Unit 1 / Tirmizi / Book on Purification / Hadith 1 - 148

 

Unit 1

Hadith 1 - 148

کتاب طہارت


باب ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور

 حدیث 1


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ ح و حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ قَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ إِلَّا بِطُهُورٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَأَبُو الْمَلِيحِ بْنُ أُسَامَةَ اسْمُهُ عَامِرٌ وَيُقَالُ زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ


ترجمہ

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نماز بغیر وضو کے قبول نہیں کی جاتی  اور نہ صدقہ حرام مال سے قبول کیا جاتا ہے ۔ 

امام ترمذی کہتے ہیں 

 اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے 

  اس باب میں ابوالملیح کے والد اسامہ، ابوہریرہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ 


وضاحت 

 طہارت کا لفظ عام ہے وضو اور غسل دونوں کو شامل ہے ، یعنی نماز کے لیے حدث اکبر اور اصغر دونوں سے پاکی ضروری ہے ، نیز یہ بھی واضح ہے کہ دونوں حدثوں سے پاکی ( معنوی پاکی ) کے ساتھ ساتھ حسّی پاکی ( مکان ، بدن اور کپڑا کی پاکی ) بھی ضروری ہے ، نیز دیگر شرائط نماز بھی ، جیسے رو بقبلہ ہونا ، یہ نہیں کہ صرف حدث اصغر و اکبر سے پاکی کے بعد مذکورہ شرائط کے پورے کئے بغیر صلاۃ ہوجائے گی۔

 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کی صحت کے لیے وضو شرط ہے خواہ نفل ہو یا فرض ، یا نماز جنازہ۔  یہ حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور حسن ہے اس عبارت سے حدیث کی صحت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اس باب میں یہ روایت سب سے بہتر ہے خواہ اس میں ضعف ہی کیوں نہ ہو ، یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے اس باب میں سب سے صحیح حدیث ابوہریرہ (رض) کی ہے جو صحیحین میں ہے 


Translation

Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) said, "No Salah is accepted without purification and no Sadaqah is accepted from the proceeds, of treacherous dealing." Hannad, in his version has used the word ‘illa’ (except) instead of ’bighair’ (without).


باب ما جاء في فضل الطهور


 حدیث 2

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ کُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ أَوْ نَحْوَ هَذَا وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ کُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ حَتَّی يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِکٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ وَاسْمُهُ ذَکْوَانُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ فَقَالُوا عَبْدُ شَمْسٍ وَقَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَهَکَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ وَهُوَ الْأَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَثَوْبَانَ وَالصُّنَابِحِيِّ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ وَسَلْمَانَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَی عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ وَيُکْنَی أَبَا عَبْدِ اللَّهِ رَحَلَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ وَقَدْ رَوَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ الْأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي مُکَاثِرٌ بِکُمْ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي

 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں 

 ، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے 

  امام ترمذی کہتے ہیں 

 یہ حدیث حسن صحیح ہے - اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ ﷺ سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا ۔


وضاحت  

گناہ جھڑ جاتے ہیں کا مطلب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ، اور گناہ سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ خالص توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔

 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وضو جسمانی نظافت کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت کا بھی ذریعہ ہے۔

 بظاہر یہ ایک مشکل عبارت ہے کیونکہ اصطلاحی طور پر حسن کا مرتبہ صحیح سے کم ہے ، تو اس فرق کے باوجود ان دونوں کو ایک ہی جگہ میں کیسے جمع کیا جاسکتا ہے ؟ اس سلسلہ میں مختلف جوابات دیئے گئے ہیں ، سب سے عمدہ توجیہ حافظ ابن حجر نے کی ہے ( الف ) اگر حدیث کی دو یا دو سے زائد سندیں ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ حدیث ایک سند کے لحاظ سے حسن اور دوسری سند کے لحاظ سے صحیح ہے ، اور اگر حدیث کی ایک ہی سند ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک طبقہ کے یہاں یہ حدیث حسن ہے اور دوسرے کے یہاں صحیح ہے ، یعنی محدث کے طرف سے اس حدیث کے بارے میں شک کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ حسن ہے یا صحیح۔

 

Translation

Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ Muhammad (Peace be upon him) said, "When a Muslim slave", or, "a Believer washes his face while performing ablution then, with the water, or the last drop of water, all his sins committed with his eyes are washed away. When he washes his hands then all sins commited with them are washed away with water or the last drop of water, till he comes out pure from sins."


 باب ما جاء مفتاح الصلاة الطهور


 حدیث 3

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّکْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ هُوَ صَدُوقٌ وَقَدْ تَکَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ کَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ مُحَمَّدٌ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ


ترجمہ

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں 

امام ترمذی کہتے ہیں  

اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے، عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں   ؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی : عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ہیں، اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ 


وضاحت 

 یعنی اللہ اکبر ہی کہہ کر نماز میں داخل ہونے سے وہ سارے کام حرام ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے نماز میں حرام کیا ہے ، «اللہ اکبر» کہہ کر نماز میں داخل ہونا نبی اکرم ﷺ کا دائمی عمل تھا ، اس لیے کسی دوسرے عربی لفظ یا عجمی لفظ سے نماز کی ابتداء صحیح نہیں ہے یعنی صرف «السلام علیکم ورحمة اللہ» ہی کے ذریعہ نماز سے نکلا جاسکتا ہے۔ دوسرے کسی اور لفظ یا عمل کے ذریعہ نہیں۔  یہ کلمات تعدیل میں سے ہے اور جمہور کے نزدیک یہ کلمہ راوی کے تعدیل کے چوتھے مرتبے پر دلالت کرتا ہے جس میں راوی کی عدالت تو واضح ہوتی ہے لیکن ضبط واضح نہیں ہوتا ، امام بخاری (رح) جب کسی کو صدوق کہتے ہیں تو اس سے مراد ثقہ ہوتا ہے جو تعدیل کا تیسرا مرتبہ ہے۔ مقارب الحدیث حفظ و تعدیل کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے ، لفظ مقارب دو طرح پڑھا جاتا ہے : راء پر زبر کے ساتھ ، اور راء کے زیر کے ساتھ ، زبر کے ساتھ مقارب الحدیث کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی حدیث اس کی حدیث سے قریب ہے ، اور زیر کے ساتھ مقارب الحدیث سے یہ مراد ہے کہ اس کی حدیث دیگر ثقہ راویوں کی حدیث سے قریب تر ہے ، یعنی اس میں کوئی شاذ یا منکر روایت نہیں ہے ، امام ترمذی (رح) نے یہ صیغہ ولید بن رباح اور عبداللہ بن محمد بن عقیل کے بارے میں استعمال کیا ہے

 

Translation

Ali (RA) narrated that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) said, "The key to Salah is purifcation. Its tahrim (prohibition) is the takbir (saying Allahu Akbar to begin it) . Its tahlil (legality) is the taslim (saying assalaamu alaykum wa rahamatullah to end it).



باب ما يقول إذا دخل الخلاء 


  حدیث 4

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَائَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ قَالَ مَرَّةً أُخْرَی أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ أَوْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَجَابِرٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ رَوَی هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ فَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ و قَالَ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَمَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ يُحْتَمَلُ أَنْ يَکُونَ قَتَادَةُ رَوَی عَنْهُمَا جَمِيعًا

 

ترجمہ

 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے پاخانہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : « اللهم إني أعوذ بک من الخبث والخبيث أو الخبث والخبائث» اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاکی سے اور ناپاک شخص سے، یا ناپاک جنوں سے اور ناپاک جنیوں سے ۔ شعبہ کہتے ہیں : عبدالعزیز نے دوسری بار «اللهم إني أعوذ بك» کے بجائے «أعوذ بالله» کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں علی، زید بن ارقم، جابر اور ابن مسعود (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

،  انس (رض) کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور عمدہ ہے زید بن ارقم کی سند میں اضطراب ہے، امام بخاری کہتے ہیں : کہ ہوسکتا ہے قتادہ نے اسے (زید بن ارقم سے اور نضر بن انس عن أبیہ) دونوں سے ایک ساتھ روایت کیا ہو۔


وضاحت 

 مذکورہ دعا پاخانہ میں داخل ہونے سے پہلے پڑھنی چاہیئے ، اور اگر کوئی کھلی فضا میں قضائے حاجت کرنے جا رہا ہو تو رفع حاجت کے لیے بیٹھتے ہوئے کپڑا اٹھانے سے پہلے یہ دعا پڑھے۔ 

 

Translation 

Anas (RA) ibn Malik narrated that while going to the privy the Prophet ﷺ said: (O Allah I seek refuge in you). Shubah (RA) said that at a Abu Salih as-Saman, said that at another time he said: (I seek refuge in Allah from evil and the evil-doers, or, from impure male jnns and impure female jinns)

 

   حدیث 5

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَائَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

 

ترجمہ

 انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پڑھتے 

«اللهم إني أعوذ بک من الخبث والخبائث» 

اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے 

   امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے


وضاحت 

گندی جگہوں میں گندگی سے انس رکھنے والے جن بسیرا کرتے ہیں ، اسی لیے نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت ناپاک جنوں اور جنیوں سے پناہ مانگتے تھے ، انسان کی مقعد بھی قضائے حاجت کے وقت گندی ہوتی ہے اس لیے ایسے مواقع پر خبیث جن انسان کو اذیت پہنچاتے ہیں ، اس سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا پڑھی جاتی ہیں

 

Translation 

Anas (RA) ibn Malik narrated that while going to the privy the Prophet ﷺ said: (I seek refuge in Allah from evil and the evil-doers, or, from impure male jnns and impure female jinns)

 

 باب ما يقول إذا خرج من الخلاء


  حدیث 6

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ الْخَلَائِ قَالَ غُفْرَانَکَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَأَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيُّ وَلَا نَعْرِفُ فِي هَذَا الْبَابِ إِلَّا حَدِيثَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

 

ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے بعد جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے : «غفرانک‏» یعنی اے اللہ : میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن غریب ہے  اس باب میں عائشہ (رض) ہی کی حدیث معروف ہے


وضاحت 

 ایسے موقع پر استغفار طلب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا کھانے کے بعد اس کے فضلے کے

  نکلنے تک کی ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے بےانتہا انعامات میں سے ہیں جن کا شکر ادا کرنے سے انسان قاصر ہے ، اس لیے قضائے حاجت کے بعد انسان اس کوتاہی کا اعتراف کرے ، اس موقع کی دوسری دعا سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو دور کردیا اور مجھے عافیت دی کے معنی سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔

 یہ حدیث حسن غریب ہے ، یہ ایک مشکل اصطلاح ہے کیونکہ حدیث حسن میں ایک سے زائد سند بھی ہوسکتی ہے جب کہ غریب سے مراد وہ روایت ہے جو صرف ایک سند سے آئی ہو ، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے رتبے کے لحاظ سے حسن ہے اور کسی خارجی تقویت و تائید کی محتاج نہیں ، اس بات کو امام ترمذی نے غریب کے لفظ سے تعبیر کیا ہے یعنی اسے حسن لذاتہ بھی کہہ سکتے ہیں ، واضح رہے کہ امام ترمذی حسن غریب کے ساتھ کبھی کبھی دو طرح کے جملے استعمال کرتے ہیں ، ایک «لانعرفه إلامن هذا الوجه» ہے ، اور دوسرا «وإسناده ليس بمتصل» پہلے جملہ سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ حدیث صرف ایک طریق سے وارد ہوئی ہے اور دوسرے سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے ، یہاں حسن سے مراد وہ حسن ہے جس میں راوی متہم بالکذب نہ ہو ، اور غریب سے مراد یہاں اس کا ضعف ظاہر کرنا ہے اور «إسناده ليس بمتصل» کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سند میں انقطاع ہے یعنی اس کا ضعف خفیف ہے۔

  یعنی اس باب میں اگرچہ اور بھی احادیث آئی ہیں لیکن عائشہ (رض) کی مذکورہ بالا حدیث کے سوا کوئی حدیث قوی سند سے ثابت نہیں۔

 

Translation

Aisha narrated that when the Prophet ﷺ (Peace be upon him) came out of the toilet, he said: (O Allah! I seek Your forgiveness)

 

باب في النهي عن استقبال القبلة بغائط أوبول


  حدیث 7

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَکِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ مُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَيْدِيِّ وَمَعْقِلِ بْنِ أَبِي الْهَيْثَمِ وَيُقَالُ مَعْقِلُ بْنُ أَبِي مَعْقِلٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ أَحْسَنُ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ وَأَبُو أَيُّوبَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ وَالزُّهْرِيُّ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ وَکُنْيَتُهُ أَبُو بَکْرٍ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَکِّيُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ إِنَّمَا مَعْنَی قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بِبَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا إِنَّمَا هَذَا فِي الْفَيَافِي وَأَمَّا فِي الْکُنُفِ الْمَبْنِيَّةِ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا وَهَکَذَا قَالَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ و قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنَّمَا الرُّخْصَةُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَأَمَّا اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فَلَا يَسْتَقْبِلُهَا کَأَنَّهُ لَمْ يَرَ فِي الصَّحْرَائِ وَلَا فِي الْکُنُفِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ

 

ترجمہ

ابوایوب انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ منہ کو پورب یا پچھم کی طرف کرو ابوایوب انصاری کہتے ہیں : ہم شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ پاخانے قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو قبلہ کی سمت سے ترچھے مڑ جاتے اور ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی، معقل بن ابی ہیشم (معقل بن ابی معقل) ابوامامہ، ابوہریرہ اور سہل بن حنیف (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  ابوایوب کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہے، ابوالولید مکی کہتے ہیں : ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، اس سے مراد صرف صحراء (میدان) میں نہ کرنا ہے، رہے بنے بنائے پاخانہ گھر تو ان میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے، اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف صرف پیٹھ کرنے کی رخصت ہے، رہا قبلہ کی طرف منہ کرنا تو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں، گویا کہ (امام احمد) قبلہ کی طرف منہ کرنے کو نہ صحراء میں جائز قرار دیتے ہیں اور نہ ہی بنے بنائے پاخانہ گھر میں (البتہ پیٹھ کرنے کو بیت الخلاء میں جائز سمجھتے ہیں) ۔

 

وضاحت  

یہ خطاب اہل مدینہ سے اور ان لوگوں سے ہے جن کا قبلہ مدینہ کی سمت میں مکہ مکرمہ اور بیت اللہ الحرام سے شمال والی جانب واقع ہے ، اور اسی طرح مکہ مکرمہ سے جنوب والی جانب جن کا قبلہ مشرق ( پورب ) یا مغرب ( پچھم ) کی طرف ہے وہ قضائے حاجت کے وقت شمال یا جنوب کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے بیٹھیں۔

 

Translation

Abu Ayyub Ansari narrated that Allahs Messenger (Peace be upon him) said, "When you go to the toilet, do not face the qiblah while passing stool or urine nor turn your backs to it, but turn to the east or west." Abu Ayyub (RA) said, "When we arrived in Syria, we found their privies built facing qiblah, so we would turn away from that and would seek Allahs forgiveness."


باب ما جاء من الرخصة في ذلك


   حدیث 8

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَعَائِشَةَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ


ترجمہ

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں جابر (رض) کی یہ حدیث حسن غریب ہے اس باب میں ابوقتادہ، عائشہ، اور عمار بن یاسر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔


Translation:
Jabir ibn Abdullah (Peace be upon him) said, "The Prophet ﷺ (Peace be upon him) forbade us to pass urine while facing the qiblah. But, one year before his death, I saw him face the qiblah."Ibn Lahiah has reported this hadith from Abu Dhubayr who from Jabir who from Abu Qatadah that he saw the Prophet ﷺ (Peace be upon him) pass urine standing. Qutaybah told us about it having been reported it from Ibn Lahiah

 

   حدیث 9

وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ


ترجمہ

عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر (رض) سے کہ ابوقتادہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جابر (رض) کی نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث ابن لہیعہ کی حدیث (جس میں جابر کے بعد ابوقتادہ (رض) کا واسطہ ہے) سے زیادہ صحیح ہے، ابن لہیعہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعیدالقطان وغیرہ نے ان کی حفظ کے اعتبار سے تضعیف کی ہے


Translation

Abu Qatadah (RA) says that he saw Prophet ﷺ Muhammad urinating facing the Qiblah.

 


  حدیث 10

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَقِيتُ يَوْمًا عَلَی بَيْتِ حَفْصَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی حَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْکَعْبَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک روز میں (اپنی بہن) حفصہ (رض) کے گھر کی چھت پر چڑھا تو نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت فرما رہے ہیں امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 

وضاحت 

 احتمال یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فعل خاص آپ کے لیے کسی عذر کی بنا پر تھا اور امت کے لیے خاص حکم کے ساتھ آپ ﷺ کا یہ فعل قطعاً معارض ہے ، اور پھر یہ کہ آپ اوٹ تھے۔

 

Translation

Hannad reported from Abdullah who from Ubaydullah ibn Umar who from Muhammad ibn Yahya ibn Hibban who from his uncle Wasi ibn Hibban who from Ibn Umar (RA) who said, "I went up the roof of Hafsahs house and saw Allahs Messenger relieving himself, His face was towards Syria and back towards the Ka’bahh.



باب النهي عن البول قائما

 11 / 12 / 13 / 14 حدیث


   حدیث 11

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيکٌ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَکُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ مَا کَانَ يَبُولُ إِلَّا قَاعِدًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَبُرَيْدَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ أَحْسَنُ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ 


حدیث 12

وَحَدِيثُ عُمَرَ إِنَّمَا رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْکَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا فَقَالَ يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ 

قَالَ أَبُو عِيسَی وَإِنَّمَا رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الْکَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ وَتَکَلَّمَ فِيهِ 


حدیث 13

وَرَوَی عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا بُلْتُ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْکَرِيمِ وَحَدِيثُ بُرَيْدَةَ فِي هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَمَعْنَی النَّهْيِ عَنْ الْبَوْلِ قَائِمًا عَلَی التَّأْدِيبِ لَا عَلَی التَّحْرِيمِ 


حدیث 14

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ مِنْ الْجَفَائِ أَنْ تَبُولَ وَأَنْتَ قَائِمٌ


ترجمہ

` ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ کہے کہ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا، آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے 

 امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عمر، بریدہ، عبدالرحمٰن بن حسنہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

 اس باب میں عائشہ (رض) کی یہ حدیث سب سے زیادہ عمدہ اور صحیح ہے

عمر (رض) کی حدیث میں ہے کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : عمر ! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ، چناچہ اس کے بعد سے میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ عمر (رض) کی اس حدیث کو عبدالکریم ابن ابی المخارق نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ایوب سختیانی نے ان کی تضعیف کی ہے اور ان پر کلام کیا ہے، نیز یہ حدیث عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر سے کہ عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ یہ حدیث عبدالکریم بن ابی المخارق کی حدیث سے (روایت کے اعتبار سے) زیادہ صحیح ہے

  اس باب میں بریدۃ (رض) کی حدیث محفوظ نہیں ہے

 کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت ادب کے اعتبار سے ہے حرام نہیں ہے 

 عبداللہ بن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ تم کھڑے ہو کر پیشاب کرو یہ پھوہڑ پن ہے

  

وضاحت 

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کا یہ دعویٰ اپنے علم کے لحاظ سے ہے ، ورنہ بوقت ضرورت نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر بھی پیشاب کیا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے ، ہاں آپ کی عادت مبارکہ عام طور پر بیٹھ ہی کر پیشاب کرنے کی تھی ، اور گھر میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ہے۔

 یعنی عبدالکریم کی مرفوع روایت کہ ( نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب سے روکا ) ضعیف ہے ، جبکہ عبیداللہ العمری کی موقوف روایت صحیح ہے۔ 

 یعنی کھڑے ہو کر پیشاب کرنا حرام نہیں بلکہ منع ہے۔

 دونوں ( مرفوع و موقوف ) حدیثوں میں فرق یوں ہے کہ مرفوع کا مطلب ہے : نبی اکرم ﷺ نے عمر (رض) کو جب سے منع کیا تب سے انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا ، اور موقوف روایت کا مطلب ہے کہ عمر (رض) اپنی عادت بیان کر رہے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔

 

Translation

Aisha (RA) said, "If anyone says that the Prophet ﷺ passed urine standing up then do not confirm him because he never passed urine but sitting down” Ibn Umar (RA) narrated from Umar (RA) that Prophet ﷺ Muhammad saw me urinating while standing and he forbade me saying “ O Umar ! Don’t urinate while standing”. Umar said “I never urinated while standing after that


باب ما جاء من الرخصة في ذلك

 

 حدیث 15

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئٍ فَذَهَبْتُ لِأَتَأَخَّرَ عَنْهُ فَدَعَانِي حَتَّی کُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَکَذَا رَوَی مَنْصُورٌ وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ وَرَوَی حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَصَحُّ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا

 

ترجمہ

حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر سے ہوا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے لیے وضو کا پانی لایا، اسے رکھ کر میں پیچھے ہٹنے لگا، تو آپ نے مجھے اشارے سے بلایا، میں (آ کر) آپ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہوگیا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں :  وکیع کہتے ہیں : یہ حدیث مسح کے سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ سے مروی حدیثوں میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ یہ حدیث بروایت مغیرہ بن شعبہ (رض) بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے ابو وائل کی حدیث جسے انہوں نے حذیفہ سے

 


وضاحت 

یعنی حماد اور عاصم نے بھی ابو وائل ہی سے روایت کی ہے مگر ابو وائل نے حذیفہ کے علاوہ مغیرہ بن شعبہ (رض) سے بھی روایت کیا ہے ، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک راوی نے ایک حدیث دو دو راویوں سے روایت ہوتی ہے اس لیے ممکن ہے کہ ابو وائل نے دونوں صحابیوں سے سنا ہو : کیونکہ اعمش والی روایت صحیحین میں بھی ہے جبکہ عام والی روایت صرف ابن ماجہ میں ہے گرچہ وہ بھی صحیح ہے ، ( معاملہ صرف زیادہ صحیح ہونے کا ہے )

 


Translation

Abu Wail reported that Hudhayfah (RA) said that Allahs Messenger (Peace be upon him) came to a midden of the people and passed urine standing. Then he brought water for him to perform ablution and began to retreat but he called him until he was just behind him. Then Prophet ﷺ (Peace be upon him) performed ablution and wiped over his socks.

 


باب في الاست تار عند الحاجة

( 16 / 17  حدیث )


 حدیث 16

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّی يَدْنُوَ مِنْ الْأَرْضِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَکَذَا رَوَی مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ


حدیث 17

 وَرَوَی وَکِيعٌ وَأَبُو يَحْيَی الْحِمَّانِيُّ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّی يَدْنُوَ مِنْ الْأَرْضِ وَکِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُرْسَلٌ وَيُقَالُ لَمْ يَسْمَعْ الْأَعْمَشُ مِنْ أَنَسٍ وَلَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَظَرَ إِلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي فَذَکَرَ عَنْهُ حِکَايَةً فِي الصَّلَاةِ وَالْأَعْمَشُ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْکَاهِلِيُّ وَهُوَ مَوْلًی لَهُمْ قَالَ الْأَعْمَشُ کَانَ أَبِي حَمِيلًا فَوَرَّثَهُ مَسْرُوقٌ

 

ترجمہ

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین سے بالکل قریب نہ ہوجاتے اپنے کپڑے نہیں اٹھاتے تھے۔ دوسری سند میں اعمش سے روایت ہے

 ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے کپڑے جب تک زمین سے قریب نہیں ہوجاتے نہیں اٹھاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ دونوں احادیث مرسل ہیں، اس لیے کہ کہا جاتا ہے : دونوں احادیث کے راوی سلیمان بن مہران الأعمش نے نہ ہی تو انس بن مالک (رض) سے سماعت کی ہے

 اور نہ ہی کسی اور صحابی سے، صرف اتنا ہے کہ انس کو صرف انہوں نے دیکھا ہے، اعمش کہتے ہیں کہ میں نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے پھر ان کی نماز کی کیفیت بیان کی۔

 

وضاحت 

 یہاں مرسل سے منقطع مراد ہے ، اس کی تشریح خود امام ترمذی نے کردی ہے کہ اعمش کا انس (رض) سے سماع نہیں ہے ، ویسے عام اصطلاحی مرسل : وہ حدیث ہوتی ہے جس کی سند کے آخر سے تابعی کے بعد والا راوی ساقط ہو ، ایسی روایت ضعیف ہوتی ہے کیونکہ اس میں اتصال سند مفقود ہوتا ہے جو صحیح حدیث کی ایک لازمی شرط ہے ، اسی طرح محذوف راوی کا کوئی تعین نہیں ہوتا ، ممکن ہے وہ کوئی غیر صحابی ہو ، اس صورت میں اس کے ضعیف ہونے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔ اور انقطاع کا مطلب یہ ہے کہ سند میں کوئی راوی چھوٹا ہوا ہے۔

 

Translation

Anas (RA) said that when Prophet ﷺ (Peace be upon him) wanted to relieve himself did not raise his lower garment till he was very near the ground.


باب کراهية الاستنجاء باليمين 


 حدیث 18

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَکَرَهُ بِيَمِينِهِ وَفِي هَذَا الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَسَلْمَانَ وَأبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ کَرِهُوا الِاسْتِنْجَائَ بِالْيَمِينِ

 

ترجمہ

ابوقتادہ حارث بن ربعی انصاری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے اس باب میں عائشہ، سلمان، ابوہریرہ اور سھل بن حنیف (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے، اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کو مکروہ جانا ہے۔

 

وضاحت  

اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لیے بائیاں ہاتھ استعمال کیا جائے تاکہ دائیں ہاتھ کا احترام و وقار قائم رہے۔

 

Translation

Abdullah ibn Abu Qatadah (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) disallowed them to touch their penis with their right hand.


 باب الاستنجاء بالحجارة


 حدیث 19

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قِيلَ لِسَلْمَانَ قَدْ عَلَّمَکُمْ نَبِيُّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی الْخِرَائَةَ فَقَالَ سَلْمَانُ أَجَلْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَأَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ وَخَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ سَلْمَانَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ رَأَوْا أَنَّ الِاسْتِنْجَائَ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْمَائِ إِذَا أَنْقَی أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

 

ترجمہ

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ سلمان فارسی (رض) سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی، تو سلمان فارسی (رض) نے بطور فخر کہا : ہاں، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔

 امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عائشہ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، سلمان (رض) کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے،  صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کرلینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو، یہی قول ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے۔

 

Translation

Abdur Rahman ibn Yazid (RA) said that Salman (RA) was told, "Indeed, your Prophet ﷺ teaches you every thing, so much so that even how to relieve yourself. Salman (RA) said. "Yes! He forbade us to face the qiblah when passing stool or urine, or to cleanse ourselves with the right hand, or to use dung or bones to cleanse.

