور اس میں جو تصویر ہو اسے مٹا دیں۔ پس حضور اکرم ﷺ جب تک کہ اس میں سے ہر تصویر مٹا نہیں دی گئی اس میں داخل نہیں ہوئے۔
(ابوداؤد:4156)
ایک حدیث میں ہے،نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:”إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ المُصَوِّرُونَ“قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب اُن لوگوں کو ہوگا جو تصویر بنانے(کھینچنے)والے ہیں۔
(بخاری :5950)
ایک اور روایت میں ہے،نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:”أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ“لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت کے دن اُن لوگوں کو ہوگا اللہ تعالیٰ کی خلقت کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہیں (تصویر بناتے ہیں )۔
(بخاری :5954)
حضرت عبد اللہ بن عباس نبی کریمﷺکا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں :”إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا، أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ، أَوْ قَتَلَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ، والْمُصَوِّرُونَ، وَعَالِمٌ لَمْ يَنْتَفِعْ بِعِلْمِهِ“قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب اُس شخص پر ہوگاجو نبی کو قتل کرےیا نبی اُس کو قتل کرے،یا جو والدین میں سے کسی کو بھی قتل کرے،تصویر بنانے والوں کو اور وہ عالم جو اپنے علم سے فائدہ حاصل نہ کرے۔
(شعب الایمان:7504)
ایک اور روایت میں ہے:”أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ، أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا، وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ، وَمُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِينَ“قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب(ایک تو ) اُس شخص کو ہوگا جس کو نبی نے قتل کیا ہو یا اُس نے نبی کو قتل کیا ہو اور(دوسرا وہ شخص جو ) گمراہ کرنے والا پیشوا اور راہنما ہواور(تیسرا وہ شخص) جو تصویر(یامورتی اورمجسمے)بنانے والا ہو ۔
(مسند احمد:3868)
ایک اور روایت میں ہے،نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:”أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَ نَبِيًّا، أَوْ قَتَلَهُ نَبِيُّ، أَوْ رَجُلٌ يُضِلُّ النَّاسَ بِغَيْرِ عَلِمٍ، أَوْ مُصَوِّرٌ يُصَوِّرُ التَّمَاثِيلَ“ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب(ایک تو ) اُس شخص کو ہوگا جس نے نبی کو قتل کیا ہو یا اُس کو نبی نے قتل کیا ہو یا(دوسرا )وہ شخص
ہوگاجو لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کرے گا،یا(تیسرا)وہ مصور ہوگاجو تصویریں(یا مورتیاں)بناتا ہوگا۔
(طبرانی کبیر:10497)
ایک اور روایت میں ہے :”إِنَّ أَشَدَّ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا، أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ، وَإِمَامٌ جَائِرٌ، وَهَؤُلَاءِ الْمُصَوِّرُونَ“بیشک قیامت کے دن جہنمیوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب (ایک تو)اُس شخص کو ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہویا اُس کو نبی نے قتل کیا ہو اور(دوسرا)وہ اِمام جو ظلم کرنے والا ہو اور(تیسرے)یہ تصویر بنانے والے ۔
(طبرانی کبیر:10515)
حضرت ابن عباس نبی کریمﷺکا یہ اِرشادنقل فرماتے ہیں:”مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا-يَعْنِي الرُّوحَ-وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا،وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“جس نے تصویر بنائی اللہ (اسے قیامت کے دن) اس وقت تک عذاب میں مبتلا رکھے گا جبتک اس میں روح نہیں ڈالے گا،اور وہ اس میں کبھی روح نہیں ڈال سکے گا اور جو شخص کسی قوم کی باتیں چھپ کر سنے اور وہ لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس شخص کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔
(ترمذی:1751)
سیدنا حضرت عبد اللہ بن عمرفرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:”إِنَّ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ:أَحْيُوا مَاخَلَقْتُمْ“جو لوگ تصویریں بناتے ہیں قیامت کے دن ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا اس کو (ذرا) زندہ تو کرو۔
(بخاری :5951)
ایک روایت میں ہے: جس نے دنیا میں کوئی (جاندار کی)تصویر بنائی اُسے قیامت کے دن اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونکے ، لیکن وہ کبھی نہیں پھونک سکے گا۔مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ القِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ۔
(بخاری :5959)
حدیثِ قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ اِرشاد فرماتے ہیں :”وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي؟ فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً“اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو میری طرح پیدا کر نا (بنانا)چاہے ، اُسے چاہیے کہ ایک چیونٹی ، ایک دانہ یا جَو تو بناکر دکھائے۔
(مسلم:2111) (بخاری :5953)
حضرت اُسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں کعبہ کے اندرنبی کریمﷺکے پاس داخل ہوا،آپﷺنے کچھ تصویریں دیکھیں توپانی کا ایک ڈول منگایا،میں پانی لیکر آیا تو آپﷺنےخوداُن تصویروں کو مٹانا شروع کردیا اور آپ یہ کہہ رہے تھے:”قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا يُصَوِّرُونَ مَا لَا يَخْلُقُونَ“اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو مارے جو ایسی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جووہ پیدا نہیں کرسکتے۔
(مسند ابوداؤد طیالسی:657)
حضرت ابوجحیفہ فرماتے ہیں :”إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الكَلْبِ، وَكَسْبِ البَغِيِّ، وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَالوَاشِمَةَ وَالمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُصَوِّرَ“نبی کریمﷺنےخون ، کتا اورزانیہ کی اُجرت وکمائی سے
منع فرمایا اور سود کھانے والے پر ، کِھلانے والے پر ، جسم گود نے والی عورتوں پر (جو جسم گود کر اس میں رنگ بھرتی ہیں )اور اُن عورتوں پر جو یہ کام کرواتی ہیں اور تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی۔
(بخاری :5962)
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ اُنہوں نے ایک تکیہ خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ،پس نبی کریمﷺ(گھر میں داخل ہوتے ہوئے )دروازے پررُک گئے اور داخل نہیں ہوئے ،میں نے کہا:”أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِمَّا أَذْنَبْتُ“ میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی توبہ کرتی ہوں(مجھ سے کیا خطاء سرزد ہوگئی ہے؟)آپ ﷺنے اِرشاد فرمایا:”مَا هَذِهِ النُّمْرُقَةُ“یہ (تصویروں والا)تکیہ کیوں رکھا ہے؟ میں نے کہا :”لِتَجْلِسَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا“تاکہ آپ اِس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں، آپﷺنے اِرشاد فرمایا:”إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ:أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ، وَإِنَّ المَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ“بیشک قیامت کے دن اِن تصویروں(کے بنانے) والے لوگ عذاب دیے جائیں گے اور اُن سے کہا جائے گا :جو تم لوگوں نے تخلیق کیا ہے اُن کو زندہ کرو،اور بیشک فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔
(بخاری :5957)
نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:”لَاتَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ تَصَاوِيرُ“ فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں۔
بخاری :5949
ایک اور روایت میں ہے،نبی کریمﷺ کا اِرشاد ہے
”لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ“
ملائکہ (رحمت) اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر،کتا یا جنبی ہو
(ابوداؤد : 4152)
ایک اور روایت میں ہے:فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا کوئی تصویرہو
لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا تِمْثَالٌ
(ابوداؤد:4153)
نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا: بیشک جبرائیل نے مجھ سے وعدہ فرمایاتھا کہ آج کی رات مجھ سے ملاقات کریں گے لیکن انہوں نے مجھ سے ملاقات نہیں کی۔ پھر حضور اکرم ﷺ کے دل میں خیال آیا کہ ہمارے بستر کے نیچے ایک کتے کا پلا ہے آپﷺ نے فوراً اُسے نکالنے حکم دیا چنانچہ اسے نکالا گیا پھر آپ نے اپنے دست مبارک پر پانی لیا اور پلے کی جگہ پر چھڑک دیا۔جب حضرت جبرائیل نے حضور اکرم ﷺ سے ملاقات فرمائی تو کہا
”إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ“
ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور نہ تصویر والے گھر میں۔اگلے دن صبح کو حضور اکرمﷺنے کتوں کے قتل کا حکم دے دیا یہاں تک کہ چھوٹے کھیت کی حفاظت کے لیے کتے کو بھی مار نے کا حکم دیدیا البتہ بڑے کھیت کی حفاظت والے کتے کو چھوڑ دینے کا حکم دیا۔
(ابوداؤد : 4157)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ گزشتہ رات آپ کے پاس آیا تھا پس میں اِس لئے داخل نہیں ہوا کیونکہ دروازہ پر مورتیاں بنی تھیں اور گھر میں تصویروں سے منقش پردہ کا کپڑا تھا۔ اور گھر میں کتا بھی تھا ۔لہٰذاآپ گھر میں موجود تصاویر کے تو سر کاٹنے کا حکم دیدیجیے تو وہ درخت کی طرح(بے جان) ہو جائیں گے اور پردہ کے بارے میں حکم دیں کہ اسے کاٹ دیا جائے پس اس میں بیٹھنے کے لئےدو مَسندیں (بیٹھنے کی گدیاں)بنا لی جائیں جو روندی جائیں گی(تو اس سے تصویر کی تعظیم کا معنی باقی نہیں رہے گا) اور کتے کو باہر نکالنے کا حکم دیدیجئے،حضور اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ وہ کتا حضرت حسن یا حضرت حسین کا تھا جو ان کے پلنگ کے نیچے تھا پس اس کے بارے میں حکم دیا گیا تو اسے نکال دیا گیا
(ابوداؤد : 4158)
نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:قیامت کے دن دوزخ میں سے ایک گردن نکلے گی ،اُس میں دیکھنے والی دو آنکھیں ہوں گی، سننے والے دو کان ہوں گے اور بولنے والی ایک زبان ہوگی ۔وہ گردن کہے گی:”إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ، بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَبِالمُصَوِّرِينَ“میں تین طرح کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہوں: (پہلا)ہر متکبراور ضدی انسان پر ، (دوسرا)ہر اُس شخص پر جس نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارا ہواور(تیسرا)تصویر بنانے والوں پر۔(ترمذی:2574)
حضرت عبد اللہ بن عباس نبی کریمﷺکا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں
”كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ، يَجْعَلُ لَهُ، بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا، نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ“
ہر تصویر بنانے والے کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے میں ایک شخص پیدا کیا جائے گا جو تصویر بنانے والے کو دوزخ میں عذاب دیتا رہے گا۔
اُس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا
اِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ
اگر تمہیں تصویرضرور ہی بنانی ہو تو درختوں کی اور غیر جاندار کی تصویر بنالو
(مسلم:2110)
ایک روایت میں ہے،نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے
”إِنَّ اللهَ يُعَذِّبُ الْمُصَوِّرِيْنَ بِمَا صَوَّرُوا“
بیشک اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں کو اُن کی بنائی ہوئی تصویروں سے عذاب دیں گے۔
(کنز العمال:9637)
ڈرائنگ سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے تصویر بنانا۔
شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں یاد گار لمحات کو محفوظ کرنے کے نام پر تصویری البم اور موویز بنانا اور اُنہیں ہمیشہ کیلئے محفوظ رکھنا ۔
ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعہ جگہ جگہ تصاویر کھینچنا۔
ویڈیو بنانا۔
انٹرنیٹ سے تصاویر اورمختلف کلپس کو ڈاؤنلوڈ کرکے اُسے موبائل میں رکھنا ، دیکھنا،دکھانااور دوسروں کو بھیجنا۔
بچوں کیلئے مختلف تصویروں والے کھلونے(toys)خریدنا،رکھنا اور بچوں کو دینا۔
مرحومین کی تصاویر کو فریم کرواکر گھروں میں یاد گار کے طور پرآویزاں کرنا ۔
مختلف بزرگانِ دین اور باباؤں کی فرضی یا اصلی تصاویر کو فریم کرواکر گھروں یا دوکانوں میں لٹکانا۔
حاملہ عورتوں کیلئے گھر میں خوبصورت بچوں کی تصاویر کو چسپاں کرنا ۔
زینت اور خوبصورتی کیلئے گھروں یا دوکانوں میں تصاویر آویزاں کرنا
کاروباری اور تجارتی مقاصد کیلئے مختلف جاندار چیزوں کی تصاویر کو لگانا اور اِستعمال کرنا۔
کھانے ،پینے،پہننے، اوڑھنے ،بچھونے اور برتنے کی مختلف چیزوں پر تصویریں چھاپنا ۔
اخبارات، جرائد،رسائل،میگزین، ڈائجسٹ اور بچوں یا بڑوں کی مختلف کتب میں تصاویر چھاپنا ۔
مختلف چیزوں، مقامات،جانور اور اِنسانوں کے ساتھ اپنی موجود گی کو ثابت کرنے اور دکھانے کیلئے سیلفیاں لینا
ٹی وی رکھنا اور اُن کے پروگرام دیکھنا ، اگرچہ کرکٹ، خبریں اور دینی و اِسلامی پروگرام ہی کیوں نہ ہوں۔
تصویروں والے کپڑے،چادر، جوتے،گھڑی یا اور کوئی چیز پہننا ۔
جسم پر مختلف شکلوں اور تصاویر کے ٹیٹو بنوانا۔
اِنعام وغیرہ میں ملنے والی ٹرافیاں جن میں بسا اوقات تصویریں بنی ہوتی ہیں،اُن کا گھروں میں رکھنا ۔
مختلف اقسام کے بنے ہوئے یا تراشے ہوئے مجسمے خواہ وہ اِنسانوں کے ہوں یا جانوروں کے،اُن کا گھروں میں شوکیس وغیرہ میں سجاکر اور نمایاں کرکے رکھنا ۔
کھانے ،پینے،پہننے، اوڑھنے ،بچھونے اور برتنے کی مختلف چیزوں پر تصویریں چھاپنا ۔
اخبارات، جرائد،رسائل،میگزین، ڈائجسٹ اور بچوں یا بڑوں کی مختلف کتب میں تصاویر چھاپنا ۔
مختلف چیزوں، مقامات،جانور اور اِنسانوں کے ساتھ اپنی موجود گی کو ثابت کرنے اور دکھانے کیلئے سیلفیاں لینا
ٹی وی رکھنا اور اُن کے پروگرام دیکھنا ، اگرچہ کرکٹ، خبریں اور دینی و اِسلامی پروگرام ہی کیوں نہ ہوں۔
تصویروں والے کپڑے،چادر، جوتے،گھڑی یا اور کوئی چیز پہننا ۔
جسم پر مختلف شکلوں اور تصاویر کے ٹیٹو بنوانا۔
اِنعام وغیرہ میں ملنے والی ٹرافیاں جن میں بسا اوقات تصویریں بنی ہوتی ہیں،اُن کا گھروں میں رکھنا ۔
مختلف اقسام کے بنے ہوئے یا تراشے ہوئے مجسمے خواہ وہ اِنسانوں کے ہوں یا جانوروں کے،اُن کا گھروں میں شوکیس وغیرہ میں سجاکر اور نمایاں کرکے رکھنا ۔
تصویر کے گناہ کے دو درجہ ہیں : (1) شرک (2) گناہِ کبیرہ۔
پہلے درجہ سے مراد یہ ہے کہ مجسمہ ،مورتی یا تصویر کی پوجا اور پرستش کی جائے جیسے: ہندوؤں کے یہاں ہوتا ہے ،وہ مورتیوں اور مجسموں کی پرستش کرتے ہیں اور اُن کے سامنے اپنے سر کو جھکارہے ہوتے ہیں ،یہ واضح اور صریح شرک ہے، جس کا کرنے والا مشرک ہے۔مسلمانوں میں بھی اِس نوعیت کی ایک بڑی خطرناک شکل پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ بزرگانِ دین اور باباؤں کی فرضی یا حقیقی تصویروں کو فریم کرکے لٹکایاجاتا ہے اور اُس کی عزّت و تکریم کی جاتی ہے ،خوشبوؤں میں معطر کرکےرکھا جاتا ہےچڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں ،العیاذ باللہ ! یاد رکھئے یہ سب ایمان کو ضائع کردینے والے اُمور ہیں جن سے اگر اجتناب نہ کیا جائے تو آخرت کی ہمیشہ کی زندگی جہنم بن سکتی ہے ۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔آمین
تصویر کے گناہ ہونے کی دو صورتیں ہیں : (1) تصویر سازی۔ (2) تصویراستعمال کرنا۔
