Unit 2 / Tirmizi / The Book On Salat ( Prayer ) / Hadith 149 - 460

 

Unit 2 

The Book On Salat ( Prayer )

Hadith 149 - 460

 نماز کا بیان


باب ما جاء في مواقيت الصلاة عن النبي  

حدیث 149

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حَکِيمٍ وَهُوَ ابْنُ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّی الظُّهْرَ فِي الْأُولَی مِنْهُمَا حِينَ کَانَ الْفَيْئُ مِثْلَ الشِّرَاکِ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِينَ کَانَ کُلُّ شَيْئٍ مِثْلَ ظِلِّهِ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ وَأَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ وَحَرُمَ الطَّعَامُ عَلَی الصَّائِمِ وَصَلَّی الْمَرَّةَ الثَّانِيَةَ الظُّهْرَ حِينَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَيْئٍ مِثْلَهُ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِينَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَيْئٍ مِثْلَيْهِ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ لِوَقْتِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ الْآخِرَةَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَتْ الْأَرْضُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَائِ مِنْ قَبْلِکَ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي مُوسَی وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَالْبَرَائِ وَأَنَسٍ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 
 جبرائیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کے پاس میری دو بار امامت کی، پہلی بار انہوں نے ظہر اس وقت پڑھی  (جب سورج ڈھل گیا اور)  سایہ جوتے کے تسمہ کے برابر ہوگیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا  پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اور روزے دار نے افطار کرلیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق  غائب ہوگئی، پھر نماز فجر اس وقت پڑھی جب فجر روشن ہوگئی اور روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوگیا، دوسری بار ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا، پھر مغرب اس کے اول وقت ہی میں پڑھی  (جیسے پہلی بار میں پڑھی تھی)  پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر فجر اس وقت پڑھی جب اجالا ہوگیا، پھر جبرائیل نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا : اے محمد ! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقات نماز تھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں
  امام ترمذی کہتے ہیں
  اس باب میں ابوہریرہ، بریدہ، ابوموسیٰ ، ابومسعود انصاری، ابوسعید، جابر، عمرو بن حرم، براء اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ 

 وضاحت

 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل تک رہتا ہے اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے جمہور کا یہی مسلک ہے اور عصر کے وقت سے متعلق امام ابوحنیفہ کا مشہور قول دو مثل کا ہے لیکن یہ کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔ بلکہ بعض علمائے احناف نے صحیح احادیث میں ان کے اس قول کو رد کردیا   

اس سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب  ( پچھم  )  میں باقی رہتی ہے۔ 

پہلے دن جبرائیل (علیہ السلام) نے ساری نمازیں اول وقت میں پڑھائیں اور دوسرے دن آخری وقت میں تاکہ ہر نماز کا اول اور آخر وقت معلوم ہوجائے۔   


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "Jibril led me in Salah twice near Bayt Allah. The first time, we offered the Salah of Zuhr when the shadow was like the thong of a shoe. Then, we offered Asr when the shadow of everything was equal to it, and maghrib after sunset when the fasting man takes if tar (breaks his fast), and Isha when the twilight disappeared, and fair when one who fasts is forbidden food and drink. The second time, we offerred Zuhr when the shadow of everything was like it in length at the time of Asr on the previous day. Then we offered the Asr when the shadow of everything was twice as long. We prayed Maghrib at the same time as the previous day; we prayed Isha when one-third of the night was over and Fajr when the earth was well-lit. Then Jibril turned to me and said; "O Muhammad ﷺ ! This was the time observed by Prophets ﷺ before you, and the time (of five Salah) is between these two times.


حدیث 150 

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ و قَالَ مُحَمَّدٌ أَصَحُّ شَيْئٍ فِي الْمَوَاقِيتِ حَدِيثُ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِي الْمَوَاقِيتِ قَدْ رَوَاهُ عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


ترجمہ

 جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :  جبرائیل نے میری امامت کی ، پھر انہوں نے ابن عباس (رض) کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ البتہ انہوں نے اس میں "    لوقت العصر بالأمس " کا ٹکڑا ذکر نہیں کیا۔    

امام ترمذی کہتے ہیں 

 یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے  اور ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں 

 اوقات نماز کے سلسلے میں سب سے صحیح جابر (رض) والی حدیث ہے جسے انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔  


  وضاحت 

 امام ترمذی یہ اصطلاح  ( حسن صحیح غریب  )  اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی حدیث کسی صحابی کی روایت سے معروف ہو اور اس کے مختلف طرق ہوں ، یا ایک ہی طریق ہو پھر اسی صحابی سے کسی اور طریق سے روایت آئے اور اسے غریب جانا جائے ، مطلب یہ ہے کہ لفظی طور پر غریب ہے اسنادی طور پر حسن صحیح ہے۔    


Translation

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported from Allahs Messenger ﷺ said, "Jibril led me in Salah. “And he mentioned a Hadith of the same purport as Sayyidina Abbas (RA) (Hadith #149), saying (about Zuhr) "at the time of Asr yesterday


باب منه

حدیث 151

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَآخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ حَدِيثُ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي الْمَوَاقِيتِ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ کَانَ يُقَالُ إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :  نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخری وقت، ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہوجائے، اور عصر کا اول وقت وہ ہے جب عصر کا وقت  (ایک مثل سے)  شروع ہوجائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج پیلا ہوجائے، اور مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈوب جائے اور آخری وقت وہ ہے جب شفق غائب ہوجائے، اور عشاء کا اول وقت وہ ہے جب شفق غائب ہوجائے اور اس کا آخر وقت وہ ہے جب آدھی رات ہوجائے ، اور فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر  (صادق)  طلوع ہوجائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل جائے۔   

، اس روایت کو ابواسحاق فزاری نے اعمش سے اور اعمش نے مجاہد سے روایت کیا ہے، مجاہد کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخر وقت ہے، پھر محمد بن فضیل والی سابقہ حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی کی حدیث بیان کی۔

 امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں عبداللہ بن عمر (رض) سے بھی روایت آئی ہے

میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ اوقات کے سلسلہ میں اعمش کی مجاہد سے روایت محمد بن فضیل کی اعمش سے روایت سے زیادہ صحیح ہے، محمد بن فضیل کی حدیث غلط ہے اس میں محمد بن فضیل سے چوک ہوئی ہے     


   وضاحت 

حدیث میں لفظ «افق» ہے جس سے مراد شفق ہے ، یعنی سورج کی سرخی اندھیرے میں گم ہوجائے۔ 

 یہ وقت اختیاری ہے رہا ، وقت جواز تو یہ صبح صادق کے طلوع ہونے تک ہے کیونکہ ابوقتادہ کی حدیث میں ہے «ليس في النوم تفريط إنما التفريط علی من لم يصل الصلاة حتی يجيء وقت الصلاة الأخری  کیونکہ محمد بن فضیل نے یوں روایت کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة» جبکہ صحیح یوں ہے «عن الأعمش عن مجاهد قوله» یعنی  اس روایت کا مجاہد کا قول ہونا زیادہ صحیح ہے ، نبی اکرم ﷺ کے مرفوع قول ہونے سے۔    


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allahs Messenge ﷺ said,” There is for every Salah, its initial and final time. The initial time for Zuhr is when the sun declines and its final time is when Asr commences. The initial time of Asr is when it sets in till when the sun turns yellow. The initial time of Maghrib is with sunset and its last is when redness on the horizons disappears. The initial time of Isha is from then and its final time is at midnight. The initial time of Fajr is from true dawn till sunrise.


 حدیث 152

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَالْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی الْمَعْنَی وَاحِدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ أَقِمْ مَعَنَا إِنْ شَائَ اللَّهُ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَائُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَائِ فَأَقَامَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ مِنْ الْغَدِ فَنَوَّرَ بِالْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ فَأَقَامَ وَالشَّمْسُ آخِرَ وَقْتِهَا فَوْقَ مَا کَانَتْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ إِلَی قُبَيْلِ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَائِ فَأَقَامَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا فَقَالَ مَوَاقِيتُ الصَّلَاةِ کَمَا بَيْنَ هَذَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ قَالَ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ أَيْضًا


ترجمہ

 بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  کے پاس ایک شخص آیا، اس نے آپ سے اوقات نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : تم ہمارے ساتھ قیام کرو  (تمہیں نماز کے اوقات معلوم ہوجائیں گے)  ان شاء اللہ، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی جب فجر  (صادق)  طلوع ہوگئی پھر آپ نے حکم دیا تو انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد اقامت کہی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی آپ نے عصر پڑھی اس وقت سورج روشن اور بلند تھا، پھر جب سورج ڈوب گیا تو آپ نے انہیں مغرب کا حکم دیا، پھر جب شفق غائب ہوگئی تو آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کو خوب اجالا کر کے پڑھا، پھر آپ نے انہیں ظہر کا حکم دیا تو انہوں نے ٹھنڈا کیا، اور خوب ٹھنڈا کیا، پھر آپ نے انہیں عصر کا حکم دیا اور انہوں نے اقامت کہی تو اس وقت سورج اس کے آخر وقت میں اس سے زیادہ تھا جتنا پہلے دن تھا  (یعنی دوسرے دن عصر میں تاخیر ہوئی) ، پھر آپ نے انہیں مغرب میں دیر کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے مغرب کو شفق کے ڈوبنے سے کچھ پہلے تک مؤخر کیا، پھر آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا تو انہوں نے جب تہائی رات ختم ہوگئی تو اقامت کہی، پھر آپ نے فرمایا :  نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے ؟  تو اس آدمی نے عرض کیا : میں ہوں، آپ نے فرمایا :  نماز کے اوقات انہیں دونوں کے بیچ میں ہیں ۔ 


Translation

Sayyidina Sulayman ibn Braydah (RA) reported from his father (Buraidah (RA). He said someone came to the Prophet ﷺ and asked him about the times of salah. He said, “Stay with us, Insha Allah.”Then he commanded Sayyidina Bilal (RA) and he called the Iqamah at the time of rise of dawn. Then he commanded Sayyidina Bilal (RA) and he gave the Iqamah at the declination of the sun and (they) offered the Zuhr Salah. Then he commanded him ( Bilal (RA) ) and he called the iqamah and (they) offered the asr while the sun was high and bright. Then when the sun set, he gave the command for Maghrib. Then he gave the command for Isha and he called the iqamah when the twilight had disappeared. Then, the next day, he gave the command and the fair was offered in a good light. Then he commanded for the Zuhr and they offered it when the extreme heat had cooled down. Then he gave the command for the Asr and he gave the iqamah when the suns time was more delayed than the previous day. Then he gave the command for Maghrib and (they) offered it a little before twilight disappeared. Then he gave the command for Isha and he called its iqamah when a third of the night had passed. Then the Prophet ﷺ asked, "Where is he who had asked about the times of Salah?" He said, "Here am I!” So, he said, "The times of Salah are between these two times."


باب ما جاء في التغليس بالفجر

حدیث 153

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ و حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَائُ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ فَيَمُرُّ النِّسَائُ مُتَلَفِّفَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنْ الْغَلَسِ و قَالَ قُتَيْبَةُ مُتَلَفِّعَاتٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَقَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ يَسْتَحِبُّونَ التَّغْلِيسَ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ


ترجمہ 

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب فجر پڑھا لیتے تو پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ 

   امام ترمذی کہتے ہیں عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے

 اس باب میں ابن عمر، انس، اور قیلہ بنت مخرمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں 

 اور اسی کو صحابہ کرام جن میں ابوبکر و عمر (رض) بھی شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے بہت سے اہل علم نے پسند کیا ہے، اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ فجر «غلس»  (اندھیرے)  میں پڑھنا مستحب ہے۔  

  

Translation

Sayyidah Aisha (RA) narrated that when Allahs Messenger ﷺ would .finish the Fajr Salah, the women would return." Ansari added, "And they would pass wrapped in cloaks unrecognized because of the darkness


باب ما جاء في الإسفار بالفجر

حدیث 154

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ قَالَ وَقَدْ رَوَی شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَيْضًا عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَجَابِرٍ وَبِلَالٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَأَی غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ الْإِسْفَارَ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ مَعْنَی الْإِسْفَارِ أَنْ يَضِحَ الْفَجْرُ فَلَا يُشَکَّ فِيهِ وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ مَعْنَی الْإِسْفَارِ تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ


ترجمہ

 رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے سنا :  فجر خوب اجالا کر کے پڑھو، کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے ۔   

 امام ترمذی کہتے ہیں  رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے 

اس باب میں ابوبرزہ اسلمی، جابر اور بلال (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

 صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کی رائے نماز فجر اجالا ہونے پر پڑھنے کی ہے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ «اسفار»  اجالا ہونے  کا مطلب یہ ہے کہ فجر واضح ہوجائے اور اس کے طلوع میں کوئی شک نہ رہے، «اسفار» کا یہ مطلب نہیں کہ نماز تاخیر  (دیر)  سے ادا کی جائے 


وضاحت 

نبی اکرم ﷺ نیز صحابہ و تابعین و سلف صالحین کے تعامل کو دیکھتے ہوئے اس حدیث کا یہی صحیح مطلب ہے۔ باب ہذا اور گزشتہ باب کی احادیث میں علمائے حدیث نے جو بہترین تطبیق دی وہ یوں ہے کہ فجر کی نماز منہ اندھیرے اول وقت میں شروع کرو ، اور تطویل قرأت کے ساتھ اجالا کرلو ، دونوں طرح کی احادیث پر عمل ہوجائے گا۔    


Translation

Sayyidina Rafi (RA) ibn Khadij said that he heard Allahs Messenger ﷺ say, "Offer the Fajr Salah in good light. There is more reward in that


باب ماجاء في التعجيل بالظهر

حدیث 155

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَکِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا کَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مِنْ أَبِي بَکْرٍ وَلَا مِنْ عُمَرَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَخَبَّابٍ وَأَبِي بَرْزَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَنَسٍ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ تَکَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَکِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِهِ الَّذِي رَوَی عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ قَالَ يَحْيَی وَرَوَی لَهُ سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ وَلَمْ يَرَ يَحْيَی بِحَدِيثِهِ بَأْسًا قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَکِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ الظُّهْرِ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  ظہر کو رسول اللہ  ﷺ  سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر (رض) سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا

  امام ترمذی کہتے ہیں 

 اس باب میں جابر بن عبداللہ، خباب، ابوبرزہ، ابن مسعود، زید بن ثابت، انس اور جابر بن سمرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ (رض) کی حدیث حسن ہے 

 اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے

  (سند کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس کے راوی ” حکیم بن جبیر “ ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث جیسا کہ مولف نے ذکر کیا ہے سے یہ حدیث ثابت ہے

  

Translation

Sayyidah Aisha (RA) said, "I did not see anyone offering the Salah of Zuhr earlier than Allahs Messenger ﷺ did, and not even (earlier) than Abu Bakr (RA) and Umar (RA)”


حدیث 156

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَحْسَنُ حَدِيثٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے نماز ظہر اس وقت پڑھی جس وقت سورج ڈھل گیا

 امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث صحیح ہے اور یہ اس باب میں سب سے اچھی حدیث ہے  

اس باب میں جابر (رض) سے بھی حدیث آئی ہے


Translation

Hasan ibn Ali Halwani reported to us, Abdur Razzaq reported to him and Mumar to him and Zuhri to him. Sayyidina Anas ibn Malik told me that Allahs Messenger offered the Salah of zuhr when it was time of zawal (declination of the sun).


باب ما جاء في تأخير الظهر في شدة الحر

حدیث 157

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَالْمُغِيرَةِ وَالْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي مُوسَی وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ قَالَ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا وَلَا يَصِحُّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَأْخِيرَ صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنَّمَا الْإِبْرَادُ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا کَانَ مَسْجِدًا يَنْتَابُ أَهْلُهُ مِنْ الْبُعْدِ فَأَمَّا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ وَالَّذِي يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ فَالَّذِي أُحِبُّ لَهُ أَنْ لَا يُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَمَعْنَی مَنْ ذَهَبَ إِلَی تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ هُوَ أَوْلَی وَأَشْبَهُ بِالِاتِّبَاعِ وَأَمَّا مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ أَنَّ الرُّخْصَةَ لِمَنْ يَنْتَابُ مِنْ الْبُعْدِ وَالْمَشَقَّةِ عَلَی النَّاسِ فَإِنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ مَا يَدُلُّ عَلَی خِلَافِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ قَالَ أَبُو ذَرٍّ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ أَبْرِدْ ثُمَّ أَبْرِدْ فَلَوْ کَانَ الْأَمْرُ عَلَی مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ لَمْ يَکُنْ لِلْإِبْرَادِ فِي ذَلِکَ الْوَقْتِ مَعْنًی لِاجْتِمَاعِهِمْ فِي السَّفَرِ وَکَانُوا لَا يَحْتَاجُونَ أَنْ يَنْتَابُوا مِنْ الْبُعْدِ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

 جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو  کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے 

  امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے 

 اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ ، ابن عباس اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  

 اس سلسلے میں عمر (رض) سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں،  

 اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ 

شافعی کہتے ہیں 

 ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے،  

 جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر (رض) کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر (رض) کہتے ہیں 

 ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ تھے، بلال (رض) نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

  بلال ! ٹھنڈا ہوجانے دو ، ٹھنڈا ہوجانے دو   (یہ حدیث آگے آرہی ہے) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی


وضاحت 

 یعنی کچھ انتظار کرلو ٹھنڈا ہوجائے تب پڑھو ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موسم گرما میں ظہر قدرے تاخیر کر کے پڑھنی چاہیئے اس تاخیر کی حد کے بارے میں ابوداؤد اور نسائی میں ایک روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ موسم گرما میں ظہر میں اتنی تاخیر کرتے کہ سایہ تین قدم سے لے کر پانچ قدم تک ہوجاتا ، مگر علامہ خطابی نے کہا ہے کہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے بلکہ طول البلد اور عرض البلد کے اعتبار سے اس کا حساب بھی مختلف ہوگا ، بہرحال موسم گرما میں نماز ظہر قدرے تاخیر سے پڑھنی مستحب ہے ، یہی جمہور کی رائے ہے

اسے حقیقی اور ظاہری معنی پر محمول کرنا زیادہ صحیح ہے کیونکہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ جہنم کی آگ نے رب عزوجل سے شکایت کی کہ میرے بعض اجزاء گرمی کی شدت اور گھٹن سے بعض کو کھا گئے ہیں تو رب عزوجل نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں اور ایک گرمی میں ، جاڑے میں سانس اندر کی طرف لیتی ہے اور گرمی میں باہر نکالتی ہے 


Translation

Sayyidina Abu Huraryrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “When the heat is severe postpone the Salah till it is cooler because the severity of heat is the effect of the violence of Hell.”


حدیث 158

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ فِي سَفَرٍ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ أَبْرِدْ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدْ فِي الظُّهْرِ قَالَ حَتَّی رَأَيْنَا فَيْئَ التُّلُولِ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  ایک سفر میں تھے، ساتھ میں بلال (رض) بھی تھے۔ بلال (رض) نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا 

  ٹھنڈا ہوجانے دو ۔ انہوں نے پھر اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ  ﷺ  نے پھر فرمایا 

  ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھ ۔ وہ کہتے ہیں  (ظہر تاخیر سے پڑھی گئی)  یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا تب انہوں نے اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھی، پھر فرمایا 

  گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ لہٰذا نماز ٹھنڈے میں پڑھا کرو 

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے    


Translation

Sayyidina Abu Dharr (RA) said that Allahs Messenger ﷺ was on a journey and Sayyidina Bilal (RA) was with him too. He intended to call the iqamah for the Salah of Zuhr, but the Prophet ﷺ said, "Let It cool down!" Then he again Intended to call..Allahs Messenger ﷺ said, "Let it be cooler for the Zuhr", till they saw the shadows of hillocks and called the iqamah and offered the Salah of Zuhr. Then Allahs Messenger ﷺ said, "The extreme heat is the severity of Hell. So, observe the Salah of Zuhr when it is cooler.”


باب ما جاء فی تعجیل العصر

حدیث 159

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا وَلَمْ يَظْهَرْ الْفَيْئُ مِنْ حُجْرَتِهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَأَبِي أَرْوَی وَجَابِرٍ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ وَيُرْوَی عَنْ رَافِعٍ أَيْضًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَلَا يَصِحُّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةُ وَأَنَسٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ التَّابِعِينَ تَعْجِيلَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَکَرِهُوا تَأْخِيرَهَا وَبِهِ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے عصر پڑھی اس حال میں کہ دھوپ ان کے کمرے میں تھی، ان کے کمرے کے اندر کا سایہ پورب والی دیوار پر نہیں چڑھا تھا

 امام ترمذی کہتے ہیں  عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے 

 اس باب میں انس، ابوارویٰ ، جابر اور رافع بن خدیج (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  (اور رافع (رض) سے عصر کو مؤخر کرنے کی بھی روایت کی جاتی ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، 

 صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم نے جن میں عمر، عبداللہ بن مسعود، عائشہ اور انس (رض) بھی شامل ہیں اور تابعین میں سے کئی لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ عصر جلدی پڑھی جائے اور اس میں تاخیر کرنے کو ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے اسی کے قائل عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں

    

Translation

Sayyidah Aisha (RA) said that Allahs Messenger ﷺ prayed the Salah while the sun was still in her room and the shadow had not gone up in her room.


حدیث 160

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ قُومُوا فَصَلُّوا الْعَصْرَ قَالَ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْکَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّی إِذَا کَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْکُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ  وہ بصرہ میں جس وقت ظہر پڑھ کر لوٹے تو وہ انس بن مالک (رض) کے پاس ان کے گھر آئے، ان کا گھر مسجد کے بغل ہی میں تھا۔ انس بن مالک نے کہا 

 اٹھو چلو عصر پڑھو، تو ہم نے اٹھ کر نماز پڑھی، جب پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے سنا ہے 

 یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان آ جائے تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور ان میں اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرے 

  امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

    

Translation

Ala ibn Abdur Rahman (RA) visited Sayyidina Anas (RA) at his home after offering the Salah of Zuhr. His home was next to the mosque. Sayyidina Ans (RA) said, "Let us stand up and offer the Asr Salah.”They stood up and offered Salah of Asr. When they had finished, Sayyidina Anas (RA) said, "I had heard Allahs Messenger ﷺ say that it is a hypocrites Salah that he sits by watching the sun till it is between the two horns of the devil, he rises and pecks four times, remembering Allah but a little.”


باب ما جاء فی تاخیر صلاة العصر

حدیث 161

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ إِسْمَعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ نَحْوَهُ وَوَجَدْتُ فِي کِتَابِي أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ و حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَهَذَا أَصَحُّ


ترجمہ

 ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  ظہر میں تم لوگوں سے زیادہ جلدی کرتے تھے اور تم لوگ عصر میں رسول اللہ  

ﷺ  سے زیادہ جلدی کرتے ہو 

 

 وضاحت

 بعض لوگوں نے اس روایت سے عصر دیر سے پڑھنے کے استحباب پر استدلال کیا ہے ، جب کہ اس میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے عصر کی تاخیر کے استحباب پر استدلال کیا جائے ، اس میں صرف اتنی بات ہے کہ ام سلمہ (رض) کے جو لوگ مخاطب تھے وہ عصر میں رسول اللہ ﷺ سے بھی زیادہ جلدی کرتے تھے ، تو ان سے ام سلمہ نے یہ حدیث بیان فرمائی ، اس میں اس بات پر قطعاً دلالت نہیں کہ نبی اکرم ﷺ عصر دیر سے پڑھتے تھے کہ عصر کی تاخیر پر اس سے استدلال کیا جائے ، علامہ عبدالحئی لکھنوی  التعليق الممجد  میں لکھتے ہیں «هذا الحديث إنما يدل علی أن التعجيل في الظهر أشد من التعجيل في العصر لا علی استحباب التأخير» 

بلاشبہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز ظہر میں  ( اس کا وقت ہوتے ہی  )  جلدی کرنا ، نماز عصر میں جلدی کرنے سے بھی زیادہ سخت حکم رکھتا ہے ، نہ کہ تاخیر سے نماز ادا کرنے کے مستحب ہونے پر

  امام ترمذی کہتے ہیں 

  یہ حدیث اسماعیل بن علیہ سے بطریق «ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة» اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ اور مجھے اپنی کتاب میں اس کی سند یوں ملی کہ مجھے علی بن حجر نے خبر دی انہوں نے اسماعیل بن ابراہیم سے اور اسماعیل نے ابن جریج سے روایت کی ہے۔  

 اس حدیث کا ابن جریج کے طریق سے مروی ہونا زیادہ صحیح ہے بہ نسبت ایوب سختیانی کے طریق کے ، کیونکہ ابن جریج سے علی بن حجر کے علاوہ بشر بن معاذ نے بھی روایت کی ہے ، واللہ اعلم

 

Translation

Sayyidina Umm Salamah (RA) said, "Allahs Messenger ﷺ used to hasten the zuhr more than you do but you observe the Asr earlier than he did."


باب ما جاء فی وقت المغرب

حدیث 162

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَالصُّنَابِحِيِّ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَأَنَسٍ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحَدِيثُ الْعَبَّاسِ قَدْ رُوِيَ مَوْقُوفًا عَنْهُ وَهُوَ أَصَحُّ وَالصُّنَابِحِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ اخْتَارُوا تَعْجِيلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَکَرِهُوا تَأْخِيرَهَا حَتَّی قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ إِلَّا وَقْتٌ وَاحِدٌ وَذَهَبُوا إِلَی حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ صَلَّی بِهِ جِبْرِيلُ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ


ترجمہ

 سلمہ بن الاکوع (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور پردے میں چھپ جاتا 

 امام ترمذی کہتے ہیں  سلمہ بن الاکوع والی حدیث حسن صحیح ہے

 اس باب میں جابر، صنابحی، زید بن خالد، انس، رافع بن خدیج، ابوایوب، ام حبیبہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  

 عباس (رض) کی حدیث ان سے موقوفاً روایت کی گئی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے

 اور صنابحی نے نبی اکرم  ﷺ  سے نہیں سنا ہے، وہ تو ابوبکر (رض) کے دور کے ہیں

 اور یہی قول صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا ہے، ان لوگوں نے نماز مغرب جلدی پڑھنے کو پسند کیا ہے اور اسے مؤخر کرنے کو مکروہ سمجھا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے 

 یہ تمام حضرات نبی اکرم  ﷺ  کی اس حدیث کی طرف گئے ہیں جس میں ہے کہ جبرائیل نے آپ کو نماز پڑھائی اور یہی ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے


  وضاحت 

 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کا وقت سورج ڈوبنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مغرب میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے بلکہ اسے اول وقت ہی میں ادا کرنا چاہیئے۔

 سلف کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ مغرب کا وقت «ممتد»  پھیلا ہوا  ہے یا غیر ممتد ، جمہور کے نزدیک سورج ڈوبنے سے لے کر شفق ڈوبنے تک پھیلا ہوا ہے ، اور شافعی اور ابن مبارک کی رائے ہے کہ مغرب کا صرف ایک ہی وقت ہے اور وہ اول وقت ہے ، ان لوگوں کی دلیل جبرائیل (علیہ السلام) والی روایت ہے جس میں ہے کہ دونوں دنوں میں آپ نے مغرب سورج ڈوبنے کے فوراً بعد پڑھائی اور جمہور کی دلیل صحیح مسلم میں موجود ابوموسیٰ کی روایت ہے ، اس میں ہے «ثم أخر المغرب حتی کان عند سقوط الشفق»

 جمہور کی رائے ہی زیادہ صحیح ہے ، جمہور نے جبرائیل والی روایت کا جواب تین طریقے سے دیا ہے 

 اس میں صرف افضل وقت کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے ، وقت جواز کو بیان نہیں گیا 

 جبرائیل کی روایت متقدم ہے مکی دور کی اور مغرب کا وقت شفق ڈوبنے تک ممتد ہونے کی روایت متاخر ہے مدنی دور کی 

 یہ روایت جبرائیل والی روایت سے سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے

  

Translation

Sayyidina Salamah ibn al-Aku(RA) said that Allahs Messenger ﷺ offer the Salah of Maghrib when the sun had set and hid itself behind the screen.


باب ما جاء فی وقت صلاة العشاء الاخرة

حدیث 163

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ هُشَيْمٌ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ وَحَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ أَصَحُّ عِنْدَنَا لِأَنَّ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ رَوَی عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ نَحْوَ رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ


ترجمہ

 نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ  اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ  ﷺ  

اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے   

 اس طریق سے بھی ابو عوانہ سے  اسی سند سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی نے پہلے ابو عوانہ کا طریق ذکر کیا پھر ہشیم کے طریق کا اور فرمایا 

 ابو عوانہ والی حدیث ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے


وضاحت 

 حدیث جبرائیل میں یہ بات آچکی ہے کہ عشاء کا وقت شفق غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے ، یہ اجماعی مسئلہ ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ، رہی یہ بات کہ اس کا آخری وقت کیا ہے تو صحیح اور صریح احادیث سے جو بات ثابت ہے وہ یہی ہے کہ اس کا آخری وقت طلوع فجر تک ہے جن روایتوں میں آدھی رات تک کا ذکر ہے اس سے مراد اس کا افضل وقت ہے جو تیسری رات کے چاند ڈوبنے کے وقت سے شروع ہوتا ہے ، اسی لیے رسول اللہ ﷺ عموماً اسی وقت نماز عشاء پڑھتے تھے ، لیکن مشقت کے پیش نظر امت کو اس سے پہلے پڑھ لینے کی اجازت دے دی۔     


Translation

Sayyidina Numan ibn Bashir (RA) said, "I know more then all people the hour of this Salah. Allahs Messenger ﷺ used to observe it at the time of the setting of the moon on its third night.

Abu Bakr (RA) ibn Muhammad ibn Aban narrated from Abdur Rahman ibn Mahdi from Awanah a hadith like it


باب ما جاء فی تاخیر العشاء الاخرة

حدیث 164

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَائَ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي بَرْزَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا تَأْخِيرَ صَلَاةِ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

  اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو میں عشاء کو تہائی رات یا آدھی رات تک دیر کر کے پڑھنے کا حکم دیتا   

    امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے 

 اس باب میں جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابوبرزہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، زید بن خالد اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  

 اور اسی کو صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم نے پسند کیا ہے، ان کی رائے ہے کہ عشاء تاخیر سے پڑھی جائے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں


 وضاحت 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عشاء مذکور وقت تک مؤخر کر کے پڑھنا افضل ہے ، صرف اسی نماز کے ساتھ خاص ہے ، باقی اور نمازیں اول وقت ہی پر پڑھنا افضل ہے


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Were it not that my Ummah would be detressed by it, I would have them to postpone the Salah of Isha to a third or half of the night.


باب ما جاء فی کراھیة النوم قبل العشاء والسمر بعدھا

حدیث 165

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ قَالَ أَحْمَدُ وَحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ الْمُهَلَّبِيُّ وَإِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا عَنْ عَوْفٍ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ هُوَ أَبُو الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيُّ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَکْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَائِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي بَرْزَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ کَرِهَ أَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ النَّوْمَ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِشَائِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَرَخَّصَ فِي ذَلِکَ بَعْضُهُمْ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَکْثَرُ الْأَحَادِيثِ عَلَی الْکَرَاهِيَةِ وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي النَّوْمِ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِشَائِ فِي رَمَضَانَ 


ترجمہ

 ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  عشاء سے پہلے سونے اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے

امام ترمذی کہتے ہیں  ابوبرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے

 اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن مسعود اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  

اور اکثر اہل علم نے نماز عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کو مکروہ کہا ہے، اور بعض نے اس کی اجازت دی ہے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں 

اکثر حدیثیں کراہت پر دلالت کرنے والی ہیں، اور بعض لوگوں نے رمضان میں عشاء سے پہلے سونے کی اجازت دی ہے


  وضاحت

  عشاء سے پہلے سونے کی کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے عشاء فوت ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے ، اور عشاء کے بعد بات کرنا اس لیے ناپسندیدہ ہے کہ اس سے سونے میں تاخیر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے لیے تہجد یا فجر کے لیے اٹھنا مشکل ہوجاتا ہے امام نووی نے علمی مذاکرہ وغیرہ کو جو جائز اور مستحب بتایا ہے تو یہ اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ نماز فجر وقت پر ادا کی جائے ، اگر رات کو تعلیم و تعلم یا وعظ و تذکیر میں اتنا وقت صرف کردیا جائے کہ فجر کے وقت اٹھا نہ جاسکے تو یہ جواز و استحباب بھی محل نظر ہوگا۔  ( دیکھئیے اگلی حدیث اور اس کا حاشیہ  ) 


Translation

Sayyidina Abu Barzah (RA) narrated that the Prophet ﷺ disliked sleeping before Isha and talking after it.


باب ما جاء فی الرخصة فی السمر بعد العشاء

حدیث 166

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمُرُ مَعَ أَبِي بَکْرٍ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُمَا وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ يُقَالُ لَهُ قَيْسٌ أَوْ ابْنُ قَيْسٍ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي السَّمَرِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ فَکَرِهَ قَوْمٌ مِنْهُمْ السَّمَرَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَائِ وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ إِذَا کَانَ فِي مَعْنَی الْعِلْمِ وَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ مِنْ الْحَوَائِجِ وَأَکْثَرُ الْحَدِيثِ عَلَی الرُّخْصَةِ قَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ


ترجمہ

 عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر (رض) کے ساتھ رات میں گفتگو کرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا

 امام ترمذی کہتے ہیں عمر (رض) کی حدیث حسن ہے 

 اس باب میں عبداللہ بن عمرو، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں 

 صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اور کچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یا کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو 

اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں، نیز نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا 

  بات صرف وہ کرسکتا ہے جو نماز عشاء کا منتظر ہو یا مسافر ہو 


 وضاحت 

رہے ایسے کام جن میں کوئی دینی اور علمی فائدہ یا کوئی شرعی غرض نہ ہو مثلاً کھیل کود ، تاش بازی ، شطرنج کھیلنا ، ٹیلی ویژن اور ریڈیو وغیرہ دیکھنا ، سننا تو یہ ویسے بھی حرام ، لغو اور مکروہ کام ہیں ، عشاء کے بعد ان میں مصروف رہنے سے ان کی حرمت یا کراہت اور بڑھ جاتی ہے  


Translation

Sayyidina Umar ibn al-Khattab (RA) said that Allahs Messenger ﷺ  used to talk with Sayyidina Abu Bakr (RA) concerning affairs of the Muslims, He too used them.


باب ما جاء فی الوقت الاول من الفضل 

حدیث 167

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ وَکَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا


ترجمہ

 قاسم بن غنام کی پھوپھی ام فروہ (رض)  (جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے بیعت کی تھی)  کہتی ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  سے پوچھا گیا 

 کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ تو آپ نے فرمایا  

 اول وقت میں نماز پڑھنا

 (سند میں قاسم مضطرب الحدیث ہیں، اور عبداللہ العمری ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ابن مسعود (رض) کی اس معنی کی روایت صحیحین میں موجود ہے جو مؤلف کے یہاں رقم ١٧٣ پر آرہی ہے۔ )


Translation

Qasim ibn Ghannam reported from his paternal aunt Sayyidah Umm Farwah (RA) who had sworn allegiance to the Prophet ﷺ that the Prophet ﷺ was asked what act was the most excellent. He said, "To observe Salah at the earliest time for it."


حدیث 168

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَقْتُ الْأَوَّلُ مِنْ الصَّلَاةِ رِضْوَانُ اللَّهِ وَالْوَقْتُ الْآخِرُ عَفْوُ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَی ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

  نماز اول وقت میں اللہ کی رضا مندی کا موجب ہے اور آخری وقت میں اللہ کی معافی کا موجب ہے 

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث غریب ہے

 ابن عباس (رض) نے بھی نبی اکرم  ﷺ  سے اسی طرح روایت کی ہے  

اور اس باب میں علی، ابن عمر، عائشہ اور ابن مسعود (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation

Sayyidina lbn Umar (RA) said that Allahs Messenger, ﷺ said, "There lies in earliest time of Salah pleasure of Allah while the concluding time is His grant.


حدیث 169

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا الصَّلَاةُ إِذَا آنَتْ وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا کُفْئًا قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أُمِّ فَرْوَةَ لَا يُرْوَی إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَاضْطَرَبُوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ


ترجمہ

 علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے ان سے فرمایا 

 علی ! تین چیزوں میں دیر نہ کرو 

 نماز کو جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ عورت  (کے نکاح کو)  جب تمہیں اس کا کوئی کفو  (ہمسر)  مل جائے ۔    امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن غریب ہے

 (سند میں سعید بن عبد اللہ جہنی لین الحدیث ہیں، اور ان کی عمر بن علی سے ملاقات نہیں ہے، جیسا کہ مؤلف نے خود کتاب الجنائز میں تصریح کی ہے، مگر حدیث کا معنی صحیح ہے) 

     

Translation

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that the Prophet ﷺ said to him, “O Ali! Do not postpone three things: prayer when it is time for it, funeral when it is ready and the marriage of an unmarried woman when a suitable match is found.


حدیث 170

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الصَّلَاةُ عَلَی مَوَاقِيتِهَا قُلْتُ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَی الْمَسْعُودِيُّ وَشُعْبَةُ وَسُلَيْمَانُ هُوَ أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ هَذَا الْحَدِيثَ


ترجمہ

 ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے کہ  ایک شخص نے ابن مسعود (رض) سے پوچھا 

 کون سا عمل سب سے اچھا ہے ؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ  ﷺ  سے پوچھا تو آپ نے فرمایا 

  نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ میں نے عرض کیا 

 اور کیا ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا 

  والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، میں نے عرض کیا 

  (اس کے بعد)  اور کیا ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا 

 اللہ کی راہ میں جہاد کرنا 

   امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے


Translation

Abu Amr Shaybani reported, that a man asked Sayyidina Ibn Masud (RA), "Which deed was the best"? He said, "I had put the same question to Allahs Messenger ﷺ and he said, "To offer Salah during the mustahabb time for it." Then I asked him, what was besides that and he said that it was to serve parents. When I asked him about anything besides, he said it was to wage jihad in Allahs path."


حدیث 171

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لِوَقْتِهَا الْآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّی قَبَضَهُ اللَّهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَالْوَقْتُ الْأَوَّلُ مِنْ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَی فَضْلِ أَوَّلِ الْوَقْتِ عَلَی آخِرِهِ اخْتِيَارُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَکُونُوا يَخْتَارُونَ إِلَّا مَا هُوَ أَفْضَلُ وَلَمْ يَکُونُوا يَدَعُونَ الْفَضْلَ وَکَانُوا يُصَلُّونَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَکِّيُّ عَنْ الشَّافِعِيِّ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے کوئی نماز اس کے آخری وقت میں دو بار نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی

    امام ترمذی کہتے ہیں 

 یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے

 شافعی کہتے ہیں 

نماز کا اول وقت افضل ہے اور جو چیزیں اول وقت کی ا فضیلت پر دلالت کرتی ہیں من جملہ انہیں میں سے نبی اکرم ﷺ، ابوبکر، اور عمر (رض) کا اسے پسند فرمانا ہے۔ یہ لوگ اسی چیز کو معمول بناتے تھے جو افضل ہو اور افضل چیز کو نہیں چھوڑتے تھے۔ اور یہ لوگ نماز کو اول وقت میں پڑھتے تھے

 (سند میں اسحاق بن عمر ضعیف ہیں، مگر شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)


Translation

Sayyidah Aisha (RA) said that apart from two times, Allahs Messenger ﷺ never offered Salah at its last hour, till he died


باب ما جاء فی السھوعن وقت صلاة العصر 

حدیث 172

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَفِي الْبَاب عَنْ بُرَيْدَةَ وَنَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ أَيْضًا عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

  جس سے عصر فوت ہوگئی گویا اس کا گھر اور مال لٹ گیا 

  امام ترمذی کہتے ہیں  ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے  

  اس باب میں بریدہ اور نوفل بن معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation

Sayyidina Ibm Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, "If anyone the Salah of Asr, it is as though he has lost his family and property.


باب ما جاء فی تعجیل الصلاۃ اذا اخرھا الامام

حدیث 173

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ أُمَرَائُ يَکُونُونَ بَعْدِي يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ صُلِّيَتْ لِوَقْتِهَا کَانَتْ لَکَ نَافِلَةً وَإِلَّا کُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَکَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامُ ثُمَّ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ وَالصَّلَاةُ الْأُولَی هِيَ الْمَکْتُوبَةُ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ حَبِيبٍ


ترجمہ

 ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

 ابوذر ! میرے بعد کچھ ایسے امراء  (حکام)  ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے  

 تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا  

 نماز اپنے وقت پر پڑھ لی گئی تو امامت والی نماز تمہارے لیے نفل ہوگی، ورنہ تم نے اپنی نماز محفوظ کر ہی لی ہے 

 امام ترمذی کہتے ہیں 

 اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور عبادہ بن صامت (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

 ابوذر (رض) کی حدیث حسن ہے  

 یہی اہل علم میں سے کئی لوگوں کا قول ہے، یہ لوگ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی نماز اپنے وقت پر پڑھ لے جب امام اسے مؤخر کرے، پھر وہ امام کے ساتھ بھی پڑھے اور پہلی نماز ہی اکثر اہل علم کے نزدیک فرض ہوگی 

 

  وضاحت 

یعنی اسے دیر کر کے پڑھیں گے

 یہی صحیح ہے اور باب کی حدیث اس بارے میں نص صریح ہے ، اور جو لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں

 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام جب نماز کو اس کے اول وقت سے دیر کر کے پڑھے تو مقتدی کے لیے مستحب ہے کہ اسے اول وقت میں اکیلے پڑھ لے ، ابوداؤد کی روایت میں

 «صل الصلاة لوقتها فإن أدركتها معهم فصلها فإنها لک نافلة» 

 تم نماز وقت پر پڑھ لو پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو دوبارہ پڑھ لیا کرو ، یہ تمہارے لیے نفل ہوگی  ، ظاہر حدیث عام ہے ساری نمازیں اس حکم میں داخل ہیں خواہ وہ فجر کی ہو یا عصر کی یا مغرب کی ، بعضوں نے اسے ظہر اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے ، وہ کہتے ہیں فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہوجائے گی


Translation

Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "O Abu Dharr! There will be rulers after me who will make Salah a dead thing (that is, neglect it). You should observe Salah at its proper time. If you have offered it at its time then (your) Salah (with the ruler) will be supererogatory, otherwise you have (at least) preserved your Salah.


باب ما جاء فی النوم عن الصلاۃ

حدیث 174

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ ذَکَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُکُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَکَرَهَا وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مَرْيَمَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ وَذِي مِخْبَرٍ وَيُقَالُ ذِي مِخْمَرٍ وَهُوَ ابْنُ أَخِي النَّجَاشِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الرَّجُلِ يَنَامُ عَنْ الصَّلَاةِ أَوْ يَنْسَاهَا فَيَسْتَيْقِظُ أَوْ يَذْکُرُ وَهُوَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ يُصَلِّيهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ أَوْ ذَکَرَ وَإِنْ کَانَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَالشَّافِعِيِّ وَمَالِکٍ و قَالَ بَعْضُهُمْ لَا يُصَلِّي حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ


ترجمہ

 ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ  لوگوں نے نبی اکرم  ﷺ  سے نماز سے اپنے سو جانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا 

 سو جانے میں قصور اور کمی نہیں۔ قصور اور کمی تو جاگنے میں ہے،  (کہ جاگتا رہے اور نہ پڑھے)  لہٰذا تم میں سے کوئی جب نماز بھول جائے، یا نماز سے سو جائے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے

    امام ترمذی کہتے ہیں ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے

ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے 

 اس باب میں ابن مسعود، ابومریم، عمران بن حصین، جبیر بن مطعم، ابوجحیفہ، ابوسعید، عمرو بن امیہ ضمری اور ذومخمر  (جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نجاشی کے بھتیجے ہیں)  (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  

 اہل علم کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے اور ایسے وقت میں جاگے یا اسے یاد آئے جو نماز کا وقت نہیں مثلاً سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ لے جب جاگے یا یاد آئے گو سورج نکلنے کا یا ڈوبنے کا وقت ہو، یہی احمد، اسحاق بن راہویہ، شافعی اور مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب تک سورج نکل نہ جائے یا ڈوب نہ جائے نہ پڑھے۔ پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ یہ نماز سبب والی  (قضاء)  ہے اور سبب والی میں وقت کی پابندی نہیں ہے


Translation

Sayyidina Abu Qatadah (RA) said that the sahabah asked the Prophet ﷺ about being asleep at the time of prayer. He said, "Indeed there is no squandering in sleep. Only when one is awake is there negligence (if one does not offer Salah). So, if anyone forgets a Salah or oversleeps then he must observe it when he remembers it."


باب ما جاء فی الرجل ینسی الصلاۃ

حدیث 175

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَکَرَهَا وَفِي الْبَاب عَنْ سَمُرَةَ وَأَبِي قَتَادَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَی عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَنْسَی الصَّلَاةَ قَالَ يُصَلِّيهَا مَتَی مَا ذَکَرَهَا فِي وَقْتٍ أَوْ فِي غَيْرِ وَقْتٍ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَإِسْحَقَ وَيُرْوَی عَنْ أَبِي بَکْرَةَ أَنَّهُ نَامَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَاسْتَيْقَظَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ إِلَی هَذَا وَأَمَّا أَصْحَابُنَا فَذَهَبُوا إِلَی قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

  جو شخص نماز بھول جائے تو چاہیئے کہ جب یاد آئے پڑھ لے 

 امام ترمذی کہتے ہیں  انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے 

 اس باب میں سمرہ اور ابوقتادہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں 

علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں جو نماز بھول جائے کہا کہ وہ پڑھ لے جب بھی اسے یاد آئے خواہ وقت ہو یا نہ ہو۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ وہ عصر میں سو گئے اور سورج ڈوبنے کے وقت اٹھے، تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی جب تک کہ سورج ڈوب نہیں گیا۔ اہل کوفہ کے کچھ لوگ اسی طرف گئے ہیں۔ رہے ہمارے اصحاب یعنی محدثین تو وہ علی بن ابی طالب (رض) ہی کے قول کی طرف گئے ہیں


Translation

Sayyidina Anas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, "If anyone forgets to offer salah then he must offer it on remembering it.


باب ما جاء فی الرجل تفوته الصلوات بایتھن یبدا

حدیث 176

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِنَّ الْمُشْرِکِينَ شَغَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّی ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ مَا شَائَ اللَّهُ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْفَوَائِتِ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ لِکُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَضَاهَا وَإِنْ لَمْ يُقِمْ أَجْزَأَهُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ


ترجمہ

 ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ  عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا 

 مشرکین نے رسول اللہ  ﷺ  کو خندق کے دن چار نمازوں سے روک دیا۔ یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزر گئی، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ  ﷺ  نے ظہر پڑھی، پھر بلال (رض) نے اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی، پھر بلال (رض) نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ  ﷺ  نے عشاء پڑھی

 امام ترمذی کہتے ہیں 

 اس باب میں ابوسعید اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں 

 عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث کی سند میں کوئی برائی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود (رض) سے نہیں سنا ہے،  

 اور چھوٹی ہوئی نمازوں کے سلسلے میں بعض اہل علم نے اسی کو پسند کیا ہے کہ آدمی جب ان کی قضاء کرے تو ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہے 

 اور اگر وہ الگ الگ اقامت نہ کہے تو بھی وہ اسے کافی ہوگا، اور یہی شافعی کا قول ہے

 (سند میں ابو عبیدہ اور ان کے باپ ابن مسعود کے درمیان انقطاع ہے، نیز ابو الزبیر مدلس ہیں اور ” عنعنہ “ سے روایت کیے ہوئے ہیں، مگر شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن صحیح ہے

 

 وضاحت 

 ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت ہی راجح ہے کیونکہ ابن مسعود اور ابو سعید خدری (رض) کی حدیثوں سے اس کی تائید ہوتی ہے ، سب کے لیے ایک ہی اقامت محض قیاس ہے


Translation

Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) said that on the day of the Battle of Trench the idolators prevented Allahs Messenger ﷺ from offerIng four prayers till as much  of the night had passed away as Allah willed. He then commanded Sayyidina Bilal (RA) to call Adhan and the iqamah. He offered Zuhr, the iqamah was called and he offered Asr, the iqamah was called out and he offered Maghrib and then after the iqamah, the Isha was offered.


حدیث 177

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَجَعَلَ يَسُبُّ کُفَّارَ قُرَيْشٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا کِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا قَالَ فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ  عمر بن خطاب (رض) نے خندق کے روز کفار قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول ! میں عصر نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہوگیا، تو رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

  اللہ کی قسم ! میں نے اسے  (اب بھی)  نہیں پڑھی ہے ، وہ کہتے ہیں 

 پھر ہم وادی بطحان میں اترے تو رسول اللہ  ﷺ  نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ  ﷺ  نے سورج ڈوب جانے کے بعد پہلے عصر پڑھی پھر اس کے بعد مغرب پڑھی

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے 


   وضاحت 

 عمر (رض) کی اس حدیث میں مذکور واقعہ ابن مسعود والے واقعہ کے علاوہ دوسرا واقعہ ہے ، یہاں صرف عصر کی قضاء کا واقعہ ہے اور وہاں ظہر سے لے کر مغرب تک کی قضاء پھر عشاء کے وقت میں سب کی قضاء کا واقعہ ہے جو دوسرے دن کا ہے ، غزوہ خندق کئی دن تک ہوئی تھی


Translation

Sayyidina Jabir (RA) ibn Abdullah reported than on the day of the Trenches, Umar ibn al-Khattab(RA) reviled the disbelieving Quraysh and said, "O Messenger of Allah ﷺ I could not offer the Salah of Asr till the sun was about to set." He said, "By Allah! I could not offer the Salah of Asr till the sun was about to set.” He said, “By Allah! I too have not offered it." The narrator said that they then stopped at Bathan where the Prophet ﷺ made ablution and then they made ablution and he offered the Asr and then he offered the Maghrib.


باب ما جاء فی الصلاۃ الوسطی انھا العصر

حدیث 178

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ الْوُسْطَی صَلَاةُ الْعَصْرِ


ترجمہ

 سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

 «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے   


Translation

Sayyidina Samurah ibn Jandab (RA) reported that the Prophet ﷺ said about the Salat ul Wusta that it is Salah of Asr.


حدیث 179

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَأَبُو النَّضْرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْوُسْطَی صَلَاةُ الْعَصْرِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثُ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَمُرَةَ فِي صَلَاةِ الْوُسْطَی حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ الْعُلَمَائِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ و قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَائِشَةُ صَلَاةُ الْوُسْطَی صَلَاةُ الظُّهْرِ و قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ صَلَاةُ الْوُسْطَی صَلَاةُ الصُّبْحِ

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ سَلِ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ أَبُو عِيسَی و أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ قُرَيْشِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَلِيٌّ وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے

 وہ حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا کہ تم حسن بصری سے پوچھو کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے ؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سمرہ بن جندب سے سنا ہے،

 محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی ابن المدینی نے کہا ہے کہ سمرہ (رض) سے حسن کا سماع صحیح ہے اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے


 وضاحت 

 «وسطیٰ» یہ اس لیے ہے کہ یہ دن اور رات کی نمازوں کی بیچ میں واقع ہے 

 امام ترمذی کہتے ہیں 

صلاة وسطیٰ کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے

 اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

 محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ  (ابن المدینی)  کا کہنا ہے 

 حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے

 صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ (رض) کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ  (یعنی فجر)  ہے

 (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے، حسن بصری کے سمرہ (رض) سے سماع میں اختلاف ہے، نیز قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے

«صلاۃ وسطیٰ» سے کون سی صلاۃ مراد ہے اس بارے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں صحیح قول یہی ہے کہ اس سے مراد صلاۃ عصر ہے یہی اکثر صحابہ اور تابعین کا مذہب ہے ، امام ابوحنیفہ ، امام احمد بھی اسی طرف گئے ہیں

 امام مالک اور امام شافعی کا مشہور مذہب یہی ہے 


Translation

Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, "Salat ul-wusta is the Salah of Asr."


باب ما جاء فی کراھیة الصلاۃ بعد العصر وبعد الفجر

حدیث 180

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَال سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَکَانَ مِنْ أَحَبِّهِمْ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَعَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَمُعَاذِ ابْنِ عَفْرَائَ وَالصُّنَابِحِيِّ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَائِشَةَ وَکَعْبِ بْنِ مُرَّةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ وَيَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ وَمُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ الْفُقَهَائِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنَّهُمْ کَرِهُوا الصَّلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَأَمَّا الصَّلَوَاتُ الْفَوَائِتُ فَلَا بَأْسَ أَنْ تُقْضَی بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ قَالَ عَلِيُّ ابْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَشْيَائَ حَدِيثَ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی وَحَدِيثَ عَلِيٍّ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے صحابہ کرام (رض) میں سے کئی لوگوں سے  (جن میں عمر بن خطاب بھی ہیں اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں)  سنا کہ رسول اللہ  ﷺ  نے فجر کے بعد جب تک کہ سورج نکل نہ آئے 

اور عصر کے بعد جب تک کہ ڈوب نہ جائے نماز  

 پڑھنے سے منع فرمایا ہے

 امام ترمذی کہتے ہیں ابن عباس کی حدیث جسے انہوں نے عمر سے روایت کی ہے، حسن صحیح ہے

 اس باب میں علی، ابن مسعود، عقبہ بن عامر، ابوہریرہ، ابن عمر، سمرہ بن جندب، عبداللہ بن عمرو، معاذ بن عفراء، صنابحی  (نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے نہیں سنا ہے)  سلمہ بن اکوع، زید بن ثابت، عائشہ، کعب بن مرہ، ابوامامہ، عمرو بن عبسہ، یعلیٰ ابن امیہ اور معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں 

 صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، رہیں فوت شدہ نمازیں تو انہیں عصر کے بعد یا فجر کے بعد قضاء کرنے میں کوئی حرج نہیں  

 شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین چیزیں سنی ہیں۔ ایک عمر (رض) کی حدیث جس میں ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ سورج نہ ڈوب جائے، اور فجر کے بعد بھی جب تک کہ سورج نکل نہ آئے، اور  (دوسری)  ابن عباس (رض) کی حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا 

  تم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اور  (تیسری)  علی (رض) کی حدیث کہ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں  


 وضاحت 

 بخاری کی روایت میں «حتی ترتفع الشمس» ہے ، دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ اس حدیث میں طلوع سے مراد مخصوص قسم کا طلوع ہے اور وہ سورج کا نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنا ہے

 مذکورہ دونوں اوقات میں صرف سبب والی نفلی نمازوں سے منع کیا گیا ہے ، فرض نمازوں کی قضاء ، تحیۃ المسجد ، تحیۃ الوضو ، طواف کی دو رکعتیں اور نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, “I heard from many Sahaba (RA) among whom is Umar ibn al-Khattab who is the dearest to me that Allah’s Messenger ﷺ disallowed us to offer Salah after Fajr till the sun had risen and after Asr till the sun had set.


باب ما جاء فی الصلاۃ بعد العصر 

حدیث 181

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ لِأَنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ فَشَغَلَهُ عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ لَهُمَا وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي مُوسَی قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّی بَعْدَ الْعَصْرِ رَکْعَتَيْنِ وَهَذَا خِلَافُ مَا رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ حَيْثُ قَالَ لَمْ يَعُدْ لَهُمَا وَقَدْ رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ رِوَايَاتٌ رُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَخَلَ عَلَيْهَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَرُوِيَ عَنْهَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَالَّذِي اجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَی کَرَاهِيَةِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلَّا مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ ذَلِکَ مِثْلُ الصَّلَاةِ بِمَکَّةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ بَعْدَ الطَّوَافِ فَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةٌ فِي ذَلِکَ وَقَدْ قَالَ بِهِ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ کَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ الصَّلَاةَ بِمَکَّةَ أَيْضًا بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَبَعْضُ أَهْلِ الْکُوفَةِ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، اس لیے کہ آپ کے پاس کچھ مال آیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتیں پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا پھر آپ نے انہیں دوبارہ نہیں پڑھا 

   امام ترمذی کہتے ہیں ابن عباس (رض) کی حدیث حسن ہے

 اس باب میں عائشہ، ام سلمہ، میمونہ اور ابوموسیٰ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں 

 دیگر کئی لوگوں نے بھی نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے کہ آپ نے عصر بعد دو رکعتیں پڑھیں یہ اس چیز کے خلاف ہے جو آپ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے،  

  ابن عباس والی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا، سب سے زیادہ صحیح ہے 

 زید بن ثابت سے بھی ابن عباس ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے 

اس باب میں عائشہ (رض) سے بھی کئی حدیثیں مروی ہیں، نیز ان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  جب بھی ان کے یہاں عصر کے بعد آتے دو رکعتیں پڑھتے 

 نیز انہوں نے ام سلمہ کے واسطہ سے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے کہ آپ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔

 اکثر اہل علم کا اتفاق بھی اسی پر ہے کہ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنا مکروہ ہے سوائے ان نمازوں کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں مثلاً مکہ میں عصر کے بعد طواف کی دونوں رکعتیں پڑھنا یہاں تک سورج ڈوب جائے اور فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس سلسلے میں نبی اکرم  ﷺ  سے رخصت مروی ہے، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے یہی کہا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم نے عصر اور فجر کے بعد مکہ میں بھی نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس اور بعض اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں

 (سند میں عطاء بن السائب اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، جریر بن عبدالحمید کی ان سے روایت اختلاط کے زمانہ کی ہے، لیکن صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ پھر نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد ان دو رکعتوں کو ہمیشہ پڑھا اسی لیے ” ثم لم يعد لهما “ ” ان کو پھر کبھی نہیں پڑھا “ کا ٹکڑا منکر ہے۔


وضاحت 

 یہ ام المؤمنین عائشہ (رض) سے مروی روایات «ما ترک النبي صلی اللہ عليه وسلم السجدتين بعد العصر عندي قط»، «ما تركهما حتی لقی الله» ، «وما کان النبي صلی اللہ عليه وسلم يأتيني في يوم بعد العصر إلا صلی رکعتين» کے معارض ہے ان میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے اولاً یہ کہ ابن عباس کی یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہے ، یا کم از کم عائشہ کی حدیث سے کم تر ہے ، دوسرے یہ کہ ابن عباس نے یہ نفی اپنے علم کی بنیاد پر کی ہے کیونکہ آپ اسے گھر میں پڑھتے تھے اس لیے انہیں اس کا علم نہیں ہوسکا تھا


Translation

Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There is a Salah between two Adhan. So, whoso wishes may offer it."