 


 باب في الاستنجاء بالحجرين


 حدیث 20

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ وَقُتَيْبَةُ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَی الرَّوْثَةَ وَقَالَ إِنَّهَا رِکْسٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَکَذَا رَوَی قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ وَرَوَی مَعْمَرٌ وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَرَوَی زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَرَوَی زَکَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ تَذْکُرُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ لَا

 

ترجمہ

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا : میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا : یہ ناپاک ہے  (ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہوگیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے) ۔ امام ترمذی نے یہاں : ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت  میں قیس بن الربیع کی روایت کا ذکر کیا ہے، پھر بسند «معمر و عمار بن رزیق عن ابی اسحاق عن علقمہ عن ابن مسعود» کی روایت ذکر کی ہے، پھر بسند «زکریا بن ابی زائدہ و زہیر عن ابی اسحاق عن عبدالرحمٰن بن یزید عن اسود بن یزید عن عبداللہ بن مسعود» روایت ذکر کی اور فرمایا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے، نیز اسرائیل کی روایت کو صحیح ترین قرار دیا، یہ بھی واضح کیا کہ ابو عبیدۃ کا سماع اپنے والد ابن مسعود سے نہیں ہے پھر واضح کیا کہ زہیر نے اس حدیث کو بسند «ابواسحاق عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن أبیہ عن عبداللہ بن مسعود» روایت کیا ہے، تو ان محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو جگہ دے کر اپنی ترجیح کا ذکر کردیا ہے، جب کہ ترمذی کا استدلال یہ ہے کہ «اسرائیل و قیس عن أبی اسحاق» زیادہ صحیح روایت اس لیے ہے کہ اسرائیل ابواسحاق کی حدیث کے زیادہ حافظ و متقن ہیں، قیس نے بھی اسرائیل کی متابعت کی ہے، اور واضح رہے کہ زہیر نے ابواسحاق سے آخر میں اختلاط کے بعد سنا ہے، اس لیے ان کی روایت اسرائیل کی روایت کے مقابلے میں قوی نہیں ہے

 

  

وضاحت  

اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز خود ناپاک و نجس ہو اس سے طہارت حاصل نہیں ہوسکتی ، امام احمد اور دارقطنی کی روایت میں «ائتني بغيرها» اس کے بدلے دوسرا پتھر لے آؤ کا اضافہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ قضائے حاجت کے بعد تین پتھر استعمال کرنا واجب ہے خواہ صفائی اس سے کم ہی میں کیوں نہ حاصل ہوجائے ، اور اگر تین سے بھی مطلوبہ صفائی حاصل نہ ہو تو مزید بھی پتھر استعمال کئے جاسکتے ہیں البتہ ان کی تعداد طاق ہونی چاہیئے ، آج کل صفائی کے لیے ٹشو پیپر استعمال ہوتے ہیں ان کی تعداد بھی اتنی ہی ہونی چاہیئے متابعت سے مراد ایک راوی کا دوسرے کے ساتھ اس حدیث کی روایت میں شریک ہونا ہے ، اس کے جاننے کا یہ ہوتا ہے کہ اگر راوی ضعیف ہے تو اس کی حدیث کو تقویت حاصل ہوجاتی ہے اور اگر ثقہ ہے تو اس کا تفرد ختم ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ امام ترمذی نے اسرائیل کی روایت کو زہیر کی روایت پر جسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں جگہ دی ہے تین وجہوں سے ترجیح دی ہے۔

 ابواسحاق کے تلامذہ میں اسرائیل : زہیر ، معمر اور دیگر لوگوں سے زیادہ ثقہ اور ابواسحاق سبیعی کی حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔ 

 قیس بن ربیع نے اسرائیل کی متابعت کی ہے۔ 

 اسرائیل کا سماع ابواسحاق سبیعی سے اختلاط سے پہلے ہے ، ان کی آخری عمر میں نہیں ہے اس کے برخلاف زہیر کا ابواسحاق سے سماع ان کی آخری عمر میں ہے ، لیکن صاحب تحفہ الأحوذی کے نزدیک یہ تینوں وجہیں محل نظر ہیں  تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تحفہ الاحوذی ج ١ ص ٢٨۔ صاحب تحفۃ الاحوذی کے معارضات کا خلاصہ یہ ہے کہ

 بقول امام ابوداؤد : زہیر اسرائیل کے مقابلہ میں اثبت ہیں۔ زہیر کی بھی متابعت موجود ہے بلکہ دو دو متابعت ہے۔ 

 بقول ذہبی : امام احمد کہتے ہیں کہ زہیر نے ابواسحاق سبیعی سے اختلاط سے پہلے سنا ہے جبکہ اسرائیل نے آخری عمر میں سنا ہے ، علاوہ ازیں اگر اسرائیل کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں تو ان کی روایت ابوعبیدہ سے ہے اور ابوعبیدہ کی اپنے باپ ابن مسعود سے سماع نہیں ہے تو روایت کو ضعیف ماننا پڑے گا ، جبکہ زہیر کی روایت سے حدیث متصل ہوتی ہے ، اور اکثر ائمہ نے اسے صحیح ہی قرار دہا ہے۔

 

Translation

Abdullah (RA) : said that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) went out to relieve himself and said to him, "Fetch threee stones for me." Abdullah said, "I brought to him two stones and a piece of dung.He took the stones but threw away the piece of dung, saying, "It is impure."


 باب كراهية ما يستنجی به


 حدیث 21

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ . وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الشَّعْبِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ ،‏‏‏‏ وَكَأَنَّ رِوَايَةَ إِسْمَاعِيل أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

 

ترجمہ

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں جنوں کی خوراک ہے

 امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں ابوہریرہ، سلمان، جابر، ابن عمر (رض) سے بھی احادیث مروی ہیں۔  اسماعیل بن ابراہیم وغیرہ نے بسند «داود ابن ابی ہند عن شعبی عن علقمہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) «لیلة الجن» میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے  آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی جو لمبی ہے، شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا گوبر اور ہڈی سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں (جنوں) کی خوراک ہے، گویا اسماعیل بن ابراہیم کی روایت حفص بن غیاث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے  اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے،اور اس باب میں جابر اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔

 

 

وضاحت  

یہی صحیح ہے کہ ہڈی اور گوبر دونوں کو آپ ﷺ نے جنوں کا توشہ قرار دیا ، اور وہ روایتیں ضعیف ہیں جن میں ہے کہ ہڈی جنوں کا ، اور گوبر ان کے جانوروں کا توشہ ہے 

 امام ترمذی نے اس سند سے جس لمبی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے  سورة الاحقاف کی تفسیر میں تو صاف ذکر ہے کہ سوال کرنے پر عبداللہ بن مسعود (رض) نے اپنے کو «لیلۃ الجن» میں موجود ہونے سے انکار کیا ، اور صحیح بات یہی ہے کہ ابن مسعود (رض) کے اس «لیلۃ الجن» میں موجود رہنے کی تمام روایات ضعیف ہیں ، جن میں جنوں نے اپنے کھانے کا سوال کیا تھا ، یا جس میں نبیذ سے وضو کا ذکر ہے ، ہاں دو تین بار کسی اور موقع سے جنوں سے ملاقات کی رات آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ( الکوکب الدری فی شرح الترمذی ): حفص بن غیاث اور اسماعیل بن ابراہیم کی حدیثوں میں فرق یہ ہے کہ حفص کی روایت سے «لا تستنجوا ……» کی حدیث متصل مرفوع ہے ، جبکہ اسماعیل کی روایت سے یہ شعبی کی مرسل حدیث ہوجاتی ہے ( اور اس ارسال پر دیگر بہت سے ثقات نے اسماعیل کی متابعت کی ہے ) اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے ، مگر صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) کی روایت ( جس کا تذکرہ مؤلف نے کیا ہے ) اس کی صحیح شاہد ہے ، نیز دیگر شواہد سے اصل حدیث ثابت ہے۔

 

Translation

Abdullah ibn Masud (RA) narrated that Allahs Messenger (Peace be upon him) "Do not make istinja with dung and bone because that is provision of your brethren among jinn.

 

باب الاستنجاء بالماء


 حدیث 22

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ الْبَصْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَکُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَائِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَفْعَلُهُ وَفِي الْبَاب عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الِاسْتِنْجَائَ بِالْمَائِ وَإِنْ کَانَ الِاسْتِنْجَائُ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ عِنْدَهُمْ فَإِنَّهُمْ اسْتَحَبُّوا الِاسْتِنْجَائَ بِالْمَائِ وَرَأَوْهُ أَفْضَلَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں، میں ان سے (یہ بات کہتے) شرما رہی ہوں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔ 

امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں جریر بن عبداللہ بجلی، انس، اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، اسی پر اہل علم کا عمل ہے وہ پانی سے استنجاء کرنے کو پسند کرتے ہیں اگرچہ پتھر سے استنجاء ان کے نزدیک کافی ہے پھر بھی پانی سے استنجاء کو انہوں نے مستحب اور افضل قرار دیا ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔

  

وضاحت   

یہاں بار بار آپ احادیث میں یہ جملہ پڑھ رہے ہیں : اسی پر اہل علم کا عمل ہے ، تو اہل علم سے مراد محدثین فقہاء اور قرآن وسنت کا صحیح فہم رکھنے والے لوگ ہیں

 

Translation

Mu’adhah (RA) narrated that Aisha (RA) said (to the women) that they should tell their husbands to cleanse themselves with water as she felt ashamed before them. The Prophet ﷺ (Peace be upon him) used to do that.

 


 باب ما جاء أن النبي كان إذا أراد الحاجة أبعد في المذهب

( 23 / 24  حدیث )


 حدیث 23

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَأَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ وَأَبِي قَتَادَةَ وَجَابِرٍ وَيَحْيَی بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي مُوسَی وَابْنِ عَبَّاسٍ وَبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


حدیث 24

 وَيُرْوَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَرْتَادُ لِبَوْلِهِ مَکَانًا کَمَا يَرْتَادُ مَنْزِلًا وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ

 عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ


ترجمہ

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو بہت دور نکل گئے 

 امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے،اس باب میں عبدالرحمٰن بن ابی قراد، ابوقتادہ، جابر، یحییٰ بن عبید عن أبیہ، ابو موسیٰ ، ابن عباس اور بلال بن حارث (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

 روایت کی جاتی ہے کہ نیز نبی اکرم ﷺ پیشاب کے لیے اس طرح جگہ ڈھونڈتے تھے جس طرح مسافر اترنے کے لیے جگہ ڈھونڈتا ہے۔ ابوسلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری ہے۔

 

وضاحت  

ایسا صرف لوگوں کی نظروں سے دور ہوجانے کے لیے کرتے تھے ، اب یہ مقصد تعمیر شدہ بیت الخلاء سے حاصل ہوجاتا ہے۔

 

Translation

Sayyidla Mughirah ibn Shu’bah narrated that he was travelling wiith Allahs Messenger (Peace be upon him) once. When he wanted to relieve hImself, he went away very far off.



 باب ما جاء في كراهية البول في المغتسل


 حدیث 25

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی مَرْدَوَيْهِ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ وَقَالَ إِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَيُقَالُ لَهُ أَشْعَثُ الْأَعْمَی وَقَدْ کَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبَوْلَ فِي الْمُغْتَسَلِ وَقَالُوا عَامَّةُ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ ابْنُ سِيرِينَ وَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ يُقَالُ إِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ فَقَالَ رَبُّنَا اللَّهُ لَا شَرِيکَ لَهُ و قَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ قَدْ وُسِّعَ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ إِذَا جَرَی فِيهِ الْمَائُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدَّثَنَا بِذَلِکَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْآمُلِيُّ عَنْ حِبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ

 

ترجمہ

عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے  اور فرمایا : زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ 

امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے، یہ حدیث غریب ہے،ہم اسے صرف اشعث بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، انہیں اشعث اعمی بھی کہا جاتا ہے، اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں،  بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے جن میں سے ابن سیرین بھی ہیں، ابن سیرین سے کہا گیا : کہا جاتا ہے کہ اکثر وسوسے اسی سے جنم لیتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے، اس

کا کوئی شریک نہیں عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے، بشرطیکہ اس میں سے پانی بہ جاتا ہو۔

 

وضاحت 

یہ ممانعت ایسے غسل خانوں کے سلسلے میں ہے جن میں پیشاب زمین میں جذب ہوجاتا ہے ، یا رک جاتا ہے ، پختہ غسل خانے جن میں پیشاب پانی پڑتے ہی بہہ جاتا ہے ان میں یہ ممانعت نہیں

 ( ملاحظہ ہو سنن ابن ماجہ رقم : ٣٠٤)

امام ترمذی کسی حدیث کے بارے میں جب لفظ غریب کہتے ہیں تو ایسی حدیثیں اکثر ضعیف ہوتی ہیں ، ایسی ساری احادیث پر نظر ڈالنے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے ، یہ حدیث بھی ضعیف ہے ( ضعیف ابی داود رقم ٦) البتہ غسل خانہ میں پیشاب کی ممانعت سے متعلق پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔   مطلب یہ ہے جو بھی وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ، غسل خانوں کے پیشاب کا اس میں کوئی دخل نہیں۔

 

Translation

Abdullah ibn Mughaffal reported that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) said that no one must urinate in the place where he bathes himself (bathroom), for, evil promptings generally come from it.


باب ما جاء في السواك


حدیث 26

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِلَاهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثُ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّمَا صَحَّ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَأَمَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ فَزَعَمَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَعَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحُذَيْفَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عُمَرَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَتَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَأَبِي مُوسَی


ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر مجھے اپنی امت کو حرج اور مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا 

 امام ترمذی کہتے ہیں :  بروایت ابوسلمہ، ابوہریرہ اور زید بن خالد (رض) کی مروی دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کا خیال ہے کہ ابوسلمہ کی زید بن خالد (رض) سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اس باب میں ابوبکر صدیق، علی، عائشہ، ابن عباس، حذیفہ، زید بن خالد، انس، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، ام حبیبہ، ابوامامہ، ابوایوب، تمام بن عباس، عبداللہ بن حنظلہ، ام سلمہ، واثلہ بن الاسقع اور ابوموسیٰ اشعری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔

  

وضاحت   

مسواک واجب نہ کرنے کی مصلحت امت سے مشقت و حرج کو دور رکھنا ہے ، اس سے صرف مسواک کے وجوب کی نفی ہوتی ہے ، رہا مسواک کا مسنون ہونا تو وہ علی حالہ باقی ہے۔ امام بخاری نے اس طریق کو دو وجہوں سے راجح قرار دیا ہے : ایک تو یہ کہ اس سے ایک واقعہ وابستہ ہے اور وہ ابوسلمہ کا یہ کہنا ہے کہ زید بن خالد مسواک اپنے کان پر اسی طرح رکھے رہتے تھے جیسے کاتب قلم اپنے کان پر رکھے رہتا ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے ، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے محمد بن ابراہیم کی متابعت کی ہے جس کی تخریج امام احمد نے کی ہے۔

 

Translation

Abu Hurairah (RA) narrated that Allahs Messenger(Peace be upon him) said, "Were it not that I might distress my ummah, I would order them to use the siwak at every prayer”

  

حدیث 27

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَائِ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ قَالَ فَکَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاکُهُ عَلَی أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْکَاتِبِ لَا يَقُومُ إِلَی الصَّلَاةِ إِلَّا أُسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهُ إِلَی مَوْضِعِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

 

ترجمہ

زید بن خالد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر مجھے اپنی امت کو حرج و مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر صلاۃ کے وقت (وجوباً ) مسواک کرنے کا حکم دیتا، نیز میں عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا (راوی حدیث) ابوسلمہ کہتے ہیں : اس لیے زید بن خالد (رض) نماز کے لیے مسجد آتے تو مسواک ان کے کان پر بالکل اسی طرح ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم ہوتا ہے، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے پھر اسے اس کی جگہ پر واپس رکھ لیتے 

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔


وضاحت 

ہر نماز کے وقت مسواک مسنون ہے ، «عند کل صلاة» ہر نماز کے وقت سے جو مقصد ہے وہ مسجد میں داخل ہو کر ، وضو خانہ میں ، یا نماز کے وقت وضو کے ساتھ مسواک کرلینے سے بھی پورا ہوجاتا ہے ، یہ ہندوستان اور پاکستان کے باشندے عموماً نیم یا کیکر کی مسواک کرتے ہیں اور عرب میں پیلو کی مسواک کا استعمال بہت زیادہ ہے ، اور یہاں لوگ نماز کے وقت بکثرت مسواک کرتے ہیں۔

 

Translation

Abu Salamah (RA) reported that Zayd ibn Khalid (RA) al-Juhanni said that he heard Allahs Messenger (Peace be upon him) say, "Were it not that I might distress my Ummah I would order them to use the siwak before every salah, and I would put off the salah of isha till one-third of the night had passed” He said, "Zayd ibn Khalid had the siwak on his ear as a scribe has a pen over it when he came to the mosque for his salah. He did not offer salah till he had used the siwak, after which put it back in the same place.



باب ما جاء إذا استيقظ أحدكم من منامه فلا يغمسن يده في الإناء حتى يغسلها 

 

 حدیث 28

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ أَحْمَدُ بْنُ بَکَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ يُقَالُ هُوَ مِنْ وَلَدِ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنْ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَائِ حَتَّی يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأُحِبُّ لِکُلِّ مَنْ اسْتَيْقَظَ مِنْ النَّوْمِ قَائِلَةً کَانَتْ أَوْ غَيْرَهَا أَنْ لَا يُدْخِلَ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّی يَغْسِلَهَا فَإِنْ أَدْخَلَ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا کَرِهْتُ ذَلِکَ لَهُ وَلَمْ يُفْسِدْ ذَلِکَ الْمَائَ إِذَا لَمْ يَکُنْ عَلَی يَدِهِ نَجَاسَةٌ و قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ النَّوْمِ مِنْ اللَّيْلِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا فَأَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ يُهْرِيقَ الْمَائَ و قَالَ إِسْحَقُ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّی يَغْسِلَهَا

 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی رات کو نیند سے اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر دو یا تین بار پانی نہ ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ہے ۔

 امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں ابن عمر، جابر اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، شافعی کہتے ہیں : میں ہر سو کر اٹھنے والے کے لیے - چاہے وہ دوپہر میں قیلولہ کر کے اٹھا ہو یا کسی اور وقت میں - پسند کرتا ہوں کہ وہ جب تک اپنا ہاتھ نہ دھوئے اسے وضو کے پانی میں نہ ڈالے اور اگر اس نے دھونے سے پہلے ہاتھ ڈال دیا تو میں اس کے اس فعل کو مکروہ سمجھتا ہوں لیکن اس سے پانی فاسد نہیں ہوگا بشرطیکہ اس کے ہاتھ میں کوئی نجاست نہ لگی ہو  احمد بن حنبل کہتے ہیں : جب کوئی رات کو جاگے اور دھونے سے پہلے پانی میں ہاتھ ڈال دے تو اس پانی کو میرے نزدیک بہا دینا بہتر ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : جب وہ رات یا دن کسی بھی وقت نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے۔

 

وضاحت  

برتن کی قید سے حوض ، تالاب اور نہر وغیرہ اس حکم سے مستثنیٰ ہوں گے کیونکہ ان کا پانی قلتین سے زیادہ ہوتا ہے ، پس سو کر اٹھنے کے بعد ان میں ہاتھ داخل کرنا جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام شافعی نے باب کی اس حدیث کو استحباب پر محمول کیا ہے ، یہی جمہور کا قول ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے اسے وجوب پر محمول کیا ہے ، لیکن احمد نے اسے رات کی نیند کے ساتھ خاص کردیا ہے اور اسحاق بن راہویہ نے اسے عام رکھا ہے ، صاحب تحفہ الأحوذی نے اسحاق بن راہویہ کے مذہب کو راجح قرار دیا ہے ، احتیاط اسی میں ہے ، رات کی قید صرف اس لیے ہے کہ آدمی رات میں عموماً سوتا ہے ، نیز صحیحین کی روایات میں «من الليل» کی بجائے «ممن نومه» اپنی نیند سے ہے تو یہ رات اور دن ہر نیند کے لیے عام ہوا۔

 

Translation

Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ (Peace be upon him) said, "When one of you awakes from sleep of the night, he must not dip his hand in the vessel till he has washed it two or three times, for, he does not know where his hand was during the night.



 باب في التسمية عند الوضوء


 حدیث 29 

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ عَنْ جَدَّتِهِ عَنْ أَبِيهَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا وُضُوئَ لِمَنْ لَمْ يَذْکُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لَا أَعْلَمُ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثًا لَهُ إِسْنَادٌ جَيِّدٌ و قَالَ إِسْحَقُ إِنْ تَرَکَ التَّسْمِيَةَ عَامِدًا أَعَادَ الْوُضُوئَ وَإِنْ کَانَ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلًا أَجْزَأَهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ أَحْسَنُ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَرَبَاحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَدَّتِهِ عَنْ أَبِيهَا وَأَبُوهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَأَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ اسْمُهُ ثُمَامَةُ بْنُ حُصَيْنٍ وَرَبَاحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو بَکْرِ بْنُ حُوَيْطِبٍ مِنْهُمْ مَنْ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حُوَيْطِبٍ فَنَسَبَهُ إِلَی جَدِّهِ


ترجمہ

سعید بن زید (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو «بسم اللہ» کر کے وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا 

امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، سہل بن سعد اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں : مجھے اس باب میں کوئی ایسی حدیث نہیں معلوم جس کی سند عمدہ ہو، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : اگر کوئی قصداً «بسم اللہ» کہنا چھوڑ دے تو وہ دوبارہ وضو کرے اور اگر بھول کر چھوڑے یا وہ اس حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو یہ اسے کافی ہوجائے گا، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے اچھی یہی مذکورہ بالا حدیث رباح بن عبدالرحمٰن کی ہے، یعنی سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی حدیث۔


وضاحت 

 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ «بسم اللہ» کا پڑھنا وضو کے لیے رکن ہے یا شرط اس کے بغیر وضو صحیح نہیں ہوگا ، کیونکہ «لاوضوئ» سے صحت اور وجود کی نفی ہو رہی ہے نہ کہ کمال کی ، بعض لوگوں نے اسے کمال کی نفی پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر «بسم اللہ» کیے بھی وضو صحیح ہوجائے گا لیکن وضو کامل نہیں ہوگا ، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ «لا» کو اپنے حقیقی معنی نفی صحت میں لینا ہی حقیقت ہے ، اور نفی کمال کے معنی میں لینا مجاز ہے اور یہاں مجازی معنی لینے کی کوئی مجبوری نہیں ہے ، نفی کمال کے معنی میں آئی احادیث ثابت نہیں ہیں ، امام احمد کے نزدیک راجح «بسم اللہ» کا وجوب ہے۔

 

Translation

Rlbah ibn Abdur Rahman ibn Abu Sufyan (RA) ibn Huwaytib reported from his grandmother who reported from her father that Allahs Messenger (Peace be upon him) said, "The abultion of a person is void if he does not begin it with Allahs name.


 باب ما جاء في المضمضة والاستنشاق


 حدیث 30

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَجَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَثِرْ وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ وَلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَنْ تَرَکَ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ إِذَا تَرَکَهُمَا فِي الْوُضُوئِ حَتَّی صَلَّی أَعَادَ الصَّلَاةَ وَرَأَوْا ذَلِکَ فِي الْوُضُوئِ وَالْجَنَابَةِ سَوَائً وَبِهِ يَقُولُ ابْنُ أَبِي لَيْلَی وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ أَحْمَدُ الِاسْتِنْشَاقُ أَوْکَدُ مِنْ الْمَضْمَضَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُعِيدُ فِي الْجَنَابَةِ وَلَا يُعِيدُ فِي الْوُضُوئِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَبَعْضِ أَهْلِ الْکُوفَةِ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ لَا يُعِيدُ فِي الْوُضُوئِ وَلَا فِي الْجَنَابَةِ لِأَنَّهُمَا سُنَّةٌ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَجِبُ الْإِعَادَةُ عَلَی مَنْ تَرَکَهُمَا فِي الْوُضُوئِ وَلَا فِي الْجَنَابَةِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِکٍ وَالشَّافِعِيِّ

 

ترجمہ

سلمہ بن قیس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے لو ۔

امام ترمذی کہتے ہیں :اس باب میں عثمان، لقیط بن صبرہ، ابن عباس، مقدام بن معدیکرب، وائل بن حجر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، سلمہ بن قیس والی حدیث حسن صحیح ہے، جو کلی نہ کرے اور ناک میں پانی نہ چڑھائے اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے : ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جب کوئی ان دونوں چیزوں کو وضو میں چھوڑ دے اور نماز پڑھ لے تو وہ نماز کو لوٹائے ان لوگوں کی رائے ہے کہ وضو اور جنابت دونوں میں یہ حکم یکساں ہے، ابن ابی لیلیٰ ، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں، امام احمد (مزید) کہتے ہیں کہ ناک میں پانی چڑھانا کلی کرنے سے زیادہ تاکیدی حکم ہے، اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جنابت میں کلی نہ کرنے اور ناک نہ جھاڑنے کی صورت میں نماز لوٹائے اور وضو میں نہ لوٹائے یہ سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا قول ہے، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ نہ وضو میں لوٹائے اور نہ جنابت میں کیونکہ یہ دونوں چیزیں مسنون ہیں، تو جو انہیں وضو اور جنابت میں چھوڑ دے اس پر نماز لوٹانا واجب نہیں، یہ مالک اور شافعی کا آخری قول ہے 

 

وضاحت  

کیونکہ ان کے نزدیک یہ دونوں عمل وضو اور غسل دونوں میں فرض ہیں ، ان کی دلیل یہی حدیث ہے ، اس میں امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے ، اور امر کا صیغہ وجوب پر دلالت کرتا ہے ، الا یہ کہ کوئی قرینہ ایسا قرینہ موجود ہو جس سے امر کا صیغہ حکم اور وجوب کے معنی سے استحباب کے معنی میں بدل جائے جو ان کے بقول یہاں نہیں ہے ، صاحب تحفۃ الاحوذی اسی کے موید ہیں۔  ان لوگوں کے یہاں یہ دونوں عمل وضو میں مسنون اور جنابت میں واجب ہیں کیونکہ جنابت میں پاکی میں مبالغہ کا حکم ہے۔  یہی جمہور علماء کا قول ہے کیونکہ عطاء کے سوا کسی بھی صحابی یا تابعی سے یہ منقول نہیں ہے کہ وہ بغیر کلی اور ناک جھاڑے پڑھی ہوئی نماز دہرانے کے قائل ہو ، گویا یہ مسنون ہوا فرض اور واجب نہیں۔

 

Translation

Salamah ibn Qays (RA) said that Allahs Messenger(Peace be upon him) said,"When you make ablution, snuff up water and when you use stone for istinja use an odd number.


 باب المضمضة والاستنشاق من کف واحد


 حدیث 31

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ فَعَلَ ذَلِکَ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَی مَالِکٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی وَلَمْ يَذْکُرُوا هَذَا الْحَرْفَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ وَإِنَّمَا ذَکَرَهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثِقَةٌ حَافِظٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ يُجْزِئُ و قَالَ بَعْضُهُمْ تَفْرِيقُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْنَا و قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنْ جَمَعَهُمَا فِي کَفٍّ وَاحِدٍ فَهُوَ جَائِزٌ وَإِنْ فَرَّقَهُمَا فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا

 

ترجمہ

عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار آپ نے ایسا کیا

امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی روایت ہے، عبداللہ بن زید (رض) کی یہ حدیث حسن غریب ہے، مالک، سفیان، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن یحییٰ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اسے صرف خالد ہی نے ذکر کیا ہے اور خالد محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہوگا، اور بعض نے کہا ہے کہ دونوں کے لیے الگ الگ پانی لینا ہمیں زیادہ پسند ہے، شافعی کہتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو ایک ہی چلو میں جمع کرے تو جائز ہے لیکن اگر الگ الگ چلّو سے کرے تو یہ ہمیں زیادہ پسند ہے

 

وضاحت 

: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانا افضل ہے دونوں کے لیے الگ الگ پانی لینے کی بھی احادیث آئی ہیں لیکن ایک چلو سے دونوں میں پانی ڈالنے کی احادیث زیادہ اور صحیح ترین ہیں ، دونوں صورتیں جائز ہیں ، لیکن ایک چلو سے دونوں میں پانی ڈالنا زیادہ اچھا ہے ، علامہ محمد بن اسماعیل الأمیرالیمانی سبل السلام میں فرماتے ہیں : اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں اختیار ہے اور ہر ایک سنت ہے ، گرچہ دونوں کو ایک کلی میں جمع کرنے کی روایات زیادہ ہیں اور صحیح تر ہیں ، واضح رہے کہ اختلاف زیادہ بہتر ہونے میں ہے جائز اور ناجائز کی بات نہیں ہے امام شافعی سے اس سلسلہ میں دو قول مروی ہیں ایک تو یہی جسے امام ترمذی نے یہاں نقل کیا ہے اور دوسرا ایک ہی چلو میں دونوں کو جمع کرنے کا اور یہ ان کا مشہور قول ہے۔

 

Translation

Sayvidna Abdullah ibn Zayd (RA) said that he saw the Prophet ﷺ rinse his mouth and snuff up water from one palm of the hand.. He dId that three times.

 


 باب في تخليل ال لحية


 حدیث 32

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ فَقِيلَ لَهُ أَوْ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَکَ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ

 

ترجمہ

حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر (رض) کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی داڑھی میں خلال کیا ان سے کہا گیا یا راوی حدیث حسان نے کہا کہ میں نے ان سے کہا : کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں داڑھی کا خلال کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔


وضاحت 

 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ داڑھی کا خلال مسنون ہے ، بعض لوگ وجوب کے قائل ہیں ، لیکن تمام دلائل کا جائزہ لینے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سنت ہے واجب نہیں ، جمہور کا یہی قول ہے۔

 

Translation

Sayyidina Hassan Ibn Bilal (RA) said that he saw ammar ibn yasir (RA) perform ablution, He ran his fingers through beard so Hassan (RA) asked him, "Do you interwine your beard?" Ammar (RA) said , "Why should I not do it when I did see Allah’s Messenger ﷺ run fingers through his beard"

  

 حدیث 33

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَسٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَی وَأَبِي أَيُّوبَ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت إِسْحَقَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ لَمْ يَسْمَعْ عَبْدُ الْکَرِيمِ مِنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ حَدِيثَ التَّخْلِيلِ


ترجمہ

اس سند سے بھی عمار بن یاسر سے اوپر ہی کی حدیث کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔

 امام ترمذی کہتے ہیں :اس باب میں عثمان، عائشہ، ام سلمہ، انس، ابن ابی اوفی اور ابوایوب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح حدیث عامر بن شقیق کی ہے، جسے انہوں نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے عثمان (رض) سے روایت کیا ہے (جو آگے آرہی ہے) ، صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں، ان لوگوں کی رائے ہے کہ داڑھی کا خلال (مسنون) ہے اور اسی کے قائل شافعی بھی ہیں، احمد کہتے ہیں کہ اگر کوئی داڑھی کا خلال کرنا بھول جائے تو وضو جائز ہوگا، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھول کر چھوڑ دے یا خلال والی حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو اسے کافی ہوجائے گا اور اگر قصداً جان بوجھ کر چھوڑے تو وہ اسے (وضو کو) لوٹائے۔

 

Translation

This hadith is also reported by Ibn Abu Umar from Sufyan from Saeed ibn Abu Arubah from Qatadah. He reported from Hasan ibn Bilal (RA) who from Ammar who from the Prophet ﷺ 

  

حدیث 34 

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ أَبُو عِيسَى و قَالَ بِهَذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ رَأَوْا تَخْلِيلَ اللِّحْيَةِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ و قَالَ أَحْمَدُ إِنْ سَهَا عَنْ تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ فَهُوَ جَائِزٌ و قَالَ إِسْحَقُ إِنْ تَرَكَهُ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلًا أَجْزَأَهُ وَإِنْ تَرَكَهُ عَامِدًا أَعَادَ


ترجمہ

عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔


Translation

Yahya ibn Musa has also heard the hadith from Abdur Razzaq who from Israil who from Aamir ibn Shafiq who from Abu Wail who from Sayyidina Othman ibn Affan (RA) that Prophet ﷺ used to run his fingers through his beard.