تصویر سازی تصویر بنانے کو کہتے ہیں جس میں تصویر کا بنانا،تصویر کا کھینچنا اور تصویر کا چھاپنا اور شائع کرنا سب داخل ہیں ، اور اِس کی قباحت و شناعت اور وعید دوسرے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور شدید ہے ،کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ خالقیت کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے اور حدیث کے مطابق ایسے شخص کو قیامت کے دن اُس تصویر میں روح پھونکنےاور جان ڈالنے کیلئے کہا جائے گا ،جو ظاہر ہے کہ وہ ہر گز نہیں ڈال سکتا ،
تصویر سازی تصویر بنانے کو کہتے ہیں جس میں تصویر کا بنانا،تصویر کا کھینچنا اور تصویر کا چھاپنا اور شائع کرنا سب داخل ہیں ، اور اِس کی قباحت و شناعت اور وعید دوسرے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور شدید ہے ،کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ خالقیت کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے اور حدیث کے مطابق ایسے شخص کو قیامت کے دن اُس تصویر میں روح پھونکنےاور جان ڈالنے کیلئے کہا جائے گا ،جو ظاہر ہے کہ وہ ہر گز نہیں ڈال سکتا ،
پس اُسے اسی تصویر کے ذریعہ عذاب دیا جائے گا ،جیساکہ ماقبل اِس سلسلے کی احادیث گزرچکی ہیں ۔
دوسری صورت تصویر رکھنا ہے،اور اس میں تصویر کو رکھنا،دیکھنا،پہننا،محفوظ کرنا، لٹکانا،آویزاں کرنا ،اور اُسے استعمال کرنا سب داخل ہیں ۔اور یہ صورتیں بھی سب گناہ ہی کے زمرے میں داخل ہیں البتہ اس کا گناہ پہلے درجے یعنی تصویر سازی کے مقابلے میں کچھ کم ہے،لیکن اِس میں بھی رحمت کے فرشتے نہیں آتےاور اِنسان رحمتِ الٰہی سے محروم اور تہی دست رہ جاتا ہے ۔اِس لئے بہر حال تصویر کا کوئی بھی درجہ ہو اِنسان کو بہر صورت اس سے بچنا چاہیئے اور ایسی کوئی بھی صورت اختیار نہیں کرنی چاہئے جو اُس کیلئے دنیا و آخرت میں پریشان کُن ثابت ہو ۔
دوسری صورت تصویر رکھنا ہے،اور اس میں تصویر کو رکھنا،دیکھنا،پہننا،محفوظ کرنا، لٹکانا،آویزاں کرنا ،اور اُسے استعمال کرنا سب داخل ہیں ۔اور یہ صورتیں بھی سب گناہ ہی کے زمرے میں داخل ہیں البتہ اس کا گناہ پہلے درجے یعنی تصویر سازی کے مقابلے میں کچھ کم ہے،لیکن اِس میں بھی رحمت کے فرشتے نہیں آتےاور اِنسان رحمتِ الٰہی سے محروم اور تہی دست رہ جاتا ہے ۔اِس لئے بہر حال تصویر کا کوئی بھی درجہ ہو اِنسان کو بہر صورت اس سے بچنا چاہیئے اور ایسی کوئی بھی صورت اختیار نہیں کرنی چاہئے جو اُس کیلئے دنیا و آخرت میں پریشان کُن ثابت ہو ۔
اللہ تعالیٰ سے صدقِ دل کے ساتھ دعاء مانگنا۔
ہمت اور طاقت سے کام لینا اوراپنی تمام تر کوشش کو بروئے کار لانا
ہمت اور طاقت سے کام لینا اوراپنی تمام تر کوشش کو بروئے کار لانا
نیک اور صالح بندوں کی صحبت۔
تصاویر کے بارے میں وارد ہونے والی وعیدوں کا علم اورا ستحضار
تصاویر کے بارے میں وارد ہونے والی وعیدوں کا علم اورا ستحضار
تصویر کے ماحول اور اَسباب سے گریز کرنا
کسی بھی چیز کوخریدتے ہوئے حتی الامکان اِس بات کا اہتمام کریں کہ وہ تصویر سے پاک ہو،جیسےبچوں کیلئے کپڑے یا کھلونےمیں عموماً تصویر بنی ہوتی ہے،ایسی چیزوں کو خریدنا کوئی ضروری تو نہیں اُس کے بغیر بھی تو مارکیٹ میں چیزیں مل سکتی ہیں ۔
اگر کوئی تصویر پر مشتمل چیز کا خریدنا ضروری ہی ہوتو اُس کی تصویر کے چہرے کو موٹے مارکر وغیرہ سے بگاڑ دیں تو وہ چیز تصویر کے حکم سے نکل جائے گی ۔ گھروں میں اِس مقصد کیلئے موٹا مارکر رکھا جاسکتا ہےکہ جو بھی بازار سے سودا سلف مثلاً : صابن، سرف وغیرہ آئے تو اُسے تھیلی سے نکالنے سے
پہلےہی تصویر مٹادیں تاکہ گھروں میں تصویر رکھنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے
تصویر اور دیگرکئی مفاسد و نقصانات کا مجموعہ”ٹی وی“کو اپنے گھر سے نکال دیں ،یہ آپ کے اور آپ کے بچوں کیلئے زہرِ قاتل ہےجو سیدھے سادے سچے مسلمان کو طاغوتی فتنوں کا شکار کرکےاُنہیں اِسلام ہی سے برگشتہ کرنے کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے ، کتنی تیزی سے اِنسان کی ذہنیت تبدیل ہوتی ہے اور اِنسان کے سوچنے،اور بولنے کا اَنداز تبدیل ہوجاتا ہے،اِس کا اَندازہ وہ لوگ بہت اچھی طرح کرسکتے ہیں،جنہوں نے کچھ عرصہ اِس نحوست کا شکار رہنے کے بعد ٹی وی کو اپنے گھروں سے نکال دیا ہو تو وہ بہت واضح فرق اور تبدیلی اپنے اور اپنے گھروالوں کے اندر کرتے ہیں