باب ما جاء فی الصلاۃ قبل المغرب

حدیث 182

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ کَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ کُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَائَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ الصَّلَاةَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ کَانُوا يُصَلُّونَ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ رَکْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ إِنْ صَلَّاهُمَا فَحَسَنٌ وَهَذَا عِنْدَهُمَا عَلَی الِاسْتِحْبَابِ


ترجمہ

 عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

  جو نفلی نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ہر دو اذان کے درمیان نماز ہے

  امام ترمذی کہتے ہیں 

 عبداللہ بن مغفل (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے

 اس باب میں عبداللہ بن زبیر (رض) سے بھی روایت ہے

 صحابہ کرام کے درمیان مغرب سے پہلے کی نماز کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں سے بعض کے نزدیک مغرب سے پہلے نماز نہیں، اور صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ مغرب سے پہلے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے،  

 احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں پڑھے تو بہتر ہے، اور یہ ان دونوں کے نزدیک مستحب ہے


 وضاحت 

 ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے ، یہ حدیث مغرب کی اذان کے بعد دو رکعت پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے ، اور یہ کہنا کہ یہ منسوخ ہے قابل التفات نہیں کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں ، اسی طرح یہ کہنا کہ اس سے مغرب میں تاخیر ہوجائے گی صحیح نہیں کیونکہ یہ نماز بہت ہلکی پڑھی جاتی ہے ، مشکل سے دو تین منٹ لگتے ہیں جس سے مغرب کے اول وقت پر پڑھنے میں کوئی فرق نہیں آتا اس سے نماز مؤخر نہیں ہوتی  ( صحیح بخاری کی ایک روایت میں تو امر کا صیغہ ہے  مغرب سے پہلے نماز پڑھو  ) 

  


Translation

Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There is a Salah between two Adhan. So, whoso wishes may offer it."


 باب ما جاء فی من ادرک رکعة من العصر قبل ان تغرب الشمس

حدیث 183

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَنْ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ مِنْ الصُّبْحِ رَکْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَکَ مِنْ الْعَصْرِ رَکْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْعَصْرَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبِهِ يَقُولُ أَصْحَابُنَا وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَمَعْنَی هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَهُمْ لِصَاحِبِ الْعُذْرِ مِثْلُ الرَّجُلِ الَّذِي يَنَامُ عَنْ الصَّلَاةِ أَوْ يَنْسَاهَا فَيَسْتَيْقِظُ وَيَذْکُرُ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

 جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی

    امام ترمذی کہتے ہیں ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے

 اس باب میں عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

 ہمارے اصحاب، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ حدیث ان کے نزدیک صاحب عذر کے لیے ہے مثلاً ایسے شخص کے لیے جو نماز سے سو گیا اور سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت بیدار ہوا ہو یا اسے بھول گیا ہو اور وہ سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت اسے نماز یاد آئی ہو


 وضاحت

 یعنی اس کی وجہ سے وہ اس قابل ہوگیا کہ اس کے ساتھ باقی اور رکعتیں ملا لے اس کی یہ نماز ادا سمجھی جائے گی قضاء نہیں ، یہ مطلب نہیں کہ یہ رکعت پوری نماز کے لیے کافی ہوگی ، اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نماز کے دوران سورج نکلنے سے اس کی نماز فاسد ہوجائے گی وہ اس روایت کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ اگر اسے اتنا وقت مل گیا جس میں وہ ایک رکعت پڑھ سکتا ہو تو وہ نماز کا اہل ہوگیا اور وہ نماز اس پر واجب ہوگئی مثلاً بچہ ایسے وقت میں بالغ ہوا ہو یا حائضہ حیض سے پاک ہوئی ہو یا کافر اسلام لایا ہو کہ وہ وقت کے اندر ایک رکعت پڑھ سکتا ہو تو وہ نماز اس پر واجب ہوگی ، لیکن نسائی کی روایت جس میں «فليتم صلاته» کے الفاظ وارد ہیں اس تاویل کی نفی کرتی ہے


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet, ﷺ said, "If anyone is able to offer one rakaah of Fajr before sunrise then he has offered the fair Salah. And, if anyone has offered one rakaah of Asr before sunset then he has offered the Asr Salah."


باب ما جاء فی الجمع بین الصلاتین

حدیث 184

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ قَالَ فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ بِذَلِکَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ هَذَا


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے بغیر خوف اور بارش کے مدینے میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا 

ابن عباس (رض) سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم  ﷺ  کا اس سے کیا منشأ تھی ؟ کہا 

 آپ  ﷺ  کا منشأ یہ تھی کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی میں نہ ڈالیں

 امام ترمذی کہتے ہیں  اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے

 ابن عباس (رض) کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ابن عباس (رض) سے اس کے خلاف بھی مرفوعاً مروی ہے 

 

وضاحت

 ابوداؤد کی روایت میں «في غير خوف ولا سفر» ہے ، نیز مسلم کی ایک روایت میں بھی ایسا ہی ہے ، خوف ، سفر اور مطر  ( بارش  )  تینوں کا ذکر ایک ساتھ کسی روایت میں نہیں ہے مشہور «من غير خوف ولا سفر» ہے

 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا بوقت ضرورت حالت قیام میں بھی جائز ہے ، لیکن اسے عادت نہیں بنا لینی چاہیئے۔

 جسے امام ترمذی آگے نقل کر رہے ہیں ، لیکن یہ روایت سخت ضعیف ہے ، اس لیے دونوں حدیثوں میں تعارض ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اور نہ اس حدیث سے استدلال جائز ہے


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) , (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ offered together the Zuhr and Asr, and the Maghrib and Isha in Madinah although there was no fear or rainfall. Sayyidina Ibn Abbas (RA) , (RA) was asked what his intention in that was and he said, "His intention was that his ummah should not be put to difficulty.


حدیث 185

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَی بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْکَبَائِرِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَنَشٌ هَذَا هُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ وَهُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ إِلَّا فِي السَّفَرِ أَوْ بِعَرَفَةَ وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ لِلْمَرِيضِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْمَطَرِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَلَمْ يَرَ الشَّافِعِيُّ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

 جس نے بغیر عذر کے دو نمازیں ایک ساتھ پڑھیں وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں سے میں ایک دروازے میں داخل ہوا

  امام ترمذی کہتے ہیں 

 حنش ہی ابوعلی رحبی ہیں اور وہی حسین بن قیس بھی ہے۔ یہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہے، احمد وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے

 اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سفر یا عرفہ کے سوا دو نمازیں ایک ساتھ نہ پڑھی جائیں

 تابعین میں سے بعض اہل علم نے مریض کو دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کی رخصت دی ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں

 بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بارش کے سبب بھی دو نمازیں جمع کی جاسکتی ہیں۔ شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ البتہ شافعی مریض کے لیے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کو درست قرار نہیں دیتے


وضاحت

 سفر میں دو نمازوں کے درمیان جمع کرنے کو ناجائز ہونے پر احناف نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے ، لیکن یہ روایت حد درجہ ضعیف ہے قطعاً استدلال کے قابل نہیں ، اس کے برعکس سفر میں جمع بین الصلاتین کی جو احادیث دلالت کرتی ہیں ، وہ صحیح ہیں ان کی تخریج مسلم وغیرہ نے کی ہے اور اگر بالفرض یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تو  عذر  سے مراد سفر ہی تو ہے ، نیز دوسرے عذر بھی ہوسکتے ہیں


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ r ﷺ said, "If anyone combines two prayers at a time without a valid reason then he has entered door of the doors of the Kabair (grave sins).”


باب ما جاء فی بدء الاذان

حدیث 186

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا حَقٍّ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَإِنَّهُ أَنْدَی وَأَمَدُّ صَوْتًا مِنْکَ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَکَ وَلْيُنَادِ بِذَلِکَ قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَائَ بِلَالٍ بِالصَّلَاةِ خَرَجَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَذَلِکَ أَثْبَتُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَأَطْوَلَ وَذَکَرَ فِيهِ قِصَّةَ الْأَذَانِ مَثْنَی مَثْنَی وَالْإِقَامَةِ مَرَّةً مَرَّةً وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ رَبِّهِ وَيُقَالُ ابْنُ عَبْدِ رَبٍّ وَلَا نَعْرِفُ لَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يَصِحُّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ فِي الْأَذَانِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ لَهُ أَحَادِيثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ


ترجمہ

 عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ  جب ہم نے  (مدینہ منورہ میں ایک رات)  صبح کی تو ہم رسول اللہ  ﷺ  کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اپنا خواب بتایا تو آپ نے فرمایا 

  یہ ایک سچا خواب ہے، تم اٹھو بلال کے ساتھ جاؤ وہ تم سے اونچی اور لمبی آواز والے ہیں۔ اور جو تمہیں بتایا گیا ہے، وہ ان پر پیش کرو، وہ اسے زور سے پکار کر کہیں ، جب عمر بن خطاب (رض) نے بلال (رض) کی اذان سنی تو اپنا تہ بند کھینچتے ہوئے رسول اللہ  ﷺ  کے پاس آئے، اور عرض کیا 

 اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، میں نے  (بھی)  اسی طرح دیکھا ہے جو انہوں نے کہا، رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

  اللہ کا شکر ہے، یہ بات اور پکی ہوگئی 

  امام ترمذی کہتے ہیں  عبداللہ بن زید (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے

 اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے

 اور ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث محمد بن اسحاق سے اس سے بھی زیادہ کامل اور زیادہ لمبی روایت کی ہے۔ اور اس میں انہوں نے اذان کے کلمات کو دو دو بار اور اقامت کے کلمات کو ایک ایک بار کہنے کا واقعہ ذکر کیا ہے،

 عبداللہ بن زید ہی ابن عبدربہ ہیں اور انہیں ابن عبدرب بھی کہا جاتا ہے، سوائے اذان کے سلسلے کی اس ایک حدیث کے ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی نبی اکرم  ﷺ  سے کوئی اور بھی حدیث صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی کی کئی حدیثیں ہیں جنہیں وہ نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کرتے ہیں، اور یہ عباد بن تمیم کے چچا ہیں

 

    وضاحت 

 یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ  ﷺ  اور صحابہ کرام کے درمیان ایک رات نماز کے لیے لوگوں کو بلانے کی تدابیر پر گفتگو ہوئی ، اسی رات عبداللہ بن زید (رض) نے خواب دیکھا اور آ کر آپ  ﷺ  سے بیان کیا  ( دیکھئیے اگلی حدیث  )    


Translation

Muhammad ibn Abdullah ibn Zayd reported his father as saying that when it was morning they went to Allah’s Messenger ﷺ and told him about the dream. He said, “This is a true dream. Stand up with Bilal (RA) . He has a louder voice than you. Teach him that which you were told and he will call that out. “When Umar ibn al-Khattab (RA) heard Bilal (RA) ’s call to prayer, he came to Allah’s Messenger ﷺ dragging his garment along and he said, “O Messenger of Allah! ﷺ By Him who sent you with Truth, I have seen the like of what he says. “So, Allah’s Messenger ﷺ said, “All praise belongs to Allah, and that is confirmed”


حدیث 187

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَکَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِکَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَی وَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو کر اوقات نماز کا اندازہ لگاتے تھے، کوئی نماز کے لیے پکار نہ لگاتا تھا، ایک دن ان لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی  چناچہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا 

 نصاریٰ کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس بنا لو، بعض نے کہا کہ تم یہودیوں کے قرن کی طرح کوئی قرن  (یعنی کسی جانور کا سینگ)  بنا لو۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں 

 اس پر عمر بن خطاب (رض) نے کہا 

کیا تم کوئی آدمی نہیں بھیج سکتے جو نماز کے لیے پکارے۔ تو رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

 بلال اٹھو جاؤ نماز کے لیے پکارو 

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث ابن عمر (رض) کی  (اس)  روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔

  (جسے بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے) 


  وضاحت 

یہ گفتگو مدینہ میں صحابہ کرام سے ہجرت کے پہلے سال ہوئی تھی ، اس میں بعض لوگوں نے نماز کے لیے ناقوس بجانے کا اور بعض نے اونچائی پر آگ روشن کرنے کا اور بعض نے «بوق»  بگل  استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا ، اسی دوران عمر کی یہ تجویز آئی کہ کسی کو نماز کے لیے پکارنے پر مامور کردیا جائے ، چناچہ نبی اکرم  ﷺ  کو یہ رائے پسند آئی اور آپ نے بلال کو باواز بلند «الصلاة جامعة» کہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن زید (رض) نے خواب میں اذان کے کلمات کسی سے سیکھے اور جا کر خواب بیان کیا ، اسی کے بعد موجودہ اذان رائج ہوئی


باب ما جاء فی الترجیع فی الاذان

حدیث 188

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَجَدِّي جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْعَدَهُ وَأَلْقَی عَلَيْهِ الْأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا قَالَ إِبْرَاهِيمُ مِثْلَ أَذَانِنَا قَالَ بِشْرٌ فَقُلْتُ لَهُ أَعِدْ عَلَيَّ فَوَصَفَ الْأَذَانَ بِالتَّرْجِيعِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي مَحْذُورَةَ فِي الْأَذَانِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ بِمَکَّةَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ


ترجمہ

 ابو محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے انہیں بٹھا کر اذان کا ایک ایک لفظ سکھایا۔ ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کہتے ہیں 

 اس طرح جیسے ہماری اذان ہے۔ بشر کہتے ہیں تو میں نے ان سے یعنی ابراہیم سے کہا 

 اسے مجھ پر دہرائیے تو انہوں نے ترجیع  کے ساتھ اذان کا ذکر کیا

  امام ترمذی کہتے ہیں 

اذان کے سلسلے میں ابو محذورہ والی حدیث صحیح ہے، کئی سندوں سے مروی ہے

 اور اسی پر مکہ میں عمل ہے اور یہی شافعی کا قول ہے

   (ابو محذورہ (رض) کی اس روایت میں الفاظ اذان کا ذکر نہیں ہے، لیکن مجملاً یہ ذکر ہے کہ اذان کو ترجیع کے ساتھ بیان کیا، جب کہ اسی سند سے نسائی میں وارد حدیث میں اذان کے صرف سترہ کلمات کا ذکر ہے، اور اس میں ترجیع کی صراحت نہیں ہے، اس لیے نسائی والا سیاق منکر ہے، کیونکہ صحیح مسلم، سنن نسائی اور ابن ماجہ (٧٠٨) میں اذان کے کلمات انیس آئے ہیں 


 وضاحت 

اذان میں شہادتین کے کلمات کو پہلے دو مرتبہ دھیمی آواز سے کہنے پھر دوبارہ دو مرتبہ بلند آواز سے کہنے کو ترجیع کہتے ہیں

 اذان میں ترجیع مسنون ہے یا نہیں اس بارے میں ائمہ میں اختلاف ہے ، صحیح قول یہ ہے کہ اذان ترجیع کے ساتھ اور بغیر ترجیع کے دونوں طرح سے جائز ہے اور ترجیع والی روایات صحیحین کی ہیں اس لیے راجح ہیں ، اور یہ کہنا کہ  جس صحابی سے ترجیع کی روایات آئی ہیں انہیں تعلیم دینا مقصود تھا اس لیے کہ ابو محذورہ (رض) جنہیں آپ نے یہ تعلیم دی  پہلی مرتبہ اسے دھیمی آواز میں ادا کیا تھا پھر دوبارہ اسے بلند آواز سے ادا کیا تھا ، درست نہیں ، کیونکہ ابو محذورہ مکہ میں برابر ترجیع کے ساتھ اذان دیتے رہے اور ان کے بعد بھی برابر ترجیع سے اذان ہوتی رہی 


Translation

Sayyidina Abu Mahdhurah (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ made him sit down and taught him the Adhan, word by word. Ibrahim said, Bishr says like our Adhan and I said to him to repeat and he repeated it with Tarji.”


حدیث 189

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْأَحْوَلِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ کَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ کَلِمَةً قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو مَحْذُورَةَ اسْمُهُ سَمُرَةُ بْنُ مِعْيَرٍ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَی هَذَا فِي الْأَذَانِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُ کَانَ يُفْرِدُ الْإِقَامَةَ


ترجمہ

 ابو محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے انہیں اذان کے انیس کلمات  اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے

امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے 

 بعض اہل علم اذان کے سلسلے میں اسی طرف گئے ہیں

 ابو محذورہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ اقامت اکہری کہتے تھے


 وضاحت 

 یہ انیس کلمات ترجیع کے ساتھ ہوتے ہیں ، یہ حدیث اذان میں ترجیع کے مسنون ہونے پر نص صریح ہے


Translation

Sayyidina Abu Mahdhurah (RA) said that the Prophet ﷺ taught him nineteen words of the Adhan and seventeen of the iqamah.


باب ما جاء فی افراد الاقامة

حدیث 190

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ مَالِکٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  بلال (رض) کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں

  امام ترمذی کہتے ہیں  انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے

 اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی حدیث آئی ہے

 صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں


Translation

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Sayyidina Bilal (RA) was  commanded to repeat (wordings of) the adhan twice but to say the (words of) iqama once.


باب ما جاء فی ان الاقامة مثنی مثنی

حدیث 191

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ کَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَفْعًا شَفْعًا فِي الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَوَاهُ وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَی الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ و قَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَی الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَی وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَی لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْأَذَانُ مَثْنَی مَثْنَی وَالْإِقَامَةُ مَثْنَی مَثْنَی وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَأَهْلُ الْکُوفَةِ 


ترجمہ

 عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  کے زمانے میں اذان اور اقامت دونوں دہری ہوتی تھیں

  امام ترمذی کہتے ہیں 

 عبداللہ بن زید کی حدیث کو وکیع نے بطریق «الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان  (کا واقعہ)  دیکھا، اور شعبہ نے بطریق «عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» یہ روایت کی ہے کہ محمد رسول  ﷺ  کے اصحاب نے ہم سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان  (کا واقعہ)  دیکھا،  

 یہ ابن ابی لیلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے 

 عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا ہے

 بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اذان اور اقامت دونوں دہری ہیں یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا قول ہے،

 ابن ابی لیلیٰ سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ہیں۔ وہ کوفہ کے قاضی تھے، انہوں نے اپنے والد سے نہیں سنا ہے البتہ وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ ان کے والد سے۔ 

 (عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ کا سماع عبداللہ بن زید سے نہیں ہے


   وضاحت 

 مولف کا مقصد یہ ہے کہ 

 عبداللہ بن زید (رض) کی یہ حدیث تین طرق سے آئی ہے ، ایک یہی بطریق «ابن ابی لیلیٰ ، عن عمرو بن مرۃ ، عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن عبداللہ» دوسرے بطریق «الاعمش عن عمرو بن مرۃ ، عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ، عن عبداللہ» تیسرے بطریق : «شعبۃ عن عمرو بن مرۃ عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم» اور بقول مؤلف آخرالذکر تیسرا طریق زیادہ صحیح ہے ،  ( کیونکہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا عبداللہ بن زید سے سماع نہیں ہے  )  اور اس کا مضمون  ( نیز دوسرے کا مضمون بھی  )  پہلے سے الگ ہے ، یعنی صرف خواب دیکھنے کا بیان ہے اور بس


Translation

Sayyidina Ahdullah ibn Zayd narrated that the Prophets adhan was repeated twice both in the adhan the iqamah.


باب ما جاء فی الترسل فی الاذان 

حدیث 192

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُنْعِمِ هُوَ صَاحِبُ السِّقَائِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ يَا بِلَالُ إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِکَ وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِکَ وَإِقَامَتِکَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآکِلُ مِنْ أَکْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَائِ حَاجَتِهِ وَلَا تَقُومُوا حَتَّی تَرَوْنِي

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرٍ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ 


ترجمہ

 جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے بلال (رض) سے فرمایا 

 بلال ! جب تم اذان دو تو ٹھہر ٹھہر کر دو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو، اور اپنی اذان و اقامت کے درمیان اس قدر وقفہ رکھو کہ کھانے پینے والا اپنے کھانے پینے سے اور پاخانہ پیشاب کی حاجت محسوس کرنے والا اپنی حاجت سے فارغ ہوجائے اور اس وقت تک  (اقامت کہنے کے لیے)  کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو

 اس سند سے بھی  عبدالمنعم سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔  

امام ترمذی کہتے ہیں 

 جابر (رض) کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے یعنی عبدالمنعم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یہ مجہول سند ہے، عبدالمنعم بصرہ کے شیخ ہیں  (یعنی ضعیف راوی ہیں)  


Translation

Sayyidina Jabir(RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said to Sayyidina Bilal (RA) , “O Bilal (RA) ! When you call the adhan, observe pauses and when you call the iqmah, speak quickly. And, let there be so much time between your adhan and your iqmah that one who eats may finish his food and one who drinks may finish his drink, and one who has to, may relieve himself. And do not get up till you have seen me.

Abdu ibn Humayd reported from Yunus ibn Muhimmad who from Abdul Mun’im the like of it.


باب ما جاء فی ادخال الاصبع الاذان عند الاذان

حدیث 193

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَيُتْبِعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا وَإِصْبَعَاهُ فِي أُذُنَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَائَ أُرَاهُ قَالَ مِنْ أَدَمٍ فَخَرَجَ بِلَالٌ بَيْنَ يَدَيْهِ بِالْعَنَزَةِ فَرَکَزَهَا بِالْبَطْحَائِ فَصَلَّی إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَائُ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی بَرِيقِ سَاقَيْهِ قَالَ سُفْيَانُ نُرَاهُ حِبَرَةً قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُدْخِلَ الْمُؤَذِّنُ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فِي الْأَذَانِ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَفِي الْإِقَامَةِ أَيْضًا يُدْخِلُ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ وَأَبُو جُحَيْفَةَ اسْمُهُ وَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّوَائِيُّ


ترجمہ

 ابوجحیفہ  (وہب بن عبداللہ)  (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے بلال کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے  اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، رسول اللہ  ﷺ  اپنے سرخ خیمے میں تھے، وہ چمڑے کا تھا، بلال آپ کے سامنے سے نیزہ لے کر نکلے اور اسے بطحاء  (میدان)  میں گاڑ دیا۔ پھر رسول اللہ  ﷺ  نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی۔ اس نیزے کے آگے سے   کتے اور گدھے گزر رہے تھے۔ آپ ایک سرخ چادر پہنے ہوئے تھے، میں گویا آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ سفیان کہتے ہیں 

 ہمارا خیال ہے وہ چادر یمنی تھی

 امام ترمذی کہتے ہیں ابوجحیفہ کی حدیث حسن صحیح ہے

 اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اس چیز کو مستحب سمجھتے ہیں کہ مؤذن اذان میں اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کرے،  بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ اقامت میں بھی اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرے گا، یہی اوزاعی کا قول ہے  


 وضاحت 

 قیس بن ربیع کی روایت میں جو عون ہی سے مروی ہے یوں ہے 

فلما بلغ حي علی الصلاة حي علی الفلاح لوّي عنقه يمينا وشمالاً ولم يستدر  یعنی 

 بلال جب حي الصلاة حي علی الفلاح پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں بائیں گھمائی اور خود نہیں گھومے  دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جنہوں نے گھومنے کا اثبات کیا ہے انہوں نے اس سے مراد سر کا گھومنا لیا ہے اور جنہوں نے اس کی نفی کی ہے انہوں نے پورے جسم کے گھومنے کی نفی کی ہے

 یعنی نیزہ اور قبلہ کے درمیان سے نہ کہ آپ کے اور نیزے کے درمیان سے کیونکہ عمر بن ابی زائدہ کی روایت میں «ورأيت الناس والدواب يمرون بين يدي العنزة» ہے ،  میں نے دیکھا کہ لوگ اور جانورنیزہ کے آگے سے گزر رہے تھے 

 اس پر سنت سے کوئی دلیل نہیں ، رہا اسے اذان پر قیاس کرنا تو یہ قیاس مع الفارق ہے 


Translation

Sayyidina Awn ibn Abu Juhayfah reported from his father that he saw Sayyidina Bilal (RA) the adhan. He turned his face sideways and his both fingers were in his two ears, and AIIahs Messenger ﷺ was in a red tent. The narrator thought that it was made of leather. Bilal (RA) advanced with the stick and planted it in the ground (at Batha) .Then Allah’s Messenger ﷺ offered salah facing it, dogs and donkeys moved about in front of the stick). The Prophet ﷺ was wearing a hullah, “as though I see the glitter of his shin.” Sufyan said that he thought that it was a Yemeni cloak.


باب ما جاء فی التویب فی الفجر

حدیث 194

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ بِلَالٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُثَوِّبَنَّ فِي شَيْئٍ مِنْ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ بِلَالٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيِّ وَأَبُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ الْحَکَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ قَالَ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَأَبُو إِسْرَائِيلَ اسْمُهُ إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ وَلَيْسَ هُوَ بِذَاکَ الْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ التَّثْوِيبِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ التَّثْوِيبُ أَنْ يَقُولَ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدَ و قَالَ إِسْحَقُ فِي التَّثْوِيبِ غَيْرَ هَذَا قَالَ التَّثْوِيبُ الْمَکْرُوهُ هُوَ شَيْئٌ أَحْدَثَهُ النَّاسُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَاسْتَبْطَأَ الْقَوْمَ قَالَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَالَ وَهَذَا الَّذِي قَالَ إِسْحَقُ هُوَ التَّثْوِيبُ الَّذِي قَدْ کَرِهَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَالَّذِي أَحْدَثُوهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي فَسَّرَ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدُ أَنَّ التَّثْوِيبَ أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ وَهُوَ قَوْلٌ صَحِيحٌ وَيُقَالُ لَهُ التَّثْوِيبُ أَيْضًا وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرَأَوْهُ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مَسْجِدًا وَقَدْ أُذِّنَ فِيهِ وَنَحْنُ نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِ فَثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِنْ الْمَسْجِدِ وَقَالَ اخْرُجْ بِنَا مِنْ عِنْدِ هَذَا الْمُبْتَدِعِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ قَالَ وَإِنَّمَا کَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ التَّثْوِيبَ الَّذِي أَحْدَثَهُ النَّاسُ بَعْدُ


ترجمہ

 بلال (رض) کہتے ہیں کہ  مجھ سے رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

 فجر کے سوا کسی بھی نماز میں تثویب نہ کرو 

امام ترمذی کہتے ہیں  اس باب میں ابو محذورہ (رض) سے بھی روایت ہے

 بلال (رض) کی حدیث کو ہم صرف ابواسرائیل ملائی کی سند سے جانتے ہیں۔ اور ابواسرائیل نے یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے نہیں سنی۔ بلکہ انہوں نے اسے حسن بن عمارہ سے اور حسن نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے

 ابواسرائیل کا نام اسماعیل بن ابی اسحاق ہے، اور وہ اہل الحدیث کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں 

 اہل علم کا تثویب کی تفسیر کے سلسلے میں اختلاف ہے 

بعض کہتے ہیں 

 تثویب فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم  نماز نیند سے بہتر ہے  کہنے کا نام ہے ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے، اسحاق کہتے ہیں 

 تثویب اس کے علاوہ ہے، تثویب مکروہ ہے، یہ ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے نبی اکرم  ﷺ  کے بعد ایجاد کی ہے، جب مؤذن اذان دیتا اور لوگ تاخیر کرتے تو وہ اذان اور اقامت کے درمیان 

قد قامت الصلاة، حي علی الصلاة حي علی الفلاح

کہتا اور جو اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے دراصل یہی وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے ناپسند کیا ہے اور اسی کو لوگوں نے نبی اکرم  ﷺ  کے بعد ایجاد کیا ہے، ابن مبارک اور احمد کی جو تفسیر ہے کہ تثویب یہ ہے کہ مؤذن فجر کی اذان میں 

الصلاة خير من النوم کہے تو یہ کہنا صحیح ہے، اسے بھی تثویب کہا جاتا ہے اور یہ وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے پسند کیا اور درست جانا ہے، عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے کہ وہ فجر میں الصلاة خير من النوم کہتے تھے، اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہوا جس میں اذان دی جا چکی تھی۔ ہم اس میں نماز پڑھنا چاہ رہے تھے۔ اتنے میں مؤذن نے تثویب کی، تو عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکلے اور کہا 

 اس بدعتی کے پاس سے ہمارے ساتھ نکل چلو، اور اس مسجد میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی، عبداللہ بن عمر (رض) نے اس تثویب کو جسے لوگوں نے بعد میں ایجاد کرلیا تھا ناپسند کیا

(عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کا سماع بلال (رض) سے نہیں ہے، نیز ابو اسرائیل ملائی کو وہم ہوجایا کرتا تھا اس لیے کبھی کہتے ہیں کہ حدیث میں نے حکم بن عتیبہ سے سنی ہے، اور کبھی کہتے ہیں کہ حسن بن عمارة کے واسطہ سے حکم سے سنی ہے)


  وضاحت 

 یہاں تثویب سے مراد فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا ہے


Translation

Sayyidina Abdullah ibn Abu Layla narrated on the authority of Sayyidina Bilal (RA) that the Prophet ﷺ said, “Do not make tathwib in any salah apart from the fajr.”


باب ما جاء ان من اذن فھو یقیم 

حدیث 195

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَيَعْلَی بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُؤَذِّنَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَأَذَّنْتُ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَا صُدَائٍ قَدْ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ زِيَادٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَفْرِيقِيِّ وَالْأَفْرِيقِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ قَالَ أَحْمَدُ لَا أَکْتُبُ حَدِيثَ الْأَفْرِيقِيِّ قَالَ وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يُقَوِّي أَمْرَهُ وَيَقُولُ هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ


ترجمہ

 زیاد بن حارث صدائی (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر بلال (رض) نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

  قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا 

 امام ترمذی کہتے ہیں  اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے 

 زیاد (رض) کی روایت کو ہم صرف افریقی کی سند سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔ احمد کہتے ہیں 

 میں افریقی کی حدیث نہیں لکھتا، لیکن میں نے محمد بن اسماعیل کو دیکھا وہ ان کے معاملے کو قوی قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ مقارب الحدیث ہیں

 اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے


 وضاحت

 یہ حدیث ضعیف ہے ، اس لیے اس کی بنا پر مساجد میں جھگڑے مناسب نہیں ، اگر صحیح بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ مستحب کہہ سکتے ہیں ، اور مستحب کے لیے مسلمانوں میں جھگڑے زیبا نہیں  


Translation

Sayyidina Ziyad ibn Harith (RA) Suda’i said that Allah’s Messenger ﷺ commanded him to call the adhan for fajr. So he called the adhan. Then Sayyidina Bilal (RA) intended to call the iqamah, but Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, brother Suda’i had called the adhan and he who calls the adhan, calls the iqarnah.”


باب ما جاء فی کراھیة الاذان بغیر وضوء

حدیث 196

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَی الصَّدَفِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

  اذان وہی دے جو باوضو ہو   

 (سند میں معاویہ بن یحییٰ صدفی ضعیف ہیں، نیز سند میں زہری اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے)


 وضاحت 

 بہتر یہی ہے کہ اذان باوضو ہی دی جائے اور باب کی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن وائل اور ابن عباس کی احادیث اس کی شاہد ہیں۔    


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “Let no one call the adhan while he is not in a state of ablution.”


حدیث 197

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ وَهْبٍ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ عَلَی غَيْرِ وُضُوئٍ فَکَرِهَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَإِسْحَقُ وَرَخَّصَ فِي ذَلِکَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدُ


ترجمہ

 ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ  ابوہریرہ (رض) نے کہا 

 نماز کے لیے وہی اذان دے جو باوضو ہو

 امام ترمذی کہتے ہیں یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے

 ابوہریرہ (رض) کی حدیث کو ابن وہب نے مرفوع روایت نہیں کیا، یہ 

 ولید بن مسلم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے زہری نے ابوہریرہ (رض) سے نہیں سنا ہے

 بغیر وضو کے اذان دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض نے اسے مکروہ کہا ہے اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اہل علم نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے، اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد ہیں


 وضاحت 

 یعنی عبداللہ بن وہب کی موقوف روایت جسے انہوں نے بطریق «يونس عن الزهري ، عن أبي هريرة موقوفاً» روایت کی ہے ، پہلی روایت  ( جو مرفوع ہے  )  کے مقابلہ میں ارجح ہے اور اس کا ضعف کم ہے


Translation

Yahya ibn Musa reported from Abdullah ibn Wahb from Yunus from Ibn Shihab that Sayyidina Abu Hurayrah , said, “If anyone is not in a state of ablution then he must not call the adhan.”


باب ما جاء ان الامام احق بالاقامة

حدیث 198

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ أَخْبَرَنِي سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ کَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ حَتَّی إِذَا رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَحَدِيثُ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاکٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَهَکَذَا قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنَّ الْمُؤَذِّنَ أَمْلَکُ بِالْأَذَانِ وَالْإِمَامُ أَمْلَکُ بِالْإِقَامَةِ


ترجمہ

 جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ  کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھا یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ  ﷺ  کو دیکھ لیتا کہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا

 امام ترمذی کہتے ہیں  جابر بن سمرہ (رض) والی حدیث حسن صحیح ہے

 اور ہم اسرائیل کی حدیث کو جسے انہوں نے سماک سے روایت کی ہے، صرف اسی سند سے جانتے ہیں 

 اسی طرح بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مؤذن کو اذان کا زیادہ اختیار ہے  

 اور امام کو اقامت کا زیادہ اختیار ہے 


 وضاحت

 کیونکہ مؤذن کو اذان کے وقت کا محافظ بنایا گیا ہے اس لیے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اذان کو مؤخر کرنے یا اسے مقدم کرنے پر اسے مجبور کرے

 اس لیے اس کے اشارہ یا اجازت کے بغیر تکبیر نہیں کہنی چاہیئے


Translation

Sayyidina Jabir ibn Samurah narrated that the muadhdhin of Allah’s Messenger ﷺ postponed the iqamah till he did not see him coming out. He would call the iqamah on seeing him.


باب ما جاء فی الاذان باللیل 

حدیث 199

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ وَأُنَيْسَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَسَمُرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ بِاللَّيْلِ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ أَجْزَأَهُ وَلَا يُعِيدُ وَهُوَ قَوْلُ مَالِکٍ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أَذَّنَ بِلَيْلٍ أَعَادَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَرَوَی حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَی عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَرَوَی عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ أَذَّنَ بِلَيْلٍ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا لِأَنَّهُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عُمَرَ مُنْقَطِعٌ وَلَعَلَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ أَرَادَ هَذَا الْحَدِيثَ وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَالزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَلَوْ کَانَ حَدِيثُ حَمَّادٍ صَحِيحًا لَمْ يَکُنْ لِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْنًی إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَإِنَّمَا أَمَرَهُمْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ و قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ وَلَوْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِإِعَادَةِ الْأَذَانِ حِينَ أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَمْ يَقُلْ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَأَخْطَأَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

 بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان نہ سن لو

  امام ترمذی کہتے ہیں 

 اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، انیسہ، انس، ابوذر اور سمرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  

 ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے   

 رات ہی میں اذان کہہ دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر رات باقی ہو تبھی مؤذن اذان کہہ دے تو کافی ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، مالک، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ رات میں اذان دیدے تو اسے دہرائے 

 یہی سفیان ثوری کہتے ہیں 

 حماد بن سلمہ نے بطریق «ایوب عن نافع عن ابن عمر» روایت کی ہے کہ بلال (رض) نے رات ہی میں اذان دے دی، تو نبی اکرم  ﷺ  نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے بطریق نافع عن ابن عمر روایت کی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

 بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں، اور عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع سے روایت کی ہے کہ عمر (رض) کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے اسے حکم دیا کہ وہ اذان دہرائے، یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ نافع اور عمر (رض) کے درمیان انقطاع ہے، اور شاید حماد بن سلمہ، کی مراد یہی حدیث  

 ہو، صحیح عبیداللہ بن عمر دوسرے رواۃ کی روایت ہے جسے ان لوگوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور زہری نے سالم سے اور سالم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

 بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں

 اگر حماد کی حدیث صحیح ہوتی تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہوتا، جس میں ہے کہ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

 بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، آپ نے لوگوں کو آنے والے زمانے کے بارے میں حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں  اور اگر آپ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دینے پر انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ  بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں ، علی بن مدینی کہتے ہیں 

 حماد بن سلمہ والی حدیث جسے انہوں نے ایوب سے، اور ایوب نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور عمر نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے غیر محفوظ ہے، حماد بن سلمہ سے اس میں چوک ہوئی ہے


 وضاحت 

 اور یہی راجح ہے ، کیونکہ عبداللہ ابن ام مکتوم کی اذان سحری کے غرض سے تھی ، نیز آپ ﷺ نے اس پر اکتفاء بھی نہیں کیا ، بلکہ نماز فجر کے لیے بلال اذان دیا کرتے

 شاید حماد بن سلمہ کے پیش نظر عمر والا یہی اثر رہا ہو یعنی انہیں اس کے مرفوع ہونے کا وہم ہوگیا ہو ، گویا انہیں یوں کہنا چاہیئے کہ عمر کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیا ، لیکن وہ وہم کے شکار ہوگئے اور اس کے بجائے انہوں نے یوں کہہ دیا کہ بلال نے رات میں اذان دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا 


Translation

Sayyidina Saalim reported from his father that the Prophet ﷺ said, “Surely, Bilal (RA) calls the adhan in the night. So, you carry on eating and drinking till you hear the adhan of Ibn Umm e Maktum.


باب ما جاء فی کراھیة الخروج من المسجد بعد الاذان

حدیث 200

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِي الشَّعْثَائِ قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أُذِّنَ فِيهِ بِالْعَصْرِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَی هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ لَا يَخْرُجَ أَحَدٌ مِنْ الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْأَذَانِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ أَنْ يَکُونَ عَلَی غَيْرِ وُضُوئٍ أَوْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ وَيُرْوَی عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ يَخْرُجُ مَا لَمْ يَأْخُذْ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا عِنْدَنَا لِمَنْ لَهُ عُذْرٌ فِي الْخُرُوجِ مِنْهُ وَأَبُو الشَّعْثَائِ اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ أَسْوَدَ وَهُوَ وَالِدُ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ وَقَدْ رَوَی أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَائِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ


ترجمہ

 ابوالشعثاء سلیم بن اسود کہتے ہیں کہ  ایک شخص عصر کی اذان ہو چکنے کے بعد مسجد سے نکلا تو ابوہریرہ (رض) نے کہا 

 رہا یہ تو اس نے ابوالقاسم  ﷺ  کی نافرمانی کی ہے

  امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ کی روایت حسن صحیح ہے   

 اس باب میں عثمان (رض) سے بھی حدیث ہے 

 صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اذان ہوجانے کے بعد بغیر کسی عذر کے مثلاً بےوضو ہو یا کوئی ناگزیر ضرورت آ پڑی ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو کوئی مسجد سے نہ نکلے

 ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جب تک مؤذن اقامت شروع نہیں کرتا وہ باہر نکل سکتا ہے،

 ہمارے نزدیک یہ اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس نکلنے کے لیے کوئی عذر موجود ہو


 وضاحت 

 ایک عذر یہ بھی ہے کہ آدمی کسی دوسری مسجد کا امام ہو


Translation

Sayyidina Abu ash-Shasha said someone went out of the mosque after the adhan for asr. Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said, “Surely, he has disobeyed Abdul Qasim.”


باب ما جاء فی الاذان فی السفر 

حدیث 201

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فَقَالَ لَنَا إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا الْأَذَانَ فِي السَّفَرِ و قَالَ بَعْضُهُمْ تُجْزِئُ الْإِقَامَةُ إِنَّمَا الْأَذَانُ عَلَی مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

 مالک بن حویرث (رض) کہتے ہیں کہ  میں اور میرے چچا زاد بھائی دونوں رسول اللہ  ﷺ  کے پاس آئے تو آپ نے ہم سے فرمایا 

 جب تم دونوں سفر میں ہو تو اذان دو اور اقامت کہو۔ اور امامت وہ کرے جو تم دونوں میں بڑا ہو

 امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے 

 اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے سفر میں اذان کو پسند کیا ہے، اور بعض کہتے ہیں 

 اقامت کافی ہے، اذان تو اس کے لیے ہے جس کا ارادہ لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں


Translation

Sayyidina Malik ibn Huwayrith (RA) narrated that he visited Allah’s Messenger ﷺ with his cousin. He said to them, ‘When you two travel, call the adhan and the iqamah and the elder should lead the salah.”


باب ما جاء فی فضل الاذان

حدیث 202

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِينَ مُحْتَسِبًا کُتِبَتْ لَهُ بَرَائَةٌ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَثَوْبَانَ وَمُعَاوِيَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَأَبُو تُمَيْلَةَ اسْمُهُ يَحْيَی بْنُ وَاضِحٍ وَأَبُو حَمْزَةَ السُّکَّرِيُّ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ ضَعَّفُوهُ تَرَکَهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَکِيعًا يَقُولُ لَوْلَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَکَانَ أَهْلُ الْکُوفَةِ بِغَيْرِ حَدِيثٍ وَلَوْلَا حَمَّادٌ لَکَانَ أَهْلُ الْکُوفَةِ بِغَيْرِ فِقْهٍ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا 

 جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی 

 امام ترمذی کہتے ہیں ابن عباس (رض) کی حدیث غریب ہے   

 اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ثوبان، معاویہ، انس، ابوہریرہ اور ابوسعید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،   

 اور جابر بن یزید جعفی کی لوگوں نے تضعیف کی ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے انہیں متروک قرار دیا ہے،  

اگر جابر جعفی نہ ہوتے 

تو اہل کوفہ بغیر حدیث کے ہوتے، اور اگر حماد نہ ہوتے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے


 وضاحت 

اس کے باوجود ب اعتراف امام ابوحنیفہ جابر جعفی جھوٹا راوی ہے ، امام ابوحنیفہ کی ہر رائے پر ایک حدیث گھڑ لیا کرتا تھا


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone calls the adhan for seven years with the intention of reward then freedom from Hell is recorded for him.’


باب ما جاء ان الامام ضامن والموذن موتمن

حدیث 203

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَی أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَی نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ يَقُولُ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ وَذَکَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ أَنَّهُ لَمْ يُثْبِتْ حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَا حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذَا


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا 

 امام ضامن ہے  

اور مؤذن امین  ہے، اے اللہ ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ 

 اور مؤذنوں کی مغفرت فرما 

 امام ترمذی کہتے ہیں 

 اس باب میں عائشہ، سہل بن سعد اور عقبہ بن عامر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

 مولف نے حدیث کے طرق اور پہلی سند کی متابعت ذکر کرنے اور ابوصالح کی عائشہ سے روایت کے بعد فرمایا 

 میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی ابوہریرہ سے مروی حدیث ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ نیز میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اور بخاری، علی بن مدینی کہتے ہیں کہ ابوصالح کی حدیث ابوہریرہ سے مروی حدیث ثابت نہیں ہے اور نہ ہی ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث صحیح ہے

  

 وضاحت 

 یعنی امام مقتدیوں کی نماز کا نگراں اور محافظ ہے ، کیونکہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی نماز کی صحت پر موقوف ہے ، اس لیے اسے آداب طہارت اور آداب نماز کا خیال رکھنا ضروری ہے

 یعنی لوگ اس کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں ، اس لیے اسے وقت کا خیال رکھنا چاہیئے ، نہ پہلے اذان دے اور نہ دیر کرے

 یعنی جو ذمہ داری انہوں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔  

یعنی اس امانت کی ادائیگی میں ان سے جو کوتاہی ہو اسے بخش دے۔      


Translation

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The imam is responsible and the muadhdhin is trusted. O Allah, guide the imams and forgive the muadhdhins.”


باب ما یقول اذا اذن المؤذن

حدیث 204

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَائَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ وَعَائِشَةَ وَمُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ وَمُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَکَذَا رَوَی مَعْمَرٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِکٍ وَرَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَةُ مَالِکٍ أَصَحُّ


ترجمہ

 ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے
    امام ترمذی کہتے ہیں  ابوسعید (رض) والی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں ابورافع، ابوہریرہ، ام حبیبہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن ربیعہ، عائشہ، معاذ بن انس اور معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں معمر اور کئی رواۃ نے زہری سے مالک کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، عبدالرحمٰن بن اسحاق نے اس حدیث کو بطریق : «الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، مالک والی روایت سب سے صحیح ہے


   وضاحت
 عمر (رض) کی روایت میں جس کی تخریج مسلم نے کی ہے
«سوی الحيعلتين فيقول لا حول ولا قوة إلا بالله»  یعنی  «حي علی الصلاة اور حي علی الفلاح» کے علاوہ ان پر «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے  کے الفاظ وارد ہیں جس سے معلوم ہوا کہ «حي علی الصلاة اور حي علی الفلاح» کے کلمات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ان دونوں کلموں کے جواب میں سننے والا «لاحول ولا قوۃ الا باللہ» کہے گا۔


Translation
Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you hear the adhan, say just as the muadhdhin says



باب ما جاء فی کراھیة ان یاخذ المؤذن علی الاذان اجرا

حدیث 205

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ إِنَّ مِنْ آخِرِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ اتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَی أَذَانِهِ أَجْرًا قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ کَرِهُوا أَنْ يَأْخُذَ الْمُؤَذِّنُ عَلَی الْأَذَانِ أَجْرًا وَاسْتَحَبُّوا لِلْمُؤَذِّنِ أَنْ يَحْتَسِبَ فِي أَذَانِهِ


ترجمہ

 عثمان (رض) کہتے ہیں کہ  سب سے آخری وصیت رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ کی کہ  مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے 

  امام ترمذی کہتے ہیں
  عثمان (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے انہوں نے مکروہ جانا ہے کہ مؤذن اذان پر اجرت لے اور مستحب قرار دیا ہے کہ مؤذن اذان اجر و ثواب کی نیت سے دے


Translation
Sayyidina Uthman ibn Abdul Aas (RA) narrated that the last instruction of Allah’s Messenger ﷺ to him was that he should select a muadhdhin who would not seek wages against the adhan he called.


باب ما یقول اذا اذن المؤذن من الدعاء

حدیث 206

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ الْحُکَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ حُکَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ


ترجمہ

 سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا «وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا»  اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد  ﷺ  اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد  ﷺ  کے رسول ہونے پر راضی ہوں  تو اس کے  (صغیرہ)  گناہ بخش دیے جائیں گے

   امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح غریب ہےاسے ہم صرف لیث بن سعد کی سند سے جانتے ہیں جسے وہ حکیم بن عبداللہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں


Translation
Sayyidina Sad ibn Waqqas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, If anyone who hears the muadhdhin call the adhan says: “And I bear witness that there is no God but Allah, the One. He has no partner. And that Muhmmad is His slave and His Messenger. I am pleased with Allah as Lord, and with Islam as religion and with Muhmmad as a Messenger”. then Allah will forgive his sins


باب منه ایضا

حدیث 207

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْکَرٍ الْبَغْدَادِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَائَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ 


ترجمہ

 جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا جس نے اذان سن کر «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته إلا حلت له الشفاعة يوم القيامة»  اے اللہ ! اس کامل دعوت  اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب !  (ہمارے نبی)  محمد  ( ﷺ)  کو وسیلہ   اور فضیلت  عطا کر، اور انہیں مقام محمود   میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے  کہا تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہوجائے گی

   امام ترمذی کہتے ہیں
جابر (رض) کی حدیث محمد بن منکدر کے طریق سے حسن غریب ہے، ہم نہیں جانتے کہ شعیب بن ابی حمزہ کے علاوہ کسی اور نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کی ہے


 
 وضاحت

 اس کامل دعوت سے مراد توحید کی دعوت ہے اس کے مکمل ہونے کی وجہ سے اسے «تامّہ» کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے «وسیلہ» جنت میں ایک مقام ہے  «فضیلہ» اس مرتبہ کو کہتے ہیں جو ساری مخلوق سے برتر ہو «مقام محمود» یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی ان کلمات کے ساتھ حمد و ستائش کریں گے جو اس موقع پر آپ کو الہام کئے جائیں گے


Translation
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated tha Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone says after hearing the adhan: Translation: (O Allah, Lord of this perfect call and of the salah that is being established, grant Muhammad the nearness and honour, and raise him to a praiseworthy station which you have promised him) then on the day of Resurrection my intercession will be lawful for him



باب ما جاء ان الدعاء لا یرد بین الاذان والاقامة

حدیث 208

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو أَحْمَدَ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدُّعَائُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی
 
   امام ترمذی کہتے ہیں  انس کی حدیث حسن صحیح ہے


Translation
Sayyidina Ans (RA) ibn Malik narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Supplication that is made between adhan and iqamah is never rejected.



باب ما جاء کم فرض اللہ علی عبادہ من الصلوات

حدیث 209

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی النَّيْسَابُورِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فُرِضَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّی جُعِلَتْ خَمْسًا ثُمَّ نُودِيَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَإِنَّ لَکَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَبِي ذَرٍّ وَأَبِي قَتَادَةَ وَمَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ  (کم کرتے کرتے)  پانچ کردی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا  اے محمد ! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا 

  امام ترمذی کہتے ہیں
 انس (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اس باب میں عبادہ بن صامت، طلحہ بن عبیداللہ، ابوذر، ابوقتادہ، مالک بن صعصہ اور ابو سعید خدری (رض) سے بھی احادیث آئی


   وضاحت
 یعنی  پہلے جو پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئی تھیں ، کم کر کے ان کو اگرچہ پانچ وقت کی کردیا گیا ہے مگر ثواب وہی پچاس وقت کا رکھا گیا ہے ، ویسے بھی اللہ کے یہاں ہر نیکی کا ثواب شروع سے دس گنا سے ہوتا ہے


Translation
Sayyidina Ans ibn Malik (RA) narrated that fifty prayers, were made obligatory on the Prophet ﷺ on the night of mi’raj. Then they were reduced till five remained. Then, a voice called, ‘ O Muhammad ﷺ our word is never changed. For you, indeed, with these five will accrue (reward of) fifty


باب فی فضل الصلوات الخمس 

حدیث 210

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَی الْجُمُعَةِ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْکَبَائِرُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَأَنَسٍ وَحَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں

   امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں جابر، انس اور حنظلہ اسیدی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The five prayers and a Friday (salah) are expiation for that which is between them (of minor sins) provided major sins are not committed.


باب ما جاء فی فضل الجماعة

حدیث 211

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَی صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَکَذَا رَوَی نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمِيعِ عَلَی صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً قَالَ أَبُو عِيسَی وَعَامَّةُ مَنْ رَوَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالُوا خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَّا ابْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ قَالَ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   باجماعت نماز تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے
    امام ترمذی کہتے ہیں
 ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوسعید، ابوہریرہ اور انس بن مالک (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  نافع نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  صلاۃ باجماعت آدمی کی تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے  عام رواۃ نے  (صحابہ)  نبی اکرم  ﷺ  سے  پچیس درجے  نقل کیا ہے، صرف ابن عمر نے  ستائیس درجے  کی روایت کی ہے


Translation
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah Messenger ﷺ said, “Salah offered with the congregation is twenty-seven ranks more excellent than that offered individually.


حدیث 212

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَی صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْئًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  آدمی کی باجماعت نماز اس کی تنہا نماز سے پچیس گنا بڑھ کر ہے  
امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح کے
    وضاحت
 پچیس اور ستائیس کے مابین کوئی منافات نہیں ہے  پچیس کی گنتی ستائیس میں داخل ہے ، یہ بھی احتمال ہے کہ پہلے نبی اکرم ﷺ نے پچیس گنا ثواب کا ذکر کیا ہو بعد میں ستائیس گنا کا  اور بعض نے کہا ہے کہ یہ فرق مسجد کے نزدیک اور دور ہونے کے اعتبار سے ہے اگر مسجد دور ہوگی تو اجر زیادہ ہوگا اور نزدیک ہوگی تو کم ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کمی و زیادتی خشوع و خضوع میں کمی و زیادتی کے اعتبار سے ہوگی نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرق جماعت کی تعداد کی کمی و زیادتی کے اعتبار سے ہوگا


Translation
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The salah of one praying with the congregation is more excellent by twenty- five degrees than his praying alone.


باب ما جاء فیمن سمع النداء فلا یجیب

حدیث 213

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي أَنْ يَجْمَعُوا حُزَمَ الْحَطَبِ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَی أَقْوَامٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي الدَّرْدَائِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَالُوا مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا عَلَی التَّغْلِيظِ وَالتَّشْدِيدِ وَلَا رُخْصَةَ لِأَحَدٍ فِي تَرْکِ الْجَمَاعَةِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ

قَالَ مُجَاهِدٌ وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ لَا يَشْهَدُ جُمْعَةً وَلَا جَمَاعَةً قَالَ هُوَ فِي النَّارِ قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ وَمَعْنَی الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَشْهَدَ الْجَمَاعَةَ وَالْجُمُعَةَ رَغْبَةً عَنْهَا وَاسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا وَتَهَاوُنًا بِهَا


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا   میں نے ارادہ کیا کہ اپنے کچھ نوجوانوں کو میں لکڑی کے گٹھر اکٹھا کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں تو کھڑی کی جائے، پھر میں ان لوگوں  (کے گھروں)  کو آگ لگا دوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے
    امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابو الدرداء، ابن عباس، معاذ بن انس اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ جو اذان سنے اور نماز میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ برسبیل تغلیظ ہے  (لیکن)  کسی کو بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں

 مجاہد کہتے ہیں کہ  ابن عباس (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو روزہ رکھتا ہو اور رات کو قیام کرتا ہو۔ اور جمعہ میں حاضر نہ ہوتا ہو، تو انہوں نے کہا وہ جہنم میں ہوگا۔ مجاہد کہتے ہیں  حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جماعت اور جمعہ میں ان سے بےرغبتی کرتے ہوئے، انہیں حقیر جانتے ہوئے اور ان میں سستی کرتے ہوئے حاضر نہ ہوتا ہو


Translation
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “Indeed, I had resolved to order my young men to gather a stack of wood and I should command for the salah to begin and the iqama would be called. Then I would burn down the (homes of) people not presenting themselves for salah.”Mujahid reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) was asked about a man who kept fast during day time and offered salah all night but did not attend jumu’ah (Friday) or any congregation. He said, ‘He will go to Hell.” Hannad reported it. He heard from Maharabi who from Layth who from Mujahid. The Hadith means to say that the man did not attend Friday and other congregational salah intentionally or because of arrogance or because he regarded the congregation as lowly.



باب ما جاء فی الرجل یصلی وحدہ ثم یدرک الجماعة

حدیث 214

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَعْلَی بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ قَالَ فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَهُ وَانْحَرَفَ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي أُخْرَی الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ فَقَالَ عَلَيَّ بِهِمَا فَجِيئَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِکُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَکُمَا نَافِلَةٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ مِحْجَنٍ الدِّيلِيِّ وَيَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالُوا إِذَا صَلَّی الرَّجُلُ وَحْدَهُ ثُمَّ أَدْرَکَ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلَوَاتِ کُلَّهَا فِي الْجَمَاعَةِ وَإِذَا صَلَّی الرَّجُلُ الْمَغْرِبَ وَحْدَهُ ثُمَّ أَدْرَکَ الْجَمَاعَةَ قَالُوا فَإِنَّهُ يُصَلِّيهَا مَعَهُمْ وَيَشْفَعُ بِرَکْعَةٍ وَالَّتِي صَلَّی وَحْدَهُ هِيَ الْمَکْتُوبَةُ عِنْدَهُمْ


ترجمہ

 یزید بن اسود عامری (رض) کہتے ہیں کہ  میں نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک رہا۔ میں نے آپ کے ساتھ مسجد خیف میں فجر پڑھی، جب آپ نے نماز پوری کرلی اور ہماری طرف مڑے تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے آخر میں  (سب سے پیچھے)  دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے فرمایا  انہیں میرے پاس لاؤ ، وہ لائے گئے، ان کے مونڈھے ڈر سے پھڑک رہے تھے۔ آپ نے پوچھا  تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟  انہوں نے عرض کیا  اللہ کے رسول ! ہم نے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ نے فرمایا  ایسا نہ کیا کرو، جب تم اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو پھر مسجد آؤ جس میں جماعت ہو رہی ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی پڑھ لو یہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی

 امام ترمذی کہتے ہیں
یزید بن اسود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں محجن دیلی اور یزید بن عامر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم میں سے کئی لوگوں کا یہی قول ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب آدمی تنہا نماز پڑھ چکا ہو پھر اسے جماعت مل جائے تو وہ جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لے۔ اور جب آدمی تنہا مغرب پڑھ چکا ہو پھر جماعت پائے تو وہ ان کے ساتھ نماز پڑھے اور ایک رکعت اور پڑھ کر اسے جفت بنا دے، اور جو نماز اس نے تنہا پڑھی ہے وہی ان کے نزدیک فرض ہوگی


  وضاحت
بعض لوگوں نے اسے ظہر ، اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے وہ کہتے ہیں فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہوجائے گی ، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ حکم عام ہے ساری نمازیں اس میں داخل ہیں


Translation
Jabir ibn Yazid al-Aswad reported his father as saying, “I was with Allah’s Messenger ﷺ during the Hajj. I offered the Salah of Fajr with him in the Masjid Khayf. After the Salah, he turned to us and observed that two men had not prayed with the congregation. He said that they should be brought to him, so, they were taken to him and their veins trembled from fear. He asked them what had prevented them from offering salah with them. They said that they had offered salah already at their stations. He said, “Do not do that. If you have already prayed at your bases and come to the mosque of congregational prayer then join them in prayer that would be a supererogatory (salah) for you.


باب ما جاء فی الجماعة فی مسجد قد صلی فیه مرة

حدیث 215

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ الْبَصْرِيِّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّکُمْ يَتَّجِرُ عَلَی هَذَا فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّی مَعَهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي مُوسَی وَالْحَکَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ مِنْ التَّابِعِينَ قَالُوا لَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ الْقَوْمُ جَمَاعَةً فِي مَسْجِدٍ قَدْ صَلَّی فِيهِ جَمَاعَةٌ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ آخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُصَلُّونَ فُرَادَی


ترجمہ

 ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ  ایک شخص  (مسجد)  آیا رسول اللہ  ﷺ  نماز پڑھ چکے تھے تو آپ نے فرمایا تم میں سے کون اس کے ساتھ تجارت کرے گا ؟  ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی
    امام ترمذی کہتے ہیں 
ابو سعید خدری (رض) کی حدیث حسن ہےاس باب میں ابوامامہ، ابوموسیٰ اور حکم بن عمیر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  صحابہ اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس مسجد میں لوگ جماعت سے نماز پڑھ چکے ہوں اس میں  (دوسری)  جماعت سے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں اور بعض دوسرے اہل علم کہتے ہیں کہ وہ تنہا تنہا نماز پڑھیں، یہی سفیان، ابن مبارک، مالک، شافعی کا قول ہے، یہ لوگ تنہا تنہا نماز پڑھنے کو پسند کرتے ہیں


   وضاحت
ایک روایت میں ہے «ألا رجل يتصدق علی هذا فيصلي معه»  کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے  کے الفاظ آئے ہیں لیکن اس حدیث میں صراحۃً یہ بات موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جماعت سے نماز پسند فرمائی ، اس کے لیے جماعت سے نماز پڑھ چکے آدمی کو ترغیب دی کہ جا کر ساتھ پڑھ لے تاکہ پیچھے آنے والے کی نماز جماعت سے ہوجائے ، تو جب پیچھے رہ جانے والے ہی کئی ہوں تو کیوں نہ جماعت کر کے پڑھیں  «فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ» (سورة الحشر : 2 )  فرض نماز کی طبیعت ہی اصلاً جماعت ہے


Translation
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) narrated that after Allah’s Messenger ﷺ had finished prayer a man came. So he said, “Who will join this man in trading?” A man got up and offered salah with him. (Thus, both earned reward of congregational prayer)


باب ما جاء فی فضل العشاء والفجر فی جماعة

حدیث 216

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَهِدَ الْعِشَائَ فِي جَمَاعَةٍ کَانَ لَهُ قِيَامُ نِصْفِ لَيْلَةٍ وَمَنْ صَلَّی الْعِشَائَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ کَانَ لَهُ کَقِيَامِ لَيْلَةٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَعُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ وَجُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَأَبِي مُوسَی وَبُرَيْدَةَ


ترجمہ

 عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا جو عشاء کی جماعت میں حاضر رہے گا تو اسے آدھی رات کے قیام کا ثواب ملے گا اور جو عشاء اور فجر دونوں نمازیں جماعت سے ادا کرے گا، اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا
  امام ترمذی کہتے ہیں  عثمان کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، انس، عمارہ بن رویبہ، جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی، ابی ابن کعب، ابوموسیٰ اور بریدہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کے طریق سے عثمان (رض) سے موقوفاً روایت کی گئی ہے، اور کئی دوسری سندوں سے بھی یہ عثمان (رض) سے مرفوعاً مروی ہے


Translation
Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for him who offers the Salah of Isha with the congregation he earns reward for worship a half of the night. And he who offers both the isha and fajr with the congregation is as though he was awake all through the night.


حدیث 217

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 جندب بن سفیان (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا جس نے فجر پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے تو تم اللہ کی پناہ ہاتھ سے جانے نہ دو

    امام ترمذی کہتے ہیں حدیث حسن صحیح ہے


   وضاحت

 یعنی بھرپور کوشش کرو کہ اللہ کی یہ پناہ حاصل کرلو ، یعنی فجر جماعت سے پڑھنے کی کوشش کرو تو اللہ کی یہ پناہ ہاتھ سے نہیں جائے گی ان شاء اللہ


Translation
Sayyidina Jundub ibn Sufyan (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “He who offers the fajr with the congregation is in Allah’s protection. Hence, do not miss Allah’s protection.


حدیث 218

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ الْکَحَّالِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَشِّرْ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَی الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ


ترجمہ

 بریدہ اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا   اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور  (بھرپور اجالے)  کی بشارت دے دو

 امام ترمذی کہتے ہیں   یہ حدیث اس سند سے غریب ہے  


Translation
Sayyidina Buraidah al-Aslami (RA)reported the Prophet ﷺ as saying, “Give glad tidings to those, who walk towards mosques in the dark, of perfect light on the day of Resurrection.


باب ما جاء فی فضل الصف الاول

حدیث 219

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَائِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأُبَيٍّ وَعَائِشَةَ وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے   اور سب سے بری آخری صف اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف   ہے اور سب سے بری پہلی صف
  امام ترمذی کہتے ہیں
ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں جابر، ابن عباس، ابوسعید، ابی بن کعب، عائشہ، عرباض بن ساریہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں نبی اکرم  ﷺ  سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ پہلی صف والوں کے لیے تین بار استغفار کرتے تھے اور دوسری کے لیے ایک بار


   
وضاحت
 پہلی صف سے مراد وہ صف ہے جو امام سے متصل ہو  سب سے بہتر صف پہلی صف ہے  کا مطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے اس میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں ، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں ، اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور برے خیالات سے محفوظ رہتے ہیں ، اور آخری صف سب سے بری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے ، یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے عورتوں کی سب سے آخری صف اس لیے بہتر ہے کہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس صف میں شریک عورتیں شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں یہ حکم اس صورت میں ہے جب مردوں ، عورتوں کی صفیں آگے پیچھے ہوں ، اگر عورتیں مردوں سے الگ نماز پڑھ رہی ہوں تو ان کی پہلی صف ہی بہتر ہوگی 


Translation
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of the rows of men is the first and the worst is the last. And, the best of the rows of women is the last and the worst of them is the first.


حدیث 220

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْأَوَّلِ ثَلَاثًا وَلِلثَّانِي مَرَّةً

حدیث 221

و قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا فِي النِّدَائِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ 


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے، اور وہ اسے قرعہ اندازی کے بغیر نہ پاسکتے تو اس کے لیے قرعہ اندازی ہے


Translation
The like of it (previous hadith, # 225) is reported by Qutaybah from Malik from Sumayya, from Abu Salih from Abu Hurayrah who from the Prophet ﷺ 


باب ما جاء فی اقامة الصفوف

حدیث 222

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا فَخَرَجَ يَوْمًا فَرَأَی رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ عَنْ الْقَوْمِ فَقَالَ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَکُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِکُمْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَالْبَرَائِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

حدیث 223

 وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ إِقَامَةُ الصَّفِّ


حدیث 224

 وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يُوَکِّلُ رِجَالًا بِإِقَامَةِ الصُّفُوفِ فَلَا يُکَبِّرُ حَتَّی يُخْبَرَ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدْ اسْتَوَتْ 


حدیث 225

وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ أَنَّهُمَا کَانَا يَتَعَاهَدَانِ ذَلِکَ وَيَقُولَانِ اسْتَوُوا وَکَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ تَقَدَّمْ يَا فُلَانُ تَأَخَّرْ يَا فُلَانُ


ترجمہ

 نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  ہماری صفیں سیدھی کرتے تھے۔ چناچہ ایک دن آپ نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص کا سینہ لوگوں سے آگے نکلا ہوا ہے، آپ نے فرمایا  تم اپنی صفیں سیدھی رکھو   اور نہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا  
   امام ترمذی کہتے ہیں
 نعمان بن بشیر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے  اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، جابر بن عبداللہ، انس، ابوہریرہ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں نبی اکرم  ﷺ  سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : صفیں سیدھی کرنا نماز کی تکمیل ہے عمر (رض) سے مروی ہے کہ وہ صفیں سیدھی کرنے کا کام کچھ لوگوں کے سپرد کردیتے تھے تو مؤذن اس وقت تک اقامت نہیں کہتا جب تک اسے یہ نہ بتادیا جاتا کہ صفیں سیدھی ہوچکی ہیں، 
 علی اور عثمان (رض) سے بھی مروی ہے کہ یہ دونوں بھی اس کی پابندی کرتے تھے اور کہتے تھے «استو وا»  صف میں سیدھے ہوجاؤ  اور علی (رض) کہتے تھے  فلاں ! آگے بڑھو، فلاں ! پیچھے ہٹو


   وضاحت
    صفیں سیدھی رکھو  کا مطلب یہ ہے صف میں ایک مصلی کا کندھا دوسرے مصلی کے کندھے سے اور اس کا پیر دوسرے کے پیر سے ملا ہونا چاہیئے لفظی ترجمہ  تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا  ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا ، تمہاری وحدت پارہ پارہ ہوجائے گی اور تمہاری شان و شوکت ختم ہوجائے گی ، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے چہروں کو گُدّی کی طرف پھیر کر انہیں بگاڑ دے


Translation
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) narrated that Allah Messenger ﷺ used to straighten their rows. One day, as he came out, he saw a man’s chest bulging out of the row. He said, “Straighten your rows otherwise Allah will put your faces in different directions.


باب ما جاء لیلیتی منکم اولو الاحلام والنھی

حدیث 226

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَلِيَنِّي مِنْکُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَی ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُکُمْ وَإِيَّاکُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَالْبَرَائِ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ


حدیث 227

 وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ قَالَ وَخَالِدٌ الْحَذَّائُ هُوَ خَالِدُ بْنُ مِهْرَانَ يُکْنَی أَبَا الْمُنَازِلِ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ يُقَالُ إِنَّ خَالِدًا الْحَذَّائَ مَا حَذَا نَعْلًا قَطُّ إِنَّمَا کَانَ يَجْلِسُ إِلَی حَذَّائٍ فَنُسِبَ إِلَيْهِ قَالَ وَأَبُو مَعْشَرٍ اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ کُلَيْبٍ


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا   تم میں سے جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہیئے، پھر وہ جو  (عقل و دانش میں)  ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، تم آگے پیچھے نہ ہونا کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑجائے گی، اور اپنے آپ کو بازار کے شور و غوغا سے بچائے رکھنا
امام ترمذی کہتے ہیں
 ابن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے اس باب میں ابی بن کعب، ابومسعود، ابوسعید، براء، اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں 

نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوتے کہ مہاجرین اور انصار آپس میں قریب قریب رہیں تاکہ وہ آپ سے  (سیکھے ہوئے مسائل)  محفوظ رکھ سکیں


Translation
Sayyidna Abdullah (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, Let the prudent and sedate among you be near me. Then those who are closer to them followed by those closer to them. And do not dispute with each other lest your hearts become hateful. And keep away from the chaos of the market.


باب ما جاء فی کراھیة الصف بین السواری

حدیث 228

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَی بْنِ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ الْمُرَادِيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ صَلَّيْنَا خَلْفَ أَمِيرٍ مِنْ الْأُمَرَائِ فَاضْطَرَّنَا النَّاسُ فَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَلَمَّا صَلَّيْنَا قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ کُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَاب عَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ کَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَفَّ بَيْنَ السَّوَارِي وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِکَ


ترجمہ

 عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ  ہم نے امراء میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبور کردیا  جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک (رض) نے کہا ہم لوگ رسول اللہ  ﷺ  کے زمانے میں اس سے بچتے تھے

 امام ترمذی کہتے ہیں
انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے  اس باب میں قرۃ بن ایاس مزنی (رض) سے بھی روایت ہے  علماء میں سے کچھ لوگوں نے ستونوں کے درمیان صف لگانے کو مکروہ جانا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، اور علماء کچھ نے اس کی اجازت دی 


    وضاحت
  یعنی اتنی بھیڑ ہوگئی کہ مسجد میں جگہ نہیں رہ گئی مجبوراً ہمیں دونوں ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا پڑا  اگر مجبوری ہو تب ستونوں کے درمیان صف لگائی جائے ، ورنہ عام حالات میں اس سے پرہیز کیا جائے


Translation
Abdul Hamid ibn Mahmud narrated that they prayed behind an amir of the several amirs. The people compiled them to stand between two pillars. When they finished, Sayyidina Ans ibn Malik (RA) said, “We used to avoid that in the times of Allah’s Messenger ﷺ


باب ما جاء فی الصلاۃ خلف الصف وحدہ

حدیث 229

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ أَخَذَ زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ بِيَدِي وَنَحْنُ بِالرَّقَّةِ فَقَامَ بِي عَلَى شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَقَالَ زِيَادٌ حَدَّثَنِي هَذَا الشَّيْخُ أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَالشَّيْخُ يَسْمَعُ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ وَابِصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَقَالُوا يُعِيدُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُجْزِئُهُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى حَدِيثِ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَيْضًا قَالُوا مَنْ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ يُعِيدُ مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَوَكِيعٌ وَرَوَى حَدِيثَ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ وَفِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ هِلَالًا قَدْ أَدْرَكَ وَابِصَةَ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ


ترجمہ

 ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ  زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا،  (ہم لوگ رقہ میں تھے)  پھر انہوں نے مجھے لے جا کر بنی اسد کے وابصہ بن معبد نامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا : مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اور شیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو رسول اللہ  ﷺ  نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا 
 
 امام ترمذی کہتے ہیں
وابصہ بن معبد (رض) کی حدیث حسن ہے،  اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دہرائے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے کافی ہوگا جب وہ صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، وہ اسے دہرائے۔ انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع ہیں،  مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة» روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن زياد بن أبي الجعد عن وابصة» روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیاد بن ابی الجعد کے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے


  
 
وضاحت
 صف کے پیچھے اگر کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو اس کی نماز درست ہے یا نہیں ، اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے : امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کے نزدیک صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز درست نہیں ، ان کی دلیل یہی روایت ہے نیز علی بن شیبان اور ابن عباس (رض) کی احادیث بھی ہیں جو اس معنی میں بالکل واضح ہیں ، اس لیے ان کی خواہ مخواہ تاویل کی ضرورت نہیں ،  ( جیسا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کا یہ فرمان بطور تنبیہ تھا  )  بنابریں جماعت کی مصلحت کی خاطر بعد میں آنے والے کے لیے بالکل جائز ہے کہ اگلی صف سے کسی کو کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لے ، اس معنی میں کچھ روایات بھی وارد ہیں گرچہ وہ ضعیف ہیں ، لیکن ان تینوں صحیح احادیث سے ان کے معنی کی تائید ہوجاتی ہے۔ ہاں ! بعض علماء کا یہ کہنا ہے کہ اگر صف میں جگہ نہ ہو تب اکیلے پڑھنے سے کوئی حرج نہیں ، اس حدیث میں وعید اس اکیلے مصلی کے لیے ہے جس نے صف میں جگہ ہوتے ہوئے بھی پیچھے اکیلے پڑھی ہو  واللہ اعلم۔


Translation
Hilal ibn Yasaf said that at ar-Riqqah, Ziyad ibn Abu al-lad held thirn by the hand and took him to a Shaykh who was called Wabisah ibn Ma’bad. He belonged to Banu Asad, Ziyad said that the Shaykh said to him, “A man prayed behind a row and the Shaykh was listening so, the Prophet ﷺ commanded him to repeat his prayer.”And, Muhammad ibn Bashshar reported from Muhammad ibn Ja’far from Shu’hah from Amr ibn Murrah from Hilal ibn Yasaf from Amr ibn Raashid from Wabisah ibn Ma’bad that: “A man prayed alone behind a row and the Prophet ﷺ asked him to repeat the  salah.


حدیث 230

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ قَالَ أَبُو عِيسَى و سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَإِنَّهُ يُعِيدُ


ترجمہ

 اس سند سے بھی  وابصہ بن معبد (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھی تو نبی اکرم  ﷺ  نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔
   امام ترمذی کہتے ہیں
   وکیع کہتے ہیں کہ جب آدمی صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے تو وہ نماز کو دہرائے  (اس کی نماز نہیں ہوئی)


باب ما جاء فی الرجل یصلی ومعه رجل

حدیث 231

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنْ الْعَطَّارُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ قَالُوا إِذَا کَانَ الرَّجُلُ مَعَ الْإِمَامِ يَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  ایک رات میں نے نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ نماز پڑھی، میں جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو رسول اللہ  ﷺ  نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کرلیا۔  

 امام ترمذی کہتے ہیں ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں انس (رض) سے بھی حدیث آئی ہے  صحابہ کرام اور ان کے بعد والے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب ایک آدمی امام کے ساتھ ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو


Translation
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that he joined the Prophet ﷺ in prayer one night. He stood to the Prophet’s ﷺ left but he held his head from behind and brought him to his right side.


باب ما جاء فی الرجل یصلی مع الرجلین 

حدیث 232

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کُنَّا ثَلَاثَةً أَنْ يَتَقَدَّمَنَا أَحَدُنَا قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا کَانُوا ثَلَاثَةً قَامَ رَجُلَانِ خَلْفَ الْإِمَامِ 

حدیث 233

وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ صَلَّی بِعَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ فَأَقَامَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ وَرَوَاهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَکَلَّمَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَکِّيِّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ


ترجمہ

 سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم تین ہوں تو ہم میں سے ایک آگے بڑھ جائے

   امام ترمذی کہتے ہیں
سمرہ (رض) کی حدیث حسن غریب ہے،  اس باب میں ابن مسعود، جابر اور انس بن مالک (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ جب تین آدمی ہوں تو دو آدمی امام کے پیچھے کھڑے ہوں، ابن مسعود (رض) نے علقمہ اور اسود کو نماز پڑھائی تو ان دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کیا

 اور ابن مسعود (رض) اسے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کیا بعض لوگوں نے اسماعیل بن مسلم مکی پر ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے


وضاحت
سند کے لحاظ سے اگرچہ یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے مگر سارے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر دو آدمی ہوں اور جگہ میں گنجائش ہو تو دونوں مقتدی پیچھے کھڑے ہوں گے اور ایک جو امام ہوگا وہ آگے کھڑا ہوگا ، رہا ابن مسعود (رض) کا دونوں کو اپنے دائیں بائیں ساتھ میں کھڑا کرلینے کا معاملہ تو ہوسکتا ہے کہ وہاں جگہ ایسی نہ ہو ، ویسے اسی واقعہ میں ہے کہ انہوں نے رکوع میں تطبیق کی اور دونوں سے کرائی۔ تطبیق کا مطلب ہوتا ہے  رکوع یا تشہد میں مصلی کا اپنے دونوں ہاتھوں یا ہتھیلیوں کو رانوں یا گھٹنوں کے درمیان رکھنا ، اور یہ منسوخ و ممنوع ہے


Translation
Sayyidina Samurah ibn Jundub (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ commanded them that when they are three men, one of them must lead the others, stepping ahead.


باب ما جاء فی الرجل یصلی ومعه رجال ونساء

حدیث 234

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْکَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَکَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَلْنُصَلِّ بِکُمْ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَی حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِالْمَائِ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ عَلَيْهِ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَائَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّی بِنَا رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا کَانَ مَعَ الْإِمَامِ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ وَالْمَرْأَةُ خَلْفَهُمَا وَقَدْ احْتَجَّ بَعْضُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي إِجَازَةِ الصَّلَاةِ إِذَا کَانَ الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَقَالُوا إِنَّ الصَّبِيَّ لَمْ تَکُنْ لَهُ صَلَاةٌ وَکَأَنَّ أَنَسًا کَانَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ فِي الصَّفِّ وَلَيْسَ الْأَمْرُ عَلَی مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ مَعَ الْيَتِيمِ خَلْفَهُ فَلَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْيَتِيمِ صَلَاةً لَمَا أَقَامَ الْيَتِيمَ مَعَهُ وَلَأَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ 


حدیث 235

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ أَنَّهُ إِنَّمَا صَلَّی تَطَوُّعًا أَرَادَ إِدْخَالَ الْبَرَکَةِ عَلَيْهِمْ


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ  ان کی دادی ملیکہ (رض) نے کھانا پکایا اور اس کو کھانے کے لیے رسول اللہ  ﷺ  کو مدعو کیا، آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا :  اٹھو چلو ہم تمہیں نماز پڑھائیں ، انس کہتے ہیں ـ: تو میں اٹھکراپنیایکچٹائی کے پاسآیاجوزیادہاستعمالکیوجہ سے کالیہوگئی تھی، میں نے اسے پانی سے دھویا، پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہوسلم  اسپرکھڑے ہوئے، میں نے اور یتیمنے آپکے پیچھے اسپرصفلگائی اوردادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں، تو آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ  ﷺ  ہماری طرف پلٹے

    امام ترمذی کہتے ہیں
 انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب امام کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت ہو تو مرد امام کے دائیں طرف کھڑا ہو اور عورت ان دونوں کے پیچھےبعض لوگوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ جب آدمی صف کے پیچھے تنہا ہو تو اس کی نماز جائز ہے، وہ کہتے ہیں کہ بچے پر نماز تو تھی ہی نہیں گویا عملاً انس (رض) رسول اللہ  ﷺ  کے پیچھے تنہا ہی تھے، لیکن ان کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم  ﷺ  نے انس کو اپنے پیچھے یتیم کے ساتھ کھڑا کیا تھا، اور اگر نبی اکرم  ﷺ  یتیم کی نماز کو نماز نہ مانتے تو یتیم کو ان کے ساتھ کھڑا نہ کرتے بلکہ انس کو اپنے دائیں طرف کھڑا کرتے

 انس (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا، اس حدیث میں دلیل ہے کہ آپ نے نفل نماز پڑھی تھی اور انہیں برکت پہنچانے کا ارادہ کیا تھا


Translation
Sayyidina Ans ibn Malik (RA) reported that his grand mother, Mulaykah, invited Allah’s Messenger ﷺ to a meal prepared by her. He ate therefrom and then said, ‘Stand up, that we may pray with you.” Anas said that he stood up and picked up his old mat which had turned black due to age. He sprinkled water on itOand Allah’s Messenger ﷺ stood on it and Anas and Yatim formed a row behind him. The old woman stood behind them. So, the Prophet ﷺ prayed two rakaat with them, and then departed.


باب من احق بالامامة

حدیث 236

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ و حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِکِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ کَانُوا فِي الْقِرَائَةِ سَوَائً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ کَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَائً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ کَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَائً فَأَکْبَرُهُمْ سِنًّا وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَی تَکْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ قَالَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ أَقْدَمُهُمْ سِنًّا قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَمَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَعَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا أَحَقُّ النَّاسِ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ لِکِتَابِ اللَّهِ وَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ وَقَالُوا صَاحِبُ الْمَنْزِلِ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَذِنَ صَاحِبُ الْمَنْزِلِ لَغَيْرِهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِ وَکَرِهَهُ بَعْضُهُمْ وَقَالُوا السُّنَّةُ أَنْ يُصَلِّيَ صَاحِبُ الْبَيْتِ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَی تَکْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِذَا أَذِنَ فَأَرْجُو أَنَّ الْإِذْنَ فِي الْکُلِّ وَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا إِذَا أَذِنَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِ


ترجمہ

 ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب  (قرآن)  کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ کسی آدمی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے
  امام ترمذی کہتے ہیں
 ابومسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے  اس باب میں ابوسعید، انس بن مالک مالک بن حویرث اور عمرو بن سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں امامت کا حقدار وہ ہے جو اللہ کی کتاب  (قرآن)  اور سنت کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ گھر کا مالک خود امامت کا زیادہ مستحق ہے، اور بعض نے کہا ہے جب گھر کا مالک کسی دوسرے کو اجازت دیدے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن بعض لوگوں نے اسے بھی مکروہ جانا ہے، وہ کہتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ گھر کا مالک خود پڑھائے  احمد بن حنبل نبی اکرم  ﷺ  کے فرمان  آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مخصوص نشست پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے  کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب وہ اجازت دیدے تو میں امید رکھتا ہوں کہ یہ اجازت مسند پر بیٹھنے اور امامت کرنے دونوں سے متعلق ہوگی، انہوں نے اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں جانا کہ جب وہ اجازت دیدے


 وضاحت

ان لوگوں کی دلیل مالک بن حویرث (رض) کی روایت «من زار قوما فلا يؤمهم وليؤمهم رجل منهم» ہے «إلا بإذنه» کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق صرف «لايجلس علی تکرمته» سے ہے «لايؤم الرجل في سلطانه» سے نہیں ہے


Translation
Sayyidina Aws ibn Dam’aj (RA )reported fom Sayyidina Abu Mas’ud Ansari (RA) that Al Ia h’s Messenger ﷺ said, “He should act as imam of people who is most read in the Quran.O If they are at par with each other in its recital then the most learned about the sunnah. If they are equal regarding the sunnah then he who preceded others in hijrah (migration to ladinah) and if they emigrated together then the oldest of them. And no one should be made to kIlmv (another) where he is authoritative and no one should sit on the place of honour (of the to owner in his house without his permission.


باب ما جاء إذا ام احدکم الناس فلیخفف

حدیث 237

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّ أَحَدُکُمْ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الصَّغِيرَ وَالْکَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالْمَرِيضَ فَإِذَا صَلَّی وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ کَيْفَ شَائَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَأَنَسٍ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَمَالِکِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي وَاقِدٍ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا أَنْ لَا يُطِيلَ الْإِمَامُ الصَّلَاةَ مَخَافَةَ الْمَشَقَّةِ عَلَی الضَّعِيفِ وَالْکَبِيرِ وَالْمَرِيضِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَبُو الزِّنَادِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَکْوَانَ وَالْأَعْرَجُ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْمَدِينِيُّ وَيُکْنَی أَبَا دَاوُدَ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو چاہیئے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑے، کمزور اور بیمار سبھی ہوتے ہیں اور جب وہ تنہا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے 
  امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں عدی بن حاتم، انس، جابر بن سمرہ، مالک بن عبداللہ، ابو واقد، عثمان، ابومسعود، جابر بن عبداللہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں یہی اکثر اہل علم کا قول ہے، ان لوگوں نے اسی کو پسند کیا کہ امام نماز لمبی نہ پڑھائے تاکہ کمزور، بوڑھے اور بیمار لوگوں کو پریشانی نہ ہو


    وضاحت
 ہلکی نماز پڑھائے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ارکان کی ادائیگی میں اطمینان و سکون اور خشوع و خضوع اور اعتدال نہ ہو ، تعدیل ارکان فرض ہے ، نیز اگلی حدیث سے واضح ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  ہلکی نماز پڑھاتے تھے تب بھی کامل نماز پڑھاتے حتیٰ کہ مغرب میں بھی سورة الطور یا سورة المرسلات پڑھتے تھے 


Translation
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “When one of you is imam of the people, he must be brief (in recital), for his followers include the young, the old, the weak, the sick-everyone. And when he prays alone then he may pray as he likes.


حدیث 238

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ  وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اور سب زیادہ مکمل نماز پڑھنے والے تھے 
 امام ترمذی کہتے ہیں   یہ حدیث حسن صحیح ہے
  وضاحت
 سب سے ہلکی نماز ہوتی تھی  سے مراد یہ ہے کہ آپ لمبی قرأت نہیں کرتے تھے ، اسی طرح لمبی دعاؤں سے بھی بچتے تھے  اور سب سے زیادہ مکمل نماز کا مطلب یہ ہے کہ آپ نماز کے جملہ ارکان و سنن اور مستحبات کو بحسن خوبی اطمینان سے ادا کرتے تھے


Translation
Sayyidina Ans (RA) said that Allah’s Messengeer ﷺ was more brief and more perfect than everyone else in leading (congregational) salah.


باب ما جاء فی تحریم الصلاۃ وتحلیلھا

حدیث 239

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَرِيفٍ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّکْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِالْحَمْدُ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِهَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ قَالَ وَحَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي هَذَا أَجْوَدُ إِسْنَادًا وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ وَقَدْ کَتَبْنَاهُ فِي أَوَّلِ کِتَابِ الْوُضُوئِ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ إِنَّ تَحْرِيمَ الصَّلَاةِ التَّکْبِيرُ وَلَا يَکُونُ الرَّجُلُ دَاخِلًا فِي الصَّلَاةِ إِلَّا بِالتَّکْبِيرِ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت أَبَا بَکْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ مُسْتَمْلِيَ وَکِيعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ لَوْ افْتَتَحَ الرَّجُلُ الصَّلَاةَ بِسَبْعِينَ اسْمًا مِنْ أَسْمَائِ اللَّهِ وَلَمْ يُکَبِّرْ لَمْ يُجْزِهِ وَإِنْ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ أَمَرْتُهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَی مَکَانِهِ فَيُسَلِّمَ إِنَّمَا الْأَمْرُ عَلَی وَجْهِهِ قَالَ وَأَبُو نَضْرَةَ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ مَالِکِ بْنِ قُطَعَةَ


ترجمہ

 ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :  نماز کی کنجی وضو  (طہارت)  ہے، اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے، اور اس آدمی کی نماز ہی نہیں جو «الحمدللہ»  (سورۃ فاتحہ)  اور اس کے ساتھ کوئی اور سورة نہ پڑھے خواہ فرض نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو
  امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اس باب میں علی اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں علی بن ابی طالب (رض) کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور ابو سعید خدری کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ہم اسے کتاب الوضو کے شروع میں ذکر کرچکے ہیں  صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ نماز کی تحریم تکبیر ہے، آدمی نماز میں تکبیر کے (یعنی اللہ اکبر کہے) بغیر داخل نہیں ہوسکتا  عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں اگر آدمی اللہ کے ناموں میں سے ستر نام لے کر نماز شروع کرے اور  اللہ اکبر  نہ کہے تو بھی یہ اسے کافی نہ ہوگا۔ اور اگر سلام پھیرنے سے پہلے اسے حدث لاحق ہوجائے تو میں اسے حکم دیتا ہوں کہ وضو کرے پھر اپنی (نماز کی) جگہ آ کر بیٹھے اور سلام پھیرے، اور حکم (رسول) اپنے حال (ظاہر) پر (باقی) رہے گا  


 وضاحت
 یعنی  آپ  ﷺ  نے جو «تحليها التسليم» فرمایا ہے۔ اس کی تاویل کسی اور معنی میں نہیں کی جائیگی


Translation
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The key of salah is purification. Its binding is the takbirO and its freedom is the taslimO, If anyone does not recite surah al-Fatihah and another surah in salah, fard or otherwise, then his salah is void.


باب فی نشر الاصابع عند التکبیر

حدیث 240

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ الْيَمَانِ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَبَّرَ لِلصَّلَاةِ نَشَرَ أَصَابِعَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَی بْنِ الْيَمَانِ وَأَخْطَأَ يَحْيَی بْنُ الْيَمَانِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے تو اپنی انگلیاں کھلی رکھتے۔    امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ کی حدیث حسن ہے دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق «ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان عن أبي هريرة» روایت کی ہے  (ان کے الفاظ ہیں)  کہ نبی اکرم   ﷺ  جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے تھے۔ یہ روایت یحییٰ بن یمان کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، یحییٰ بن یمان کی روایت غلط ہے ان سے اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے،  (اس کی وضاحت آگے آرہی ہے)  

   

Translation
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ kept his fingers straight when he called the takbir (Allahu Akbar)


حدیث 241

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ قَال سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا قَالَ أَبُو عِيسَی قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ الْيَمَانِ وَحَدِيثُ يَحْيَی بْنِ الْيَمَانِ خَطَأٌ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے۔    امام ترمذی کہتے ہیں   عبداللہ بن عبدالرحمٰن  (دارمی)  کا کہنا ہے کہ یہ یحییٰ بن یمان کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور یحییٰ بن یمان کی حدیث غلط ہے  
   وضاحت  ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد  ( ابوحاتم رازی  )  کہتے ہیں کہ یحییٰ کو اس میں وہم ہوا ہے ، وہ «إذا قام إلى الصلاة رفع إليه مداً» کہنا چاہ رہے تھے لیکن ان سے چوک ہوگئی انہوں نے غلطی سے «إذا کبّر للصلاة نشر أصابعه» کی روایت کردی ، ابن ابی ذئب کے تلامذہ میں سے ثقات نے «إذا قام إلى الصلاة مدّاً» ہی کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے


Translation
Sayyidina Sa’eed ibn Sam’an (RA) reported for Sayyidina Abu Hurairah (RA) that when Allah’s Messenger ﷺ stood up for salah, he kept the fingers straight and raised both hands high.


باب فی فضل التکبیرة الاولی

حدیث 242

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِکُ التَّکْبِيرَةَ الْأُولَی کُتِبَتْ لَهُ بَرَائَتَانِ بَرَائَةٌ مِنْ النَّارِ وَبَرَائَةٌ مِنْ النِّفَاقِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ مَوْقُوفًا وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ إِلَّا مَا رَوَی سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَإِنَّمَا يُرْوَی هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَوْلَهُ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ طَهْمَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَرَوَی إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَهُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ وَعُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ لَمْ يُدْرِکْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ 


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی ایک آگ سے برات، دوسری نفاق سے برات ۔    امام ترمذی کہتے ہیں   انس سے یہ حدیث موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ ابوقتیبہ سلمہ بن قتیبہ کے سوا کسی نے اسے مرفوع روایت کیا ہو یہ حدیث حبیب بن ابی حبیب بجلی سے بھی روایت کی جاتی ہے انہوں نے اسے انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور اسے انس ہی کا قول قرار دیا ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، نیز اسماعیل بن عیاش نے یہ حدیث بطریق «عمارة بن غزية عن أنس بن مالک عن عمر بن الخطاب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اور یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل  ہے، عمارہ بن غزیہ نے انس بن مالک کا زمانہ نہیں پائی


Translation
Ans ibn Malik (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “As for him who prayed for forty days purely for Allah’s sake beginning with takbir oola (the very first takbir) he will get deliverance from two things: deliverance from the fire and deliverance from hypocrisy.


باب ما یقول عند افتتاح الصلاۃ 

حدیث 243

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ بِاللَّيْلِ کَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَکْبَرُ کَبِيرًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَشْهَرُ حَدِيثٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَقَدْ أَخَذَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَأَمَّا أَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ فَقَالُوا بِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ وَهَکَذَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ وَقَدْ تُکُلِّمَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ کَانَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ يَتَکَلَّمُ فِي عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ و قَالَ أَحْمَدُ لَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ


ترجمہ

 ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر «سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا إله غيرك»  اے اللہ ! پاک ہے تو ہر عیب اور ہر نقص سے، سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں  پڑھتے پھر «الله أكبر کبيرا»  اللہ بہت بڑا ہے  کہتے پھر «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه»  میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے، پناہ چاہتا ہوں، اس کے وسوسوں سے، اس کے کبر و نخوت سے اور اس کے اشعار اور جادو سے  کہتے 

  امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں علی، عائشہ، عبداللہ بن مسعود، جابر، جبیر بن مطعم اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  اس باب میں ابوسعید کی حدیث سب سے زیادہ مشہور ہے،اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کو اختیار کیا ہے، رہے اکثر اہل علم تو ان لوگوں نے وہی کہا ہے جو نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے کہ آپ «سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا إله غيرك» کہتے تھے   اور اسی طرح عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود (رض) سے مروی ہے۔ تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ابوسعید (رض) کی حدیث کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ یحییٰ بن سعید راوی حدیث علی بن علی رفاعی کے بارے میں کلام کرتے تھے۔ اور احمد کہتے تھے کہ یہ حدیث 


  وضاحت
 دعا استفتاح کے سلسلہ میں سب سے زیادہ صحیح ابوہریرہ (رض) کی روایت «اللهم باعد بيني وبين خطاي» الخ ہے کیونکہ اس کی تخریج بخاری اور مسلم دونوں نے کی ہے ، پھر اس کے بعد علی (رض) کی روایت «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض» الخ ہے اس لیے کہ اس کی تخریج مسلم نے کی ہے ، بعض لوگوں نے اس روایت کے سلسلہ میں یہ کہا ہے کہ امام مسلم نے اس کی تخریج صلاۃ اللیل میں کی جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ دعا نماز تہجد کے لیے مخصوص ہے اور فرض نماز میں یہ مشروع نہیں ، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ روایت مسلم میں صلاۃ اللیل میں دو طریق سے منقول ہے لیکن کسی میں بھی یہ منقول نہیں ہے کہ یہ دعا آپ صرف تہجد میں پڑھتے تھے ، اور امام ترمذی نے ابواب الدعوات میں تین طرق سے اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن کسی میں بھی نہیں ہے کہ آپ تہجد میں اسے پڑھتے تھے ، اس کے برعکس ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تب یہ دعا پڑھتے تھے ، ابوداؤد نے بھی اپنی سنن میں کتاب الصلاۃ میں اسے دو طریق سے نقل کیا ہے ، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ یہ دعا آپ تہجد میں پڑھتے تھے ، بلکہ اس کے برعکس ایک میں یہ ہے کہ آپ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس وقت یہ دعا پڑھتے ، اسی طرح دارقطنی کی ایک روایت میں ہے کہ جب فرض نماز شروع کرتے تو «إني وجهت وجهي » پڑھتے ، ان احادیث کی روشنی میں یہ قول کہ  یہ نفلی نماز کے ساتھ مخصوص ہے  صحیح نہیں ہے اس حدیث میں ابو سعید خدری (رض) والی مذکور دعا اور عمر بن الخطاب وابن مسعود (رض) والی دعا میں فرق یہ ہے کہ ابوسعید والی میں ذرا اضافہ ہے جیسے «الله أكبر کبيراً» اور «أعوذ بالله…من همزه ونفخه» جبکہ عمر (رض) والی میں یہ اضافہ نہیں ہے اور سند اور تعامل کے لحاظ سے یہی زیادہ صحیح ہے


Translation
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ stood up for salah in the night, he would call out the takbir (Allahu Akbar).  Then, he would say: “O Allah! You are without blemish, and with your praise. Your name is Blessed and your Glory is exalted. And there is no God besides you.” Then, he would say, “Allah is the Greatest. The Greatest, indeed.”Then, he said: “I seek refuge in Allah, the All-Hearing, the All-Knowing from the rejected devil from his goading, blowing his breath and his spittle (to cause evil).


حدیث 244

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ وَيَحْيَی بْنُ مُوسَی قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَحَارِثَةُ قَدْ تُکُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَأَبُو الرِّجَالِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدِينِيُّ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  جب نماز شروع کرتے تو «سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا إله غيرك» کہتے

   امام ترمذی کہتے ہیں عائشہ (رض) کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے


Translation
Sayyidah Aisha (RA) narrated that when the Prophet ﷺ began the salah, he said , “O Allah! You are without blemish, and with your praise. Your name is Blessed and your Glory is exalted. And there is no God besides you.


باب ما جاء فی ترک الجھر: بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حدیث 245

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ أَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ لِي أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ إِيَّاکَ وَالْحَدَثَ قَالَ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ أَبْغَضَ إِلَيْهِ الْحَدَثُ فِي الْإِسْلَامِ يَعْنِي مِنْهُ قَالَ وَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَکْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقُولُهَا فَلَا تَقُلْهَا إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَغَيْرُهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ لَا يَرَوْنَ أَنْ يَجْهَرَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالُوا وَيَقُولُهَا فِي نَفْسِهِ


ترجمہ

 عبداللہ بن مغفل (رض) کے بیٹے کہتے ہیں کہ  میرے والد نے مجھے نماز میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» کہتے سنا تو انہوں نے مجھ سے کہا : بیٹے ! یہ بدعت ہے، اور بدعت سے بچو۔ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کے اصحاب میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ اسلام میں بدعت کا مخالف ہو، میں نے نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ، ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان (رض) کے ساتھ نماز پڑھی ہے لیکن میں نے ان میں سے کسی کو اسے  (اونچی آواز سے)  کہتے نہیں سنا، تو تم بھی اسے نہ کہو  جب تم نماز پڑھو تو قرأت «الحمد لله رب العالمين‏» سے شروع کرو۔

   امام ترمذی کہتے ہیں عبداللہ بن مغفل (رض) کی حدیث حسن ہے،  صحابہ جن میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی (رض) وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، یہ لوگ «بسم اللہ الرحمن الرحیم» زور سے کہنے کو درست نہیں سمجھتے  (بلکہ)  ان کا کہنا ہے کہ آدمی اسے اپنے دل میں کہے  


   وضاحت
 تم بھی اسے نہ کہو  سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سرے سے «بسم اللہ» پڑھنے ہی سے منع کیا ہے ، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے جہر  ( بلند آواز  )  سے پڑھنے سے روکنے پر محمول کیا جائے ، اس لیے کہ اس سے پہلے جو یہ جملہ ہے کہ  ان میں سے کسی کو میں نے اسے کہتے نہیں سنا  ، اس جملے کا تعلق بلند آواز سے ہے کیونکہ وہی چیز سنی جاتی ہے جو جہر  ( زور  )  سے کہی جائے ، مصنف کا ترجمۃ الباب میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ «بسم اللہ» کے زور سے پڑھنے کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ان میں سے اکثر ضعیف ہیں ، ان میں سب سے عمدہ روایت نعیم المحجر کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں «صليت وراء أبي هريرة فقرأ بسم اللہ الرحمن الرحيم ثم قرأ بأم القرآن حتی إذا بلغ غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقال آمين وقال الناس آمين» الحدیث ، اس روایت پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اس روایت کو نعیم المحجر کے علاوہ اور بھی لوگوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے لیکن اس میں «بسم اللہ» کا ذکر نہیں ہے ، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ نعیم المحجر ثقہ ہیں اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے اس لیے اس سے جہر پر دلیل پکڑی جاسکتی ہے ، خلاصہ کلام یہ ہے کہ سرّاً اور جہراً دونوں طرح سے جائز ہے لیکن اکثر اور زیادہ تر صحیح احادیث آہستہ ہی پڑھنے کی آئی ہیں   


Translation
The son of Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal (RA) said that when his father heard him recite the Bismillah audibly in salah, he said, ‘O my son, this is something new (bid’ah). Keep away from innovation.’ Ibn Abdullah said, “I did not find any of the sahabah more against innovation in Islam than my father.’ He (Abdullah) said, “I offered salah with the Prophet ﷺ and with Abu Bakr (RA) Umar (RA) and Uthman (RA). None of them said the Bismillah in a loud voice. So, when you offer salah, do not recite it loudly, and begin the recital with al-Fatihah.


باب من رای الجھر بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حدیث 246

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَبِي خَالِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاکَ وَقَدْ قَالَ بِهَذَا عِدَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ رَأَوْا الْجَهْرَ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ حَمَّادٍ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَأَبُو خَالِدٍ يُقَالُ هُوَ أَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ وَاسْمُهُ هُرْمُزُ وَهُوَ کُوفِيٌّ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  اپنی نماز «بسم اللہ الرحمن الرحيم» سے شروع کرتے تھے۔  

 امام ترمذی کہتے ہیں اس کی سند قوی نہیں ہے  صحابہ کرام میں سے جن میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر (رض) شامل ہیں اور ان کے بعد تابعین میں سے کئی اہل علم «بسم اللہ الرحمن الرحيم» زور سے کہنے کے قائل ہیں، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں


Translation
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ commenced his salah with ‘Bismillah ir Rahman ir Rahim’ ( In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful)


باب فی افتتاح القراءة بِ الْحَمْدُلِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حدیث 247

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَفْتَتِحُونَ الْقِرَائَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ کَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَائَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنَّمَا مَعْنَی هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَائَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مَعْنَاهُ أَنَّهُمْ کَانُوا يَبْدَئُونَ بِقِرَائَةِ فَاتِحَةِ الْکِتَابَ قَبْلَ السُّورَةِ وَلَيْسَ مَعْنَاهُ أَنَّهُمْ کَانُوا لَا يَقْرَئُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَکَانَ الشَّافِعِيُّ يَرَی أَنْ يُبْدَأَ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَأَنْ يُجْهَرَ بِهَا إِذَا جُهِرَ بِالْقِرَائَةِ


ترجمہ

 انس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) «الحمد لله رب العالمين‏» سے قرأت شروع کرتے تھے۔  

 امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے،  صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ «الحمد لله رب العالمين‏» سے قرأت شروع کرتے تھے۔ شافعی کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) «الحمد لله رب العالمين‏» سے قرأت شروع کرتے تھے  کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ سورت سے پہلے سورة فاتحہ پڑھتے تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ «بسم اللہ الرحمن الرحيم» نہیں پڑھتے تھے، شافعی کی رائے ہے کہ قرأت «بسم اللہ الرحمن الرحيم» سے شروع کی جائے اور اسے بلند آواز سے پڑھا جائے جب قرأت جہر سے کی جائے

 
  
  وضاحت
  جو لوگ «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کے جہر کے قائل نہیں ہیں وہ اسی روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ  ، ابوبکر ، عمر اور عثمان (رض) سبھی قرأت «الحمد لله رب العالمين‏» سے شروع کرتے تھے ، اور جہر کے قائلین اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہاں «الحمد لله رب العالمين‏» سے مراد سورة فاتحہ ہے نہ کہ خاص یہ الفاظ ، حدیث کا مطلب ہے کہ یہ لوگ قرأت کی ابتداء سورة فاتحہ سے کرتے تھے 


Translation
Sayyidina Anas narrated that Allah’s Messenger ﷺ and Abu Bakr, Umar and Uthman (RA) commenced their recital with Alhamdu lillahi rabbi al-alamin (the first verse of al-Fatihah)


باب ما جاء انه لا صلاة الا یفاتحة الکتاب

حدیث 248

حَدَّثَنَا ا بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَنِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي قَتَادَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَبِهِ يَقُولُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

 عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا :  اس کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی

  امام ترمذی کہتے ہیں عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین وغیرہم (رض) شامل ہیں کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورة فاتحہ پڑھے بغیر نماز کفایت نہیں کرتی، علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں  جس نماز میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی گئی وہ ناقص اور ناتمام ہے۔ یہی ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں

    وضاحت یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے ، فرض ہو یا نفل ہو ، خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے ہو امام ہو یا مقتدی ، ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی ، اس لیے کہ «لا» نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے ، یہ صفات کی نفی کے معنی میں اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ ازروئے شرع نماز مخصوص اقوال اور افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے ، لہٰذا بعض یا کل کی نفی سے اس کی نفی ہوجائے گی اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہوسکتی تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو اور وہ صحت ہے نہ کہ کمال اس لیے کہ صحت اور کمال دونوں مجاز میں سے ہیں ، صحت ذات سے اقرب اور کمال ذات سے ابعد ہے اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہوگی جو ذات سے اقرب ہے ، نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلہ میں ذات سے ابعد ہے


Translation
Sayyidina Ubadahh ibn Samit narrated that the Prophet ﷺ said, “He who does not recite Fatihatul Kitab has not observed salah.


باب ما جاء فی التامین

حدیث 249

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ آمِينَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنَّ الرَّجُلَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّأْمِينِ وَلَا يُخْفِيهَا وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَرَوَی شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ آمِينَ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ حَدِيثُ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ فِي هَذَا وَأَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي مَوَاضِعَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ وَإِنَّمَا هُوَ حُجْرُ بْنُ عَنْبَسٍ وَيُکْنَی أَبَا السَّکَنِ وَزَادَ فِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَقَالَ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ وَإِنَّمَا هُوَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ حَدِيثُ سُفْيَانَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ وَرَوَی الْعَلَائُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ نَحْوَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْعَلَائُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ


ترجمہ

 وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے نبی اکرم  ﷺ  کو «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر، آمین کہتے سنا، اور اس کے ساتھ آپ نے اپنی آواز کھینچی  (یعنی بلند کی) ۔ 
  امام ترمذی کہتے ہیں  وائل بن حجر (رض) کی حدیث حسن ہے، اس باب میں علی اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، صحابہ تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔  (شاذ)  - شعبہ نے یہ حدیث بطریق «سلمة بن كهيل، عن حجر أبي العنبس، عن علقمة بن وائل، عن أبيه وائل» روایت کی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے
«غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھا تو آپ نے آمین کہی اور اپنی آواز پست کی میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبہ نے اس حدیث میں کئی مقامات پر غلطیاں کی ہیں  انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے، جب کہ وہ حجر بن عنبس ہیں اور ان کی کنیت ابوالسکن ہے اور اس میں انہوں نے «عن علقمة بن وائل» کا واسطہ بڑھا دیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے، حجر بن عنبس براہ راست حجر سے روایت کر رہے ہیں، اور «وخفض بها صوته»  (آواز پست کی)  کہا ہے، جب کہ یہ «ومدّ بها صوته»  (اپنی آواز کھینچی)  ہےمیں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ اور علاء بن صالح اسدی نے بھی سلمہ بن کہیل سے سفیان ہی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے  


  وضاحت
شعبہ نے اس حدیث میں تین غلطیاں کی ہیں ایک تو انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے جب کہ یہ حجر بن عنبس ہے دوسری یہ کہ انہوں نے حجر بن عنبس اور وائل بن حجر کے درمیان علقمہ بن وائل کے واسطے کا اضافہ کردیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے اور تیسری یہ کہ انہوں نے «و خفض بها صوته» کہا ہے جب کہ «مدّ بها صوته» ہے  گویا سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس حدیث کی روایت میں علاء بن صالح اسدی نے سفیان کی متابعت کی ہے۔   


Translation
Sayyidina Wail ibn Hujr narrated having heard the Prophet ﷺ recite (in the salah) (last verse of al-Fatihah) and say (Ameen) prolonging his voice. Abu Bakr (RA) Muhammad ibn Aban reported to us from Abdullah ibn Numayr from Ala ibn Salih Asadi from Muslim ibn Kuhayl from Hujr ibn Anbas from Wail ibn Hujr from Allah’s Messenger ﷺ a hadith like Sufyan’s which he reported from Salamah ibn Kuhayl.


باب ما جاء فی فضل التامین

حدیث 250

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ حَدَّثَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  جب امام آمین کہے تو تم لوگ بھی آمین کہو۔ اس لیے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے

 امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “When (after reciting surah al-Fatihah) the imam says aameen, you too say aameen (because .the angels also say it). So, if anyone’s aazneen coincides with the angel’s then all his past sins are forgiven.


باب ما جاء فی السکتین

حدیث 251

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ سَکْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَقَالَ حَفِظْنَا سَکْتَةً فَکَتَبْنَا إِلَی أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ فَکَتَبَ أُبَيٌّ أَنْ حَفِظَ سَمُرَةُ قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ مَا هَاتَانِ السَّکْتَتَانِ قَالَ إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَائَةِ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِکَ وَإِذَا قَرَأَ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ وَکَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَائَةِ أَنْ يَسْکُتَ حَتَّی يَتَرَادَّ إِلَيْهِ نَفَسُهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ لِلْإِمَامِ أَنْ يَسْکُتَ بَعْدَمَا يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَبَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْ الْقِرَائَةِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَأَصْحَابُنَا


ترجمہ

 سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ  (نماز میں)  دو سکتے ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ  ﷺ  سے یاد کیا ہے، اس پر عمران بن حصین (رض) نے اس کا انکار کیا اور کہا : ہمیں تو ایک ہی سکتہ یاد ہے۔ چناچہ  (سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں)  ہم نے مدینے میں ابی بن کعب (رض) کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ نے  (ٹھیک)  یاد رکھا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ کہتے ہیں : تو ہم نے قتادہ سے پوچھا : یہ دو سکتے کون کون سے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جب نماز میں داخل ہوتے  (پہلا اس وقت)  اور جب آپ قرأت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد کہا اور جب «ولا الضالين» کہتے اور آپ کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب آپ قرأت سے فارغ ہوں تو تھوڑی دیر چپ رہیں یہاں تک کہ سانس ٹھہر جائے۔

   امام ترمذی کہتے ہیں سمرہ (رض) کی حدیث حسن ہے،اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی حدیث آئی ہے- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ وہ امام کے لیے نماز شروع کرنے کے بعد اور قرأت سے فارغ ہونے کے بعد  (تھوڑی دیر)  چپ رہنے کو مستحب جانتے ہیں۔ اور یہی احمد، اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب بھی کہتے ہیں۔  (ضعیف) (حسن بصری کے سمرہ سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع میں اختلاف ہے، نیز ” حسن “ ” مدلس “ ہیں، اور یہاں پر نہ تو ” سماع “ کی صراحت ہے، نہ ہی تحدیث کی، اس پر مستزاد یہ کہ ” قتادہ “ بھی مدلس ہیں، اور ” عنعنہ “ سے روایت ہے)  


 وضاحت
 یعنی پہلے تو قتادہ نے دوسرے سکتے کے بارے میں یہ کہا کہ وہ پوری قراءت سے فراغت کے بعد ہے ، اور بعد میں کہا کہ وہ «‏ولا الضالين» کے بعد اور سورة کی قراءت سے پہلے ہے ، یہ قتادہ کا اضطراب ہے ، اس کی وجہ سے بھی یہ روایت ضعیف مانی جاتی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ دوسرا سکتہ پوری قراءت سے فراغت کے بعد اور رکوع سے پہلے اس روایت کی تائید کئی طرق سے ہوتی

امام شوکانی نے «حصل من مجموع الروايات ثلاث سکتات» کہہ کر تین سکتے بیان کیے ہیں اور تیسرے کے متعلق کہ جو سورة الفاتحہ ، اس کے بعد والی قرأت اور رکوع سے پہلے ہوگا - «وهي أخف من الأولی والثانية۔» یہ تیسرا سکتہ افتتاح صلاۃ کے فوراً بعد سورة الفاتحہ سے قبل والے پہلے سکتہ اور «‏ولا الضالين» کے بعد اگلی قرأت سے قبل والے دوسرے سکتہ سے بہت ہلکا ہوگا ، یعنی مام کی سانس درست ہونے کے لیے بس     


Translation
Saeed reported from Qatadab who from Hasan that Sayyidina Samurah (RA) narrated having rememberred two silent periods in salah. Sayyidina breran ibn Husayn Denied that, saying, ‘We remember only one period of silence.” So, they wrote to Sayyidina Ubayy ibn Ka’b at Madinah and he wrote back that Samurah rememberred correctly. Sa’eed said that they asked Qatadah what those periods of silence were. He said, “(They were) When one begins the salah (after the first takbir) and when one finishes the recital at Waladdaaleen . The narrator said that he liked very much the silence on finishing the recital till he had regained his breath.


باب ما جاء فی وضع الیمین علی الشمال فی الصلاۃ

حدیث 252

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَغُطَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ هُلْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَمِينَهُ عَلَی شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ وَرَأَی بَعْضُهُمْ أَنْ يَضَعَهُمَا فَوْقَ السُّرَّةِ وَرَأَی بَعْضُهُمْ أَنْ يَضَعَهُمَا تَحْتَ السُّرَّةِ وَکُلُّ ذَلِکَ وَاسِعٌ عِنْدَهُمْ وَاسْمُ هُلْبٍ يَزِيدُ بْنُ قُنَافَةَ الطَّائِيُّ


ترجمہ

 ہلب طائی (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  ہماری امامت کرتے تو بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔   

امام ترمذی کہتے ہیں  ہلب (رض) کی حدیث حسن ہے اس باب میں وائل بن حجر، غطیف بن حارث، ابن عباس، ابن مسعود اور سہیل بن سعد (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے  اور بعض کی رائے ہے کہ انہیں ناف کے اوپر رکھے اور بعض کی رائے ہے کہ ناف کے نیچے رکھے، ان کے نزدیک ان سب کی گنجائش ہے۔    


 وضاحت
اس کے برعکس امام مالک سے جو ہاتھ چھوڑنے کا ذکر ہے وہ شاذ ہے صحیح نہیں ، مؤطا امام مالک میں بھی ہاتھ باندھنے کی روایت موجود ہے شوافع ، احناف اور حنابلہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ہی سنت ہے ، اب رہا یہ مسئلہ کہ ہاتھ باندھے کہاں جائیں سینے پر یا زیر ناف ؟ تو بعض حضرات زیر ناف باندھنے کے قائل ہیں مگر زیر ناف والی حدیث ضعیف ہے ، بعض لوگ سینے پر باندھنے کے قائل ہیں ان کی دلیل وائل بن حجر (رض) کی روایت «صلیت مع النبی ﷺ فوضع یدہ الیمنیٰ علی یدہ الیسریٰ علی صدرہ» ہے ، اس روایت کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں کی ہے اور یہ ابن خزیمہ کی شرط کے مطابق ہے اور اس کی تائید ہلب الطائی کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس کی تخریج امام احمد نے اپنی مسند میں ان الفاظ کے ساتھ کی ہے «رأیت رسول اللہ ینصرف عن یمینہ وعن یسارہ ورأیتہ یضع ہذہ علی صدرہ ووصف یحییٰ الیمنیٰ علی الیسریٰ فوق المفصل» (یزید بن قنافہ ہلب الطائی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو  ( سلام پھیرتے وقت  )  دیکھا کہ آپ  ( پہلے  )  دائیں جانب مڑتے اور پھر بائیں جانب ، اور میں نے آپ  ﷺ  کو یوں بھی دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھوں کو سینے پر رکھتے تھے ، امام احمد بن حنبل کے استاذ یحییٰ بن سعید نے ہلب (رض) کے اس بیان کی عملی وضاحت اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر جوڑ کے اوپر باندھ کر کی  ) ۔

 اس کے سارے رواۃ ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے  ( مسند احمد ٥/٢٢٦) اور وائل بن حجر کی روایت پر جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں اضطراب ہے ، ابن خزیمہ کی روایت میں «علی صدرہ» ہے ، بزار کی روایت میں «عند صدرہ» ہے اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں «تحت السرۃ» ہے تو یہ اعتراض صحیح نہیں ہے ، کیونکہ مجرد اختلاف سے اضطراب لازم نہیں آتا بلکہ اضطراب کے لیے شرط ہے کہ تمام وجوہ اختلاف برابر ہوں اور یہاں ایسا نہیں ہے ابن ابی شیبہ کی روایت میں «تحت السرۃ» کا جو لفظ ہے وہ مدرج ہے ، اسے جان بوجھ کر بعض مطبع جات کی طرف سے اس روایت میں داخل کردیا گیا ہے اور ابن خزیمہ کی روایت میں «علی صدرہ» اور بزار کی روایت «عند صدرہ» جو آیا ہے تو ان دونوں میں ابن خزیمہ والی روایت راجح ہے ، کیونکہ ہلب طائی (رض) کی روایت اس کے لیے شاہد ہے ، اور طاؤس کی ایک مرسل روایت بھی اس کی تائید میں ہے اس کے برعکس بزار کی حدیث کی کوئی شاہد روایت نہیں۔  


Translation
Qabisah ibn Huib reported from his father tha Allah’s Messenger i- led them in prayer and held his left hand with his right.


باب ما جاء فی التکبیر عند الرکوع والسجود

حدیث 253

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُکَبِّرُ فِي کُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي مَالِکٍ الْأَشْعَرِيِّ وَأَبِي مُوسَی وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَغَيْرُهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَعَلَيْهِ عَامَّةُ الْفُقَهَائِ وَالْعُلَمَائِ


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے اور ابوبکر اور عمر (رض) بھی۔
 
امام ترمذی کہتے ہیں  عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  - اس باب میں ابوہریرہ، انس، ابن عمر، ابو مالک اشعری، ابوموسیٰ ، عمران بن حصین، وائل بن حجر اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں صحابہ کرام کا جن میں ابوبکر، عمر، عثمان علی (رض) وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین کا عمل اسی پر ہے اور اسی پر اکثر فقہاء و علماء کا عمل بھی ہے


 وضاحت
 اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت والی نماز میں ٢٢ تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نمازوں میں کل ٩٤ تکبیریں ہوئیں ، واضح رہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت آپ «سمع اللہ لمن حمده‏» کہتے تھے ، اس لیے اس حدیث کے عموم سے یہ مستثنیٰ ہے ، ان تکبیرات میں سے صرف تکبیر تحریمہ فرض ہے باقی سب سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہوجائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہوجائے گی۔  


Translation
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to call the takbir at every bowing, rising, standing and sitting. And Abu Bakr (RA) and Umar (also did that).


حدیث 254

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ الْمَرْوَزِيُّ قَال سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُکَبِّرُ وَهُوَ يَهْوِي قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ قَالُوا يُکَبِّرُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَهْوِي لِلرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  جھکتے وقت «الله أكبر» کہتے
 امام ترمذی کہتے ہیں - یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اہل علم کا قول یہی ہے کہ رکوع اور سجدہ کے لیے جھکتے ہوئے آدمی
«الله أكبر» کہے۔  


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ called the takhir while bowing down.


باب رفع الیدین عند الرکوع 

حدیث 255

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّی يُحَاذِيَ مَنْکِبَيْهِ وَإِذَا رَکَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ وَکَانَ لَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَمَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَأَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ وَجَابِرٍ وَعُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبِهَذَا يَقُولُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَأَنَسٌ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَغَيْرُهُمْ وَمِنْ التَّابِعِينَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَعَطَائٌ وَطَاوُسٌ وَمُجَاهِدٌ وَنَافِعٌ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَغَيْرُهُمْ وَبِهِ يَقُولُ مَالِکٌ وَمَعْمَرٌ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ وَذَکَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ

حَدَّثَنَا بِذَلِکَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْآمُلِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے  (تو بھی اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھاتے) 
 ابن ابی عمر  (ترمذی کے دوسرے استاذ)  نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے، دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔ 


   وضاحت

  اس حدیث سے ثابت ہوا کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ، رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین مسنون ہے اور بعض حدیثوں سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت بھی رفع یدین کرنا ثابت ہے ، صحابہ کرام اور تابعین عظام میں زیادہ تر لوگوں کا اسی پر عمل ہے ، خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ سے بھی رفع یدین ثابت ہے ، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رفع یدین کی حدیثیں منسوخ ہیں وہ صحیح نہیں کیونکہ رفع یدین کی حدیثیں ایسے صحابہ سے بھی مروی ہیں جو آخر میں اسلام لائے تھے مثلاً وائل بن حجر ہیں جو غزوہ تبوک کے بعد ٩ ھ میں داخل اسلام ہوئے ہیں ، اور یہ اپنے اسلام لانے کے دوسرے سال جب نبی اکرم  ﷺ  کی خدمت میں آئے تو وہ سخت سردی کا زمانہ تھا انہوں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ کپڑوں کے نیچے سے رفع یدین کرتے تھے۔
   امام ترمذی کہتے ہیں
  ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے- اس باب میں عمر، علی، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، انس، ابوہریرہ، ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابوقتادۃ، ابوموسیٰ اشعری، جابر اور عمیر لیثی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں- یہی صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر بن عبداللہ، ابوہریرہ، انس، ابن عباس، عبداللہ بن زبیر (رض) وغیرہ شامل ہیں اور تابعین میں سے حسن بصری، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر وغیرہ کہتے ہیں، اور یہی مالک، معمر، اوزاعی، ابن عیینہ، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں

 عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں  جو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کی حدیث  (دلیل)  صحیح ہے، پھر انہوں نے بطریق زہری روایت کی ہے اور ابن مسعود (رض) کی حدیث  نبی اکرم  ﷺ  نے صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے  والی ثابت نہیں ہے مالک بن انس نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے،   عبدالرزاق کا بیان ہے کہ معمر بھی نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھےاور میں نے جارود بن معاذ کو کہتے سنا کہ  سفیان بن عیینہ، عمر بن ہارون اور نضر بن شمیل اپنے ہاتھ اٹھاتے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے


Translation
Saalim reported from his father Sayyidina Ibn Umar (RA) that when Allah’s Messenger began prayer, he raised his hands opposite his shoulders. Then when he bowed into ruku and when he raised his head after bowing. In his own narration, Sayyidina Ibn Umar (RA) added, “But, he did not raise them between two prostrates.”Imam Tirmidhi said: Fadi ibn Sabah Baghdadi reported a similar Hadith from Sufyan ibn Uyaynah, from Zuhri, from the same sanad from Sayyidina Ibn Umar (RA) .


حدیث 256

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَلَا أُصَلِّي بِکُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ


ترجمہ

 علقمہ کہتے ہیں کہ  عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا :  کیا میں تمہیں رسول اللہ  ﷺ  کی طرح نماز نہ پڑھاؤں ؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے

    امام ترمذی کہتے ہیں  ابن مسعود (رض) کی حدیث حسن ہے، اس باب میں براء بن عازب (رض) سے بھی حدیث آئی ہے،  صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔


  وضاحت
 جو لوگ رفع یدین کی مشروعیت کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے ، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے ، امام احمد اور امام بخاری نے عاصم بن کلیب کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے ، اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ان روایتوں کے معارض نہیں جن سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے ، اس لیے کہ رفع یدین مستحب ہے فرض یا واجب نہیں ، دوسرے یہ کہ عبداللہ بن مسعود (رض) کے اسے نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اوروں کی روایت غلط ہو ، عبداللہ بن مسعود (رض) سے بہت سے مسائل مخفی رہ گئے تھے ، ہوسکتا ہے یہ بھی انہیں میں سے ہو جیسے جنبی کے تیمم کا مسئلہ ہے یا ( رکوع کے درمیان دونوں ہاتھوں کی  )  تطبیق کی منسوخی کا معاملہ ہے۔

Translation

Alqamah reported the saying of Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) Shall I not pray for you the salah of Allah’s Messenger “? So he prayed the salah and did not raise his hands except the first time.


باب ما جاء فی وضع الیدین علی الرکبتین فی الرکوع

حدیث 257

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ لَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ الرُّکَبَ سُنَّتْ لَکُمْ فَخُذُوا بِالرُّکَبِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَأَبِي مَسْعُودٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِکَ إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَبَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّهُمْ کَانُوا يُطَبِّقُونَ وَالتَّطْبِيقُ مَنْسُوخٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ 


ترجمہ

 ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ  ہم سے عمر بن خطاب (رض) نے کہا : گھٹنوں کو پکڑنا تمہارے لیے مسنون کیا گیا ہے، لہٰذا تم  (رکوع میں)  گھٹنے پکڑے رکھو۔

    امام ترمذی کہتے ہیں  عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  اس باب میں سعد، انس، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ اور ابومسعود (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ سوائے اس کے جو ابن مسعود اور ان کے بعض شاگردوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ تطبیق کرتے تھے، اور تطبیق اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے


    وضاحت
 ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر انہیں دونوں رانوں کے درمیان کرلینے کو تطبیق کہتے ہیں ، یہ حکم شروع اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا اور عبداللہ بن مسعود کو اس کی منسوخی کا علم نہیں ہوسکا تھا ، اس لیے وہ تاحیات تطبیق کرتے کراتے رہے


Translation
Sayyidina Abu Abdur Rahman Sulami reported that Sayyidina Umar ibn Khattab said, To hold the knees is a sunnah for you. So, hold your knees (in ruku).


حدیث 258

قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ کُنَّا نَفْعَلُ ذَلِکَ فَنُهِينَا عَنْهُ وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ الْأَکُفَّ عَلَی الرُّکَبِ

قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ بِهَذَا


ترجمہ

 سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ  ہم لوگ ایسا کرتے تھے  (یعنی تطبیق کرتے تھے)  پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں


Translation
Sayyidina Sad ibn Abu Waqqas (RA) said, “We used to practice tatbiq but then We were forbidden to do it. We were commanded to place our alms on the knees.


باب ما جاء انه یجافی یدیه عن جنبیه فی الرکوع

حدیث 259


حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَکَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَی رُکْبَتَيْهِ کَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُجَافِيَ الرَّجُلُ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ


ترجمہ

 عباس بن سہل بن سعد کا بیان ہے کہ  ابوحمید ابواسید سہل بن سعد، اور محمد بن مسلمہ  (رضی اللہ عنہم)  چاروں اکٹھا ہوئے تو ان لوگوں نے رسول اللہ  ﷺ  کی نماز کا ذکر کیا ابوحمید (رض) نے کہا  میں رسول اللہ  ﷺ  کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں  آپ  ﷺ  نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح  (ٹائٹ)  بنایا اور انہیں اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھا  امام ترمذی کہتے ہیں  ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں انس (رض) سے بھی روایت ہے اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھے


Translation

Sayyidina Abbas Ibn Sahi (RA) reported that Sayyidina Abu Humayd Abu Usayd , Sahi ibn Sa’d and Muhammad ibn Muslaniah sat together and discussed the Prophet’s ﷺ prayer. Abu Humayd (RA) said, “I know about his prayer more than any of you. Surely, Allah’s Messenger ﷺ placed his hands on his knees while bowing as though he was clutching them, bending his arms like the bow and keeping them away from his ribs.


باب ما جاء فی التسیح فی الرکوع والسجود

حدیث 260

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَکَعَ أَحَدُکُمْ فَقَالَ فِي رُکُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُکُوعُهُ وَذَلِکَ أَدْنَاهُ وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ وَذَلِکَ أَدْنَاهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ لَمْ يَلْقَ ابْنَ مَسْعُودٍ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَنْقُصَ الرَّجُلُ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ مِنْ ثَلَاثِ تَسْبِيحَاتٍ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَنَّهُ قَالَ أَسْتَحِبُّ لِلْإِمَامِ أَنْ يُسَبِّحَ خَمْسَ تَسْبِيحَاتٍ لِکَيْ يُدْرِکَ مَنْ خَلْفَهُ ثَلَاثَ تَسْبِيحَاتٍ وَهَکَذَا قَالَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو رکوع میں «سبحان ربي العظيم» تین مرتبہ کہے تو اس کا رکوع پورا ہوگیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدے میں تین مرتبہ «سبحان ربي العظيم» کہے تو اس کا سجدہ پورا ہوگیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے  امام ترمذی کہتے ہیں  ابن مسعود کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے عون بن عبداللہ بن عتبہ کی ملاقات ابن مسعود سے نہیں ہے  اس باب میں حذیفہ اور عقبہ بن عامر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم کا عمل اسی پر ہے وہ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی رکوع اور سجدے میں تین تسبیحات سے کم نہ پڑھے عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں امام کے لیے مستحب سمجھتا ہوں کہ وہ پانچ تسبیحات پڑھے تاکہ پیچھے والے لوگوں کو تین تسبیحات مل جائیں اور اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے


   وضاحت 

 لیکن ابوبکرہ  جبیر بن مطعم  اور ابو مالک اشعری (رض) کی حدیثوں سے اس حدیث کو تقویت مل جاتی ہے  ان سب میں اگرچہ قدرے کلام ہے لیکن مجموعہ طرق سے یہ بات درجہ احتجاج کو پہنچ جاتی ہے


Translation

Sayydina Ibn Masud (RA) reported that the Prophet ﷺ said, When one of you goes into ruku, he must recite three times : (Glory be to my Lord, the Mighty). His bowing is complete (on that), and this is the least (that he may recite). And when he goes into prostration, he must recite three times: (Glory be to my Lord, the Most High). His prostration is complete (on that), and this is the least (that he may recite)


حدیث 261

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ قَال سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَهُ 

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حُذَيْفَةَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَنَّهُ صَلَّى بِاللَّيْلِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ


ترجمہ

 حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ  انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلی» پڑھ رہے تھے۔ اور جب بھی رحمت کی کسی آیت پر پہنچتے تو ٹھہرتے اور سوال کرتے اور جب عذاب کی کسی آیت پر آتے تو ٹھہرتے اور  (عذاب سے)  پناہ مانگتے

  امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے


  وضاحت 

 یہ نفل نمازوں کے ساتھ خاص ہے  شیخ عبدالحق  لمعات التنقيح شرح مشکاة المصابيح  میں فرماتے ہیں «االظاهر أنه کان في الصلاة محمول عندنا علی النوافل» یعنی ظاہر یہی ہے کہ آپ نماز میں تھے اور یہ ہمارے نزدیک نوافل پر محمول ہوگا


باب ما جاء فی النھی عن القراءة فی الرکوع والسجود

حدیث 262

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّکُوعِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ کَرِهُوا الْقِرَائَةَ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ


ترجمہ
 علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے ریشمی اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا

امام ترمذی کہتے ہیں
  علی (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا یہی قول ہے ان لوگوں نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے کو مکروہ کہا ہے


Translation
Sayyidina Ali (RA) ibn Abu Talib reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade wearing a ring of gold, silk garments and garments decorated with silk


باب ما جاء فی من لا یقیم صلیه فی الرکوع والسجود

حدیث 263

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ فِيهَا الرَّجُلُ يَعْنِي صُلْبَهُ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَرِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ صُلْبَهُ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ مَنْ لَمْ يُقِمْ صُلْبَهُ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ فَصَلَاتُهُ فَاسِدَةٌ لِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ الْبَدْرِيُّ اسْمُهُ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو


ترجمہ

 ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  اس شخص کی نماز کافی نہ ہوگی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے  

  امام ترمذی کہتے ہیں

  ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں علی بن شیبان، انس، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی نماز فاسد ہے اس لیے کہ نبی اکرم  ﷺ  کی حدیث ہے   اس شخص کی نماز کافی نہ ہوگی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے


 وضاحت

اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں طمانینت اور تعدیل ارکان واجب ہے ، اور جو لوگ اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں اس سے نص پر زیادتی لازم آئے گی اس لیے کہ قرآن مجید میں مطلق سجدہ کا حکم ہے اس میں طمانینت داخل نہیں یہ زیادتی جائز نہیں  اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ زیادتی نہیں بلکہ سجدہ کے معنی کی وضاحت ہے کہ اس سے مراد سجدہ لغوی نہیں بلکہ سجدہ شرعی ہے جس کے مفہوم میں طمانینت بھی داخل ہے


Translation

Sayyidina Abu Masud Ansari (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “Prayer is of no merit to one who does not keep his back straight in ruku and sajdah


باب ما یقول الرجل اذا رفع راسه من الرکوع

حدیث 264

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنِي عَمِّي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَی وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ قَالَ يَقُولُ هَذَا فِي الْمَکْتُوبَةِ وَالتَّطَوُّعِ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْکُوفَةِ يَقُولُ هَذَا فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَلَا يَقُولُهَا فِي صَلَاةِ الْمَکْتُوبَةِ


ترجمہ

 علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد»  اللہ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی اے ہمارے رب ! تعریف تیرے ہی لیے ہے آسمان بھر زمین بھر زمین و آسمان کی تمام چیزوں بھر اور اس کے بعد ہر اس چیز بھر جو تو چاہے  کہتے

 امام ترمذی کہتے ہیں

  علی (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں ابن عمر ابن عباس ابن ابی اوفی ابوحجیفہ اور ابوسعید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ فرض ہو یا نفل دونوں میں یہ کلمات کہے گا  اور بعض اہل کوفہ کہتے ہیں یہ صرف نفل نماز میں کہے گا فرض نماز میں اسے نہیں کہے گا


 وضاحت

 اس روایت کے بعض طرق میں  فرض نماز  کے الفاظ بھی آئے ہیں جو اس بارے میں نص صریح ہے کہ نفل یا فرض سب میں اس دعا کے یہ الفاظ پڑھے جاسکتے ہیں ویسے صرف «ربنا ولک الحمد» پر بھی اکتفا جائز ہے


Translation

Sayyidina Huzayfah reported that he prayed with the Prophet ﷺ . In his ruku, he recited and in his sajdah And when he came to a verseof mercy, he sought (mercy) from Allah and when he came to a verse of punishment, he paused and sought refuge from that punishment. Hadith like it was narrated by Muhammad ibn Bashshar from Abdur Rahman ibn Mahdi from Shu’bah


باب منه آخر

حدیث 265

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يَقُولَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَيَقُولَ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ و قَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَغَيْرُهُ يَقُولُ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِثْلَ مَا يَقُولُ الْإِمَامُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  جب امام «سمع اللہ لمن حمده‏»  اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی  کہے تو تم «ربنا ولک الحمد»  ہمارے رب ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں  کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے   صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ امام «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد» کہے  اور مقتدی «ربنا ولک الحمد» کہیں یہی احمد کہتے ہیں اور ابن سیرین وغیرہ کا کہنا ہے جو امام کے پیچھے  (یعنی مقتدی)  ہو وہ بھی «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد» اسی طرح کہے گا   جس طرح امام کہے گا اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں

   
  وضاحت

 متعدد احادیث سے  ( جن میں بخاری کی بھی ایک روایت ابوہریرہ (رض) ہی سے ہے  )  یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ  امامت کی حالت میں «سمع اللہ لمن حمدہ» کے بعد «ربنا لک الحمد» کہا کرتے تھے  اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ امام «ربنا لک الحمد» نہ کہے لیکن حافظ ابن حجر کہتے ہیں  ( اور صاحب تحفہ ان کی موافقت کرتے ہیں  )  کہ  مقتدی کے لیے دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں کوئی واضح حدیث وارد نہیں ہے  اور جو لوگ اس کے قائل ہیں وہ «صلوا کما رأيتموني أصلي»  جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ویسے تم بھی صلاۃ پڑھو  سے استدلال کرتے ہیں 


Translation

Sayydina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the imam says ,you say (Our Lord: And all praise belongs to You). So if anyone’s saying synchronises with the saying of the angels then all his previous sins are forgiven.”


باب ما جاء فی وضع الیدین قبل الرکبتین فی السجود

حدیث 266

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيکٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يَضَعُ رُکْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُکْبَتَيْهِ قَالَ زَادَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَلَمْ يَرْوِ شَرِيکٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ مِثْلَ هَذَا عَنْ شَرِيکٍ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رُکْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُکْبَتَيْهِ وَرَوَی هَمَّامٌ عَنْ عَاصِمٍ هَذَا مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ


ترجمہ

 وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھ سے پہلے رکھتے اور جب اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے 

 امام ترمذی کہتے ہیں

  یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے ہمام نے عاصم   سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا   


  وضاحت

جو لوگ دونوں ہاتھوں سے پہلے دونوں گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے  شریک عاصم بن کلیب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں جب کہ شریک خود ضعیف ہیں  اگرچہ اس روایت کو ہمام بن یحییٰ نے بھی دو طریق سے ایک محمد بن حجاوہ کے طریق سے اور دوسرے شقیق کے طریق سے روایت کی ہے لیکن محمد بن حجادہ والی سند منقطع ہے کیونکہ عبدالجبار کا سماع اپنے باپ سے نہیں ہے اور شقیق کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ وہ خود مجہول ہیں ہمام نے اسے عاصم سے نہیں بلکہ شقیق سے روایت کیا ہے اور شقیق نے عاصم سے مرسلاً روایت کیا ہے گویا شقیق والی سند میں دو عیب ہیں  ایک شقیق خود مجہول ہیں اور دوسرا عیب یہ ہے کہ یہ مرسل ہے اس میں وائل بن حجر (رض) کا ذکر نہیں   


Translation

Sayyidina Wail ibn Hujr ﷺ said that he observed Allah’s Messenger ﷺ (praying). While going into sajdah, he placed his knees (on the ground) before his hands and while rising, he brought his hands up before his knees


باب آخر منه

حدیث 267

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْمِدُ أَحَدُکُمْ فَيَبْرُکُ فِي صَلَاتِهِ بَرْکَ الْجَمَلِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍٍ الْمَقْبُرِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  تم میں سے کوئی یہ قصد کرتا ہے کہ وہ اپنی نماز میں اونٹ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے 

  امام ترمذی کہتے ہیں

 ابوہریرہ کی حدیث غریب ہے ہم اسے ابوالزناد کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یہ حدیث عبداللہ بن سعید مقبری سے بھی روایت کی گئی ہے، انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے عبداللہ بن سعید مقبری کو یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے


 وضاحت

 یعنی جس طرح اونٹ بیٹھنے میں پہلے اپنے دونوں گھٹنے رکھتا ہے اسی طرح یہ بھی چاہتا ہے کہ رکوع سے اٹھ کر جب سجدہ میں جانے لگے تو پہلے اپنے دونوں گھٹنے زمین پر رکھے  یہ استفہام انکاری ہے  مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرے  بلکہ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ رکھے مسند احمد  سنن ابی داود اور سنن نسائی میں یہ حدیث اس طرح ہے «إذا سجد أحدکم فلايبرك كما يبرک البعير وليضع يديه قبل رکبتيه» یعنی جب تم میں سے کوئی سجدے میں جائے تو وہ اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھے  یہ اونٹ کی بیٹھک کے مخالف بیٹھک ہے  کیونکہ اونٹ جب بیٹھتا ہے تو اپنے گھٹنے زمین پر پہلے رکھتا ہے اور اس کے گھٹنے اس کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جیسا کہ لسان العرب اور دیگر کتب لغات میں مرقوم ہے  حافظ ابن حجر نے سند کے اعتبار سے اس روایت کو وائل بن حجر کی روایت جو اس سے پہلے گزری صحیح تر بتایا ہے کیونکہ ابن عمر (رض) کی ایک روایت جسے ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے اور بخاری نے اسے معلقاً موقوفاً ذکر کیا ہے اس کی شاہد ہے  اکثر فقہاء عموماً محدثین اور اسی کے قائل ہیں کہ دونوں گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھے جائیں  ان لوگوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے  شوافع اور احناف نے جو پہلے گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں اس حدیث کے کئی جوابات دیئے ہیں لیکن سب مخدوش ہیں


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Resolves one of you and kneels down in his salah the kneeling of a camel.”


باب ما جاء فی السجود علی الجبھة ولانف

حدیث 268

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا سَجَدَ أَمْکَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ مِنْ الْأَرْضِ وَنَحَّی يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ کَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْکِبَيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَسْجُدَ الرَّجُلُ عَلَی جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ فَإِنْ سَجَدَ عَلَی جَبْهَتِهِ دُونَ أَنْفِهِ فَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُجْزِئُهُ وَقَالَ غَيْرُهُمْ لَا يُجْزِئُهُ حَتَّی يَسْجُدَ عَلَی الْجَبْهَةِ وَالْأَنْفِ


ترجمہ

 ابو حمید ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  جب سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی خوب اچھی طرح زمین پر جماتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں شانوں کے بالمقابل رکھتے

 امام ترمذی کہتے ہیں

 ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں ابن عباس وائل بن حجر اور ابوسعید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی اپنی پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ کرے اور اگر صرف پیشانی پر سجدہ کرے ناک پر نہ کرے تو اہل علم میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اسے کافی ہوگا اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ نہ کرے  


 وضاحت 

 سجدے میں پیشانی اور ناک کے زمین پر رکھنے کے سلسلے میں تین اقوال ہیں  دونوں کو رکھنا واجب ہے  صرف پیشانی رکھنا واجب ہے  ناک رکھنا مستحب ہے  دونوں میں سے کوئی بھی ایک رکھ دے تو کافی ہے دونوں رکھنا مستحب ہے  دلائل کی روشنی میں احتیاط پہلے قول میں ہے ایک متبع سنت کو خواہ مخواہ پخ نکالنے کے چکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں


Translation

Sayyidina Abu Humayd Sa’idi narrated that when the Prophet ﷺ Li went into prostration, he placed his nose and forehead on the ground, keeping his arms away from his sides and plams of his hands in line with his shoulders


باب ما جاء این یضع الرجل وجھه اذا سجد

حدیث 269

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَيْنَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ وَجْهَهُ إِذَا سَجَدَ فَقَالَ بَيْنَ کَفَّيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَأَبِي حُمَيْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْبَرَائِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ تَکُونَ يَدَاهُ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ


ترجمہ

 ابواسحاق سبیعی سے روایت ہے کہ  میں نے براء بن عازب (رض) سے پوچھا کہ نبی اکرم  ﷺ  جب سجدہ کرتے تو اپنا چہرہ کہاں رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا  اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان

 امام ترمذی کہتے ہیں

 براء (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے اس باب میں وائل بن حجر اور ابوحمید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور اسی کو بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کے دونوں کانوں کے قریب ہوں 


   وضاحت

 ابوحمید (رض) کی پچھلی حدیث میں گزرا کہ نبی اکرم  ﷺ  نے سجدے میں اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل رکھے یعنی دونوں صورتیں جائز ہیں


Translation

Abu Ishaq said that he asked Bara ibn Aazib , ‘Where did the Prophet ﷺ – ﷺ place his face while prostrating”? He said, “Between his two plams.”


باب ما جاء فی السجود علی سبعة اعضاء

حدیث 270

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَکَفَّاهُ وَرُکْبَتَاهُ وَقَدْمَاهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْعَبَّاسِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ


ترجمہ

 عباس بن عبدالمطلب (رض) سے روایت ہے کہ  انہوں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے سنا  جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات جوڑ بھی سجدہ کرتے ہیں  اس کا چہرہ  اس کی دونوں ہتھیلیاں اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم
 
امام ترمذی کہتے ہیں

عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں ابن عباس ابوہریرہ جابر اور ابوسعید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم کا اسی پر عمل ہے 


 وضاحت

اور چہرے میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں


Translation

Sayyidina Abbas ibn Abdul Muttalib heard Allah’s Messenger ﷺ ,“ Say, “When a worshipper prostates, seven organs prostrate with him: his face his (both) palms, his knees and his feet.”


حدیث 271

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَی سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا يَکُفَّ شَعْرَهُ وَلَا ثِيَابَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں
  امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ was commanded to prostrate on seven limbs, and he was forbidden to hold his hair and his garments


باب ما جاء فی التجافی فی سجود

حدیث 272

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَقْرَمِ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ فَمَرَّتْ رَکَبَةٌ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي قَالَ فَکُنْتُ أَنْظُرُ إِلَی عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ أَيْ بَيَاضِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ بُحَيْنَةَ وَجَابِرٍ وَأَحْمَرَ بْنِ جَزْئٍ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَالْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَعَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَحْمَرُ بْنُ جَزْئٍ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ حَدِيثٌ وَاحِدٌ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ وَلَا نَعْرِفُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَرْقَمَ الزُّهْرِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ کَاتِبُ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ


ترجمہ

 عبداللہ بن اقرم خزاعی (رض) کہتے ہیں کہ  میں مقام نمرہ کے «قاع»  مسطح زمین  میں اپنے والد کے ساتھ تھا، تو  (وہاں سے)  ایک قافلہ گزرا کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ  کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، میں آپ  ﷺ  کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا جب آپ سجدہ کرتے 

امام ترمذی کہتے ہیں

 عبداللہ بن اقرم (رض) کی حدیث حسن ہے اسے ہم صرف داود بن قیس کی سند سے جانتے ہیں عبداللہ بن اقرم خزاعی کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہو ہم نہیں جانتے صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے اور عبداللہ بن ارقم زہری نبی اکرم  ﷺ  کے اصحاب میں سے ہیں اور وہ ابوبکر صدیق کے منشی تھے اس باب میں ابن عباس ابن بحینہ جابر احمر بن جزئ میمونہ ابوحمید ابومسعود ابواسید سہل بن سعد محمد بن مسلمہ براء بن عازب عدی بن عمیرہ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  ٤- احمر بن جزء نبی اکرم  ﷺ  کے اصحاب میں سے ایک آدمی ہیں اور ان کی صرف ایک حدیث ہے 


Translation

Ubaydulah ibn Abdullah ibn Aqram Khuza’i reported from his father that he said, “I was with my father at a plain at Nimrah when some riders passed by. The Prophet ﷺ stood offering salah. When he went into sajdah, I could see the whites of his armpits.”


باب ما جاء فی الاعتدال فی السجود

حدیث 273

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَجَدَ أَحَدُکُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْکَلْبِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ وَأَنَسٍ وَالْبَرَائِ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الِاعْتِدَالَ فِي السُّجُودِ وَيَکْرَهُونَ الِافْتِرَاشَ کَافْتِرَاشِ السَّبُعِ


ترجمہ

 جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے  اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے     

 امام ترمذی کہتے ہیں

 جابر کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل انس براء ابوحمید اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم کا عمل اسی پر ہے وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ہاتھ کو درندے کی طرح بچھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں 


 وضاحت

یعنی ہیئت درمیانی رکھے اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلوؤں سے جدا ہوں اور پیٹ بھی رانوں سے جدا ہو۔ گویا زمین اور بدن کے اوپر والے آدھے حصے کے درمیان فاصلہ نظر آئے کتے کی طرح  سے مراد ہے کہ وہ دونوں کہنیاں زمین پر بچھا کر بیٹھتا ہے  اس طرح تم سجدہ میں نہ کرو


Translation

Sayyidina Jabir reported the Prophet ﷺ as saying, “When one of you prostrates, let him not stretch out his forearms like a dog.”


حدیث 274

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَال سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطَنَّ أَحَدُکُمْ ذِرَاعَيْهِ فِي الصَّلَاةِ بَسْطَ الْکَلْبِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 انس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو، تم میں سے کوئی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے
 
 امام ترمذی کہتے ہیں 
یہ حدیث حسن صحیح ہے


Translation

Qatadah said that he heard Sayyidina Anas - say that Allah’s Messenger said, “Observe moderation in prostration. None of you must stretch his forearms like a dog.”


باب ما جاء فی وضع الیدین ونصب القدمین فی السجود 

حدیث 275

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي  عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ وَنَصْبِ الْقَدَمَيْنِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَرَوَی يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ وَنَصْبِ الْقَدَمَيْنِ مُرْسَلٌ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ وَهُوَ الَّذِي أَجْمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ وَاخْتَارُوهُ


ترجمہ

 سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے دونوں ہاتھوں کو  (زمین پر)  رکھنے اور دونوں پاؤں کو کھڑے رکھنے کا حکم دیا ہے  

    امام ترمذی کہتے ہیں

 عامر بن سعد سے مرسلاً روایت ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے دونوں ہاتھوں  (زمین پر)  رکھنے اور دونوں قدموں کو کھڑے رکھنے کا حکم دیا ہے  یہ مرسل روایت وہیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے  اور اسی پر اہل علم کا اجماع ہے اور لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے


 
وضاحت 

یعنی یہ روایت عامر کی اپنی ہے  ان کے باپ سعد (رض) کی نہیں  اس لیے یہ مرسل روایت ہوئی دونوں ہاتھوں سے مراد دونوں ہتھیلیاں ہیں اور انہیں زمین پر رکھنے سے مراد انہیں دونوں کندھوں یا چہرے کے بالمقابل رکھنا ہے اور دونوں قدموں کے کھڑے رکھنے سے مراد انہیں ان کی انگلیوں کے پیٹوں پر کھڑا رکھنا اور انگلیوں کے سروں سے قبلہ کا استقبال کرنا ہے ان دونوں روایتوں کا ماحصل یہ ہے کہ معلی بن اسد نے یہ حدیث وہیب اور حماد بن مسعدہ دونوں سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے محمد بن عجلان سے اور محمد بن عجلان نے محمد بن ابراہیم سے اور محمد بن ابراہیم نے عامر بن سعد سے روایت کی ہے لیکن وہیب نے اسے مسند کردیا ہے اور عامر بن سعد کے بعد ان کے باپ سعد بن ابی وقاص کے واسطے کا اضافہ کیا ہے جب کہ حماد بن مسعدۃ نے بغیر سعد بن ابی وقاص کے واسطے کے اسے مرسلاً روایت کیا ہے  حماد بن مسعدہ کی مرسل روایت وہیب کی مسند روایت سے زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اور بھی کئی لوگوں نے اسے حماد بن مسعدہ کی طرح مرسلاً ہی روایت کیا ہے


Translation

Aamir ibn Sad (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ commanded that palms should rest (on the ground) and feet should be erect. Abdullah said that Mu’alla reported from Hammad ibn Ma’dah who from Muhammad ibn Ajian who from Muhammad ibn Ibrahim who from Aamir ibn Sa’d a hadith like this that Allah’s Messenger ﷺ commanded them to place both palms on the ground. In this hadith he did not mention the father of Aamir ibn Sa’d


باب ما جاء فی اقامة الصلب اذا رفع راسه من السجود والرکوع

حدیث 276

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی الْمَرْوَزِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَکَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ قَرِيبًا مِنْ السَّوَائِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْبَرَائِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ 


ترجمہ

 براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب رکوع کرتے جب رکوع سے سر اٹھاتے جب سجدہ کرتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو آپ کی نماز تقریباً برابر برابر ہوتی تھی 

 امام ترمذی کہتے ہیں اس باب میں انس (رض) سے بھی حدیث ہے


  وضاحت

 یہ حدیث اس بات پر صریحاً دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑا ہونا اور دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا ایک ایسا رکن ہے جسے کسی بھی حال میں چھوڑنا صحیح نہیں  بعض لوگ سیدھے کھڑے ہوئے بغیر سجدے کے لیے جھک جاتے ہیں  اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان بغیر سیدھے بیٹھے دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ رکوع اور سجدے کی طرح ان میں تسبیحات کا اعادہ اور ان کا تکرار مسنون نہیں ہے تو یہ دلیل انتہائی کمزور ہے کیونکہ نص کے مقابلہ میں قیاس ہے جو درست نہیں  نیز رکوع کے بعد جو ذکر مشروع ہے وہ رکوع اور سجدے میں مشروع ذکر سے لمبا ہے

   امام ترمذی کہتے ہیں

 براء (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے


Translation

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ bowed down in ruku or raised his head therefrom, and when he went down in sajdah or raised his head from it these postures were nearly equal.Muhmmad ibn Bashshar from Muhammad ibn Ja’far and he from Shu’bah reported a hadith like it


باب ما جاء فی کراھیة ان یبادر الامام فی الرکوع والسجود 

حدیث 277

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْبَرَائُ وَهُوَ غَيْرُ کَذُوبٍ قَالَ کُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ لَمْ يَحْنِ رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّی يَسْجُدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْجُدَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَمُعَاوِيَةَ وَابْنِ مَسْعَدَةَ صَاحِبِ الْجُيُوشِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْبَرَائِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبِهِ يَقُولُ أَهْلُ الْعِلْمِ إِنَّ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ إِنَّمَا يَتْبَعُونَ الْإِمَامَ فِيمَا يَصْنَعُ لَا يَرْکَعُونَ إِلَّا بَعْدَ رُکُوعِهِ وَلَا يَرْفَعُونَ إِلَّا بَعْدَ رَفْعِهِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِکَ اخْتِلَافًا


ترجمہ

 براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ  ہم جب رسول اللہ  ﷺ  کے پیچھے نماز پڑھتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنی پیٹھ  (سجدے کے لیے)  اس وقت تک نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ آپ  ﷺ  سجدے میں نہ چلے جاتے آپ سجدے میں چلے جاتے تو ہم سجدہ کرتے


  امام ترمذی کہتے ہیں

 براء (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں انس، معاویہ، ابن مسعدہ صاحب جیوش، اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور یہی اہل علم کہتے ہیں یعنی  جو امام کے پیچھے ہو وہ ان تمام امور میں جنہیں امام کر رہا ہو امام کی پیروی کرے یعنی اسے امام کے بعد کرے امام کے رکوع میں جانے کے بعد ہی رکوع میں جائے اور اس کے سر اٹھانے کے بعد ہی اپنا سر اٹھائے ہمیں اس مسئلہ میں ان کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے


Translation

Abdullah ibn Yazid (RA) reported that Sayyidina Bara ﷺ narrated to them, and he was not a liar, that when they prayed behind Allah’s Messenger ﷺ and he had raised his head from ruku, none of them would bend his back till Allah’s Messenger Li 4i4i had prostrated. Then they would prostrate.


باب ما جاء فی کراھیة الاقعاء بین السجدتین

حدیث 278

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ أُحِبُّ لَکَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَکْرَهُ لَکَ مَا أَکْرَهُ لِنَفْسِي لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ وَقَدْ ضَعَّفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحَارِثَ الْأَعْوَرَ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَکْرَهُونَ الْإِقْعَائَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ


ترجمہ

 علی (رض) کہتے ہیں کہ  مجھ سے رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   اے علی ! میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے کرتا ہوں اور وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء   نہ کرو    امام ترمذی کہتے ہیں  ہم اسے علی کی حدیث سے صرف ابواسحاق سبیعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں انہوں نے حارث سے اور حارث نے علی سے روایت کی ہے بعض اہل علم نے حارث الاعور کو ضعیف قرار دیا ہے   اس باب میں عائشہ انس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ وہ اقعاء کو مکروہ قرار دیتے ہیں


 وضاحت

 اقعاء کی دو قسمیں ہیں  پہلی قسم یہ ہے کہ دونوں سرین زمین سے چپکے ہوں اور دونوں رانیں کھڑی ہوں اور دونوں ہاتھ زمین پر ہوں یہی اقعاء کلب ہے اور یہی وہ اقعاء ہے جس کی ممانعت آئی ہے  دوسری قسم یہ ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان قدموں کو کھڑا کر کے سرین کو دونوں ایڑیوں پر رکھ کر بیٹھے  اس صورت کا ذکر ابن عباس کی حدیث میں ہے جس کی تخریج مسلم اور ابوداؤد نے بھی کی ہے اور یہ صورت جائز ہے  بعض نے اسے بھی منسوخ شمار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ابن عباس کو اس نسخ کا علم نہ ہوسکا ہو  لیکن یہ قول درست نہیں کیونکہ دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق ممکن ہے  صحیح قول یہ ہے کہ اقعاء کی یہ صورت جائز ہے اور افضل سرین پر بیٹھنا ہے اس لیے کہ زیادہ تر آپ کا عمل اسی پر رہا ہے اور کبھی کبھی آپ نے جو اقعاء کیا وہ یا تو کسی عذر کی وجہ سے کیا ہوگا یا بیان جواز کے لیے کیا ہوگا حارث اعور کی وجہ سے یہ روایت تو ضعیف ہے مگر اس باب کی دیگر احادیث صحیح ہیں جن کا ذکر مولف نے «وفی الباب»  کر کے کیا ہے


Translation

Sayyidina Ali (RA) narrated that Allah’s Messenger said to him, “Ali I like for you what I like for myself and I dislike for you what I dislike for myself. Do not observe iq’a between two prostrations.”


باب فی الرخصة فی الاقعاء

حدیث 279

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَائِ عَلَی الْقَدَمَيْنِ قَالَ هِيَ السُّنَّةُ فَقُلْنَا إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَائً بِالرَّجُلِ قَالَ بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَی هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ بِالْإِقْعَائِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ مَکَّةَ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ قَالَ وَأَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَکْرَهُونَ الْإِقْعَائَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ


ترجمہ

 طاؤس کہتے ہیں کہ  ہم نے ابن عباس (رض) سے دونوں قدموں پر اقعاء کرنے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا  یہ سنت ہے تو ہم نے کہا کہ ہم تو اسے آدمی کا پھوہڑپن سمجھتے ہیں انہوں نے کہا  نہیں یہ پھوہڑپن نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے نبی اکرم  ﷺ  کی سنت ہے  

 امام ترمذی کہتے ہیں

 یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام میں بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں وہ اقعاء میں کوئی حرج نہیں جانتے مکہ کے بعض اہل علم کا یہی قول ہے لیکن اکثر اہل علم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کو ناپسند کرتے ہیں 


Translation

Ibn Jurayj reported from Abu Zubayr who from Tawus that he asked Sayyidina Ibn Abbas (RA) about iq’a on both feet. He said, ‘It is sunnah.” They complained, “We consider it cruelty on man.” lbn Abbas (RA) said. “Rather this is the sunnah of your Prophet ﷺ


باب ما یقول بین السجدتین 

حدیث 280

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ کَامِلٍ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ عَنْ کَامِلٍ أَبِي الْعَلَائِ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَهَکَذَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ يَرَوْنَ هَذَا جَائِزًا فِي الْمَکْتُوبَةِ وَالتَّطَوُّعِ وَرَوَی بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ کَامِلٍ أَبِي الْعَلَائِ مُرْسَلًا


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني واجبرني واهدني وارزقني»  اے اللہ ! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما میرے نقصان کی تلافی فرما مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما  کہتے تھے  

 اس سند سے بھی  کامل ابو العلاء سے اسی طرح مروی ہے  امام ترمذی کہتے ہیں

 یہ حدیث غریب ہے اسی طرح علی (رض) سے بھی مروی ہے اور بعض لوگوں نے کامل ابو العلاء سے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے شافعی احمد اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ان کی رائے ہے کہ یہ فرض اور نفل دونوں میں جائز ہے


  وضاحت

 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے  بعض روایات میں «وأرفعني» کا اضافہ ہے اور بعض میں مختصراً «رب اغفرلي» کے الفاظ آئے ہیں  دوسری روایات میں الفاظ کچھ کمی بیشی ہے  اس لیے حسب حال جو بھی دعا پڑھ لی جائے درست ہے


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) made this supplication between two prostrations:  O Allah, forgive me, have merey on me, compensate me, guide me and provide for me

The like of this hadith is reported by Hasan ibn All Khilal from Yazid lbn Harun from Zayd ibn Habbab from Kamil Abul Ala


باب ما جاء فی الاعتماد فی السجود 

حدیث 281

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اشْتَکَی بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا فَقَالَ اسْتَعِينُوا بِالرُّکَبِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ وَقَدْ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَکَأَنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَائِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ اللَّيْثِ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  بعض صحابہ نے نبی اکرم  ﷺ  سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں  (تکلیف کی)  شکایت کی تو آپ نے فرمایا  گھٹنوں سے  (ان پر ٹیک لگا کر)  مدد لے لیا کرو   

 امام ترمذی کہتے ہیں

 یہ حدیث غریب ہے ہم سے ابوصالح کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے صرف اسی طریق سے  (یعنی لیث عن ابن عجلان کے طریق سے)  جانتے ہیں اور سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «سمی عن النعمان بن أبي عياش عن النبي صلی اللہ عليه وسلم»  (اسی طرح)  روایت کی ہے ان لوگوں کی روایت لیث کی روایت کے مقابلے میں شاید زیادہ صحیح ہے  


وضاحت

یعنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیا کرو تاکہ تکلیف کم ہو


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that the sahabah (RA) complained of inconvenience because of keeping limbs apart. He said, “Support yourself on your knees.”


باب کیف النھوض من السجود

حدیث 282

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَکَانَ إِذَا کَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّی يَسْتَوِيَ جَالِسًا قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَقُ وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا وَمَالِکٌ يُکْنَی أَبَا سُلَيْمَانَ


ترجمہ

 ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی (رض) سے روایت ہے کہ  انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  کو نماز پڑھتے دیکھا آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے

    امام ترمذی کہتے ہیں

مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی اسحاق بن راہویہ اور ہمارے بعض اصحاب بھی کہتے ہیں


 وضاحت

 اس بیٹھک کا نام جلسہ استراحت ہے  یہ حدیث جلسہ استراحت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے  جو لوگ جلسہ استراحت کی سنت کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کی مختلف تاویلیں کی ہیں  لیکن یہ ایسی تاویلات ہیں جو قطعاً لائق التفات نہیں  نیز قدموں کے سہارے بغیر بیٹھے اٹھنے کی حدیث ضعیف ہے جو آگے آرہی ہے


Translation

Sayyidina Malik ibn Huwayrith Laythi (RA) narrated that he saw the Prophet ﷺ praying. During the odd raka’ah, he would not stand up until he had sat down well


باب منه ایضا

حدیث 283

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ فِي الصَّلَاةِ عَلَی صُدُورِ قَدَمَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ يَنْهَضَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ عَلَی صُدُورِ قَدَمَيْهِ وَخَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ قَالَ وَيُقَالُ خَالِدُ بْنُ إِيَاسٍ أَيْضًا وَصَالِحٌ مَوْلَی التَّوْأَمَةِ هُوَ صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ وَأَبُو صَالِحٍ اسْمُهُ نَبْهَانُ وَهُوَ مَدَنِيٌّ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں یعنی دونوں پیروں کی انگلیوں پر زور دے کر اٹھتے تھے

  امام ترمذی کہتے ہیں

 اہل علم کے نزدیک ابوہریرہ (رض) ہی کی حدیث پر عمل ہے خالد بن الیاس محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے لوگ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر  (بغیر بیٹھے)  کھڑا ہو 


وضاحت

 جو لوگ جلسہ استراحت کے قائل نہیں ہیں اور دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر بغیر بیٹھے کھڑے ہوجانے کو پسند کرتے ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے  لیکن یہ حدیث ضعیف ہے استدلال  کے قابل نہیں


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said that the Prophet ﷺ 3ii stood up in salah putting weight on the toes


باب ما جاء فی التشھد

حدیث 284

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدْنَا فِي الرَّکْعَتَيْنِ أَنْ نَقُولَ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَأَبِي مُوسَی وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَهُوَ أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ 


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دو رکعتوں کے بعد بیٹھیں تو یہ دعا پڑھیں : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلی عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»  تمام قولی بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد  ﷺ  اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں   

امام ترمذی کہتے ہیں

 ابن مسعود (رض) کی حدیث ان سے کئی سندوں سے مروی ہے، اور یہ سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے جو تشہد میں نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہیں اس باب میں ابن عمر جابر ابوموسیٰ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں صحابہ کرام ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری ابن مبارک احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ہم سے احمد بن محمد بن موسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی اور وہ معمر سے اور وہ خصیف سے روایت کرتے ہیں خصیف کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم  ﷺ  کو خواب میں دیکھا تو میں نے عرض کیا  اللہ کے رسول ! لوگوں میں تشہد کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا  تم پر ابن مسعود کا تشہد لازم ہے


  وضاحت

 لیکن خصیف حافظہ کے کمزور اور مرجئی ہیں


Translation

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud narrated that Allah’s Messenger ﷺ taught them to recite when they sat down in the second raka’ah.  All prayers and worship and nice things are for Allah, Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and his blessings. Peace be on us and on the righteous slaves of Allah. I bear witness that there is no one worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhmamad is His slave and His Messenger


باب منه ایضا

حدیث 285

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ کَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ فَکَانَ يَقُولُ التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ سَلَامٌ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَرَوَی أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ الْمَکِّيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَذَهَبَ الشَّافِعِيُّ إِلَی حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي التَّشَهُّدِ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  ہمیں تشہد سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن سکھاتے تھے اور فرماتے  «التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته سلام علينا وعلی عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا رسول الله» امام ترمذی کہتے ہیں  ابن عباس (رض) کی حدیث حسن غریب صحیح ہے اور عبدالرحمٰن بن حمید رواسی نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے لیث بن سعد کی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور ایمن بن نابل مکی نے یہ حدیث ابو الزبیر سے جابر (رض) کی حدیث سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے امام شافعی تشہد کے سلسلے میں ابن عباس (رض) کی حدیث کی طرف گئے ہیں 


  وضاحت

دونوں طرح کا تشہد ثابت ہے  دونوں میں سے چاہے جو بھی پڑھے


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ taught them the tashahhud as he taught them the Qur’an. He would say:  All blessed adorations, all worship monetary o r physical, are for Allah. Peace be upon you, O Prophet ﷺ and His blessing. Peace be upon us and upon Allah’s righteous slaves. I bear witness that there is no God but Allah and I bear witness that Muhammad is Allah’s Messenger


باب ما جاء انه یخفی التشھد

حدیث 286

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مِنْ السُّنَّةِ أَنْ يُخْفِيَ التَّشَهُّدَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں سنت سے یہ ہے کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے  

امام ترمذی کہتے ہیں

 ابن مسعود کی حدیث حسن غریب ہے اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے


 وضاحت

 جب صحابی «من السنة كذا أو السنة كذا» کہے تو یہ جمہور کے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے


Translation

Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that it is sunnah to recite tashahhud softly (in inaudible voice)


باب کیف الجلوس فی التشھد

حدیث 287

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ حُجْرٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَی صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَلَسَ يَعْنِي لِلتَّشَهُّدِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَی وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَی يَعْنِي عَلَی فَخِذِهِ الْيُسْرَی وَنَصَبَ رِجْلَهُ الْيُمْنَی قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ وَابْنِ الْمُبَارَکِ


ترجمہ

 وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں   میں مدینے آیا تو میں نے  (اپنے جی میں)  کہا کہ میں رسول اللہ  ﷺ  کی نماز ضرور دیکھوں گا (چنانچہ میں نے دیکھا)  جب آپ  ﷺ  تشہد کے لیے بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنا دایاں پیر کھڑا رکھا

 امام ترمذی کہتے ہیں

 یہ حدیث حسن صحیح ہے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری اہل کوفہ اور ابن مبارک کا بھی قول ہے


Translation

Sayyidina Wail ibn Hujr (RA) said, When I came to Madinah, I said to myself that I would certainly observe the salah of Allah’s Messenger ﷺ When he sat down for tashahhud, he laid down his left foot and put his left hand on his left thigh and kept his right leg erect (on its toes)


باب منه ایضا

حدیث 288

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَکَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ يَعْنِي لِلتَّشَهُّدِ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَی وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَی عَلَی قِبْلَتِهِ وَوَضَعَ کَفَّهُ الْيُمْنَی عَلَی رُکْبَتِهِ الْيُمْنَی وَکَفَّهُ الْيُسْرَی عَلَی رُکْبَتِهِ الْيُسْرَی وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبِهِ يَقُولُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالُوا يَقْعُدُ فِي التَّشَهُّدِ الْآخِرِ عَلَی وَرِکِهِ وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ قَالُوا يَقْعُدُ فِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ عَلَی رِجْلِهِ الْيُسْرَی وَيَنْصِبُ الْيُمْنَی


ترجمہ

 عباس بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ  ابوحمید ابواسید سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ (رض) اکٹھے ہوئے تو ان لوگوں نے رسول اللہ  ﷺ  کی نماز کا ذکر کیا اس پر ابوحمید کہنے لگے کہ میں رسول اللہ  ﷺ  کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں رسول اللہ  ﷺ  تشہد کے لیے بیٹھتے تو آپ اپنا بایاں پیر بچھاتے   اور اپنے دائیں پیر کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرتے اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پر اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنی انگلی  (انگشت شہادت)  سے اشارہ کرتے  


 امام ترمذی کہتے ہیں

 یہ حدیث حسن صحیح ہے یہی بعض اہل علم کہتے ہیں اور یہی شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ اخیر تشہد میں اپنے سرین پر بیٹھے ان لوگوں نے ابوحمید کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے ان کا کہنا ہے کہ پہلے تشہد میں بائیں پیر پر بیٹھے اور دایاں پیر کھڑا رکھے 


 وضاحت

 افتراش والی یہ روایت مطلق ہے اس میں یہ وضاحت نہیں کہ یہ دونوں تشہد کے لیے ہے یا پہلے تشہد کے لیے  ابو حمید ساعدی کی دوسری روایت میں اس اطلاق کی تبیین موجود ہے  اس میں اس بات کو واضح کردیا گیا ہے کہ افتراش پہلے تشہد میں ہے اور تورک آخری تشہد میں ہے


Translation

Sayyidina Abbas ibn Sahl Sa’idi said that Abu Humayd, Abu Usayd, Sahl bin Sad and Muhammad ibn Maslamah (RA) assembled somewhere and discussed the prayer of Allah’s Messenger ﷺ Abu Humayd said that he knew of it more than anyone of them. When the Prophet ﷺ sat down for tashahhud, he stretched his left foot and turned the toes of the right foot to the qiblah. Then he put his right hand over his right knee and left over the left knee, and indicated with his index finger


باب ما جاء فی الاشارة

حدیث 289

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَيَحْيَی بْنُ مُوسَی وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی رُکْبَتِهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ الْيُمْنَی يَدْعُو بِهَا وَيَدُهُ الْيُسْرَی عَلَی رُکْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَنُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ يَخْتَارُونَ الْإِشَارَةَ فِي التَّشَهُّدِ وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِنَا


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے  (دائیں)  گھٹنے پر رکھتے اور اپنے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے یعنی اشارہ کرتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے  (بائیں)  گھٹنے پر پھیلائے رکھتے 


   امام ترمذی کہتے ہیں

 اس باب میں عبداللہ بن زبیر نمیر خزاعی ابوہریرہ ابوحمید اور وائل بن حجر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں ابن عمر کی حدیث حسن غریب ہے ہم اسے عبیداللہ بن عمر کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں صحابہ کرام اور تابعین میں سے اہل علم کا اسی پر عمل تھا یہ لوگ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کو پسند کرتے اور یہی ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے  


 وضاحت

 احادیث میں تشہد کی حالت میں داہنے ہاتھ کے ران پر رکھنے کی مختلف ہیئتوں کا ذکر ہے  انہیں ہیئتوں میں سے ایک ہیئت یہ بھی ہے اس میں انگلیوں کے بند رکھنے کا ذکر نہیں ہے  دوسری یہ ہے کہ خنصر بنصر اور وسطیٰ  ( یعنی سب سے چھوٹی انگلی چھنگلیا ، اور اس کے بعد والی اور درمیانی تینوں  )  کو بند رکھے اور شہادت کی انگلی  ( انگوٹھے سے ملی ہوئی  )  کو کھلی چھوڑ دے اور انگوٹھے کو شہادت کی انگلی کی جڑ سے ملا لے
 یہی ترپن کی گرہ ہے  تیسری ہیئت یہ ہے کہ خنصر  بنصر  ( سب سے چھوٹی یعنی چھنگلیا اور اس کے بعد والی انگلی  )  کو بند کرلے اور شہادت کی انگلی کو چھوڑ دے اور انگوٹھے اور بیچ والی انگلی سے حلقہ بنا لے  چوتھی صورت یہ ہے کہ ساری انگلیاں بند رکھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے  ان ساری صورتوں سے متعلق احادیث وارد ہیں 
 جس طرح چاہے کرے  سب جائز ہے  لیکن یہ واضح رہے کہ یہ ساری صورتیں شروع تشہد ہی سے ہیں نہ کہ «أشهد أن لا إله إلا الله» کہنے پر  یا یہ کلمہ کہنے سے لے کر بعد تک  کسی بھی حدیث میں یہ تحدید ثابت نہیں ہے  یہ بعد کے لوگوں کا گھڑا ہوا عمل ہے


Translation

Sayyidina lbn Umar reported that when the Prophet ﷺ L--- sat down in prayer, he placed his right hand over his knee and raised the finger next to his thumb and made supplication. His left hand was also over his knee and its fingers were apart


باب ما جاء فی التسلیم فی الصلاۃ

حدیث 290

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَالْبَرَائِ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَمَّارٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَعَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  اپنے دائیں اور بائیں «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر سلام پھیرتے تھے 

  امام ترمذی کہتے ہیں

  ابن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں سعد بن ابی وقاص ابن عمر جابر بن سمرہ براء ابوسعید عمار وائل بن حجر، عدی بن عمیرہ اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری ابن مبارک احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے


  وضاحت

 اس سے دونوں طرف دائیں اور بائیں سلام پھیرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے  ابوداؤد کی روایت میں «حتی يرى بياض خده» کا اضافہ ہے


Translation

Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ turned (his face) to the right and left in salutation saying (each time):  Peace be on you and the mercy of Allah


باب منه ایضا

حدیث 291

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی النَّيْسَابُورِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو حَفْصٍ التِّنِّيسِيُّ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَائَ وَجْهِهِ يَمِيلُ إِلَی الشِّقِّ الْأَيْمَنِ شَيْئًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَهْلُ الشَّأْمِ يَرْوُونَ عَنْهُ مَنَاکِيرَ وَرِوَايَةُ أَهْلِ الْعِرَاقِ عَنْهُ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ کَأَنَّ زُهَيْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الَّذِي کَانَ وَقَعَ عِنْدَهُمْ لَيْسَ هُوَ هَذَا الَّذِي يُرْوَی عَنْهُ بِالْعِرَاقِ کَأَنَّهُ رَجُلٌ آخَرُ قَلَبُوا اسْمَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ قَالَ بِهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي التَّسْلِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَأَصَحُّ الرِّوَايَاتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَانِ وَعَلَيْهِ أَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَرَأَی قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً فِي الْمَکْتُوبَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنْ شَائَ سَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً وَإِنْ شَائَ سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نماز میں اپنے چہرے کے سامنے داہنی طرف تھوڑا سا مائل ہو کر ایک سلام پھیرتے

امام ترمذی کہتے ہیں

 عائشہ (رض) کی حدیث ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں  زہیر بن محمد سے اہل شام منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں البتہ ان سے مروی اہل عراق کی روایتیں زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہیں محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کا کہنا ہے کہ شاید زہیر بن محمد جو اہل شام کے یہاں گئے تھے وہ نہیں جن سے عراق میں روایت کی جاتی ہے کوئی دوسرے آدمی ہیں جن کا نام ان لوگوں نے بدل دیا ہے اس باب میں سہل بن سعد (رض) سے بھی روایت ہے نماز میں سلام پھیرنے کے سلسلے میں بعض اہل علم نے یہی کہا ہے لیکن نبی اکرم  ﷺ  سے مروی سب سے صحیح روایت دو سلاموں والی ہے   صحابہ کرام تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں البتہ صحابہ کرام اور ان کے علاوہ میں سے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فرض نماز میں صرف ایک سلام ہے شافعی کہتے ہیں  چاہے تو صرف ایک سلام پھیرے اور چاہے تو دو سلام پھیرے 


وضاحت

 اور اسی پر امت کی اکثریت کا تعامل ہے


Translation

Sayyidah Aisha (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ would offer one salutation in prayer straight in front of his face, then incline a little to the right.


باب ما جاء ان حذف السلام سنة

حدیث 292

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ يَعْنِي أَنْ لَا يَمُدَّهُ مَدًّا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ التَّکْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جَزْمٌ وَهِقْلٌ يُقَالُ کَانَ کَاتِبَ الْأَوْزَاعِيِّ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں  «حذف سلام» سنت ہے علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں  «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے 

 امام ترمذی کہتے ہیں

 یہ حدیث حسن صحیح ہے یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے  (یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے)   


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said, “It is sunnah to shorten the salutation.” Ali ibn HIjr said that Ibn Mubarak would say, “Do not prolong it.”


باب ما یقول اذا سلم

حدیث 293

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَا يَقْعُدُ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ تَبَارَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ثَوْبَانَ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ 


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب سلام پھیرتے تو «اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت ذا الجلال والإکرام»  اے اللہ تو سلام ہے، تجھ سے سلامتی ہے بزرگی اور عزت والے ! تو بڑی برکت والا ہے  کہنے کے بقدر ہی بیٹھتے


Translation

Sayyidah Aisha (RA) narrated that after salutation (in salah), AIlahs Messenger sat only so much time as took to supplicate: O Allah! You are Peace and from You emanates peace. You are blessed Owner of Glory and Honour



حدیث 294

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ 


حدیث 295

وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ


ترجمہ

 اس سند سے بھی  عاصم الاحول سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں «تبارکت يا ذا الجلال والإکرام»  («یا» کے ساتھ)  ہے

  امام ترمذی کہتے ہیں

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، خالد الحذاء نے یہ حدیث بروایت عائشہ عبداللہ بن حارث سے عاصم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے نبی اکرم  ﷺ  سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ سلام پھیرنے کے بعد «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو علی كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منک الجد» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں وہی زندگی اور موت دیتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے آگے کسی نصیب والے کا کوئی نصیب کام نہیں آتا  کہتے تھے یہ بھی مروی ہے کہ آپ «سبحان ربک رب العزة عما يصفون وسلام علی المرسلين والحمد لله رب العالمين»  پاک ہے تیرا رب جو عزت والا ہے ہر اس برائی سے جو یہ بیان کرتے ہیں اور سلامتی ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے  بھی کہتے تھے   اس باب میں ثوبان ابن عمر ابن عباس ابوسعید ابوہریرہ اور مغیرہ بن شعبہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


 وضاحت

 نبی اکرم  ﷺ  سے سلام کے بعد مختلف حالات میں مختلف اذکار مروی ہیں اور سب صحیح ہیں  ان میں کوئی تعارض نہیں  آپ کبھی کوئی ذکر کرتے اور کبھی کوئی ذکر  اس طرح آپ سے سلام کے بعد قولاً بھی کئی اذکار کا ثبوت ہے


Translation

A similar veron from the same sanad is reported by sanad from a Marwan ibn Mu’awiyah and Abu Mu’wiyah who from Aasim Ahwal, saying:  (You are blessed O Owner of Glory and Honour) There is no God but Allah Alone. He has no partner. To Him belongs the Kingdom and for Him is all praise. He gives life and causes death. And, He is over alt things Capable. O Allah, no one can deny what you grant and no one can give what you deny. And the effort of one who makes effort cannot help him against You  He would also say:  Glorified be your Lord of Majesty above what they describe! And peace be upon the Messenger And all praise belongs to Allah, the Lord of the worlds.  These are verses of the Quran 37: 180.182


حدیث 296

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَائَ الرَّحَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو عَمَّارٍ اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ


ترجمہ

 ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب نماز سے  (مقتدیوں کی طرف)  پلٹنے کا ارادہ کرتے تو تین بار «استغفر الله»  میں اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں  کہتے پھر «اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت يا ذا الجلال والإکرام» کہتے

 امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے


Translation

Sayyidina Thawban (RA) the freed man of Allah’s Messenger ﷺ said that when Allah’s Messenger ﷺ finished prayer, he would make istighfar three times and say


باب ما جاء فی الانصراف عن یمینه وعن یساره

حدیث 297

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَنْصَرِفُ عَلَی جَانِبَيْهِ جَمِيعًا عَلَی يَمِينِهِ وَعَلَی شِمَالِهِ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ هُلْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يَنْصَرِفُ عَلَی أَيِّ جَانِبَيْهِ شَائَ إِنْ شَائَ عَنْ يَمِينِهِ وَإِنْ شَائَ عَنْ يَسَارِهِ وَقَدْ صَحَّ الْأَمْرَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 


حدیث 298

وَيُرْوَی عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ إِنْ کَانَتْ حَاجَتُهُ عَنْ يَمِينِهِ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ وَإِنْ کَانَتْ حَاجَتُهُ عَنْ يَسَارِهِ أَخَذَ عَنْ يَسَارِهِ


ترجمہ

 ہلب (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  ہماری امامت فرماتے  (تو سلام پھیرنے کے بعد)  اپنے دونوں طرف پلٹتے تھے  (کبھی)  دائیں اور  (کبھی)  بائیں


  امام ترمذی کہتے ہیں

 ہلب (رض) کی حدیث حسن ہے اس باب میں عبداللہ بن مسعود انس عبداللہ بن عمرو اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ امام اپنے جس جانب چاہے پلٹ کر بیٹھے چاہے تو دائیں طرف اور چاہے تو بائیں طرف نبی اکرم  ﷺ  سے دونوں ہی باتیں ثابت ہیں  

 اور علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں اگر آپ کی ضرورت دائیں طرف ہوتی تو دائیں طرف پلٹتے اور بائیں طرف ہوتی تو بائیں طرف پلٹتے 


  وضاحت

 عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت میں ہے «لقد رأيت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم کثيراً ينصرف عن يساره» اور انس (رض) کی روایت میں ہے «أكثر ما رأيت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم ينصرف عن يمينه» بظاہر ان دونوں روایتوں میں تعارض ہے  تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ دونوں نے اپنے اپنے علم اور مشاہدات کے مطابق یہ بات کہی ہے 


Translation

Qabisah ibn Huib reported from his father that he said, “The Messenger of Allah ﷺ would lead us in salah. Then turn to both sides, to his right and to his left


باب ما جاء وصف الصلاۃ 

حدیث 299

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا قَالَ رِفَاعَةُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ جَائَهُ رَجُلٌ کَالْبَدَوِيِّ فَصَلَّی فَأَخَفَّ صَلَاتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْکَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ فَصَلَّی ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ وَعَلَيْکَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَفَعَلَ ذَلِکَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا کُلُّ ذَلِکَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْکَ فَارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَخَافَ النَّاسُ وَکَبُرَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَکُونَ مَنْ أَخَفَّ صَلَاتَهُ لَمْ يُصَلِّ فَقَالَ الرَّجُلُ فِي آخِرِ ذَلِکَ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُصِيبُ وَأُخْطِئُ فَقَالَ أَجَلْ إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ کَمَا أَمَرَکَ اللَّهُ ثُمَّ تَشَهَّدْ وَأَقِمْ فَإِنْ کَانَ مَعَکَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدْ اللَّهَ وَکَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ ثُمَّ ارْکَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاکِعًا ثُمَّ اعْتَدِلْ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ فَاعْتَدِلْ سَاجِدًا ثُمَّ اجْلِسْ فَاطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ قُمْ فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُکَ وَإِنْ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِکَ قَالَ وَکَانَ هَذَا أَهْوَنَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْأَوَّلِ أَنَّهُ مَنْ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا انْتَقَصَ مِنْ صَلَاتِهِ وَلَمْ تَذْهَبْ کُلُّهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ رِفَاعَةَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ


ترجمہ

 رفاعہ بن رافع (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہم بھی آپ کے ساتھ تھے اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا جو بدوی لگ رہا تھا اس نے آ کر نماز پڑھی اور بہت جلدی جلدی پڑھی پھر پلٹ کر آیا اور نبی اکرم  ﷺ  کو سلام کیا تو نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  اور تم پر بھی سلام ہو واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی  تو اس شخص نے واپس جا کر پھر سے نماز پڑھی پھر واپس آیا اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے پھر فرمایا  اور تمہیں بھی سلام ہو واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی  اس طرح اس نے دو بار یا تین بار کیا ہر بار وہ نبی اکرم  ﷺ  کے پاس آ کر آپ کو سلام کرتا اور آپ فرماتے  تم پر بھی سلام ہو واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی  تو لوگ ڈرے اور ان پر یہ بات گراں گزری کہ جس نے ہلکی نماز پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی آخر اس آدمی نے عرض کیا آپ ہمیں  (پڑھ کر)  دکھا دیجئیے اور مجھے سکھا دیجئیے میں انسان ہی تو ہوں میں صحیح بھی کرتا ہوں اور مجھ سے غلطی بھی ہوجاتی ہے تو آپ نے فرمایا  جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو کرو جیسے اللہ نے تمہیں وضو کرنے کا حکم دیا ہے پھر اذان دو اور تکبیر کہو اور اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو ورنہ «الحمد لله» ، «الله أكبر» اور «لا إله إلا الله» کہو، پھر رکوع میں جاؤ اور خوب اطمینان سے رکوع کرو اس کے بعد بالکل سیدھے کھڑے ہوجاؤ پھر سجدہ کرو، اور خوب اعتدال سے سجدہ کرو پھر بیٹھو اور خوب اطمینان سے بیٹھو، پھر اٹھو جب تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری نماز پوری ہوگئی اور اگر تم نے اس میں کچھ کمی کی تو تم نے اتنی ہی اپنی نماز میں سے کمی کی  راوی  (رفاعہ)  کہتے ہیں  تو یہ بات انہیں پہلے سے آسان لگی کہ جس نے اس میں سے کچھ کمی کی تو اس نے اتنی ہی اپنی نماز سے کمی کی پوری نماز نہیں گئی

امام ترمذی کہتے ہیں

 رفاعہ بن رافع کی حدیث حسن ہے رفاعہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس باب میں ابوہریرہ اور عمار بن یاسر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation

Sayyidina Rifa’ah ibn Rafi narrated Once the Prophet ﷺ was seated in the mosquc and we were with him. A villager came and offered a brief salah and on finishing it he offered salaam to the Prophet ﷺ . He said, “Go and offer salah. You have not offered it.” He went back and repeated it and came back and greeted the Prophet ﷺ but he said, “Go and offer salah for you have not observed it.” This happened twice or thrice. Each time, he came offered salaam and the-Prophet ﷺ told him to go and offer salah, for he had not done it. The people were worried because of that, imagining that whoever offered a brief prayer had not actually prayed. So, this man said finally. “Teach me, for I am a human who may be right as well as mistaken.” The Prophet ﷺ said, “Okay! When you come for prayer, make ablution as Allah has commanded. Then call the adhan and the iqamah. Then if you remember something from the Qur’an, recite it otherwise praise Allah and extol him and recite "There is no God but Allah". Then go into ruku and bow down in a composed manner. Then stand up straight. Then go into sajdah in a careful way and then sit peacefully. Then stand up. If you do that then your salah is perfect but if there is a lapse then there will be a lapse in your salah


حدیث 300

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّی کَمَا کَانَ صَلَّی ثُمَّ جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ حَتَّی فَعَلَ ذَلِکَ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي فَقَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَکَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِکَ فِي صَلَاتِکَ کُلِّهَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَقَدْ رَوَی ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرِوَايَةُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَصَحُّ وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرَوَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ اسْمُهُ کَيْسَانُ وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ يُکْنَی أَبَا سَعْدٍ وَکَيْسَانُ عَبْدٌ کَانَ مُکَاتَبًا لِبَعْضِهِمْ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  مسجد میں داخل ہوئے اتنے میں ایک اور شخص بھی داخل ہوا اس نے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اکرم  ﷺ  کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا  تم واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی  چناچہ آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی پھر نبی اکرم  ﷺ  کے پاس آ کر آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا   واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی  یہاں تک اس نے تین بار ایسا کیا پھر اس آدمی نے عرض کیا  قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیجئیے آپ  ﷺ  نے فرمایا  تم جب نماز کا ارادہ کرو تو «اللہ اکبر» کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں خوب اطمینان ہوجائے پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اچھی طرح کھڑے ہوجاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ خوب اطمینان سے سجدہ کرلو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اسی طرح سے اپنی پوری نماز میں کرو   

 امام ترمذی کہتے ہیں

 یہ حدیث حسن صحیح ہے ابن نمیر نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن «عن أبیہ» نہیں ذکر کیا ہے یحییٰ القطان کی روایت میں «عبداللہ بن عمر عن سعید بن أبی المقبری عن أبیہ عن أبی ہریرہ» ہے، اور یہ زیادہ صحیح


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ enterred the mosque, another person also enterred it and he offered salah. Then, he came and greeted the Prophet ﷺ . He responded to his salam and said, ‘Go back and repeat your prayer, for, you have not offered it.’ He went back and repeated the salah in the same way as he had offered before. He then came to the Prophet ﷺ and greeted him with salaam. He gave the response and said to him, “Go. Offer the salah. You have not prayed.’ This happened three times. This man submitted, “By Him Who has sent you with the true religion, I cannot offer prayer better than this. Do teach me!” So, the Prophet ﷺ said, ‘When you stand for salah, call the takbir (which is takbir tahrimah). Then recite from the Qur’an whatever you remember. Then make the ruku peacefully. Get up and stand straight. Then make the sajdah in a peaceful manner. Get up and sit composedly. Do this throughout in your salah


حدیث 301

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ وَهُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ يَقُولُ أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا مَا کُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً وَلَا أَکْثَرَنَا لَهُ إِتْيَانًا قَالَ بَلَی قَالُوا فَاعْرِضْ فَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّی يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْکِبَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّی يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْکِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ وَرَکَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَی رُکْبَتَيْهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاعْتَدَلَ حَتَّی يَرْجِعَ کُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ أَهْوَی إِلَی الْأَرْضِ سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ ثُمَّ جَافَی عَضُدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَی رِجْلَهُ الْيُسْرَی وَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّی يَرْجِعَ کُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ أَهْوَی سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ ثُمَّ ثَنَی رِجْلَهُ وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّی يَرْجِعَ کُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ ثُمَّ نَهَضَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّکْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی إِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ کَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّی يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْکِبَيْهِ کَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ثُمَّ صَنَعَ کَذَلِکَ حَتَّی کَانَتْ الرَّکْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا صَلَاتُهُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَی وَقَعَدَ عَلَی شِقِّهِ مُتَوَرِّکًا ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَمَعْنَی قَوْلِهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ يَعْنِي قَامَ مِنْ الرَّکْعَتَيْنِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الْحُلْوَانِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا صَدَقْتَ هَکَذَا صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی زَادَ أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا صَدَقْتَ هَکَذَا صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


ترجمہ

 محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ  انہوں نے ابو حمید ساعدی (رض) کو کہتے ہیں سنا  (جب)  صحابہ کرام میں سے دس لوگوں کے ساتھ تھے ان میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے ابوحمید (رض) کہہ رہے تھے کہ میں تم میں رسول اللہ  ﷺ  کی نماز کا سب سے زیادہ جانکار ہوں تو لوگوں نے کہا کہ تمہیں نہ تو ہم سے پہلے صحبت رسول میسر ہوئی اور نہ ہی تم ہم سے زیادہ نبی اکرم  ﷺ  کے پاس آتے جاتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا  ہاں یہ ٹھیک ہے  (لیکن مجھے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے)  اس پر لوگوں نے کہا  (اگر تم زیادہ جانتے ہو)  تو پیش کرو تو انہوں نے کہا  رسول اللہ  ﷺ  جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہوجاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور رکوع کرتے اور بالکل سیدھے ہوجاتے نہ اپنا سر بالکل نیچے جھکاتے اور نہ اوپر ہی اٹھائے رکھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے  (یعنی رفع یدین کرتے)  اور سیدھے کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ جسم کی ہر ایک ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی پھر سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور اپنے بازوؤں کو اپنی دونوں بغل سے جدا رکھتے اور اپنے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہوجاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی اور آپ اٹھتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ دوسری رکعت سے جب  (تیسری رکعت کے لیے)  اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں کرتے جیسے اس وقت کیا تھا جب آپ نے نماز شروع کی تھی، پھر اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں نماز ختم ہو رہی ہو تو اپنا بایاں پیر مؤخر کرتے یعنی اسے داہنی طرف دائیں پیر کے نیچے سے نکال لیتے اور سرین پر بیٹھتے پھر سلام پھیرتے 

 امام ترمذی کہتے ہیں

 یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ان کے قول «رفع يديه إذا قام من السجدتين»  دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے  کا مطلب ہے کہ جب دو رکعتوں کے بعد  (تیسری رکعت کے لیے)  کھڑے ہوتے

 محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ  میں نے ابو حمید ساعدی (رض) کو دس صحابہ کرام کی موجودگی میں جن میں ابوقتادہ بن ربعی بھی تھے کہتے سنا پھر انہوں نے یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی  

امام ترمذی کہتے ہیں

  اس حدیث میں ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے عبدالحمید بن جعفر کے واسطے سے اس لفظ کا اضافہ کیا ہے کہ  (نبی اکرم ﷺ کی نماز والی اس صفت و کیفیت کو سننے والے)  صحابہ کرام (رض) اجمعین نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا نبی اکرم  ﷺ  اسی طرح نماز پڑھتے تھے


Translation

Muhammad ibn Amr ibn Atta reported having heard Sayyidina Abu Hurnayd Sa’idi (RA) say when he was among ten sahabah Sayyidina Abu Qatadah ibn Rab’i Thfi was one of them that he knew about the salah of Allah’s Messenger more than anyone of them. They said “Neither had you had the Prophet’s ﷺ company earlier than us nor had you more of it or frequently.” He said, “That is correct.” They said, “Go on, narrate.’ Abu Humayd ﷺ said, “When Allah’s Messenger ﷺ stood up for salah, he stood straight and raised both hands to his shoulders. When he was going into the bowing posture, he would raise both hands to his shoulders and went into ruku, saying, Allahu Akbar. He observed ruku with moderation, neither lowering his hand nor raising it high. He placed both hands on his knees. He would then say: "Allah listens to one who praises Him" and raise his hands and he stood up moderately till every bone was in its place. Then he would bow down towards the ground for sajdah, saying Allahu Akbar, Kepping arms apart from arm-pits. He would turn his toes gently towards the qiblah. Then he truned the left foot and sat on it with moderation till every bone found its place. Then he lowered his head for sajdah, saying Allahu Akhar. Then he would stand up. He did this in every raka’ah. When he got up from both prostrations, he called the takbir and raised both hands up to his shoulders as he had done in the beginning of salah. He would do that till it was the last raka’ah of his salah. He would stretch the left leg and sit down on his hips in tuwarruk form. Then be turned in salutation.”

Muhammad ibn Bashshar, Hasan ibn Halwani and many people report from Abu Aasim from Abdul Hamid ibn Ja’far from Muhammad ibn Amr ibn Attar that he heard Sayyidina Abu Humayd say in the presence of ten Companions (RA) , including Sayyidina Abu Qatadah ... (the Hadith). Then he recalled the Hadith like that of Yahya ibn Sa’eed. But, in this hadith Aasim reported from Abdul Hamid this much more: The sahahab (RA) then confirmed, “You spoke the truth. Allahs Messenger did offer salah in this manner


باب ما جاء فی القراءة فی الصبح

حدیث 302

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عَلَاقَةَ عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ وَأَبِي بَرْزَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ قُطْبَةَ بْنِ مَالِکٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ 


حدیث 303

وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الصُّبْحِ بِالْوَاقِعَةِ 


حدیث 304

وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مِنْ سِتِّينَ آيَةً إِلَی مِائَةٍ 


حدیث 305

وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَ إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ


حدیث 306

 وَرُوِي عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ کَتَبَ إِلَی أَبِي مُوسَی أَنْ اقْرَأْ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَعَلَی هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ


ترجمہ

 قطبہ بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا 

امام ترمذی کہتے ہیں

 قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں عمرو بن حریث جابر بن سمرہ عبداللہ بن سائب ابوبرزہ اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورة الواقعہ پڑھی یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس کورت» پڑھی اور عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو   اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے


  وضاحت

 اس سے مراد سورة ق ہے مفصل  قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورة ق ؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورة البروج پر ختم ہوتا ہے  


Translation

Ziyad ibn Ilaqah reported from his uncle Qutbah ibn Malik that he said, “I heard Allah’s Messenger recite in the first raka’ah of fajr (50:10)


باب ما جاء فی القراءة فی الظھر والعصر

حدیث 307

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالسَّمَائِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ وَشِبْهِهِمَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ خَبَّابٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي قَتَادَةَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَالْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ 


حدیث 308

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ تَنْزِيلِ السَّجْدَةِ 


حدیث 309

وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی مِنْ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً وَفِي الرَّکْعَةِ الثَّانِيَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً 


حدیث 310

وَرُوِي عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ کَتَبَ إِلَی أَبِي مُوسَی أَنْ اقْرَأْ فِي الظُّهْرِ بِأَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ وَرَأَی بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْقِرَائَةَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ کَنَحْوِ الْقِرَائَةِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ يَقْرَأُ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَرُوِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ تَعْدِلُ صَلَاةُ الْعَصْرِ بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فِي الْقِرَائَةِ و قَالَ إِبْرَاهِيمُ تُضَاعَفُ صَلَاةُ الظُّهْرِ عَلَی صَلَاةِ الْعَصْرِ فِي الْقِرَائَةِ أَرْبَعَ مِرَارٍ


ترجمہ

 جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  ظہر اور عصر میں «وسماء ذات البروج» ، «والسماء والطارق» اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے

  امام ترمذی کہتے ہیں  

 جابر بن سمرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے   اس باب میں خباب ابوسعید ابوقتادہ، زید بن ثابت اور براء بن عازب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

 نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے کہ آپ نے ظہر میں «الم تنزیل» یعنی سورة السجدہ کے بقدر قرأت کی یہ بھی مروی ہے کہ آپ  ﷺ  ظہر کی پہلی رکعت میں تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری رکعت میں پندرہ آیتوں کے بقدر قرأت کرتے تھے 

عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ (رض) کو لکھا کہ تم ظہر میں «وساط مفصل» پڑھا کرو  بعض اہل علم کی رائے ہے کہ عصر کی قرأت مغرب کی قرأت کی طرح ہوگی ان میں  (امام)  «قصار مفصل» پڑھے گا  اور ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ظہر کی قرأت عصر کی قرأت سے چار گنا ہوگی


  
وضاحت

 سورة البروج سے سورة لم یکن تک وساط مفصل ہے اور لم یکن سے اخیر تک قصار مفصل ہے


Translation

Sayyidina jabir ibn Samurah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ recited in the salah of zuhr and asr surah al-Buruj (85) at-Tariq (86) and the like of these


باب  فی القراءة فی المغرب

حدیث 311

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ فِي مَرَضِهِ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِالْمُرْسَلَاتِ قَالَتْ فَمَا صَلَّاهَا بَعْدُ حَتَّی لَقِيَ اللَّهَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ 


حدیث 312

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ کِلْتَيْهِمَا 


حدیث 313

وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ


حدیث 314

 وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ کَتَبَ إِلَی أَبِي مُوسَی أَنْ اقْرَأْ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ 


حدیث 315

وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ قَالَ وَعَلَی هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَذَکَرَ عَنْ مَالِکٍ أَنَّهُ کَرِهَ أَنْ يُقْرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِالسُّوَرِ الطِّوَالِ نَحْوَ الطُّورِ وَالْمُرْسَلَاتِ قَالَ الشَّافِعِيُّ لَا أَکْرَهُ ذَلِکَ بَلْ أَسْتَحِبُّ أَنْ يُقْرَأَ بِهَذِهِ السُّوَرِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے   ان کی ماں ام الفضل (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ  ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ آپ بیماری میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے، مغرب پڑھائی تو سورة  مرسلات  پڑھی پھر اس کے بعد آپ نے یہ سورت نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے   

 امام ترمذی کہتے ہیں

 ام الفضل کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں جبیر بن مطعم، ابن عمر ابوایوب اور زید بن ثابت (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورة الاعراف پڑھی اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں سورة الطور پڑھی عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ (رض) کو لکھا کہ تم مغرب میں «قصار مفصل» پڑھا کرو اور ابوبکر صدیق (رض) سے مروی ہے کہ وہ مغرب میں «قصار مفصل» پڑھتے تھے اہل علم کا عمل اسی پر ہے ابن مبارک احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے مغرب میں طور اور مرسلات جیسی لمبی سورتیں پڑھنے کو مکروہ جانا ہے۔ شافعی کہتے ہیں  لیکن میں مکروہ نہیں سمجھتا بلکہ مغرب میں ان سورتوں کے پڑھے جانے کو مستحب سمجھتا ہوں 


  وضاحت

صحیح بخاری میں ام المؤمنین عائشہ (رض) سے مروی ہے «إن آخر صلاة صلاّها النبي صلی اللہ عليه وسلم في مرض موته الظهر» بظاہر ان دونوں روایتوں میں تعارض ہے  تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جو نماز آپ نے مسجد میں پڑھی اس میں سب سے آخری نماز ظہر کی تھی  اور آپ نے جو نمازیں گھر میں پڑھیں ان میں آخری نماز مغرب تھی ، لیکن اس توجیہ پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ام الفضل کی روایت میں ہے «خرج إلينا رسول اللہ وهو عاصب رأسه»  رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے آپ سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے  جس سے لگتا ہے کہ یہ نماز بھی آپ نے مسجد میں پڑھی تھی  اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہاں نکلنے سے مراد مسجد میں جانا نہیں ہے بلکہ جس جگہ آپ سوئے ہوئے تھے وہاں سے اٹھ کر گھر والوں کے پاس آنا مراد ہے


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported from his mother, Sayyidah Umm Fadl (RA) She said, “During his illness, Allah’s Messenger came to us. He had a bandage round his head. In the salah of maghrib, he recited surah al-Mursalat. Then till his death, he did not recite this surah (in maghrib).”


باب ما جاء فی القراءة فی صلاته العشاء

حدیث 316

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَائِ الْآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنْ السُّوَرِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ 

حدیث 317

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْعِشَائِ الْآخِرَةِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ

حدیث 318

 وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَائِ بِسُوَرٍ مِنْ أَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ نَحْوِ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ وَأَشْبَاهِهَا وَرُوِيَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَرَئُوا بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا وَأَقَلَّ فَکَأَنَّ الْأَمْرَ عِنْدَهُمْ وَاسِعٌ فِي هَذَا وَأَحْسَنُ شَيْئٍ فِي ذَلِکَ مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ


ترجمہ

 بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے

    امام ترمذی کہتے ہیں  بریدہ (رض) کی حدیث حسن ہے اس باب میں براء بن عازب اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں 

نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورة «والتين والزيتون» پڑھی

 عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورة المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے  

 صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورة «والشمس وضحاها» اور سورة «والتين والزيتون» پڑھی


Translation

Sayyidina Abdullah ibn Buraidah (RA) reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ recited surah ash-Shams (91) and the like of it,in the salah of isha.”


حدیث 319

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِشَائِ الْآخِرَةِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے عشاء میں سورة «والتين والزيتون» پڑھی

 امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے


Translation

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) said that the Prophet ﷺ recited the surrah at-Tin (95) in the salah of Isha


باب ما جاء فی القراءة خلف الامام 

حدیث 320

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَائَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي أَرَاکُمْ تَقْرَئُونَ وَرَائَ إِمَامِکُمْ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِي وَاللَّهِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي قَتَادَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَرَوَی هَذَا الْحَدِيثَ الزُّهْرِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ قَالَ وَهَذَا أَصَحُّ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقِرَائَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَهُوَ قَوْلُ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ يَرَوْنَ الْقِرَائَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ


ترجمہ

 عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فجر پڑھی آپ پر قرأت دشوار ہوگئی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا   مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو ؟  ہم نے عرض کیا  جی ہاں اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں آپ نے فرمایا  تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورة فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے

   امام ترمذی کہتے ہیں

 عبادہ (رض) کی حدیث حسن ہے یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا  اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی یہ سب سے صحیح روایت ہے اس باب میں ابوہریرہ عائشہ انس ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں 
   

   وضاحت

 امام ترمذی کے اس قول میں اجمال ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ان میں سے کچھ لوگ سری اور جہری سبھی نمازوں میں قراءت کے قائل ہیں  اور ان میں سے کچھ لوگ قرأت کے وجوب کے قائل ہیں اور کچھ لوگ اس کو مستحب کہتے ہیں


Translation

Sayyidina Ubadahh ibn Samit (RA) reported that once while Allah’s Mesenge ﷺ led the fajr salah, the recitation of the Qur’an became difficult for him. When he finished, he said, “Perhaps you recite behind your imam.” They replied, “By Allah, yes, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “Do not do it. Recite only the umm ut-Qur’an (surah al-Fa’tihah), for, one who does not recite it has not offered salah.”


باب ما جاء فی ترک القراءة خلف الامام اذا جھر الامام بالقراءة

حدیث 321

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَائَةِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْکُمْ آنِفًا فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْتَهَی النَّاسُ عَنْ الْقِرَائَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَوَاتِ بِالْقِرَائَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَابْنُ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ عُمَارَةُ وَيُقَالُ عَمْرُو بْنُ أُکَيْمَةَ وَرَوَی بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ وَذَکَرُوا هَذَا الْحَرْفَ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَانْتَهَی النَّاسُ عَنْ الْقِرَائَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدْخُلُ عَلَی مَنْ رَأَی الْقِرَائَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ الَّذِي رَوَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ 


حدیث 322

وَرَوَی أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ صَلَّی صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ فَقَالَ لَهُ حَامِلُ الْحَدِيثِ إِنِّي أَکُونُ أَحْيَانًا وَرَائَ الْإِمَامِ قَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِکَ 


حدیث 323

وَرَوَی أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَائَةِ فَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَاخْتَارَ أَکْثَرُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَقْرَأَ الرَّجُلُ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ بِالْقِرَائَةِ وَقَالُوا يَتَتَبَّعُ سَکَتَاتِ الْإِمَامِ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقِرَائَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَرَأَی أَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ الْقِرَائَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَنَّهُ قَالَ أَنَا أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالنَّاسُ يَقْرَئُونَ إِلَّا قَوْمًا مِنْ الْکُوفِيِّينَ وَأَرَی أَنَّ مَنْ لَمْ يَقْرَأْ صَلَاتُهُ جَائِزَةٌ وَشَدَّدَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَرْکِ قِرَائَةِ فَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَإِنْ کَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالُوا لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ إِلَّا بِقِرَائَةِ فَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَحْدَهُ کَانَ أَوْ خَلْفَ الْإِمَامِ وَذَهَبُوا إِلَی مَا رَوَی عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَتَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَائَةِ فَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَإِسْحَقُ وَغَيْرُهُمَا وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَقَالَ مَعْنَی قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ إِذَا کَانَ وَحْدَهُ وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَيْثُ قَالَ مَنْ صَلَّی رَکْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَکُونَ وَرَائَ الْإِمَامِ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَهَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ أَنَّ هَذَا إِذَا کَانَ وَحْدَهُ وَاخْتَارَ أَحْمَدُ مَعَ هَذَا الْقِرَائَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَأَنْ لَا يَتْرُکَ الرَّجُلُ فَاتِحَةَ الْکِتَابِ وَإِنْ کَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا  کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے ؟  ایک شخص نے عرض کیا  جی ہاں اللہ کے رسول !  (میں نے کی ہے)  آپ نے فرمایا  تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے  وہ  (زہری)  کہتے ہیں : تو جب لوگوں نے رسول اللہ  ﷺ  سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ  ﷺ  کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے

  امام ترمذی کہتے ہیں

   یہ حدیث حسن ہے ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلک من رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم»  زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ  ﷺ  سے سنا   اس باب میں ابن مسعود عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے اس لیے کہ

 ابوہریرہ (رض) ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم  ﷺ  سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا  جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے ناتمام ہے  تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں  (تو کیا کروں ؟ )  تو انہوں نے کہا  تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر 

ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم  ﷺ  نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے  یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے  امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں مالک بن انس عبداللہ بن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کو فیوں میں سے چند لوگوں کے اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورة فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورة فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے اور خود عبادہ بن صامت (رض) نے بھی نبی اکرم  ﷺ  کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے ان کا عمل نبی اکرم  ﷺ  کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم  ﷺ  کے فرمان  سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی  کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوگی انہوں نے جابر بن عبداللہ (رض) کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ  جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو  احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم  ﷺ  کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  کے فرمان  سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی  کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورة فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورة فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو


 وضاحت

 یہ جابر (رض) کا اپنا خیال ہے  اعتبار مرفوع روایت کا ہے نہ کہ کسی صحابی کی ایسی رائے کا جس کے مقابلے میں دوسرے صحابہ کی آراء موجود ہیں وہ آراء حدیث کے ظاہر معنی کے مطابق بھی ہیں


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when once Allah’s Messenger ﷺ finished an audible salah, he asked, “Did anyone of you recite with me? A man said that he did. He said, “I was wondering why there was difficulty in reciting the Qur’an.” The narrator added: The people thenceforth refrained from reciting the Qur’an with Allah’s Messenger when he made ajahry (audible) recital


حدیث 324

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَنْ صَلَّی رَکْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَکُونَ وَرَائَ الْإِمَامِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ  جس نے کوئی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو اس نے نماز ہی نہیں پڑھی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو 
 
       امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے
واضح رہے یہ جابر (رض) کا قول ہے اور اس کو اصطلاح میں موقوف کہتے ہیں


 وضاحت
اس اثر کا پہلی والی صحیح احادیث کے ساتھ کوئی معارضہ نہیں  امام بیہقی نے  کتاب القراءۃ  میں جابر بن عبداللہ (رض) کا یہ اثر نقل کرنے کے بعد لکھا ہے اس اثر میں نماز میں سورة الفاتحۃ کی تعیین قرأت کے لیے دلیل بھی ہے اور یہ کہ ان حضرات کے خلاف جو الفاتحۃ کی نہ تعیین کے قائل ہیں اور نہ ہی وہ آخری دو رکعات میں اس سورة کی قرأت کے وجوب کے قائل ہیں نماز کی تمام رکعتوں کی ہر رکعت میں سورة الفاتحۃ کی قرأت کے واجب ہونے کی بھی دلیل ہے  اور جہاں تک جابر بن عبداللہ (رض) کی  «إلا وَرَائَ الإمَامِ» والی بات کا تعلق ہے تو 
احتمال ہے کہ یہ آپ (رض) کا امام کے پیچھے اس نماز میں سورة الفاتحۃ کے ترک کردینے کے جواز کا مسلک ہو کہ جس میں امام سورة الفاتحۃ جہراً پڑھتا ہے
 یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ رکعت ہو کہ کہ جس میں مقتدی امام کو رکوع کی حالت میں پائے اور اس کے ساتھ مل جائے تو اس کی یہ رکعت ہوجائے گی اس تاویل کو اسحاق بن ابراہیم الحنظلی جیسے علماء نے اختیار کیا ہے
 ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں یزید الفقیر کی روایت سے ایک اثر درج کیا ہے کہ جابر بن عبداللہ (رض) چار رکعات والی نماز پہلی دو رکعات میں سورة الفاتحۃ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت جب کہ آخری دو رکعت میں صرف سورة الفاتحۃ پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کہ ہم یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحۃ کے ساتھ قرأت سے کچھ اور پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی  تو جابر (رض) کے عمل سے لوگوں کے لیے وضاحت ہوگئی اور یہ کہ یہ لفظ عام ہے  اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے بھی مقتدی کے بھی اور امام کے لیے بھی
 عبیداللہ بن مقسم کی روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے تھے  نماز میں قرأت کا سنت عمل یہ ہے کہ نمازی پہلی رکعت میں سورة الفاتحۃ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت بھی پڑھے جب کہ آخری دو رکعتوں میں صرف سورة الفاتحۃ پڑھ لے اور اصول یہ ہے کہ صحابی جب سنت کا کلمہ استعمال کرے اور کہے «كنا نتَحدث» تو محدثین کرام اسے مرفوع احادیث میں شمار کرتے ہیں


Translation
Ishaq ibn Musa Ansari reported from Ma’n who from Abu Nu’aym Wahb ibn Kaysan and he from Sayyidina Jabir ibn Abdullah. that he said, “If anyone missed surah al-Fatihah even in oniy one rukaah then it is as though he has not prayed the salah, but one who prays behind an imam is excused from that


باب ما یقول عند دخوله المسجد

حدیث 325

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْکُبْرَی قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّی عَلَی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَإِذَا خَرَجَ صَلَّی عَلَی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِکَ و قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَکَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي بِهِ قَالَ کَانَ إِذَا دَخَلَ قَالَ رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِکَ وَإِذَا خَرَجَ قَالَ رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِکَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِکْ فَاطِمَةَ الْکُبْرَی إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهُرًا


ترجمہ
 فاطمہ بنت حسین اپنی دادی فاطمہ کبریٰ (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد  ﷺ پر درود و سلام بھیجتے اور یہ دعا پڑھتے  «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتک»  اے میرے رب میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے  اور جب نکلتے تو محمد  ﷺ   پر صلاۃ  درودو سلام بھیجتے اور یہ کہتے  «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلک»  اے میرے رب  میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے
فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبری کو نہیں پایا ہے لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے  شیخ البانی کہتے ہیں مغفرت کے جملے کو چھوڑ کر بقیہ حدیث صحیح ہے
 اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ  میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ  ﷺ  داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتک»  اے میرے رب اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے

           امام ترمذی کہتے ہیں
 فاطمہ (رض) کی حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے
 فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے وہ تو نبی اکرم  ﷺ  کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں
 اس باب میں ابوحمید ابواسید اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation
Abdullah ibn Hasan reported from his mother Fatimah bint Husayn who reported on the authority of her grandmother Sayyidah Fatimah Kubra that when Allah’s Messenger entered a mosque, he invoked blessings on himself and made this supplication: (O my Lord! Forgive me my sins, and poen for me the doors to your mercy). And, when he came out of the mosque, he again invohed blessings on himself and made this prayer:   (O my Lord! Forgive me my sins, and open for me the doors to your abundance).Ali ibn Hujr said that Isma’il ibn Ibrahim told him that he then met Abdullah ibn Hasan at Makkah and asked him about this hadith. He said that when the Prophet ﷺ entered the mosque, he would say:   (O my Lord! Open for me the doors to Your mercy). And when he come out, he would say  (O Lord! Open for me the doors to your abundance


باب ما جاء اذا دخل احدکم المسجد فلیرکع رکعتین

حدیث 326

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْکَعْ رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي ذَرٍّ وَکَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَرَوَی سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبُّوا إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ أَنْ لَا يَجْلِسَ حَتَّی يُصَلِّيَ رَکْعَتَيْنِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ لَهُ عُذْرٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَحَدِيثُ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ خَطَأٌ أَخْبَرَنِي بِذَلِکَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ


ترجمہ
 ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا  جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے  
           امام ترمذی کہتے ہیں  ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے
 سہیل بن ابی صالح  نے یہ حدیث بطریق «عامر بن عبد اللہ بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے
یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو
 علی بن مدینی کہتے ہیں  سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے


 وضاحت
 اسے تحیۃ المسجد کہتے ہیں جمہور کے نزدیک یہ مستحب ہے اور شوافع کے نزدیک واجب صحیح بات یہ ہے کہ اس کی بہت تاکید ہے لیکن فرض نہیں ہے
 سہیل بن ابی صالح کی روایت میں «عن أبی قتادۃ» کے بجائے «عن جابر بن عبداللہ» ہے اور یہ غلط ہے کیونکہ عامر بن عبداللہ کے دیگر تلامذہ نے سہیل کی مخالفت کی ہے


باب ما جاء ان الارض کلھا مسجد الا المقبرة والحمامة

حدیث 327

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَرْضُ کُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحُذَيْفَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي ذَرٍّ قَالُوا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ رِوَايَتَيْنِ مِنْهُمْ مَنْ ذَکَرَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَذْکُرْهُ وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ رَوَی سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَکَانَ عَامَّةُ رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَأَنَّ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثْبَتُ وَأَصَحُّ مُرْسَلًا


ترجمہ
 ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   سوائے قبرستان اور حمام  (غسل خانہ)  کے ساری زمین مسجد ہے 
             امام ترمذی کہتے ہیں
 اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر رض سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے
 ابوسعید (رض) کی حدیث عبدالعزیز بن محمد سے دو طریق سے مروی ہے بعض لوگوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے اس حدیث میں اضطراب ہے سفیان ثوری نے بطریق  «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے اور حماد بن سلمہ نے یہ حدیث بطریق «عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرفوعاً روایت کی ہے اور محمد بن اسحاق نے بھی یہ حدیث بطریق :«عمرو بن يحيى عن أبيه» اور ان کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی اکثر احادیث آئی نبی اکرم  ﷺ  سے ابوسعید ہی کے واسطہ سے مروی ہیں، لیکن اس میں انہوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے گویا ثوری کی روایت «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے


 وضاحت
 یعنی جہاں چاہو نماز پڑھو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنی درست نہیں  حمام میں اس لیے کہ یہاں نجاست ناپاکی کا شک رہتا ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب شرک سے بچنے کے لیے سد باب کے طور پر ہے بعض احادیث میں کچھ دیگر مقامات پر نماز ادا کرنے سے متعلق بھی ممانعت آئی ہے ، ان کی تفصیل آگے آرہی ہے


Translation
Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Except for graves and baths all earth is a mosque


باب ما جاء فی فضل بنیان المسجد 

حدیث 328

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَی لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَی اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي ذَرٍّ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے نبی اکرم   ﷺ  کو فرماتے سنا   جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی تو اللہ اس کے لیے اسی جیسا گھر بنائے گا 
             امام ترمذی کہتے ہیں  عثمان (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں ابوبکر، عمر، علی، عبداللہ بن عمرو، انس، ابن عباس، عائشہ، ام حبیبہ، ابوذر، عمرو بن عبسہ، واثلہ بن اسقع، ابوہریرہ اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


 وضاحت
یہ مثلیت کمیت کے اعتبار سے ہوگی  کیفیت کے اعتبار سے یہ گھر اس سے بہت بڑھا ہوا ہوگا


Translation
Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) narrated that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “If anyone builds a mosque for Allah then Allah will build for him the like of it in Paradise


حدیث 329

 وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ بَنَی لِلَّهِ مَسْجِدًا صَغِيرًا کَانَ أَوْ کَبِيرًا بَنَی اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ

حَدَّثَنَا بِذَلِکَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی قَيْسٍ عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَاوَمَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ قَدْ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا غُلَامَانِ صَغِيرَانِ مَدَنِيَّانِ


ترجمہ
 انس (رض) سے روایت کی گئی ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا   جس نے اللہ کے لیے کوئی مسجد بنائی چھوٹی ہو یا بڑی اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا
 

Translation
It is also reported that he said, ‘If anyone builds for Allah, a mosque small or large then Allah makes a house for him in Paradise.” This hadith is reported from Qutaybahi Sa’eed from Nuh ibn Qays, from Abdur Rahman freedman of Qays who reported from Ziyad Numayri who from Sayyidina Anas , who on the authority of the Prophet ﷺ Mahmud ibn Lubayd had met the Prophet ﷺ while Mahmud ibn Rabi had seen the Prophet ﷺ . They were two young children of Madinah


باب ما جاء فی کراھیة ان یتخذ علی القبر مسجدا 

حدیث 330

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ

ترجمہ
 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مساجد بنانے والے اور چراغ جلانے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے
           امام ترمذی کہتے ہیں ابن عباس (رض) کی حدیث حسن ہے
اس باب میں ابوہریرہ اورعائشہ (رض) سے احادیث آئی ہیں
 مسجد میں صرف چراغ جلانے والی بات ضعیف ہے بقیہ دو باتوں کے صحیح شواہد موجود ہیں


Translation
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger cursed women who visited graves, people who build mosques on graves and lit lamps there


باب ما جاء فی النوم فی المسجد 

حدیث 331

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُنَّا نَنَامُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ شَبَابٌ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَتَّخِذُهُ مَبِيتًا وَلَا مَقِيلًا وَقَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَهَبُوا إِلَی قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ


ترجمہ
 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  ہم رسول اللہ  ﷺ  کے زمانے میں مسجد میں سوتے تھے اور ہم نوجوان تھے
                امام ترمذی کہتے ہیں
 ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اہل علم میں کی ایک جماعت نے مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے ابن عباس کہتے ہیں کوئی اسے سونے اور قیلولے کی جگہ نہ بنائے  اور بعض اہل علم ابن عباس کے قول کی طرف گئے ہیں


 

وضاحت
 صحابہ کرام اور سلف صالحین مسجد میں سویا کرتے تھے  اس لیے جواز میں کوئی شبہ نہیں ابن عباس (رض) کا یہ کہنا ٹھیک ہی ہے کہ جس کا گھر اسی محلے میں ہو وہ مسجد میں رات نہ گزارے اسی کے قائل امام مالک بھی ہیں


Translation
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that in the times of Allah’s Messenger they used to sleep in the mosque while they were young men.


باب ما جاء فی کراھیة البیع والشراء وانشاد الضالة والشعر فی المسجد

حدیث 332

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَنْ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَائِ فِيهِ وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ بُرَيْدَةَ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ رَأَيْتُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَذَکَرَ غَيْرَهُمَا يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ سَمِعَ شُعَيْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی وَمَنْ تَکَلَّمَ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِنَّمَا ضَعَّفَهُ لِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ جَدِّهِ کَأَنَّهُمْ رَأَوْا أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ مِنْ جَدِّهِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَذُکِرَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عِنْدَنَا وَاهٍ وَقَدْ کَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبَيْعَ وَالشِّرَائَ فِي الْمَسْجِدِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ رُخْصَةٌ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَائِ فِي الْمَسْجِدِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ رُخْصَةٌ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ فِي الْمَسْجِدِ


ترجمہ
 عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے مسجد میں اشعار پڑھنے، خرید و فروخت کرنے اور جمعہ کے دن نماز  (جمعہ)  سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے
                امام ترمذی کہتے ہیں عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کی حدیث حسن ہے
 عمرو کے باپ شعیب محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں 
 محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ میں نے احمد اور اسحاق بن راہویہ کو اور ان دونوں کے علاوہ انہوں نے کچھ اور لوگوں کا ذکر کیا ہے  دیکھا کہ یہ لوگ عمرو بن شعیب کی حدیث سے استدلال کرتے تھے، محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ شعیب بن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے سنا ہے
 جن لوگوں نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کرنے والوں نے انہیں صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ وہ اپنے دادا  عبداللہ بن عمرو (رض)  کے صحیفے  صحیفہ الصادقہ  سے روایت کرتے ہیں گویا ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ احادیث انہوں نے اپنے دادا سے نہیں سنی ہیں 
 علی بن عبداللہ  (ابن المدینی)  کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید  (قطان)  سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا عمرو بن شعیب کی حدیث ہمارے نزدیک ضعیف ہے
 اس باب میں بریدہ، جابر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مسجد میں خرید و فروخت کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں 
 اور تابعین میں سے بعض اہل علم سے مسجد میں خرید و فروخت کرنے کی رخصت مروی ہے
نیز نبی اکرم  ﷺ  سے حدیثوں میں مسجد میں شعر پڑھنے کی رخصت مروی ہے


 وضاحت
 اس طرح شعیب کے والد محمد بن عبداللہ ہوئے جو عمرو کے دادا ہیں  اور شعیب کے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ہوئے
 صحیح قول یہ ہے کہ شعیب بن محمد کا سماع اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ثابت ہے  اور «عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ» کے طریق سے جو احادیث آئی ہیں وہ صحیح اور مطلقاً حجت ہیں  بشرطیکہ ان تک جو سند پہنچتی ہو وہ صحیح ہو
یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے اور جن لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے ان کا قول کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں بلکہ صحیح احادیث اس کی تردید کرتی ہیں
 مسجد میں شعر پڑھنے کی رخصت سے متعلق بہت سی احادیث وارد ہیں  ان دونوں قسم کی روایتوں میں دو طرح سے تطبیق دی جاتی ہے ایک تو یہ کہ ممانعت والی روایت کو نہی تنزیہی پر یعنی مسجد میں نہ پڑھنا بہتر ہے  اور رخصت والی روایتوں کو بیان جواز پر محمول کیا جائے  دوسرے یہ کہ مسجد میں فحش اور مخرب اخلاق اشعار پڑھنا ممنوع ہے  رہے ایسے اشعار جو توحید  اتباع سنت اور اصلاح معاشرہ وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ حسان بن ثابت (رض) سے خود رسول اللہ  ﷺ  پڑھوایا کرتے تھے


Translation
Amr ibn Shu’ayb reported from his father and he from his grandfather that Allah’s Messenger disallowed recital of poetry in mosque, buying and selling therein, and people sitting in circles there before Friday prayers


باب ما جاء فی المسجد الذی اسس علی التقوی

حدیث 333

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ امْتَرَی رَجُلٌ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی فَقَالَ الْخُدْرِيُّ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ قُبَائٍ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ فَقَالَ هُوَ هَذَا يَعْنِي مَسْجِدَهُ وَفِي ذَلِکَ خَيْرٌ کَثِيرٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَی الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَمْ يَکُنْ بِهِ بَأْسٌ وَأَخُوهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَی أَثْبَتُ مِنْهُ


ترجمہ
 ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ  بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہوگئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی  تو خدری نے کہا  وہ رسول اللہ  ﷺ  کی مسجد یعنی مسجد نبوی ہے دوسرے نے کہا  وہ مسجد قباء ہے چناچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ  ﷺ  کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا وہ یہ مسجد ہے، یعنی مسجد نبوی اور اس میں  یعنی مسجد قباء میں بھی بہت خیر و برکت ہے  
          امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے
 علی بن عبداللہ بن المدینی نے یحییٰ بن سعید القطان سے سند میں موجود راوی  محمد بن ابی یحییٰ اسلمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ان میں کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے اور ان کے بھائی انیس بن ابی یحییٰ ان سے زیادہ ثقہ ہیں


وضاحت
 یعنی سورة التوبہ میں ارشاد الٰہی «لمسجد أسس علی التقوی من أول يوم» سے کون سی مسجد مراد ہے ؟   یہ حدیث صرف اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ «لمسجد أسس علی التقوی» سے مراد مسجد نبوی ہی ہے  بلکہ آپ  ﷺ  کا مقصد یہ تھا کہ اس مسجد نبوی کی بھی تقویٰ پر ہی بنیاد ہے  یہ مطلب لوگوں نے اس لیے لیا ہے کہ قرآن میں سیاق و سباق سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ ارشاد ربانی مسجد قباء کے بارے میں ہے


Translation
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri reported that two men of Banu Khudrah and Banu Amr ibn Awf had an altercation on which mosque was built on taqwa. The man from Bana Khudrah said that the Prophet’s mosque was built on taqwa, but the other said that it was the mosque at Quba. Buth brought their alteraction to Allah’s Messenger ﷺ . He said, “It is this!” meaning, his own mosque, “and there is much good in it


باب ما جاء فی الصلاۃ فی مسجد قبا

حدیث 334

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ وَسُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْرَدِ مَوْلَی بَنِي خَطْمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدِ قُبَائٍ کَعُمْرَةٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أُسَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَلَا نَعْرِفُ لِأُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ شَيْئًا يَصِحُّ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَأَبُو الْأَبْرَدِ اسْمُهُ زِيَادٌ مَدِينِيٌّ


ترجمہ
 اسید بن ظہیر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے  
              امام ترمذی کہتے ہیں  اسید کی حدیث حسن غریب ہے
 اس باب میں سہل بن حنیف (رض) سے بھی روایت ہے
ہم اسید بن ظہیر کی کوئی ایسی چیز نہیں جانتے جو صحیح ہو سوائے اس حدیث کے


 وضاحت
 یعنی مسجد قباء میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے


Translation
Sayyidina Abu Abrad the freedman of Banu Khatmah reported having heard from Sayyidina Usayd ibn Zahir Ansari (RA) who was a sahabi, that the Propeht ﷺ said, “A salah in the jxtosque Quba is like an umrah


باب ما جاء فی ای المساجد افضل

حدیث 335

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَلَمْ يَذْکُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّمَا ذَکَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَبِي ذَرٍّ


ترجمہ
 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  میری اس مسجد کی ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ بہتر ہے سوائے مسجد الحرام کے
            امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے کئی سندوں سے مروی ہے
 اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A salah in this, my mosque is better than a thousand in any other except the Masjid Haram


حدیث 336

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَی ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الْأَقْصَی قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  تین مساجد کے سوا کسی اور جگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے
مسجد الحرام کے لیے
میری اس مسجد  (مسجد نبوی)  کے لیے  مسجد الاقصیٰ کے لیے 
          امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے


 وضاحت
  یعنی ثواب کی نیت سے سفر نہ کیا جائے مگر صرف انہی تین مساجد کی طرف اس سے کوئی بھی چوتھی مسجد اور تمام مساجد و مقابر خارج ہوگئے حتیٰ کہ قبر نبوی کی زیارت کی نیت سے بھی سفر جائز نہیں  ہاں مسجد نبوی کی نیت سے مدینہ جانے پر قبر نبوی کی مشروع زیارت جائز ہے


Translation
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Journeys may not be made (for visit) to any mosque but three: Masjid Haram (Bayt Allah), my mosque (Masjid Nabawi) and Masjid Aqsa


باب ما جاء فی المشی الی المسجد 

حدیث 337

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَلَکِنْ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْکُمْ السَّکِينَةَ فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَشْيِ إِلَی الْمَسْجِدِ فَمِنْهُمْ مَنْ رَأَی الْإِسْرَاعَ إِذَا خَافَ فَوْتَ التَّکْبِيرَةِ الْأُولَی حَتَّی ذُکِرَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ کَانَ يُهَرْوِلُ إِلَی الصَّلَاةِ وَمِنْهُمْ مَنْ کَرِهَ الْإِسْرَاعَ وَاخْتَارَ أَنْ يَمْشِيَ عَلَی تُؤَدَةٍ وَوَقَارٍ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَالَا الْعَمَلُ عَلَی حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ و قَالَ إِسْحَقُ إِنْ خَافَ فَوْتَ التَّکْبِيرَةِ الْأُولَی فَلَا بَأْسَ أَنْ يُسْرِعَ فِي الْمَشْيِ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ هَکَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ


ترجمہ
 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   جب نماز کی تکبیر  اقامت کہہ دی جائے تو  نماز میں سے اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کرو
             امام ترمذی کہتے ہیں
 اس باب میں ابوقتادہ  ابی بن کعب ابوسعید، زید بن ثابت جابر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ (رض) کی حدیث پر ہے۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں

 اس سند سے بھی  ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم  ﷺ  سے اسی مفہوم کے ساتھ مروی ہے جیسے ابوسلمہ کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اسی طرح کہا ہے عبدالرزاق نے وہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب سے اور سعید بن مسیب نے بواسطہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے اور یہ یزید بن زریع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے

 اس سند سے بھی  نبی اکرم  ﷺ  سے اسی طرح مروی ہے


وضاحت

 یعنی عبدالرزاق کا اپنی روایت میں «عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ» کہنا یزید بن زریع کی روایت میں «عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ» کہنے سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ سفیان نے عبدالرزاق کی متابعت کی ہے ان کی روایت میں بھی «عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ» ہی ہے  جیسا کہ اگلی روایت میں ہے


Translation
A hadith of same meaning is reported by Hasan ibn Ali Khilal from Abdur Razzaq from Mu’mar from Zuhri from Sa’eed ibn Musayyab from Sayyidina Abu Hurayrah (RA) who reported from the Prophet ﷺ It is the hadith of Abu Salamah

Sayyidina Abu Hurayrah(RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “When a prayer has begun (in the mosque), do not come running to it. But, come peacefully. Pray what you get (with the congregation) and what you have missed, complete it

Ibn Abu Umar also reported from Sufyan from Zuhri from Sa’eed ibn Musayvab from Abu Hurayrah (RA) who from the Prophet ﷺ a similar Hadith


باب ما جاء فی القعود فی المسجد وانتظار الصلاۃ من الفضل

حدیث 338

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُهَا وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِکَةُ تُصَلِّي عَلَی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَمَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فُسَائٌ أَوْ ضُرَاطٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کے لیے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے کہتے ہیں «اللهم اغفر له» ‏‏‏‏  اللہ  اسے بخش دے  «اللهم ارحمه»  اے اللہ اس پر رحم فرما  جب تک وہ «حدث» نہیں کرتا ، تو حضر موت کے ایک شخص نے پوچھا «حدث» کیا ہے ابوہریرہ ؟ تو ابوہریرہ (رض) نے کہا آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج کرنا 
             امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں علی، ابوسعید، انس، عبداللہ بن مسعود اور سہل بن سعد (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


وضاحت
 اس حدیث سے مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کرنے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد میں «حدث» کرنا فرشتوں کے استغفار سے محرومی کا باعث ہے


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “None of you ceases to be in prayer as long he waits for it. And the angels cease not to pray for him as long as he is in the mosque (O Allah, forgive him, O Allah, have mercy on him), and this till he has hadath and breaks his ablution).” Then a man of Hadramawt asked, “O Abu Hurayrah, what is hadath?” He said, “It is to break wind whether there is an accompanying sound or not


باب ما جاء فی الصلاۃ علی الخمرة

حدیث 339

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَی الْخُمْرَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَأُمِّ سُلَيْمٍ وَعَائِشَةَ وَمَيْمُونَةَ وَأُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ وَلَمْ تَسْمَعْ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبِهِ يَقُولُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَدْ ثَبَتَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ عَلَی الْخُمْرَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَالْخُمْرَةُ هُوَ حَصِيرٌ صَغِیْرٌ


ترجمہ
 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  «خمرہ»  چھوٹی چٹائی  پر نماز پڑھتے تھے
           امام ترمذی کہتے ہیں  ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں ام حبیبہ، ابن عمر، ام سلیم، عائشہ، میمونہ، ام کلثوم بنت ابی سلمہ بن عبدالاسد ام کلثوم بنت ابی سلمہ نے نبی اکرم  ﷺ  سے نہیں سنا ہے اور ام سلمہ (رض) سے احادیث آئی ہیں
بعض اہل علم کا یہی خیال ہے احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ نبی اکرم  ﷺ  سے «خمرہ» پر نماز ثابت ہے
«خمرہ» چھوٹی چٹائی کو کہتے ہیں


Translation
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger used to offer salah on a ma


باب ما جاء فی الصلاۃ علی الحصیر

حدیث 340

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَی حَصِيرٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَّا أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا الصَّلَاةَ عَلَی الْأَرْضِ اسْتِحْبَابًا 


ترجمہ
 ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے چٹائی پر نماز پڑھی 
            امام ترمذی کہتے ہیں  ابو سعید خدری (رض) کی حدیث حسن ہے
 اس باب میں انس اور مغیرہ بن شعبہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، البتہ اہل علم کی ایک جماعت نے زمین پر نماز پڑھنے کو استحباباً پسند کیا ہے


 وضاحت
اس حدیث میں «حصیر» اور اوپر والی میں « خمرہ» کا لفظ آیا ہے  فرق یہ ہے کہ «خمرہ» چھوٹی ہوتی ہے اس پر ایک آدمی ہی نماز پڑھ سکتا ہے اور حصیر بڑی اور لمبی ہوتی ہے جس پر ایک سے زیادہ آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں  دونوں ہی کھجور کے پتوں سے بنی جاتی تھیں اور اس زمانہ میں ٹاٹ  پلاسٹک  اون اور کاٹن سے مختلف سائز کے مصلے تیار ہوتے ہیں عمدہ اور نفیس قالین بھی بنائے جاتے ہیں جو مساجد اور گھروں میں استعمال ہوتے ہیں مذکور بالا حدیث میں ان کے جواز کی دلیل پائی جاتی ہے


Translation
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) narrated that the Prophet ﷺ prayed on a hasir (a big mat )


باب ما جاء فی الصلاۃ علی البسط

حدیث 341

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ قَال سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّی إِنْ کَانَ يَقُولُ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا فَصَلَّی عَلَيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَمْ يَرَوْا بِالصَّلَاةِ عَلَی الْبِسَاطِ وَالطُّنْفُسَةِ بَأْسًا وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَاسْمُ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ


ترجمہ
 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے  ابوعمیر  «ما فعل النغير»  بلبل کا کیا ہوا ؟  ہماری چٹائی   پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی
           امام ترمذی کہتے ہیں انس کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے
 صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں


 وضاحت
 «بساط» یعنی بچھاون سے مراد چٹائی ہے کیونکہ یہ زمین پر بچھائی جاتی ہے


Translation
Sayyidina Anas ibn Malik narrated that Allah’s Messenger ﷺ used to appease them in so far as he used to tease his younger brother (Umayr). “O Abu Umayr, what did nughayrO do? He said further, ‘Our bedding was washed and he prayed thereon


باب ما جاء فی الصلاۃ فی الحیطان

حدیث 342

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ فِي الْحِيطَانِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْبَسَاتِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ قَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ وَأَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ تَدْرُسَ وَأَبُو الطُّفَيْلِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ


ترجمہ
 معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  باغات میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے ابوداؤد کہتے ہیں حیطان سے مراد «بساتین» باغات  ہیں
            امام ترمذی کہتے ہیں
  معاذ کی حدیث غریب ہے  اسے ہم حسن بن ابی جعفر ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور حسن بن ابی جعفر کو یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے


Translation
Sayyidina Mu’adh ibn Jabal (RA) said that the Prophet ﷺ liked to observe salah in gardens. Abu Dawood said that “hitan” means ‘gardens’. (It is the word in the Arabic text.


باب ما جاء فی سترۃ المصلی

حدیث 343

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ أَحَدُکُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُبَالِي مَنْ مَرَّ وَرَائَ ذَلِکَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَسَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ طَلْحَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَالُوا سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ خَلْفَهُ


ترجمہ
 طلحہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  جب تم سے کوئی اپنے آگے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھے اور اس کی پرواہ نہ کرے کہ اس کے آگے سے کون گزرا ہے
           امام ترمذی کہتے ہیں  طلحہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں ابوہریرہ، سہل بن ابی حثمہ، ابن عمر، سبرہ بن معبد جہنی، ابوجحیفہ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


  وضاحت
 سترہ ایسی چیز ہے جسے نمازی اپنے آگے نصب کرے یا کھڑا کرے خواہ وہ دیوار ہو یاس تون نیزہ ہو یا لکڑی وغیرہ تاکہ یہ گزرنے والے اور نمازی کے درمیان آڑ رہے اس کی سخت تاکید ہے نیز میدان یا مسجد میں اس سلسلے میں کوئی فرق نہیں ہے اور خانہ کعبہ میں سترہ کے آگے سے گزرنے والی حدیثیں ضعیف ہیں


Translation
Musa ibn Talhah reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “When one of you places in front of him something like the back of a saddle he may offer salah and may not care who passes behind it


باب ما جاء فی کراھیة المرور بین یدی المصلی 

حدیث 344

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَی أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَکَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي جُهَيْمٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ 


حدیث 345

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَأَنْ يَقِفَ أَحَدُکُمْ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ کَرِهُوا الْمُرُورَ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ ذَلِکَ يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ 


ترجمہ
 بسر بن سعید سے روایت ہے کہ  زید بن خالد جہنی نے انہیں ابوجہیم (رض) کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے یہ پوچھیں کہ انہوں نے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ  ﷺ  سے کیا سنا ہے ؟ تو ابوجہیم (رض) نے کہا رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا ہے  اگر مصلی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کیا  (گناہ)  ہے تو اس کے لیے مصلی کے آگے سے گزرنے سے چالیس تک کھڑا رہنا بہتر ہوگا ابونضر سالم کہتے ہیں  مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے کہا یا چالیس سال
          امام ترمذی کہتے ہیں  ابوجہیم (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


 نبی اکرم  ﷺ  سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا   تم میں سے کسی کا سو سال کھڑے رہنا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اپنے بھائی کے سامنے سے گزرے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو
اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے ان لوگوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے کو مکروہ جانا ہے لیکن ان کی یہ رائے نہیں کہ آدمی کی نماز کو باطل کر دے گا


Translation
Busr ibn Sa’eed said that Zayd ibn Khalid Juhanni sent someone to Abu Juhaym to learn of the rules applying to one who walks ahead of those who are engaged in salah. Abu Juhaym said that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one who passes in front of another who is praying knew the punishment against what he does then he would prefer to stand still for forty years rather than pass in front of him. Abu an-Nadr, a narrator said, “I do not know if he said forty days or months or years


باب ما جاء لا یقطع الصلاۃ شیء

حدیث 346

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَی أَتَانٍ فَجِئْنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ بِمِنًی قَالَ فَنَزَلْنَا عَنْهَا فَوَصَلْنَا الصَّفَّ فَمَرَّتْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَلَمْ تَقْطَعْ صَلَاتَهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ قَالُوا لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْئٌ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ


ترجمہ
 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  میں ایک گدھی پر  (اپنے بھائی)  فضل (رض) کے پیچھے سوار تھا ہم آئے اور نبی اکرم  ﷺ  منیٰ میں صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے ہم گدھی سے اترے اور صف میں مل گئے اور وہ  (گدھی)  ان لوگوں کے سامنے پھرنے لگی تو اس نے ان کی نماز باطل نہیں کی
             امام ترمذی کہتے ہیں  ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں عائشہ، فضل بن عباس اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 صحابہ اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ نماز کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی سفیان ثوری اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں


وضاحت
 اس حدیث میں ہے کہ کوئی بھی چیز نماز کو باطل نہیں کرتی جبکہ اگلی حدیث میں ہے کہ کتا  گدھا اور عورت کے مصلی کے آگے سے گزرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ان دونوں حدیثوں میں اس طرح جمع کیا گیا ہے
 صحیح بخاری میں  وہ گدھی ان لوگوں کے سامنے سے گزری تو اس سے ان کی نماز باطل نہیں ہوئی  کا جملہ نہیں ہے اصل واقعہ صرف یہ ہے کہ گدھی یا وہ دونوں صرف صف کے بعض حصوں سے گزرے تھے جبکہ امام   آپ  ﷺ  کا سترہ صف کے ان حصوں کا سترہ بھی ہوگیا تھا   آپ خصوصا میدان میں بغیر سترہ کے نماز پڑھتے ہی نہیں تھے پہلی حدیث یا اس معنی کی دوسری حدیثوں سے اس بات پر استدلال کسی طرح واضح نہیں ہے
 جبکہ اگلی حدیث قولی میں امت کے لیے خاص حکم ہے  اور زیادہ صحیح حدیث ہے اس لیے مذکورہ تینوں چیزوں کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے  باطل کا معنی اگلی حدیث کے حاشیہ میں ملاحظہ کریں


Translation
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that he was riding a she-ass and Fadl (RA) was his co-rider When they were at Mina, the Prophet ﷺ was offering salah with his sahabah They alighted (from the ass) and joined the congregation. The she-ass moved in front of them (the worshippers) but their salah was not invalidated


باب ما جاء انه لا یقطع الصلاۃ الا الکلب والحمار والمراۃ

حدیث 347

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَال سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی الرَّجُلُ وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ کَآخِرَةِ الرَّحْلِ أَوْ کَوَاسِطَةِ الرَّحْلِ قَطَعَ صَلَاتَهُ الْکَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ فَقُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنْ الْأَحْمَرِ مِنْ الْأَبْيَضِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتَنِي کَمَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْکَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَالْحَکَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَيْهِ قَالُوا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْکَلْبُ الْأَسْوَدُ قَالَ أَحْمَدُ الَّذِي لَا أَشُکُّ فِيهِ أَنَّ الْکَلْبَ الْأَسْوَدَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَفِي نَفْسِي مِنْ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ شَيْئٌ قَالَ إِسْحَقُ لَا يَقْطَعُهَا شَيْئٌ إِلَّا الْکَلْبُ الْأَسْوَدُ


ترجمہ
 ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا جب آدمی نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی آخری  (لکڑی یا کہا کجاوے کی بیچ کی لکڑی کی طرح)  کوئی چیز نہ ہو تو  کالے کتے عورت اور گدھے کے گزرنے سے اس کی نماز باطل ہوجائے گی   میں نے ابوذر سے کہا  لال اور سفید کے مقابلے میں کالے کی کیا خصوصیت ہے  انہوں نے کہا  میرے بھتیجے  تم نے مجھ سے ایسے ہی پوچھا ہے جیسے میں نے رسول اللہ  ﷺ  سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا  کالا کتا شیطان ہے
             امام ترمذی کہتے ہیں  ابوذر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں ابو سعید خدری، حکم بن عمرو بن غفاری، ابوہریرہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ گدھا عورت اور کالا کتا نماز کو باطل کردیتا ہے احمد بن حنبل کہتے ہیں  مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کردیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں  کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی


وضاحت
یہاں باطل ہونے سے مراد نماز کے ثواب اور اس کی برکت میں کمی واقع ہونا ہے سرے سے نماز کا باطل ہونا مراد نہیں بعض علماء بالکل باطل ہوجانے کے بھی قائل ہیں کیونکہ ظاہری الفاظ سے یہی ثابت ہوتا ہے  اس لیے مصلے کو سترہ کی طرف نماز پڑھنے کی از حد خیال کرنا چاہیئے


Translation
Abdullah ibn Samit (RA) reported having heard from Sayyidina Abu Dharr (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone prays and there is nothing is nothing in front of him like the hack, or like the middle of a saddle then his salah is cut off by the passing ahead of a black dog, a donkey or a woman.” Abdullah asked Abu Dharr. “What is the difference between black and white or red?” He said, “Brother, you put the same question to me as I had put to Allah’s Messenger He had said that the black dog is a devil


باب ما جاء فی الصلاۃ فی الثوب الواحد

حدیث 348

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ مُشْتَمِلًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ وَأَنَسٍ وَعَمْرِو بْنِ أَبِي أَسِيدٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَکَيْسَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ قَالُوا لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبَيْنِ


ترجمہ
 عمر بن ابی سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ  انہوں نے رسول اللہ  ﷺ  کو ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے 
             امام ترمذی کہتے ہیں  عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی اور عبادہ بن صامت انصاری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے


وضاحت
شیخین کی روایت میں «واضعاً طرفيه علی عاتقيه» کا اضافہ ہے یعنی آپ اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے  اس سے ثابت ہوا کہ اگر ایک کپڑے میں بھی نماز پڑھے تو دونوں کندھوں کو ضرور ڈھانکے رہے اور نہ نماز نہیں ہوگی اس بابت بعض واضح روایات مروی ہیں  نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ نے اس وقت سر کو نہیں ڈھانکا تھا  ایک کپڑے میں سر کو ڈھانکا ہی نہیں جاسکتا


Translation
Sayyidna Umar ibn Abu Salamah said that he observed Allah’s Messenger ﷺ pray at Sayyidah Umm Salamah’s (RA) home in a single garment


باب ما جاء فی ابتداء القبلة

حدیث 349

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ صَلَّی نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجِّهَ إِلَی الْکَعْبَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِي السَّمَائِ فَلَنُوَلِّيَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَوَجَّهَ نَحْوَ الْکَعْبَةِ وَکَانَ يُحِبُّ ذَلِکَ فَصَلَّی رَجُلٌ مَعَهُ الْعَصْرَ ثُمَّ مَرَّ عَلَی قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُمْ رُکُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَدْ وَجَّهَ إِلَی الْکَعْبَةِ قَالَ فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُکُوعٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ الْبَرَائِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ 


حدیث 350

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانُوا رُکُوعًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ  جب رسول اللہ  ﷺ  مدینے آئے تو سولہ یا سترہ ماہ تک آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور رسول اللہ  ﷺ  کعبہ کی طرف رخ کرنا پسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے «قد نری تقلب وجهك في السماء فلنولينک قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام‏»  ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہوجائیں اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجئے  نازل فرمائی تو آپ نے اپنا چہرہ کعبہ کی طرف پھیرلیا اور آپ یہی چاہتے بھی تھے ایک شخص نے آپ کے ساتھ عصر پڑھی پھر وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا اور وہ لوگ عصر میں بیت المقدس کی طرف چہرہ کئے رکوع کی حالت میں تھے اس نے کہا  میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کے ساتھ اس حال میں نماز پڑھی ہے کہ آپ اپنا رخ کعبہ کی طرف کئے ہوئے تھے تو وہ لوگ بھی رکوع کی حالت ہی میں خانہ کعبہ کی طرف پھرگئے
              امام ترمذی کہتے ہیں   براء کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، عمارہ بن اوس، عمرو بن عوف مزنی اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

  عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں  وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے   امام ترمذی کہتے ہیں   ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے


 وضاحت
یہ قباء کا واقعہ ہے اس میں اور اس سے پہلے والی روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ جو لوگ مدینہ میں تھے انہیں یہ خبر عصر کے وقت ہی پہنچ گئی تھی جیسے بنو حارثہ کے لوگ اور قباء کے لوگوں کو یہ خبر دیر سے دوسرے دن نماز فجر میں پہنچی


Translation
Sayyidna Bara ibn Aazib (RA) said that when the Prophet ﷺ came to Madinah, he continued to face the direction of Bayt al Maqdis in prayer for sixteen or seventeen months. He longed to turn to the ka’bah. So, Allah, the Exalted, revealed (the verse):  So, he turned his face towards the Ka’bah, and he loved that. A man prayed with him the asr prayer and then passed by a section of the Ansar people while they were in ruku of the salah of asr facing Bayt al-Maqdis. So, he said, “He bears testimony that he prayed with Allah’s Messenger ﷺ and indeed he had faced the Kabah,” The narrator said, “They turned their direction while still in ruku. Hamad reported from Waki, from Sufyan, from Abdullah ibn Dinar that Sayyidina Ibn Umar (RA) said, ‘They were in ruku of the salah of fajr


باب ما جاء ان ما بین المشرق والمغرب قبلة

حدیث 351

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ تَکَلَّمَ بَعْضُ 

  أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَبِي مَعْشَرٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَاسْمُهُ نَجِيحٌ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ قَالَ مُحَمَّدٌ لَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا وَقَدْ رَوَی عَنْهُ النَّاسُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَقْوَی مِنْ حَدِيثِ أَبِي مَعْشَرٍ وَأَصَحُّ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا مشرق  (پورب)  اور مغرب  (پچھم)  کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے

 یحییٰ بن موسیٰ کا بیان ہے کہ  ہم سے محمد بن ابی معشر نے بھی اسی کے مثل بیان کیا ہے
             امام ترمذی کہتے ہیں ابوہریرہ کی حدیث ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے
بعض اہل علم نے ابومعشر کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے ان کا نام نجیح ہے وہ بنی ہاشم کے مولیٰ ہیں  محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں  میں ان سے کوئی روایت نہیں کرتا حالانکہ لوگوں نے ان سے روایت کی ہے نیز بخاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر مخرمی کی حدیث جسے انہوں نے بسند «عثمان بن محمد اخنسی عن سعید المقبری عن أبی ہریرہ» روایت کی ہے ابومعشر کی حدیث سے زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہے یہ حدیث آگے آرہی ہے جو اسی معنی کی ہے


 وضاحت

 یہ ان ملکوں کے لیے ہے جو قبلے کے شمال اُتر  یا جنوب دکھن میں واقع ہیں  جیسے مدینہ شمال میں   اور یمن  جنوب میں اور بر صغیر ہندو پاک یا مصر وغیرہ کے لوگوں کے لیے اسی کو یوں کہا جائیگا  شمال اور جنوب کے درمیان جو فضا کا حصہ ہے وہ سب قبلہ ہے  یعنی اپنے ملک کے قبلے کی سمت میں ذرا سا ٹیڑھا کھڑا ہونے میں  جو جان بوجھ کر نہ ہو  کوئی حرج نہیں


Translation

Sayyidna Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger (RA) said, ‘The entire area between the east and the west is qiblah

Yahya ibn Musa reported the like of it from Muhammad ibn Abu Ma’shar. Imam Tirmizi said: The Hadith of Abu Hurayrah (RA) is transmitted from himself through many lines of narrators. Some scholars question the memory of Abu Ma’shar. His name was Najih, freedman of Banu Hashim. Imam Bukhari does not report from him though some do. According to Bukhari, the Hadith of Abdullah ibn Ja’far Makhrami reported from Uthman ibn Muhammad Akhnasi is (more) pious and sahih than that of Abu Ma’shar. Uthman reported from Sa’eed Maqburi who from Abu Hurayrah


حدیث 352

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بَکْرٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا قِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ لِأَنَّهُ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ و قَالَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا جَعَلْتَ الْمَغْرِبَ عَنْ يَمِينِکَ وَالْمَشْرِقَ عَنْ يَسَارِکَ فَمَا بَيْنَهُمَا قِبْلَةٌ إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ و قَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ هَذَا لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ وَاخْتَارَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ التَّيَاسُرَ لِأَهْلِ مَرْوٍ


ترجمہ
 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا مشرق  (پورب) اور مغرب  (پچھم)  کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے
             امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے
کئی صحابہ سے مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے ان میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، اور ابن عباس (رض) بھی شامل ہیں، ابن عمر (رض) کہتے ہیں  جب آپ مغرب کو دائیں طرف اور مشرق کو بائیں طرف رکھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوں گے تو ان دونوں سمتوں کے درمیان جو ہوگا وہ قبلہ ہوگا ابن مبارک کہتے ہیں مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے یہ اہل مشرق کے لیے ہے اور عبداللہ بن مبارک نے اہل مرو کے لیے بائیں طرف جھکنے کو پسند کیا ہے


 

وضاحت
 یہاں مشرق سے مراد وہ ممالک ہیں جن پر مشرق کا اطلاق ہوتا ہے جیسے عراق
 قاموس میں ہے کہ مرو ایران کا ایک شہر ہے اور علامہ محمد طاہر مغنی میں کہتے ہیں کہ یہ خراسان کا ایک شہر ہے


Translation
Hasan ibn Bakr Marwazi reported from Mu’la ibn Mansur from Abdullah ibn Jafar Makhram iwho from Uthman ibn Muhammad Akhnasi who from Sa’eed Maqburi who from Abu Hurayrah (RA) that the Prophet ﷺ said, “The qiblah is between the east and the west


باب ما جاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم

حدیث 353

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ السَّمَّانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ أَيْنَ الْقِبْلَةُ فَصَلَّی کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَی حِيَالِهِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَکَرْنَا ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاکَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ السَّمَّانِ وَأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَقَدْ ذَهَبَ أَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَی هَذَا قَالُوا إِذَا صَلَّی فِي الْغَيْمِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ اسْتَبَانَ لَهُ بَعْدَمَا صَلَّی أَنَّهُ صَلَّی لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَإِنَّ صَلَاتَهُ جَائِزَةٌ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ
 عامر بن ربیعہ (رض) کہتے ہیں کہ  ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ  ﷺ  کے ساتھ سفر میں تھے تو ہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے ہم میں سے ہر شخص نے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرم  ﷺ  سے اس کا ذکر کیا چناچہ اس وقت آیت کریمہ «‏فأينما تولوا فثم وجه الله‏»  تم جس طرف رخ کرلو اللہ کا منہ اسی طرف ہے  نازل ہوئی
             امام ترمذی کہتے ہیں
 اس حدیث کی سند کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے ہم اسے صرف اشعث بن سمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور اشعث بن سعید ابوالربیع سمان حدیث کے معاملے میں ضعیف گردانے جاتے ہیں
اکثر اہل علم اسی کی طرف گئے ہیں کہ جب کوئی بدلی میں غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لے پھر نماز پڑھ لینے کے بعد پتہ چلے اس نے غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز درست ہے سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں
سند میں اشعث بن سعید السمان متکلم فیہ راوی ہیں حتی کہ بعض علماء نے بڑی شدید جرح کی ہے اور انہیں غیر ثقہ اور منکر الحدیث بلکہ متروک الحدیث قرار دیا ہے لیکن امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ نہ تو متروک ہے اور نہ محدثین کے یہاں حافظ حدیث ہے ابو احمد الحاکم کہتے ہیں  ليس بالقوي عندهم یعنی محدثین کے یہاں اشعث زیادہ قوی راوی نہیں ہے ابن عدی کہتے ہیں  اس کی احادیث میں سے بعض غیر محفوظ ہیں اور ضعف کے باوجود ان کی حدیثیں لکھی جائیں گی خلاصہ یہ کہ ان کی احادیث کو شواہد ومتابعات کے باب میں جانچا اور پرکھا جائے گا اسی کو اعتبار کہتے ہیں اور ترمذی نے سند پر کلام کر کے اشعث کے بارے لکھا ہے کہ حدیث میں ان کی تضعیف کی گئی ہے، اور اکثر علماء کا فتویٰ بھی اسی حدیث کے مطابق ہے اس شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے


Translation
Sayyidna lbn Umar narrated that the Prophet ﷺ disallowed offering salah at seven places: the laterine, slaughter house, grave, thoroughfare, bath, shed of camels, and the roof of Bayt Allah

Sayyidna Abdullah ibn Aamir ibn Rabi’ah reported from his father that hesaid, “We were travelling with the Prophet ﷺ -‘--i on a dark night and did not know the direction of the qiblah. So everyone prayed in the direction opposite him. In the morning, we mentioned that to the Prophet ﷺ and the verse was revealed 1)I .m, i L.- (so withersoever you turn, there is Allah’s countenance


باب ما جاء فی کراھیة ما یصلی الیه وفیه 

حدیث 354

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يُصَلَّی فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ فِي الْمَزْبَلَةِ وَالْمَجْزَرَةِ وَالْمَقْبَرَةِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَفِي الْحَمَّامِ وَفِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ أَبُو مَرْثَدٍ اسْمُهُ کَنَّازُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاکَ الْقَوِيِّ وَقَدْ تُکُلِّمَ فِي زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَزَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْکُوفِيُّ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ وَقَدْ سَمِعَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ وَقَدْ رَوَی اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَحَدِيثُ دَاوُدَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ مِنْهُمْ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے  کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں،ل مذبح میں قبرستان میں عام راستوں پر، حمام غسل خانہ میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر
سند میں زید بن جبیرہ متروک الحدیث ہے

 اس سند سے بھی  اس مفہوم کی حدیث مروی ہے   
           امام ترمذی کہتے ہیں
 ابن عمر رض کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے
زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر (رض) سے سنا ہے
اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین، جابر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق  «عبد اللہ بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق  «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں

    

Translation
A hadith like this is reported by Ali ibn Hujr from Sawayd ibn Abdul Aziz (RA) , from zayd ibn Jabirah, from Dawud ibn Husayn from Nafi who from Ibn Umar (RA)


باب ما جاء فی الصلاۃ فی مرابض الغنم واعطان الابل

حدیث 355

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ أَوْ بِنَحْوِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَالْبَرَائِ وَسَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَحَدِيثُ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَاسْمُ أَبِي حَصِينٍ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو

 اس سند سے بھی  اسی کے مثل یا اسی جیسی حدیث مروی ہے
              امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے ہمارے اصحاب کے نزدیک عمل اسی پر ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے
 ابوحصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق  «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے غریب ہے
 اسے اسرائیل نے بطریق  «أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة» موقوفاً روایت کیا ہے اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے
اس باب میں جابر بن سمرہ،براء، سبرہ بن معبد جہنی، عبداللہ بن مغفل، ابن عمر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں

وضاحت

 «صلوا في مرابض الغنم» میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور «ولا تصلوا في أعطان الإبل» میں نہی تحریمی ہے  یعنی حرام ہے



Translation

Sayyidina Abu Hurayrah nnarrated that Allah’s Messenger said, Pray in the pens of sheep but not in the sheds of camels

A similar Hadith is reported by Abu Kurayb from Yahya ibn Adam, from Abu Bakr (RA) ibn Ayyash, from Abu Husayn, from Abu Salih, from Abu Hurayrah (RA) and he from the Prophet


حدیث 356

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو التَّيَّاحِ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ


ترجمہ
 انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے
            امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے
  

Translation
Muhammad ibn Bashshar reported from Yahya ibn Sa’eed, from Shu’bah, from Abu Tayyab Dab’i, from Anas (RA) that Allah’s Messenger ﷺ prayed in the enclosures of sheep


باب ما جاء فی الصلاۃ علی الدابة حیث ما توجھت به

حدیث 357

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَيَحْيَی بْنُ آدَمَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَی رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ اخْتِلَافًا لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ عَلَی رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ مَا کَانَ وَجْهُهُ إِلَی الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرِهَا


ترجمہ
 جابر (رض) کہتے ہیں کہ  مجھے نبی اکرم  ﷺ  نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو  (دیکھا کہ)  آپ اپنی سواری پر مشرق  (پورب)  کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا
           امام ترمذی کہتے ہیں
 جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے
 اس باب میں انس، ابن عمر، ابوسعید، عامر بن ربیعہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو


 وضاحت
واضح رہے کہ یہ جواز صرف سنن و نوافل کے لیے ہے  نہ کہ فرائض کے لیے


Translation
Sayyidina Jabir (RA) narrated that the Prophet ﷺ is ﷺ sent me on a mission. When I returned to him, he was praying on his riding beast facing the east. He bowed down lower in (prostration) than in ruku (bowing)


باب فی الصلاۃ الی الراحلة

حدیث 358

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی إِلَی بَعِيرِهِ أَوْ رَاحِلَتِهِ وَکَانَ يُصَلِّي عَلَی رَاحِلَتِهِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهَتْ بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِالصَّلَاةِ إِلَی الْبَعِيرِ بَأْسًا أَنْ يَسْتَتِرَ بِهِ


ترجمہ
 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے اپنے اونٹ یا اپنی سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، نیز اپنی سواری پر نماز پڑھتے رہتے چاہے وہ جس طرف متوجہ ہوتی 
            امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے
 یہی بعض اہل علم کا قول ہے کہ اونٹ کو سترہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں


 وضاحت
 پچھلی حدیث کے حاشیہ میں امام ترمذی نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے  ایسے میں شرط صرف یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت منہ قبلہ کی طرف کر کے اس کے بعد سواری چاہے جدھر جائے ، لیکن یہ صرف نفل نمازوں میں تھا ، فرض نماز میں سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر ہی پڑھتے تھے
 اور وہ جو گزرا کہ آپ اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھتے تھے اور اس سے منع فرمایا تو باڑے کے اندر معاملہ دوسرا ہے اور کہیں راستے میں صرف اونٹ کو بیٹھا کر اس کے سامنے پڑھنے کا معاملہ دوسرا ہے


Translation
Sayyidna Ibn Umar (RA) said that the Propet offered salah facing his camel, or his riding-beast. He also prayed on the back of his riding-beast whichever side it faced


باب ما جاء اذا حضر العشاء واقیمت الصلاۃ فابدووا بالعشاء

حدیث 359

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا حَضَرَ الْعَشَائُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَئُوا بِالْعَشَائِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ عُمَرَ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ يَقُولَانِ يَبْدَأُ بِالْعَشَائِ وَإِنْ فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ فِي الْجَمَاعَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَکِيعًا يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَبْدَأُ بِالْعَشَائِ إِذَا کَانَ طَعَامًا يَخَافُ فَسَادَهُ وَالَّذِي ذَهَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ أَشْبَهُ بِالِاتِّبَاعِ وَإِنَّمَا أَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومَ الرَّجُلُ إِلَی الصَّلَاةِ وَقَلْبُهُ مَشْغُولٌ بِسَبَبِ شَيْئٍ 


حدیث 360

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَا نَقُومُ إِلَی الصَّلَاةِ وَفِي أَنْفُسِنَا شَيْئٌ


ترجمہ
 انس (رض) سے کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا   جب شام کا کھانا حاضر ہو اور نماز کھڑی کردی جائے  تو پہلے کھالو
             امام ترمذی کہتے ہیں  انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں عائشہ، ابن عمر، سلمہ بن اکوع، اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے انہیں میں سے ابوبکر، عمر اور ابن عمر (رض) بھی ہیں اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کھانا کھائے اگرچہ جماعت چھوٹ جائے
اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ پہلے کھانا کھائے گا جب اسے کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہو لیکن جس کی طرف صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم گئے ہیں وہ اتباع کے زیادہ لائق ہے ان لوگوں کا مقصود یہ ہے کہ آدمی ایسی حالت میں نماز میں نہ کھڑا ہو کہ اس کا دل کسی چیز کے سبب مشغول ہو

 اور ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوتے جب تک ہمارا دل کسی اور چیز میں لگا ہوتا ہے


وضاحت
بعض لوگوں نے نماز سے مغرب کی نماز مراد لی ہے اور اس میں وارد حکم کو صائم کے لیے خاص مانا ہے  لیکن مناسب یہی ہے کہ اس حکم کی علّت کے پیش نظر اسے عموم پر محمول کیا جائے خواہ دوپہر کا کھانا ہو یا شام کا


Translation
Sayyidna Anas (RA) narrated that he was aware of the hadith in which the Prophet ﷺ said, “When the food is brought and the salah is established, begin with the meal


حدیث 361

وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَئُوا بِالْعَشَائِ قَالَ وَتَعَشَّی ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ يَسْمَعُ قِرَائَةَ الْإِمَامِ قَالَ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ


ترجمہ
 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ نے فرمایا جب شام کا کھانا تمہارے سامنے رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھاؤ، ابن عمر رض شام کا کھانا کھا رہے تھے اور امام کی قرأت سن رہے تھے


Translation
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger said, “If food is laid down and the congregation stands up, then first consume the meal


باب ما جاء فی الصلاۃ عند النعاس

حدیث 362

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْکِلَابِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّی يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا صَلَّی وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  جب تم میں سے کوئی اونگھے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو سو جائے یہاں تک کہ اس سے نیند چلی جائے اس لیے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھے اور اونگھ رہا ہو تو شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو لیکن اپنے آپ کو گالیاں دے بیٹھے
         امام ترمذی کہتے ہیں ام المؤمنین عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں انس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation
Sayyidah Aisha (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one of you feels sleepy while he is in prayer then let him go and sleep till sleep has departed from him, for, if one of you prays and he is drowsy then he might mean to make istighfar but may revile himself instead


باب ما جاء فیمن زار قوما فلا یصل بهمْ 

حدیث 363

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَهَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَالَ کَانَ مَالِکُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَقُلْنَا لَهُ تَقَدَّمْ فَقَالَ لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُکُمْ حَتَّی أُحَدِّثَکُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


حدیث 364 

وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ قَالُوا صَاحِبُ الْمَنْزِلِ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ مِنْ الزَّائِرِ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أَذِنَ لَهُ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِ و قَالَ إِسْحَقُ بِحَدِيثِ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَشَدَّدَ فِي أَنْ لَا يُصَلِّيَ أَحَدٌ بِصَاحِبِ الْمَنْزِلِ وَإِنْ أَذِنَ لَهُ صَاحِبُ الْمَنْزِلِ قَالَ وَکَذَلِکَ فِي الْمَسْجِدِ لَا يُصَلِّي بِهِمْ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا زَارَهُمْ يَقُولُ لِيُصَلِّ بِهِمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ


ترجمہ
 ابوعطیہ عقیلی کہتے ہیں کہ  مالک بن حویرث (رض) ہماری نماز پڑھنے کی جگہ میں آتے اور حدیث بیان کرتے تھے تو ایک دن نماز کا وقت ہوا تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ آگے بڑھئیے  اور نماز پڑھائیے انہوں نے کہا  تمہیں میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے یہاں تک کہ میں تمہیں بتاؤں کہ میں کیوں نہیں آگے بڑھتا میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے سنا ہے  جو کسی قوم کی زیارت کو جائے تو ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان کی امامت ان ہی میں سے کسی آدمی کو کرنی چاہیئے
         امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے
 صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ صاحب خانہ زیارت کرنے والے سے زیادہ امامت کا حقدار ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب اسے اجازت دے دی جائے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اسحاق بن راہویہ نے مالک بن حویرث (رض) کی حدیث کے مطابق کہا ہے اور انہوں نے اس مسئلہ میں سختی برتی ہے کہ صاحب خانہ کو کوئی اور نماز نہ پڑھائے اگرچہ صاحب خانہ اسے اجازت دیدے نیز وہ کہتے ہیں اسی طرح کا حکم مسجد کے بارے میں بھی ہے کہ وہ جب ان کی زیارت کے لیے آیا ہو انہیں میں سے کسی آدمی کو ان کی نماز پڑھانی چاہیئے
مالک بن حویرث کا مذکورہ قصہ صحیح نہیں ہے صرف متن حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو


Translation
Budayl ibn Maysarah Uqayli reported Abu Atiyah as saying that Malik ibn Huwayrith used to visit them at their place of salah and narrate ahadith to them. One day, it was time for salah and they requested him to lead them (in prayers). He said, “Let one of you lead that I might disclose why I do not lead you in salah. I had heard Allah’s Messinger say that one who visits a people should not become their imam, but one of their own must lead them (in salah


باب ما جاء فی کراھیة ان یخص الامام نفسه بالدعاء

حدیث 365

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ 


حدیث 366

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ کَانَ يُقَالُ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اثْنَانِ امْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ کَارِهُونَ قَالَ هَنَّادٌ قَالَ جَرِيرٌ قَالَ مَنْصُورٌ فَسَأَلْنَا عَنْ أَمْرِ الْإِمَامِ فَقِيلَ لَنَا إِنَّمَا عَنَی بِهَذَا أَئِمَّةً ظَلَمَةً فَأَمَّا مَنْ أَقَامَ السُّنَّةَ فَإِنَّمَا الْإِثْمُ عَلَی مَنْ کَرِهَهُ


ترجمہ
 عمرو بن حارث بن مصطلق کہتے ہیں   کہا جاتا تھا کہ قیامت کے روز سب سے سخت عذاب دو طرح کے لوگوں کو ہوگا  ایک اس عورت کو جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے دوسرے اس امام کو جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں منصور کہتے ہیں کہ ہم نے امام کے معاملے میں پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے مراد ظالم ائمہ ہیں لیکن جو امام سنت قائم کرے تو گناہ اس پر ہوگا جو اسے ناپسند کرے


Translation
Hannad reported from Jarir from Mansur from Hilal ibn Yasaf from Ziyad ibn abu Jad who from Amr ibn Harith ibn Mustaliq that it was said,”The greatest torment is for two people: a woman who disobeys her husband, and an imam who carries on in his office in spite of the displeasure of those who are his muqtadis (followers in prayer).”  Jarir said that they asked Mansur about the imam and he said, “This means a wrong-doing imam. If he adheres to sunnah then the muqtadis will be sinners that is, those who are fed up with him


حدیث 367

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّی يَرْجِعَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ کَارِهُونَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو غَالِبٍ اسْمُهُ حَزَوَّرٌ


ترجمہ
 ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا  تین لوگوں کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی  ایک بھگوڑے غلام کی جب تک کہ وہ  اپنے مالک کے پاس لوٹ نہ آئے دوسرے عورت کی جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو تیسرے اس امام کی جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں
           امام ترمذی کہتے ہیں 
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے


Translation
Abu Ghalib said that he heard form Sayyidina Abu Umamah (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘There are three people whose salah does not go beyond their ears: the fleeing slave till he returns, the woman who sleeps in the night but her husband is displeased with her, and the imam of a people who dislike him


باب ما جاء اذا صلی الامام قاعدا فصلوا قعودا

حدیث 368

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ فَصَلَّی بِنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی هَذَا الْحَدِيثِ مِنْهُمْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا صَلَّی الْإِمَامُ جَالِسًا لَمْ يُصَلِّ مَنْ خَلْفَهُ إِلَّا قِيَامًا فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا لَمْ تُجْزِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ


ترجمہ
 انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  گھوڑے سے گرپڑے آپ کو خراش آ گئی  تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ہم نے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی پھر آپ نے ہماری طرف پلٹ کر فرمایا امام ہوتا ہی اس لیے ہے یا امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے جب وہ «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده‏» کہے تو تم «ربنا لک الحمد‏» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو
            امام ترمذی کہتے ہیں  انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، جابر، ابن عمر اور معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
بعض صحابہ کرام جن میں میں جابر بن عبداللہ، اسید بن حضیر اور ابوہریرہ (رض) وغیرہ ہیں اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے
 بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی پڑھیں اگر انہوں نے بیٹھ کر پڑھی تو یہ نماز انہیں کافی نہ ہوگی یہ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے


وضاحت
 یعنی دائیں پہلو کی جلد چھل گئی جس کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل اور دشوار ہوگیا
 اور یہی راجح قول ہے اس حدیث میں مذکور واقعہ پہلے کا ہے  اس کے بعد مرض الموت میں آپ  ﷺ  نے بیٹھ کر امامت کی تو ابوبکر اور صحابہ (رض) نے کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھی  اس لیے بیٹھ کر اقتداء کرنے کی بات منسوخ ہے


Translation:
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ i fell down from a horse once. He was hurt, so he led them in prayer while he was seated. They prayed behind him sitting. (When it was over) he turned to them and said “The imam is or the imam is made that he should be followed. When he calls the takbir, you do that. When he bows down, you should bow down. When he raises (his head), you too rise up. When he calls out, “Allah hears he who praises Him” say, “O our Lord for you is all praise”. And when he goes into prostration, you too go into prostration. And if he prays sitting down, you too pray sitting down


باب منه

حدیث 369

 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَکْرٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَاعِدًا قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ 


حدیث 370

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا صَلَّی الْإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا


حدیث 371

 وَرُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ وَأَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَصَلَّی إِلَی جَنْبِ أَبِي بَکْرٍ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَکْرٍ وَأَبُو بَکْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 


حدیث 372

 وَرُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی خَلْفَ أَبِي بَکْرٍ قَاعِدًا


حدیث 373

وَرُوِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی خَلْفَ أَبِي بَکْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ خَلْفَ أَبِي بَکْرٍ قَاعِدًا فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَهَکَذَا رَوَاهُ يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَذْکُرُوا فِيهِ عَنْ ثَابِتٍ وَمَنْ ذَکَرَ فِيهِ عَنْ ثَابِتٍ فَهُوَ أَصَحُّ


ترجمہ
 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی ابوبکر کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی 
           امام ترمذی کہتے ہیں
 عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے اور عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو  اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  اپنی بیماری میں نکلے اور ابوبکر (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے ابوبکر (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی لوگ ابوبکر (رض) کی اقتداء کر رہے تھے اور ابوبکر (رض) نبی اکرم  ﷺ   کی اقتداء کر رہے تھے۔ اور انہی سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے ابوبکر (رض) کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی اور انس بن مالک سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے ابوبکر (رض) کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی

 انس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے اپنی بیماری میں ابوبکر (رض) کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے

            امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے
  اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب نے بھی حمید سے اور حمید نے ثابت سے اور ثابت نے انس (رض) سے روایت کیا ہے
نیز اسے اور بھی کئی لوگوں نے حمید سے اور حمید نے انس (رض) سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اس میں ثابت کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن جس نے ثابت کے واسطے کا ذکر کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہے


Translation
Sayyidah Aisha (RA) said that in his illness before death.Allahs Messenger ﷺ prayed sitting down by the side of Sayyidina Abu Bakr

Abdullah ibn Abu Ziyad narrated this hadith to us having heard it from Shababah ibn Sawwar who from Muhammad ibn Tahah who from Humayd who from Thabit and he from Sayyidina Anas (RA) that during his illness that led to his death, the Prophet ﷺ offered salah by the side Sayyidina Abu Bakr (RA) sitting down wrapped in a garment


باب ما جاء فی الامام ینھض فی الرکعتین ناسیا

حدیث 374

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَی عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ فَسَبَّحَ بِهِ الْقَوْمُ وَسَبَّحَ بِهِمْ فَلَمَّا صَلَّی بَقِيَّةَ صَلَاتِهِ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ بِهِمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَسَعْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ تَکَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ابْنِ أَبِي لَيْلَی مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ قَالَ أَحْمَدُ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَی و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ابْنُ أَبِي لَيْلَی هُوَ صَدُوقٌ وَلَا أَرْوِي عَنْهُ لِأَنَّهُ لَا يَدْرِي صَحِيحَ حَدِيثِهِ مِنْ سَقِيمِهِ وَکُلُّ مَنْ کَانَ مِثْلَ هَذَا فَلَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَوَاهُ سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ تَرَکَهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُمَا وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ مَضَی فِي صَلَاتِهِ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ مِنْهُمْ مَنْ رَأَی قَبْلَ التَّسْلِيمِ وَمِنْهُمْ مَنْ رَأَی بَعْدَ التَّسْلِيمِ وَمَنْ رَأَی قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَحَدِيثُهُ أَصَحُّ لِمَا رَوَی الزُّهْرِيُّ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ


ترجمہ
 عامر بن شراخیل شعبی کہتے ہیں  ہمیں مغیرہ بن شعبہ (رض) نے نماز پڑھائی دو رکعت کے بعد  بیٹھنے کے بجائےںوہ کھڑے ہوگئے تو لوگوں نے انہیں «سبحان الله» کہہ کر یاد دلایا کہ وہ بیٹھ جائیں تو انہوں نے «سبحان الله» کہہ کر انہیں اشارہ کیا کہ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں پھر جب انہوں نے اپنی بقیہ نماز پڑھ لی تو سلام پھیرا پھر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کئے پھر لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ  ﷺ  نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا جیسے انہوں نے  (مغیرہ نے)  کیا ہے
         امام ترمذی کہتے ہیں
 مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیث ان سے کئی اور بھی سندوں سے مروی ہے
 بعض اہل علم نے ابن ابی لیلیٰ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے احمد کہتے ہیں  ابن ابی لیلیٰ کی حدیث لائق استدلال ہیں
 محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں  ابن ابی لیلیٰ صدوق  سچے  ہیں لیکن میں ان سے روایت نہیں کرتا اس لیے کہ یہ نہیں معلوم کہ ان کی حدیثیں کون سی صحیح ہیں اور کون سی ضعیف ہیں اور جو بھی ایسا ہو میں اس سے روایت نہیں کرتا
 یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ (رض) سے اور بھی سندوں سے مروی ہے
 اسے سفیان نے بطریق : «جابر عن المغيرة بن شبيل عن قيس بن أبي حازم عن المغيرة بن شعبة» روایت کیا ہے
اور جابر جعفی کو بعض اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ نے ان سے حدیثیں نہیں لی ہیں
 اس باب میں عقبہ بن عامر، سعد اور عبداللہ بن بحینہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ آدمی جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے تو اپنی نماز جاری رکھے اور  اخیر میں دو سجدے کرلے
 ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کرے اور بعض کا خیال ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد کرے
 جس کا خیال ہے کہ سلام پھیر نے سے پہلے کرے اس کی حدیث زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اسے زہری اور یحییٰ بن سعید انصاری نے عبدالرحمٰن بن اعرج سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ ابن بحینہ (رض) سے روایت کیا ہے


Translation
Sha’bi narrated that Sayyidina Mughriah ibn Shu’bah once led them in prayer. After two raka’at, he stood up. So, people glorified Allah before him (saying Subhan Allah) and he before them. When the salah was over, he made the sajdah sahw (prostration of forgetfulness) while he was sitting down. He then said that Allah’s Messenger ﷺ had also done with them the same thing as he did


حدیث 375

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ الْمَسْعُودِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ صَلَّی بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَلَمَّا صَلَّی رَکْعَتَيْنِ قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ قُومُوا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَلَّمَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَکَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


ترجمہ
 زیاد بن علاقہ کہتے ہیں کہ  ہمیں مغیرہ بن شعبہ (رض) نے نماز پڑھائی، جب دو رکعتیں پڑھ چکے تو  (تشہد میں)  بغیر بیٹھے کھڑے ہوگئے۔ تو جو لوگ ان کے پیچھے تھے انہوں نے سبحان اللہ کہا، تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ تم بھی کھڑے ہوجاؤ پھر جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیرا، اور کہا : ایسے ہی رسول اللہ  ﷺ  نے کیا تھا
 امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے
 یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ (رض) کے واسطے سے اور بھی سندوں سے نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے۔  


Translation
Abdullah ibn Abdur Rahman reported from Yazib ibn Harun, who from Mas’udi who from Ziyad ibn Ilaqah that: Mughirah ibn Shu’bah led them in salah. After two raka’at, instead of sitting down, he should up. So the muqtadis called out subhan Allah, and he indicated to them that they too shoud stand up. When the prayer was over, he made the salutaion and made two prostrations of sajdah sahw and made salutation again. He said, “Allah’s Messenger ﷺ had also done it.”


باب ما جاء فی مقدارالقعود فی الرکعتین الاولین

حدیث 376

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَال سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ کَأَنَّهُ عَلَی الرَّضْفِ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ حَرَّکَ سَعْدٌ شَفَتَيْهِ بِشَيْئٍ فَأَقُولُ حَتَّی يَقُومَ فَيَقُولُ حَتَّی يَقُومَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ لَا يُطِيلَ الرَّجُلُ الْقُعُودَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَلَا يَزِيدَ عَلَی التَّشَهُّدِ شَيْئًا وَقَالُوا إِنْ زَادَ عَلَی التَّشَهُّدِ فَعَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ هَکَذَا رُوِيَ عَنْ الشَّعْبِيِّ وَغَيْرِهِ


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  جب پہلی دونوں رکعتوں میں بیٹھتے تو ایسا لگتا گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں ، شعبہ  (راوی)  کہتے ہیں پھر سعد نے اپنے دونوں ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دی  تو میں نے کہا : یہاں تک کہ آپ کھڑے ہوجاتے ؟ تو انہوں نے کہا : یہاں تک کہ آپ کھڑے ہوجاتے 

امام ترمذی کہتے ہیں
یہ حدیث حسن ہے، مگر ابوعبیدہ کا اپنے باپ سے سماع نہیں ہے،  اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ کو لمبا نہ کرے اور تشہد سے زیادہ کچھ نہ پڑھے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نے تشہد سے زیادہ کوئی چیز پڑھی تو اس پر سہو کے دو سجدے لازم ہوجائیں گے، شعبی وغیرہ سے اسی طرح سے مروی ہے ۔


    وضاحت
یعنی بہت جلد اٹھ جاتے۔یعنی چپکے سے کوئی بات کہی جسے میں سن نہیں سکا. ابن مسعود (رض) کا یہ اثر تو سنداً ضعیف ہے  مگر ابوبکر (رض) سے مروی اثر جو اسی معنی میں ہے صحیح ہے ، اور اسی پر امت کا تعامل ہے۔  


Translation
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that when Allah’s Messenger sat down at the end of the first two raka’at was as though he was on hot stones. (meaning hurried through). Shu’bah said, “Sa’d then moved his lips in murmur. So I added: Till he stood up. Sad also confirmed, Till he had stood.


باب ما جاء فی الاشارة فی الصلاۃ

حدیث 377

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَائِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً وَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ بِلَالٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَعَائِشَةَ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  صہیب (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ  ﷺ  کے پاس سے گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، راوی  (ابن عمر)  کہتے ہیں کہ میرا یہی خیال ہے کہ صہیب نے کہا : آپ نے اپنی انگلی کے اشارے سے جواب دیا 

 امام ترمذی کہتے ہیں  صہیب کی حدیث حسن ہے   اس باب میں بلال، ابوہریرہ، انس، ام المؤمنین عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔  


 
وضاحت
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا مشروع ہے ، یہی جمہور کی رائے ہے ، بعض لوگ اسے ممنوع کہتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ پہلے جائز تھا بعد میں منسوخ ہوگیا ، لیکن یہ صحیح نہیں ، بلکہ صحیح یہ ہے کہ پہلے نماز میں کلام کرنا جائز تھا تو لوگ سلام کا جواب بھی  وعلیکم السلام  کہہ کردیتے تھے ، پھر جب نماز میں کلام کرنا ناجائز قرار دے دیا گیا تو  وعلیکم السلام  کہہ کر سلام کا جواب دینا بھی ناجائز ہوگیا اور اس کے بدلے اشارے سے سلام کا جواب دینا مشروع ہوا ، اس اشارے کی نوعیت کے سلسلہ میں احادیث مختلف ہیں ، بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا اس طرح کہ ہاتھ کی پشت اوپر تھی اور ہتھیلی نیچے تھی ، اور بعض احادیث میں ہے کہ آپ  ﷺ  نے سر سے اشارہ کیا ان سب سے معلوم ہوا کہ یہ تینوں صورتیں جائز ہیں۔


Translation
Sayyidina Suhayb (RA) reported that Allah’s Messenger was offering salah when he passed by. So, he greeted him with salaam. The Prophet ﷺ gestured his response. The narrator said, “I do not know whether he said that he gestured with his fingers.


حدیث 378

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ لِبِلَالٍ کَيْفَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ کَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ کَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَحَدِيثُ صُهَيْبٍ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ بُکَيْرٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ لِبِلَالٍ کَيْفَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ حَيْثُ کَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ کَانَ يَرُدُّ إِشَارَةً وَکِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي صَحِيحٌ لِأَنَّ قِصَّةَ حَدِيثِ صُهَيْبٍ غَيْرُ قِصَّةِ حَدِيثِ بِلَالٍ وَإِنْ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَوَی عَنْهُمَا فَاحْتَمَلَ أَنْ يَکُونَ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے بلال (رض) سے پوچھا کہ نبی اکرم  ﷺ  صحابہ کو جب وہ سلام کرتے اور آپ نماز میں ہوتے تو کیسے جواب دیتے تھے ؟ تو بلال نے کہا : آپ اپنے ہاتھ کے اشارہ سے جواب دیتے تھے۔
   امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے- اور صہیب کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف لیث ہی کی روایت سے جانتے ہیں انہوں نے بکیر سے روایت کی ہے اور یہ زید ابن اسلم سے بھی مروی ہے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے بلال سے پوچھا : نبی اکرم  ﷺ  کس طرح جواب دیتے تھے جب لوگ مسجد بنی عمرو بن عوف میں آپ کو سلام کرتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ اشارے سے جواب دیتے تھے۔ میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اس لیے کہ صہیب (رض) کا قصہ بلال (رض) کے قصے کے علاوہ ہے، اگرچہ ابن عمر (رض) نے ان دونوں سے روایت کی ہے، تو اس بات کا احتمال ہے کہ انہوں نے دونوں سے سنا ہو   


Translation
Sayyidina Ibn Umar (RA) asked Sayyidina Bilal (RA) , “How did the Prophet ﷺ (RA) respond to them when they greeted him while he was engaged in salah.” He said, “He gestured with his hand.


باب ما جاء ان التسیح للرجال والتصفیق للنساء

حدیث 379

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَائِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ


حدیث 380

 و قَالَ عَلِيٌّ کُنْتُ إِذَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبَّحَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :  نماز میں مردوں کے لیے  سبحان اللہ  کہہ کر امام کو اس کے سہو پر متنبہ کرنا اور عورتوں کے لیے دستک دینا ہے  
    امام ترمذی کہتے ہیں ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں علی، سہل بن سعد، جابر، ابوسعید، ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، علی (رض) کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم  ﷺ  سے اندر آنے کی اجازت مانگتا اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ سبحان اللہ کہتے- اہل علم کا اسی پر عمل ہے احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔

   وضاحت 

 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب امام نماز میں بھول جائے تو مرد سبحان اللہ کہہ کر اسے متنبہ کریں اور عورتیں زبان سے کچھ کہنے کے بجائے سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر مار کر اسے متنبہ کریں ، کچھ لوگ  سبحان اللہ  کہنے کے بجائے  اللہ اکبر  کہہ کر امام کو متنبہ کرتے ہیں یہ سنت سے ثابت نہیں ہے

 

Translation
Sayyidina Abu Hurayrah ﷺ reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The tasbih is for men and the tasfiq is for women (if the imam forgets in prayer and they have to call his attention to it).


باب ما جاء فی کراھیة التثاوب فی الصلاۃ 

حدیث 381

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَدِّ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ کَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنِّي لَأَرُدُّ التَّثَاؤُبَ بِالتَّنَحْنُحِ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا :  نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے  
  امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں ابو سعید خدری اور عدی بن ثابت کے دادا  (عبید بن عازب)  سے بھی احادیث آئی ہیں اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے نماز میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں جمائی کو کھنکھار سے لوٹا دیتا ہوں۔

   وضاحت 

 اور اگر روکنا ممکن نہ ہو تو منہ پر ہاتھ رکھے ، کہتے ہیں : ہاتھ رکھنا بھی اسے روکنے کی کوشش ہے ، جس کا حکم حدیث میں ہے۔


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Yawning in prayer is from the devil. If one gets the urge to yawn, he must suppress it by shutting his mouth as far as possible (trying to prevent it).


باب ما جاء ان الصلاۃ القاعد علی النصف من صلاۃ القائم

حدیث 382

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ مَنْ صَلَّی قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّی قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ صَلَّی نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَسٍ وَالسَّائِبِ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  سے آدمی کی نماز کے بارے میں پوچھا جسے وہ بیٹھ کر پڑھ رہا ہو ؟ تو آپ نے فرمایا :  جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ بیٹھ کر پڑھنے والے کے بالمقابل افضل ہے، کیونکہ اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا، اور جو لیٹ کر پڑھے اسے بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ملے گا  
 امام ترمذی کہتے ہیں عمران بن حصین کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں عبداللہ بن عمرو، انس، سائب اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔  

  وضاحت 

اور یہ فرمان نفل نماز کے بارے میں ہے ، جیسا کہ آگے آ رہا ہے


Translation
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) said that he asked Allah’s Messneger ﷺ about the prayer of a man while he is sitting down. He said, “He who prays while standing is more excellent. And he who prays while sitting down, for him is reward half of one who is standing. One who prays lying down, for him is reward a1f of he who is sitting.


حدیث 383

وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْمَرِيضِ فَقَالَ صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَی جَنْبٍ حَدَّثَنَا بِذَلِکَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَی عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ نَحْوَ رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ وَقَدْ رَوَی أَبُو أُسَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ نَحْوَ رِوَايَةِ عِيسَی بْنِ يُونُسَ وَمَعْنَی هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ إِنْ شَائَ الرَّجُلُ صَلَّی صَلَاةَ التَّطَوُّعِ قَائِمًا وَجَالِسًا وَمُضْطَجِعًا وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي صَلَاةِ الْمَرِيضِ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ جَالِسًا فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يُصَلِّي عَلَی جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ و قَالَ بَعْضُهُمْ يُصَلِّي مُسْتَلْقِيًا عَلَی قَفَاهُ وَرِجْلَاهُ إِلَی الْقِبْلَةِ قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْ صَلَّی جَالِسًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ قَالَ هَذَا لِلصَّحِيحِ وَلِمَنْ لَيْسَ لَهُ عُذْرٌ يَعْنِي فِي النَّوَافِلِ فَأَمَّا مَنْ کَانَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ أَوْ غَيْرِهِ فَصَلَّی جَالِسًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَقَدْ رُوِيَ فِي بَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ مِثْلُ قَوْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ


ترجمہ

 یہ حدیث ابراہیم بن طہمان کے طریق سے بھی  اسی سند سے مروی ہے، مگر اس میں یوں ہے  عمران بن حصین کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  سے مریض کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا  کھڑے ہو کر پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر پہلو کے بل پڑھو
 
 امام ترمذی کہتے ہیں  اہل علم کے نزدیک اس حدیث میں جس نماز کا ذکر ہے اس سے مراد نفلی نماز ہے۔

  ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، اور ابن عدی نے اشعث بن عبدالملک سے اور اشعث نے حسن سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ نفل نماز اگر چاہے تو آدمی کھڑے ہو کر پڑھے اور چاہے تو بیٹھ کر پڑھے اور چاہے تو لیٹ کر،اور مریض کی نماز کے سلسلہ میں جب وہ بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکے اہل علم نے اختلاف کیا ہے  بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹ کر پڑھے، اور بعض کہتے ہیں اپنی گدی کے بل چت لیٹ کر پڑھے اور اس کے دونوں پاؤں قبلہ کی طرف ہوں سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس حدیث میں جو یہ ہے کہ جو بیٹھ کر نماز پڑھے گا اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کے آدھا ثواب ملے گا تو یہ  (نوافل)  میں تندرست کے لیے ہے اور اس شخص کے لیے ہے جسے کوئی عذر  (شرعی)  نہ ہو، رہا وہ شخص جس کے پاس بیماری یا کسی اور چیز کا عذر ہو اور وہ بیٹھ کر  (فرض)  نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی طرح پورا پورا ثواب ملے گا۔ اس حدیث کے بعض طرق میں سفیان ثوری کے قول کی طرح کا مضمون  (مرفوعاً بھی)  مروی ہے


Translation
It is also reported from Ibrahim ibn Tahman from the same isnad, but his words are: Imran ibn Husayn (RA) said that he asked Allah’s Messenger ﷺ about the salah of a sick person and he said, “He should offer it standing up. If he cannot, then sitting down, but if he cannot offer it even siting down then lying down.


باب فیمن ینطوع جالسا 

حدیث 384

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا حَتَّی کَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَإِنَّهُ کَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّی تَکُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ حَفْصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَبِيّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ جَالِسًا فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَائَتِهِ قَدْرُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّکْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِکَ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ کَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَالْعَمَلُ عَلَی کِلَا الْحَدِيثَيْنِ کَأَنَّهُمَا رَأَيَا کِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا مَعْمُولًا بِهِمَا


ترجمہ

 ام المؤمنین حفصہ (رض) کہتی ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو کبھی بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ جب وفات میں ایک سال رہ گیا تو آپ بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے لگے۔ اور سورت پڑھتے تو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہوجاتی۔
   امام ترمذی کہتے ہیں حفصہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  اس باب میں ام سلمہ اور انس بن مالک (رض) سے بھی احادیث آئی ہے،  نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے کہ آپ رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہوجاتے اور قرأت کرتے پھر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ ہی کر کرتے۔   احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دونوں حدیثیں صحیح اور معمول بہ ہیں 


   وضاحت

 لیکن نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے سے آپ  ﷺ  کا اجر امتیوں کی طرح آدھا نہیں ہے ، یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔


Translation
Sayyidah Hafsah (RA) the Prophet’s wife, said, “I had never seen Allah’s Messenger ﷺ offer the optional salah sitting down till one year before his death he began to offer it sitting down and whichever surah he recited in it, he recited with pauses till it became lengthier than it was.


حدیث 385

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَائَتِهِ قَدْرُ مَا يَکُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّکْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرأت بھی بیٹھ ہی کر کرتے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہوجاتے اور انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔  امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 


Translation
Sayyidah Aisha (RA) said that the Prophet ﷺ used to offer salah sitting down. He recited the Qur’an while he was seated, and when there remained in his recital the equal of thirty or forty verses, he stood up and recited. Then he went into ruku and sajdah. Then he observed the same thing in the second raka’ah.


حدیث 386

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ وَهُوَ الْحَذَّائُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَطَوُّعِهِ قَالَتْ کَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ جَالِسٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ  میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ  ﷺ  کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ رات تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور دیر تک بیٹھ کر پڑھتے جب آپ کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے کھڑے کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔     


Translation
Abdullah ibn Shaqiq narrated that he asked Sayyidah Aisha (RA) about the salah of Allah’s Messenger the supererogatory thereof. She said that he used to pray long into the night, standing up. And (he used to pray) long into the night, sitting down. If he recited while he was standing then he went into ruku and sajdah from there. And if he recited while he was seated then he went into ruku and sajdah from there


باب ما جاء ان النبی قال آنی لاسمع بکاء الصبی فی الصلاۃ فاخفف

حدیث 387

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِيِّ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ فَأُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَتَنَ أُمُّهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا : قسم ہے اللہ کی ! جب نماز میں ہوتا ہوں اور اس وقت بچے کا رونا سنتا ہوں تو اس ڈر سے نماز کو ہلکی کردیتا ہوں کہ اس کی ماں کہیں فتنے میں نہ مبتلا ہوجائے
     امام ترمذی کہتے ہیں  انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  اس باب میں ابوقتادہ ابوسعید اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔


  وضاحت 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کو ایسی صورت میں یا اسی طرح کی صورتوں میں بروقت نماز ہلکی کر دینی چاہیئے ، تاکہ بچوں کی مائیں ان کے رونے اور چلانے سے گھبرا نہ جائیں۔


Translation
Sayyidina Anas ibn Mallik reported that Allah’s Messenger L said, “Hardly do I hear a child cry that I shorten my salah so that its mother may not worry.


باب ما جاء لا تقبل صلاۃ الخائض الا بخمار

حدیث 388

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ الْحَائِضِ إِلَّا بِخِمَارٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَقَوْلُهُ الْحَائِضِ يَعْنِي الْمَرْأَةَ الْبَالِغَ يَعْنِي إِذَا حَاضَتْ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَدْرَکَتْ فَصَلَّتْ وَشَيْئٌ مِنْ شَعْرِهَا مَکْشُوفٌ لَا تَجُوزُ صَلَاتُهَا وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ قَالَ لَا تَجُوزُ صَلَاةُ الْمَرْأَةِ وَشَيْئٌ مِنْ جَسَدِهَا مَکْشُوفٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَقَدْ قِيلَ إِنْ کَانَ ظَهْرُ قَدَمَيْهَا مَکْشُوفًا فَصَلَاتُهَا جَائِزَةٌ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کی جاتی    
 امام ترمذی کہتے ہیں  ام المؤمنین عائشہ (رض) کی حدیث حسن ہے - اس باب میں عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی روایت ہے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب عورت بالغ ہوجائے اور نماز پڑھے اور اس کے بال کا کچھ حصہ کھلا ہو تو اس کی نماز جائز نہیں، یہی شافعی کا بھی قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عورت اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ کھلا ہو جائز نہیں، نیز شافعی یہ بھی کہتے ہیں کہ کہا گیا ہے : اگر اس کے دونوں پاؤں کی پشت کھلی ہو تو نماز درست ہے


 وضاحت 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے سر کے بال ستر میں داخل ہیں ، اور ستر کو ڈھکے بغیر نماز نہیں ہوتی۔  اس مسئلہ میں اگرچہ علماء کا اختلاف ہے مگر تحقیقی بات یہی ہے کہ عورت کے قدم ستر میں داخل نہیں ہیں ، اس لیے کھلے قدم نماز ہوجائے گی جیسے ہتھیلیوں کے کھلے ہونے کی صورت میں عورت کی نماز جائز ہے ، عورتوں کے پاؤں ڈھکنے کی حدیث جو ام سلمہ (رض) سے مروی ہے ، جو موقوفاً و مرفوعاً دونوں حالتوں میں ضعیف ہے۔


Translation
Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The salah of a young girl without a veil is not approved.


باب ما جاء فی کراھیة السدل فی الصلاۃ

حدیث 389

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ فَکَرِهَ بَعْضُهُمْ السَّدْلَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالُوا هَکَذَا تَصْنَعُ الْيَهُودُ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّمَا کُرِهَ السَّدْلُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا لَمْ يَکُنْ عَلَيْهِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَأَمَّا إِذَا سَدَلَ عَلَی الْقَمِيصِ فَلَا بَأْسَ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَکَرِهَ ابْنُ الْمُبَارَکِ السَّدْلَ فِي الصَّلَاةِ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے
 
   امام ترمذی کہتے ہیں  ہم ابوہریرہ (رض) کی حدیث کو عطا کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی ہے عسل بن سفیان ہی کے طریق سے جانتے ہیں،  اس باب میں ابوجحیفہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ سدل کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے : بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں سدل کرنا مکروہ ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح یہود کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نماز میں سدل اس وقت مکروہ ہوگا جب جسم پر ایک ہی کپڑا ہو، رہی یہ بات کہ جب کوئی کرتے کے اوپر سدل کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں   یہی احمد کا قول ہے لیکن ابن مبارک نے نماز میں سدل کو  (مطلقاً )  مکروہ قرار دیا ہے۔

   وضاحت

  سدل کی صورت یہ ہے کہ چادر یا رومال وغیرہ کو اپنے سر یا دونوں کندھوں پر ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو لٹکتا چھوڑ دیا جائے اور سدل کی ایک تفسیر یہ بھی کی جاتی ہے کہ کرتا یا جبہ اس طرح پہنا جائے کہ دونوں ہاتھ آستین میں ڈالنے کے بجائے اندر ہی رکھے جائیں اور اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا جائے۔ اس تقیید پر کوئی دلیل نہیں ہے ، حدیث مطلق ہے اس لیے کہ سدل مطلقاً جائز نہیں ، کرتے کے اوپر سے سدل میں اگرچہ ستر کھلنے کا خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے نماز میں خلل تو پڑتا ہی ہے ، چاہے سدل کی جو بھی تفسیر کی جائے۔   


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ disallowed sadl in salah.


باب ما جاء فی کراھیة مسح الحصی فی الصلاۃ

حدیث 390

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ إِلَی الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحْ الْحَصَی فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ


ترجمہ

 ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا :  جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے سے کنکریاں نہ ہٹائے   کیونکہ اللہ کی رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے ۔  
 امام ترمذی کہتے ہیں  ابوذر کی حدیث حسن ہے،  اس باب میں معیقیب، علی بن ابی طالب، حذیفہ، جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  نبی اکرم  ﷺ  سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے نماز میں کنکری ہٹانے کو ناپسند کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ہٹانا ضروری ہو تو ایک بار ہٹا دے، گویا آپ سے ایک بار کی رخصت مروی ہے،  اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔


  وضاحت 

اس ممانعت  وجہ یہ ہے کہ نمازی نماز میں نماز کے علاوہ دوسری چیزوں کی طرف متوجہ نہ ہو ، اس لیے کہ اللہ کی رحمت اس کی جانب متوجہ ہوتی ہے ، اگر وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ کرتا ہے تو اندیشہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس سے روٹھ جائے اور وہ اس سے محروم رہ جائے اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔   


Translation
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When one of you stands up for prayer, he must not brush aside the pebbles, for, indeed, the mercy is in front of him.


حدیث 391

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَيْقِيبٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَی فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ إِنْ کُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَيْقِيبٍ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَحُذَيْفَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَرِهَ الْمَسْحَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ إِنْ کُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً وَاحِدَةً کَأَنَّهُ رُوِيَ عَنْهُ رُخْصَةٌ فِي الْمَرَّةِ الْوَاحِدَةِ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ


ترجمہ

 معیقیب (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے نماز میں کنکری ہٹانے کے سلسلے میں رسول اللہ  ﷺ  سے پوچھا تو آپ نے فرمایا :  اگر ہٹانا ضروری ہی ہو تو ایک بار ہٹا لو ۔
   امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے۔   


Translation
Sayyidina Mu’ayqib said that he asked Allah’s Messenger ﷺ about brushing aside pebbles while in salah. He said, “If you must do it, then (do) just once.


باب ما جاء فی کراھیة النفخ فی الصلاۃ

حدیث 392

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَی طَلْحَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ رَأَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَنَا يُقَالُ لَهُ أَفْلَحُ إِذَا سَجَدَ نَفَخَ فَقَالَ يَا أَفْلَحُ تَرِّبْ وَجْهَکَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَکَرِهَ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ النَّفْخَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ إِنْ نَفَخَ لَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَبِهِ نَأْخُذُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَرَوَی بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ مَوْلًی لَنَا يُقَالُ لَهُ رَبَاحٌ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ غُلَامٌ لَنَا يُقَالُ لَهُ رَبَاحٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاکَ وَمَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي النَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنْ نَفَخَ فِي الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ الصَّلَاةَ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ و قَالَ بَعْضُهُمْ يُکْرَهُ النَّفْخُ فِي الصَّلَاةِ وَإِنْ نَفَخَ فِي صَلَاتِهِ لَمْ تَفْسُدْ صَلَاتُهُ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ


ترجمہ

 ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے ہمارے  (گھر کے)  ایک لڑکے کو دیکھا جسے افلح کہا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ہے، تو آپ نے فرمایا   افلح ! اپنے چہرے کو گرد آلودہ کر    احمد بن منیع کہتے ہیں کہ عباد بن العوام نے نماز میں پھونک مارنے کو مکروہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی نے پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز باطل نہ ہوگی۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ اسی کو ہم بھی اختیار کرتے ہیں۔
   امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کو بعض دیگر لوگوں نے ابوحمزہ کے واسطہ سے روایت کی ہے۔ اور «غلاما لنا يقال له أفلح» کے بجائے «مولی لنا يقال له رباح»  (ہمارے مولیٰ کو جسے رباح کہا جاتا تھا)  کہا ہے۔
 وضاحت  کیونکہ تواضع سے یہی زیادہ قریب تر ہے۔

 اس سند سے حماد بن زید نے  میمون ابی حمزہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اور اس میں «غلام لنا يقال له رباح» ہے۔ 

  امام ترمذی کہتے ہیں  ام سلمہ (رض) کی حدیث کی سند کچھ زیادہ قوی نہیں، میمون ابوحمزہ کو بعض اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے،  اور نماز میں پھونک مارنے کے سلسلہ میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں پھونک مارے تو وہ نماز دوبارہ پڑھے، یہی قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ نماز میں پھونک مارنا مکروہ ہے، اور اگر کسی نے اپنی نماز میں پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا قول ہے۔     


Translation
Sayyidina Umm Salamah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ saw, a boy whom we called Aflah, blow (on the ground) when he prostrated. So, he said to him, “O Aflah, let your face get the dust.

Ahmad ibn Abduh ad-Da’bi reported a similar account from Hammad ibn Zayd who from Maymun Abu Hamzah through the same isnad and said, “The boy was our slave called Rabah.


باب ما جاء فی النھی عن اختصار فی الصلاۃ

حدیث 393

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ کَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الِاخْتِصَارَ فِي الصَّلَاةِ وَکَرِهَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا وَالِاخْتِصَارُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَی خَاصِرَتِهِ فِي الصَّلَاةِ أَوْ يَضَعَ يَدَيْهِ جَمِيعًا عَلَی خَاصِرَتَيْهِ وَيُرْوَی أَنَّ إِبْلِيسَ إِذَا مَشَی مَشَی مُخْتَصِرًا


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا 
   امام ترمذی کہتے ہیں ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی حدیث آئی ہے، بعض اہل علم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے، اور بعض نے آدمی کے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلنے کو مکروہ کہا ہے، اور اختصار یہ ہے کہ آدمی نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھے، یا اپنے دونوں ہاتھ اپنی کوکھوں پر رکھے۔ اور روایت کی جاتی ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلتا ہے  

 
   وضاحت 

 یہ ممانعت اس لیے ہے کہ یہ تکبر کی علامت ہے جب کہ نماز اللہ کے حضور عجز و نیاز مندی کے اظہار کا نام ہے۔    


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said that the Prophet ﷺ disallowed that a man should pray with his hands placed on his ribs.


باب ما جاء فی کراھیة کف الشعر فی الصلاۃ

حدیث 394

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ مَرَّ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ ضَفِرَتَهُ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهَا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ مُغْضَبًا فَقَالَ أَقْبِلْ عَلَی صَلَاتِکَ وَلَا تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِکَ کِفْلُ الشَّيْطَانِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ کَرِهُوا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ مَعْقُوصٌ شَعْرُهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی هُوَ الْقُرَشِيُّ الْمَکِّيُّ وَهُوَ أَخُو أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی


ترجمہ
 ابورافع (رض) سے روایت ہے کہ  وہ حسن بن علی (رض) کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی گدی پر جوڑا باندھ رکھا تھا ابورافع (رض) نے اسے کھول دیا حسن (رض) نے ان کی طرف غصہ سے دیکھا تو انہوں نے کہا  اپنی نماز پر توجہ دو اور غصہ نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو یہ فرماتے سنا ہے کہ  یہ شیطان کا حصہ ہے  
           امام ترمذی کہتے ہیں
 ابورافع (رض) کی حدیث حسن ہے،  اس باب میں ام سلمہ اور عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 اسی پر اہل علم کا عمل ہے ان لوگوں نے اس بات کو مکروہ کہا کہ نماز پڑھے اور وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہو

 

 وضاحت
لیکن یہ مردوں کے لیے ہے عورتوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں عورتوں کو تو نبی اکرم  ﷺ  نے غسل جنابت تک میں جوڑا کھولنے سے معاف کردیا ہے  نماز میں عورت کے جوڑا کھولنے سے اس کے بال اوڑھنی سے باہر نکل سکتے ہیں جب کہ عورت کے بال نماز کی حالت میں اوڑھنی سے باہر نکلنے سے نماز باطل ہوجائے گی نیز ہر نماز کے وقت جوڑا کھول دینے اور نماز کے بعد باندھ لینے میں پریشانی بھی ہے

 
Translation
Sa’eed ibn Sa’eed Maqburi reported from his father who on that he came across Sayyidina Hasan ibn Ali (RA) who was praying. He had tied his hair in a knot on his nape. Abu Rafi unknotted it. Sayyidina Hasan (RA) looked at him in anger, but he said, “Continue your salah and do not show anger. I have heard Allah’s Messenger say that this is the devil’s rump.


باب ما جاء فی التخشع فی الصلاۃ

حدیث 395

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَائِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ مَثْنَی مَثْنَی تَشَهَّدُ فِي کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَتَخَشَّعُ وَتَضَرَّعُ وَتَمَسْکَنُ وَتَذَرَّعُ وَتُقْنِعُ يَدَيْکَ يَقُولُ تَرْفَعُهُمَا إِلَی رَبِّکَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَکَ وَتَقُولُ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِکَ فَهُوَ کَذَا وَکَذَا قَالَ أَبُو عِيسَی و قَالَ غَيْرُ ابْنِ الْمُبَارَکِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِکَ فَهِيَ خِدَاجٌ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ رَوَی شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ فَأَخْطَأَ فِي مَوَاضِعَ فَقَالَ عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ وَقَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَائِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ يَعْنِي أَصَحَّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَة


ترجمہ
 فضل بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا نماز دو دو رکعت ہے اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، نماز خشوع و خضوع مسکنت اور گریہ وزاری کا اظہار ہے اور تم اپنے دونوں ہاتھ اٹھاؤ۔ یعنی تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے رب کے سامنے اٹھاؤ اس حال میں کہ ہتھیلیاں تمہارے منہ کی طرف ہوں اور کہہ  اے رب ! اے رب ! اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ ایسا ایسا ہے        
             امام ترمذی کہتے ہیں
 ابن مبارک کے علاوہ اور لوگوں نے اس حدیث میں «من لم يفعل ذلک فهي خداج»  جس نے ایسا نہیں کیا اس کی نماز ناقص ہے  کہا ہے
 میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ شعبہ نے یہ حدیث عبدربہ بن سعید سے روایت کی ہے اور ان سے کئی مقامات پر غلطیاں ہوئی ہیں ایک تو یہ کہ انہوں نے انس بن ابی انس سے روایت کی حالانکہ وہ عمران بن ابی انس ہیں دوسرے یہ کہ انہوں نے «عن عبدالله بن حارث» کہا ہے حالانکہ وہ «عبدالله بن نافع بن العمياء عن ربيعة بن الحارث» ہے تیسرے یہ کہ شعبہ نے «عن عبدالله بن الحارث عن المطلب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کہا ہے حالانکہ صحیح «عن ربيعة بن الحارث بن عبدالمطلب عن الفضل بن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» ہے  محمد بن اسماعیل  (بخاری)  کہتے ہیں  لیث بن سعد کی حدیث صحیح ہے یعنی شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ورنہ اصلاً تو ضعیف ہی ہے


Translation
Sayyidina Fadl ibn Abbas (RA) said that Allah’s Messenger said, “Salah is in twos, the tashahhud after every two rakaat. It is to be humble and pleading, fearful and beseeching and to raise both hands.” The narrator explained that the insides of the hands should be towards the face and raised, and one should plead, “O my Lord, O my Lord!” One who does not do that is like this and like that


باب ما جاء فی کراھیة التشیک بین الاصابع فی الصلاۃ

حدیث 396

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوئَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَی الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّکَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَرَوَی شَرِيکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ شَرِيکٍ غَيْرُ مَحْفُوظ


ترجمہ
 کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو وہ «تشبیک» نہ کرے  یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست نہ کرے  کیونکہ وہ نماز میں ہے
           امام ترمذی کہتے ہیں
 کعب بن عجرہ کی حدیث کو ابن عجلان سے کئی لوگوں نے لیث والی حدیث کی طرح روایت کی ہے
 اور شریک نے بطریق : «محمد بن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور شریک کی روایت غیر محفوظ ہے 
پہلی سند میں ایک راوی مبہم ہے، نیز اس سند میں سخت اضطراب بھی ہے اس لیے یہ سند ضعیف ہے اور دوسری سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، جن کی حدیث کے بارے میں ترمذی کہتے ہیں کہ یہ غیر محفوظ ہے، لیکن اس حدیث کی اصل بسند اسماعیل بن امیہ عن سعید المقبری عن ابی ہریرہ مرفوعا صحیح ہے


 وضاحت
کیونکہ شریک نے لیث اور دیگر کئی لوگوں کی مخالفت کی ہے ، نیز شریک کا حافظہ کمزور ہوگیا تھا اور وہ روایت میں بہت غلطیاں کرتے تھے ، اس کے برخلاف لیث بن سعد حد درجہ ثقہ ہیں


Translation
Sayyidina Ka’b ibn Ujrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘When one of you makes ablution, and makes it well, then resolves to go to the mosque, let him not lock the figers of one hand into those of the other because he is in prayer


باب ما جاء فی طول القیام فی الصلاۃ 

حدیث 397

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ


ترجمہ
 جابر (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  سے پوچھا گیا کون سی نماز افضل ہے ؟ تو آپ نے فرمایا  جس میں قیام لمبا ہو  
         امام ترمذی کہتے ہیں
 جابر بن عبداللہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے اور یہ دیگر سندوں سے بھی جابر بن عبداللہ سے مروی ہے
اس باب میں عبداللہ بن حبشی اور انس بن مالک (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


 وضاحت
 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ طول قیام کثرت رکوع و سجود سے افضل ہے  علماء کی ایک جماعت جس میں امام شافعی بھی شامل ہیں اسی طرف گئی ہے اور یہی حق ہے  رکوع اور سجود کی فضیلت میں جو حدیثیں وارد ہیں وہ اس کے منافی نہیں ہیں کیونکہ ان دونوں کی فضیلت سے طول قیام پر ان کی ا فضیلت لازم نہیں آتی۔ واضح رہے کہ یہ نفل نماز سے متعلق ہے کیونکہ ایک تو فرض کی رکعتیں متعین ہیں  دوسرے امام کو حکم ہے کہ ہلکی نماز پڑھائے


Translation
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked, “Which salah is excellent?” He said,

 (The one with a) lengthy qiyam (standing)


باب ما جاء فی کثرة الرکوع والسجود

حدیث 398

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ و حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ رَجَائٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ قَالَ لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ دُلَّنِي عَلَی عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ وَيُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَسَکَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ عَلَيْکَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً قَالَ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ ثَوْبَانَ فَقَالَ عَلَيْکَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً قَالَ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَأَبِي فَاطِمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ثَوْبَانَ وَأَبِي الدَّرْدَائِ فِي کَثْرَةِ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ طُولُ الْقِيَامِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ کَثْرَةِ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ و قَالَ بَعْضُهُمْ کَثْرَةُ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ أَفْضَلُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ و قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا حَدِيثَانِ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْئٍ و قَالَ إِسْحَقُ أَمَّا فِي النَّهَارِ فَکَثْرَةُ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَمَّا بِاللَّيْلِ فَطُولُ الْقِيَامِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَجُلٌ لَهُ جُزْئٌ بِاللَّيْلِ يَأْتِي عَلَيْهِ فَکَثْرَةُ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ فِي هَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ لِأَنَّهُ يَأْتِي عَلَی جُزْئِهِ وَقَدْ رَبِحَ کَثْرَةَ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَإِنَّمَا قَالَ إِسْحَقُ هَذَا لِأَنَّهُ کَذَا وُصِفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَوُصِفَ طُولُ الْقِيَامِ وَأَمَّا بِالنَّهَارِ فَلَمْ يُوصَفْ مِنْ صَلَاتِهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ مَا وُصِفَ بِاللَّيْلِ


ترجمہ
 معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ  میں نے نبی اکرم  ﷺ  کے آزاد کردہ غلام ثوبان (رض) سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو  کیونکہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ  جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا


وضاحت
 یعنی زیادہ سے زیادہ نفل نمازیں پڑھا کرو اور ظاہر بات ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھے گا تو ان میں زیادہ سے زیادہ رکوع اور سجدے ہوں گے
   معدان کہتے ہیں کہ  پھر میری ملاقات ابو الدرداء (رض) سے ہوئی تو میں نے ان سے بھی اسی چیز کا سوال کیا جو میں نے ثوبان (رض) سے کیا تھا تو انہوں نے بھی کہا کہ تم سجدے کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے سنا ہے کہ  جو بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک گناہ مٹا دے گا
         امام ترمذی کہتے ہیں
 رکوع اور سجدے کثرت سے کرنے کے سلسلے کی ثوبان اور ابوالدرداء (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے  اس باب میں ابوہریرہ، ابوامامہ اور ابوفاطمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز میں دیر تک قیام کرنا کثرت سے رکوع اور سجدہ کرنے سے افضل ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا دیر تک قیام کرنے سے افضل ہے احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم  ﷺ  سے اس سلسلے میں دونوں طرح کی حدیثیں مروی ہیں، لیکن اس میں کون راجح ہے اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی ہے اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دن میں کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا افضل ہے اور رات میں دیر تک قیام کرنا الا یہ کہ کوئی شخص ایسا ہو جس کا رات کے حصہ میں قرآن پڑھنے کا کوئی حصہ متعین ہو تو اس کے حق میں رات میں بھی رکوع اور سجدے کثرت سے کرنا بہتر ہے کیونکہ وہ قرآن کا اتنا حصہ تو پڑھے گا ہی جسے اس نے خاص کر رکھا ہے اور کثرت سے رکوع اور سجدے کا نفع اسے الگ سے حاصل ہوگا
اسحاق بن راہویہ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  کے قیام اللیل  (تہجد)  کا حال بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس میں دیر تک قیام کیا کرتے تھے رہی دن کی نماز تو اس کے سلسلہ میں یہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ آپ ان میں رات کی نمازوں کی طرح دیر تک قیام کرتے تھے


Translation
Awza’i (RA) said that Walid ibn Hisham al-Mu’ayti reported to him that Ma’dan ibn Talhah al-Ya’muri narrated to him that he met Sayyidina Thawban (RA) (the freedman of Allah’s Messenger ﷺ ) He asked him, “Guide me to a deed that should benefit me in the sight of Allah and he may admit me to Paradise.” He thought over a moment, then turning to him  said. “You should make (plenty of) prostrations for. I have heard Allah’s Messenger ﷺ say, “No slave of Allah prostrates before Allah but he raises him a degree and erases from him a sin.”Ma’dan said that he then met Abu Darda (RA) and put the same question to him as he had put to Thawban. He said, “It is upon you to make prostrations, for, I have.heard Allah’s Messenger say, Hardly does a slave of Allah prostrate to Allah that he raises him in a rank and erases from him a sin.”


باب ما جاء فی قتل الاسودین فی الصلاۃ

حدیث 399

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي رَافِعٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَکَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ قَتْلَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلَاةِ و قَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ


ترجمہ
 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے دونوں کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو نماز میں مارنے کا حکم دیا ہے 
          امام ترمذی کہتے ہیں ابوہریرہ رض کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں ابن عباس اور ابورافع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں
 اور بعض اہل علم نے نماز میں سانپ اور بچھو کے مارنے کو مکروہ کہا ہے ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نماز خود ایک شغل ہے اور یہ چیز اس میں مخل ہوگی پہلا قول  (ہی)  راجح ہے


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ commanded that the two black things the snake and the scorpion may be killed during salah


باب ما جاء فی سجدتی السھو قبل الاسلام

حدیث 400

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسَدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُکَبِّرُ فِي کُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَکَانَ مَا نَسِيَ مِنْ الْجُلُوسِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ


ترجمہ
 عبداللہ ابن بحینہ اسدی (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نماز ظہر میں کھڑے ہوگئے جب کہ آپ کو بیٹھنا تھا چناچہ جب نماز پوری کرچکے تو سلام پھیرنے سے پہلے آپ نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے آپ نے ہر سجدے میں اللہ اکبر کہا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ سہو کیے
          امام ترمذی کہتے ہیں
 ابن بحینہ کی حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے بھی حدیث آئی ہے
 محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ اور عبداللہ بن سائب قاری (رض) دونوں سہو کے دونوں سجدے سلام سے پہلے کرتے تھے
 اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ان کی رائے ہے کہ سجدہ سہو ہر صورت میں سلام سے پہلے ہے اور یہ حدیث دوسری حدیثوں کی ناسخ ہے کیونکہ نبی اکرم  ﷺ  کا عمل آخر میں اسی پر رہا ہے
 اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے تو وہ ابن بحینہ (رض) کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے
 علی بن مدینی کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن بحینہ ہی عبداللہ بن مالک ہیں ابن بحینہ کے باپ مالک ہیں اور بحینہ ان کی ماں ہیں
 سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ اسے آدمی سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے
اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے یہی قول اکثر فقہاء مدینہ کا ہےمثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ وغیرہ کا اور یہی قول شافعی کا بھی ہے
اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے یہی قول مالک بن انس کا ہے
 اور احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے تو ابن بحینہ (رض) کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے اور اگر ظہر اور عصر میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اسی طرح جس جس صورت میں جیسے جیسے رسول اللہ  ﷺ  کا فعل موجود ہے اس پر اسی طرح عمل کرے اور سہو کی جس صورت میں رسول اللہ  ﷺ  سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے اسحاق بن راہویہ بھی احمد کے موافق کہتے ہیں مگر فرق اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سہو کی جس صورت میں رسول اللہ  ﷺ  سے کوئی فعل موجود نہ ہو تو اس میں اگر نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور اگر کمی ہوئی ہو تو سلام سے پہلے کرے


Translation
Sayyidina Abdullah ibn Buhaynah (RA) al-Asadi, an ally of Banu Abdul Muttalib, reported that the Prophet ﷺ stood up in a salah of zuhr while he ought to have observed julus (the first sitting). When he completed the salah, he made two prostrations, raising the takbir in each while he was yet sitting down and had not yet made the salutation. The people prostrated with him. This was in compensation of the julus that he had forgotten


حدیث 401

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّائِبِ الْقَارِئَ کَانَا يَسْجُدَانِ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ بُحَيْنَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ يَرَی سَجْدَتَيْ السَّهْوِ کُلِّهِ قَبْلَ السَّلَامِ وَيَقُولُ هَذَا النَّاسِخُ لِغَيْرِهِ مِنْ الْأَحَادِيثِ وَيَذْکُرُ أَنَّ آخِرَ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَلَی هَذَا و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ عَلَی حَدِيثِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ ابْنُ بُحَيْنَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِکٍ وَهُوَ ابْنُ بُحَيْنَةَ مَالِکٌ أَبُوهُ وَبُحَيْنَةُ أُمُّهُ هَکَذَا أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي سَجْدَتَيْ السَّهْوِ مَتَی يَسْجُدُهُمَا الرَّجُلُ قَبْلَ السَّلَامِ أَوْ بَعْدَهُ فَرَأَی بَعْضُهُمْ أَنْ يَسْجُدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ و قَالَ بَعْضُهُمْ يَسْجُدُهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ وَهُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ الْفُقَهَائِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِثْلِ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةَ وَغَيْرِهِمَا وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا کَانَتْ زِيَادَةً فِي الصَّلَاةِ فَبَعْدَ السَّلَامِ وَإِذَا کَانَ نُقْصَانًا فَقَبْلَ السَّلَامِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ و قَالَ أَحْمَدُ مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَجْدَتَيْ السَّهْوِ فَيُسْتَعْمَلُ کُلٌّ عَلَی جِهَتِهِ يَرَی إِذَا قَامَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ عَلَی حَدِيثِ ابْنِ بُحَيْنَةَ فَإِنَّهُ يَسْجُدُهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ وَإِذَا صَلَّی الظُّهْرَ خَمْسًا فَإِنَّهُ يَسْجُدُهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ وَإِذَا سَلَّمَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَإِنَّهُ يَسْجُدُهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ وَکُلٌّ يُسْتَعْمَلُ عَلَی جِهَتِهِ وَکُلُّ سَهْوٍ لَيْسَ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِکْرٌ فَإِنَّ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ و قَالَ إِسْحَقُ نَحْوَ قَوْلِ أَحْمَدَ فِي هَذَا کُلِّهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ کُلُّ سَهْوٍ لَيْسَ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِکْرٌ فَإِنْ کَانَتْ زِيَادَةً فِي الصَّلَاةِ يَسْجُدُهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ وَإِنْ کَانَ نُقْصَانًا يَسْجُدُهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ


باب ما جاء فی سجدتی السھو بعد السلام والکلام

حدیث 402

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے ظہر پانچ رکعت پڑھی تو آپ سے پوچھا گیا  کیا نماز بڑھا دی گئی ہے ؟ یعنی چار کے بجائے پانچ رکعت کردی گئی ہے تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے
          امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے
  

Translation
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud reported that the Prophet ﷺ once prayed five raka’at of zuhr. So, he was asked, ‘Has the salah been increased in raka’at or have you forgotten?” So, he prostrated two prostrations after salutation.


حدیث 403

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ الْکَلَامِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاوِيَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ


ترجمہ
 عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے سہو کے دونوں سجدے بات کرنے کے بعد کئے
          امام ترمذی کہتے ہیںابن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں معاویہ عبداللہ بن جعفر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation
Sayyidina Ahdullah (RA) said that the Prophets made two prostrations of (sajdah) sahw after having some conversation


حدیث 404

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا صَلَّی الرَّجُلُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَصَلَاتُهُ جَائِزَةٌ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ وَإِنْ لَمْ يَجْلِسْ فِي الرَّابِعَةِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا صَلَّی الظُّهْرَ خَمْسًا وَلَمْ يَقْعُدْ فِي الرَّابِعَةِ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَبَعْضِ أَهْلِ الْکُوفَةِ


ترجمہ
 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے سہو کے دونوں سجدے سلام کے بعد کئے
          امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح ہے
اسے ایوب اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ابن سیرین سے روایت کیا ہے
 ابن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اہل علم کا اسی پر عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ظہر بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کی نماز درست ہے وہ سہو کے دو سجدے کرلے اگرچہ وہ چوتھی رکعت میں نہ بیٹھا ہو یہی شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے
اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے اور چوتھی رکعت میں نہ بیٹھا ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی یہ قول سفیان ثوری اور بعض کو فیوں کا ہے


وضاحت
سفیان ثوری ، اہل کوفہ اور ابوحنیفہ کا قول محض رائے پر مبنی ہے جب کہ ائمہ کرام مالک بن انس شافعی  احمد بن حنبل اور بقول امام نووی سلف وخلف کے تمام جمہور علماء مذکور بالا عبداللہ بن مسعود (رض) والی صحیح حدیث کی بنیاد پر یہی فتویٰ دیتے اور اسی پر عمل کرتے ہیں کہ اگر کوئی بھول کر اپنی نماز میں ایک رکعت اضافہ کر بیٹھے تو اس کی نماز نہ باطل ہوگی اور نہ ہی فاسد بلکہ سلام سے پہلے اگر یاد آ جائے تو سلام سے قبل سہو کے دو سجدے کرلے اور اگر سلام کے بعد یاد آئے تو بھی سہو کے دو سجدے کرلے یہی اس کے لیے کافی ہے  اس لیے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے ایسا ہی کیا تھا اور آپ نے کوئی اور رکعت پڑھ کر اس نماز کو جفت نہیں بنایا تھا


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ made the two prostrations after salutation


باب ما جاء فی التشھد فی سجدتی السھو

حدیث 405

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی النَّيْسَابُورِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَی مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَرَوَی مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ أَيْضًا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَقَدْ رَوَی عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِهِ وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَکَعَاتٍ مِنْ الْعَصْرِ فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَيْ السَّهْوِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ و قَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالَا إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ


ترجمہ
 عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہوگیا تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا

        امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے
 عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق  «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے اور وہ یہی عمران بن حصین (رض) کی حدیث ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا  اور اس نے پوچھا کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں
سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے  اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے


Translation
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ led them in prayer and forgot (something therein). So, he made two prostrations. Then recited the tashahhud then made the salutation


باب فیمن یشک فی الزیادۃ والنقصان

حدیث 406

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عِيَاضٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي کَيْفَ صَلَّی فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَلَمْ يَدْرِ کَيْفَ صَلَّی فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً وَإِذَا شَکَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ وَيَسْجُدْ فِي ذَلِکَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا شَکَّ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ کَمْ صَلَّی فَلْيُعِدْ


ترجمہ
 عیاض یعنی ابن ہلال کہتے ہیں کہ  میں نے ابو سعید خدری (رض) سے کہا : ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں یا وہ کیا کرے ؟ تو ابو سعید خدری (رض) نے کہا کہ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا ہے  جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ کتنی پڑھی ہے ؟ تو وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد    امام ترمذی کہتے ہیں  ابوسعید (رض) کی حدیث حسن ہے اس باب میں عثمان، ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ وغیرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
یہ حدیث ابوسعید سے دیگر کئی سندوں سے بھی مروی ہے
 نبی اکرم  ﷺ  سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا  جب تم سے کسی کو ایک اور دو میں شک ہوجائے تو اسے ایک ہی مانے اور جب دو اور تین میں شک ہو تو اسے دو مانے اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے اسی پر ہمارے اصحاب  (محدثین)  کا عمل ہے
 اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب کسی کو اپنی نماز میں شبہ ہوجائے اور وہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ؟ تو وہ پھر سے لوٹائے 


وضاحت
اور یہی راجح مسئلہ ہے 
 یہ مرجوح قول ہے

 

Translation
Yahya ibn Abu Kathir reported from lyad ibn Hilal that he said to Sayyidina Abu Sa’eed (RA), “One of us prays, but does not recollect how he has prayed.” So he narrated that Allah’s Messenger said, “When one of you has offered salah but does not recollect how he had observed it, let him prostrate two prostrations while he is seated.”


حدیث 407

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ حَتَّی لَا يَدْرِيَ کَمْ صَلَّی فَإِذَا وَجَدَ ذَلِکَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  آدمی کے پاس شیطان اس کی نماز میں آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے یہاں تک آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ؟ چناچہ تم میں سے کسی کو اگر اس قسم کا شبہ محسوس ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے             
           امام ترمذی کہتے ہیں 
یہ حدیث حسن صحیح ہے


 وضاحت
 یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد

 
Translation
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, the devil comes to one of you in his prayer and makes things obscure for him till he does not remember how much he has prayed. So, if one of you experiences that then let him prostrate two prostrations while he is sitting.’


حدیث 408

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ وَاحِدَةً صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَبْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ فَإِنْ لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثَلَاثٍ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


ترجمہ
 عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے نبی اکرم  ﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا   جب کوئی شخص نماز بھول جائے اور یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو ؟ تو ایسی صورت میں اسے ایک مانے اور اگر وہ یہ نہ جاسکے کہ اس نے دو پڑھی ہے یا تین تو ایسی صورت میں دو پر بنا کرے اور اگر وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے تین پڑھی ہے یا چار تو تین پر بنا کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرلے
            امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے
یہ حدیث عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے اور بھی سندوں سے مروی ہے

 
Translation
Sayyidina Abdur Rahman ibn Awf (RA) narrated that he heard the Prophet ﷺ say, “When one of you forgets in his salah and does not recall whether he has prayed one or two then let him settle for one, but if he does not recall whether he has prayed two or three then let him settle for two, but if he does not know whether he has prayed three or four then let him settle for three. And he should prostrate two prostrations before he makes the salutation.”


باب ما جاء فی الرجل یسلم فی الرکعتین من الظھر والعصر

حدیث 409

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ وَهُوَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقُصِرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَابْنِ عُمَرَ وَذِي الْيَدَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْکُوفَةِ إِذَا تَکَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَوْ مَا کَانَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَاعْتَلُّوا بِأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ کَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْکَلَامِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ فَرَأَی هَذَا حَدِيثًا صَحِيحًا فَقَالَ بِهِ و قَالَ هَذَا أَصَحُّ مِنْ الْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّائِمِ إِذَا أَکَلَ نَاسِيًا فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي وَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَفَرَّقَ هَؤُلَائِ بَيْنَ الْعَمْدِ وَالنِّسْيَانِ فِي أَکْلِ الصَّائِمِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ و قَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ تَکَلَّمَ الْإِمَامُ فِي شَيْئٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ يَرَی أَنَّهُ قَدْ أَکْمَلَهَا ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يُکْمِلْهَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَمَنْ تَکَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنْ الصَّلَاةِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الْفَرَائِضَ کَانَتْ تُزَادُ وَتُنْقَصُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّمَا تَکَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ وَهُوَ عَلَی يَقِينٍ مِنْ صَلَاتِهِ أَنَّهَا تَمَّتْ وَلَيْسَ هَکَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَکَلَّمَ عَلَی مَعْنَی مَا تَکَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ لِأَنَّ الْفَرَائِضَ الْيَوْمَ لَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ قَالَ أَحْمَدُ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْکَلَامِ و قَالَ إِسْحَقُ نَحْوَ قَوْلِ أَحْمَدَ فِي هَذَا الْبَابِ


ترجمہ
 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ   (ظہر یا عصر کی)  دو رکعت پڑھ کر  مقتدیوں کی طرف پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا  اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو آپ  ﷺ  نے پوچھا  کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں ؟  لوگوں نے عرض کیا ہاں  آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں تو رسول اللہ  ﷺ  کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا پھر اللہ اکبر کہا پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔  یعنی سجدہ سہو کیا
               امام ترمذی کہتے ہیں
ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہوگی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے
رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھالے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ (رض) کی حدیث کی وجہ سے ہے
امام احمد ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہوچکی ہے کوئی بات کرلے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کرلے اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کرلے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ  ﷺ  کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جاسکتے تھے اور ذوالیدین (رض) نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہوچکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہوگیا تھا کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی
احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے


 وضاحت
اس پر ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ، صرف یہ کمزور دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے سے پہلے کا ہے کیونکہ ذوالیدین (رض) کا انتقال غزوہ بدر میں ہوگیا تھا ، اور ابوہریرہ (رض) نے یہ واقعہ کسی صحابی سے سن کر بیان کیا  حالانکہ بدر میں ذوالشمالین (رض) کی شہادت ہوئی تھی نہ کہ ذوالیدین کی نیز ابوہریرہ (رض) نے صاف صاف بیان کیا ہے کہ میں اس واقعہ میں تھا جیسا کہ مسلم اور احمد کی روایت میں ہے  پس یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے کے بعد کا ہے
 یہ بات مبنی بر دلیل نہیں ہے اگر بات ایسی ہی تھی تو آپ  ﷺ  نے اس وقت اس کی وضاحت کیوں نہیں فرما دی ، اصولیین کے یہاں یہ مسلمہ اصول ہے کہ شارع (علیہ السلام)   نبی اکرم  ﷺ    کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ کسی بات کو بتانے کی ضرورت ہو اور آپ نہ بتائیں


Translation
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ turned in salutation after offering two raka’at. So, DhuI Yadayn (RA) submitted to him, ‘Has the prayer been curtailed or have you forgotten Messenger of Allah? ﷺ ” The Prophet ﷺ asked, “Is Dhul Yadayn correct?” The people said, “Yes!” So, he stood up and offered the remaining two raka’at. Then, he ended with the salutation. Then he called the takbir and went into prostration as he used to make prostrations, or longer than that. Then he called the takbir and got up and then made the second prostration like he was used to do, or lengthier than that.


باب ما جاء فی الصلاۃ فی النعال

حدیث 410

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ وَأَوْسٍ الثَّقَفِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَطَائٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي شَيْبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ


ترجمہ
 سعید بن یزید  (ابو مسلمہ)  کہتے ہیں کہ  میں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا  کیا رسول اللہ  ﷺ  اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا ہاں پڑھتے تھے
           امام ترمذی کہتے ہیں  انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن ابی حبیبۃ، عبداللہ بن عمرو، عمرو بن حریث، شداد بن اوسثقفی، ابوہریرہ (رض) اور عطاء سے بھی جو بنی شیبہ کے ایک فرد تھے احادیث آئی ہیں
 اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے


 وضاحت
 ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودیوں کی مخالفت کرو وہ جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے  علماء کہتے ہیں کہ اگر جوتوں میں نجاست نہ لگی ہو تو ان میں نماز یہودیوں کی مخالفت کے پیش نظر مستحب ہوگی ورنہ اسے رخصت پر محمول کیا جائے گا  مساجد کی تحسین و طہارت کے پیش نظر جہاں دریاں  قالین وغیرہ بچھے ہوں وہاں جوتے اتار کر نماز پڑھنی چاہیئے


Translation
Sa’eed ibn Yazid Abu Salamah asked Sayyyidina Anas ibn Malik (RA),“did Allah’s Messenger pray with his sandals on.’ He said “Yes!”


باب ما جاء فی القنوت فی صلاۃ الفجر

حدیث 411

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَخُفَافِ بْنِ أَيْمَائَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْبَرَائِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَرَأَی بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِکٍ وَالشَّافِعِيِّ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ لَا يُقْنَتُ فِي الْفَجْرِ إِلَّا عِنْدَ نَازِلَةٍ تَنْزِلُ بِالْمُسْلِمِينَ فَإِذَا نَزَلَتْ نَازِلَةٌ فَلِلْإِمَامِ أَنْ يَدْعُوَ لِجُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ


ترجمہ
 براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے
         امام ترمذی کہتے ہیں براء کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں علی، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، اور خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 فجر میں قنوت پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے فجر میں قنوت پڑھنے کی ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے
 احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ فجر میں قنوت نہ پڑھے الا یہ کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں امام کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے دعا کرے


  وضاحت
 اس حدیث سے شوافع نے فجر میں قنوت پڑھنا ثابت کیا ہے اور برابر پڑھتے ہیں  لیکن اس میں تو  مغرب  کا تذکرہ بھی ہے اس میں کیوں نہیں پڑھتے  دراصل یہاں قنوت سے مراد قنوت نازلہ ہے جو بوقت مصیبت پڑھی جاتی ہے س سے مراد وتر والی قنوت نہیں ہے  رسول اکرم ﷺ بوقت مصیبت خاص طور پر فجر میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے  بلکہ بقیہ نمازوں میں بھی پڑھتے تھے  اور جب ضرورت ختم ہوجاتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے


Translation
Sayyidina Bara ibn Aazib reported that the Prophet ﷺ used to recite the qunnt in the salah of fajr and maghrib.


باب فی ترک القنوت

حدیث 412

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَةِ إِنَّکَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَا هُنَا بِالْکُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ أَکَانُوا يَقْنُتُونَ قَالَ أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ- قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ و قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ إِنْ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ فَحَسَنٌ وَإِنْ لَمْ يَقْنُتْ فَحَسَنٌ وَاخْتَارَ أَنْ لَا يَقْنُتَ وَلَمْ يَرَ ابْنُ الْمُبَارَکِ الْقُنُوتَ فِي الْفَجْرِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ


ترجمہ
 ابو مالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ  میں نے اپنے باپ طارق بن اشیم (رض) سے عرض کیا ابا جان  آپ نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور علی (رض) کے پیچھے بھی یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ برس تک پڑھی ہے کیا یہ لوگ  (برابر)  قنوت  (قنوت نازلہ)  پڑھتے تھے تو انہوں نے کہا میرے بیٹے  یہ بدعت ہے 

  ابوعوانہ نے ابو مالک اشجعی سے  اسی سند سے اسی مفہوم کی اسی طرح کی حدیث روایت کی

         امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے
 اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اگر فجر میں قنوت پڑھے تو بھی اچھا ہے اور اگر نہ پڑھے تو بھی اچھا ہے، ویسے انہوں نے پسند اسی بات کو کیا ہے کہ نہ پڑھے اور ابن مبارک فجر میں قنوت پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے


  وضاحت
یعنی اس میں برابر پڑھنا مراد ہے نہ کہ مطلق پڑھنا بدعت مقصود ہے  کیونکہ بوقت ضرورت قنوت نازلہ پڑھنا ثابت ہے جیسا کہ گزرا


Translation
Ahmad ibn Muni reported from Yazid ibn Harun who reported from Abu Malik Ashja’i who said that he asked his father, “O my father! you have indeed prayed behind Allah’s Messenger ﷺ and behind Abu Bakr (RA) Umar Uthman and Ali ibn Abu Taljb (RA) here in Kufah (with last-named) about five years. Did they recite the qunut?” He said, “O son! This is an innovation

   Salih ibn Abdullah reported from Abu Awanah who from Abu Malik Ashja’i a Hadith of the same purport, from the same line of transmission.


باب ما جاء فی الرجل یعطس فی الصلاۃ

حدیث 413

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا کَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَکًا فِيهِ مُبَارَکًا عَلَيْهِ کَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَی فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ مَنْ الْمُتَکَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَتَکَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ مَنْ الْمُتَکَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَتَکَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ مَنْ الْمُتَکَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ عَفْرَائَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ کَيْفَ قُلْتَ قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا کَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَکًا فِيهِ مُبَارَکًا عَلَيْهِ کَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَی فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَکًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ رِفَاعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَکَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ فِي التَّطَوُّعِ لِأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ التَّابِعِينَ قَالُوا إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ الْمَکْتُوبَةِ إِنَّمَا يَحْمَدُ اللَّهَ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُوَسِّعُوا فِي أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ


ترجمہ
 رفاعہ بن رافع (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اکرم  ﷺ  کے پیچھے نماز پڑھی مجھے چھینک آئی تو میں نے «الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضی» کہا جب رسول اللہ  ﷺ  نماز پڑھ کر پلٹے تو آپ نے پوچھا  نماز میں کون بول رہا تھا ؟  تو کسی نے جواب نہیں دیا پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ  نماز میں کون بول رہا تھا ؟  اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ  نماز میں کون بول رہا تھا ؟  رفاعہ بن رافع (رض) نے عرض کیا  میں تھا اللہ کے رسول آپ نے پوچھا  تم نے کیا کہا تھا ؟  انہوں نے کہا  یوں کہا تھا «الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضی» تو نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے
            امام ترمذی کہتے ہیں  رفاعہ کی حدیث حسن ہے
 اس باب میں انس، وائل بن حجر اور عامر بن ربیعہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 بعض اہل علم کے نزدیک یہ واقعہ نفل کا ہے اس لیے کہ تابعین میں سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی فرض نماز میں چھینکے تو الحمدللہ اپنے جی میں کہے اس سے زیادہ کی ان لوگوں نے اجازت نہیں دی


وضاحت
حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں «وأفاد بشر بن عمر الزهراي في روايته عن رفاعة بن يحيى أن تلک الصلاة کانت المغرب» یہ مغرب تھی  یہ روایت ان لوگوں کی تردید کرتی ہے جنہوں نے اسے نفل پر محمول کیا ہے مگر دوسری روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابی نے یہ الفاظ رکوع سے اٹھتے وقت کہے تھے اور اسی دوران انہیں چھینک بھی آئی تھی  تمام روایات صحیحہ اور اس ضمن میں علماء کے اقوال کی جمع و تطبیق یہ ہے کہ اگر نماز میں چھینک آئے تو اونچی آواز سے  الحمد للہ  کہنے کی بجائے جی میں کہے

 
Translation
Sayyidina Rifaah ibn Rafi i narrated that while he was praying behind Allah’s Messenger ﷺ one day, he sneezed, So, he said: (All praise belongs to Allah, plenty of praise, pure, with blessing in it and over it, as our Lord loves it and it pleases him


باب فی نسخ الکلام فی الصلاۃ

حدیث 414

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ کُنَّا نَتَکَلَّمُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ يُکَلِّمُ الرَّجُلُ مِنَّا صَاحِبَهُ إِلَی جَنْبِهِ حَتَّی نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوتِ وَنُهِينَا عَنْ الْکَلَامِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا تَکَلَّمَ الرَّجُلُ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَاسِيًا أَعَادَ الصَّلَاةَ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا تَکَلَّمَ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَإِنْ کَانَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَجْزَأَهُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ


ترجمہ
 زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ  ہم رسول اللہ  ﷺ  کے پیچھے نماز میں بات چیت کرلیا کرتے تھے آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کرلیا کرتا تھا یہاں تک کہ آیت کریمہ «‏وقوموا لله قانتين»  اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو  نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا
            امام ترمذی کہتے ہیں زید بن ارقم (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کرلے تو نماز دہرائے سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہوجائے تو نماز کافی ہوگی
 شافعی اسی کے قائل ہیں


 وضاحت
 رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے  بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ  بشرطیکہ تھوڑی ہو  ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے


Translation
Sayyidina Zayd ibn Arqam narrated that they used to converse during salah behind Allah’s Messenger ﷺ One of them would speak to his neighbour till the verse was revealed “and Stand before Allah devoutly”(2:238) .So they were commanded to observe silence and were forbidden to converse.


باب ما جاء فی الصلاۃ عند التوبة

حدیث 415

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَسْمَائَ بْنِ الْحَکَمِ الْفَزَارِيِّ قَال سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ إِنِّي کُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَائَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَکَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي الدَّرْدَائِ وَأَنَسٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَمُعَاذٍ وَوَاثِلَةَ وَأَبِي الْيَسَرِ وَاسْمُهُ کَعْبُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَرَوَی عَنْهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ فَرَفَعُوهُ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمِسْعَرٌ فَأَوْقَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مِسْعَرٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعًا أَيْضًا وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَائَ بْنِ الْحَکَمِ حَدِيثًا مَرْفُوعًا إِلَّا هَذَا


ترجمہ
 اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ  میں نے علی (رض) کو کہتے سنا  میں جب رسول اللہ  ﷺ  سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ اس سے مجھے نفع پہنچاتا جتنا وہ پہنچانا چاہتا اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی مجھ سے بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا
کیا واقعی تم نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہے   جب وہ میرے سامنے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، مجھ سے ابوبکر (رض) نے بیان کیا اور ابوبکر (رض) نے سچ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے سنا ہے  جو شخص گناہ کرتا ہے پھر جا کر وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے پھر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کردیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا اللہ ولم يصروا علی ما فعلوا وهم يعلمون»  اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کر کے فوراً استغفار کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے

            امام ترمذی کہتے ہیں
 علی (رض) کی حدیث حسن ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں
اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں
 اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں


Translation
Asma ibn Hakam Fazari reported that he heard Sayyidina Ali (RA) say, “When I heard something from Allah’s Messeneger ﷺ Allah gave me benefit from it as much as He willed. And when one of the sahabah narrated something to me, I made him say that on oath. So, when he took the oath for me, I would confirm him. And, indeed, Abu Bakr (RA) narrated to me, and he spoke the truth, that he heard Allah’s Messenger say: There is not a man who sins then stands up, purifies himself and offers salah, and then seeks Allah’s forgiveness but Allah forgives him. Then he recited the verse “And those who when they commit an indecency or do injustice to their souls remember Allah and ask forgiveness for their faults-- and who forgives the faults but Allah” to the end of it.