 


باب ما جاء في مسح الرأس أنه يبدأ بمقدم الرأس إلى مؤخره 


 حدیث 35

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَی قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّی رَجَعَ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاوِيَةَ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، یعنی اپنے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر انہیں واپس لوٹایا یہاں تک کہ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر آپ نے دونوں پیر دھوئے۔

امام ترمذی کہتے ہیں :  اس باب میں معاویہ، مقدام بن معدیکرب اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  اس باب میں عبداللہ بن زید (رض) کی حدیث سب سے صحیح اور عمدہ ہے اور اسی کے قائل شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔

 

Translation

Sayyidina Abdullah ibn Zayd (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ wiped his head, leading both hands from the fore to the back of the head up to the nape of his neck bringing them back to the fore. Then he washed his feet.


باب ما جاء أنه يبدأ بمؤخر الرأس


حدیث 36

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَائَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ کِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا وَأَجْوَدُ إِسْنَادًا وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْکُوفَةِ إِلَی هَذَا الْحَدِيثِ مِنْهُمْ وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ


ترجمہ

ربیع بنت معوذ بن عفراء (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سر کا دو مرتبہ  مسح کیا، آپ نے (پہلے) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا، پھر (دوسری بار) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے اور عبداللہ بن زید کی حدیث سند کے اعتبار سے اس سے زیادہ صحیح اور زیادہ عمدہ ہے،  اہل کوفہ میں سے بعض لوگ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، انہیں میں سے وکیع بن جراح بھی ہیں


وضاحت 

حقیقت میں یہ ایک ہی مسح ہے آگے اور پیچھے دونوں کو راوی نے الگ الگ مسح شمار کر کے اسے «مرتین» دو بار سے تعبیر کیا ہے۔: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا جائے ، لیکن عبداللہ بن زید کی متفق علیہ روایت جو اوپر گزری اس کے معارض اور اس سے زیادہ صحیح ہے ، کیونکہ ربیع کی حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل متکلم فیہ ہیں اور اگر اس کی صحت مان بھی لی جائے تو ممکن ہے آپ نے بیان جواز کے لیے ایسا بھی کیا ہو۔: یہ مرجوح مذہب ہے ، راجح سر کے اگلے حصہ ہی سے شروع کرنا ہے ، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا۔

 

Translation

Sayyidah Rubayyi bint Muawwidh ibn Afra (RA) narrated that the Prophet ﷺ ﷺ wiped his head twice beginning from the back of his head, and again from its fore, and his ears, both of them, inside and outside.


باب ما جاء أن مسح الرأس مرة

( 37 / 38 حدیث )


حدیث 37

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَائَ أَنَّهَا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَتْ مَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَجَدِّ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ الرُّبَيِّعِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَبِهِ يَقُولُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ رَأَوْا مَسْحَ الرَّأْسِ مَرَّةً وَاحِدَةً 


حدیث 38

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَکِّيُّ قَال سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مَسْحِ الرَّأْسِ أَيُجْزِئُ مَرَّةً فَقَالَ إِي وَاللَّهِ


ترجمہ

ربیع بنت معوذ بن عفراء (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اگلے حصہ کا بھی اور پچھلے حصہ کا بھی اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا بھی۔

امام ترمذی کہتے ہیں : ربیع (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  اس باب میں علی اور طلحہ بن مصرف بن عمرو کے دادا (عمرو بن کعب یامی) (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  اور بھی سندوں سے یہ بات مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سر کا مسح ایک بار کیا،  صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور جعفر بن محمد، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعیاحمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں 

 سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد سے سر کے مسح کے بارے میں پوچھا : کیا ایک مرتبہ سر کا مسح کرلینا کافی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں قسم ہے اللہ کی۔


وضاحت 

 اس باب سے مؤلف ان لوگوں کا رد کرنا چاہتے ہیں جو تین بار مسح کے قائل ہیں۔

امام ترمذی نے امام شافعی سے ایسا ہی نقل کیا ہے ، مگر بغوی نے نیز تمام شافعیہ نے امام شافعی کے بارے میں تین بار مسح کرنے کا قول نقل کیا ہے ، عام شافعیہ کا عمل بھی تین ہی پر ہے ، مگر یا تو یہ دیگر اعضاء پر قیاس ہے جو نص صریح کے مقابلہ میں صحیح نہیں ہے ، یا کچھ ضعیف حدیثوں سے تمسک ہے ( صحیحین کی نیز دیگر احادیث میں صرف ایک پر اکتفاء کی صراحت ہے ) ۔

 

Translation

Sayidah Rubayyi bint Mu’awwidh ibn Afra (RA) narrated that she saw the Prophet ﷺ performing ablution. He wiped his head front and back, his temples and ears, once.


باب ما جاء أنه يأخذ لرأسه ماء جديدا


حدیث 39

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَائٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرَوَی ابْنُ لَهِيعَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَائٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ وَرِوَايَةُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَبَّانَ أَصَحُّ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَغَيْرِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ لِرَأْسِهِ مَائً جَدِيدًا وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا أَنْ يَأْخُذَ لِرَأْسِهِ مَائً جَدِيدًا


ترجمہ

عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔

امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابن لھیعہ نے یہ حدیث بسند «حبان بن واسع عن أبیہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن زید (رض) نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور اپنے سر کا مسح اپنے دونوں ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے کیا،  عمرو بن حارث کی روایت جسے انہوں نے حبان سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہےکیونکہ اور بھی کئی سندوں سے عبداللہ بن زید وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا، اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان کی رائے ہے کہ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا جائے۔


وضاحت 
 مؤلف نے عمرو بن حارث کی روایت کے لیے زیادہ صحیح کا لفظ اس لیے اختیار کیا ہے کہ ابن لہیعہ کی روایت بھی صحیح ہے کیونکہ وہ عبداللہ بن وہب کی روایت سے ہے ، اور عبادلہ اربعہ کی روایت ابن لہیعہ سے صحیح ہوتی ہے ، لیکن اس روایت میں ابن لہیعہ اکیلے ہیں ، اس لیے ان کی روایت عمرو بن حارث کی روایت کے مقابلہ میں شاذ ہے اور عمرو بن حارث کی روایت ہی محفوظ ہے۔

Translation

Sayyidina Abdullah ibn Zayd (RA) narrated that he observed Prophet ﷺ Perform ablution. He wiped his head with water that was not residual after washing his hands (which means that It was fresh water).

 

باب مسح الأذنين ظاهرهما وباطنهما


 حدیث 40

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ الرُّبَيِّعِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ مَسْحَ الْأُذُنَيْنِ ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا


ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی حصوں کا مسح کیا۔

امام ترمذی کہتے ہیں : ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ربیع (رض) سے بھی روایت ہے،  اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی دونوں حصوں کا مسح کیا جائے۔


وضاحت 

اس باب اور حدیث سے مؤلف کا مقصد اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ کانوں کے اندورنی حصے کو چہرہ کے ساتھ دھونے اور بیرونی حصے کو سر کے ساتھ مسح کرنے کے قائلین کا رد کریں ، اس قول کے قائلین کی دلیل والی حدیث ضعیف ہے ، اور نص کے مقابلہ میں قیاس جائز نہیں۔

 

Translation

Sayyidna Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ wiped his head and his ears their outsides and insides.


باب ما جاء أن الأذنين من الرأس


  حدیث 41

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَقَالَ الْأُذُنَانِ مِنْ الرَّأْسِ قَالَ أَبُو عِيسَی قَالَ قُتَيْبَةُ قَالَ حَمَّادٌ لَا أَدْرِي هَذَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاکَ الْقَائِمِ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنْ الرَّأْسِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مَا أَقْبَلَ مِنْ الْأُذُنَيْنِ فَمِنْ الْوَجْهِ وَمَا أَدْبَرَ فَمِنْ الرَّأْسِ قَالَ إِسْحَقُ وَأَخْتَارُ أَنْ يَمْسَحَ مُقَدَّمَهُمَا مَعَ الْوَجْهِ وَمُؤَخَّرَهُمَا مَعَ رَأْسِهِ


ترجمہ
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا : دونوں کان سر میں داخل ہیں

امام ترمذی کہتے ہیں :  قتیبہ کا کہنا ہے کہ حماد کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا قول ہے یا ابوامامہ کا، اس باب میں انس (رض) سے بھی روایت ہے، اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ ہیں  اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ کان کے سامنے کا حصہ چہرہ میں سے ہے (اس لیے اسے دھویا جائے) اور پیچھے کا حصہ سر میں سے ہے (اس لیے مسح کیا جائے) اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ کان کے سامنے کے حصہ کا مسح چہرہ کے ساتھ کرے (یعنی چہرہ کے ساتھ دھوئے) اور پچھلے حصہ کا سر کے ساتھ  شافعی کہتے ہیں کہ دونوں الگ الگ سنت ہیں (اس لیے) دونوں کا مسح نئے پانی سے کرے۔

 

وضاحت 

یہی قول راجح ہے۔ یہ شعبی اور حسن بن صالح اور ان کے اتباع کا مذہب ہے امام ترمذی نے یہاں صرف تین مذاہب کا ذکر کیا ہے ، ان تینوں کے علاوہ اور بھی مذاہب ہیں ، انہیں میں سے ایک مذہب یہ ہے کہ دونوں کان چہرے میں سے ہیں ، لہٰذا یہ چہرے کے ساتھ دھوئے جائیں گے ، اسی طرف امام زہری اور داود ظاہری گئے ہیں ، اور ایک قول یہ ہے کہ انہیں چہرے کے ساتھ دھویا جائے اور سر کے ساتھ ان کا مسح کیا جائے۔

 

Translation

Sayyidna Abu Umamah (RA) narrated that the Prophet ﷺ when he made ablution he washed his face and both hands three times each and wiped his head, saying, "The ears are included in the head.


باب في تخليل الأصابع 


  حدیث 42

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ الْأَصَابِعَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمُسَتَوْرِدِ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ الْفِهْرِيُّ وَأبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوئِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَ إِسْحَقُ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوئِ وَأَبُو هَاشِمٍ اسْمُهُ إِسْمَعِيلُ بْنُ کَثِيرٍ الْمَکِّيُّ


ترجمہ

لقیط بن صبرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم وضو کرو تو انگلیوں کا خلال کرو

امام ترمذی کہتے ہیں :اس باب میں ابن عباس، مستورد بن شداد فہری اور ابوایوب انصاری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے،  اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وضو میں اپنے پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ وضو میں اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے۔



وضاحت 

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دونوں پیروں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرنا واجب ہے ، کیونکہ امر کا صیغہ وجوب پر دلالت کرتا ہے ، اس بابت انگلیوں کے درمیان پانی پہنچنے نہ پہنچنے میں کوئی فرق نہیں۔

 

Translation

Sayyidina Aasim ibn Laqit ibn Sabirah (R.A) reported on the authority of his father the Prophet ﷺ said, "When you make ablution run your finger between your toes.


 حدیث 43

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْکَ وَرِجْلَيْکَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ


ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے بیچ خلال کرو ۔

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, "When you make ablution make Khilalof your fingers and toes

 

 حدیث 44

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيِّ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ دَلَکَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ


ترجمہ

مستورد بن شداد فہری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اپنے «خنصر» (ہاتھ کی چھوٹی انگلی) سے ملتے۔

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ابن لھیعہ کے طریق ہی سے جانتے ہیں۔

 

Translation

Sayyidina Mustawrid ibn Shaddad Fihri (RA) said that he observed the Prophet ﷺ that when he performed ablution he rubbed his toes with his little finger.



 باب ما جاء ويل للأعقاب


  حدیث 45

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ جَزْئٍ الزُّبَيْدِيُّ وَمُعَيْقِيبٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ 


 حدیث 46

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنْ النَّارِ قَالَ وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَی الْقَدَمَيْنِ إِذَا لَمْ يَکُنْ عَلَيْهِمَا خُفَّانِ أَوْ جَوْرَبَانِ


ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی برتنے والوں کے لیے خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے

امام ترمذی کہتے ہیں : ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں عبداللہ بن عمر، عائشہ، جابر، عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی معیقیب، خالد بن ولید، شرحبیل بن حسنہ، عمرو بن العاص اور یزید بن ابی سفیان سے بھی احادیث آئی ہیں،  نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ ان ایڑیوں اور قدم کے تلوؤں کے لیے جو وضو میں سوکھی رہ جائیں خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ پیروں کا مسح جائز نہیں اگر ان پر موزے یا جراب نہ ہوں۔

 

وضاحت 

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر پیروں میں موزے یا جراب نہ ہو تو ان کا دھونا واجب ہے ، مسح کافی نہیں جیسا کہ شیعوں کا مذہب ہے ، کیونکہ اگر مسح سے فرض ادا ہوجاتا تو نبی اکرم ﷺ «ويل للأعقاب وبطون الأقدام من النار» نہ فرماتے۔


Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, "Woe to the ankles in the Fire" (if they remain dry after ablution)


 

 باب ما جاء في الوضوء مرة مرة


  حدیث 47

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَهَنَّادٌ وَقُتَيْبَةُ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح قَالَ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَبُرَيْدَةَ وَأبِي رَافِعٍ وَابْنِ الْفَاکِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسَنُ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ


 حدیث 48

وَرَوَی رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً قَالَ وَلَيْسَ هَذَا بِشَيْئٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَی ابْنُ عَجْلَانَ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو ایک ایک بار دھوئے

امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عمر، جابر، بریدۃ، ابورافع، اور ابن الفاکہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  ابن عباس کی یہ حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے،  رشدین بن سعد وغیرہ بسند «ضحاک بن شرحبیل عن زید بن اسلم عن أبیہ» سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں

نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا ، یہ (روایت) کچھ بھی نہیں ہے صحیح وہی روایت ہے جسے ابن عجلان، ہشام بن سعد، سفیان ثوری اور عبدالعزیز بن محمد نے بسند «زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔


وضاحت 

 یہ فرض تعداد ہے نبی اکرم ﷺ کبھی کبھی بیان جواز کے لیے ایسا کرتے تھے ، ورنہ سنت دو مرتبہ اور تین مرتبہ دھونا ہے۔
یعنی اعضائے وضو کو دھونے کے بارے میں زید بن اسلم کے طریق سے جو روایت آتی ہے ، اس کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ وہ مذکورہ سند سے ابن عباس (رض) کی مسند سے ہے ، نہ کہ عمر (رض) کی مسند سے ، رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں۔


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) .(RA) said that the Prophet ﷺ washed each limb once (in ablution)

باب ماجاء في الوضوء مرتين مرتين


 حدیث 49

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ هُوَ الْأَعْرَجُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ أَبُو عِيسَی


 حدیث 50


 وَقَدْ رَوَی هَمَّامٌ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا


ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ 

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، اس باب میں جابر (رض) سے بھی روایت ہے، ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے 

 ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے

 

وضاحت 

 ہمام بن یحییٰ اور عامر الاحول دونوں سے وہم ہوجایا کرتا تھا ، تو ایسا نہ ہو کہ اس روایت میں ان دونوں میں سے کسی سے وہم ہوگیا ہو اور بجائے دو دو کے تین تین روایت کردی ہو ، ویسے ابوہریرہ (رض) سے ایک دوسری

 ( ضعیف ) سند سے ابن ماجہ ( رقم : ٤١٥) میں ایسی ہی روایت ہے۔

 

Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) said that the Prophet ﷺ washed the limbs twice during ablution.


باب ما جاء في الوضوء ثلاثا ثلاثا


  حدیث 51

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ وَالرُّبَيِّعِ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي رَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ وَمُعَاوِيَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ أَحْسَنُ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوُضُوئَ يُجْزِئُ مَرَّةً مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ أَفْضَلُ وَأَفْضَلُهُ ثَلَاثٌ وَلَيْسَ بَعْدَهُ شَيْئٌ و قَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ لَا آمَنُ إِذَا زَادَ فِي الْوُضُوئِ عَلَی الثَّلَاثِ أَنْ يَأْثَمَ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ لَا يَزِيدُ عَلَی الثَّلَاثِ إِلَّا رَجُلٌ مُبْتَلًی


ترجمہ

علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔

امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عثمان، عائشہ، ربیع، ابن عمر، ابوامامہ، ابورافع، عبداللہ بن عمرو، معاویہ، ابوہریرہ، جابر، عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  علی (رض) کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے کیونکہ یہ علی (رض) سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے، دو دو بار افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھونا ہے، اس سے آگے کی گنجائش نہیں

 ابن مبارک کہتے ہیں : جب کوئی اعضائے وضو کو تین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو (دیوانگی اور وسوسہ) میں مبتلا ہوگا

 

وضاحت 

اگر کسی کو شک ہوجائے کہ تین بار دھویا ہے یا دو ہی بار ، تب بھی اسی پر اکتفا کرے کیونکہ اگر تین بار نہیں دھویا ہوگا تو دو بار تو دھویا ہی ہے ، جو کافی ہے۔


Translation

Sayyidina Ali (RA) said that the Prophet ﷺ washed each limb during ablution three times.


باب ماجاء في الوضوء مرة ومرتين وثلاثا


 حدیث 52

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَی الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَکَ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا ثَلَاثًا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَبُو عِيسَی وَرَوَی وَکِيعٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَکَ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً قَالَ نَعَمْ و حَدَّثَنَا بِذَلِکَ هَنَّادٌ وَقُتَيْبَةُ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّة قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيکٍ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا عَنْ ثَابِتٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَکِيعٍ وَشَرِيکٌ کَثِيرُ الْغَلَطِ وَثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ هُوَ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ


ترجمہ

ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا : کیا جابر (رض) نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں (بیان کیا ہے) ۔

(سند میں ابو حمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی، و اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے)

یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے، میں نے ابو جعفر (محمد بن علی بن حسین الباقر) سے پوچھا کہ آپ سے جابر (رض) نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا  جی ہاں۔

امام ترمذی کہتے ہیں : اور یہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ثابت سے وکیع کی روایت کی طرح اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، اور شریک کثیر الغلط راوی ہیں۔

 

Translation

Sayyidina Thabit ibn Abu Safiyah (RA) narrated that he asked Abu Jafar if Sayyidina Jabir (RA); had narrated to him the hadith that the Prophet ﷺ (RA) performed ablution washing the limbs once, twice and thrice each. He answered, "Yes."Abu Eesa said , “ Waki has also narrated this hadith from Thabit bin Abu Sufyan (RA) that he asked Abu Jafar and got a confirmatory response. He said that Qutaybah and Hannad had narrated the hadith from Waki on the authority of Thabit


باب فيمن توضا بعض وضوثه مرتين وبعضه ثلاثا 


 حدیث 53

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذُکِرَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بَعْضَ وُضُوئِهِ مَرَّةً وَبَعْضَهُ ثَلَاثًا وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِکَ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بَعْضَ وُضُوئِهِ ثَلَاثًا وَبَعْضَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ مَرَّةً


ترجمہ

عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں پیر دو دو بار دھوئے۔

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے،  اس کے علاوہ اور بھی حدیثوں میں یہ بات مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے بعض اعضائے وضو کو ایک ایک بار اور بعض کو تین تین بار دھویا،  بعض اہل علم نے اس بات کی اجازت دی ہے، ان کی رائے میں وضو میں بعض اعضاء کو تین بار، بعض کو دو بار اور بعض کو ایک بار دھونے میں کوئی حرج نہیں۔

 

Translation

Sayyidina Abdullah ibn Zayd,(RA) narrated that while performing ablution, the Prophet ﷺ washed his face three times and hands twice. Then he wiped his head and washed his feet (twice)


باب في وضوء النبي كيف كان

 

 حدیث 54

حَدَّثَنَا َقُتَيْبَةُ و هَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّيْهِ حَتَّی أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَی الْکَعْبَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَکُمْ کَيْفَ کَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالرُّبَيِّعِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ وَعَائِشَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ذَکَرَ عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي حَيَّةَ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ کَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طُهُورِهِ أَخَذَ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ بِکَفِّهِ فَشَرِبَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِي حَيَّةَ وَعَبْدِ خَيْرٍ وَالْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ وَقَدْ رَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثَ الْوُضُوئِ بِطُولِهِ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَرَوَی شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ فَأَخْطَأَ فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ فَقَالَ مَالِکُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ مَالِکِ بْنِ عُرْفُطَةَ مِثْلُ رِوَايَةِ شُعْبَةَ وَالصَّحِيحُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ


ترجمہ

ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا  پھر کہا : میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو کیسے ہوتا تھا۔

عبد خیر نے بھی علی (رض) سے، ابوحیہ کی حدیث ہی کی طرح روایت کی ہے، مگر عبد خیر کی روایت میں ہے کہ جب وہ اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو بچے ہوئے پانی کو انہوں نے اپنے چلو میں لیا اور اسے پیا۔ امام ترمذی نے اس حدیث کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں  اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔


وضاحت 

 صحیح بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ علی (رض) نے کہا : لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو جائز نہیں سمجھتے ، حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے کیا ہے ، اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ، کھڑے ہو کر کبھی کبھی پانی پینا جائز ہے ، وضو سے بچے ہوئے پانی میں برکت ہوتی ہے اس لیے آپ نے اسے پیا اور کھڑے ہو کر پیا تاکہ لوگ یہ عمل دیکھ لیں ، نہ یہ کہ وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر ہی پینا چاہیئے۔

 


Translation

Sayyidina Abu Hayyah (RA) reported that he observed Sayyidina Ali (RA) perform ablution. He washed his both hands thoroughly, rinsed his mouth thrice, snuffed w up his nostrils thrice, washed his face thrice, washed both arms including elbows thrice, wiped head once and washed both feet including ankles. Then he stood up and drank the remaining water, saying, "I wished to show you how the Prophet ﷺ performed his ablution.

Qutaybah and Hannad reported from Abul Ahwas who from Abu Ishaq who from Abd Khayr on the authority of Sayyidina Ali a hadith similar to Abu Hayyahs hadith, but Abd Khayr has reported some more words : (When he had fini performing ablution, he took some of the remaining water in his palm and drank it).


باب في النضح بعد الوضوء

 

  حدیث 55

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ السَّلِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَائَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍ الْهَاشِمِيُّ مُنْکَرُ الْحَدِيثِ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الْحَکَمِ بْنِ سُفْيَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ و قَالَ بَعْضُهُمْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَکَمِ أَوْ الْحَکَمُ بْنُ سُفْيَانَ وَاضْطَرَبُوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ


ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل نے آ کر کہا : اے محمد ! جب آپ وضو کریں تو (شرمگاہ پر) پانی چھڑک لیں

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ حسن بن علی الھاشمی منکر الحدیث راوی ہیں  اس حدیث کی سند میں لوگ اضطراب کا شکار ہیں، اس باب میں ابوالحکم بن سفیان، ابن عباس، زید بن حارثہ اور ابو سعید خدری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔


وضاحت 

 اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے یہ وسوسہ ختم ہوجاتا ہے کہ شاید شرمگاہ کے پاس کپڑے میں جو نمی ہے وہ ہو نہ ہو پیشاب کے قطروں سے ہو ، اور ظاہر بات ہے کہ وضو کے بعد اس طرح کی نمی ملنے پر یہ شک ہوگا ، لیکن اگر پیشاب کے بعد اور وضو سے پہلے نمی ہوگی تو وہ پیشاب ہی کی ہوگی۔ حسن بن علی نوفلی ہاشمی کی وجہ سے ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث ضعیف ہے ، مگر اس باب میں دیگر صحابہ سے فعل رسول ثابت ہے۔



Translation

Sayyidna Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ . said "Jibril came to me and said: "O Muhammad ﷺ ! When you perform ablution, sprinkle water.


باب في إسباغ الوضوء

 

 حدیث 56 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عَلَی الْمَکَارِهِ وَکَثْرَةُ الْخُطَا إِلَی الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ نَحْوَهُ و قَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبِيدَةَ وَيُقَالُ عُبَيْدَةُ بْنُ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ الْجُهَنِيُّ الْحُرَقِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ


 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں جن سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں نہیں، آپ ضرور بتائیں، آپ ﷺ نے فرمایا : ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا

 اور مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی سرحد کی حقیقی پاسبانی ہے

اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے اس طرح روایت ہے، لیکن قتیبہ نے اپنی روایت میں تین بار کہا ہے۔

«فذلکم الرباط فذلکم الرباط فذلکم الرباط» 

امام ترمذی کہتے ہیں 

 ابوہریرہ (رض) کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، عبیدہ - یا عبیدہ بن عمرو عائشہ، عبدالرحمٰن بن عائش الحضرمی اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


وضاحت 

 ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنے کا مطلب ہے سخت سردی میں اعضاء کا مکمل طور پر دھونا ، یہ طبیعت پر نہایت گراں ہوتا ہے اس کے باوجود مسلمان محض اللہ کی رضا کے لیے ایسا کرتا ہے اس لیے اس کا اجر زیادہ ہوتا ہے۔ مسجد کا قرب بعض اعتبار سے مفید ہے لیکن گھر کا مسجد سے دور ہونا اس لحاظ سے بہتر ہے کہ جتنے قدم مسجد کی طرف اٹھیں گے اتنا ہی اجر و ثواب زیادہ ہوگا یعنی یہ تینوں اعمال اجر و ثواب میں سرحدوں کی پاسبانی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی طرح ہیں ، یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سرحدوں کی نگرانی کے سبب دشمن ملک کے اندر گھس نہیں پاتا اسی طرح ان اعمال پر مواظبت سے شیطان نفس پر غالب نہیں ہو پاتا۔

 

Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, "Shall I not tell you of something by which Allah erases sins and elevates ranks?" They (the sahabah) said, Of course, O Messenger of Allah! ﷺ " He said, "To perfect ablution even in trying conditions, to go towards mosques very often and to wait for the next salah after offering one. This is ribat (guarding the frontiers)."

 Qutaybah reported to us that Abdul Azizi ibn Muhammad also reported in like manner from Ala, except that Qutaybah repeats the words (This is ribat) three times.


باب المنديل بعد الوضوء


  حدیث 57

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ عَنْ أَبِي مُعَاذٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا بَعْدَ الْوُضُوئِ وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ


ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے آپ وضو کے بعد اپنا بدن پونچھتے تھے

امام ترمذی کہتے ہیں : عائشہ (رض) کی روایت درست نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے، ابومعاذ سلیمان بن ارقم محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اس باب میں معاذ بن جبل (رض) سے بھی روایت ہے۔


وضاحت 

یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، نیز اس باب میں وارد کوئی بھی صریح حدیث صحیح نہیں ہے جیسا کہ امام ترمذی نے صراحت کی ہے ، مگر ام سلمہ (رض) کی حدیث جو صحیحین کی حدیث سے اس سے اس کے جواز پر استدلال کیا گیا ہے ، اس میں ہے کہ غسل سے فراغت کے بعد ام سلمہ نے نبی اکرم ﷺ کو تولیہ پیش کیا تو آپ نے نہیں لیا ، اس سے ثابت ہوا کہ غسل کے بعد تولیہ استعمال کرنے کی عادت تھی تبھی تو ام سلمہ (رض) نے پیش کیا ، مگر اس وقت کسی وجہ سے آپ نے اسے استعمال نہیں کیا اور ایسا بہت ہوتا ہے۔

 

Translation

Sayyidah Aisha (RA) said that Allahs Messenger ﷺ had a cloth with which he dried his limbs after (having performed) ablution.