ٹی وی کے غلط پروگرام تو غلط ہی ہیں ،اُس کے دینی و اِسلامی پروگرام بھی ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر اِسلام کی اصل شکل کو ہرگز نہیں سمجھا جاسکتا ،اِنسان دین کے فہم ، اِسلام کی حقیقت اور شریعت کے اصل مزاج و مسلک سے نابلد رہ جاتا ہے اور دینی شوق رکھنے کے باوجود اُس کی کوئی دینی تربیت نہیں ہوپاتی ،نتیجہ یہ کہ وہ ایک ”لبرل اِسلام“کا حامی و گرویدہ ہوجاتا ہے ،اُسے ڈاڑھی ٹوپی اور پردہ والا اِسلام نہیں بلکہ پینٹ شرٹ ،کوٹ پتلون اور بے حجابی والا اِسلام اچھا لگنے لگتا ہے،شرم و حیاء اور عفت و پاکدامنی والا اِسلام نہیں بلکہ مرد و زن کے باہمی اختلاط اور ایک دوسرے سے بےمُحابہ
گفتگو کرنے والا اِسلام پسند آجاتا ہے،وہ اِسلام کو ایک دائمی و ہمہ گیر مذہب سمجھنے کے بجائے ایک وقتی اور عارضی موسم کی حیثیت سے دیکھنے لگ جاتا ہے،اُس کے نزدیک اِسلام کا تعلّق صرف رمضان ،ربیع الاول،محرم اور چند گنے چنے ایّام اور مواقع سے ہی رہ جاتا ہے
موبائل سے بچوں یا گھر والوں کی تصویر کھینچنے سے گریز کریں،عموماًیہ شوق بڑھتے بڑھتے اِنسان کو حدودِ شرع سے نکال دیتا ہے اور اِنسان کے دل سے تصویر کی قباحت اور بُرائی نکلتی جاتی ہے،جو یقیناً ہمارے مُعاشرے کا ایک خطرناک فتنہ ہے۔
اخبارات کے اندرتصویروں کی بھرمار ہوتی ہے بلکہ بعض اخبارات میں شوبز اور
تفریح کے نام پر ایسی تصاویر شائع کی جاتی ہیں جن سے مُعاشرے میں فحاشی اور عُریانی فروغ پاتی ہے
،دنیا کی رنگینی ،نت نئے ملبوسات کی حرص اور پیسہ و مال کی دوڑ میں لگنے کا داعیہ و جذبہ بیدار ہوتا ہے۔تصاویر سے پاک اخبار مثلا”اِسلام اخبار“، ”بچوں کا اِسلام“ اور ”خواتین کا اِسلام“ وغیرہ لگوائیں جن میں تصاویر سے حفاظت بھی رہے گی اور گھروالوں کی دینی تربیت بھی ہوسکے گی۔ اور اگر کوئی تصویروں والا اخبار لگوانا ہی ضروری ہو تو ہرگز ایسے اخبار نہ لگوائیں جو فحاشی و عُریانی کو فروغ دیتے ہیں اور جن کے اندرگھروالوں کی منفی اور غلط تربیت ہوتی ہے
عموماً لوگ شادی بیاہ اور دیگر خوشی کی تقریبات یا تفریح اور پکنک کے مقامات میں
”زندگی کے یاد گار لمحات“ کو محفوظ رکھنے کے نام پر تصویر سازی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھر اُنہیں البم وغیرہ کی صورت میں ہمیشہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں ، اور یہ تصویریں گھروں میں رکھ کر رحمت کے فرشتوں سے محروم ہونے کا سامان کیا جاتا ہے
”زندگی کے یاد گار لمحات“ کو محفوظ رکھنے کے نام پر تصویر سازی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھر اُنہیں البم وغیرہ کی صورت میں ہمیشہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں ، اور یہ تصویریں گھروں میں رکھ کر رحمت کے فرشتوں سے محروم ہونے کا سامان کیا جاتا ہے
یاد رکھئے ! اللہ کو ناراض کرکے اِنسان جن لمحات کو ”یاد گار لمحات“کہہ رہا ہوتا ہے وہ یاد گار نہیں ”غضبناک لمحات“ ہوتے ہیں کیونکہ اِس طرح شادی بیاہ کے مواقع پر بننے والی موویز اور ویڈیوز اللہ تعالیٰ کی کھلم کھلی نافرمانی اور نبی کریمﷺکی اِطاعت سے اِنحراف کی شکلیں ہیں جن سے اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے،انہیں ہرگز”یاد گار لمحات “نہیں کہا جاسکتا۔لہٰذا اِس عمومی دھوکہ سے سے خود بھی بچیئے اور دوسروں کو بھی آگاہ کیجئے تاکہ ہمارے گھروں سے رحمتِ خداوندی سے محرومی کی اِس شکل کا خاتمہ ہوسکے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تصویر کے بارے میں جو احادیث میں وعیدیں ذکر کی گئی ہیں اُن کا تعلّق تصویر سازی سے ہے ،تصویر رکھنےسے نہیں ،حالآنکہ یہ غلط ہے ، کیونکہ جس طرح تصویر بنانا گناہ ہے اسی طرح تصویر کا رکھنا اور اُسے اِستعمال کرنا بھی گناہ ہے،چنانچہ حدیث میں ہے، حضرت جابر فرماتےہیں:نبی کریمﷺنے گھر میں تصویر رکھنے اور تصویر بنانے سے منع فرمایا