باب ما جاء متی یومر الصبی بالصلاۃ

حدیث 416

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَالَا مَا تَرَکَ الْغُلَامُ بَعْدَ الْعَشْرِ مِنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُعِيدُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَسَبْرَةُ هُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ وَيُقَالُ هُوَ ابْنُ عَوْسَجَةَ


ترجمہ
 سبرہ بن معبد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو
           امام ترمذی کہتے ہیں سبرہ بن معبد جہنی (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی روایت ہے
بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ  جو لڑکا دس برس کے ہوجانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے


Translation
Sabrah Juhanrii narrated that Allah’s Messener ﷺ said, “Teach the child salah (prayer) when he is seven years old and beat him for it when he is ten years old.


باب ما جاء فی الرجل یحدث بعد التشھد 

حدیث 417

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی الْمُلَقَّبُ مَرْدُوَيْهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ رَافِعٍ وَبَکْرَ بْنَ سَوَادَةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْدَثَ يَعْنِي الرَّجُلَ وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاکَ الْقَوِيِّ وَقَدْ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَی هَذَا قَالُوا إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ وَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَقَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ و قَالَ أَحْمَدُ إِذَا لَمْ يَتَشَهَّدْ وَسَلَّمَ أَجْزَأَهُ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ وَالتَّشَهُّدُ أَهْوَنُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اثْنَتَيْنِ فَمَضَی فِي صَلَاتِهِ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ و قَالَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِذَا تَشَهَّدَ وَلَمْ يُسَلِّمْ أَجْزَأَهُ وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ حِينَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فَقَالَ إِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْکَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الْأَفْرِيقِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْهُمْ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ


ترجمہ
 عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   جب آدمی کو سلام پھیرنے سے پہلے «حدث» لاحق ہوجائے اور وہ اپنی نماز کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکا ہو تو اس کی نماز درست ہے  
           امام ترمذی کہتے ہیں
اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں، اس کی سند میں اضطراب ہے عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم، جو افریقی ہیں کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں
 بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے «حدث» لاحق ہوجائے تو پھر اس کی نماز پوری ہوگئں
 اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب «حدث» تشہد پڑھنے سے یا سلام پھیرنے سے پہلے لاحق ہوجائے تو نماز دہرائے شافعی کا یہی قول ہے
 اور احمد کہتے ہیں جب وہ تشہد نہ پڑھے اور سلام پھیر دے تو اس کی نماز اسے کافی ہوجائے گی اس لیے کہ نبی اکرم  ﷺ  کا ارشاد ہے  «وتحليلها التسليم» یعنی نماز میں جو چیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں بغیر سلام کے نماز سے نہیں نکلا جاسکتا اور تشہد اتنا اہم نہیں جتنا سلام ہے کہ اس کے ترک سے نماز درست نہ ہوگی ایک بار نبی اکرم  ﷺ  دو رکعت کے بعد کھڑے ہوگئے اپنی نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں کیا
 اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں  جب تشہد کرلے اور سلام نہ پھیرا ہو تو نماز ہوگئی انہوں نے ابن مسعود (رض) کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرم  ﷺ  نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا جب تم اس سے فارغ ہوگئے تو تم نے اپنا فریضہ پورا کرلیا


  وضاحت
 امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے کہ آدمی جب تشہد کے بعد بیٹھ چکا ہو اور اسے نماز کے آخر میں «حدث» ہوگیا یعنی اس کا وضو ٹوٹ گیا تو اس کی نماز ہوجائے گی  لیکن یہ روایت ضعیف ہے استدلال کے قابل نہیں اور اگر صحیح ہو تو اسے سلام کی فرضیت سے پہلے پر محمول کیا جائے گا


Translation
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a man breaks wind when he is sItting towards the conclusion of his salah, before he has made salutation, then his salah is (validly) completed


باب ما جاء اذا کان المطر فالصلاۃ فی الرحال

حدیث 418

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَائَ فَلْيُصَلِّ فِي رَحْلِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَسَمُرَةَ وَأَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَخَّصَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُعُودِ عَنْ الْجَمَاعَةِ فِي الْمَطَرِ وَالطِّينِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ يَقُولُ رَوَی عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا و قَالَ أَبُو زُرْعَةَ لَمْ نَرَ بِالْبَصْرَةِ أَحْفَظَ مِنْ هَؤُلَائِ الثَّلَاثَةِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَابْنِ الشَّاذَکُونِيِّ وَعَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ وَأَبُو الْمَلِيحِ اسْمُهُ عَامِرٌ وَيُقَالُ زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ


ترجمہ
 جابر (رض) کہتے ہیں کہ  ہم لوگ نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو آپ  ﷺ  نے فرمایا   جو چاہے اپنے ڈیرے میں ہی نماز پڑھ لے
           امام ترمذی کہتے ہیں  جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
 اس باب میں ابن عمر، سمرہ، ابولملیح عامر جنہوں نے اپنے باپ اسامہ بن عمر ہذل سے روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 بعض اہل علم نے بارش اور کیچڑ میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کی رخصت دی ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں


Translation
Sayyidina Jabir narrated that they were on a journey with Allah’s Messenger ﷺ when it began to rain. He said, “If anyone wishes to observe salah at his lodgings then he may do so.


باب ما جاء فی التسیح فی ادبار الصلاۃ

حدیث 419

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَعِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَائَ الْفُقَرَائُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْأَغْنِيَائَ يُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يُعْتِقُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ قَالَ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً وَاللَّهُ أَکْبَرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرَ مَرَّاتٍ فَإِنَّکُمْ تُدْرِکُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَکُمْ وَلَا يَسْبِقُکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي الدَّرْدَائِ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ


حدیث 420

 وَفِي الْبَاب أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْمُغِيرَةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا وَيُکَبِّرُهُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُکَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ


ترجمہ
 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا  اللہ کے رسول ! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں ان کے پاس مال بھی ہے اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا  جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ  سبحان اللہ تینتیس مرتبہ  الحمد لله  اور تینتیس مرتبہ  الله أكبر  اور دس مرتبہ  لا إله إلا الله  کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جاسکیں گے


            امام ترمذی کہتے ہیں  ابن عباس (رض) کی حدیث حسن غریب ہے
اس باب میں کعب بن عجرہ، انس، عبداللہ بن عمرو، زید بن ثابت ابو الدرداء، ابن عمر اور ابوذر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں
 نبی اکرم  ﷺ  سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا   دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہوگا ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار  سبحان الله ، دس بار  الحمد لله  دس بار  الله أكبر  کہے دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ  سبحان الله ، تینتیس مرتبہ  الحمد لله  اور چونتیس مرتبہ  الله أكبر  کہے

دس بار ” لا إله إلا اللہ “ کا ذکر منکر ہے  منکر ہونے کا سبب خصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں آخر میں ایک بار ” لا إله إلا اللہ “ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابوہریرہ (رض) کی روایت سے
 صحیح بخاری میں مروی ہے  


Translation
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that some poor people came to Allah’s Messenger ﷺ and said, “O Messenger ﷺ of Allah! The rich pray as we do. They fast as we fast. And they have wealth with which they set slaves free and give charity.’ He said, “When you have prayed, say subban Allah thirty three times and al-Hamdulillah thirty-three times, and AllahuAkbar thirty-four times, and Lailahaill Allah ten times. You will attain the ranks of those who have overtaken you and no one will overtake you after that.”


باب ما جاء فی الصلاۃ علی الدابة فی الطبن والمطر

حدیث 421

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ الْبَلْخِيُّ عَنْ کَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُمْ کَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَانْتَهَوْا إِلَی مَضِيقٍ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَمُطِرُوا السَّمَائُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَالْبِلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ فَأَذَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی رَاحِلَتِهِ وَأَقَامَ أَوْ أَقَامَ فَتَقَدَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ فَصَلَّی بِهِمْ يُومِئُ إِيمَائً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ الْبَلْخِيُّ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ وَقَدْ رَوَی عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَکَذَلِکَ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ صَلَّی فِي مَائٍ وَطِينٍ عَلَی دَابَّتِهِ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ


ترجمہ
 یعلیٰ بن مرہ (رض) کہتے ہیں کہ  وہ لوگ ایک سفر میں نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ تھے وہ ایک تنگ جگہ پہنچے تھے کہ نماز کا وقت آگیا اوپر سے بارش ہونے لگی اور نیچے کیچڑ ہوگئی رسول اللہ  ﷺ  نے اپنی سواری ہی پر اذان دی اور اقامت کہی اور سواری ہی پر آگے بڑھے اور انہیں نماز پڑھائی آپ اشارہ سے نماز پڑھتے تھے، سجدہ میں رکوع سے قدرے زیادہ جھکتے تھے
          امام ترمذی کہتے ہیں
 یہ حدیث غریب ہے عمر بن رماح بلخی اس کے روایت کرنے میں منفرد ہیں یہ صرف انہیں کی سند سے جانی جاتی ہے اور ان سے یہ حدیث اہل علم میں سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے
انس بن مالک سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے پانی اور کیچڑ میں اپنی سواری پر نماز پڑھی
 اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں


 وضاحت
 جب ایسی صورت حال پیش آ جائے اور دوسری جگہ وقت کے اندر ملنے کا امکان نہ ہو تو نماز کا قضاء کرنے سے بہتر اس طرح سے نماز ادا کرلینا ہے


Translation
Amr ibn Uthman ibn Ya’la ibn Murrah reported from his father who from his grandfather that they were with the Prophet ﷺ in a journey. They came to a very narrow pass when it was time for salah. The heaven poured down rain from above and there was damp mud below them. So Allah’s Messenger called the adhan while he was on his riding beast and then called the iqamah. Then he pulled his riding beast shead. Then he lead them in prayer, in gestures. He bowed down more in sajdah than in ruku’


باب ما جاء فی الجتھاد فی الصلاۃ

حدیث 422

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ أَتَتَکَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ
 مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ کے پیر سوج گئے تو آپ سے عرض کیا گیا  کیا آپ ایسی زحمت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے گئے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا  کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
          امام ترمذی کہتے ہیں  مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے
اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ (رض) سے احادیث آئی ہیں


 وضاحت
یعنی زیادہ دیر تک نفل نماز پڑھنے کا بیان
 تو جب بخشے بخشائے نبی اکرم ﷺ بطور شکرانے کے زیادہ دیر تک نفل نماز پڑھا کرتے تھے یعنی عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت لگاتے تھے تو ہم گنہگار امتیوں کو تو اپنے کو بخشوانے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی طرف مسنون اعمال کے ذریعے اور زیادہ دھیان دینا چاہیئے البتہ بدعات سے اجتناب کرتے ہوئے 


Translation
Sayyidina Mughira ibn Shu’bah narrated that Allah’s Messenger ﷺ stood in prayer one day till his feet swelled. So, he was told, ‘You take pains like this while forgiven to you are your sins, past and future.” I-fe said, “Shall I not be a grateful slave


باب ما جاء فی ان اول ما یحاسب به العید یوم القیامة الصلاۃ

حدیث 423

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حُرَيْثِ بْنِ قَبِيصَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي جَلِيسًا صَالِحًا فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ فَإِنْ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْئٌ قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُکَمَّلَ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنْ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَکُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَی ذَلِکَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ رَوَی بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَسَنِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَالْمَشْهُورُ هُوَ قَبِيصَةُ بْنُ حُرَيْثٍ وَرُوِي عَنْ أَنَسِ بْنِ حَکِيمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا


ترجمہ
 حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ  میں مدینے آیا میں نے کہا اے اللہ مجھے نیک اور صالح ساتھی نصیب فرما چناچہ ابوہریرہ (رض) کے پاس بیٹھنا میسر ہوگیا میں نے ان سے کہا میں نے اللہ سے دعا مانگی تھی کہ مجھے نیک ساتھی عطا فرما تو آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ  ﷺ  سے سنی ہو، شاید اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے سنا ہے   قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا محاسبہ ہوگا اگر وہ ٹھیک رہی تو کامیاب ہوگیا اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ ناکام اور نامراد رہا اور اگر اس کی فرض نمازوں میں کوئی کمی  ہوگی تو رب تعالیٰ  فرشتوں سے فرمائے گا دیکھو میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نماز ہے ؟ چناچہ فرض نماز کی کمی کی تلافی اس نفل سے کردی جائے گی پھر اسی انداز سے سارے اعمال کا محاسبہ ہوگا
            امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے
 یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہے
 حسن کے بعض تلامذہ نے حسن سے اور انہوں نے قبیصہ بن حریث سے اس حدیث کے علاوہ دوسری اور حدیثیں بھی روایت کی ہیں اور مشہور قبیصہ بن حریث ہی ہے  یہ حدیث بطریق «أنس بن حكيم عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» بھی روایت کی گئی ہے
 اس باب میں تمیم داری (رض) سے بھی روایت ہے


وضاحت
 یہ کمی خشوع خضوع اور اعتدال یہ کمی بھی ہوسکتی ہے  اور تعداد کی کمی بھی ہوسکتی ہے  کیونکہ آپ نے فرمایا ہے  دیگر سارے اعمال کا معاملہ بھی یہی ہوگا  تو زکاۃ میں کہاں خشوع خضوع کا معاملہ ہے ؟ وہاں تعداد ہی میں کمی ہوسکتی ہے  اللہ کا فضل بڑا وسیع ہے عام طور پر نماز پڑھتے رہنے والے سے اگر کوئی نماز رہ گئی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ معاملہ فرما دے گا  ان شاء اللہ یعنی  ان کے نام میں اختلاف ہے  قبیصہ بن حریث  بھی کہا گیا ہے  اور  حریث بن قبیصہ  بھی کہا گیا ہے تو زیادہ مشہور  قبیصہ بن حریث  ہی ہے


Translation
Sayyidina Hurayth ibn Qabisah narrated: When I came to Madinah, I prayed, “O Allah! let me have a righteous companion.” So, I sat down with Abu Hurayrah (RA) and said to him “I requested Allah to let me have a righteous companion. So, narrate to me a Hadith that you may have heard from Allah’s Messenger that Allah may benefit me with it.” So, he said, “I heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The first thing a slave will be called to account from his deeds on the Day of Resurrection will be his salah. So, if it is correct then he wil succeed and earn deliverance, but if it is corrupted then he will fail and lose. If there is some shortcoming in his fard, the Lord Blessed and Elevated will say, ‘Examine and see! HasMy slave any optional deeds that the shortcomings in the fard might be offset.’ Then all his deeds will be (recompensed) in that way


باب ما جاء فیمن صلی فی یوم ولیلة تشیء عشرة رکعة من السنة ماله من الفضل

حدیث 424

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ثَابَرَ عَلَی ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً مِنْ السُّنَّةِ بَنَی اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَرْبَعِ رَکَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ وَرَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي مُوسَی وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ قَدْ تَکَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ


.
ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   جو بارہ رکعت سنت پر مداومت کرے گا اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا چار رکعتیں ظہر سے پہلے دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ۔   

امام ترمذی کہتے ہیں  عائشہ (رض) کی حدیث اس سند سے غریب ہے،  سند میں مغیرہ بن زیاد پر بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے، اس باب میں ام حبیبہ، ابوہریرہ، ابوموسیٰ اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔    


  وضاحت 

 فرض نمازوں کے علاوہ ہر نماز کے ساتھ اس سے پہلے یا بعد میں جو سنت پڑھی جاتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے مداومت فرمائی ہے ، انہیں سنت موکدہ یا سنن رواتب کہا جاتا ہے ، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں فرمائی ہے انہیں سنن غیر موکدہ کہا جاتا ہے ، سنن موکدہ کل ١٢ رکعتیں ہیں ، جس کی تفصیل اس روایت میں ہے ، ان سنتوں کو گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ لیکن اگر گھر میں پڑھنا مشکل ہوجائے ، جیسے گھر کے لیے اٹھا رکھنے میں سرے سے بھول جانے کا خطرہ ہو تو مسجد ہی ادا کر لینی چاہیئے اس حدیث میں ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت کا ذکر ہے اور عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت میں دو رکعت کا ذکر ہے ، تطبیق اس طرح دی جاسکتی ہے کہ دونوں طرح سے جائز ہے ، رسول اللہ ﷺ کا عمل دونوں طرح سے تھا کبھی ایسا کرتے اور کبھی ویسا ، یا یہ بھی ممکن ہے کہ گھر میں دو رکعتیں پڑھ کر نکلتے اور مسجد میں پھر دو پڑھتے ، یا یہ بھی ہوتا ہوگا کہ گھر میں چار پڑھتے اور مسجد جا کر تحیۃ المسجد کے طور پر دو پڑھتے تو ابن عمر نے اس کو سنت مؤکدہ والی دو سمجھا ، ایک تطبیق یہ بھی ہے کہ ابن عمر (رض) کا بیان کردہ واقعہ آپ ﷺ کا اپنا فعل ہے  ( جو کبھی چار کا بھی ہوتا تھا  )  مگر عائشہ (رض) اور ام حبیبہ (رض) کی یہ حدیث قولی ہے جو امت کے لیے ہے ، اور بہرحال چار میں ثواب زیادہ ہی ہے۔   


Translation

Sayyidah Aisha (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who is regu tar at offering) twelve raka’at of the sunnah, Allah will build for him a house in Paradise: four raka’at before zuhr, two after zuhr, two raka’at after maghrib, two raka’at after isha and two raka’at before fajr”


حدیث 425

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ وَرَکْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ عَنْبَسَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَنْبَسَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ


ترجمہ

 ام المؤمنین ام حبیبہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا   جو شخص رات اور دن میں بارہ رکعت سنت پڑھے گا، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا  چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو فجر سے پہلے ۔   

امام ترمذی کہتے ہیں  عنبسہ کی حدیث جو ام حبیبہ (رض) سے مروی ہے اس باب میں حسن صحیح ہے۔ اور وہ عنبسہ سے دیگر اور سندوں سے بھی مروی ہے۔   


Translation

Sayyidah Umm Habibah (RA) reported that Allah’s Mesenger ﷺ said, “He who prays in a day and night twelve raka’at, a house is built for him in paradise: four raka’at before zuhr, two raka’at after it, two raka’at after maghrib, two raka’at after isha and two raka’at before fajr on the morrow”


باب ما جاء فی رکعتی الفجر من الفضل 

حدیث 426

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثًا


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  فجر کی دونوں رکعتیں دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے ان سب سے بہتر ہیں ۔

   امام ترمذی کہتے ہیں عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  اس باب میں علی، ابن عمر، اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ جنہیں رسول اللہ  ﷺ  ان میں پڑھتے تھے۔   


Translation

Sayyidah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The two (sunnah) raka’at of fajr are better than the world and whatever it contains'


باب ما جاء فی تخفیف رکعتی الفجر والقراءة فیھا

حدیث 427

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَأَبُو عَمَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فَکَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحَفْصَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَ النَّاسِ حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ وَقَدْ رَوَی عَنْ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ إِسْرَائِيلَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ثِقَةٌ حَافِظٌ قَالَ سَمِعْت بُنْدَارًا يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ حِفْظًا مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ وَأَبُو أَحْمَدَ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْکُوفِيُّ الْأَسَدِيُّ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  میں نبی اکرم  ﷺ  کو ایک مہینے تک دیکھتا رہا، فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں آپ «قل يا أيها الکافرون» اور «‏قل هو اللہ أحد‏» پڑھتے تھے۔  

 امام ترمذی کہتے ہیں ابن عمر (رض) کی حدیث حسن ہے، ور ہم ثوری کی روایت کو جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے صرف ابواحمد زبیری ہی کے طریق سے جانتے ہیں،  (جب کہ)  لوگوں  (محدثین)  کے نزدیک معروف «عن إسرائيل عن أبي إسحاق» ہے بجائے «سفیان ابی اسحاق» کے، اور ابواحمد زبیری کے واسطہ سے بھی اسرائیل سے روایت کی گئی ہے، ابواحمد زبیری ثقہ اور حافظ ہیں، میں نے بندار کو کہتے سنا ہے کہ میں نے ابواحمد زبیری سے زیادہ اچھے حافظے والا نہیں دیکھا، ابواحمد کا نام محمد بن عبداللہ بن زبیر کوفی اسدی ہے،  اس باب میں ابن مسعود، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، حفصہ اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔  

 

Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he observed the Prophet ﷺ for a month. He recited in the two raka’at before (fard in) fajr the surah at-Kafirun and al-Ikhlas


باب ما جاء فی الکلام بعد رکعتی الفجر 

حدیث 428

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَی الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَال سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَإِنْ کَانَتْ لَهُ إِلَيَّ حَاجَةٌ کَلَّمَنِي وَإِلَّا خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ کَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ الْکَلَامَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ حَتَّی يُصَلِّيَ صَلَاةَ الْفَجْرِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ ذِکْرِ اللَّهِ أَوْ مِمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام ہوتا تو  (اس بارے میں)  مجھ سے گفتگو فرما لیتے، ورنہ نماز کے لیے نکل جاتے۔   

امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے،  صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے فجر کے طلوع ہونے بعد سے لے کر فجر پڑھنے تک گفتگو کرنا مکروہ قرار دیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ گفتگو ذکر الٰہی سے متعلق ہو یا بہت ضروری ہو، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے


 وضاحت  

 رسول اکرم ﷺ کے فعل کے بعد اب کسی کے قول اور رائے کی کیا ضرورت ؟ ہاں ابن مسعود (رض) نے جو لوگوں کو بات کرتے دیکھ کر منع کیا تھا ؟ تو یہ لایعنی گفتگو کا معاملہ ہوگا ، بہرحال اجتماعی طور پر لایعنی بات چیت ایسے وقت خاص طور پر ، نیز کسی بھی وقت مناسب نہیں ہے۔   


Translation

Sayyidah Aisha (RA) said that after the Prophet ﷺ prayed the two raka’at of fajr, he talked to her if he had some work otherwise, he went away for the salah


باب ما جاء لا صلاۃ بعد طلوع الفجر الا رکعتین

حدیث 429

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ يَسَارٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ وَمَعْنَی هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّمَا يَقُولُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَحَفْصَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَی وَرَوَی عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَهُوَ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ کَرِهُوا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  طلوع فجر کے بعد سوائے دو رکعت  (سنت فجر)  کے کوئی نماز نہیں ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد  (فرض سے پہلے)  سوائے دو رکعت سنت کے اور کوئی نماز نہیں۔ 

  امام ترمذی کہتے ہیں ابن عمر کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف قدامہ بن موسیٰ ہی کے طریق سے جانتے ہیں اور ان سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے، اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور حفصہ (رض) سے احادیث آئی ہیں،  ٣- اور یہی قول ہے جس پر اہل علم کا اجماع ہے  انہوں نے طلوع فجر کے بعد  (فرض سے پہلے)  سوائے فجر کی دونوں سنتوں کے کوئی اور نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے


وضاحت

یعنی مستقل طور پر کوئی سنت نفل اس درمیان ثابت نہیں ، ہاں اگر کوئی گھر سے فجر کی سنتیں پڑھ کر مسجد آتا ہے ، اور جماعت میں ابھی وقت باقی ہے تو دو رکعت بطور تحیۃ المسجد کے پڑھ سکتا ہے ، بلکہ پڑھنا ہی چاہیئے۔   

 

Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Allah’s Messegner is.i said, “There is no salah after dawn except the two prostrations (two sunnah)


باب ما جاء فی الاضطجاع بعد رکعتی الفجر

حدیث 430

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَی يَمِينِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

حدیث 431

 وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا صَلَّی رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فِي بَيْتِهِ اضْطَجَعَ عَلَی يَمِينِهِ وَقَدْ رَأَی بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُفْعَلَ هَذَا اسْتِحْبَابًا


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  جب تم میں سے کوئی فجر کی دو رکعت  (سنت)  پڑھے تو دائیں کروٹ پر لیٹے  

 امام ترمذی کہتے ہی ابوہریرہ (رض) کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اس باب میں عائشہ (رض) سے بھی روایت ہے،  عائشہ (رض) سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  جب فجر کی دونوں رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹتے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ ایسا استحباباً کیا جائے۔   


وضاحت 

 اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے فجر کی سنت کے بعد تھوڑی دیر دائیں پہلو پر لیٹنا مسنون ہے ، بعض لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے ، لیکن یہ رائے صحیح نہیں ، قولی اور فعلی دونوں قسم کی حدیثوں سے اس کی مشروعیت ثابت ہے ، بعض لوگوں نے اس روایت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اعمش مدلس راوی ہیں انہوں نے ابوصالح سے عن کے ذریعہ روایت کی ہے اور مدلس کا عنعنہ مقبول نہیں ہوتا ، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ابوصالح سے اعمش کا عنعنہ اتصال پر محمول ہوتا ہے ، حافظ ذہبی میزان میں لکھتے ہیں «ھو مدلس ربما دلّس عن ضعیف ولا یدری بہ فمتی قال نا فلان فلا کلام ، ومتی قال عن تطرق إلیہ احتمال التدلیس إلافی شیوخ لہ أکثر عنہم کا براہیم وأبي وائل وابی صالح السمّان ، فإن روایتہ عن ہذا الصنف محمولۃ علی الاتصال» ہاں ، یہ لیٹنا محض خانہ پری کے لیے نہ ہو ، جیسا کہ بعض علاقوں میں دیکھنے میں آتا ہے کہ صرف پہلو زمین سے لگا کر فوراً اٹھ بیٹھتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ اس وقت تک لیٹے رہتے تھے جب تک کہ بلال (رض) آ کر اقامت کے وقت کی خبر نہیں دیتے تھے۔ مگر خیال ہے کہ اس دوران اگر نیند آنے لگے تو اٹھ جانا چاہیئے ، اور واقعتاً نیند آ جانے کی صورت میں جا کر وضو کرنا چاہیئے۔   


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When one of you has offered the two raka’at of fajr, let him lie down on his right side"


باب ما جاء اذا اقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ الا المکتوبة

حدیث 432

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّا بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَال سَمِعْتُ عَطَائَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَکْتُوبَةُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهَکَذَا رَوَی أَيُّوبُ وَوَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ وَزِيَادُ بْنُ سَعْدٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَی حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَلَمْ يَرْفَعَاهُ وَالْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ أَصَحُّ عِنْدَنَا وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ الرَّجُلُ إِلَّا الْمَکْتُوبَةَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ رَوَاهُ عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ الْمِصْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  جب جماعت کھڑی ہوجائے  تو فرض نماز   کے سوا کوئی نماز  (جائز)  نہیں   

   امام ترمذی کہتے ہیں  ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن ہے،  اسی طرح ایک دوسری سند سے بھی ابوہریرہ (رض) نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے،  اس باب میں ابن بحینہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن سرجس، ابن عباس اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  اور حماد بن زید اور سفیان بن عیینہ نے بھی عمرو بن دینار سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور مرفوع حدیث ہی ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے،   سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں،   اس کے علاوہ اور  (ایک تیسری)  سند سے بھی یہ حدیث بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے۔ اور انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کی ہے -  (جیسے)  عیاش بن عباس قتبانی مصری ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم  ﷺ  سے اسی طرح روایت کی ہے۔


وضاحت 

یعنی اقامت شروع ہوجائے۔  یعنی جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے۔  یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کے لیے تکبیر ہوجائے تو نفل پڑھنا جائز نہیں ، خواہ وہ رواتب ہی کیوں نہ ہوں ، بعض لوگوں نے فجر کی سنت کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے ، لیکن یہ استثناء صحیح نہیں ، اس لیے کہ مسلم بن خالد کی روایت میں کہ جسے انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے مزید وارد ہے ، «قيل يا رسول اللہ ولا رکعتي الفجر قال ولا رکعتي الفجر» اس کی تخریج ابن عدی نے کامل میں یحییٰ بن نصر بن حاجب کے ترجمہ میں کی ہے ، اور اس کی سند کو حسن کہا ہے ، اور ابوہریرہ کی روایت جس کی تخریج بیہقی نے کی ہے اور جس میں «إلا رکعتي الصبح» کا اضافہ ہے  کا جواب یہ ہے کہ اس زیادتی کے متعلق بیہقی خود فرماتے ہیں «هذه الزيادة لا أصل لها» یعنی یہ اضافہ بےبنیاد ہے اس کی سند میں حجاج بن نصر اور عباد بن کثیر ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں ، اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔  


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “When the salah (in congregation) stands up, there is no salah excpet the fard"


باب ما جاء فی من تفوتة الرکعتان قبل الفجر یصلیھما بعد صلاۃ الصبح

حدیث 433

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَدِّهِ قَيْسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الصُّبْحَ ثُمَّ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَنِي أُصَلِّي فَقَالَ مَهْلًا يَا قَيْسُ أَصَلَاتَانِ مَعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَکُنْ رَکَعْتُ رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ قَالَ فَلَا إِذَنْ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ و قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ سَمِعَ عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ مِنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَإِنَّمَا يُرْوَی هَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلًا وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَکْتُوبَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ وَقَيْسٌ هُوَ جَدُّ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَيُقَالُ هُوَ قَيْسُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ هُوَ قَيْسُ بْنُ قَهْدٍ وَإِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ قَيْسٍ وَرَوَی بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَرَأَی قَيْسًا وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ


ترجمہ

 قیس  (قیس بن عمرو بن سہل)  (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نکلے اور جماعت کے لیے اقامت کہہ دی گئی، تو میں نے آپ کے ساتھ فجر پڑھی، پھر نبی اکرم  ﷺ  پلٹے تو مجھے دیکھا کہ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں، تو آپ نے فرمایا   قیس ذرا ٹھہرو، کیا دو نمازیں ایک ساتھ   (پڑھنے جا رہے ہو ؟ )  میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! میں نے فجر کی دونوں سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ نے فرمایا  تب کوئی حرج نہیں    

 امام ترمذی کہتے ہیں ہم محمد بن ابراہیم کی حدیث کو اس کے مثل صرف سعد بن سعید ہی کے طریق سے جانتے ہیں،  سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح نے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے سنی ہے،   یہ حدیث مرسلاً بھی روایت کی جاتی ہے،   اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کے مطابق کہا ہے کہ آدمی کے فجر کی فرض نماز پڑھنے کے بعد سورج نکلنے سے پہلے دونوں سنتیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں،   سعد بن سعید یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں، اور قیس یحییٰ بن سعید انصاری کے دادا ہیں۔ انہیں قیس بن عمرو بھی کہا جاتا ہے اور قیس بن قہد بھی،   اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ محمد بن ابراہیم تیمی نے قیس سے نہیں سنا ہے، بعض لوگوں نے یہ حدیث سعد بن سعید سے اور سعد نے محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نکلے تو قیس کو دیکھا ، اور یہ عبدالعزیز کی حدیث سے جسے انہوں نے سعد بن سعید سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔   
  

وضاحت 

مطلب یہ ہے کہ  فجر کی فرض کے بعد کوئی سنت نفل تو ہے نہیں ، تو یہی سمجھا جائے گا کہ تم فجر کے فرض کے بعد کوئی فرض ہی پڑھنے جا رہے ہو۔  ٢ ؎ : یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے ، اور امام ترمذی نے جو اس روایت کو مرسل اور منقطع کہا ہے وہ صحیح نہیں ، کیونکہ یحییٰ بن سعید کے طریق سے یہ روایت متصلاً بھی مروی ہے ، جس کی تخریج ابن خزیمہ نے کی ہے اور ابن خزیمہ کے واسطے سے ابن حبان نے بھی کی ہے ، نیز انہوں نے اس کے علاوہ طریق سے بھی کی ہے۔ 


Translation

Muhammad ibn Ibrahim reported from his grandfather, Sayyidina Qays that as Allah’s Meessenger ﷺ came out, the iqamah of the (fajr) salah was called. So, he offered the prayer with him. Then, the Prophet ﷺ turned back and saw him offer salah. He said, O Qays! Wait! will you pray two salah together? He said, “O Messenger of Allah! ﷺ I had not offered the two rakaat (sunnah) of fajr.’ The Prophet ﷺ said, ‘Then there is no harm"


باب ما جاء فی اعادتھما بعد طلوع الشمس 

حدیث 434

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَلْيُصَلِّهِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَعَلَهُ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هَمَّامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ هَذَا إِلَّا عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ الْکِلَابِيَّ وَالْمَعْرُوفُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ الصُّبْحَ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  جو فجر کی دونوں سنتیں نہ پڑھ سکے تو انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے     

 امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں،  ابن عمر سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہے،  بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں،   ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے ھمام سے یہ حدیث اس سند سے اس طرح روایت کی ہو سوائے عمرو بن عاصم کلابی کے۔ اور بطریق «قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مشہور یہ ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے فجر کی ایک رکعت بھی سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی تو اس نے فجر پالی۔ 

     

وضاحت 

 حدیث کی سند میں ایک راوی قتادہ ہیں جو مدلس ہیں ، انہوں نے نصر بن انس سے عنعنہ کے ساتھ روایت کیا ہے ، نیز یہ حدیث اس لفظ کے ساتھ غیر محفوظ ہے ، عمرو بن عاصم جو ہمام سے روایت کر رہے ہیں ، ان الفاظ کے ساتھ منفرد ہیں ، ہمام کے دیگر تلامذہ نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسے ان لفاظ کے علاوہ دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے اور وہ الفاظ یہ ہیں «من أدرک ركعة من صلاة الصبح قبل أن تطلع الشمس فقد أدرک الصبحَ»  جس آدمی نے سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت پالی اس نے صبح کی نماز پا لی  ( یعنی صبح کے وقت اور اس کے ثواب کو  )  نیز یہ حدیث اس بات پر بصراحت دلالت نہیں کرتی ہے کہ جو اسے صبح کی نماز سے پہلے نہ پڑھ سکا ہو وہ سورج نکلنے کے بعد ہی لازماً پڑھے ، کیونکہ اس میں صرف یہ ہے کہ جو اسے نہ پڑھ سکا ہو وہ سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو اسے وقت ادا میں نہ پڑھ سکا ہو یعنی سورج نکلنے سے پہلے نہ پڑھ سکا ہو تو وہ اسے وقت قضاء میں یعنی سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے ، اس میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے صبح کی نماز کے بعد ان دو رکعت کو پڑھنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اس کی تائید دارقطنی ، حاکم اور بیہقی کی اس روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں «من لم يصل رکعتي الفجرحتی تطلع الشمس فليصلهما»  جو آدمی سورج طلوع ہونے تک فجر کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکے وہ ان کو  ( سورج نکلنے کے بعد  )  پڑھ لے    


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reproted that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has not offered the two raka’at of fajr may offer them after sunrise"


باب ما جاء فی الاربع قبل الظھر

حدیث 435

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَکْعَتَيْنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْعَطَّارُ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ کُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَی حَدِيثِ الْحَارِثِ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَإِسْحَقَ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَی مَثْنَی يَرَوْنَ الْفَصْلَ بَيْنَ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ


ترجمہ

 علی (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔    

امام ترمذی کہتے ہیں علی (رض) کی حدیث حسن ہے،  اس باب میں عائشہ (رض) اور ام حبیبہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث  (اعور)  کی حدیث سے افضل ہے،  صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات  (دونوں)  کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں 


وضاحت 

 اس حدیث اور اس قول میں کوئی فرق نہیں ، مطلب یہ ہے کہ چار رکعتیں بھی دو دو سلاموں سے پڑھے ، اور یہی زیادہ بہتر ہے ، ایک سلام سے بھی جائز ہے۔ مگر دو سلاموں کے ساتھ سنت پر عمل ، درود اور دعاؤں کی مزید فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔   

 

Translation

Sayyidina Ali (RA) reported that the Prophet ﷺ prayed before zuhr four raka’at and after it two raka’at


باب ما جاء فی الرکعتین بعد ظھر

حدیث 436

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں  اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔   

امام ترمذی کہتے ہیں  اس باب میں علی (رض) اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔   


  وضاحت

 اس سے پہلے والی روایت میں ظہر سے پہلے چار رکعتوں کا ذکر ہے اور اس میں دو ہی رکعت کا ذکر ہے دونوں صحیح ہیں ، حالات و ظروف کے لحاظ سے ان دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ دونوں پر عمل زیادہ افضل ہے۔  

 

Translation

Sayyiidina Ibn Umar (RA) said, “I prayed with the Prophet ﷺ two raka’at before and two after the zuhr"


باب آخر

حدیث 437 

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَکِيُّ الْمَرْوَزِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ صَلَّاهُنَّ بَعْدَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَکِ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ نَحْوَ هَذَا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھ پاتے تو انہیں آپ اس کے بعد پڑھتے 

   امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے،  ہم اسے ابن مبارک کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اسے قیس بن ربیع نے شعبہ سے اور شعبہ نے خالد الحذاء سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ہم قیس بن ربیع کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے شعبہ سے روایت کی ہو،  بطریق «عبدالرحمٰن بن أبي ليلى عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» بھی اسی طرح  (مرسلاً )  مروی ہے۔   


وضاحت 

اس سے نبی اکرم  ﷺ  کا ان سنتوں کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے ، اس لیے ہمیں بھی ان سنتوں کے ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے ، اگر ہم پہلے ادا نہ کرسکیں تو فرض نماز کے بعد انہیں ادا کرلیا کریں ، لیکن یہ قضاء فرض نہیں ہے۔  


Translation

Sayyidah Aisha (RA) reported that if Allah’s Messenger ﷺ did not offer four raka’at before zuhr, he offered them after it


حدیث 438

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَی النَّارِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ


ترجمہ

 ام حبیبہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اللہ اسے جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا      

امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔   


 وضاحت 

 اس قسم کی احادیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کی موت اسلام پر آئے گی اور وہ کافروں کی طرح جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا ، یعنی اللہ تعالیٰ اس پر جہنم میں ہمیشہ رہنے کو حرام فرما دے گا ، اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ، اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہمیشگی کی آگ نہیں چھوئے گی ، مسلمان اگر گناہ گار اور سزا کا مستحق ہو تو بقدر جرم جہنم میں اس کا جانا ان احادیث کے منافی نہیں ہے۔ 
 

Translation

Sayyidina Umm Habibah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for him who prays four (raka’at) before zuhr and four after it, Allah forbids fire to touch him"


حدیث 439

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ الشَّأْمِيُّ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَال سَمِعْتُ أُخْتِي أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَافَظَ عَلَی أَرْبَعِ رَکَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَی النَّارِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالْقَاسِمُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُکْنَی أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ شَأْمِيٌّ وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ


ترجمہ

 عنبسہ بن ابی سفیان (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ  میں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ (رض) کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور اس کے بعد کی چار رکعتوں پر محافظت کی تو اللہ اس کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔    

امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،  قاسم دراصل عبدالرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ ان کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے، وہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے مولیٰ اور ثقہ ہیں، شام کے رہنے والے اور ابوامامہ کے شاگرد ہیں۔ 

 

Translation

Sayyidina Anbasah ibn Abu Sufyan (RA) reported having heard from his sister Sayyidah Umm Habibah .iii the wife of the Prophet ﷺ that she heard Allah’s  Messenger ﷺ say, “He who is regular at four raka’at before zuhr and four after it, Allah forbids the Fire to touch him"


باب ما جاء فی الاربع قبل العصر

حدیث 440

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ هُوَ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَی الْمَلَائِکَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَاخْتَارَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ لَا يُفْصَلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ و قَالَ إِسْحَقُ وَمَعْنَی قَوْلِهِ أَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ يَعْنِي التَّشَهُّدَ وَرَأَی الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَی مَثْنَی يَخْتَارَانِ الْفَصْلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ


ترجمہ

 علی (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان  مقرب فرشتوں اور ان مسلمانوں اور مومنوں پر کہ جنہوں نے ان کی تابعداری کی ان پر سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے 

  امام ترمذی کہتے ہیں  علی (رض) کی حدیث حسن ہے۔  اس باب میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم  (ابن راہویہ)  نے عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں فصل نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اسحاق کہتے ہیں ان کے  (علی کے)  قول  سلام کے ذریعے ان کے درمیان فصل کرنے  کے معنی یہ ہیں کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے، اور شافعی اور احمد کی رائے ہے کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے اور وہ دونوں عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرنے کو پسند کرتے ہیں۔      


وضاحت 

 سلام کے ذریعہ فصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چاروں رکعتیں دو دو رکعت کر کے ادا کرتے تھے ، اہل ایمان کو ملائکہ مقربین کا تابعدار اس لیے کہا گیا ہے کہ اہل ایمان بھی فرشتوں کی طرح اللہ کی توحید اور اس کی عظمت پر ایمان رکھتے ہیں۔  



Translation

Sayyidina Ali reported that the Prophet ﷺ used to pray four rakaat before asr, separating them with greetings to the angels who are near to Allah and to those who followed them of the Muslims and the belieners. (that is, he prayed in two’s)


حدیث 441

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ سَمِعَ جَدَّهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّی قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں 

 امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب حسن ہے۔   
 

   وضاحت 

 نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب  ( سنن موکدہ  )  میں سے نہیں ہیں ، بلکہ سنن غیر موکدہ میں سے ہیں ، تاہم ان کے پڑھنے والے کے لیے نبی اکرم  ﷺ  کے رحمت کی دعا کرنے سے ان کی اہمیت واضح ہے۔   


Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “May Allah show mercy to him who prays four raka’at before asr


باب ما جاء فی الرکعتین بعد المغرب والقراءة فیھما 

حدیث 442

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَعْدَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّکْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَاصِمٍ


ترجمہ

 عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ  میں شمار نہیں کرسکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ  ﷺ  کو مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الکافرون» اور «‏‏قل هو اللہ أحد» پڑھتے سنا 

   امام ترمذی کہتے ہیں  اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے،  ابن مسعود (رض) کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «عبدالله بن معدان عن عاصم» ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔   


وضاحت 

 یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کی دونوں سنتوں میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے۔   


Translation

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) said, “I am unable to count how many times I have heard Allah’s Messenger ﷺ recite in the two raka’at after maghrib and the two before the salah of fajr (the surah) al-Kafirun and al-lkhlas"


باب ما جاء انه یصلیھما فی البیت

حدیث 443

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَکَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  میں نے مغرب کے بعد دونوں رکعتیں نبی اکرم  ﷺ  کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں۔

   امام ترمذی کہتے ہیں ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  اس باب میں رافع بن خدیج اور کعب بن عجرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔

 

Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “May Allah show mercy to him who prays four raka’at before asr”


حدیث 444

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَکَعَاتٍ کَانَ يُصَلِّيهَا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ قَالَ وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ کَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْفَجْرِ رَکْعَتَيْنِ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ  مجھے رسول اللہ  ﷺ  سے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے  دو رکعتیں ظہر سے پہلے ، دو اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور مجھ سے حفصہ (رض) نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔  

 اس سند سے بھی  ابن عمر (رض) سے اسی کے مثل روایت ہے

    امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے۔   

   

وضاحت 

نبی اکرم  ﷺ  کی ظہر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت پڑھنا ثابت ہے ، مگر یہاں دو کا ذکر ہے ، حافظ ابن حجر نے دونوں میں تطبیق یوں دی ہے کہ آپ کبھی ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے اور کبھی چار۔   

 

Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) said “I offered the two raka’at after maghrib at home with the Prophet ﷺ

Sayyidina Ibn Umar (RA) said, “I have learnt ten raka’at from Allah’s Messenger ﷺ that he prayed during night and day: two raka’at before zuhr and two after, two rakaat after maghrib, two raka’at after isha the last. And, Hafsah told me that he offered two raka’at before fajr.”A hadith like it is narrated by Hasan ibn Ali from Abdur Razzaq, from Mumar from Zuhri from Saalim from Ibn Umar (RA) who from the Prophet ﷺ


باب ما جاء فی فضل التطوع ست رکعات بعد المغرب

حدیث 445

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيَّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَکَعَاتٍ لَمْ يَتَکَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوئٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً 


حدیث 446

قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَکْعَةً بَنَی اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْکَرُ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَهُ جِدًّا


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوگا ۔

   امام ترمذی کہتے ہیں عائشہ (رض) سے مروی ہے وہ نبی اکرم  ﷺ  سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا   جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ، ابوہریرہ (رض) کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں،   میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔  


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone prays six raka’at after maghrib, not speaking an evil word in-between, there is a reward for him thereagainst of worship of twelve years”


باب ما جاء فی الرکعتین بعد العشاء

حدیث 447

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَکْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَکْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ ثِنْتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَائِ رَکْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْفَجْرِ ثِنْتَيْنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ  میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ  ﷺ  کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں، عشاء کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔   

امام ترمذی کہتے ہیں  اس باب میں علی اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  عبداللہ بن شقیق کی حدیث جسے وہ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں، حسن صحیح ہے۔   


Translation

Abdullah ibn Shaqiq said that he asked Sayyidah Aisha (RA) about the Prophet’s salah. She said: He used to pray before zuhr two raka’at and after zuhr two raka’t, after maghrib two raka’at, after isha two raka’at and before fajr two


باب ما جاء ان صلاۃ اللیل مثنی مثنی

حدیث 448

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِکَ وِتْرًا قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہوجانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو ۔   

امام ترمذی کہتے ہیں ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  اس باب میں عمرو بن عبسہ (رض) سے بھی روایت ہے،  اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے 


وضاحت  

 رات کی نماز کا دو رکعت ہونا اس کے منافی نہیں کہ دن کی نفل نماز بھی دو دو رکعت ہو ، جبکہ ایک حدیث میں  رات اور دن کی نماز دو دو رکعت  بھی آیا ہے ، دراصل سوال کے جواب میں کہ  رات کی نماز کتنی کتنی پڑھی جائے  ، آپ  ﷺ  نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے  نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپ خود رات میں کبھی پانچ رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے ، اصل بات یہ ہے کہ نفل نماز عام طور سے دو دو رکعت پڑھنی افضل ہے خاص طور پر رات کی۔

  

Translation

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “The salah in the night is in two’s. When you apprehend approach of dawn then pray an odd raka’at and make the last of your salah a witr"


باب ما جاء فی فضل صلاۃ اللیل 

حدیث 449

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَبِلَالٍ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَبُو بِشْرٍ اسْمُهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَاسْمُ أَبِي وَحْشِيَّةَ إِيَاسٌ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا  رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز  (تہجد)  ہے ۔   


Translation

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The most excellent fast after the month of Ramadan is (the fast) in the month of Allah, Muhurram. And the most excellent prayer after the obligatory prayers is the salah in the night"


باب ما جاء فی وصف صلاۃ النبی باللیل 

حدیث 450

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ابوسلمہ (رض) کہتے ہیں کہ  انہوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا رمضان میں رسول اللہ  ﷺ  کی نماز تہجد کیسی ہوتی تھی ؟ کہا رسول اللہ  ﷺ  تہجد رمضان میں اور غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ، آپ  (دو دو کر کے)  چار رکعتیں اس حسن خوبی سے ادا فرماتے کہ ان کے حسن اور طوالت کو نہ پوچھو، پھر مزید چار رکعتیں  (دو ، دو کر کے)  پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کو بھی نہ پوچھو  ، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ ام المؤمنین عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا للہ کے رسول ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں ؟ فرمایا عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں، دل نہیں سوتا ۔  

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے  


 وضاحت 

 اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نماز تراویح گیارہ رکعت ہے ، اور تہجد اور تراویح دونوں ایک ہی چیز ہے۔   یہاں «نہی»  ممانعت  مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود نماز کی تعریف کرنا ہے۔  دل نہیں سوتا  کا مطلب ہے کہ آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا تھا ، کیونکہ دل بیدار رہتا تھا ، یہ نبی اکرم  ﷺ  کے خصائص میں سے ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو رات کے آخری حصہ میں اپنے اٹھ جانے کا یقین ہو اسے چاہیئے کہ وتر عشاء کے ساتھ نہ پڑھے ، تہجد کے آخر میں پڑھے۔   

 

Translation

Abu Salamah asked Sayyidah Aisha (RA) about the salah of Allah’s Messenger ﷺ (in the night) in Ramadan. She said, “Allah’s Messenger ﷺ did not exceed eleven raka’at in Ramadan or otherwise. He prayed four, but do not ask about their beauty and length. Then he.prayed four, and do not ask about their beauty and length. Then he prayed three, and I said, “O Messenger of Allah! ﷺ Do you sleep before offering the witr?” He said, “My eyes sleep but the heart keeps awake"


حدیث 451

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر ہوتی۔ تو جب آپ اس سے فارغ ہوجاتے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹتے     


وضاحت 

 اضطجاع  کے ثبوت کی صورت میں تہجد سے فراغت کے بعد داہنے کروٹ لیٹنے کی جو بات اس روایت میں ہے یہ کبھی کبھار کی بات ہے ، ورنہ آپ کی زیادہ تر عادت مبارکہ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کی تھی ، اسی معنی میں ایک قولی روایت بھی ہے جو اس کی تائید کرتی ہے 

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 


Translation

Sayyidah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to pray eleven raka’at in the night, making it odd with one. When he had finished, he would lie down on his right side


حدیث 452

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے 

امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابوحمزہ ضبعی کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔       


وضاحت 

  آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ، اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے ، تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ، اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں ، کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے ، یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی ، جس نے جیسا دیکھا بیان کردیا ، لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔  


Translation

Qutaybah nthrated from Malik from Ibn Shihab the like of it


حدیث 453

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعَ رَکَعَاتٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا

حَدَّثَنَا بِذَلِکَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَأَکْثَرُ مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً مَعَ الْوِتْرِ وَأَقَلُّ مَا وُصِفَ مِنْ صَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ تِسْعُ رَکَعَاتٍ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے   

   امام ترمذی کہتے ہیں عائشہ (رض) کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،  اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور فضل بن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔  

 ہم سے اسے محمود بن غیلان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا اور انہوں نے سفیان سے اور سفیان نے اعمش سے روایت کی۔ 

   امام ترمذی کہتے ہیں  رات کی نماز کے سلسلے میں نبی اکرم  ﷺ  سے زیادہ سے زیادہ وتر کے ساتھ تیرہ رکعتیں مروی ہیں، اور کم سے کم نو رکعتیں۔   


  وضاحت 

ایسا کبھی کبھی کرتے تھے ، یہ سب نشاط اور چستی پر منحصر تھا ، اس بابت یہ نہیں کہہ سکتے کہ حدیثوں میں تعارض ہے۔   


Translation

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to pray in the night thirteen rak’at 

 Sayyidina Aisha (RA) narrated that if the Prophet ﷺ did not pray at night being prevented from from that by sleep or drowsiness of the eyes then he prayed twelve raka’at during the day


حدیث 454

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنْ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِکَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  جب رات میں تہجد نہیں پڑھ پاتے تھے اور نیند اس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیند کا غلبہ ہوجاتا تو دن میں  (اس کے بدلہ میں)  بارہ رکعتیں پڑھتے  

  امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے


Translation

Sayyidina Aisha (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ offered nine raka’at at nigh


باب فی نزول الرب تبارک وتعالی الی السماء الدنیا کل لیلة

حدیث 455

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْکَنْدَرَانِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا کُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَلَا يَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُضِيئَ الْفَجْرُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَرِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي الدَّرْدَائِ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ کَثِيرَةٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ يَبْقَی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ وَهُوَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ


ترجمہ

 ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر رات کو جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے  آسمان دنیا پر اترتا ہے اور کہتا ہے میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معاف کر دوں۔ وہ برابر اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہیں ۔  

 امام ترمذی کہتے ہیں  اس باب میں علی بن ابی طالب، ابوسعید، رفاعہ جہنی، جبیر بن مطعم، ابن مسعود، ابو درداء اور عثمان بن ابی العاص (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے،  ابوہریرہ (رض) سے یہ حدیث کئی سندوں سے نبی اکرم  ﷺ  سے مروی ہے،  نیز آپ سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب وقت رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اترتا ہے ، اور یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔   


 وضاحت 

آگے مولف بیان کر رہے ہیں  صحیح بات یہ ہے کہ  ایک تہائی رات گزرنے پر نہیں ، بلکہ ایک تہائی رات باقی رہ جانے پر اللہ نزول فرماتے ہیں ۔  ( مؤلف کے سوا دیگر کے نزدیک «الآخر» ہی ہے  )   اس سے اللہ عزوجل کا جیسے اس کی ذات اقدس کو لائق ہے آسمان دنیا پر ہر رات کو نزول فرمانا ثابت ہوتا ہے ، اور حقیقی اہل السنہ والجماعہ ، سلف صالحین اللہ تبارک وتعالیٰ کی صفات میں تاویل نہیں کیا کرتے تھے



Translatio

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “Allah, the Blessed and Exalted, comes down every night to the heaven of the earth when e first third of the night has passed away. He says:  I am the King. Who is it that will pray to Me that I may answer him? Who is it that will seek from Me that I may grant him? Who is it that will ask for My forgiveness that I may forgive him? This ceases not till the brightness of dawn"


باب ما جاء فی القراءة باللیل 

حدیث 456

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ إِسْحَقَ هُوَ السَّالَحِينِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَکْرٍ مَرَرْتُ بِکَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِکَ فَقَالَ إِنِّي أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ قَالَ ارْفَعْ قَلِيلًا وَقَالَ لِعُمَرَ مَرَرْتُ بِکَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَکَ قَالَ إِنِّي أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ قَالَ اخْفِضْ قَلِيلًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَأَنَسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ

ترجمہ

 ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے ابوبکر (رض) سے فرمایا میں  (تہجد کے وقت)  تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی ؟  کہا میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔  (یعنی اللہ کو)  آپ نے فرمایا  اپنی آواز کچھ بلند کرلیا کرو ، اور عمر (رض) سے فرمایا  میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی ؟ ، کہا میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا  تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلیا کرو ۔ 

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث غریب ہے،  اس باب میں عائشہ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں  


Translation

Sayyidina Abu Qatadah (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Sayyidina Abu Bakr (RA) , “I passed by you and you were reciting (the Qur’an) and you had lowered your voice.” He said, “I let Him hear Whom I supplicated.” But, he said, “Raise (your voice) a little.” And, he said to Sayyidina Umar i “I passed by you while you were reciting (the Qur’an), and you had raised your voice.” He said, “I wasawakening the sleeping ones and chasing away the devil.” But he said, “Lower (your voice) a little"


حدیث 457

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ کَيْفَ کَانَتْ قِرَائَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ أَکَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَائَةِ أَمْ يَجْهَرُ فَقَالَتْ کُلُّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ بِالْقِرَائَةِ وَرُبَّمَا جَهَرَ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

 قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَی بْنُ إِسْحَقَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَأَکْثَرُ النَّاسِ إِنَّمَا رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ مُرْسَلًا


ترجمہ

 عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ  میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا  رات میں نبی اکرم  ﷺ  کی قرأت کیسی ہوتی تھی کیا آپ قرآن دھیرے سے پڑھتے تھے یا زور سے ؟ کہا آپ ہر طرح سے پڑھتے تھے، کبھی سری پڑھتے تھے اور کبھی جہری، تو میں نے کہا  اللہ کا شکر ہے جس نے دین کے معاملے میں کشادگی رکھی ہے۔    

امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔   

اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند کیا ہے اور زیادہ تر لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلاً روایت کی ہے۔  (یعنی ابوقتادہ (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے) 


Translation

Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ stood one whole night with (reciting) a (single) verse of the Qur’an


حدیث 458

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ لَيْلَةً قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ


ترجمہ

 ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے پڑھتے رہے   

  امام ترمذی کہتے ہیں  یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔   
 


وضاحت 

یعنی تہجد کی ساری رکعتوں میں صرف یہی ایک آیت دھرا دھرا کر پڑھتے رہے۔ اور وہ آیت کریمہ یہ تھی «إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحکيم» (سورة المائدة )  ،  ( رواہ النسائی وابن ماجہ  )  ،  اے رب کریم ! اگر تو ان  ( میری امت کے اہل ایمان ، مسلمانوں  )  کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں ،  ( سزا دیتے وقت بھی ان پر رحم فرما دینا  )  اور اگر تو ان کو بخش دے گا تو بلاشبہ تو نہایت غلبے والا اور دانائی والا ہے ۔   



Translation

Abdullah ibn Abu Qays reported having asked Sayyidah Aisha (RA)  “Describe the Prophet’s ﷺ recital at night.” She said, “It was varied. Sometimes he made a soft recital in low tones and sometimes he let his voice be audible.” He (Abdullah) said, “All praise belongs to Allah who let there be ease in affairs"


باب ما جاء فی فضل صلاۃ التطوع فی البیت

حدیث 459

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ صَلَاتِکُمْ فِي بُيُوتِکُمْ إِلَّا الْمَکْتُوبَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فَرَوَی مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَرْفُوعًا وَرَوَاهُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ وَالْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ أَصَحُّ


ترجمہ

 زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا تمہاری نماز میں سب سے افضل نماز وہ ہے جسے تم اپنے گھر میں پڑھتے ہو، سوائے فرض کے ۔   

امام ترمذی کہتے ہیں  زید بن ثابت (رض) کی حدیث حسن ہے،  اس باب میں عمر بن خطاب، جابر بن عبداللہ، ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن سعد، اور زید بن خالد جہنی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں،  ہل علم میں اس حدیث کی روایت میں اختلاف ہے، موسیٰ بن عقبہ اور ابراہیم بن ابی نضر دونوں نے اسے ابونضر سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ نیز اسے مالک بن انس نے بھی ابونضر سے روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور بعض اہل علم نے اسے موقوف قرار دیا ہے جب کہ حدیث مرفوع زیادہ صحیح ہے۔   


حدیث 460

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلُّوا فِي بُيُوتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ


ترجمہ

 عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو   اور انہیں قبرستان نہ بناؤ 

 امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔


 وضاحت 

اس سے مراد نوافل اور سنن ہیں  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہے وہ قبرستان کی طرح نہیں ہیں ، اور جن گھروں میں نوافل وغیرہ کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ قبرستان کے مثل ہیں ، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں ایسے گھر بھی عمل و عبادت سے محروم قبرستان کے ہوتے ہیں۔ 


Sight  Of  Right



No comments:

Powered by Blogger.