 

  حدیث 58

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي التَّمَنْدُلِ بَعْدَ الْوُضُوئِ وَمَنْ کَرِهَهُ إِنَّمَا کَرِهَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ قِيلَ إِنَّ الْوُضُوئَ يُوزَنُ وَرُوِيَ ذَلِکَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُجَاهِدٍ عَنِّي وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ عَنْ ثَعْلَبَة عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ إِنَّمَا کُرِهَ الْمِنْدِيلُ بَعْدَ الْوُضُوئِ لِأَنَّ الْوُضُوئَ يُوزَنُ


ترجمہ

معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو چہرے کو اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے۔

امام ترمذی کہتے ہیں :  یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے، رشدین بن سعد اور عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم الافریقی دونوں حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں،  صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کے ایک گروہ نے وضو کے بعد رومال سے پونچھنے کی اجازت دی ہے، اور جن لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے تو محض اس وجہ سے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے : وضو کو (قیامت کے دن) تولا جائے گا، یہ بات سعید بن مسیب اور زہری سے روایت کی گئی ہے،  زہری کہتے ہیں کہ وضو کے بعد تولیہ کا استعمال اس لیے مکروہ ہے کہ وضو کا پانی (قیامت کے روز) تولا جائے گا


وضاحت 

اس معنی میں بھی کوئی مرفوع صحیح حدیث وارد نہیں ہے ، اور قیامت کے دن وزن کیے جانے کی بات اجر و ثواب کی بات ہے کوئی چاہے تو اپنے طور پر یہ اجر حاصل کرے ، لیکن اس سے یہ کہاں سے ثابت ہوگیا کہ تولیہ کا استعمال ہی مکروہ ہے

 

Translation

Sayyidina Mua’dh ibn Jabal (RA) said ,I observed the Prophet ﷺ wipe his face face with the edge of his garment after performing ablution.


باب ما يقال بعد الوضوء

 

  حدیث 59

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ وَأَبِي عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنْ الْمُتَطَهِّرِينَ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَائَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَرَوَی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عُمَرَ وَعَنْ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عُمَرَ وَهَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ وَلَا يَصِحُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ کَبِيرُ شَيْئٍ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا


ترجمہ

عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہا ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے 

«أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين»
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے ۔

تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو ۔

امام ترمذی کہتے ہیں :  اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر (رضی اللہ عنہا ) سے بھی احادیث آئی ہیں، 

 امام ترمذی نے عمر (رضی اللہ عنہا ) کی حدیث کے طرق ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے،  اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم ﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہیں



وضاحت 

عمر (رضی اللہ عنہا ) کی اس حدیث کی تخریج امام مسلم نے اپنی صحیح میں ایک دوسری سند سے کی ہے ( رقم : ٢٣٤) اور اس میں «اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» کا اضافہ نہیں ہے ، اور یہ روایت اضطراب سے پاک اور محفوظ ہے ، احناف اور شوافع نے اپنی کتابوں میں ہر عضو کے دھونے کے وقت جو الگ الگ دعائیں نقل کی ہیں : مثلاً چہرہ دھونے کے وقت «اللهم بيض وجهي يوم تبيض وجوه» اور دایاں ہاتھ دھونے کے وقت «اللهم أعطني کتابي في يميني وحاسبني حساباً يسيراً» ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔

ترمذی کی سند میں ابو ادریس کی روایت براہ راست عمر (رضی اللہ عنہا ) سے ہے ، لیکن زید بن حباب ہی سے مسلم کی بھی روایت ہے مگر اس میں ابو ادریس کے بعد جبیر بن نفیر عن عقبہ بن عامر ، عن عمر ہے جیسا کہ ترمذی نے خود تصریح کی ہے ، بہرحال ترمذی کی روایت میں «اللهم أجعلني …» کا اضافہ بزار اور طبرانی کے یہاں ثوبان (رضی اللہ عنہا ) کی حدیث میں موجود ہے ، حافظ ابن حجر نے اس کو تلخیص میں ذکر کر کے سکوت اختیار کیا ہے۔


Translation

Sayyidina Umar ibn al-Khattab (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, “ anyone performs ablution and makes it a perfect ablution and says (I bear witness that there is no God besides Allah who is the One, Who has no partner and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger. O Allah! Cause me to be among those who repent and cause me to be among who purify themselves), then all eight doors of Paradise are opened for him that he may enter whichever door he chooses


باب الوضوء بالمد


  حدیث 60

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَعَليُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ عَنْ سَفِينَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَفِينَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو رَيْحَانَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ وَهَکَذَا رَأَی بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوئَ بِالْمُدِّ وَالْغُسْلَ بِالصَّاعِ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ لَيْسَ مَعْنَی هَذَا الْحَدِيثِ عَلَی التَّوَقِّي أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَکْثَرُ مِنْهُ وَلَا أَقَلُّ مِنْهُ وَهُوَ قَدْرُ مَا يَکْفِي

 

ترجمہ

سفینہ (رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے

امام ترمذی کہتے ہیں سفینہ کی حدیث حسن صحیح ہے

اس باب میں عائشہ، جابر اور انس بن مالک (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

بعض اہل علم کی رائے یہی ہے کہ ایک مد پانی سے وضو کیا جائے اور ایک صاع پانی سے غسل، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصود تحدید نہیں ہے کہ اس سے زیادہ یا کم جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ مقدار ایسی ہے جو کافی ہوتی ہے

 

وضاحت 

مد ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے اور صاع چار مد کا ہوتا ہے جو موجودہ زمانہ کے وزن کے حساب سے ڈھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔

مسلم میں ایک «فرق» پانی سے نبی اکرم ﷺ کے غسل کرنے کی روایت بھی آئی ہے ، «فرق» ایک برتن ہوتا تھا جس میں لگ بھگ سات کلو پانی آتا تھا ، ایک روایت میں تو یہ بھی مذکور ہے کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا ) اور نبی اکرم ﷺ دونوں ایک «فرق» پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے ، یہ سب آدمی کے مختلف حالات اور مختلف آدمیوں کے جسموں پر منحصر ہے ، ایک ہی آدمی جاڑا اور گرمی ، یا بدن کی زیادہ یا کم گندگی کے سبب کم و بیش پانی استعمال کرتا ہے ، نیز بعض آدمیوں کے بدن موٹے اور لمبے چوڑے ہوتے ہیں اور بعض آدمیوں کے ناٹے اور دبلے پتلے ہوتے ہیں ، اس حساب سے پانی کی ضرورت پڑتی ہے ، بہرحال ضرورت سے زیادہ خواہ مخواہ پانی نہ بہائے۔

  

Translation

Sayyidinah Safinah (RA) narrated that the Prophet ﷺ performed ablution with a mudd of water and the purifying bath with a sa’ of water.


باب کراهية الإسراف في الوضوء


   حدیث 61

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْوُضُوئِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ الْوَلَهَانُ فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَائِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ لَأَنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ خَارِجَةَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْحَسَنِ قَوْلَهُ وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئٌ وَخَارِجَةُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَکِ


ترجمہ

ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وضو کے لیے ایک شیطان ہے، اسے ولہان کہا جاتا ہے، تم اس کے وسوسوں کے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے بچو ۔

امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن مغفل (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں ابی بن کعب کی حدیث غریب ہے

- اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ کے علاوہ کسی اور نے اسے مسنداً روایت کیا ہو، یہ حدیث دوسری اور سندوں سے حسن (بصریٰ ) سے موقوفاً مروی ہے (یعنی اسے حسن ہی کا قول قرار دیا گیا ہے) اور اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز صحیح نہیں اور خارجہ ہمارے اصحاب کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ابن مبارک نے ان کی تضعیف کی ہے۔

 

وضاحت 

امام ترمذی جب «اصحابنا» کہتے ہیں تو اس سے محدثین مراد ہوتے ہیں۔

 

Translation

Sayyidina Ubayy ibn Kab(RA) narrated that the Prophet ﷺ said,

"There is adevil for ablution called Walahan. So, beware of temptations caused about water."

  

ولهان


یہ ولہ سے تحير کے معنی میں ہے ۔ اسکو ولہان
اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ حیران ہوتا ہے کہ کس طرح اور کس تدبیر سے انسان کو گمراہ کرے اور وسوسہ ڈالے يا اس لیے ولہان کہتے ہیں کیوں کہ جسکو یہ وسوسہ ڈالتا ہے وہ حیران ہوتا ہے ۔

قرآن پاک میں مسرفین ( یعنی اسراف کرنے والوں ) کو
اخوان الشیاطین قرار دیا ہے ۔

باب الوضوء لكل صلاة


   حدیث 62

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ فَکَيْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ قَالَ کُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوئًا وَاحِدًا قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالْمَشْهُورُ عَنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَقَدْ کَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَی الْوُضُوئَ لِکُلِّ صَلَاةٍ اسْتِحْبَابًا لَا عَلَی الْوُجُوبِ


ترجمہ

انس (رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بےوضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس (رضی اللہ عنہ ) سے پوچھا : آپ لوگ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے

امام ترمذی کہتے ہیں

حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔


وضاحت

ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے
بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔

 

Translation

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ used to make ablution for every salah whether he already was in a state of ablution or not.

 

   حدیث 63

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأنْصَارِيِّ قَال سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ قُلْتُ فَأَنْتُمْ مَا کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ کُلَّهَا بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ


ترجمہ

عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے (انس سے) پوچھا : پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔


Translation

Sayyidina Amr ibn Aamir Ansari (RA) reported that he heard Sayyidina Anas ibn Malik (RA) say “The Prophet ﷺ used to perform ablution for every Salah”. He asked , “ What was your practice?” He said, “We let one ablution serve us many salah till the ablution was nullified”


   حدیث 64

وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ عَلَی طُهْرٍ کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ قَالَ وَرَوَی هَذَا الْحَدِيثَ الْأَفْرِيقِيُّ عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ عَنْ الْأَفْرِيقِيِّ وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ذَکَرَ لِهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ فَقَالَ هَذَا إِسْنَادٌ مَشْرِقِيٌ

 

ترجمہ

عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے،
علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں : انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے

میں نے احمد بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے : میں نے اپنی آنکھ سے یحییٰ بن سعید القطان کے مثل کسی کو نہیں دیکھا۔


وضاحت

اس حدیث کے رواۃ مدینہ کے لوگ نہیں ہیں بلکہ اہل مشرق ( اہل کوفہ اور بصرہ ) ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے معتبر نہیں ہیں جتنا اہل مدینہ ہیں


Translation

It is reported in a hadith of Sayyidina Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ said "If anyone who is in a state of ablution, made a fresh ablution then Allah records for him ten pieties."


باب ما جاء أنه يصلي الصلوات بوضوء واحد


   حدیث 65

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا کَانَ عَامُ الْفَتْحِ صَلَّی الصَّلَوَاتِ کُلَّهَا بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّکَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَکُنْ فَعَلْتَهُ قَالَ عَمْدًا فَعَلْتُهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرَوَی هَذَا الْحَدِيثَ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً قَالَ وَرَوَی سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاةٍ وَرَوَاهُ وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَکِيعٍ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ وَکَانَ بَعْضُهُمْ يَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاةٍ اسْتِحْبَابًا وَإِرَادَةَ الْفَضْلِ وَيُرْوَی عَنْ الْأَفْرِيقِيِّ عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ عَلَی طُهْرٍ کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِوُضُوئٍ وَاحِدٍ


ترجمہ

بریدہ (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے ۔


امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے 
 اور اس حدیث کو علی بن قادم نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا  
سفیان ثوری نے بسند «محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» (مرسلاً روایت کیا ہے) کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے  
- اور اسے وکیع نے بسند «سفیان عن محارب عن سلیمان بن بریدہ عن بریدہ» سے روایت کیا ہے
نیز اسے عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ نے بسند «سفیان عن محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت وکیع کی روایت سے زیادہ صحیح ہے

اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں، جب تک «حدث» نہ ہو

 بعض اہل علم استحباب اور فضیلت کے ارادہ سے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے،

 نیز عبدالرحمٰن افریقی نے بسند «ابی غطیفعن ابن عمر» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو وضو پر وضو کرے گا تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا اس حدیث کی سند ضعیف ہے 

اس باب میں جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک وضو سے ظہر اور عصر دونوں پڑھیں۔


Translation

Sayyidina Sulayman ibn Buraida (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ used to perform ablution for every salah. When Makkah was liberated, he offered several salah with one ablution and wiped over his socks. Sayyidina Umer (RA) said, “You did something that you never used to do before”. He said. “I did it on purpose”


باب في وضوء الرجل والمرأة من إناء واحد


   حدیث 66

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ قَالَتْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَائِ أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأُمِّ هَانِئٍ وَأُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَبُو الشَّعْثَائِ اسْمُهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ


ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہٗ ) کہتے ہیں کہ مجھ سے میمونہ (رضی اللہ عنہا ) نے بیان کیا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے 

امام ترمذی کہتے ہیں 

 یہ حدیث حسن صحیح ہے  اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں

  اس باب میں علی، عائشہ، انس، ام ہانی، ام حبیبہ، ام سلمہ اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔


وضاحت 

اور غسل جائز ہے تو وضو بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) ,(RA) reported that Sayyidah Maymunah (RA) told him that she and the Prophet ﷺ had the purification bath from the same vessel.


باب كراهية فضل طهور المرأة 

 

   حدیث 67

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي حَاجِبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَکَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَائِ الْوُضُوئَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ کَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا


ترجمہ

قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے (وضو کرنے سے) منع فرمایا ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں
اس باب میں عبداللہ بن سرجس (رض) سے بھی روایت ہے

بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔

 

Translation

A man from Bani Ghifar reported that the Prophet ﷺ forbade use of water after a woman has purified herself from it.

 

   حدیث 68

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَاصِمٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ يُحَدِّثُ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ أَوْ قَالَ بِسُؤْرِهَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ وَلَمْ يَشُکَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ


ترجمہ

حکم بن عمرو غفاری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا : عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔

امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن ہے
اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے
اور محمد بن بشار نے اس روایت میں - «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا


وضاحت

اس نہی سے نہی تنزیہی مراد ہے ، یعنی نہ استعمال کرنا بہتر ہے ، اس پر قرینہ وہ احادیث ہیں جو جواز پر دلالت کرتی ہیں ، یا یہ ممانعت محمول ہوگی اس پانی پر جو اعضائے وضو سے گرتا ہے کیونکہ وہ «ماء» مستعمل استعمال ہوا پانی ہے

مطلب یہ کہ محمود بن غیلان کی روایت شک کے صیغے کے ساتھ ہے اور محمد بن بشار کی بغیر شک کے صیغے سے۔


Translation

Sayyidina Hakam ibn Amr Ghifari (RA) narrated that the Prophet ﷺ disallowed man to make ablution with the water remaining after a woman has made ablution bath) from it. Or, he disallowed her left-over after drinking.


باب الرخصة في ذلك


   حدیث 69

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ إِنَّ الْمَائَ لَا يُجْنِبُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِکٍ وَالشَّافِعِيِّ


ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رضی اللّٰہ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی نے ایک لگن (ٹب) سے (پانی لے کر) غسل کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس (بچے ہوئے پانی) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا پانی جنبی نہیں ہوتا

امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔


وضاحت

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے طہارت ( غسل اور وضو ) حاصل کرنا جائز ہے۔


Translation

Sayyidina Abbas (RA) narrated that one of the Prophets ﷺ wives (RA) bathed from a large tub. The Prophet ﷺ then intended to perform ablution from it, but she said, "O Messenger of Allah! ﷺ I was sexually defiled." He said, "Water is not polluted."

باب ما جاء أن الماء لا ينجسه شيء 


   حدیث 70

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَی فِيهَا الْحِيَضُ وَلُحُومُ الْکِلَابِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَائَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْئٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ جَوَّدَ أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ يَرْوِ أَحَدٌ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ أَحْسَنَ مِمَّا رَوَی أَبُو أُسَامَةَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ


ترجمہ

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں سے وضو کریں اور حال یہ ہے وہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں آ کر گرتی ہیں  

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی
امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن ہے
بئر بضاعہ والی ابو سعید خدری کی یہ حدیث جس عمدگی کے ساتھ ابواسامہ نے روایت کی ہے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے
یہ حدیث کئی اور طریق سے ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے
اس باب میں ابن عباس اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔

 

وضاحت

بئر بضاعہ مدینہ کے ایک مشہور کنویں کا نام ہے۔

«إن الماء طهور» میں «المائ» میں جو لام ہے وہ عہد کا لام ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سائل کے ذہن میں جس کنویں کا پانی ہے وہ نجاست گرنے سے پاک نہیں ہوگا کیونکہ اس کنویں کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی اور اس میں ناف سے اوپر پانی رہتا تھا اور جب کم ہوتا تو ناف سے نیچے ہوجاتا ، جیسا کہ امام ابوداؤد (رح) نے اپنی سنن میں اس کا ذکر کیا ہے ، یہ ہے کہ جب پانی کثیر مقدار میں ہو ( یعنی دو قلہ سے زیادہ ہو ) تو محض نجاست کا گر جانا اسے ناپاک نہیں کرتا ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مطلق پانی میں نجاست گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوگا ، چاہے وہ کم ہو ، یا چاہے اس کا مزہ اور مہک بدل جائے۔

مولف کا مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث ابو سعید خدری (رض) سے کئی طرق سے مروی ہے ان میں سب سے بہتر طریق یہی ابواسامہ والا ہے ، تمام طرق سے مل کر یہ حدیث صحیح ( لغیرہ ) کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔

 

Translation

Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) narrated that someone asked, "O Messenger Of Allah! May we make ablution out of the well of Budaah?" This was a well into which Menstrual cloths, dead dogs, and stinking things were thrown. So, Allahs Messenger ﷺ said, Water is pure. Nothing defiles it.

باب منه آخر


   حدیث 71

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ الْمَائِ يَکُونُ فِي الْفَلَاةِ مِنْ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ قَالَ عَبْدَةُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْقُلَّةُ هِيَ الْجِرَارُ وَالْقُلَّةُ الَّتِي يُسْتَقَی فِيهَا قَالَ أَبُو عِيسَی وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالُوا إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْئٌ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ رِيحُهُ أَوْ طَعْمُهُ وَقَالُوا يَکُونُ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ


ترجمہ

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا جو میدان میں ہوتا ہے اور جس پر درندے اور چوپائے آتے جاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا

جب پانی دو قلہ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دے گا، اسے دفع کر دے گا

محمد بن اسحاق کہتے ہیں : قلہ سے مراد گھڑے ہیں اور قلہ وہ (ڈول) بھی ہے جس سے کھیتوں اور باغات کی سینچائی کی جاتی ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں  یہی قول شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پانی دو قلہ ہو تو اسے کوئی چیز نجس نہیں کرسکتی جب تک کہ اس کی بویا مزہ بدل نہ جائے، اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دو قلہ پانچ مشک کے قریب ہوتا ہے۔


وضاحت 

 قلّہ کے معنی مٹکے کے ہیں ، یہاں مراد قبیلہ ہجر کے مٹکے ہیں ، کیونکہ عرب میں یہی مٹکے مشہور و معروف تھے ، اس مٹکے میں ڈھائی سو رطل پانی سمانے کی گنجائش ہوتی تھی ، لہٰذا دو قلوں کے پانی کی مقدار پانچ سو رطل ہوئی جو موجودہ زمانہ کے پیمانے کے مطابق دو کو ئنٹل ستائیس کلو گرام ہوتی ہے

کچھ لوگوں نے «لم يحمل الخبث» کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ نجاست اٹھانے سے عاجز ہوگا یعنی نجس ہوجائے گا ، لیکن یہ ترجمہ دو اسباب کی وجہ سے صحیح نہیں ، ایک یہ کہ ابوداؤد کی ایک صحیح روایت میں

«اذابلغ الماء قلتین فإنہ لاینجس»
ہے یعنی : اگر پانی اس مقدار سے کم ہو تو نجاست گرنے سے ناپاک ہوجائے گا ، چاہے رنگ مزہ اور بو نہ بدلے ، اور اگر اس مقدار سے زیادہ ہو تو نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوگا ، الا یہ کہ اس کا رنگ ، مزہ ، اور بو بدل جائے ، لہٰذا یہ روایت اسی پر محمول ہوگی اور «لم يحمل الخبث» کے معنی «لم ينجس» کے ہوں گے ، دوسری یہ کہ «قلتين» دو قلے سے نبی اکرم ﷺ نے پانی کی تحدید فرما دی ہے اور یہ معنی لینے کی صورت میں تحدید باطل ہوجائے گی کیونکہ قلتین سے کم اور قلتین دونوں ایک ہی حکم میں آ جائیں گے۔

 

Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ was asked about water in the desert lands at which birds and wild beasts come frequently. He said, "If the water is as much as will fill two pitchers then it bears no impurity."


باب کراهية البول في الماء الراکد


   حدیث 72

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِي الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ


ترجمہ

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
تم میں سے کوئی آدمی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرے ۔

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں جابر (رض) سے بھی روایت ہے۔

 

وضاحت 

ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد ایسا پانی ہے جو دریا کی طرح جاری نہ ہو جیسے حوض اور تالاب وغیرہ کا پانی ، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہوگا ، یہ پانی کم ہو یا زیادہ اس میں نجاست ڈالنے سے بچنا چاہیئے تاکہ اس میں مزید بدبو نہ ہو ، ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے بھی سرانڈ پیدا ہوجاتی ہے ، اگر اس میں نجاست ( گندگی ) ڈال دی جائے تو اس کی سڑاند بڑھ جائے گی اور اس سے اس کے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔

 

Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said,

"None of you must pass urine in motionless water from which he will make ablution."

باب ما جاء في ماء البحر أنه طهور 


   حدیث 73

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَائِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَائِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَالْفِرَاسِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ الْفُقَهَائِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِمَائِ الْبَحْرِ وَقَدْ کَرِهَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوئَ بِمَائِ الْبَحْرِ مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو هُوَ نَارٌ

 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے، تو کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سمندر کا پانی پاک ہے، اور اس کا مردار حلال ہے


امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں جابر بن عبداللہ اور فراسی (رض) سے بھی روایت ہے
اور یہی صحابہ کرام (رض) میں سے اکثر فقہاء کا قول ہے جن میں ابوبکر، عمر اور ابن عباس بھی ہیں کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں، بعض صحابہ کرام نے سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ جانا ہے، انہیں میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ہیں عبداللہ بن عمرو کا کہنا ہے کہ سمندر کا پانی آگ ہے۔



وضاحت
 

 یعنی «طاہر» (پاک ) اور «مطہر» (پاک کرنے والا ) دونوں ہے۔
سمندر کے مردار سے مراد وہ سمندری اور دریائی جانور ہے جو صرف پانی ہی میں زندہ رہتا ہو ، نیز مردار کا لفظ عام ہے ہر طرح کے جانور جو پانی میں رہتے ہوں خواہ وہ کتے اور خنزیر کے شکل کے ہی کے کیوں نہ ہوں ، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد صرف مچھلی ہے ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : دو مردے حلال ہیں : مچھلی اور ٹڈی ، اور بعض علماء کہتے ہیں کہ خشکی میں جس حیوان کے نظیر و مثال جانور کھائے جاتے وہی سمندری مردار حلال ہے ، لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ سمندر کا ہر وہ جانور ( زندہ یا مردہ ) حلال ہے جو انسانی صحت کے لیے عمومی طور پر نقصان دہ نہ ہو ، اور نہ ہی خبیث قسم کا ہو جیسے کچھوا ، اور کیکڑا وغیرہ ، یہ دونوں اصول ضابطہٰ سمندری غیر سمندری ہر طرح کے جانور کے لیے ہیں۔

 

Translation

Safwan inb Sulaym reported on the authority of Sa’eed ibn Salamah of the descendants of ibn al Azraq that Mughirah ibn Abu burdah Abdad Dar informed him that he heard Sayyidina Abu Hurraira say that a man said to Allah’s messenger ﷺ , “ O then we would go thirsty. May we make ablution with sea water?” He said ,” Its water is pure and its dead are lawful food”


باب التشديد في البول

 

  حدیث 74

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ وَقُتَيْبَةُ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ قَال سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی قَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي کَبِيرٍ أَمَّا هَذَا فَکَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا هَذَا فَکَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي مُوسَی وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي بَکْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرَوَی مَنْصُورٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ عَنْ طَاوُسٍ وَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ قَالَ و سَمِعْت أَبَا بَکْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ الْبَلْخِيَّ مُسْتَمْلِي وَکِيعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَکِيعًا يَقُولُ الْأَعْمَشُ أَحْفَظُ لِإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ


ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ دونوں قبر والے عذاب دیئے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے (کہ جس سے بچنا مشکل ہوتا) رہا یہ تو یہ اپنے پیشاب سے بچتا نہیں تھا اور رہا یہ تو یہ چغلی کیا کرتا تھا

 

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے

اس باب میں ابوہریرہ، ابوموسیٰ ، عبدالرحمٰن بن حسنہ، زید بن ثابت، اور ابوبکرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔


وضاحت

  یعنی پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کرتا تھا ، پیشاب کے چھینٹے اس کے بدن یا کپڑوں پر پڑجایا کرتے تھے ، جو قبر میں عذاب کا سبب بنے ، اس لیے اس کی احتیاط کرنی چاہیئے ، اور یہ کوئی بہت بڑی اور مشکل بات نہیں۔ چغلی خود گرچہ بڑا گناہ ہے مگر اس سے بچنا کوئی مشکل بات نہیں ، اس لحاظ سے فرمایا کہ کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے ہیں۔

 

Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ passed by two graves. He said, “Both of them are punished, but not for a great sin. This one, here, was not careful to avoid drops of urine defiling him. And this other went about slandering people.”


باب ماجاء في نضح بول الغلام قبل أن يطعم


   حدیث 75

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْکُلْ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَائٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَزَيْنَبَ وَلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبِي السَّمْحِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي لَيْلَی وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالُوا يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا


ترجمہ

ام قیس بنت محصن (رض) کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا اس نے آپ پر پیشاب کردیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا۔


امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں علی، عائشہ، زینب، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث، ابوالسمح، عبداللہ بن عمرو، ابولیلیٰ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔

 

وضاحت 

یعنی اس کی غذا صرف دودھ تھی ، ابھی اس نے کھانا شروع نہیں کیا تھا۔

  

Translation

Sayyidah Umm Qays bint Mihsan (RA) said that she took her young son who was not yet weaned to Allah’s messenger ﷺ . He passed urine on the Prophet’s garment, so he called for water and sprinkled it (on his garment).


باب ما جاء في بول ما يؤكل لحمه  


   حدیث 76

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ وَقَتَادَةُ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَقَالَ اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَأُتِيَ بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ قَالَ أَنَسٌ فَکُنْتُ أَرَی أَحَدَهُمْ يَکُدُّ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّی مَاتُوا وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ يَکْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّی مَاتُوا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْکَلُ لَحْمُهُ

 

ترجمہ

انس (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زکاۃ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا : تم ان کے دودھ اور پیشاب پیو (وہ وہاں گئے اور کھا پی کر موٹے ہوگئے) تو ان لوگوں نے آپ ﷺ کے چرواہے کو مار ڈالا، اونٹوں کو ہانک لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہوگئے، انہیں (پکڑ کر) نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور گرم تپتی ہوئی زمین میں انہیں پھینک دیا۔ انس (رض) کہتے ہیں : میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ (وہ پیاس بجھانے کے لیے) اپنے منہ سے زمین چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مرگئے۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور کئی سندوں سے انس سے مروی ہے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں


وضاحت 

 یعنی اس کا پیشاب نجس نہیں ضرورت پر علاج میں اس کا استعمال جائز ہے ، اور یہی محققین محدثین کا قول ہے ، ناپاکی کے قائلین کے دلائل محض قیاسات ہیں۔


Translation

Sayyidina Anas (RA) reported that some people of Uraynah came to MadiMadinah did not suit them. So, the Prophet ﷺ sent them to the shed of the camels of zakah saying, "Drink their milk and urine." But, they killed the Prophets ﷺ camel-grazer and took the camels away, and apostatised from Islam. When they presented to the Prophet ﷺ he ordered that their hands and feet on the opposite must be severed, and hot iron rods must be rubbed in their eyes.They were then consigned to Harrah.

 

   حدیث 77

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْتَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَهُمْ لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَکَرَهُ غَيْرَ هَذَا الشَّيْخِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَهُوَ مَعْنَی قَوْلِهِ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ إِنَّمَا فَعَلَ بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ


ترجمہ

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس لیے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔

امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث غریب ہے، اور اللہ تعالیٰ کے فرمان «والجروح قصاص» کا یہی مفہوم ہے، محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ حدود (سزاؤں) کے نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔

 

Translation

Anas (RA) said that the Prophet ﷺ gouged out their eyes because they had gouged out the eyes of the camelherd.

باب ما جاء في الوضوء من الريح


   حدیث 78

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا وُضُوئَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے

امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 

وضاحت 

 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شک کی وجہ سے کہ ہوا خارج ہوئی یا نہیں وضو نہیں ٹوٹتا ، اور اس سے ایک اہم اصول کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ ہر چیز اپنے حکم پر قائم رہتی ہے جب تک اس کے خلاف کوئی بات یقین و وثوق سے ثابت نہ ہوجائے ، محض شبہ سے حکم نہیں بدلتا۔

 

Translation

Sayyidina Abu hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said , “It is not necessary to make ablution till one makes a sound or one breaks wind”


   حدیث 79

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رِيحًا بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ فَلَا يَخْرُجْ حَتَّی يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا

 

ترجمہ 

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو اور وہ اپنی سرین سے ہوا نکلنے کا شبہ پائے تو وہ (مسجد سے) نہ نکلے جب تک کہ وہ ہوا کے خارج ہونے کی آواز نہ سن لے، یا بغیر آواز کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا کی بو نہ محسوس کرلے

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں عبداللہ بن زید، علی بن طلق، عائشہ، ابن عباس، ابن مسعود اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں
اور یہی علماء کا قول ہے کہ وضو «حدث» ہی سے واجب ہوتا ہے کہ وہ «حدث» کی آواز سن لے یا بو محسوس کرلے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب «حدث» میں شک ہو تو وضو واجب نہیں ہوتا، جب تک کہ ایسا یقین نہ ہوجائے کہ اس پر قسم کھا سکے، نیز کہتے ہیں کہ جب عورت کی اگلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہو تو اس پر وضو واجب ہوجاتا ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔


وضاحت 

مقصود یہ ہے کہ انسان کو ہوا خارج ہونے کا یقین ہوجائے خواہ ان دونوں ذرائع سے یا کسی اور ذریعہ سے ، ان دونوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر محض اس لیے کیا گیا ہے کہ اس باب میں عام طور سے یہی دو ذریعے ہیں جن سے اس کا یقین ہوتا ہے۔

 

Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said , “ When one of you is in the mosque and has doubts that he has broken wind then he must not go out till he has heard a sound or perceives a smell

 

   حدیث 80

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ أَحَدِکُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّی يَتَوَضَّأَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ الْعُلَمَائِ أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوئُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ يَسْمَعُ صَوْتًا أَوْ يَجِدُ رِيحًاو قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ إِذَا شَکَّ فِي الْحَدَثِ فَإِنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوئُ حَتَّی يَسْتَيْقِنَ اسْتِيقَانًا يَقْدِرُ أَنْ يَحْلِفَ عَلَيْهِ وَقَالَ إِذَا خَرَجَ مِنْ قُبُلِ الْمَرْأَةِ الرِّيحُ وَجَبَ عَلَيْهَا الْوُضُوئُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَقَ

 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
جب تم میں کسی کو «حدث» ہوجائے (یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے) تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 

وضاحت

اسی جملہ میں باب سے مطابقت ہے ، یعنی : ہوا کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے


Translation

Sayyidina Abu hurayrah (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying , “If one of you has nullified his ablution then Allah does not accept his salah till he performs ablution


باب الوضوء من النوم


  حدیث 81

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَی کُوفِيٌّ وَهَنَّادٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْمَعْنَی وَاحِدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّی غَطَّ أَوْ نَفَخَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ قَدْ نِمْتَ قَالَ إِنَّ الْوُضُوئَ لَا يَجِبُ إِلَّا عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ


ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں سو گئے یہاں تک کہ آپ خرانٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو سو گئے تھے ؟ آپ نے فرمایا : وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے اس لیے کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں

 

امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔


وضاحت  

چت لیٹنے کی صورت میں ہوا کے خارج ہونے کا شک بڑھ جاتا ہے جب کہ ہلکی نیند میں ایسا نہیں ہوتا ، یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ، مگر اس کے لیٹ کر سونے سے وضو ٹوٹ جانے والے ٹکڑے کی تائید دیگر روایات سے ہوتی ہے۔

  

Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that he observed the Prophet ﷺ sleeping while he was in prostration. He was snoring or taking long breaths. Then he stood up continued to offer salah. He said, "O Messenger of Allah! ﷺ ! You had gone to sleep.He replied "Ablution is wajib for one who sleeps lying down because his joints are relaxed when he lies down."


   حدیث 82

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ و سَمِعْت صَالِحَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَکِ عَمَّنْ نَامَ قَاعِدًا مُعْتَمِدًا فَقَالَ لَا وُضُوئَ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رَوَی حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَاخْتَلَفَ الْعُلَمَائُ فِي الْوُضُوئِ مِنْ النَّوْمِ فَرَأَی أَکْثَرُهُمْ أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوئُ إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا حَتَّی يَنَامَ مُضْطَجِعًا وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدُ قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا نَامَ حَتَّی غُلِبَ عَلَی عَقْلِهِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوئُ وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَقُ و قَالَ الشَّافِعِيُّ مَنْ نَامَ قَاعِدًا فَرَأَی رُؤْيَا أَوْ زَالَتْ مَقْعَدَتُهُ لِوَسَنِ النَّوْمِ فَعَلَيْهِ الْوُضُوئُ

 

ترجمہ 

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔

 امام ترمذی کہتے ہیں 

 یہ حدیث حسن صحیح ہے، میں نے صالح بن عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو انہوں نے کہا کہ اس پر وضو نہیں، ابن عباس والی حدیث کو سعید بن ابی عروبہ نے بسند «قتادہ عن ابن عباس» (موقوفاً ) روایت کیا ہے اور اس میں ابولعالیہ کا ذکر نہیں کیا ہے، نیند سے وضو کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے کہ کوئی کھڑے کھڑے سو جائے تو اس پر وضو نہیں جب تک کہ وہ لیٹ کر نہ سوئے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد کہتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جب نیند اس قدر گہری ہو کہ عقل پر غالب آ جائے تو اس پر وضو واجب ہے اور یہی اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، شافعی کا کہنا ہے کہ جو شخص بیٹھے بیٹھے سوئے اور خواب دیکھنے لگ جائے، یا نیند کے غلبہ سے اس کی سرین اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اس پر وضو واجب ہے

 


وضاحت

ان تینوں میں راجح پہلا مذہب ہے۔

 

Translation

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) said that the sahabah of Allahs Messenger ﷺ slept, then got up and offered salah without making ablution.


باب الوضوء مما غيرت النار 


   حدیث 83

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوئُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ وَلَوْ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ الدُّهْنِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ الْحَمِيمِ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وأُمِّ سَلَمَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي طَلْحَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي مُوسَی قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رَأَی بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوئَ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ وَأَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَی تَرْکِ الْوُضُوئِ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ

 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے اگرچہ وہ پنیر کا کوئی ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ، اس پر ابن عباس نے ان سے کہا : ابوہریرہ (رض) (بتائیے) کیا ہم گھی اور گرم پانی (کے استعمال) سے بھی وضو کریں ؟ تو ابوہریرہ (رض) نے کہا : بھتیجے ! تم جب رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث سنو تو اس پر (عمل کرو) باتیں نہ بناؤ۔ (اور مثالیں بیان کر کے قیاس نہ کرو)


امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں ام حبیبہ، ام سلمہ، زید بن ثابت، ابوطلحہ، ابوایوب انصاری اور ابوموسیٰ اشعری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، لیکن صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ اس سے وضو نہیں، (دلیل اگلی حدیث ہے)

 

Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said,

ablution becomes wajib on eating something cooked on fire, even a piece of qurut." Sayyidina lbn Abbas (RA) asked Sayyidina Abu Hurairah (RA), "Shall we make ablution after consuming oil and using hot water?" So, he said, "Nephew! When you hear a hadith of the Prophet ﷺ (RAW) do not cite example for that."

باب في ترك الوضوء مما غيرت النار

 

   حدیث 84

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ سَمِعَ جَابِرًا قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَی امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً فَأَکَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ فَأَکَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَتْهُ بِعُلَالَةٍ مِنْ عُلَالَةِ الشَّاةِ فَأَکَلَ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي رَافِعٍ وَأُمِّ الْحَکَمِ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَأُمِّ عَامِرٍ وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَکْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَکٍّ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَکَذَا رَوَاهُ الْحُفَّاظُ وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ عَطَائُ بْنُ يَسَارٍ وَعِکْرِمَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَهَذَا أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ رَأَوْا تَرْکَ الْوُضُوئِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوئِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ

 

ترجمہ

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مدینہ میں) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے (اسے) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے (اسے بھی) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔

صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ ﷺ کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے


وضاحت

سوائے اونٹ کے گوشت کے ، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے ، اونٹ کے گوشت میں ایک خاص قسم کی بو اور چکناہٹ ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے ناقض وضو کہا گیا ہے ، اس سلسلے میں وارد وضو کو صرف ہاتھ منہ دھو لینے کے معنی میں لینا شرعی الفاظ کو خواہ مخواہ اپنے حقیقی معنی سے ہٹانا ہے۔


Translation

Sayyidina Jabir (RA) said that he was with Allahs Messenger ﷺ once. He visited an Ansar woman who slaughtered for him a goat and he ate it. Then she brought a plate of dates from which he ate. He performed ablution for the salah of Dhuhr and prayed it. He returned and she again brought the remaining meat. He ate of it. Then he offered the salah of asr but did not perform ablution.


باب الوضوء من لحوم الإبل


   حدیث 85

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوُضُوئِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ فَقَالَ تَوَضَّئُوا مِنْهَا وَسُئِلَ عَنْ الْوُضُوئِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ فَقَالَ لَا تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رَوَی الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَرَوَی عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ ذِي الْغُرَّةِ الْجُهَنِيِّ وَرَوَی حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأَخْطَأَ فِيهِ وَقَالَ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ إِسْحَقُ صَحَّ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثُ الْبَرَائِ وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ


ترجمہ

براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اس سے وضو نہ کرو ۔


امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے

اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ ﷺ سے دو حدیثیں صحیح ہیں : ایک براء بن عازب کی (جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ٤- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے

 

وضاحت

لوگ اوپر والی روایت کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہاں وضو سے مراد وضو لغوی ہے ، لیکن یہ بات درست نہیں ، اس لیے کہ وضو ایک شرعی لفظ ہے جسے بغیر کسی دلیل کے لغوی معنی پر محمول کرنا درست نہیں

 

Translation

Sayyidina Bara bin Aazib (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ was asked about making ablution after eating camel flesh. He said, “Make ablution after that”. Then he was asked about mutton. He said, “It is not necessary after that.”


باب الوضوء من مس الذكر


   حدیث 86

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَسَّ ذَکَرَهُ فَلَا يُصَلِّ حَتَّی يَتَوَضَّأَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وأَرْوَی ابْنَةِ أُنَيْسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ هَکَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُسْرَةَ وَرَوَی أَبُو أُسَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَرْوَانَ عَنْ بُسْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا وَرَوَی هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُسْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُسْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ بُسْرَةَ و قَالَ أَبُو زُرْعَةَ حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ الْعَلَائِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ و قَالَ مُحَمَّدٌ لَمْ يَسْمَعْ مَکْحُولٌ مِنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَرَوَی مَکْحُولٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَنْبَسَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَکَأَنَّهُ لَمْ يَرَ هَذَا الْحَدِيثَ صَحِيحًا


ترجمہ

بسرہ بنت صفوان (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنی شرمگاہ (عضو تناسل) چھوئے تو جب تک وضو نہ کرلے نماز نہ پڑھے ۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں بسرہ کی حدیث حسن صحیح ہے

اس باب میں ام حبیبہ، ابوایوب، ابوہریرہ، ارویٰ بنت انیس، عائشہ، جابر، زید بن خالد اور عبداللہ بن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
کئی لوگوں نے اسے اسی طرح ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے اور عروہ نے بسرہ سے روایت کیا ہے


وضاحت

ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہشام کے بعض شاگردوں نے عروہ اور بسرۃ کے درمیان کسی اور واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور بعض نے عروہ اور بسرۃ کے درمیان مروان کے واسطے کا ذکر کیا ہے ، جن لوگوں نے عروۃ اور بسرۃ کے درمیان کسی اور واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے ان کی روایت منقطع نہیں ہے کیونکہ عروہ کا بسرۃ سے سماع ثابت ہے ، پہلے عروہ نے اسے مروان کے واسطے سے سنا پھر بسرۃ سے جا کر انہوں نے اس کی تصدیق کی جیسا کہ ابن خزیمہ اور ابن حبان کی روایت میں اس کی صراحت ہے۔

 

Translation

Sayyidina Hisham ibn Urwah ﷺ narrated that his father reported from Sayyidah Busrah bint Safwan (RA) that the Prophet ﷺ said, "If anyone touches his penis then he must not offer salah till he has performed ablution."Abu Usamah and many others have reported this hadith from Hisham ibn Urwah (RA) who from his father who from Sayyidah Busrah (RA) and she from the Prophet ﷺ .Abdur Rahman ibn Abu az-Zinad, reported it from his father, from Urwah from Sayyidah Busrah (RA) who from the Prophet ﷺ in like manner


باب ترك الوضوء من مس الذكر


   حدیث 87

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ هُوَ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضِ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوئَ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْکُوفَةِ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَسَنُ شَيْئٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَقَدْ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ وَقَدْ تَکَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ وَأَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ وَحَدِيثُ مُلَازِمِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ أَصَحُّ وَأَحْسَنُ

 

ترجمہ 

طلق بن علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (عضو تناسل کے سلسلے میں) فرمایا : یہ تو جسم ہی کا ایک لوتھڑا یا ٹکڑا ہے

 

امام ترمذی کہتے ہیں
اس باب میں ابوامامہ (رض) سے بھی روایت ہے
صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے نیز بعض تابعین سے بھی مروی ہے کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو واجب نہیں، اور یہی اہل کوفہ اور ابن مبارک کا قول ہے
اس باب میں مروی احادیث میں سے یہ سب سے اچھی حدیث ہے،
ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے بھی اس حدیث کو قیس بن طلق نے «عن أبیہ» سے روایت کیا ہے۔ بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے سلسلے میں کلام کیا ہے
ملازم بن عمرو کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن بدر سے روایت کیا ہے، سب سے صحیح اور اچھی ہے


وضاحت

اس حدیث اور پچھلی حدیث میں تعارض ہے ، اس تعارض کو محدثین نے ایسے دور کیا ہے کہ طلق بن علی کی یہ روایت بسرہ (رض) کی روایت سے پہلے کی ہے ، اس لیے طلق (رض) کی حدیث منسوخ ہے ، رہی ان تابعین کی بات جو عضو تناسل چھونے سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہیں ہیں ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو بسرہ کی حدیث نہیں پہنچی ہوگی۔ کچھ علما نے اس تعارض کو ایسے دور کیا ہے کہ بسرہ کی حدیث بغیر کسی حائل ( رکاوٹ ) کے چھونے کے بارے میں ہے ، اور طلق کی حدیث بغیر کسی حائل ( پردہ ) کے چھونے کے بارے میں ہے۔


طلق بن علی (رض) کی اس حدیث کے تمام طریق میں ملازم والا طریق سب سے بہتر ہے ، نہ یہ کہ بسرہ کی حدیث سے طلق کی حدیث بہتر ہے۔


Translation

Sayyidina Qays ibn Talq ibn Ali Hanafi (RA) reported from his father from the Prophet ﷺ that he said, "It is but a part of his body." (The narrator is confused whether he said ‘part’ or ‘no difference in it


باب ترك الوضوء من القبلة


   حدیث 88

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ قُلْتُ مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ قَالَ فَضَحِکَتْ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ قَالُوا لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوئٌ و قَالَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوئٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَإِنَّمَا تَرَکَ أَصْحَابُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا لِأَنَّهُ لَا يَصِحُّ عِنْدَهُمْ لِحَالِ الْإِسْنَادِ قَالَ و سَمِعْت أَبَا بَکْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْکُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَالَ ضَعَّفَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ جِدًّا وَقَالَ هُوَ شِبْهُ لَا شَيْئَ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ و قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ 


  حدیث 89

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا وَلَا نَعْرِفُ لِإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْئٌ

 

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا، پھر آپ نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ سے) کہا : وہ آپ ہی رہی ہوں گی ؟ تو وہ ہنس پڑیں۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم سے اسی طرح مروی ہے اور یہی قول سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا ہے کہ بوسہ لینے سے وضو (واجب) نہیں ہے، مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے سے وضو (واجب) ہے، یہی قول صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا ہے،
ہمارے اصحاب نے عائشہ (رض) کی حدیث پر جو نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے محض اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں
یحییٰ بن قطان نے اس حدیث کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ «لاشیٔ» کے مشابہ ہے

نیز میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) کو بھی اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا، انہوں نے کہا کہ حبیب بن ثابت کا سماع عروۃ سے نہیں ہے
نیز ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ عائشہ سے ابراہیم تیمی کے سماع کا ہمیں علم نہیں۔ اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔

 

وضاحت

یعنی آپ نے سابق وضو ہی پر نماز پڑھی ، بوسہ لینے سے نیا وضو نہیں کیا ، اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور یہی قول راجح ہے۔


Translation

Sayyidina Urwah reported from Sayyidah Aisha (RA) that she said that Prophet ﷺ kissed one of his wives and without making (fresh) ablution stood up for Salah. Urwah said that he remarked, "Who could that be but you." She laughed.


باب الوضوء من القيء والرعاف

 

  حدیث 90 

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْکُوفِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائَ فَأَفْطَرَ فَتَوَضَّأَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوئَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی و قَالَ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَابْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رَأَی غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ مِنْ التَّابِعِينَ الْوُضُوئَ مِنْ الْقَيْئِ وَالرُّعَافِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ فِي الْقَيْئِ وَالرُّعَافِ وُضُوئٌ وَهُوَ قَوْلُ مَالِکٍ وَالشَّافِعِيِّ وَقَدْ جَوَّدَ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ حُسَيْنٍ أَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَرَوَی مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ فَقَالَ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ الْأَوْزَاعِيَّ وَقَالَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَإِنَّمَا هُوَ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ


ترجمہ

ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قے کی تو روزہ توڑ دیا اور وضو کیا (معدان کہتے ہیں کہ) پھر میں نے ثوبان (رض) سے دمشق کی مسجد میں ملاقات کی اور میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ابو الدرداء نے سچ کہا، میں نے ہی آپ ﷺ پر پانی ڈالا تھا۔


امام ترمذی کہتے ہیں
صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کی رائے ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو (ٹوٹ جاتا) ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے
اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو نہیں ٹوٹتا یہ مالک اور شافعی کا قول ہے
حدیث کے طرق کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حسین المعلم کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے

  

وضاحت

ان لوگوں کی دلیل باب کی یہی حدیث ہے ، لیکن اس حدیث سے استدلال دو باتوں پر موقوف ہے ایک یہ کہ حدیث میں لفظ یوں ہو «قاء فتوضأ» قے کی تو وضو کیا جب کہ یہ لفظ محفوظ نہیں ہے ، زیادہ تر مصادر حدیث میں زیادہ رواۃ کی روایتوں میں «قاء فأفطر» قے کی تو روزہ توڑ لیا ہے «فأفطر» کے بعد بھی «فتوضأ» کا لفظ نہیں ہے ، یا اسی طرح ہے جس طرح اس روایت میں ہے ، یعنی «قاء فأفطرفتوضأ» یعنی قے کی تو روزہ توڑ لیا ، اور اس کے بعد وضو کیا اور اس لفظ سے وضو کا وجوب ثابت نہیں ہوتا ، کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ قے کے بعد آدمی کمزور ہوجاتا ہے اس لیے روزہ توڑ لیتا ہے ، اور نظافت کے طور پر وضو کرلیتا ہے ، اور رسول اللہ ﷺ تو اور زیادہ نظافت پسند تھے ، نیز یہ آپ ﷺ کا صرف فعل تھا جس کے ساتھ آپ کا کوئی حکم بھی نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر «قاء فتوضأ» کا لفظ ہی محفوظ ہو تو «فتوضأ» کی فاء سبب کے لیے ہو ، یعنی یہ ہوا کہ قے کی اس لیے وضو کیا اور یہ بات متعین نہیں ہے ، بلکہ یہ فاء تعقیب کے لیے بھی ہوسکتی ہے ، یعنی یہ ہوا کہ قے کی اور اس کے بعد وضو کیا ۔


ان لوگوں کی دلیل جابر (رض) کی وہ روایت ہے جسے امام بخاری نے تعلیقاً ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ ذات الرقاع میں تھے کہ ایک شخص کو ایک تیر آ کر لگا اور خون بہنے لگا لیکن اس نے اپنی نماز جاری رکھی اور اسی حال میں رکوع اور سجدہ کرتا رہا ظاہر ہے اس کی اس نماز کا علم نبی اکرم ﷺ کو یقیناً رہا ہوگا کیونکہ اس کی یہ نماز بحالت پہرہ داری تھی جس کا حکم نبی اکرم ﷺ نے اسے دیا تھا ، اس کے باوجود آپ نے اسے وضو کرنے اور نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔

 

Translation

Sayyidina Abn Darda (RA) narrated that the Prophet ﷺ vomitted once and made ablution thereafter. Later he (Madat ibn Abu TaIhah, a sub-narrrator) met Sayyidina Thawban (RA) in a mosque at Damascus and mentioned this event. He said, "He (Abu Darda) is correct, for, I had poured the water for ablution.


باب الوضوء بالنبيذ


   حدیث 91

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي إِدَاوَتِکَ فَقُلْتُ نَبِيذٌ فَقَالَ تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَائٌ طَهُورٌ قَالَ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو زَيْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ لَا تُعْرَفُ لَهُ رِوَايَةٌ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ وَقَدْ رَأَی بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوئَ بِالنَّبِيذِ مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ إِسْحَقُ إِنْ ابْتُلِيَ رَجُلٌ بِهَذَا فَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ وَتَيَمَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَوْلُ مَنْ يَقُولُ لَا يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ أَقْرَبُ إِلَی الْکِتَابِ وَأَشْبَهُ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَالَ فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا

 

ترجمہ

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : تمہارے مشکیزے میں کیا ہے ؟ تو میں نے عرض کیا : نبیذ ہے ، آپ نے فرمایا : کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے تو آپ نے اسی سے وضو کیا

 

امام ترمذی کہتے ہیں

ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول آدمی ہیں اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ان سے جانی نہیں جاتی

بعض اہل علم کی رائے ہے نبیذ سے وضو جائز ہے انہیں میں سے سفیان ثوری وغیرہ ہیں، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبیذ سے وضو جائز نہیں

یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو یہی کرنا پڑجائے تو وہ نبیذ سے وضو کر کے تیمم کرلے، یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے

 

جو لوگ نبیذ سے وضو کو جائز نہیں مانتے ان کا قول قرآن سے زیادہ قریب اور زیادہ قرین قیاس ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے

فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا

جب تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرلو

(النساء : 43)

 

پوری آیت یوں ہے

يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتی تغتسلوا وإن کنتم مرضی أو علی سفر أو جاء أحد منکم من الغآئط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحواء بوجوهكم وأيديكم إن اللہ کان عفوا غفورا

 

وضاحت

نبیذ ایک مشروب ہے جو کھجور ، کشمش ، شہد گیہوں اور جو وغیرہ سے بنایا جاتا ہے۔
یہی جمہور علما کا قول ہے ، اور ان کی دلیل یہ ہے کہ نبیذ پانی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا
(سورة النساء : 43 )

 

تو جب پانی نہ ہو تو نبیذ سے وضو کرنے کے بجائے تیمم کرلینا چاہیئے 

اور باب کی اس حدیث کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے جو استدلال کے لیے احتجاج کے لائق نہیں۔



Translation

Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) said that Allahs Messenger ﷺ asked him "What do you have in your skin vessel?" He said that he had nabidh. The Prophet ﷺ said "Dates are pure and purify water." Then, he performed ablution with it.


باب المضمضة من ال لبن 


   حدیث 92

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَدَعَا بِمَائٍ فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَأَی بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةَ مِنْ اللَّبَنِ وَهَذَا عِنْدَنَا عَلَی الِاسْتِحْبَابِ وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ الْمَضْمَضَةَ مِنْ اللَّبَنِ


ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا تو پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا : اس میں چکنائی ہوتی ہے


امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

اس باب میں سہل بن سعد ساعدی، اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے، اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ہے۔

 

وضاحت

بعض لوگوں نے اسے واجب کہا ہے ، ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ ابن ماجہ کی ایک روایت ( رقم ٤٩٨) میں
مضمضوا من اللبن
امر کے صیغے کے ساتھ آیا ہے اور امر میں اصل وجوب ہے ، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب استحباب پر محمول کرنے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو اور یہاں استحباب پر محمول کئے جانے کی دلیل موجود ہے کیونکہ ابوداؤد نے ( برقم ١٩٦) انس سے ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا تو نہ کلی کی اور نہ وضو ہی کیا ، اس کی سند حسن ہے۔

 

Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ drank milk and then asked for water and rinsed his mouth. He said, “It is greasy


باب في كراهية رد السلام غير متوضئ


   حدیث 93

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا يُکْرَهُ هَذَا عِنْدَنَا إِذَا کَانَ عَلَی الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَلِکَ وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْئٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَائِ وَجَابِرٍ وَالْبَرَائِ


ترجمہ

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔


امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

اور ہمارے نزدیک سلام کا جواب دینا اس صورت میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے جب آدمی پاخانہ یا پیشاب کر رہا ہو، بعض اہل علم نے اس کی یہی تفسیر کی ہے

یہ سب سے عمدہ حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے

اور اس باب میں مہاجر بن قنفذ، عبداللہ بن حنظلہ، علقمہ بن شفواء، جابر اور براء بن عازب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں



وضاحت

اور یہی راجح ہے کہ آپ ﷺ پیشاب کی حالت میں ہونے کی وجہ سے جواب نہیں دیا ، نہ کہ وضو کے بغیر سلام کا جواب جائز نہیں ، اور جن حدیثوں میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فراغت کے بعد وضو کیا اور پھر آپ نے جواب دیا تو یہ استحباب پر محمول ہے ، نیز یہ بات آپ کو خاص طور پر پسند تھی کہ آپ اللہ کا نام بغیر طہارت کے نہیں لیتے تھے ، اس حدیث سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ پائخانہ پیشاب کرنے والے پر سلام ہی نہیں کرنا چاہیئے ، یہ حکم وجوبی ہے۔ 


Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that a man greeted the Prophet ﷺ with salaam while he was passing urine. So, he did not give him a reply.



باب ما جاء في سور الكلب 


   حدیث 94

حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَال سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يُغْسَلُ الْإِنَائُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْکَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَلَمْ يُذْکَرْ فِيهِ إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ


ترجمہ

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے
اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے


امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔


ابوہریرہ (رض) کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے

اس باب میں عبداللہ بن مغفل (رض) سے بھی روایت ہے۔



وضاحت

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھونا اور ایک بار مٹی سے دھونا واجب ہے یہی جمہور کا مسلک ہے ، احناف تین بار دھونے سے برتن کے پاک ہونے کے قائل ہیں ، ان کی دلیل دارقطنی اور طحاوی میں منقول ابوہریرہ (رض) کا فتویٰ ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے تین مرتبہ دھونا چاہیئے ، حالانکہ ابوہریرہ سے سات بار دھونے کا بھی فتویٰ منقول ہے اور سند کے اعتبار سے یہ پہلے فتوے سے زیادہ صحیح ہے ، نیز یہ فتویٰ روایت کے موافق بھی ہے ، اس لیے یہ بات درست نہیں ہے کہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں ان کے مرجوح فتوے اور رائے کو ترجیح دی جائے 

 


Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "When a dog laps a vessel wash it seven times, rubbing it with earth the first or the last time. If a cat puts its mouth into a vessel wash it once."

باب ما جاء في سؤر الهرة


   حدیث 95

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ کَبْشَةَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَتْ عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا قَالَتْ فَسَکَبْتُ لَهُ وَضُوئًا قَالَتْ فَجَائَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَی لَهَا الْإِنَائَ حَتَّی شَرِبَتْ قَالَتْ کَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْکُمْ أَوْ الطَّوَّافَاتِ وَقَدْ رَوَی بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِکٍ وَکَانَتْ عِنْدَ أَبِي قَتَادَةَ وَالصَّحِيحُ ابْنُ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ الْعُلَمَائِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ بَأْسًا وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْئٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَقَدْ جَوَّدَ مَالِکٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَلَمْ يَأْتِ بِهِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِکٍ


ترجمہ

کبشہ بنت کعب (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں) کہتی ہیں کہ ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے (ایک برتن) وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ (آسانی سے) پی لے، کبشہ کہتی ہیں : ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا : بھتیجی ! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : یہ (بلی) نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے


امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث مروی ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے

صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔


وضاحت

اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے ، بشرطیکہ اس کے منہ پر نجاست نہ لگی ہو ، اس حدیث میں بلی کو گھر کے خادم سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ خادموں کی طرح اس کا بھی گھروں میں آنا جانا بہت رہتا ہے ، اگر اسے نجس و ناپاک قرار دے دیا جاتا تو گھر والوں کو بڑی دشواری پیش آتی۔


Translation

Sayyidah Kabshah bint Kab ibn Malik (RA) wife of the son of Sayyidina Abu Qatadah (RA) narrated," Abu Qatadah visited us and I poured out water in a vessel for ablution he may make. A cat came and began to drink it. He tilted the vessel for it till she drank her fill. He saw me looking at him and asked if I was surprised. When I said that I was, he said that Allah’s Messenger ﷺ had said that it was not impure (or unclean) and it is one of those that go round us.


باب المسح على الخفين 


   حدیث 96

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقِيلَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ هَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي كَانَ يُعْجِبُهُمْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَحُذَيْفَةَ وَالْمُغِيرَةِ وَبِلَالٍ وَسَعْدٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَسَلْمَانَ وَبُرَيْدَةَ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَأَنَسٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ وَأَبِي أُمَامَةِ وَجَابِرٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَابْنِ عُبَادَةَ وَيُقَالُ ابْنُ عِمَارَةَ وَأُبَيُّ بْنُ عِمَارَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ جَرِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

 

ترجمہ

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ (رض) نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے کہا گیا : کیا آپ ایسا کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کام سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جریر (رض) کی یہ حدیث اچھی لگتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورة المائدہ کے نزول کے بعد کا ہے


امام ترمذی کہتے ہیں

جریر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے

اس باب میں عمر، علی، حذیفہ، مغیرہ، بلال، ابوایوب، سلمان، بریدۃ، عمرو بن امیہ، انس، سہل بن سعد، یعلیٰ بن مرہ، عبادہ بن صامت، اسامہ بن شریک، ابوامامہ، جابر، اسامہ بن زید، ابن عبادۃ جنہیں ابن عمارہ اور ابی بن عمارہ بھی کہا جاتا ہے (رض) سے بھی احادیث آئی
ہیں۔

 

وضاحت

اس حدیث سے موزوں پر مسح کا جواز ثابت ہوتا ہے ، موزوں پر مسح کی احادیث تقریباً اسی ( ٨٠) صحابہ کرام سے آئی ہیں جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں ، علامہ ابن عبدالبر نے اس کے ثبوت پر اجماع نقل کیا ہے ، امام کرخی کی رائے ہے کہ
مسح علی خفین
موزوں پر مسح کی احادیث تواتر تک پہنچی ہیں اور جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں مجھے ان کے کفر کا اندیشہ ہے ، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسح خفین کی حدیثیں آیت مائدہ سے منسوخ ہیں ان کا یہ قول درست نہیں کیونکہ
مسح علی خفین
کی حدیث کے راوی جریر (رض) آیت مائدہ کے نزول کے بعد اسلام لائے ، اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ یہ احادیث منسوخ ہیں بلکہ یہ آیت مائدہ کی مبیّن اور مخص ہیں ، یعنی آیت میں پیروں کے دھونے کا حکم ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو موزے نہ پہنے ہوں ، رہا موزے پر مسح کا طریقہ تو اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو پانی سے بھگو کر ان کے پوروں کو پاؤں کی انگلیوں سے پنڈلی کے شروع تک کھینچ لیا جائے۔

 


Translation

Sayyidina Hammam ibn Harith (RA) reported that when Sayyidina Jabir bin Abdullah (RA) performed ablution after he had passed urine, he merely wipe over his socks (instead of washing his feet). He was asked why he did so, he said, "What prevents me from it when I observed Allahs Messenger ﷺ do that?" The narrator said,” We regard this hadith highly because he embraced Islam after the revelation of surah al-Maidah, Shahr ibn Hawshab said that when he saw Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) perform ablution and wipe over his socks, he asked him about it and he said that he had seen the Prophet ﷺ do it. Shahr asked him, "Was it before al-Maidah was revealed, or after?" He said, “I embraced Islam after the revelation of al-Maidah

 

   حدیث 97

وَيُرْوَى عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقُلْتُ لَهُ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ فَقَالَ مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ الْمَائِدَةِ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ التِّرْمِذِيُّ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ وَرَوَى بَقِيَّةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَدْهَمَ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ جَرِيرٍ وَهَذَا حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ لِأَنَّ بَعْضَ مَنْ أَنْكَرَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ تَأَوَّلَ أَنَّ مَسْحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ وَذَكَرَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ

 

ترجمہ

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے جریر بن عبداللہ (رض) کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے جب ان سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے ان سے پوچھا : آپ کا یہ عمل سورة المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہے، یا بعد کا ؟ تو کہا : میں تو سورة المائدہ اترنے کے بعد ہی اسلام لایا ہوں، یہ حدیث آیت وضو کی تفسیر کر رہی ہے اس لیے کہ جن لوگوں نے موزوں پر مسح کا انکار کیا ہے ان میں سے بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے موزوں پر جو مسح کیا تھا وہ آیت مائدہ کے نزول سے پہلے کا تھا، جبکہ جریر (رض) نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے نزول مائدہ کے بعد نبی اکرم ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے

 


Translation

It has been related from Sahr bin Hawshah that he said:
I saw Jarir bin 'Abdullah performing Wudu and he wiped over his Khuff. I asked him about that. He replied, 'I saw 'I saw Allah's Messenger performing Wudu and he wiped over his Khuff.' So I said to him, before Surah AI-Ma'idah (was revealed) or after AI-Ma'idah?' So he replied, 'I did not acceot Islam until after Al-Ma'idah.' Qutaibah narrated this to us; (saying) Khalid bin Ziyad At-Tirmidhi narrated it to us, from Muqatil bin Hayyan, from Shahr bin Hawshah, from Jarir. He said: Baqiyyah related it from Ibrahim bin Adham from Muqatil bin Hayyan, from Shahr bin Hawshah, from Jarir. This Hadith is explanatory, because some who dislike wiping over the Khuff give the interpretation that the Prophet's wiping over the two Khuff was before the revelation of Sural Al-Ma'idah. But in his Hadlth, Jarir mentions that he saw the Prophet wiping over his Khuff after the revelation of Surat Al-Ma'idah


باب المسح على الخفين للمسافر والمقيم


   حدیث 98

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّيْنِ فَقَالَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةٌ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَذُکِرَ عَنْ يَحْيَی بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ صَحَّحَ حَدِيثَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمَسْحِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ وَيُقَالُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي بَکْرَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ وَعَوْفِ بْنِ مَالِکٍ وَابْنِ عُمَرَ وَجَرِيرٍ

 

ترجمہ

خزیمہ بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : مسافر کے لیے تین دن ہے اور مقیم کے لیے ایک دن

 


امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے

یحییٰ بن معین سے منقول ہے کہ انہوں نے مسح کے سلسلہ میں خزیمہ بن ثابت کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے،

اس باب میں علی، ابوبکرۃ، ابوہریرہ، صفوان بن عسال، عوف بن مالک، ابن عمر اور جریر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔

 

Translation

Sayyidina Khuzaymah ibn Thabit (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked about wiping over socks. He said, "It is three days for a traveler and one day for a resident."

 

   حدیث 99

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا کُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَی الْحَکَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ وَحَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَلَا يَصِحُّ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ حَدِيثَ الْمَسْحِ و قَالَ زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ کُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ وَمَعَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ فَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّيْنِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ أَحْسَنُ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ الْعُلَمَائِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ الْفُقَهَائِ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالُوا يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ لَمْ يُوَقِّتُوا فِي الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّيْنِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَالتَّوْقِيتُ أَصَحُّ

 

ترجمہ

صفوان بن عسال (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے

محمد بن اسماعیل (بخاری) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے

اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً : سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ (جب تک دل چاہے کرسکتا ہے) یہ مالک بن انس (رح) کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔

 

وضاحت

یہ حدیث موزوں پر مسح کی مدت کی تحدید پر دلالت کرتی ہے
مسافر کے لیے تین دن تین رات ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ، یہ مدت وضو کے ٹوٹنے کے وقت سے شمار ہوگی نہ کہ موزہ پہننے کے وقت سے ، حدث لاحق ہونے کی صورت میں اگر موزہ اتار لیا جائے تو مسح ٹوٹ جاتا ہے ، نیز مدت ختم ہوجانے کے بعد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

 

Translation

Sayyidina Safwan ibn AssaI (RA) said, “Allahs Messenger ﷺ used to command us that while we were traveling, we should not remove our socks for three days and three nights unless we were sexually defiled, but not (to remove them) if we had to answer natures call.


باب فی المسح علی الخفین اعلاہ واسفله


   حدیث 100


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ کَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ أَعْلَی الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ الْفُقَهَائِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِکٌ وَالشَّافِعِيُّ وَإِسْحَقُ وَهَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ لِأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَکِ رَوَی هَذَا عَنْ ثَوْرٍ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ کَاتِبِ الْمُغِيرَةِ مُرْسَلٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُذْکَرْ فِيهِ الْمُغِيرَةُ

 

ترجمہ

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے موزے کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا

 


امام ترمذی کہتے ہیں

صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے اور مالک، شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں


یہ حدیث معلول ہے۔ میں نے ابوزرعہ اور محمد بن اسماعیل (بخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے

 

نوٹ : ابن ماجہ (٥٥٠) ابوداود (١٦٥) میں غلطی سے موطأ، مسند احمد اور دارمی کا حوالہ آگیا ہے، جب کہ ان کتابوں میں مسح سے متعلق مغیرہ بن شعبہ کی متفق علیہ حدیث آئی ہے جس میں اوپر نیچے کی صراحت نہیں ہے، ہاں آگے آنے والی حدیث (٩٨) میں مغیرہ سے صراحت کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔

 


وضاحت

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے موزوں کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ امام ترمذی نے خود اس کی صراحت کردی ہے۔

مولف نے یہاں حدیث علت کی واضح فرمائی ہے ان سب کا ماحصل یہ ہے کہ یہ حدیث مغیرہ کی سند میں سے نہیں بلکہ کاتب مغیرہ ( تابعی ) سے مرسلاً مروی ہے ، ولید بن مسلم کو اس سلسلے میں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ کی مسند میں سے روایت کردیا ہے ، ترمذی نے
لم یسندہ عن ثوربن یزید غیر الولید بن مسلم
کہہ کر اسی کی وضاحت ہے۔

مغیرہ (رض) سے مسنداً روایت اس کے برخلاف ہے جو آگے آرہی ہے اور وہ صحیح ہے۔

 

 

Translation

Sayyidina Mughirah ibn Shu bah (RA) said that the Prophet ﷺ wiped the top of the socks and their bottom.


 

باب فی المسح علی الخفین ظاھرھما


  حدیث 101

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّيْنِ عَلَی ظَاهِرِهِمَا قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْکُرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَلَی ظَاهِرِهِمَا غَيْرَهُ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَکَانَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ يُشِيرُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ

 

ترجمہ

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا

 

امام ترمذی کہتے ہیں

مغیرہ (رض) کی حدیث حسن ہے
عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کا ذکر کرتا ہو
اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں
 

 

وضاحت 

اور یہ روایت متصلاً و مسنداً حسن صحیح ہے۔
یعنی «علی ظاهرهما» کے الفاظ ذکر کرنے میں عبدالرحمٰن بن ابی زناد منفرد ہیں۔

 


Translation

Sayyidina Mughlrah Ibn Shubah (RA) said, "I saw the Prophet ﷺ wipe over the top of the socks


 

باب فی المسح علی الجوربین والنعلین


   حدیث 102

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالُوا يَمْسَحُ عَلَی الْجَوْرَبَيْنِ وَإِنْ لَمْ تَکُنْ نَعْلَيْنِ إِذَا کَانَا ثَخِينَيْنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مُوسَی

 

ترجمہ

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور موزوں اور جوتوں پر مسح کیا۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے
کئی اہل علم کا یہی قول ہے اور سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاتابوں پر مسح کرے گرچہ جوتے نہ ہوں جب کہ پاتا بےموٹے ہوں
اس باب میں ابوموسیٰ (رض) سے بھی روایت آئی ہے
ابومقاتل سمرقندی کہتے ہیں کہ میں ابوحنیفہ کے پاس ان کی اس بیماری میں گیا جس میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے پانی منگایا، اور وضو کیا، وہ پاتا بےپہنے ہوئے تھے، تو انہوں نے ان پر مسح کیا، پھر کہا
آج میں نے ایسا کام کیا ہے جو میں نہیں کرتا تھا۔ میں نے پاتابوں پر مسح کیا ہے حالانکہ میں نے جوتیاں نہیں پہن رکھیں۔

 

Translation
Sayyidina Mughirah ibn Shubah (RA) reported that the Prophet ﷺ performed ablution and wiped his stockings and shoes.



باب ما جاء فی المسح علی العمامة 


  حدیث 103

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ قَالَ بَکْرٌ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ وَذَکَرَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنَّهُ مَسَحَ عَلَی نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ذَکَرَ بَعْضُهُمْ الْمَسْحَ عَلَی النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ وَلَمْ يَذْکُرْ بَعْضُهُمْ النَّاصِيَةَ و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةِ وَسَلْمَانَ وَثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَسٌ وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالُوا يَمْسَحُ عَلَی الْعِمَامَةِ قَالَ وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَقُولُ سَمِعْتُ وَکِيعَ بْنَ الْجَرَّاحِ يَقُولُ إِنْ مَسَحَ عَلَی الْعِمَامَةِ يُجْزِئُهُ لِلْأَثَرِ

 

ترجمہ

مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا۔
محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا ، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے۔


امام ترمذی کہتے ہیں

مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں عمرو بن امیہ، سلمان، ثوبان اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے۔ ان میں سے ابوبکر، عمر اور انس (رض) ہیں اور اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ (کچھ) سر کا بھی مسح کرے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں، وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کرلے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہوگا۔

 

 

Translation

Ibn Mughirah ibn Shubah (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ made ablution and wiped over his socks and turban.

 

   حدیث 104

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ هُوَ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّيْنِ فَقَالَ السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَی الْعِمَامَةِ فَقَالَ أَمِسَّ الشَّعَرَ الْمَائَ و قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ لَا يَمْسَحُ عَلَی الْعِمَامَةِ إِلَّا بِرَأْسِهِ مَعَ الْعِمَامَةِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ

 

ترجمہ

ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے دونوں موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا
میرے بھتیجے ! (یہ) سنت ہے۔ وہ کہتے ہیں اور میں نے عمامہ پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا بالوں کو چھوؤ۔

 

Translation
Qutaybah ibn Saeed reported to Bishr ibn Mufaddil, Abdur Rahman ibn Ishaq him, Abu Ubaydah ibn Muhammad ibn Ammar ibn Yasar from him that he asked Sayyidina ibn Abdullah (RA) about masah on socks. He said, "O Nisai ephew! This is Sunnah. "Then he asked about masah on the turban. He said, "It is necessary to touch the hair."

 

   حدیث 105

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ بِلَالٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَی الْخُفَّيْنِ وَ الْعِمَامَةِ

 

ترجمہ

بلال (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا۔

 


Translation
Sayyidina Bilal (RA) said that the Prophet ﷺ wiped over the socks and turban



باب ما جاء فی الغسل من الجنابة

  

  حدیث 106

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ فَأَکْفَأَ الْإِنَائَ بِشِمَالِهِ عَلَی يَمِينِهِ فَغَسَلَ کَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَائِ فَأَفَاضَ عَلَی فَرْجِهِ ثُمَّ دَلَکَ بِيَدِهِ الْحَائِطَ أَوْ الْأَرْضَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَی رَأْسِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَفَاضَ عَلَی سَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّی فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ


ترجمہ

ام المؤمنین میمونہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔

 

Translation
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported from his, maternal aunt, Sayyidah Maymunah (RA). She said, "I set out water for the Prophet ﷺ to have a bath (after being sexually defiled), He held the vessel in his left hand and poured water over his right hand and washed both hands. Then he dipped his hands in water and poured water on his sex organ. Then he rubbed his hands on the wall or earth. Then he rinsed his mouth, snuffed water and washed his face and both hands, and poured water over his head three times and then poured water over all his body. Then he moved a little to the side and washed his feet."

 

  حدیث 107

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَائَ ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُشَرِّبُ شَعْرَهُ الْمَائَ ثُمَّ يَحْثِي عَلَی رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ أَنَّهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَی رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَائَ عَلَی سَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَالُوا إِنْ انْغَمَسَ الْجُنُبُ فِي الْمَائِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَجْزَأَهُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ

 

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے، پھر شرمگاہ دھوتے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر بال پانی سے بھگوتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، اسی کو اہل علم نے غسل جنابت میں اختیار کیا ہے کہ وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے، پھر اپنے پورے بدن پر پانی بہائے، پھر اپنے پاؤں دھوئے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے، نیز ان لوگوں نے کہا کہ اگر جنبی پانی میں غوطہٰ مارے اور وضو نہ کرے تو یہ اسے کافی ہوگا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔

 

Translation
Sayyidah Aisha (RA) narrated that when Allahs Messenger ﷺ decided to have the purifying bath (after sexual defilement), he began by washing both hands before immersing them in the vessel. Then he washed his private parts and made ablution as he made for salah. Then he put his fingers into the water and moved them through his hair and then poured water on his head with both hands three times.


 

باب ھل تنقض المراة شعرھا عند الغسل


  حدیث 108

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ قَالَ لَا إِنَّمَا يَکْفِيکِ أَنْ تَحْثِينَ عَلَی رَأْسِکِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَی سَائِرِ جَسَدِکِ الْمَائَ فَتَطْهُرِينَ أَوْ قَالَ فَإِذَا أَنْتِ قَدْ تَطَهَّرْتِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ الْجَنَابَةِ فَلَمْ تَنْقُضْ شَعْرَهَا أَنَّ ذَلِکَ يُجْزِئُهَا بَعْدَ أَنْ تُفِيضَ الْمَائَ عَلَی رَأْسِهَا

 

ترجمہ

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول ! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں۔ کیا غسل جنابت کے لیے اسے کھولا کروں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری سر پر تین لپ پانی ڈال لینا ہی کافی ہے۔ پھر پورے بدن پر پانی بہا دو تو پاک ہوگئی، یا فرمایا جب تم ایسا کرلے تو پاک ہوگئی۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، اہل علم کا اسی پر عمل پر ہے کہ عورت جب جنابت کا غسل کرے، اور اپنے بال نہ کھولے تو یہ اس کے لیے اس کے بعد کہ وہ اپنے سر پر پانی بہا لے کافی ہوجائے گا

 


وضاحت

یہی جمہور کا مذہب ہے کہ عورت خواہ جنابت کا غسل کر رہی ہو یا حیض سے پاکی کا : کسی میں بھی اس کے لیے بال کھولنا ضروری نہیں لیکن حسن بصری اور طاؤس نے ان دونوں میں تفریق کی ہے ، یہ کہتے ہیں کہ جنابت کے غسل میں تو ضروری نہیں لیکن حیض کے غسل میں ضروری ہے ، اور عائشہ (رض) کی روایت کو جس میں رسول اللہ ﷺ نے ان سے «انقضی رأسک وامتشطي» فرمایا ہے جمہور نے استحباب پر محمول کیا ہے۔

  

Translation
Umm Salamah (RA) narrated that she said, "O Messenger of Allah ﷺ I am a woman who keeps her hair closely plaited. Shall I undo it when having a bath after sexual defilement?" He said, "No. It is enough for you to pour water over your head three times. Then pour water over the whole body. Thus, you are purified."


باب ما جاء ان تحت کل شعرة جنابة

 

   حدیث 109

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذَاکَ وَقَدْ رَوَی عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْأَئِمَّةِ وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مَالِکِ بْنِ دِينَارٍ وَيُقَالُ الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ وَيُقَالُ ابْنُ وَجْبَةَ

 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو ۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں علی اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔

 

وضاحت

اس لفظ قوی نہیں ہیں کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے ، ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں ، ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔ 


Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “There is sexual defilement under every hair, so wash the hair and cleanse your body.


باب فی الوضوء بعد الغسل 


   حدیث 110

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ أَنْ لَا يَتَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ

 

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا قول ہے کہ غسل کے بعد وضو نہ کرے۔

 

وضاحت 

یعنی درمیان غسل جو وضو کرچکا ہے وہ کافی ہے۔

 

Translation

Sayyidah Aisha (RA) said that the Prophet ﷺ did not perform ablution after having a bath.


 

باب ما جاء اذا التقی الختانان وجب الغسل 

 

  حدیث 111

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ

 

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام (عضو تناسل) عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہوگیا ، میں نے اور رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔

 

وضاحت

گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا ، پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہو تب غسل واجب ہوگا ، جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا ، دیکھئیے اگلی حدیث۔

 


Translation

Sayyidah Aisha (RA) said, "When the parts that are circumcised pass one another the purifying bath becomes wajib. Allahs Messenger ﷺ and I did that and then we had a bath.

 

  حدیث 112

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَعَائِشَةُ وَالْفُقَهَائِ مِنْ التَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالُوا إِذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ

 

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہوگیا ۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے, کئی سندوں سے عائشہ (رض) کی نبی اکرم ﷺ مرفوع حدیث مروی ہے کہ جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، ان میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور عائشہ (رض) بھی شامل ہیں، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بھی اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ جب دونوں ختنوں کے مقام آپس میں چھو جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔

 

Translation

Sayyidah Aisha (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, "When the parts that are circumcised pass one another, it becomes wajib to have a bath."


باب ما جاء ان الماء من الماء 

 

  حدیث 113

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ إِنَّمَا کَانَ الْمَائُ مِنْ الْمَائِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا کَانَ الْمَائُ مِنْ الْمَائِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِکَ وَهَکَذَا رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ وَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَی أَنَّهُ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي الْفَرْجِ وَجَبَ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلَا

 

ترجمہ

ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ صرف منی (نکلنے) پر غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیا گیا۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، صرف منی نکلنے ہی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، اسی طرح صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج (رض) بھی شامل ہیں، مروی ہے، اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، کہ جب آدمی اپنی بیوی کی (شرمگاہ) میں جماع کرے تو دونوں (میاں بیوی) پر غسل واجب ہوجائے گا گرچہ ان دونوں کو انزال نہ ہوا ہو۔

 

وضاحت

اور حکم دیا گیا کہ منی خواہ نکلے یا نہ نکلے اگر ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔

 

Translation

Sayyidina Ubayy ibn Kab (RA) said that in early Islam bath was Fard only when there was an emission. This was a concession granted but it was withdrawn. Ahmad ibn Mani reports from Ibn Mubarak from Mumar from Dhuhri a hadith like this hadith with same isnaad on him.

 

 

  حدیث 114 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيکٌ عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا الْمَائُ مِنْ الْمَائِ فِي الِاحْتِلَامِ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَکِيعًا يَقُولُ لَمْ نَجِدْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا عِنْدَ شَرِيکٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ وَيُرْوَی عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَکَانَ مَرْضِيًّا

 

ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ منی نکلنے سے ہی غسل واجب ہوتا ہے کا تعلق احتلام سے ہے

امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، ابوایوب اور ابوسعید (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا منی نکلنے ہی پر غسل واجب ہوتا ہے۔

 


وضاحت

یہ توجیہ حدیث «إنما الماء من الماء» انزال ہونے پر غسل واجب ہے کی ایک دوسری توجیہ ہے ، یعنی خواب میں ہمبستری دیکھے اور کپڑے میں منی دیکھے تب غسل واجب ہے ورنہ نہیں ، مگر بقول علامہ البانی ابن عباس (رض) کا یہ قول بھی بغیر «في الاحتلام» کے ہے ، یہ لفظ ان کے قول سے بھی ثابت نہیں ہے کیونکہ یہ سند ضعیف ہے ، اور «إنما الماء من الماء» شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔

 

Translation

Ali ibn Hajar reported from Abu Jahaf from Ikrimah from Sayyidina Ibn Abbas (RA) that’s he said, "Emission of sperm is necessary to make bath wajib only in a nocturnal dream,"



باب فیمن یستیقظ ویری بللا ولا یذکر احتلاما

 

  حدیث 115

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ هُوَ الْعُمَرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْکُرُ احْتِلَامًا قَالَ يَغْتَسِلُ وَعَنْ الرَّجُلِ يَرَی أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَمْ يَجِدْ بَلَلًا قَالَ لَا غُسْلَ عَلَيْهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَی الْمَرْأَةِ تَرَی ذَلِکَ غُسْلٌ قَالَ نَعَمْ إِنَّ النِّسَائَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَإِنَّمَا رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدِيثَ عَائِشَةَ فِي الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْکُرُ احْتِلَامًا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ضَعَّفَهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَرَأَی بِلَّةً أَنَّهُ يَغْتَسِلُ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَحْمَدَ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ إِنَّمَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْغُسْلُ إِذَا کَانَتْ الْبِلَّةُ بِلَّةَ نُطْفَةٍ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَقَ وَإِذَا رَأَی احْتِلَامًا وَلَمْ يَرَ بِلَّةً فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ

 

ترجمہ 

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری دیکھے لیکن اسے احتلام یاد نہ آئے، آپ نے فرمایا وہ غسل کرے اور اس شخص کے بارے میں (پوچھا گیا) جسے یہ یاد ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری نہ پائے تو آپ نے فرمایا اس پر غسل نہیں ام سلمہ نے عرض کیا اللہ کے رسول ! کیا عورت پر بھی جو ایسا دیکھے غسل ہے ؟ آپ نے فرمایا عورتیں بھی (شرعی احکام میں ) مردوں ہی کی طرح ہیں۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

عائشہ کی حدیث کو جس میں ہے کہ آدمی تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ آئے صرف عبداللہ ابن عمر عمری ہی نے عبیداللہ سے روایت کیا ہے اور عبداللہ بن عمر عمری کی یحییٰ بن سعید نے حدیث کے سلسلے میں ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جب آدمی جاگے اور تری دیکھے تو غسل کرے، یہی سفیان ثوری اور احمد کا بھی قول ہے۔ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس پر غسل اس وقت واجب ہوگا جب وہ تری نطفے کی تری ہو، یہ شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور جب وہ احتلام دیکھے اور تری نہ پائے تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس پر غسل نہیں۔

 

وضاحت

فی الواقع عبداللہ العمری حفظ میں کمی کے سبب تمام ائمہ کے نزدیک ضعیف ہیں ، لیکن اس حدیث کا آخری ٹکڑا صحیحین میں ام سلمہ (رض) کی حدیث سے مروی ہے ، اور پہلا ٹکڑا خولہ بنت حکیم کی حدیث جو حسن ہے سے تقویت پا کر صحیح ہے ( خولہ کی حدیث ابن ماجہ میں ہے ، دیکھئیے رقم : ٦٠٢) ۔

 

Translation

Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked about a man who noticed moisture on his garment on awakening from sleep but does not remember the nocturnal dream, he said that he must have a bath. He was also asked about one who remembers a nocturnal dream but his garments have no moisture. He said that he need not have a bath. Sayyidah Umm Salamah (RA) asked, "O Messenger of Allah ﷺ Shall a woman, who has this experience need have a bath?" He said, "Yes. Women are like men."



باب ما جاء فی المنی و المذی

 

  حدیث 116 

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ح قَالَ و حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَلِيٍّ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ فَقَالَ مِنْ الْمَذْيِ الْوُضُوئُ وَمِنْ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ مِنْ الْمَذْيِ الْوُضُوئُ وَمِنْ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

 

ترجمہ 

علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے مذی  کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، علی بن ابی طالب (رض) سے کئی سندوں سے مرفوعاً مروی ہے کہ مذی سے وضو ہے، اور منی سے غسل ، صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، اور سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔

 

 

وضاحت

حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا ، اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے ، مذی سفید ، پتلا لیس دار پانی ہے جو بیوی سے چھیڑ چھاڑ کے وقت اور جماع کے ارادے کے وقت مرد کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے۔ خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑ چھاڑ سے ، یا خواب ( نیند ) میں ، بہرحال اس سے غسل واجب ہوجاتا ہے۔

 

Translation

Sayyidina Ali (RA) asked the Prophet ﷺ about mazi. He said, "Ablution is wajib after mazi, but bath after mani.


 

باب فی المذی یصیب الثوب

 

  حدیث 117

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ هُوَ ابْنُ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ کُنْتُ أَلْقَی مِنْ الْمَذْيِ شِدَّةً وَعَنَائً فَکُنْتُ أُکْثِرُ مِنْهُ الْغُسْلَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّمَا يُجْزِئُکَ مِنْ ذَلِکَ الْوُضُوئُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ قَالَ يَکْفِيکَ أَنْ تَأْخُذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ فَتَنْضَحَ بِهِ ثَوْبَکَ حَيْثُ تَرَی أَنَّهُ أَصَابَ مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ فِي الْمَذْيِ مِثْلَ هَذَا وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَذْيِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا يُجْزِئُ إِلَّا الْغَسْلُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَقَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يُجْزِئُهُ النَّضْحُ و قَالَ أَحْمَدُ أَرْجُو أَنْ يُجْزِئَهُ النَّضْحُ بِالْمَائِ

 

ترجمہ

سہل بن حنیف (رض) کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہوگا۔



امام ترمذی کہتے ہیں

١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- ہم مذی کے سلسلہ میں اس طرح کی روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے ہی جانتے ہیں
٣- کپڑے میں مذی لگ جانے کے سلسلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ دھونا ضروری ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اس بات کے قائل ہیں کہ پانی چھڑک لینا کافی ہوگا۔

امام احمد کہتے ہیں

مجھے امید ہے کہ پانی چھڑک لینا کافی ہوگا

 


وضاحت
 

اور یہی راجح ہے کیونکہ حدیث میں «نضح» چھڑکنا ہی آیا ہے ، ہاں بطور نظافت کوئی دھو لے تو یہ اس کی اپنی پسند ہے ، واجب نہیں۔

 


Translation

Sahl ibn Hunayf (RA) said,. “I was much worried because of mazi and had to bath again and again . So, I asked Allah’s Messenger ﷺ about it. He said, It is enough to make ablution with it.’ And I asked what should be done if it drops on the garment. He said that I should sprinkle a handful of water where it had stained the clothes."


 

باب فی المنی یصیب الثوب 


  حدیث 118 

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ ضَافَ عَائِشَةَ ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَائَ فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَبِهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ فَغَمَسَهَا فِي الْمَائِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا کَانَ يَکْفِيهِ أَنْ يَفْرُکَهُ بِأَصَابِعِهِ وَرُبَّمَا فَرَکْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ الْفُقَهَائِ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالُوا فِي الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ يُجْزِئُهُ الْفَرْکُ وَإِنْ لَمْ يُغْسَلْ وَهَکَذَا رُوِيَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ وَرَوَی أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَحَدِيثُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ

 

ترجمہ

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے (اوڑھنے کے لیے) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہوگیا، ایسے ہی بھیجنے میں کہ اس میں احتلام کا اثر ہے اسے شرم محسوس ہوئی، چناچہ اس نے اسے پانی سے دھو کر بھیجا، تو عائشہ (رض) نے کہا : اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا ؟ اسے اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، بس اتنا کافی تھا، بسا اوقات میں اپنی انگلیوں سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے اسے کھرچ دیتی تھی۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ کپڑے پر منی لگ جائے تو اسے کھرچ دینا کافی ہے، گرچہ دھویا نہ جائے۔

  

وضاحت 

یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ منی کو کپڑے سے دھونا واجب نہیں خشک ہو تو اسے کھرچ دینے اور تر ہو تو کسی چیز سے صاف کردینے سے کپڑا پاک ہوجاتا ہے ، منی پاک ہے یا ناپاک اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے ، امام شافعی داود ظاہری اور امام احمد کی رائے ہے کہ منی ناک کے پانی اور منہ کے لعاب کی طرح پاک ہے ، صحابہ کرام میں سے علی ، سعد بن ابی وقاص ، ابن عمر اور عائشہ (رض) کا بھی یہی مسلک ہے اور دلائل کی روشنی میں یہی قول راجح ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم کا بھی یہی مسلک ہے شیخ الاسلام کا فتوی الفتاوی الکبریٰ میں مفصل موجود ہے ، جسے ابن القیم نے بدائع النوائد میں بعض فقہاء کہہ کر ذکر کیا ہے اور جن حدیثوں میں منی دھونے کا تذکرہ ہے وہ بطور نظافت کے ہے ، وجوب کے نہیں ( دیکھئیے اگلی حدیث کے تحت امام ترمذی کی توجیہ ) ۔

 

Translation

Sayyidina Hammam ibn Harith (RA) narrated that a guest came to Sayyidah Aisha (RA). She instructed that a yellow bed-sheet be given to him. He slept on it and had a nocturnal dream. He was ashamed to return the bed-sheet while it had traces of sexual dreams. He immersed it in water and then returned it. Sayyidah Aisha (RA) said, "Why did he spoil our bed-sheet. It was enough for him to scratch it out with his fingers. I used to scratch it out from the garments of Allahs Messenger ﷺ with my fingers.

 

  حدیث 119 

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَحَدِيثُ عَائِشَةَ أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْفَرْکِ لِأَنَّهُ وَإِنْ کَانَ الْفَرْکُ يُجْزِئُ فَقَدْ يُسْتَحَبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ لَا يُرَی عَلَی ثَوْبِهِ أَثَرُهُ

 

  حدیث 120 

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمَنِيُّ بِمَنْزِلَةِ الْمُخَاطِ فَأَمِطْهُ عَنْکَ وَلَوْ بِإِذْخِرَةٍ

 

ترجمہ 

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھوئی۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے، اور عائشہ (رض) کی حدیث کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھوئی ان کی کھرچنے والی حدیث کے معارض نہیں ہے اس لیے کہ کھرچنا کافی ہے، لیکن مرد کے لیے یہی پسند کیا جاتا ہے کہ اس کے کپڑے پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے۔ (کیونکہ مرد کو آدمیوں کی مجلسوں میں بیٹھنا ہوتا ہے) ابن عباس کہتے ہیں : منی رینٹ ناک کے گاڑھے پانی کی طرح ہے، لہٰذا تم اسے اپنے سے صاف کرلو چاہے اذخر (گھاس) ہی سے ہو۔

  

وضاحت 

اس لیے کہ ان دونوں میں مطابقت واضح ہے ، جو لوگ منی کی طہارت کے قائل ہیں وہ دھونے والی روایت کو استحباب پر محمول کرتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ دھونا بطور وجوب نہیں تھا بلکہ بطور نظافت تھا ، کیونکہ اگر دھونا واجب ہوتا تو خشک ہونے کی صورت میں بھی صرف کھرچنا کافی نہ ہوتا ، حالانکہ عائشہ (رض) نے صرف کھرچنے پر اکتفاء کیا۔

 


Translation

It is reported from Sayyidah Aisha (RA) that she washed mani from the Prophet’s ﷺ garments.


 

باب فی الجنب ینام قبل ان یغتسل

 

  حدیث 121 

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَائً حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفِيانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَغَيْرِهِ وَقَدْ رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَتَوَضَّأُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَقَدْ رَوَی عَنْ أَبِي إِسْحَقَ هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ وَيَرَوْنَ أَنَّ هَذَا غَلَطٌ مِنْ أَبِي إِسْحَقَ

 

ترجمہ 

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے، کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سونے سے پہلے وضو کرتے تھے، یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث (رقم ١١٨) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے

  

وضاحت

اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جنبی وضو اور غسل کے بغیر سو سکتا ہے ، رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے تاکہ امت پریشانی میں نہ پڑے ، رہا اگلی حدیث میں آپ کا یہ عمل کہ آپ جنابت کے بعد سونے کے لیے وضو فرما لیا کرتے تھے تو یہ افضل ہے ، دونوں حدیثوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔

 

Translation

Sayyidah Aisha (RA) narrated that the Prophet ﷺ would go to sleep sexually defiled. And he would not even touch water.Hannad reported a similar hadith (as previous one) from Waki who from Sufyan who from Abu lshaq.



باب فی الوضوء للجنب اذا اراد ان ینام 

 

  حدیث 122

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَمَّارٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُمَرَ أَحْسَنُ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالُوا إِذَا أَرَادَ الْجُنُبُ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ

 

ترجمہ

عمر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، جب وہ وضو کرلے


امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں عمار، عائشہ، جابر، ابوسعید اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، عمر (رض) والی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، یہی قول نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اور تابعین میں سے بہت سے لوگوں کا ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وہ سونے سے پہلے وضو کرلے


وضاحت

اس سے مراد وضو شرعی ہے لغوی نہیں ، یہ وضو واجب ہے یا غیر واجب اس سلسلہ میں علماء میں اختلاف ہے ، جمہور اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ واجب نہیں ہے اور داود ظاہری اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ واجب ہے۔ اور پہلا قول ہی راجح ہے جس کی دلیل پچھلی حدیث ہے۔ یعنی مستحب ہے کہ وضو کرلے ، یہی جمہور کا مذہب ہے۔


Translation

Sayyidina Umar (RA) asked the Prophet ﷺ if one could go to sleep while he was sexually defiled. He said, "Yes, if he performs ablution.”



باب ما جاء فی مصافحة الجنب 

 

  حدیث 123

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ فَانْبَجَسْتُ أَيْ فَانْخَنَسْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ أَيْنَ کُنْتَ أَوْ أَيْنَ ذَهَبْتَ قُلْتُ إِنِّي کُنْتُ جُنُبًا قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَی قَوْلِهِ فَانْخَنَسْتُ يَعْنِي تَنَحَّيْتُ عَنْهُ وَقَدْ رَخَّصَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ وَلَمْ يَرَوْا بِعَرَقِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ بَأْسًا

 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں : تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا : تم کہاں تھے ؟ یا : کہاں چلے گئے تھے (راوی کو شک ہے) میں نے عرض کیا : میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا : مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں حذیفہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، اور ان کے قول «فانخنست» کے معنی «تنحیت عنہ» کے ہیں یعنی میں نظر بچا کر نکل گیا ، بہت سے اہل علم نے جنبی سے مصافحہ کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں

 

وضاحت

اور جب پسینے میں کوئی حرج نہیں تو بغیر پسینے کے بدن کی جلد ( سے پاک آدمی کے ہاتھ اور جسم کے ملنے ) میں بدرجہ اولیٰ کوئی حرج نہیں۔

 

Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) said, "The Prophet ﷺ met me while I was sexually defiled. So, I slipped away quietly, had a bath and came to him. He asked me where I had gone away and I told him that I was impure. He said: A Believer does not become impure."



باب ما جاء فی المراة تری فی المنام مثل ما یری الرجل

 

  حدیث 124 

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَائَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِنْتُ مِلْحَانَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَی الْمَرْأَةِ تَعْنِي غُسْلًا إِذَا هِيَ رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَی الرَّجُلُ قَالَ نَعَمْ إِذَا هِيَ رَأَتْ الْمَائَ فَلْتَغْتَسِلْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قُلْتُ لَهَا فَضَحْتِ النِّسَائَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَائِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَی الرَّجُلُ فَأَنْزَلَتْ أَنَّ عَلَيْهَا الْغُسْلَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ وَخَوْلَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ

 

ترجمہ

ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! اللہ حق سے نہیں شرماتا کیا عورت پر بھی غسل ہے، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے آپ نے فرمایا : ہاں، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے ام سلمہ کہتی ہیں : میں نے ام سلیم سے کہا : ام سلیم ! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کردیا۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہوجائے (یعنی منی نکل جائے) تو اس پر غسل واجب ہے، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں، اس باب میں ام سلیم، خولہ، عائشہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔


وضاحت 

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شرم و حیاء کی وجہ سے حق کے بیان کرنے سے نہیں رکتا ، تو میں بھی ان مسائل کے پوچھنے سے باز نہیں رہ سکتی جن کی مجھے احتیاج اور ضرورت ہے۔ جو مرد دیکھتا ہے سے مراد احتلام ہے۔  اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ منی کے نکلنے سے عورت پر بھی غسل واجب ہوجاتا ہے ، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے۔

 

Translation

Sayyidah Umm Salamah (RA) said that Umm Sulaym bint Milhan (RA) came to ., the Prophet ﷺ and said, "Messenger of Allah! Allah is not ashamed of the truth. Is it wajib for a woman to have a bath if she has sexual dream as a man does?" He said, "Yes, when she sees signs of mani, she must have a bath." Sayyidah Umm Salamah (RA) said that she remarked, "O Umm Sulaym! You have disgraced women."


 

باب فی الرجل یستدفی بالمراة بعد الغسل

 

  حدیث 125

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ حُرَيْثٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُبَّمَا اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ ثُمَّ جَائَ فَاسْتَدْفَأَ بِي فَضَمَمْتُهُ إِلَيَّ وَلَمْ أَغْتَسِلْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ وَالتَّابِعِينَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا اغْتَسَلَ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَسْتَدْفِئَ بِامْرَأَتِهِ وَيَنَامَ مَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

 

ترجمہ 

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم ﷺ جنابت کا غسل فرماتے پھر آ کر مجھ سے گرمی حاصل کرتے تو میں آپ کو چمٹا لیتی، اور میں بغیر غسل کے ہوتی تھی۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے کہ مرد جب غسل کرلے تو اپنی بیوی سے چمٹ کر گرمی حاصل کرنے میں اسے کوئی مضائقہ نہیں، وہ عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ (چمٹ کر) سو سکتا ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔

 


وضاحت

یعنی یہ حسن کے حکم میں ہے ، اس کے راوی «حریث بن ابی المطر» ضعیف ہیں ( جیسا کہ تخریج میں گزرا ) اس لیے علامہ البانی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ، لیکن ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ایک دوسرے طریق سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے ، جو عبدالرحمٰن افریقی کے طریق سے ہے ، عبدالرحمٰن حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف ہیں ، لیکن دونوں طریقوں کا ضعف ایک دوسرے سے قدرے دور ہوجاتا ہے ، نیز صحیحین میں عائشہ (رض) کی حدیث سے اس کے معنی کی تائید ہوجاتی ہے ، وہ یہ ہے ہم لوگ حائضہ ہوتی تھیں تو آپ ہمیں ازار باندھنے کا حکم دیتے ، پھر ہم سے چمٹتے تھے واللہ اعلم۔

 


Translation

Sayyidah Aisha (RA) said, "The Prophet ﷺ used to have a bath ,because of sexual defilement then warm himself against me and I embraced him though I had not yet had a bath.


 

باب التیمم للجنب اذا لم یجد الماء

 

  حدیث 126 

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَائَ عَشْرَ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدَ الْمَائَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ فَإِنَّ ذَلِکَ خَيْرٌ و قَالَ مَحْمُودٌ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوئُ الْمُسْلِمِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَکَذَا رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَقَدْ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَلَمْ يُسَمِّهِ قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَائِ أَنَّ الْجُنُبَ وَالْحَائِضَ إِذَا لَمْ يَجِدَا الْمَائَ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا وَيُرْوَی عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ کَانَ لَا يَرَی التَّيَمُّمَ لِلْجُنُبِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَائَ وَيُرْوَی عَنْهُ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ يَتَيَمَّمُ إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمَائَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِکٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

 

ترجمہ 

ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پاک مٹی مسلمان کو پاک کرنے والی ہے گرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، پھر جب وہ پانی پالے تو اسے اپنی کھال (یعنی جسم) پر بہائے، یہی اس کے لیے بہتر ہے ۔ محمود (محمود بن غیلان) نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے ۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، اکثر فقہاء کا قول یہی ہے کہ جنبی یا حائضہ جب پانی نہ پائیں تو تیمم کر کے نماز پڑھیں، ابن مسعود (رض) جنبی کے لیے تیمم درست نہیں سمجھتے تھے اگرچہ وہ پانی نہ پائے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ جب پانی نہیں پائے گا، تیمم کرے گا، یہی سفیان ثوری، مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔

  


Translation

Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, “Earth is a means of purifying for a Muslim even if he does not find water for ten years. Then he finds water, he must touch it to his body (that is, obtain purity from it) and it is better for him.



باب فی المستحاضة

 

  حدیث 127

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَعَبْدَةُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ قَالَ لَا إِنَّمَا ذَلِکَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْکِ الدَّمَ وَصَلِّي قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ وَقَالَ تَوَضَّئِي لِکُلِّ صَلَاةٍ حَتَّی يَجِيئَ ذَلِکَ الْوَقْتُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِکٌ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ إِذَا جَاوَزَتْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا اغْتَسَلَتْ وَتَوَضَّأَتْ لِکُلِّ صَلَاةٍ

 

ترجمہ 

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میں ایسی عورت ہوں کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، یہ تو ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو ۔ اور جب وہ چلا جائے (یعنی حیض کے دن پورے ہوجائیں) تو خون دھو کر (غسل کر کے) نماز پڑھو ، ابومعاویہ کی روایت میں ہے ؛ آپ ﷺ نے فرمایا : ہر نماز کے لیے وضو کرو یہاں تک کہ وہ وقت (حیض کا وقت) آ جائے

 

امام ترمذی کہتے ہیں

عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ام سلمہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین میں بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے، اور یہی سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ عورت کے حیض کے دن گزر جائیں تو وہ غسل کرے اور ہر نماز کے لیے (تازہ) وضو کرے۔

 

وضاحت

عورت کی شرمگاہ سے تین طرح کا خون خارج ہوتا ہے : ایک حیض کا خون جو عورت کے بالغ ہونے سے بڑھاپے تک ایام حمل کے علاوہ ہر ماہ اس کے رحم سے چند مخصوص ایام میں خارج ہوتا ہے اور اس کا رنگ کالا ہوتا ہے ، دوسرا نفاس کا خون ہے جو بچہ کی پیدائش کے بعد چالیس دن یا اس سے کم و بیش زچگی میں آتا ہے ، تیسرا استحاضہ کا خون ہے ، یہ ایک عاذل نامی رگ کے پھٹنے سے جاری ہوتا ہے اور بیماری کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، اس کے جاری ہونے کا کوئی مقرر وقت نہیں ہے کسی بھی وقت جاری ہوسکتا ہے۔

 


Translation

Sayyidah Aisha (RA) reported that Sayyidah Fatimah bint Abu Hubaysh (RA) came to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah! ﷺ I am a woman who gets istihadah (a continuous flow of blood) and I am never purified. Shall I stop offering Salah?” He said, “No! That is only a vein (that bleeds and is no part of the womb and There are other reasons for that). It is not menstruation. When you have menses, stop Praying and when they are over wash the blood from your body and offer Salah.

 


باب ما جاء ان المستحاضة تتوضا لکل صلاۃ

 

  حدیث 128

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي کَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شُرَيْکٌ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ قَدْ تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيکٌ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقُلْتُ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ جَدُّ عَدِيٍّ مَا اسْمُهُ فَلَمْ يَعْرِفْ مُحَمَّدٌ اسْمَهُ وَذَکَرْتُ لِمُحَمَّدٍ قَوْلَ يَحْيَی بْنِ مَعِينٍ أَنَّ اسْمَهُ دِينَارٌ فَلَمْ يَعْبَأْ بِهِ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِنْ اغْتَسَلَتْ لِکُلِّ صَلَاةٍ هُوَ أَحْوَطُ لَهَا وَإِنْ تَوَضَّأَتْ لِکُلِّ صَلَاةٍ أَجْزَأَهَا وَإِنْ جَمَعَتْ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ أَجْزَأَهَا

 

ترجمہ 

عدی کے دادا عبید بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا : وہ ان دنوں میں جن میں اسے حیض آتا ہو نماز چھوڑے رہے، پھر وہ غسل کرے، اور (استحاضہ کا خون آنے پر) ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزہ رکھے اور نماز پڑھے ۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

اس حدیث میں شریک ابوالیقظان سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ عورت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہر نماز کے وقت غسل کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ احتیاط کی بات ہے اور اگر وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے تو یہ اس کے لیے کافی ہے اور اگر وہ ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرے تو بھی کافی ہے۔

 

Translation

Sayyidina Ali ibn Thabit (RA) reported from his father who from his grandfather that the prophet ﷺ said about a woman with a prolonged flow of blood that she should stop prayer during her (accustomed) days of menstruation. Then she should have a purifying bath and make ablution for every Salah (prayer). She may fast and offer Salah.



باب فی المستحاضة انہا تجمع بین الصلاتین بغسل واحد

 

  حدیث 129

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامَرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ کُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً کَثِيرَةً شَدِيدَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً کَثِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصِّيَامَ وَالصَّلَاةَ قَالَ أَنْعَتُ لَکِ الْکُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ قَالَتْ هُوَ أَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَتَلَجَّمِي قَالَتْ هُوَ أَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَاتَّخِذِي ثَوْبًا قَالَتْ هُوَ أَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَآمُرُکِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا صَنَعْتِ أَجْزَأَ عَنْکِ فَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ فَقَالَ إِنَّمَا هِيَ رَکْضَةٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ ثُمَّ اغْتَسِلِي فَإِذَا رَأَيْتِ أَنَّکِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي وَصَلِّي فَإِنَّ ذَلِکِ يُجْزِئُکِ وَکَذَلِکِ فَافْعَلِي کَمَا تَحِيضُ النِّسَائُ وَکَمَا يَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ فَإِنْ قَوِيتِ عَلَی أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ حِينَ تَطْهُرِينَ وَتُصَلِّينَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَائَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الصُّبْحِ وَتُصَلِّينَ وَکَذَلِکِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَوِيتِ عَلَی ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَشَرِيکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ إِلَّا أَنَّ ابْنَ جُرَيجٍ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ وَالصَّحِيحُ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَکَذَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا کَانَتْ تَعْرِفُ حَيْضَهَا بِإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ وَإِقْبَالُهُ أَنْ يَکُونَ أَسْوَدَ وَإِدْبَارُهُ أَنْ يَتَغَيَّرَ إِلَی الصُّفْرَةِ فَالْحُکْمُ لَهَا عَلَی حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ وَإِنْ کَانَتْ الْمُسْتَحَاضَةُ لَهَا أَيَّامٌ مَعْرُوفَةٌ قَبْلَ أَنْ تُسْتَحَاضَ فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي وَإِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ وَلَمْ يَکُنْ لَهَا أَيَّامٌ مَعْرُوفَةٌ وَلَمْ تَعْرِفْ الْحَيْضَ بِإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ فَالْحُکْمُ لَهَا عَلَی حَدِيثِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ وَکَذَلِکَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ و قَالَ الشَّافِعِيُّ الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ فِي أَوَّلِ مَا رَأَتْ فَدَامَتْ عَلَی ذَلِکَ فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فَإِذَا طَهُرَتْ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَوْ قَبْلَ ذَلِکَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ حَيْضٍ فَإِذَا رَأَتْ الدَّمَ أَکْثَرَ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فَإِنَّهَا تَقْضِي صَلَاةَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا ثُمَّ تَدَعُ الصَّلَاةَ بَعْدَ ذَلِکَ أَقَلَّ مَا تَحِيضُ النِّسَائُ وَهُوَ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَقَلِّ الْحَيْضِ وَأَکْثَرِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلَاثَةٌ وَأَکْثَرُهُ عَشَرَةٌ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ وَبِهِ يَأْخُذُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَرُوِيَ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَقَلُّ الْحَيْضِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَأَکْثَرُهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا وَهُوَ قَوْلُ مَالِکٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَأَبِي عُبَيْدٍ


ترجمہ 

حمنہ بنت جحش (رض) کہتی ہیں کہ میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اور آپ کو اس کی خبر دینے کے لیے حاضر ہوئی، میں نے آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب بنت حجش کے گھر پایا تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی ہوں، اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں، اس نے تو مجھے صوم و صلاۃ دونوں سے روک دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں تجھے روئی رکھنے کا حکم دے رہا ہوں اس سے خون بند ہوجائے گا ، انہوں نے عرض کیا : وہ اس سے زیادہ ہے (روئی رکھنے سے نہیں رکے گا) آپ نے فرمایا : تو لنگوٹ باندھ لیا کرو ، کہا : خون اس سے بھی زیادہ آ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا : تم لنگوٹ کے نیچے ایک کپڑا رکھ لیا کرو ، کہا : یہ اس سے بھی زیادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کرلو تمہارے لیے کافی ہوگا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو ، آپ نے فرمایا : یہ تو صرف شیطان کی چوٹ (مار) ہے تو چھ یا سات دن جو اللہ کے علم میں ہیں انہیں تو حیض کے شمار کر پھر غسل کرلے اور جب تو سمجھ لے کہ تو پاک و صاف ہوگئی ہو تو چوبیس یا تئیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اسی طرح کرتی رہو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں : حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں، اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے پاک صاف ہوجا اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لے تو ایسا کرلیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اگر تم قادر ہو تو اس طرح کرو اور روزے رکھو ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان دونوں باتوں میں سے یہ دوسری صورت مجھے زیادہ پسند ہے۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے اور اسی طرح احمد بن حنبل نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ عورت جب اپنے حیض کے آنے اور جانے کو جانتی ہو، اور آنا یہ ہے کہ خون کالا ہو اور جانا یہ ہے کہ وہ زردی میں بدل جائے تو اس کا حکم فاطمہ بن ابی حبیش (رض) کی حدیث کے مطابق ہوگا اور اگر مستحاضہ کے لیے استحاضہ سے پہلے (حیض کے) ایام معروف ہیں تو وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ اور جب خون جاری رہے اور (حیض کے) ایام معلوم نہ ہوں اور نہ ہی وہ حیض کے آنے جانے کو جانتی ہو تو اس کا حکم حمنہ بنت جحش (رض) کی حدیث کے مطابق ہوگا اسی طرح ابو عبید نے کہا ہے۔ شافعی کہتے ہیں : جب مستحاضہ کو پہلی بار جب اس نے خون دیکھا تبھی سے برابر خون جاری رہے تو وہ خون شروع ہونے سے لے کر پندرہ دن تک نماز چھوڑے رہے گی، پھر اگر وہ پندرہ دن میں یا اس سے پہلے پاک ہوجاتی ہے تو گویا یہی اس کے حیض کے دن ہیں اور اگر وہ پندرہ دن سے زیادہ خون دیکھے، تو وہ چودہ دن کی نماز قضاء کرے گی اور اس کے بعد عورتوں کے حیض کی اقل مدت جو ایک دن اور ایک رات ہے، کی نماز چھوڑ دے گی، حیض کی کم سے کم مدت اور سب سے زیادہ مدت میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں : حیض کی سب سے کم مدت تین دن اور سب سے زیادہ مدت دس دن ہے، یہی سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا قول ہے اور اسی کو ابن مبارک بھی اختیار کرتے ہیں۔ ان سے اس کے خلاف بھی مروی ہے، بعض اہل علم جن میں عطا بن ابی رباح بھی ہیں، کہتے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ اور ابو عبید کا قول ہے۔

 

وضاحت

ان دونوں باتوں سے مراد : یا تو ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کرنا یا ہر نماز کے لیے الگ ایک غسل کرنا اور دوسری بات روزانہ صرف تین بار نہانا۔ یعنی روزانہ تین بار نہانا ایک بار ظہر اور عصر کے لیے ، دوسری مغرب اور عشاء کے لیے اور تیسرے فجر کے لیے۔ یعنی حیض کے اختتام پر مستحاضہ عورت غسل کرے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے گی۔ یعنی ہر روز تین مرتبہ غسل کرے گی ، پہلے غسل سے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھے گی اور دوسرے غسل سے مغرب اور عشاء کی اور تیسرے غسل سے فجر کی۔

 


Translation

Ibrahim ibn Muhammad ibn Talhah (RA) reported from his uncle lmran ibn Talhah and he from his mother Sayyidah Hamnah bint Jahsh (RA) that she used to have a severe large prolonged flow of blood. She asked the Prophet ﷺ about it, having met him for the question. She found him in the house of her sister Sayyidah Zaynab bint Jahsh (RA) said "I get istihadah and it is very severe. What do you command me? It prevents me from praying and fasting. "He said, "I suggest that you use cotton, for, it stops blood." She said, "It is much more for that."He said, "Then wear a tight rag," but she insisted that it was too much for the rag. And when he asked her to use a cloth too, she said that her flow was continuous and much. So, "I give you two commands. It is enough for you to abide by one. But if you follow both t know well whether you can. This is the devils kick (that brings forth the istihadah), so determine the six or seven days of menstruation which Allah knows. Then have a bath. When you are clean and pure, keep fast and offer salah for twenty-four or twenty-three days. That is enough for you. Then do as menstruating women do, who purify themselves after the period of menstruation. If you can then delay the salah of Zuhr and advance the Salah of asr have a bath and offer Zuhr and Asr together. Then delay Maghrib and advance Isha, and have a bath, offer both salah together. Go on in this manner, and have a bath for the Salah of Fajr and offer it. Go on, in this manner and also keep fast provided you are able to do it." Then, AIlahs Messenger ﷺ said, "Of the two I like the second."



باب ما جاء فی المستحاضة انہا تغتسل عند کل صلاة

 

  حدیث 130

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ابْنَةُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ فَقَالَ لَا إِنَّمَا ذَلِکَ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي فَکَانَتْ تَغْتَسِلُ لِکُلِّ صَلَاةٍ قَالَ قُتَيْبَةُ قَالَ اللَّيْثُ لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ وَلَکِنَّهُ شَيْئٌ فَعَلَتْهُ هِيَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَيُرْوَی هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ وَرَوَی الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ

 

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا اور کہا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں۔ تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، یہ تو محض ایک رگ ہے، لہٰذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو ، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابن شہاب زہری نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ (رض) کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، بلکہ یہ ایسا عمل تھا جسے وہ اپنے طور پر کیا کرتی تھیں


امام ترمذی کہتے ہیں

١- نیز یہ حدیث زہری سے «عن عمرة عن عائشہ» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔

 


وضاحت 

کسی بھی صحیح روایت میں نہیں آتا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ام حبیبہ (رض) کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا ، جو روایتیں اس بارے میں ہیں سب ضعیف ہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ وہ بطور خود ( استحبابی طور سے ) ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔

 


Translation

Sayyidah Aisha (RA) narrated that Sayyidah Umm Habibah blnt Jahsh (RA) said to Allahs Messenger ﷺ , "O Messenger of Allah! ﷺ I get menstruation but never ‘ get purified. Shall I abandon Salah?" He said, "No! This is a vein. Have a bath and offer Salah." Then she had a bath for every Salah.



باب ما جاء فی الحائض انہا لا تقضی الصلاۃ

 

  حدیث 131

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَقْضِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا أَيَّامَ مَحِيضِهَا فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ کَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ فَلَا تُؤْمَرُ بِقَضَائٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّ الْحَائِضَ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَائِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ

 

ترجمہ

معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے عائشہ (رض) سے پوچھا : کیا ہم حیض کے دنوں والی نماز کی قضاء کیا کریں ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تو حروریہ ہے ؟ ہم میں سے ایک کو حیض آتا تھا تو اسے قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور عائشہ سے اور کئی سندوں سے بھی مروی ہے کہ حائضہ نماز قضاء نہیں کرے گی، ٣- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ حائضہ روزہ قضاء کرے گی اور نماز قضاء نہیں کرے گی۔

 

وضاحت

حروریہ منسوب ہے حروراء کی طرف جو کوفہ سے دو میل کی دوری پر ایک بستی کا نام تھا ، خوارج کو اسی گاؤں کی نسبت سے حروری کہا جاتا ہے ، اس لیے کہ ان کا ظہور اسی بستی سے ہوا تھا ، ان میں کا ایک گروہ حیض کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضاء کو ضروری قرار دیتا ہے اسی لیے عائشہ (رض) نے اس عورت کو حروریہ کہا ، مطلب یہ تھا کہ کیا تو خارجی عورت تو نہیں ہے جو ایسا کہہ رہی ہے۔

 


Translation

Sayyidah Muadhah (RA) said that a woman asked Sayyidah Aisha (RA), “Shall any of us redeem the Salah of the days of menstruation?" She asked in return, Are you Haruriyah? When one of us had her menses, she was not commanded to redeem the Salah?"


 

باب ما جاء فی الجنب والحائض انہما لا یقرآن القرآن 

 

  حدیث 132 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقْرَأْ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقْرَأْ الْجُنُبُ وَلَا الْحَائِضُ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالُوا لَا تَقْرَأْ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْئًا إِلَّا طَرَفَ الْآيَةِ وَالْحَرْفَ وَنَحْوَ ذَلِکَ وَرَخَّصُوا لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ إِنَّ إِسْمَعِيلَ بْنَ عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ أَحَادِيثَ مَنَاکِيرَ کَأَنَّهُ ضَعَّفَ رِوَايَتَهُ عَنْهُمْ فِيمَا يَنْفَرِدُ بِهِ وَقَالَ إِنَّمَا حَدِيثُ إِسْمَعِيلَ بْنَ عَيَّاشٍ عَنْ أَهْلِ الشَّأْمِ و قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ أَصْلَحُ مِنْ بَقِيَّةَ وَلِبَقِيَّةَ أَحَادِيثُ مَنَاکِيرُ عَنْ الثِّقَاتِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَال سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ ذَلِکَ

 

ترجمہ

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں ۔


امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں علی (رض) سے بھی روایت ہے، ابن عمر (رض) کی حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن عیاش ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ جس میں ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنبی اور حائضہ (قرآن) نہ پڑھیں ، صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اور ان کے بعد کے لوگ مثلاً سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ حائضہ اور جنبی آیت کے کسی ٹکڑے یا ایک آدھ حرف کے سوا قرآن سے کچھ نہ پڑھیں، ہاں ان لوگوں نے جنبی اور حائضہ کو تسبیح و تہلیل کی اجازت دی ہے۔

 

Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, "A menstruating woman and a sexually defiled person must not recite from the Quran anything."



باب ما جاء فی مباشرۃ الحائض 

 

  حدیث 133

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مِنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي أَنْ أَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَمَيْمُونَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ

وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

 

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ مجھے جب حیض آتا تو رسول اللہ ﷺ مجھے تہ بند باندھنے کا حکم دیتے پھر مجھ سے چمٹتے اور بوس و کنار کرتے۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام و تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔

 

Translation

Sayyidah Aisha (RA) said, "When I had menses, Allahs Messenger ﷺ would instruct me to wrap a lower garment and then he would kiss and embrace me



باب ما جاء فی مواکلة الجنب والحائض وسورھما

 

  حدیث 134 

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُوَاکَلَةِ الْحَائِضِ فَقَالَ وَاکِلْهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِمُوَاکَلَةِ الْحَائِضِ بَأْسًا وَاخْتَلَفُوا فِي فَضْلِ وَضُوئِهَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِکَ بَعْضُهُمْ وَکَرِهَ بَعْضُهُمْ فَضْلَ طَهُورِهَا

 

ترجمہ

عبداللہ بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ کھاؤ


امام ترمذی کہتے ہیں

عبداللہ بن سعد (رض) کی حدیث حسن غریب ہے، اس باب میں عائشہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے : یہ لوگ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے۔ البتہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے سلسلہ میں ان میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کی طہارت سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے۔


وضاحت 

یہ حدیث آیت کریمہ : «فاعتزلوا النساء في المحيض» (البقرة : 222 ) کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔

 

 

Translation

Haram ibn Muawiyah reported that his uncle Abdullah ibn Sad narrated that he asked the Prophet ﷺ about eating with a menstruating woman, He said, "Eat with her!



باب ما جاء  فی الحائض تتناول الشیء من المسجد 

 

  حدیث 135

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ ثابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَتْ قُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّ حَيْضَتَکِ لَيْسَتْ فِي يَدِکِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ اخْتِلَافًا فِي ذَلِکَ بِأَنْ لَا بَأْسَ أَنْ تَتَنَاوَلَ الْحَائِضُ شَيْئًا مِنْ الْمَسْجِدِ

 

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : مسجد سے مجھے بوریا اٹھا کر دو ، تو میں نے عرض کیا : میں حائضہ ہوں، آپ نے فرمایا : تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ۔


امام ترمذی کہتے ہیں

عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے۔ ہم اس مسئلہ میں کہ حائضہ کے مسجد سے کوئی چیز اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے۔

 


Translation

Qasim ibn Muhammad ﷺ reported that Sayyidah Aisha (RA) said, "Allahs Messenger ﷺ commanded me to fetch mats from the mosque. I said that I had menses. He remarked, Your menses are not on your hands."



باب ما جاء فی کراھیة اتیان الحائض

 

  حدیث 136

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَادُ بْنُ سَلَمَةِ عَنْ حَکِيمٍ الْأَثْرَمِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الهُجَيْمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَی حَائِضًا أَوْ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ کَاهِنًا فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی لَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَکِيمٍ الْأَثْرَمِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا مَعْنَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَی التَّغْلِيظِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَی حَائِضًا فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ فَلَوْ کَانَ إِتْيَانُ الْحَائِضِ کُفْرًا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِالْکَفَّارَةِ وَضَعَّفَ مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ وَأَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ

 

ترجمہ 

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کسی حائضہ کے پاس آیا یعنی اس سے جماع کیا یا کسی عورت کے پاس پیچھے کے راستے سے آیا، یا کسی کاہن نجومی کے پاس (غیب کا حال جاننے کے لیے) آیا تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد (ﷺ) پر نازل کی گئی ہیں

 

امام ترمذی کہتے ہیں

اہل علم کے نزدیک نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا مطلب تغلیظ ہے، نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے کسی حائضہ سے صحبت کی تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر حائضہ سے صحبت کا ارتکاب کفر ہوتا تو اس میں کفارے کا حکم نہ دیا جاتا ، محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔

 

وضاحت

آپ کا یہ فرمانا تغلیظاً ہے جیسا کہ خود امام ترمذی نے اس کی وضاحت کردی ہے۔

 

Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, "If anyone has sexual intercourse with a menstruating woman, or goes into her anus, or visits a Kahin (soothsayer) then indeed he has disbelieved in what is revealed to Muhammad."



باب ما جاء فی الکفارة فی ذلک 

 

  حدیث 137

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيکٌ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَی امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ

 

ترجمہ

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کرتا ہے فرمایا : وہ آدھا دینار صدقہ کرے ۔

 

Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ , ﷺ said about the man who has sexual intercourse with his wife while she is menstruating that he should give sadaqah of half a dinar.

 

  حدیث 138

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّکَّرِيِّ عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ دَمًا أَحْمَرَ فَدِينَارٌ وَإِذَا کَانَ دَمًا أَصْفَرَ فَنِصْفُ دِينَارٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْکَفَّارَةِ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ قَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ وَلَا کَفَّارَةَ عَلَيْهِ وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ قَوْلِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ بَعْضِ التَّابِعِينَ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ عُلَمَائِ الْأَمْصَارِ


ترجمہ
 عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا :  جب خون سرخ ہو  (اور جماع کرلے تو)  ایک دینار اور جب زرد ہو تو آدھا دینار  (صدقہ کرے) 

   امام ترمذی کہتے ہیں 
 حائضہ سے جماع کے کفارے کی حدیث ابن عباس سے موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح سے مروی ہے،  اور بعض اہل علم کا یہی قول ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن مبارک کہتے ہیں : یہ اپنے رب سے استغفار کرے گا، اس پر کوئی کفارہ نہیں، ابن مبارک کے قول کی طرح بعض تابعین سے بھی مروی ہے جن میں سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی بھی شامل ہیں۔ اور اکثر علماء امصار کا یہی قول ہے
سند میں عبدالکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، یہ مفصل مرفوع روایت ضعیف ہے، لیکن موقوف یعنی ابن عباس کے قول سے صحیح ہے


Translation
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "If there is red blood, he must give one dinar and if it is yellow then half a dinar



باب ما جاء فی غسل دم الحیض من الثوب

 

  حدیث 139

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الدَّمُ مِنْ الْحَيْضَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَائِ ثُمَّ رُشِّيهِ وَصَلِّي فِيهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأُمِّ قَيْسِ بْنتِ مِحْصَنٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَسْمَائَ فِي غَسْلِ الدَّمِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الدَّمِ يَکُونُ عَلَی الثَّوْبِ فَيُصَلِّي فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهُ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ إِذَا کَانَ الدَّمُ مِقْدَارَ الدِّرْهَمِ فَلَمْ يَغْسِلْهُ وَصَلَّی فِيهِ أَعَادَ الصَّلَاةَ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا کَانَ الدَّمُ أَکْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَلَمْ يُوجِبْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ عَلَيْهِ الْإِعَادَةَ وَإِنْ کَانَ أَکْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ الشَّافِعِيُّ يَجِبُ عَلَيْهِ الْغَسْلُ وَإِنْ کَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَشَدَّدَ فِي ذَلِکَ

 

ترجمہ 

اسماء بنت ابی بکر (رض) کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے اس کپڑے کے بارے میں پوچھا جس میں حیض کا خون لگ جائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسے کھرچ دو ، پھر اسے پانی سے مل دو ، پھر اس پر پانی بہا دو اور اس میں نماز پڑھو ۔


امام ترمذی کہتے ہیں

خون کے دھونے کے سلسلے میں اسماء (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ابوہریرہ اور ام قیس بنت محصن (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، کپڑے میں جو خون لگ جائے اور اسے دھونے سے پہلے اس میں نماز پڑھ لے … اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ؛ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار میں ہو اور دھوے بغیر نماز پڑھ لے تو نماز دہرائے اور بعض کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو تو نماز دہرائے ورنہ نہیں، یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے نماز کے دہرانے کو واجب نہیں کہا ہے گرچہ خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں جب کہ شافعی کہتے ہیں کہ اس پر دھونا واجب ہے گو درہم کی مقدار سے کم ہو، اس سلسلے میں انہوں نے سختی برتی ہے

 

وضاحت

سنن دارقطنی میں اس سلسلہ میں ابوہریرہ (رض) سے ایک حدیث بھی آئی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں «إذا کان في الثوب قدر الدرهم من الدم غسل الثوب وأعيدت الصلاة» امام بخاری نے اس حدیث کو باطل کہا ہے کیونکہ اس میں ایک راوی روح بن غطیف منکر الحدیث ہے۔ اور یہی قول امام ابوحنیفہ کا بھی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ قلیل نجاست سے بچ پانا ممکن نہیں اس لیے ان لوگوں نے اسے معفوعنہ کے درجہ میں قرار دیا ہے اور اس کی تحدید درہم کی مقدار سے کی ہے اور یہ تحدید انہوں نے مقام استنجاء سے اخذ کی ہے۔ ان لوگوں کی دلیل جابر (رض) کی حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں «إن النبي صلی اللہ عليه وسلم کان في غزوة ذات الرقاع فرمی رجل بسهم فنزفه الدم فرکع وسجد ومضی في صلاته» لیکن جسم سے نکلنے والے عام خون ، اور حیض کے خون میں فرق بالکل ظاہر ہے۔ کیونکہ امام شافعی نجاست میں تفریق کے قائل نہیں ہیں ، نجاست کم ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں ان کے نزدیک دھونا ضروری ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں جو نص ہے ( وہ یہی حدیث ہے ) وہ مطلق ہے اس میں کم و زیادہ کی کوئی تفصیل نہیں اور یہی راجح قول ہے۔


Translation

Sayyidah Asma bint Abu Bakr(RA) reported that a woman asked the Prophet ﷺ the garment on which are stains of blood of menses. He said, "Scratch it (with your finger and rub it with water. Then pour water over it and offer Salah wearing it.


 

باب ما جاء فی کم تمکث النفساء

 

  حدیث 140

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنْ الْكَلَفِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَاسْمُ أَبِي سَهْلٍ كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ وَأَبُو سَهْلٍ ثِقَةٌ وَلَمْ يَعْرِفْ مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى أَنَّ النُّفَسَاءَ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّهَا تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي فَإِذَا رَأَتْ الدَّمَ بَعْدَ الْأَرْبَعِينَ فَإِنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ بَعْدَ الْأَرْبَعِينَ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ خَمْسِينَ يَوْمًا إِذَا لَمْ تَرَ الطُّهْرَ وَيُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَالشَّعْبِيِّ سِتِّينَ يَوْمًا

 

ترجمہ

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نفاس والی عورتیں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھیں، اور جھائیوں کے سبب ہم اپنے چہروں پر ورس (نامی گھاس ہے) ملتی تھیں۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف ابوسہل ہی کی روایت سے جانتے ہیں، صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے تمام اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن تک نماز نہیں پڑھیں گی۔ البتہ اگر وہ اس سے پہلے پاک ہو لیں تو غسل کر کے نماز پڑھنے لگ جائیں، اگر چالیس دن کے بعد بھی وہ خون دیکھیں تو اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ چالیس دن کے بعد وہ نماز نہ چھوڑیں، یہی اکثر فقہاء کا قول ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ پچاس دن تک نماز چھوڑے رہے جب وہ پاکی نہ دیکھے، عطاء بن ابی رباح اور شعبی سے ساٹھ دن تک مروی ہے۔


Translation

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that woman confined to bed after childbirth stayed apart for forty days during the Prophets ﷺ times and they rubbed a sweet-smelling mixture on their faces because of signs of weariness on them.



باب ما جاء فی الرجل یطوف علی نسائه بغسل واحد

 

  حدیث 141

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَطُوفُ عَلَی نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَطُوفُ عَلَی نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَعُودَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَقَدْ رَوَی مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ هَذَا عَنْ سُفْيَانَ فَقَالَ عَنْ أَبِي عُرْوَةَ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَنَسٍ وَأَبُو عُرْوَةَ هُوَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَأَبُو الْخَطَّابِ قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ

 

ترجمہ

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک ہی غسل میں سبھی بیویوں کا چکر لگا لیتے تھے

 

امام ترمذی کہتے ہیں

انس (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ابورافع (رض) سے بھی روایت ہے۔ بہت سے اہل علم کا جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں یہی قول ہے کہ وضو کرنے سے پہلے دوبارہ جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

 


وضاحت

یعنی سب سے صحبت کر کے اخیر میں ایک غسل کرتے تھے۔

 


Translation

Sayyidina Anas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ used to have intercourse with all his wives and then have a single bath in the end.


 

باب ما جاء اذا اراد ان یعود توضا 

 

  حدیث 142 

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَی أَحَدُکُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوئًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ و قَالَ بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ قَبْلَ أَنْ يَعُودَ وَأَبُو الْمُتَوَکِّلِ اسْمُهُ عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ

 

ترجمہ 

ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرے پھر وہ دوبارہ صحبت کرنا چاہے تو ان دونوں کے درمیان وضو کرلے

 

امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں عمر (رض) سے بھی روایت آئی ہے، ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے، عمر بن خطاب (رض) کا قول ہے، اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے یہی کہا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ جماع کرنا چاہے تو جماع سے پہلے دوبارہ وضو کرے۔

 

وضاحت

بعض اہل علم نے اسے وضو لغوی پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد شرمگاہ دھونا ہے ، لیکن ابن خزیمہ کی روایت سے جس میں «فليتوضأ وضوئه للصلاة» آیا ہے اس کی نفی ہوتی ہے ، صحیح یہی ہے کہ اس سے وضو لغوی نہیں بلکہ وضو شرعی مراد ہے ، جمہور نے «فليتوضأ» میں امر کے صیغے کے استحباب کے لیے مانا ہے ، لیکن ظاہر یہ کے نزدیک وجوب کا صیغہ ہے ، جمہور کی دلیل عائشہ (رض) کی وہ حدیث ہے جس میں ہے «كان للنبي صلی اللہ عليه وسلم يجامع ثم يعودو لايتوضأ» نیز صحیح ابن خزیمہ میں اس حدیث میں «فإنه أنشط للعود» کا ٹکڑا وارد ہے اس سے بھی اس بات پر دلالت ہوتی ہے کہ امر کا صیغہ یہاں استحباب کے لیے ہے نہ کہ وجوب کے لیے۔

 


Translation

Sayyidina Abu Saeed al-Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said, of you, who has had a sexual intercourse with his wife, intends to repeat it then he must perform ablution between the two acts."


 

باب ما جاء اذا اقیمت الصلاۃ ووجد احدکم الخلاء فلیبدا بالخلاء

 

  حدیث 143

حَدَّثَنَا هَنَّادُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَدَّمَهُ وَکَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُکُمْ الْخَلَائَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَائِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَکَذَا رَوَی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْحُفَّاظِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ وَرَوَی وُهَيْبٌ وَغَيْرُهُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَا لَا يَقُومُ إِلَی الصَّلَاةِ وَهُوَ يَجِدُ شَيْئًا مِنْ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَقَالَا إِنْ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِکَ فَلَا يَنْصَرِفْ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ وَبِهِ غَائِطٌ أَوْ بَوْلٌ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ ذَلِکَ عَنْ الصَّلَاةِ

 

ترجمہ 

عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم (رض) اپنی قوم کے امام تھے، نماز کھڑی ہوئی تو انہوں نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جب نماز کے لیے اقامت ہوچکی ہو اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے ۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

عبداللہ بن ارقم (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، ثوبان اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، اور یہی قول نبی اکرم ﷺ کے صحابہ اور تابعین میں کئی لوگوں کا ہے۔ احمد، اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ جب آدمی کو پیشاب پاخانہ کی حاجت محسوس ہو تو وہ نماز کے لیے نہ کھڑا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ نماز میں شامل ہوگیا، پھر نماز کے دوران اس کو اس میں سے کچھ محسوس ہو تو وہ اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک یہ حاجت (نماز سے) اس کی توجہ نہ ہٹا دے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ پاخانے یا پیشاب کی حاجت کے ساتھ نماز پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ یہ چیزیں نماز سے اس کی توجہ نہ ہٹا دیں۔

 

 

Translation

Hisham ibn Urwah reported from his father who reported from Sayyidina Abdullah ibn Arqam (RA).He (Urwah) said, "The iqamah for the Salah was called when he (Abdullah ibn Arqam) held a man between his hand and pulled him forward while he himself was the imam. He said he heard the Allahs Messenger ﷺ say that if the iqamah is called and one has the urge to relieve oneself then one must go to the latrine first."


 

باب ما جاء فی الوضوء من الموطی

 

  حدیث 144

قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَکَانِ الْقَذِرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَتَوَضَّأُ مِنْ الْمَوْطَإِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا وَطِيئَ الرَّجُلُ عَلَی الْمَکَانِ الْقَذِرِ أَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ الْقَدَمِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَطْبًا فَيَغْسِلَ مَا أَصَابَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَرَوَی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِهُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهُوَ وَهَمٌ وَلَيْسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ابْنٌ يُقَالَ لَهُ هُودٌ وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهَذَا الصَّحِيحُ

 

ترجمہ

عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے کہا : میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، (تو میں کیا کروں ؟ ) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اس کے بعد کی (پاک) زمین اسے پاک کردیتی ہے ۔


امام ترمذی کہتے ہیں

اس باب میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے بھی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گندی جگہوں پر سے گزرنے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے، اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ جب آدمی کسی گندے راستے سے ہو کر آئے تو اسے پاؤں دھونے ضروری نہیں سوائے اس کے کہ گندگی گیلی ہو تو ایسی صورت میں جو کچھ لگا ہے اسے دھو لے۔

 

Translation
The slave-girl of Sayyidina Abdur Rahman ibn Awf (RA) narrated that she said to Umm Salamah ﷺ , "I am a woman who has a long dragging shirt and walky places." Sayyidah Umm Salamah ﷺ told her that Allahs Messenger ﷺ had said "That which follows it cleanses it.



باب ما جاء فی التیمم

 

  حدیث 145 

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِالتَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَمَّارٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عَلِيٌّ وَعَمَّارٌ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ التَّابِعِينَ مِنْهُمْ الشَّعْبِيُّ وَعَطَائٌ وَمَکْحُولٌ قَالُوا التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ وَجَابِرٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَالْحَسَنُ قَالُوا التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِکٌ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَمَّارٍ فِي التَّيَمُّمِ أَنَّهُ قَالَ لِلْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ أَنَّهُ قَالَ تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَنَاکِبِ وَالْآبَاطِ فَضَعَّفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثَ عَمَّارٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ لَمَّا رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثُ الْمَنَاکِبِ وَالْآبَاطِ قَالَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْلَدٍ الْحَنْظَلِيُّ حَدِيثُ عَمَّارٍ فِي التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَحَدِيثُ عَمَّارٍ تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَنَاکِبِ وَالْآبَاطِ لَيْسَ هُوَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ لِأَنَّ عَمَّارًا لَمْ يَذْکُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِذَلِکَ وَإِنَّمَا قَالَ فَعَلْنَا کَذَا وَکَذَا فَلَمَّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِالْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ فَانْتَهَی إِلَی مَا عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ وَالدَّلِيلُ عَلَی ذَلِکَ مَا أَفْتَی بِهِ عَمَّارٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّيَمُّمِ أَنَّهُ قَالَ الْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ أَنَّهُ انْتَهَی إِلَی مَا عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 

 

ترجمہ

عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے تیمم کا حکم دیا۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

عمار (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں عائشہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، یہی صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا قول ہے جن میں علی، عمار، ابن عباس (رض) شامل ہیں اور تابعین میں سے بھی کئی لوگوں کا ہے جن میں شعبی، عطاء اور مکحول بھی ہیں، ان سب کا کہنا ہے کہ تیمم چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ہی بار مارنا ہے، اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں، بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر (رض)، ابراہیم نخعی اور حسن بصری شامل ہیں کہتے ہیں کہ تیمم چہرہ کے لیے ایک ضربہ اور دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ایک ضربہ ہے، اس کے قائل سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی ہیں، تیمم کے سلسلہ میں عمار سے یہ حدیث جس میں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ کا ذکر ہے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، عمار (رض) سے تیمم کی حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا۔ بعض اہل علم نے تیمم کے سلسلہ میں عمار کے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کی تضعیف کی ہے کیونکہ ان سے شانوں اور بغلوں والی حدیث بھی مروی ہے، اسحاق بن ابراہم مخلد حنظلی (ابن راہویہ) کہتے ہیں کہ چہرہ اور دونوں کہنیوں کے لیے ایک ہی ضربہ والی تیمم کے سلسلہ کی حدیث حسن صحیح ہے، عمار (رض) کی حدیث جس میں ہے کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کے مخالف نہیں کیونکہ عمار (رض) نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا بلکہ انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ ہم نے ایسا ایسا کیا، پھر جب انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں صرف چہرے اور دونوں کا حکم دیا، تو وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی پر رک گئے۔ جس کی نبی اکرم ﷺ نے انہیں تعلیم دی، اس کی دلیل تیمم کے سلسلہ کا عمار (رض) کا وہ فتویٰ ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد دیا ہے کہ تیمم صرف چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی کا ہے، اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ وہ اسی جگہ رک گئے جس کی نبی اکرم ﷺ نے انہیں تعلیم دی اور آپ نے انہیں جو تعلیم دی تھی وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں تک ہی محدود تھی۔

 


وضاحت

بعض نسخوں میں یہاں سے اخیر تک کا ٹکڑا نہیں ہے۔ 

 

Translation

Sayyidina Ammar ibnYasir "(Ra) reported that the Prophet ﷺ commanded them to make tayammum on their faces and palms.

 

 

  حدیث 146

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيِّ عَنْ دَاودَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ التَّيَمُّمِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ فِي کِتَابِهِ حِينَ ذَکَرَ الْوُضُوئَ فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَقَالَ فِي التَّيَمُّمِ فَامْسَحُوا بِوُجُوهِکُمْ وَأَيْدِيکُمْ وَقَالَ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا فَکَانَتْ السُّنَّةُ فِي الْقَطْعِ الْکَفَّيْنِ إِنَّمَا هُوَ الْوَجْهُ وَالْکَفَّانِ يَعْنِي التَّيَمُّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَذِيٌّ صَحِيحٌ

 

ترجمہ

عکرمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) سے تیمم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس وقت وضو کا ذکر کیا تو فرمایا اپنے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ، اور تیمم کے بارے میں فرمایا : اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو ، اور فرمایا : چوری کرنے والے مرد و عورت کی سزا یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دو تو ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں سنت یہ تھی کہ (پہنچے تک) ہتھیلی کاٹی جاتی، لہٰذا تیمم صرف چہرے اور ہتھیلیوں ہی تک ہوگا۔


امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

 

Translation

We learn from Yahya ibn Musa who learnt from Saeed ibn Sulayman who from Muhammad ibn Khalid Qarshi who from Dawud ibn Husayn who from lkrimah and he from Ibn Abbas (RA) that the latter was asked about tayammum. He said, "Allah, the Exalted has given the command for ablution in His Book saying: “Wash your faces and your hands up to the elbows” (5: 6) Wipe your faces and hands with it. And Allah said: “And the thief, man or woman, cut off the hands of both” (5:38) It is known from Sunnah that the hand is amputated up to the ankle joint. Hence, tayammum too is of the face and hands (up to joints).


 باب  


  حدیث 147

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَابْنُ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَی کُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَکُنْ جُنُبًا قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبِهِ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ قَالُوا يَقْرَأُ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ عَلَی غَيْرِ وُضُوئٍ وَلَا يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

 

ترجمہ 

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔ خواہ کوئی بھی حالت ہو جب تک کہ آپ جنبی نہ ہوتے۔

 

امام ترمذی کہتے ہیں

علی (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی وضو کے بغیر قرآن پڑھ سکتا ہے، لیکن مصحف میں دیکھ کر اسی وقت پڑھے جب وہ باوضو ہو۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔

 

وضاحت

بلکہ ضعیف ہے جیسا کہ تخریج میں گزرا۔

 


Translation

Sayyidina Ali (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ made us recite the Quran in every condition provided one was not sexually defiled.”



باب ما جاء فی البول یصیب الارض 

  حدیث 148

 

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّی فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَائٍ أَوْ دَلْوًا مِنْ مَائٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ قَالَ سَعِيدٌ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ نَحْوَ هَذَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَقَدْ رَوَی يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

 

ترجمہ

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکا تو کہا : اے اللہ تو مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم مت فرما۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تم نے ایک کشادہ چیز (یعنی رحمت الٰہی) کو تنگ کردیا ، پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جا کر پیشاب کرنے لگا، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس پر ایک ڈول پانی بہا دو 

 پھر آپ نے فرمایا : تم تو آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہونا کہ سختی کرنے والے 

  

امام ترمذی کہتے ہیں

یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔

 


وضاحت

آپ ﷺ نے یہ بات صحابہ سے ان کے اس اعرابی کو پھٹکارنے پر فرمائی ، یعنی نرمی سے اس کے ساتھ معاملہ کرو ، سختی نہ برتو۔

 

Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that a villager came to the mosque; the Allahs Messenger ﷺ was also sitting there. He offered Salah and prayed: "O Allah have mercy on me and on Muhammad and do not have mercy on anyone else besides us." The Prophet ﷺ turned towards him and said, "You have limited the application of a very large thing (Mercy).” There had not passed enough time when this man passed urine in the mosque. The people towards him, but the Prophet ﷺ said. "Pour a bucket of water over it.” He also said, "Indeed, you are sent only as those who make things easy and not as those who create difficulties."Saeed said that Sufyan and Yahya ibn Saeed also reported a hadith like this (#147) from Malik (RA).






No comments:

Powered by Blogger.