(ترمذی:1749)
ایک روایت میں ہے، نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے
”لَاتَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ تَصَاوِيرُ“
فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں
(بخاری :5949)
اِس سے معلوم ہواکہ تصویر صرف بنانا ہی نہیں بلکہ اُس کا رکھنا اور استعمال کرنا بھی گناہ میں داخل ہے اور فرشتوں کی رکاوٹ کا باعث بنتا ہے ۔
بعض لوگ تصویر کو صرف سایہ دار تصویر یعنی مورتیوں اور مجسموں کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ احادیث میں ذکر کردہ وعیدوں کا تعلّق صرف اُنہی
بعض لوگ تصویر کو صرف سایہ دار تصویر یعنی مورتیوں اور مجسموں کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ احادیث میں ذکر کردہ وعیدوں کا تعلّق صرف اُنہی
کے ساتھ خاص ہے،حالآنکہ یہ غلط ہے ،کیونکہ احادیث میں منقوش تصاویر کو بھی ممنوع تصویر ہی کہا گیا ہے، کئی احادیث کے اندر اِس کی صراحت اور وضاحت ہے جس کو ماقبل میں وعیدوں کے اندر ذکر کردہ احادیث کے اندر دیکھا جاسکتا ہے ۔
بعض لوگ ساکت و بے حرکت تصاویر کو تصویر کہتے ہیں اور حرکت کرتی تصاویر کو تصویر کے زمرے میں داخل نہیں مانتے ،اِسی طرح ڈیجیٹل کیمرے کی تصویر کو تصویر نہیں سمجھتے ،اُن کے نزدیک کمپیوٹر ،موبائل وغیرہ کی تصاویر ”تصویر کی ماہیت و حقیقت “میں داخل نہیں ،حالآنکہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یوں کہا جائے :”موبائل کی تصویرتصویر نہیں“ ،ایک طرف اُسے تصویر بھی کہاجائے اور دوسری جانب اُس کے تصویر ہونے کی نفی بھی کی جائے ۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اِس زمانے میں تصویر سے بچنا ممکن نہیں لہٰذا ایک ناممکن کام پر بھلا کیسے عمل کیا جاسکتا ہے ، یہ اُن کی غلط فہمی ہے ،کیونکہ شریعت کا ہر حکم قیامت تک کیلئے ہے ،یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک چیز کا حکم دیں لیکن اُس پر عمل کرنا ممکن نہ ہو ، اِس سے تو
”تَکلیف مَالَایُطَاق“
(یعنی ایسے حکم کا مکلف بنانا جس کی طاقت نہ ہو )
لازم آئے گا جو ظلم کہلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظلم سے پاک ہیں ۔
ڈیجیٹل کیمرے کی تصاویر کو تصویر کی ماہیت میں داخل کہا جائے یا نہیں اور وہ حقیقت میں تصویر ہیں یا نہیں ، اِس بحث میں پڑے بغیر اِنتہائی ادب کے ساتھ یہ ذکر کردینا ضروری ہے کہ ایسی تصاویر بھی جائز نہیں اور ترقی یافتہ اِس دَور میں تصویر کی کی اِس جدید شکل سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے ،اور اِس کی مندرجہ ذیل چند وجوہات ہیں
ڈیجیٹل کیمرے کی تصاویر کو بھی عرف اور استعمال میں ”تصویر“ ہی کہا اور سمجھا جاتا ہے ،کوئی شخص اُن کو تصویر کے علاوہ کوئی اور نام دینے کیلئے تیار نہیں ۔
موجودہ زمانہ میں ڈیجیٹل کیمرے کی تصاویر کےجواز کے فتویٰ کو صحیح طرح سے نہ سمجھنے کی وجہ سے اس فتویٰ کا بہت زیادہ غلط استعمال ہورہا ہے ،تصویر کے جواز کی آڑ میں بات کہاں سے کہاں پہنچتی جارہی ہے،ڈرامے،فلمیں ،گانے،نامحرم کی تصاویر اور اُن پر مشتمل پروگرام اور کلپس لوگوں کے موبائلوں میں بھرے ہوئے ہیں ،فیس بک،ٹوئٹر، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کے ذرائع سب نامحرموں کی تصاویر اور اُن کی ویڈیوز کا میدان بنے ہوئے ہیں،نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے جائز تعلّقات و روابط کی راہیں کھل رہی ہیں اور ایک خلقِ کثیر حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے فرق کے بغیرایسی گندگیاں دیکھ رہی اورپھیلارہی ہے،مُعاشرہ میں فحاشی و عُریانی کو بہت تیزی سے فروغ مل رہا ہے اور ستم یہ ہے کہ یہ سب ”ڈیجیٹل کیمرے کی تصاویر کی حلّت“ کے فتویٰ کی آڑ میں کیا جارہا ہے ،ایسے میں خاموش تماشائی بنے رہنا بندہ ناچیز کے ناقص علم اور ذرّہِ بے مقدار سمجھ کے مطابق درست نہیں ،لہٰذا اسے ناجائز ہی سمجھنا، کہنا اور بتانا چاہیئے تاکہ بدتمیزی اور بدتہذیبی کے اِس سیلاب کے آگے بند باندھے جاسکیں اور کچھ نہ ہو تو کم ازکم اس کو گناہ اور ناجائز تو سمجھا جائے تاکہ اس کی قباحت اور شناعت تو دلوں میں باقی رہے ،کیونکہ اس کی برکت سے جلد یا بدیر توبہ کی توفیق کی اُمید قائم رہتی ہے ۔
ڈیجیٹل کیمرے کی تصاویر کے بارے میں موجودہ زمانے کے محقق علماء کرام کی دو رائے ہیں ،گویا یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ،ایسے میں خود شریعت ہی کا یہ حکم ہے کہ
اِنسان کو احتیاط اور غیر مشکوک صورت پر عمل کرنا چاہیئے تاکہ خلافِ شرع سے یقینی اجتناب کیا جاسکے۔
ذیل میں اِس سلسلے کی چند روایات ملاحظہ فرمائیں
نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے
”إِذَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ“
جب تمہارے دل میں کوئی چیز کھٹکے تو اُسے چھوڑ دو
(مسند احمد:22166)
ایک روایت میں ہے،نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے
”تَدَعُ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمَفْتُونَ“
ایسی چیز کو ترک کردو جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو اور وہ چیز اختیار کرو جو تمہیں شک میں مبتلاء نہ کرے، اگرچہ تمہیں مفتی (جواز کا)فتویٰ ہی کیوں نہ دیں۔
(طبرانی کبیر:22/78)
ایک صحابی نے سوال کیا : فَمَنِ الْوَرَعِ؟
یا رسول اللہ! متقی و پرہیز گار کون شخص ہے؟
آپﷺنے اِرشاد فرمایا
”الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ“
وہ شخص جو شبہ کے وقت (عمل کرنے سے)رُک جائے
(طبرانی کبیر:22/78)
ایک روایت میں ہے،نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، أَمِنَ الْحَلَالِ هِيَ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ، فَمَنْ تَرَكَهَا اسْتِبْرَاءً لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، فَقَدْ سَلِمَ، وَمَنْ وَاقَعَ شَيْئًا مِنْهَا يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ، كَمَا أَنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور اس کے درمیان بہت سی چیزیں شبہ والی ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ یہ حلال کے قبیل سے ہیں یا حرام کے۔ تو جس نے اپنے دین کو پاک کرنے اور اپنی عزت بچانے کے لیے انہیں چھوڑے رکھا تو وہ مامون رہا اور جو ان میں سے کسی میں پڑ گیا یعنی انہیں اختیار کر لیا تو قریب ہے کہ وہ حرام میں مبتلا ہو جائے، جیسے وہ شخص جو سرکاری چراگاہ کے قریب ( اپنا جانور ) چرا رہا ہو، قریب ہے کہ وہ اس میں واقع ہو جائے، جان لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں“۔ دوسری سند سے مؤلف نے شعبی سے اور انہوں نے نے نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے اسی طرح کی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اسے کئی رواۃ نے شعبی سے اور شعبی نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے۔
An-Numan bin Bashir narrated that the Messenger of Allah said
The lawful is clear and the unlawful is clear, and between that are matters that are doubtful (not clear); many of the people do not know whether it is lawful or unlawful. So whoever leaves it to protect his religion and his honor, then he will be safe, and whoever falls into something from them, then he soon will have fallen into the unlawful. Just like if someone grazes (his animals) around a sanctuary, he would soon wind up in it. Indeed for every king is a sanctuary (pasture), and indeed Allah's sanctuary is what He made unlawful.
”حِمیٰ“(کسی حاکم وغیرہ کے جانوروں کیلئے مخصوص کردہ جگہ)کے گرد جانور چَراتا ہےوہ قریب ہے کہ ”حِمیٰ“ میں واقع ہوجائے، یاد رکھو! ہر
بادشاہ کی ”حمیٰ“ ہوتی ہے ،یاد رکھو اللہ کی ”حِمیٰ“ اُس کے حرام کردہ احکام ہیں،(پس اُن کے قریب بھی نہیں جانا چاہیئے )۔
(ترمذی:1205)
Sight Of Right
No comments: