Fiqah Intro ( Pending )
Islamic Jurisprudence
فقہ کی تعریف
لغت میں بمعنی سمجھ بوجھ کے ہیں
اصطلاح میں فقہ
شریعت کے ان احکامات کا نام ہے جو قرآن ،حدیث، اجماع اور قیاس سے حاصل کئے گئے ہوں
علم فقہ کا موضوع
مکلف (یعنی عاقل اور بالغ) انسان کے ظاہری اعمال
علم الفقہ کا فائدہ
شرعی احکام کی سمجھ اور دونوں جہانوں کی کامیابی کا حصول
علم الفقہ کا حکم
علم فقہ کے بنیادی مسائل سیکھنا فرض ہے
علم الفقہ کی فضیلت
فقہ کے ماہر کو فقیہ کہتے ہیں اور حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ
جس کے لئے اللّه خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ (فقہ) عطا فرماتا ہے
ایک دوسری روایت کا مفہوم ہے کہ ایک فقیہ کو دھوکہ دینا شیطان کے لئے ہزار عبادت کرنے والوں کو
دھوکہ دینے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے
فقہ کی حقیقت / تفصیل کیا ہے؟ 🔸
انسانی کمالات کا مدار علمی اور عملی کمال پر ہے، اگر دنیوی اور عصری علوم کا دین سے تعلق نہ ہو تو وہ سراسر جہالت ہے، اور دینی علوم میں "علمِ فقہ" کو جو اہمیت اورعظیم مقام حاصل ہے وہ کسی اور علم کو حاصل نہیں ہے، قرآنِ کریم سمجھنے اور حدیث طلب کرنے کا آغاز فقہ ہی سے ہوتا ہے، اور یہی فقہ قرآن وحدیث کا نتیجہ اور ثمرہ بھی ہے، اگر کوئی دینی طالبِ علم یا عالمِ دین فقہ میں ناپختہ ہو تو اسے قرآنِ پاک اور حدیث شریف سمجھنے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔
فقہ قرآن وحدیث سے ہٹ کر شریعت کا کوئی مستقل یا الگ سرچشمہ اور ماخذ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک خاص ضابطہ کے تحت قرآن وحدیث کی مکمل اور جامع شرح ہے، یہ قرآن وحدیث سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کو قرآن وحدیث ہی سے لیا گیا ہے، جن باتوں کو قرآن وحدیث میں اصولی اور اجمالی طور پر بیان کیا گیا ہے، انہی باتوں کو ائمہ نے فقہ میں تفصیل کے ساتھ فروعات اور جزئیات کی شکل میں نمایاں کیا ہے۔
وقال الإمام الشافعي، رضي اللّه عنه •
جميع ما تقوله الأئمة شرح للسنة، وجميع شرح السنة شرح للقرآن
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللّه (المتوفیٰ 204ھ) فرماتے ہیں
"ائمہ کرام نے جتنی باتیں بیان فرمائی ہیں وہ سب حدیث ہی کی شرح ہیں اور پورا ذخیرہ احادیث قرآنِ کریم کی شرح ہے"
امام محمد بن محمد غزالی (المتوفی 505ھ) لکھتے ہیں
وأن الفقه أشرف منه من ثلاثة أوجه. أحدها: أنه •
علم شرعي؛ إذ هو مستفاد من النبوة
بے شک فقہ علمِ شرعی ہے کیوں کہ وہ نبوت (یعنی قرآن وحدیث) ہی سے لیا گیا ہے۔
إحياء علوم الدين1 / 19
اسلام کے شروع زمانہ میں فقہ کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ اس میں عقائد ، اخلاق، اور فروعی مسائل سب شامل تھے، چناچہ جلیل القدر تابعی ، امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی رحمہ اللّه (المتوفی 150ھ) سے فقہ کی تعریف اس طرح منقول ہے
"والفقه معرفة النفس ما لها وما عليها"
"فقہ ان چیزوں کو جاننے کا نام ہے جو نفس کو فائدہ پہنچائیں اور جو اسے نقصان پہنچائیں"
شرح التلويح على التوضيح1 / 16
پھر جب خلیفہ مامون الرشید کے دور میں یونانی فلسفہ کی ترجمہ والی کتابوں کے اثرات سے عقائد کی سادگی ختم ہوگئی اور اس کے مباحث طویل، مشکل، اور پیچیدہ بن گئے تو عقائد کو فقہ سے نکال کرایک مستقل فن کی حیثیت دے دی گئی اور وہ "علم الکلام" کے نام سے مشہور ہوگیا، اس کے بعد اخلاقیات کو فقہ سے نکال کر ایک الگ علم کی حیثیت حاصل ہوگئی جو "علمِ تصوف" کے نام سے مشہور ہوا، اس کے بعد "فقہ" صرف عملی جزئیات اور فروعی مسائل کا نام رہ گیا، اب اس میں عقائد اور اخلاق داخل نہیں ہیں، اس لیے بعد کے زمانہ کے فقہاء نے فقہ کی یہ تعریف کی ہے کہ
’’فالفقه لغةً: العلم بالشيء، ثم خص بعلم الشريعة، وفقه بالكسر فقهاً علم، وفقه بالضم فقاهةً صار فقيهاً. واصطلاحاً: عند الأصوليين
العلم بالأحكام الشرعية الفرعية المكتسب من أدلتها التفصيلية •
فقہ شرعی و عملی احکام اور قوانین کے علم کا نام ہے جو ان کے تفصیلی دلائل سے حاصل ہو
لفظ فقہ قرآن و سنّت میں
فقہ
فقہ شریعت اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے
لغوی معنی
کسی شے کا جاننا اور اُس کی معرفت و فہم حاصل کرنا۔
لفظ "فقہ" قرآن مجید میں
قرآن حکیم میں درج ذیل مواقع پر یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ "دین کی فقہ" (سمجھ) حاصل کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انکو ڈر سناتے تاکہ وہ بھی محتاط ہو جاتے۔
قَالُواْ يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلاَ رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ
وہ بولے، اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔
أَيْنَمَا تَكُونُواْ يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِ اللّهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلًّ مِّنْ عِندِ اللّهِ فَمَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا
آپ فرما دیں (حقیقۃً) سب کچھ اللّه کی طرف سے (ہوتا) ہے۔ پس اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ
تو اُن کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی سو وہ (کچھ) نہیں سمجھتے۔
لفظ "فقہ" حدیث نبوی میں
حدیثِ نبوی صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم میں بھی فقہ کا لفظ سمجھ بوجھ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔حضرت امیر معاویہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
مَنْ يُرِدِ اﷲُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ۔
اللّه تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔
نیز آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
"فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ"
ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے بھاری ہوتا ہے۔
کیونکہ عابد کی عبادت بلا بصیرت ہوتی ہے، اس لیے شیطان کو اسے گمراہی کے گڑھے میں دھکیلنا اور شکوک وشبہات کے جال میں پھانسنا بہت آسان ہوتا ہے؛ جب کہ فقیہ اس کی سازشوں اور چالوں سے واقف ہوتا ہے اور وہ اس کے دامِ فریب میں عام طور پر نہیں آتا ہے،
صاحب الاشباہ والنظائر نے فقہ کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: اسی لیے شرعی اصطلاح میں "فقہ" کا لفظ علمِ دین کا فہم حاصل کرنے کے لیے مخصوص ہے۔
امام ابو حنیفہ فقہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں
الفقه : معرفة النفس، مَالَهَا وما عليها۔
فقہ نفس کے حقوق اور فرائض و واجبات جاننے کا نام ہے۔
بالعموم فقہا کرام فقہ کی اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
العلم بالأحکام الشرعية العملية من أدلتها التفضيلية
احکام فرعیہ شرعیہ عملیہ کو تفصیلی دلائل سے جاننے کا نام فقہ ہے۔
"شرعی احکام" سے مکلف کے افعال پر شریعت کی جانب سے جو حکم اور صفت مرتب ہوتی ہے وہ مراد ہے، جیسے کسی عمل کا فرض، واجب، مستحب یامباح یا اسی طرح حرام و مکروہ ہونا اور تفصیلی دلائل کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ کس دلیل شرعی پر مبنی ہے، کتاب اللّه پر، سنت رسول پر، اجماع پر یا قیاس وغیرہ پر؛ اسی طرح حکم اور دلیل کے درمیان ارتباط کو جاننا بھی فقہ میں شامل ہے۔
علامہ ابن خلدون نے فقہ کی تعریف میں لکھا ہے
افعال مکلفین کی بابت اس حیثیت سے احکام الہٰی کے جاننے کا نام فقہ ہے کہ وہ واجب ہیں یامحظور، ممنوع وحرام، مستحب اور مباح ہیں یامکروہ۔
مندرجہ بالا تعریفات واضح کرتی ہیں کہ فقۂ اسلامی سے مراد ایسا علم و فہم ہے، جس کے ذریعے قرآن و حدیث کے معانی و اشارات کا علم ہو جائے اور احکامات کی مخصوص دلائل کے ذریعے معرفت حاصل ہو، جیسے نماز کی فرضیت کا علم
اَقِيْمُو الصَّلٰوۃ کے ذریعے حاصل ہوا، زکوٰۃ کی فرضیت کا علم
اَقِيْمُو الصَّلٰوۃ کے ذریعے حاصل ہوا، زکوٰۃ کی فرضیت کا علم
اٰتُوا الزَّکٰوۃَ کے ذریعے حاصل ہوا
علم فقہ کا موضوع
مکلّف آدمی کا فعل ہے جس کے احکام سے اس علم میں بحث ہوتی ہے، مثلاً انسان کے کسی فعل کا صحیح، فاسد، فرض وواجب، سنت ومستحب، یاحلال وحرام ہونا وغیرہ۔
فقہ کی غرض وغایت
سعادت دارین کی کامیابی اور علم فقہ کے ذریعہ شرعی احکام کے مطابق عمل کرنے کی قدرت۔
فقیہ
فقیہ (Jurist) اس پیشہ ور کو کہتے ہیں جو قانون کا مطالعہ کرتا ہے یا دوسری صورت میں قانون سے متعلق کوئی رائے تیار کرتا ہے، جو بعد میں صلح و مشورہ کے کام دیتی ہے یا نیا قانون نافذ کرنے میں کام آتی ہے
ضرورت فقہ
انسان کی مکمل زندگی میں عقائد، عبادات، معاملات اور معاشرت وغیرہ سے متعلق شرعی احکام و مسائل ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں قرآن، حدیث اور صحابہ وغیرہ کے اقوال میں بکھرے پڑے ہیں، اب ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میں ہر مسئلہ بلاواسطہ قرآن، حدیث اور آثار صحابہ وغیرہ سے خود ہی تلاش کرلوں گا یہ ایک ناممکن اور بے حد دشوار ہے اس کے ناممکن ہونے کی وجوہات بہت ساری ہیں مثلاً
انسان کی اپنی اپنی لامتناہی مصروفیات
شریعت کے تمام احکام عربی زبان میں ہیں اور ہر انسان عربی زبان سے واقف نہیں ہوتا اور ہوتا بھی ہے تو اس کے معانی مختلف ہونے کی وجہ سے صحیح معنی تک اس کا پہنچنا دشورا ہوتا ہے
شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں جو آیات قرآني اور احادیثِ صحیحہ سے صراحۃ ثابت ہیں لیکن بعض احکام ایسے ہیں کہ جن میں کسی قدر ابہام و اجمال ہے اور بعض آیات و احادیث ایسی ہیں جو چند معانی کا احتمال رکھتی ہیں اور کچھ احکام ایسے ہیں جو بظاہر قرآن کی کسی دوسری آیت یا کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتی تو وہاں اجتہاد و استنباط سے کام لینا پڑتا ہے اور خود زبان نبوت سے اس کی تائید و تصویب بھی ہوتی ہے
ترمذی، باب ماجاء فی القاضی کیف یقضی،حدیث نمبر:1249
اور اجتہاد و استنباط ہر ايك كے بس كی بات نہیں؛ ایسے موقع پر عمل کرنے والے کے لیے الجھن اور دشواری یہ پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنا عمل شریعت کے مطابق کیسے بنائے؟ کس پر عمل کرے اور کونسا راستہ اختیار کرے؟ اسی الجھن کی وجہ سے خود صحابہ کرام حضور صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں بلاواسطۂ نبی قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ كچھ خاص صحابہ کرام حضور صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاکر قرآنی تعلیمات مستقل طورپر سمجھا کرتے تھے۔
اسی طرح حضور صلی اللّه علیہ و آلہ و سلم کے بعد ہر شخص قرآن و حدیث سے بغیر کسی واسطے کے کوئی مسئلہ اپنے لیے تجویز نہیں کرتا تھا بلکہ جو عالم صحابہ کرام تھے ان سے مسئلہ معلوم کرکے عمل کیا کرتا تھا اسی طرح ہر زمانہ میں ہوتا رہا۔ بہرحال بعض حضرات ہر زمانے میں ایسے رہے جو قرآن و حدیث کے علوم میں ماہر، فہم و بصیرت میں اعلی، تقویٰ اور طہارت میں فائق اور حافظہ و ذکاوت میں اوقع تھے لوگ ان ہی سے مسائل معلوم کرکے عمل کرتے اور اپنی فہم و بصیرت پر بالکل اعتماد نہیں کرتے اور اگر ہر کوئی خود ہی اپنے مسئلہ کو قرآن و حدیث میں تلاش کرنے لگے تو گویا ایسا ہی ہو جائے گا جیسے کہ ہر شخص اپنے مرض کا علاج خود ہی طبی کتابوں میں تلاش کرلے ڈاکٹر وغیرہ کی اس کو ضرورت ہی نہیں اگر ایسا ہوا تو کیا ہر مریض اپنے مرض کا علاج ان كتابوں ميں تلاش کر پائے گا؟ ہرگز نہيں؛ بالکل اسی طرح دینی و شرعی مسئلہ کو سمجھیں کہ اس کا حل ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ بہرحال جو لوگ قرآن و حدیث کو مکمل طور پر سمجھے ہیں اور اپنی مکمل زندگی کو مسائل کے حل کرنے اور قرآن و حدیث کے مطابق اس کو ڈھالنے میں وقف کر دیا اور ہر مسئلہ کا جواب قرآن و حدیث اور اس کے مطابق اصول کی روشنی میں بتایا ان میں مقبول چار حضرات کے مکاتب فکر ہوئے ہیں جن کے نام یہ ہیں، امام ابو حنیفہ امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل،ان حضرات کے بعد ان کے شاگرد حضرات ہر ایک کا مسئلہ قرآن و حدیث اور ان حضرات کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق بتلایا کرتے تھے اسی طرح یہی معمول اب تک چلا آیا اور آئندہ بھی چلتا رہے گا ۔
صاحب الاشباہ والنظائر نے فقہ کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے
الفقۃ أشرف العلوم قدراً وأعظمھا أجرا وأتمھا عائدۃ وأعمھا فائدۃ وأعلاھا مرتبہ یملا العیون نوراً والقلوب سروراً والصدور انشراحاً
علم فقہ تمام علوم میں قدرومنزلت کے اعتبار سے بڑھا ہوا ہے اور اجر کے اعتبار سے بھی اس کا مرتبہ اونچا ہے، علم فقہ اپنے مقام ورتبہ کے اعتبار سے بھی بہت بلند ہے اور وہ آنکھوں کو نور اور جلا بخشتا ہے، دل کو سکون اور فرحت بخشتا ہے اور اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے۔
اور صاحب درمختار نے علم فقہ کی عظمت کا یوں تذکرہ کیا ہے۔
وخیر علوم علم فقہ ؛لانہ یکون الی العلوم توسلاً ؛فان فقیھا واحداً متورعاً علی الف ذی زھد تفضل واعتلیٰ ،تفقہ فان الفقہ افضل قائد الی البر والتقوی وأعدل قاصد وکن مستفیدا کل یوم زیادۃ من الفقہ واسبح فی بحور الفوائد
تمام علوم میں قدر و منزلت اور مقام و رتبہ کے اعتبار سے سب سے بہتر علم فقہ ہے، اس لیے کہ علم فقہ تمام علوم تک پہنچنے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے، اسی وجہ سے ایک متقی فقیہ ہزار عابدوں پر بھاری ہوتا ہے، علم فقہ کو حاصل کرنا چاہیے، اس لیے کہ علم فقہ نیکی اور تقویٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہر دن علم فقہ سے مستفید ہوتے رہنا چاہیے، اس کے سمندر میں غوطہ زنی کرنا چاہیے۔
فقہ اور عہدِ نبوی صلی اللّه علیہ وسلم
قرآن و حدیث کی بنیاد براہِ راست فرمانِ باری پر ہے، فرق یہ ہے کہ قرآن مجید میں الفاظ و معانی دونوں اللّه تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور حدیث میں الفاظ اور تعبیر رسول اللّه ﷺ کی طرف سے ہے پس قرآن و حدیث کا سرچشمہ ذاتِ خداوندی ہے اور واسطہ رسول اللّه ﷺ کا ہے، اس لیے اس کے ذریعہ جو علم حاصل ہوگا وہ معصوم ہوگا، یعنی غلطیوں اور خطاؤں سے محفوظ اور اجتہاد کے ذریعہ جو احکام اخذ کیے جاتے ہیں، ان میں خطاء کا احتمال موجود ہوتا ہے اور جب محفوظ طریقہ علم موجود ہو تو غیر محفوظ اور غلطی کا احتمال رکھنے والے ذریعہ علم کی ضرورت نہیں رہتی اسی لیے عہدِ نبوی میں احکامِ فقہیہ کا مدار کتاب و سنت پرتھا۔
پھر چونکہ مکی زندگی میں آپ کے مخاطب زیادہ تر کفار و مشرکین تھے اور ابھی سب سے اہم مسئلہ ان کے دلوں میں ایمان کا پودا لگانے کا تھا اس لیے زیادہ توجہ اعتقادی اور اخلاقی اصلاح کی طرف تھی، مکہ میں نبوت کے بعد آپ کا قیام بارہ سال پانچ مہینہ، تیرہ دن رہا ہے، قرآنِ مجید کی ایک سو چودہ سورتوں میں سے زیادہ تر سورتیں مکہ ہی میں نازل ہوئیں؛ کیونکہ بیس سورتوں کے مدنی ہونے پر اتفاق ہے اور بارہ کے مکی یا مدنی ہونے کی بابت اختلاف ہے، باقی بیاسی سورتیں بالاتفاق مکی ہیں۔
مکی زندگی میں قرآن کا خاص موضوع دعوتِ ایمان اور اصلاحِ عقیدہ تھا، ہاں بعض اُصولی احکام اور بعض متفق علیہ برائیوں کی مذمت سے متعلق ہدایاتِ زندگی میں بھی دی گئیں،
جیسے قتل ناحق کی ممانعت
لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی مذمت التکویر
زنا کی حرمت۔۔۔ المؤمنون
یتیموں کے ساتھ بدسلوکی کی ممانعت اور ناپ تول
کو درست رکھنے کی ہدایات
غیر اللّه پر جانور یا نذر کی ممانعت
ان ہی جانوروں کا گوشت کھانے کی اجازت جن پر ذبح کرتے وقت اللّه کا نام لیا گیا ہو ،
عبادات میں بالاتفاق "نماز" مکی زندگی میں فرض ہوچکی تھی اور زکوٰۃ کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن زکوٰۃ کا ذکر مکی آیات میں بھی ملتا ہے ممکن ہے کہ مکہ میں اجمالی حکم دیا گیا ہو اور مدنی زندگی میں اس کی تنفیذ عمل میں آئی ہو، عملی زندگی سے متعلق احکام عام طور پر مدنی زندگی میں ہی دیے گئے ہیں۔
قرآنِ مجید میں جو فقہی احکام آئے ہیں، ان میں بعض اپنے منشا و مراد کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں
جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، وغیرہ کا فرض ہونا، زنا، قتل، تہمت تراشی کی حرمت، میراث کے احکام، نکاح میں محرم اور غیر محرم رشتہ داروں کی تعیین، یہ عقیدہ کے درجہ میں ہیں اور ان کا انکار موجب کفر ہے
اور بعض میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہے لہٰذا ان مسائل میں استنباط میں اختلافِ رائے کی وجہ سے ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کی جاسکتی۔
قرآن کا طرزِ بیان فقہی اور قانونی کتابوں جیسا نہیں ہے کہ ایک موضوع سے متعلق تمام مسائل ایک ہی جگہ ذکر کر دیے گئے ہوں بلکہ قرآن میں حسب ضرورت ایک موضوع سے متعلق احکام مختلف مقامات پر آیا کرتے ہیں اور فقہی احکام کے ساتھ ترغیبات و ت رہیبات اور ان احکام کی حکمتوں اور مصلحتوں پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے تاکہ انسان کو اس کے تقاضے پر عمل کرنے کی رغبت ہو کیونکہ قرآن مجید کا اصل مقصد ہدایت ہے۔
حدیث نبوی کے سلسلہ میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ رسول اللّه ﷺ کی دو حیثیتیں تھیں، ایک بشری اور دوسرے نبوی چنانچہ آپ کی بشری حیثیت کو قرآن نے پوری تاکید سے بیان کیا ہے
"قُلْ إِنَّمَاأَنَابَشَرٌ مِثْلُكُمْ"
کہدو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں
اس حیثیت سے آپﷺ نے جو بات فرمائی ہو، اس کی حیثیت حکم شرعی کی نہیں ہوگی جیسا کہ آپ نے ابتداً اہلِ مدینہ کو کھجور میں "تابیر" یعنی کھجور کے مادہ درخت میں نر درخت کے ایک خاص حصہ کو ڈالنے سے منع فرمایا تھا لیکن جب اس کی وجہ سے پیداوار گھٹ گئی تو آپﷺ نے اپنی ہدایت کو واپس لے لیا اور فرمایا
"أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ"
تم زیادہ جانتے ہوں اپنے دنیوی معاملہ کو
لیکن یہ فرق کرنا بہت دشوار ہے کہ آپ کے کون سے احکام بشری حیثیت سے تھے، اس لیے جب تک اس پر کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو، آپ کے تمام فرمودات اور معمولات کی حیثیت شرعی ہی ہوگی۔
آپ کے بعض افعالِ طبعی نوعیت کے ہیں، مثلاً
آپ کے استراحت کا انداز، کسی غذا کا آپ کو پسند آنا اور کسی غذا کا آپ کو پسند نہ آنا، چلنے، بیٹھنے، گفتگو کرنے، ہنسنے اور مسکرانے کی مبارک ادائیں، ان میں جن اُمور کو باختیار عمل میں لایا جاسکتا ہو، وہ بھی مستحب کے درجہ میں ہوں گے اور جو باتیں آدمی کے ارادہ و اختیار سے باہر ہیں، ان سے شرعی حکم متعلق نہیں ہوگا کیونکہ حکم شرعی کا تعلق ارادہ و اختیار اور قوت و استطاعت سے ہے۔
بعض افعال آپ نے بطورِ وقتی تدبیر کے کیے ہیں، جیسے میدانِ جنگ میں جگہ کا انتخاب، راستہ کا انتخاب، فوجوں کی صف بندی، وغیرہ، یہ احکام بحیثیت امیر آپ کی طرف سے تھے اور اُس وقت جو صحابہ موجود تھے، ان پر اس کی اطاعت فرض تھی، آئندہ ان اُمور کے سلسلہ میں مناسب حال تدبیر کا اختیار کرنا درست ہوگا۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ اس عہد میں احکامِ شرعیہ کا اصل ماخذ تو قرآن و حدیث ہی تھا لیکن آپ سے اجتہاد کرنا بھی ثابت ہے۔
ایک خاتون آپ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا، ان کے ذمہ نذر کے روزے باقی تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپﷺ نے فرمایا اگر تمہاری ماں پر کسی کا قرض باقی ہوتا تو کیا اسے ادا کرتیں؟ انھوں نے کہا ہاں!
آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
"فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى"
اللّه کا قرض زیادہ قابل ادائیگی ہے
دیکھیے! یہاں حضور ﷺ نے اجتہاد و قیاس سے کام لیا ہے البتہ اگر آپ سے اجتہاد میں لغزش ہوجاتی تو اللّه تعالیٰ کی طرف سے متنبہ کر دیا جاتا چناچہ غزوۂ بدر کے قیدیوں کے سلسلہ میں آپ ﷺ نے فدیہ لے کر رہا کردینے کا فیصلہ فرمایا، اس فیصلہ پر اللّه تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ نازل ہوئی
(الانعام:67،68)
اسی طرح غزوۂ تبوک کے موقع سے آپ نے پیچھے رہ جانے والے منافقین کی معذرت اپنے اجتہاد سے قبول کی اور اس پر اللّه تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہوئی
پس آپﷺ نے اجتہاد بھی فرمایا ہے، فرق یہ ہے کہ اگر آپ سے اجتہاد میں کوئی لغزش ہوجاتی تو آپﷺ کو اس پر تنبیہ فرمادیا جاتا اس لیے آپﷺ کا اجتہاد بھی نص کے حکم میں ہے۔
آپ کے عہد میں صحابہؓ نے بھی اجتہاد کیا ہے، آپﷺ کی عدم موجودگی میں تو کیا ہی ہے کیونکہ خود آپﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللّه عنہ کو اجازت دی تھی کہ اگر قرآن و حدیث میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لو اور صحابہؓ نے آپ کے ارشاد پر عمل بھی کیا، مثلاً حضرت علیؓ کے پاس یمن میں ایک لڑکے کے سلسلہ میں تین دعویدار پہنچے، حضرت علیؓ نے پہلے تو ہر ایک کو راضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ دوسرے کے حق میں دستبردار ہو جائے لیکن جب کوئی اس پر آمادہ نہ ہوا تو قرعہ اندازی کرکے جس کے حق میں قرعہ نکلا اس کو لڑکا حوالہ کر دیا اور باقی دونوں سے کہا کہ وہ دونوں کو ایک ایک تہائی دیت ادا کرے
وممن حكم باجتهادہ ۔
رسول اللّه ﷺ کی عدم موجودگی میں صحابہؓ کے اجتہاد کے اور بھی متعدد واقعات موجود ہیں۔
بعض اوقات حضور ﷺ کی موجودگی میں بھی صحابہؓ نے اجتہاد فرمایا ہے، اس کی واضح مثال آپ ﷺ کی موجودگی میں غزوہ بنوقریظہ کے موقع سے بنو قریظہ کے معاملہ میں حضرت سعد بن معاذؓ کا فیصلہ کرنا ہے اسی طرح امام احمدؓ نے حضرت عبد اللّه بن عمرو بن العاصؓ سے نقل کیا ہے کہ آپﷺ کی خدمت میں ایک مقدمہ آیا، آپ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللّه عنہ کو اس کا فیصلہ کرنے کا حکم فرمایا انہوں نے معذرت بھی کرنی چاہی لیکن آپ ﷺ نے حکم دیا اور فرمایا کہ اگر صحیح فیصلہ کرو گے تو دس نیکیاں ملیں گی اور اگر کوشش کے بعد غلطی ہو جائے، تب بھی ایک نیکی ضرور ہی حاصل ہوگی۔
عرب چونکہ اصل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُمت تھے، اس لیے بہت سی روایات و رواجات، صالح، منصفانہ اور شریفانہ بھی پائے جاتے تھے، جیسے قصاص، دیت، قسامت، مقدمات کے ثابت کرنے کا طریقہ، نکاح میں حرام رشتے وغیرہ۔۔ لیکن بہت سے طریقے غیر شریفانہ اور غیر منصفانہ تھے، شریعتِ اسلامی نے عام طور پر پہلی قسم کے احکام کو باقی رکھا اور دوسری قسم کے احکام کی اصلاح فرمائی؛ یہاں اختصار کے ساتھ کچھ اصلاحی ہدایات و ترامیم کا ذکر کیا جاتا ہے
زمانۂ جاہلیت میں ایک طریقہ "نکاح شغار" کا تھا، دو مرد ایک دوسرے سے اپنی محرم خاتون کا نکاح کرتے تھے اور ایک نکاح کو دوسرے کے لیے مہر ٹھہراتے تھے، رسول اللّه ﷺ نے اس سے منع فرمایا اسی کو نکاحِ شغار کہا جاتا تھا۔
والد کی وفات کے بعد لڑکا سوتیلی ماں سے اپنا نکاح کرلیتا تھا اگر وہ خود نکاح نہ کرتا تو اسے یہ حق ہوتا کہ کسی اور سے نکاح کر دے اور مہر وصول کر لے یا اسے نکاح کرنے سے روک دے یہاں تک کہ اس کی موت ہو جائے اور یہ اس کے مال کا وارث ہو جائے۔
(احکام القرآن للجصاص:1/106،202)
قرآن نے اس طریقہ کی مذمت فرمائی اور اس سے منع کر دیا۔
نکاح میں دو بہنوں کو جمع کیا جاتا تھا اور غیر محدود تعداد ازدواج کی اجازت تھی یہاں تک کہ جب غیلان ثقفی مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں، قرآن نے دو بہنوں کو جمع کرنے اور چار سے زیادہ نکاح کرنے کو منع فرمادیا۔ زمانۂ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے اور بیٹی کو بھی اپنی اولاد کا درجہ دیا جاتا تھا، نکاح کے معاملہ میں بھی اور میراث کے معاملہ میں بھی۔ اللّه تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی
"وَمَاجَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ"
اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے
(الأحزاب:4)
زمانۂ جاہلیت میں عورت کے مہر پر ولی قبضہ کرلیتا تھا، قرآن مجید نے کہا کہ عورت کا مہر عورت کو دیا جائے
"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً"
طلاق کی کوئی تعداد متعین نہ تھی، جتنی چاہتے طلاق دیتے جاتے اور عورت کو نکاح سے آزاد بھی نہ ہونے دیتے قرآن نے طلاق کو تین تک محدود کر دیا۔
"ایلاء" سال دو سال کا بھی ہوا کرتا تھا، جو ظاہر ہے کہ عورت کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ بات تھی، قرآن مجید نے چار ماہ کی مدت مقرر کردی کہ اگر قسم کھا کر اس سے زیادہ بیوی سے بے تعلق رہے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
ظہار یعنی بیوی کو محرم کے کسی عضو حرام سے تشبیہ دینے کو طلاق تصور کیا جاتا تھا
قرآن نے اسے طلاق تو قرار نہیں دیا لیکن اس پر کفارہ واجب قرار دیا۔
عدت سال بھر ہوا کرتی تھی، قرآن نے وضع حمل اور غیر حاملہ کے لیے وفات کی صورت میں چار ماہ دس دن اور طلاق کی صورت میں جوان عورت کے لیے تین حیض اور دوسروں کے لیے تین ماہ قرار دی۔ اسلام سے پہلے وارث اور غیر وارث دونوں کے لیے جتنے مال کی چاہے وصیت کرسکتے تھے، اسلام نے وارث کے لیے وصیت کو غیر معتبر قرار دیا اور وصیت کی مقدار ایک تہائی تک محدود کر دیا۔
میراث کا قانون بڑا ظالمانہ تھا، صرف ان مردوں کو جو جنگ میں لڑنے کے قابل ہوتے، انھیں میراث دی جاتی تھی اور نابالغوں کے لیے میراث میں حصہ نہیں تھا، اسلام نے عورتوں اور نابالغ بچوں کو حق میراث عطا کیا۔ عرب سود کو درست سمجھتے تھے، اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اس کو منع کر دیا۔ مال رہن کا قرض دینے والا مالک ہوجاتا تھا؛ اگر مقروض نے وقت پر قرض ادا نہیں کیا، اسلام نے اس بات کی تو اجازت دی کہ اگر مقروض قرض ادا نہیں کرے تو بعض صورتوں میں مال کو فروخت کرکے اپنا قرض وصول کرلے اور باقی پیسہ واپس کر دے لیکن یہ درست نہیں کہ پورے مال رہن کا مالک ہو جائے۔
زمانۂ جاہلیت میں ایک طریقہ یہ تھا کہ خرید و فروحت کے درمیان اگر بیچی جانے والی شے کو چھوڑدیا یا اس پر کنکری پھینک دی تو اس کے ذمہ اس کا خریدنا لازم ہو گیا، جس کو منابذہ، ملامسہ، بیع حصاۃ کہا کرتے تھے، رسول اللّه ﷺ نے اس طریقہ پر خرید و فروخت کو منع فرمایا بیع ملامسہ وغیرہ کی بعض اور تعریفیں بھی کی گئی ہیں جسے بیع کے لفظ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ لوگ کسی سامان کی قیمت کو بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر بولی لگا دیتے تھے، اس کو"نجش" کہتے ہیں، آپﷺ نے اس کو بھی منع فرمایا۔
قتل اور جسمانی تعدی میں لوگ صرف قاتل اور ظالم ہی سے بدلہ نہیں لیتے تھے بلکہ اس کے متعلقین اور پورے قبیلہ کو مجرم کا درجہ دیتے تھے، قرآن نے اس کو منع کیا اور صرف مجرم کو سزاوار ٹھہرایا۔ حج میں قریش مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے اور اسے اپنے لیے باعثِ ہتک سمجھتے تھے، قرآن مجید نے سبھی کو عرفات جانے کا حکم دیا بلکہ وقوفِ عرفہ کو حج کارکنِ اعظم قرار دیا گیا۔
پس زمانۂ جاہلیت کے بہت سے احکام میں شریعتِ اسلامی نے اصلاح کی اور جو رواجات عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھے، ان کو کالعدم قرار دے دیا۔
فقہ اور خلافتِ راشدہ
یہ عہد 11/ہجری سے شروع ہوکر 40/ہجری پرختم ہوتا ہے۔
اس عہد میں احکامِ شریعت کے اخذ و استنباط کا سرچشمہ قرآن مجید اور حدیثِ نبوی کے علاوہ اجماعِ اُمت اور قیاس تھا چنانچہ حضرت عمرؓ نے قاضی شریح کو جو خط لکھا، اس میں حسب ذیل نصیحت فرمائی
"جب کتاب اللّه میں کوئی حکم پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہ کرو، کسی اور طرف توجہ نہ کرو اگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آئے کہ کتاب اللّه میں اس کا حکم نہ ہو، تو رسول اللّه ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کرو اگر کتاب اللّه میں نہ ملے اور نہ سنتِ رسول میں، تو جس بات پر لوگوں کا اجماع ہو اس کے مطابق فیصلہ کرو، نہ کتاب اللّه میں ہو، نہ سنتِ رسول میں اور نہ تم سے پہلوں نے اس سلسلہ میں کوئی رائے ظاہر کی ہو، تو اگر تم اجتہاد کرنا چاہو تو اجتہاد کے لیے آگے بڑھو اور اس سے پیچھے ہٹنا چاہو، تو پیچھے ہٹ جاؤ اور اس کو میں تمہارے حق میں بہتر ہی سمجھتا ہوں"۔
حضرت ابوبکرؓ بھی اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ جن مسائل کے بارے میں قرآن و حدیث کی کوئی نص موجود نہ ہو، ان میں اہم شخصیتوں کو جمع کیا جائے اور ان سے مشورہ کیا جائے اور اگر وہ کسی بات پر متفق ہوجائیں تو اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر جو اتفاق ہوا، وہ آپ ہی کی پہل پر اسی طرح بعض مسائل پر اجماع منعقد ہونے میں حضرت ابوبکر رضی اللّه عنہ کی سعی کو دخل رہا ہے، جیسے مانعین زکوٰۃ سے جہاد، رسول اللّه ﷺ کی متروکات میں میراث کا جاری نہ ہونا، رسول اللّه ﷺ کا آپ کی جائے وفات پردفن کیا جانا، قرآن مجید کی جمع و ترتیب، وغیرہ۔
چونکہ رسول اللّه ﷺ کے بعد غیر منصوص مسائل میں اجتہاد کے سوا چارہ نہیں تھا؛ اس لیے صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلافِ رائے بھی پیدا ہوا، بعض مواقع پر کوشش کی گئی کہ لوگوں کو ایک رائے پر جمع کیا جائے لیکن اس کے باوجود نقاطِ نظر کا اختلاف باقی رہا، صحابہ کا مزاج یہ تھا کہ وہ اس طرح کے اختلافات کو مذموم نہیں سمجھتے تھے اور پورے احترام اور فراخ قلبی کے ساتھ دوسرے کو اختلاف کا حق دیتے تھے، اس کی چند مثالیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں
حضرت عمرؓ اور حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ کے نزدیک بیوہ حاملہ عورت کی عدت ولادت تک تھی اور غیر حاملہ کی چار مہینے دس روز، حضرت علیؓ اور عبد اللّه بن عباسؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ولادت اور چار ماہ دس دنوں میں سے جو مدت طویل ہو وہ عدتِ وفات ہوگی۔ حضرت عمرؓ اور عبد اللّه بن مسعودؓ کے نزدیک مطلقہ عورت کی عدت تیسرے حیض کے غسل کے بعد پوری ہوتی تھی اور حضرت زید بن ثابتؓ کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہوتے ہی عدت پوری ہوجاتی تھی، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عبد اللّه بن عباسؓ کی رائے یہ تھی کہ باپ کی طرح دادا بھی سگے بھائیوں کو میراث سے محروم کر دے گا، حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ کو اس سے اختلاف تھا۔
ایک بڑا اختلاف عراق و شام کی فتوحات کے وقت پیدا ہوا۔
عبد الرحمن بن عوفؓ اور عمار بن یاسرؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ مالِ غنیمت کے عام اُصول کے مطابق اسے مجاہدین پر تقسیم کر دیا جائے اور حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اورحضرت علیؓ کی رائے تھی کہ اسے بیت المال کی ملکیت میں رکھا جائے تاکہ تمام مسلمانوں کو اس سے نفع پہنچے اور طویل بحث و مباحثہ کے بعد اسی پرفیصلہ ہوا۔ حضرت عثمانِ غنی کا فتویٰ یہ تھا کہ خلع حاصل کرنے والی عورت پر عدت واجب نہیں، صرف فراغتِ رحم کو جاننے کے لیے ایک حیض گذارنا ضروری ہوگا، دوسرے صحابہ مکمل عدت گذارنے کو واجب قرار دیتے تھے۔ اس طرح کے بیسیوں اختلاف عہدِ صحابہ میں موجود تھے، کتبِ فقہ اور خاص کر شروحِ حدیث ان کی تفصیلات سے بھری پڑی ہیں اور موجودہ دور کے معروف صاحب علم ڈاکٹر رواس قلعہ جی نے صحابہ کی موسوعات کو جمع کرنے کا کام شروع کیا ہے، اس سے مختلف صحابہ کی فقہ اور ان کا فقہی ذوق اور منہج استنباط واضح طور پرسامنے آتا ہے۔
حضرت عمرؓ نے لوگوں کو بعض اختلافی مسائل میں ایک رائے پر جمع کرنے کی خاص طور پر کوشش فرمائی چنانچہ بعض مسائل پر اتفاق رائے ہو گیا اور جن میں اتفاق نہیں ہو سکا، ان میں بھی کم سے کم جمہور ایک نقطہ نظر پرآ گئے، ان میں سے چند مسائل یہ ہیں
اس وقت تک شراب نوشی کی کوئی سزا متعین نہیں تھی، حضرت عمرؓ نے اس سلسلہ میں اکابر صحابہ سے مشورہ کیا، حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص شراب پیتا ہے تو نشہ میں مبتلا ہوتا ہے پھر نشہ کی حالت میں ہذیان گوئی شروع کرتا ہے اور اس میں لوگوں پر بہتان تراشی بھی کر گزرتا ہے اس لیے جو سزا تہمت اندازی (قذف) کی ہے، یعنی اسی (80) کوڑے، وہی سزا شراب نوشی پر بھی دے دی جانی چاہیے چنانچہ اسی پر فیصلہ ہوا
(مؤطا امام مالک، حدیث نمبر:709)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے بھی اسی (80) کوڑے کا مشورہ دیا تھا۔ اگر کوئی شخص لفظ بتہ کے ذریعہ طلاق دے، تو اس میں ایک طلاق کا معنی بھی ہو سکتا ہے اور تین طلاق کا بھی چنانچہ ہوتا یہ تھا کہ طلاق دینے والے کی نیت کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تھا، حضرت عمرؓ کا احساس یہ تھا کہ بعض لوگ اس گنجائش سے غلط فائدہ اُٹھاتے ہیں اور غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ میری نیت ایک طلاق کی تھی، اس لیے انہوں نے اس کے تین طلاق ہونے کا فیصلہ فرمایا۔
کے اندیشے سے دو تین شب کے علاوہ صحابہؓ کے سامنے یہ نماز ادا نہیں فرمائی، مختلف لوگ تنہا تنہا پڑھ لیتے تھے، حضرت عمرؓ نے ایک جماعت بنادی، ان پر حضرت ابی بن کعبؓ کو امام مقرر کیا اور تراویح کی بیس رکعتیں مقرر فرمادیں، جو آج تک متوارثاً چلا آ رہا ہے۔
صحابہؓ اور خاص کر حضرت عمرؓ نے بعض فیصلے شریعت کی مصلحت اور اس کے عمومی مقاصد کو سامنے رکھ کر بھی کیے ہیں، جیسے حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں "مولفۃ القلوب" جو زکوٰۃ کی ایک اہم مدد ہے، کو روک دیا تھا کیونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور اسلام کی شوکت قائم ہو گئی تھی لہٰذا ان کے خیال میں اب اس مدد کی ضرورت باقی نہیں تھی۔
حضرت عمرؓ کے دور میں ایک شدید قحط پڑا کہ لوگ اضطرار کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے، اس زمانہ میں حضرت عمرؓ نے چوری کی سزا موقوف فرمادی اسی طرح حضرت حاطب بن بلتعہ کے غلاموں نے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کی اُونٹنی چوری کرلی، آپؓ نے ان غلاموں کے ہاتھ نہیں کاٹے، حضرت عمرؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس وقت لوگ حالتِ اضطرار میں ہیں اور اضطراری حالت میں چوری کرنے سے حد جاری نہیں ہوگی کیونکہ انسان اختیاری افعال کے بارے میں جواب دہ ہے، نہ کہ اضطراری افعال کے بارے میں۔
حضورﷺ نے بھٹکی ہوئی اُونٹنی کو پکڑنے سے منع فرمایا کیونکہ وہ خود اپنی حفاظت کرسکتی ہے یہاں تک کہ اُس کا مالک اُس کو پالے، حضرت ابوبکر و عمرؓ کے دور میں اسی پر عمل رہا لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے زمانہ میں ایسی اُونٹنی کو پکڑ لینے اور بیچ کراس کی قیمت کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا تاکہ اس کا مالک آجائے
(شرح الزرقانی علی المؤطا لمالک:3/129)
کیونکہ اخلاقی انحطاط کی وجہ سے اس بات کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ بدقماش لوگ ایسی اونٹنی کو پکڑلیں
گویا منشا اونٹنی کی حفاظت تھا، طریقہ کار، زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بدل گیا۔ اسی طرح اگر کوئی شخصی مرضِ وفات میں اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دے، تو شریعت کے عمومی اُصول کا تقاضا تو یہی تھا کہ مطلقہ کو اس مرد سے میراث نہ ملے لیکن چونکہ اس کو بعض غیر منصف مزاج لوگ بیوی کو میراث سے محروم کرنے کا ذریعہ بناسکتے تھے، اس لیے صحابہ نے ظلم کے سد باب کی غرض سے ایسی مطلقہ کو بھی مستحق میراث قرار دیا، حضرت عثمان غنیؓ کا خیال تو یہ تھا کہ اگر عدت ختم ہونے کے بعد شوہر کی موت ہو، تب بھی عورت وارث ہوگی اور حضرت عمر رضی اللّه عنہ کی رائے تھی کہ عدت کے اندر شوہر کی وفات کی صورت میں عورت کو میراث ملے گی۔ اسی طرح امن و امان اور حفاظتِ جان کی مصلحت کے پیشِ نظر حضرت علیؓ کے مشورہ پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص کے قتل میں ایک جماعت شریک ہو تو تمام شرکاء قتل کیے جائیں گے۔
صحابہ فروعی مسائل میں اختلاف رائے کو برا نہیں سمجھتے تھے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے اگرکوئی شخص سوال کرنے آئے تو ایک دوسرے کے پاس تحقیق مسئلہ کے لیے بھیجتے تھے اور اپنی رائے پر شدت نہ اختیار کرتے تھے، حضرت عمرؓ سے ایک صاحب ملے اور حضرت علیؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ کا فیصلہ انہیں سنایا، حضرت عمرؓ نے سن کر کہا کہ اگر میں فیصلہ کرتا تو اس کے برخلاف اس طرح کرتا، ان صاحب نے کہا کہ آپ کو تو اس کا حق اور اختیار حاصل ہے؛ پھر آپ اپنی رائے کے مطابق فیصلہ فرمادیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس اللّه ، رسول کا حکم ہوتا تو میں اس کو نافذ کردیتا لیکن میری بھی رائے ہے اور رائے میں سب شریک ہیں چناچہ انہوں نے حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ کے فیصلہ کو برقرار رکھا
"والرأی مشترک فلم ینقص ماقال علی وزید"۔
فقہا صحابہ کے درمیان اختلافِ رائے کے مختلف اسباب
قرآن وحدیث کے کسی لفظ میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال، جیسے قرآن نے تین "قرؤ" کوعدت قرار دیا ہے "قرأ" کے معنی حیض کے بھی ہیں اور طہر کے بھی چناچہ حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللّه بن مسعود رضی اللّه عنہم نے اس سے حیض کا معنی مراد لیا اور حضرت عائشہ، حضرت زید بن ثابتؓ نے طہر کا۔
بعض احادیث ایک صحابی تک پہنچی اور دوسرے تک نہیں پہنچی، جیسے جدہ کی میراث کے سلسلہ میں حضرت ابوبکرؓ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ آپﷺ نے اسے چھٹا حصہ دیا ہے، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلم نے شہادت دی کہ حضورﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ دیا ہے چناچہ اسی پر فیصلہ ہوا۔
بعض دفعہ حضور ﷺ کے کسی عمل کا مقصد و منشا متعین کرنے میں اختلافِ رائے ہوتا تھا، جیسے حضرت عبد اللّه بن عباس رضی اللّه عنہ کی رائے تھی کہ طواف میں رمل کا عمل آپ نے مشرکین کی تردید کے لیے فرمایا، جو کہتے تھے کہ مدینہ کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور کرکے رکھ دیا ہے، یہ آپ کی مستقل سنت نہیں، دوسرے صحابہ اس کو مستقل قرار دیتے تھے یا حج میں منی سے مکہ لوٹتے ہوئے وادی ابطح میں توقف، حضرت عبد اللّه بن عباسؓ اور حضرت عائشہؓ اسے سنت نہیں سمجھتے تھے اور اس کو حضور ﷺ کا ایک طبعی فعل قرار دیتے تھے کہ اس کا مقصد آرام کرنا تھا لیکن دوسرے صحابہؓ اسے سنت قرار دیتے تھے۔ جن مسائل میں کوئی نص موجود نہ ہوتی اور اجتہاد سے کام لیا جاتا، ان میں نقطہ نظر کا اختلاف پیدا ہوتا، مثلاً اگر کوئی مرد کسی عورت سے عدت کے درمیان نکاح کرلے، تو حضرت عمرؓ بطورِ سرزنش اس عورت کو ہمیشہ کے لیے اس مرد پر حرام قرار دیتے تھے اور حضرت علیؓ کی رائے یہ تھی کہ دونوں میں تفریق کردی جائے اور سرزنش کی جائے لیکن اس کی وجہ سے ان دونوں مرد و عورت کے درمیان دائمی حرمت پیدا نہیں ہوگی اسی طرح حضرت ابوبکرؓ کا طریقہ یہ تھا کہ بیت المال میں جو کچھ آتا، اسے تمام مسلمانوں پر مساوی تقسیم فرماتے اور حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ میں برابر تقسیم کرنے کی بجائے لوگوں کے درجہ و مقام اور اسلام کے لیے ان کی خدمات کو سامنے رکھ کر تقسیم کرنا شروع کیا۔
غور کیا جائے! تو صحابہ کے درمیان اختلاف رائے کا ایک سبب ذوق اور طریقہ استنباط کا فرق بھی تھا، بعض صحابہ کا مزاج حدیث کے ظاہری الفاظ پر قناعت کا تھا، جیسے حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبد اللّه بن عمرؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ وغیرہ بعض صحابہؓ حدیث کے مقصد و منشا پر نظر رکھتے تھے اور قرآن مجید اور دین کے عمومی مزاج و مذاق کی کسوٹی پر اسے پرکھنے کی کوشش کرتے تھے، حضرت عمرؓ، حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ اور حضرت علیؓ وغیرہ اسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے، چند مثالوں سے اس کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے
حضرت فاطمہ بنت قیس نے روایت کیا کہ مطلقہ بائنہ عدت میں نہ نفقہ کی حق دار ہے، نہ رہائش کی، حضرت عمرؓ نے سنا تو اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میں ایک عورت کی بات پر نہ معلوم کہ اس نے یاد رکھا یا بھول گئی، کتاب اللّه اور سنتِ رسول ﷺ کو نہیں چھوڑ سکتا حضرت عمرؓ کو خیال تھا کہ یہ فاطمہ بنت قیس کا وہم ہو سکتا ہے کیونکہ قرآن (الطلاق:1) میں مطلقہ کے لیے رہائش فراہم کرنے کی ہدایت موجود ہے۔
حضرت عبد اللّه بن عمرؓ نے روایت کیا کہ مردہ کو اس کے لوگوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، حضرت عائشہؓ نے اس پر نکیر فرمائی اور کہا کہ یہ قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔
"وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى"
"ایک شخص پردوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں ہوگا "
(فاطر:18)
حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا کہ جنازہ کو اُٹھانے والے پر وضو واجب ہے، حضرت عبد اللّه بن عباسؓ نے سوال کیا کہ کیا سوکھی ہوئی لکڑیوں کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، حضرت عبد اللّه بن عباسؓ نے فرمایا کہ پھر تو گرم پانی سے غسل کیا جائے تو اس سے بھی وضو واجب ہو جائے گا؟ اس طرح کی بہت سی مثالیں صحابہ کے درمیان باہمی مناقشات کی پائی جاتی ہیں، جن سے ظاہر ہے کہ مسائل شرعیہ کو اخذ کرنے کے سلسلہ میں دونوں طرح کا ذوق پایا جاتا تھا اور یہی ذوق بعد کو فقہا مجتہدین تک منتقل ہوا اور اس کی وجہ سے الگ الگ دبستانِ فقہ وجود میں آئے۔
اس عہد میں سب سے اہم کام حضرت ابوبکرؓ کے عہدِ خلافت میں سرکاری طور پر قرآن مجید کی جمع وتدوین کا اور حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں قرأت قریش پر مصحفِ قرآنی کی کتابت اور اس کی اشاعت کا ہوا، حضرت عمرؓ کے دل میں جمع احادیث کا داعیہ بھی پیدا ہوا لیکن انھوں نے کافی غور و فکر اور تقریباً ایک ماہ استخارہ کرنے کے بعد اس کا ارادہ ترک کر دیا کہ کہیں یہ قرآن مجید کی طرف سے بے توجہی اور بے التفاتی کا سبب نہ بن جائے۔
یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ صحابہ سب کے سب فقیہ و مجتہد تھے بلکہ ایک محدود تعداد ہی اس جانب متوجہ تھی کیونکہ استعداد و صلاحیت کے فرق کے علاوہ دین کے بہت سے کام اور وقت کے بہت سے تقاضے تھے اور سب کے لیے افرادِ کار کی ضرورت تھی، علامہ ابن قیمؒ نے ان صحابہ کا ذکر کیا ہے، جن سے فتاویٰ منقول ہیں، مرد و خواتین کو لے کر ان کی تعداد 130 ہوتی ہے پھر ان کے تین گروہ کیے ہیں، ایک وہ جن سے بہت زیادہ فتاویٰ منقول ہیں، ان کی تعداد سات ہے، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبد اللّه بن عباسؓ اور حضرت عبد اللّه بن عمرؓ، خلیفہ مامون کے پڑ پوتے ابو بکر محمد نے صرف حضرت عبد اللّه بن عباسؓ کے فتاویٰ کو جمع کیا تو ان کی بیس جلدیں ہوئیں۔
بیس صحابہؓ متوسطین میں شمار کیے گئے ہیں، جن سے بہت زیادہ نہیں لیکن مناسب تعداد میں فتاویٰ منقول ہیں اور بقول ابنِ قیمؒ ان کے فتاویٰ کو ایک چھوٹے جزء میں جمع کیا جاسکتا ہے، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت اُم سلمہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ وغیرہ اسی گروہ میں ہیں، بقیہ صحابہ وہ ہیں جن سے ایک دو مسئلہ میں فتویٰ دینا منقول ہے، ان کی تعداد (125) ہے اسی گروہ میں حضرت حسن و حسین، سیدۃالنساء حضرت فاطمہؓ، حضرت حفصہؓ، حضرت صفیہؓ، حضرت اُم حبیبہؓ، حضرت میمونہؓ، حضرت بلالؓ، حضرت عبادؓ اور حضرت اُمِ ایمن ؓ (وغیرہ) ہیں۔
اصاغر صحابہؓ اور اکابر تابعین
یہ مرحلہ حضرت معاویہؓ کی امارت سے شروع ہوتا ہے اور بنو اُمیہ کی حکومت کے خاتمہ کے قریبی زمانہ تک کا احاطہ کرتا ہے، اس عہد میں بھی بنیادی طور پر اجتہاد و استنباط کا وہی منہج رہا جوصحابہ نے اختیار کیا تھاــــ اس عہد کی چند خصوصیات قابل ذکر ہیں
فقہا صحابہ کسی ایک شہر میں مقیم نہیں رہے
بلکہ مختلف شہروں میں مختلف صحابہؓ کا ورود ہوا، وہاں لوگوں نے ان سے استفادہ کیا اور اس شہر میں ان کی آراء اور فتاویٰ کوقبولیت حاصل ہوئی، مدینہ میں حضرت عبد اللّه بن عمرؓ، مکہ میں حضرت عبداللّه بن عباسؓ اور ان کے تلامذہ مجاہد بن جبیرؒ، عطاء بن ابی رباحؒ، طاؤس بن کیسانؒ، کوفہ میں حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ اور ان کے شاگردانِ باتوفیق، علقمہ، نخعیؒ، اسود بن یزیدؒ اور ابراہیم نخعیؒ، بصرہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ، حضرت حسن بصریؒ، حضرت انس بن مالکؓ اور ان کے شاگرد محمدبن سیرینؒ، شام میں حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت عبادہ بن صامتؓ اور ان صحابہؓ سے استفادہ کرنے والے تابعین، ابوادریس خولانیؒ؛ اسی طرح مصر میں حضرت عبد اللّه بن عمروبن العاصؓ اور ان کے بعد یزید بن حبیبؒ وغیرہ کے فتاویٰ کوبقول حاصل ہوا۔
اعلام الموقعین:1/21 اور اس کے بعد، فصل:الائمۃ الذین نشر والدین والفقہ
صحابہ اور فقہاِ تابعین کے مختلف شہروں میں مقیم ہونے کی وجہ سے فقہی مسائل میں اختلافات کی بھی کثرت ہوئی؛ کیونکہ ایک توخلافتِ راشدہ میں خاص کر حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت تک اہل علم یکجا تھے یاایک دوسرے سے قریب واقع تھے، اس کی وجہ سے بہت سے مسائل میں اتفاق رائے ہوجاتا تھا، اب عالم اسلام کا دائرہ وسیع ہوجانے، دراز شہروں میں مقیم ہونے اور ذرائع ابلاغ کے مفقود ہونے کی وجہ سے اجتماعی اجتہاد کی جگہ انفرادی اجتہاد کا غلبہ تھا، دوسرے مختلف شہروں کے حالات، رواجات، کاروباری طریقے اور لوگوں کے فکری وعملی رجحانات بھی مختلف تھے، اس اختلاف کا اثر مختلف شہروں میں بسنے والے فقہا کے نقطہ نظر پربھی پڑتا تھا؛ اس لیے بمقابلہ گذشتہ ادوار کے، اس دور میں اختلافِ رائے کی کثرت ملتی ہے۔
یوں تواکابرِ صحابہ میں بھی دونوں طرح کے فقہا پائے جاتے تھے، ایک وہ جن کی نگاہ حدیث کے ظاہری الفاظ پر ہوتی تھی، دوسرے وہ جو معانی حدیث کے غواص تھے اور احکامِ شرعیہ میں شریعت کی مصالح اور لوگوں کے احوال کوبھی پیشِ نظر رکھتے تھے، تابعین کے عہد میں یہ دونوں طریقہ اجتہاد اور ان کے طرزِ استنباط کا تفاوت زیادہ نمایاں ہو گیا، جولوگ ظاہر حدیث پرقانع تھے وہ "اصحاب الحدیث" کہلائے اور جونصوص اور ان کے مقاصد ومصالح کوسامنے رکھ کررائے قائم کرتے تھے وہ "اصحاب الرائے" کہلائے، اصحاب الحدیث کا مرکز مدینہ تھا اور اصحاب الرائے کا عراق اور خاص طور پرعراق کا شہرکوفہ، گومدینہ میں بعض ایسے اہل علم موجود تھے، جواصحاب الرائے کے طریقہ استنباط سے متاثر تھے، جیسے امام مالکؒ کے استاذ ربیعہ بن عبد الرحمنؒ، جواصحاب الرائے کے طرزِ استنباط میں ماہر ہونے سے "ربیعۃ الرائی" کہلائے اور "رائی" ان کے نام کا جزوٹھہرا؛ اسی طرح کوفہ میں امام عامرشراحیل شعبیؒ جوامام ابوحنیفہؒ کے اساتذہ میں ہیں؛ لیکن ان کا منہج اصحاب الحدیث کا تھا۔
اصحاب الرائی اور اصحاب الحدیث کے درمیان دواُمور میں نمایاں فرق تھا، ایک یہ کہ اصحاب الحدیث کسی حدیث کوقبول اور رد کرنے میں محض سند کی تحقیق کو کافی سمجھتے تھے اور خارجی وسائل سے کام نہیں لیتے تھے، اصحاب الرائے اُصولِ روایت کے ساتھ اُصولِ درایت کوبھی ملحوظ رکھتے تھے، وہ حدیث کوسند کے علاوہ اس طور پر بھی پرکھتے تھے کہ وہ قرآن کے مضمون سے ہم آہنگ ہے یااس سے متعارض؟ دین کے مسلمہ اُصول اور مقاصد کے موافق ہے یانہیں؟ دوسری مشہور حدیثوں سے متعارض تونہیں ہے؟ صحابہ کا اس حدیث پرعمل تھا یانہیں؟ اور نہیں تھا تو اس کے اسباب کیا ہو سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اصحاب الرائی کا منہج زیادہ درست بھی تھا اور دشوار بھی؛ دوسرا فرق یہ تھا کہ اصحاب الحدیث ان مسائل سے آگے نہیں بڑھتے تھے جوحدیث میں مذکور ہوں؛ یہاں تک کہ بعض اوقات کوئی مسئلہ پیش آجاتا اور ان سے اس سلسلہ میں رائے دریافت کی جاتی؛ اگرحدیث میں اس کا ذکر نہیں ہوتا تووہ جواب دینے سے انکار کرجاتے اور لوگ ان رہنمائی سے محروم رہتے، ایک صاحب سالم بن عبداللّه بن عمرؓ کے پاس آئے اور ایک مسئلہ دریافت کیا؛ انہوں نے نے کہا کہ میں نے اس سلسلہ میں کوئی حدیث نہیں سنی، استفسار کرنے والے نے کہا کہ آپ اپنی رائے بتائیں؛ انھوں نے انکار کیا، اس نے دوبارہ استفسار کیا اور کہا کہ میں آپ کی رائے پر راضی ہوں، سالم نے کہا کہ اگر اپنی رائے بتاؤں تو ہو سکتا ہے کہ تم چلے جاؤ اس کے بعد میری رائے بدل جائے اور میں تم کونہ پاؤں۔
(تاریخ الفقہ الاسلامی، للشیخ محمد علی السایس:77)
یہ واقعہ ایک طرف ان کے احتیاط کی دلیل ہے؛ لیکن سوال ہے کہ کیا ایسی احتیاط سے اُمت کی رہنمائی کا حق ادا ہو سکتا ہے؟ اصحاب الرائی نہ صرف یہ کہ جن مسائل میں نص موجود نہ ہوتی، ان میں مصالح شریعت کوسامنے رکھتے ہوئے اجتہاد کرتے؛ بلکہ جومسائل ابھی وجود میں نہیں آئے؛ لیکن ان کے واقع ہونے کا امکان ہے، ان کے بارے میں بھی پیشگی تیاری کے طور پرغور کرتے اور اپنی رائے کا اظہار کرتے، اسی کو "فقہ تقدیری" کہتے ہیں، اصحاب حدیث اصحاب الرائی کے اس طرزِ عمل پرطعنہ دیتے تھے؛ لیکن آج اسی فقہ تقدیری کا نتیجہ ہے کہ نئے مسائل کوحل کرنے میں قدیم ترین فقہی ذخیرہ سے مدد مل رہی ہے۔ اس وضاحت سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اصحاب الرائی کا کام بمقابلہ اصحاب الحدیث کے زیادہ دُشوار تھا؛ اسی لیے متقدمین کے یہاں "اصحاب الرائی" میں سے ہونا ایک قابل تعریف بات تھی اور مدح سمجھی جاتی تھی، بعد کوجن لوگوں نے اس حقیقت کونہیں سمجھا؛ انھوں نے رائے سے مراد ایسی رائے کوسمجھا جوقرآن وحدیث کے مقابلہ خودرائی پرمبنی ہو، یہ کھلی ہوئی غلط فہمی اور ناسمجھی ہے۔ حجاز کا اصحاب الحدیث کا مرکز بننا اور عراق کا اصحاب الرائی کا مرکز بننا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا، اس کے چند بنیادی اسباب تھے، اوّل یہ کہ حجاز عرب تہذیب کا مرکز تھا، عرب اپنی سادہ زندگی کے لیے مشہور رہے ہیں، ان کی تہذیب میں بھی یہی سادگی رچی بسی تھی، عراق ہمیشہ سے دُنیا کی عظیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے اور زندگی میں تکلفات و تعیشات اس تہذیب کا جزو تھا پھرمسلمانوں کے زیر نگین آنے کے بعد یہ علاقہ عربی اور عجمی تہذیب کا سنگم بن گیا تھا اس لیے بمقابلہ حجاز کے یہاں مسائل زیادہ پیدا ہوتے تھے اور دین کے عمومی مقاصد و مصالح کوسامنے رکھ کراجتہاد سے کام لینا پڑتا تھا؛ یہاں کے فقہا اگر علمائے اصحاب حدیث کی طرح منصوص مسائل کے آگے سوچنے کوتیار ہی نہ ہوتے توآخر اُمت کی رہنمائی کا فرض کیوں کرادا ہوتا؟ دوسرے دبستانِ حجاز پرحضرت عبد اللّه بن عمرؓ وغیرہ صحابہ کی چھاپ تھی، جن کا ذوق ظاہر نص پرقناعت کرنے کا تھا اور عراق کے استاذ اول حضرت علیؓ، حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ جیسے فقہا تھے، جن پراصحاب الرائی کے طریقہ اجتہاد کا غلبہ تھا، اس لیے دونوں جگہ بعد کے علما پران صحابہ کے اندرازِ فکر کی چھاپ گھری ہوتی چلی گئی۔ تیسرے اکثر فرقِ باطلہ کا مرکز عراق ہی تھا، یہ لوگ اپنی فکر کی اشاعت کے لیے حدیثیں وضع کیا کرتے تھے، اس لیے علماِء عراق تحقیق حدیث میں اُصول روایت کے ساتھ ساتھ اُصولِ درایت سے کام لیتے تھے، اس کے برخلاف علما حجاز کووضع حدیث کے اس فنتہ سے نسبتاً کم سابقہ تھا۔
اسی دور میں فرقِ باطلہ کا ظہور ہوا اور سیاسی اختلاف نے آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کر لیا، ایک طرف شیعانِ علی تھے جو اہل بیت کوہی خلافت کا مستحق جانتے تھے اور چند صحابہ کوچھوڑ کر تمام ہی صحابہ کی تکفیر کیا کرتے تھے، دوسری طرف ناصبیہ تھے، جواہل بیت پربنواُمیہ کے ظلم وجورکوسند جواز عطا کرتے تھے اور حضرت علیؓ اور اہلِ بیت کوبرا بھلا کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے؛ تاہم ناصبیہ کی تعداد بہت کم تھی اور انھیں کبھی کسی طبقہ میں قبول حاصل نہیں ہوا، تیسرا گروہ خوارج کا تھا، جوحضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ اور بعد کے تمام صحابہ کوقرار دیتا تھا، شیعہ اور خوارج کا مرکز عراق اور مشرق کا علاقہ تھا حالانکہ اس اختلاف کی بنیاد سیاسی تھی ؛ لیکن چونکہ لوگوں کے ذہن پرمذہب کی گرفت بہت مضبوط تھی، اس لیے جلد ہی اس اختلاف نے عقیدہ کی صورت اختیار کرلی اور اس کوتقویت پہنچانے کے لیے لوگوں نے روایتیں گھڑنی شروع کر دیں؛ پس اسی دور سے وضع حدیث کا فتنہ بھی شروع ہوا۔
عہد صحابہ میں اکثرلوگ وہ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کے عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے روایت حدیث کی ضرورت کم پیش آتی تھی، اب چونکہ زیادہ ترصحابہ رخصت ہو چکے تھے اور دوسری طرف فرقۂ باطلہ کے نمائندوں نے اپنی طرف سے حدیثیں گھڑنی شروع کر دی تھیں، اس لیے روایتِ حدیث کے سلسلہ میں بمقابلہ گذشتہ دورکے اضافہ ہو گیا۔
البتہ اس دور میں حدیث یافقہ کی باضابطہ تدوین عمل میں نہ آئی، حضرت عمربن عبد العزیزؒ نے اس سلسلہ میں کوشش توکی اور گورنرمدینہ ابوبکر محمدبن عمروبن حزم کواس کام کی طرف متوجہ کیا لیکن اس سے پہلے کہ ابن حزم اس خواب کوشرمندہ تعبیر کرتے، خود حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللّه کی وفات ہو گئی۔
اس دور کے اہم فقہا و ارباب افتاء کے نام اس طرح ہیں
مدینہ:اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت عبد اللّه بن عمرؓ، حضرت ابوہریرہؓ، سعید بن مسیبؓ، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام، امام زین العابدین علی بن حسین، عبد اللّه بن مسعود، سالم بن عبد اللّه بن عمر، سلیمان بن یسار، قاسم بن محمدبن ابوبکر، نافع مولیٰ عبد اللّه بن عمر، محمد بن مسلم ابن شہاب زہری، امام ابوجعفر محمد باقر، ابوالزناد عبد اللّه بن ذکوان، یحییٰ بن سعید انصاری، ربیعۃ الرائے رضی اللّه عنہم اجمعین۔
مکہ:حضرت عبد اللّه بن عباس، امام مجاہد، عکرمہ، عطاء بن ابی رباح۔ کوفہ:علقمہ، نخعی، مسروق
عبیدۃ بن عمروسلمانی، اسود بن یزید نخعی، قاضی شریح ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر، عامر بن شراحیل شعبی رحمہم اللّه ۔
بصرہ:حضرت انس بن مالک انصاریؓ، ابوالعالیہ، رفیع بن مہران، حسن بن ابی الحسن یسار، ابوالثعثاء، جابر بن زید، محمدبن سیرین، قتادہ رحمہم اللّه ۔
شام: عبد الرحمن بن غانم، ابوادریس خولانی، مکحول
قبیصہ بن ذویب، رجاء بن حیوٰہ، حضرت عمربن عبد العزیز رحمہم اللّه ۔ مصر:حضرت عبد اللّه بن عمرو بن العاصؓ، مرثد بن عبد اللّه بن البزی، یزید بن ابی حبیب رحمہم اللّه ۔
یمنل:طاؤس بن کیسان، وہب بن منبہ صنعانی، یحییٰ بن ابی کثیر۔
چوتھا مرحلہ اوائل دوسری صدی تا نصف چوتھی صدی تدوین فقہ کا چوتھا مرحلہ جوعباسی دور کی ابتدا سے شروع ہو کر چوتھی صدی ہجری کے وسط تک محیط ہے، نہایت اہم ہے اور اسے نہ صرف فقہ اسلامی بلکہ تمام ہی اسلامی و عربی علوم و فنون کا سنہرا دور کہہ سکتے ہیں، فقہ اور فقہ سے متعلق جو علوم ہیں ان کے علاوہ اسی عہد میں تفسیر قرآن کے فن کو کمال حاصل ہوا اور تفسیر طبری جیسی عظیم الشان تفسیر وجود میں آئی، جوآج تک کتبِ تفسیر کا نہایت اہم مرجع ہے؛ اسی عہد میں عربی زبان کے قواعد مرتب ہوئے؛ اسی دور میں عباسی خلفاء کی خواہش پریونانی علوم، منطق اور فلسفہ وغیرہ عربی زبان میں منتقل کیا گیا اور اس کوبنیاد بناکر مسلمان محققین نے بڑے بڑے سائنسی کارنامے انجام دیے اور علم وتحقیق کی دنیا میں اپنی فتح مندی کے عٙلم نصب کیے اور فقہ کے لیے تو یہ دور نہایت ہی اہم ہے۔
چوتھا مرحلہ اوائل دوسری صدی تا نصف چوتھی صدی تدوین فقہ کا چوتھا مرحلہ جوعباسی دور کی ابتدا سے شروع ہو کر چوتھی صدی ہجری کے وسط تک محیط ہے، نہایت اہم ہے اور اسے نہ صرف فقہ اسلامی بلکہ تمام ہی اسلامی و عربی علوم و فنون کا سنہرا دور کہہ سکتے ہیں، فقہ اور فقہ سے متعلق جو علوم ہیں ان کے علاوہ اسی عہد میں تفسیر قرآن کے فن کو کمال حاصل ہوا اور تفسیر طبری جیسی عظیم الشان تفسیر وجود میں آئی، جوآج تک کتبِ تفسیر کا نہایت اہم مرجع ہے؛ اسی عہد میں عربی زبان کے قواعد مرتب ہوئے؛ اسی دور میں عباسی خلفاء کی خواہش پریونانی علوم، منطق اور فلسفہ وغیرہ عربی زبان میں منتقل کیا گیا اور اس کوبنیاد بناکر مسلمان محققین نے بڑے بڑے سائنسی کارنامے انجام دیے اور علم وتحقیق کی دنیا میں اپنی فتح مندی کے عٙلم نصب کیے اور فقہ کے لیے تو یہ دور نہایت ہی اہم ہے۔
فقہ سقوطِ بغداد تک
(656ھ)
فقہ کی تدوین و ترتیب کا چوتھا مرحلہ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے شروع ہوتا ہے اور 656ھ میں سقوطِ بغداد پر ختم ہوتا ہے، جب چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے عالمِ اسلامی کے دار الخلافہ بغداد پر غلبہ حاصل کیا، آخری عباسی خلیفہ کو نہایت بے دردی سے قتل کر دیا اور ایسی خوں آشامی اور ہلاکت خیزی کا ثبوت دیا کہ انسانیت سوزی اور قتل و غارت گری کی تاریخ میں کم ہی اس کی مثال مل سکے گی۔
اس عہد کی خصوصیات اس طرح ہیں
اسی عہد میں شخصی تقلید کا رواج ہوا اور لوگ تمام احکام میں ایک متعین مجتہد کی پیروی کرنے لگے، تقلید کی اس صورت کو مختلف اسباب کی وجہ سے تقویت پہنچی، جن کا تذکرہ مناسب محسوس ہوتا ہے
الف) بہت سے ایسے لوگ دعویٰ اجتہاد کرنے لگے جو حقیقت میں اس منصب کے اہل نہیں تھے اور وہ اجتہاد کو قرآن و حدیث سے انحراف کا چور دروازہ بنانے لگے، اس لیے دین کے تحفظ اور دفع فساد کے لیے اس زمانہ کے بالغ نظر اور محتاط علماء نے ضروری سمجھا کہ موجودہ حالات میں باب اجتہاد کو بند کر دیا جائے اور اُمت کو ان آوارہ خیالوں کے فتنہ سے بچایا جائے۔
ب) ائمہ مجتہدین کی سعی و محنت سے فقہ اسلامی کی ترتیب و تدوین پایہ کمال کو پہنچ چکی تھی اور ان کی مساعی کی وجہ سے لوگوں کے لیے ہر طرح کے مسائل کا حل موجود تھا؛ اس لیے گذشتہ ادوار میں جس درجہ اجتہاد و استنباط کی ضرورت تھی اب اتنی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی اور یہ اللہ تعالٰیٰ کا قدرتی نظام ہے کہ جب کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے تو اس طرف لوگوں کی توجہ بھی کم ہوجاتی ہے۔
ج) بعض مجتہدین کو من جانب اللّه لائق تلامذہ اور لائق ماہرین و متبعین ہاتھ آئے اور انھوں نے اس مجتہد کی آراء و افکار کو نہایت بہتر طور پر مرتب کر دیا، اس کی وجہ سے لوگوں میں ان کے اجتہادات کے تئیں قبولِ عام کا رجحان پیدا ہو گیا اور اس طرح ایک مستقل دبستانِ فقہ کی تشکیل عمل میں آگئی، جن فقہا کو ایسے لائق شاگرد میسر نہیں آئے، ان کی فقہ باضابطہ طور پر مدون نہیں ہو پائی اور آہستہ آہستہ علمی زندگی سے اس کا رشتہ کٹ گیا، اس کی واضح مثال امام اوزاعیؒ اور لیث بن سعدؒ ہیں، جن کو ان کے معاصرین تفقہ کے اعتبار سے بعض ائمہ متبوعین سے بھی فائق قرار دیتے تھے؛ لیکن آج کتابوں میں چند مسائل سے متعلق ان کی آراء مل جاتی ہیں اور بس۔
د) صحابہ اور تابعین کے عہد میں کسی کو قاضی بنایا جاتا تو اسے ہدایت دی جاتی کہ وہ کتاب اللّه اور سنتِ رسول کو اصل بنائے اور اگر کتاب و سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے، اس سلسلہ میں وہ خط جو حضرت عمرؓ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللّه عنہ کو لکھا تھا حدیث و فقہ اور قضاء سے متعلق اکثر کتابوں میں نقل کیا گیا ہے، بعد کے ادوار میں یوں ہوا کہ بعض قضاۃ حق اجتہاد کو جور و زیادتی اور کسی فریق کے حق میں طرف داری کا ذریعہ بنانے لگے، اس پس منظر میں حکومتیں جب کسی کو قاضی مقرر کرتیں تو ان کو پابند کردیتیں کہ فلاں مذہب کے مطابق فیصلہ کیا کریں تاکہ فیصلوں میں یکسانی رہے اور جانب داری کی گنجائش باقی نہ رہے چنانچہ عباسی خلفاء عام طور پر فقہ حنفی پر قاضی مقرر کیا کرتے اسی طرح ترکوں نے بھی عہدۂ قضاء کو احناف کے لیے مخصوص رکھا صلاح الدین ایوبی رحمہ اللّه نے مصر میں اور سلطان محمود سبکتگین رحمہ اللّه اور نظام الملک طوسی نے مشرقی علاقہ کی عدالتوں کو فقہ شافعی کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم دیا، یہ بھی تقلیدِ شخصی کی ترویج کا ایک اہم سبب بنا۔
ہ) تقلید پر انحصار کا ایک سبب علمی انحطاط بھی تھا، اللّه تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ ہر عہد میں اس عہد کی ضرورت کے مطابق افراد پیدا ہوتے ہیں اور ضرورت جوں جوں کم ہوتی جاتی ہے اس طرح کے افراد بھی کم ہوتے جاتے ہیں؛ یہی دیکھیے کہ روایتِ حدیث کے دور میں کیسے قوی الحفظ محدثین پائے جاتے تھے جنہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں حدیثیں یاد ہوتی تھیں اور سند و متن صفحہ ذہن پر اس طرح نقش ہوجاتا تھا کہ گویا وہ پتھر پر کندہ کر دیے گئے ہیں لیکن تدوین حدیث کا کام مکمل ہونے کے بعد پھر اس صلاحیت کے لوگ پیدا نہیں ہو سکے، زمانۂ جاہلیت میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا، تو لوگوں کو شاعروں کی پوری پوری دیوان نوکِ زبان ہوتی تھیں اور اس طرح جاہلیت کا ادب محفوظ ہو سکا، بعد کے ادوار میں ایسی مثالیں شاذ و نادر ہی مل سکیں اسی طرح جب تک شریعتِ اسلامی کے ایک مکمل نظامِ حیات کی ترتیب و تدوین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق مسائل کے حل کی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو پوری کرنے کے لیے مجتہدانہ بصیرت مطلوب تھی، اجتہادی صلاحیتوں کے لوگ پیدا ہوتے رہے، جب اس کی ضرورت کم ہو گئی تو اس نسبت سے ایسے افراد کی پیدائش بھی کم ہو گئی۔
تقلید کے رواج نے جو ایک منفی اثر پیدا کیا وہ فقہی تعصب و تنگ نظری اور جدل و مناظرہ کی کیفیت کا پیدا ہوجانا ہے گذشتہ ادوار میں بھی فقہی مسائل میں اختلافِ رائے پایا جاتا تھا لیکن ایک دوسرے سے تعصب کی کیفیت نہیں تھی اور نہ اس کے لیے معرکہ جدل برپا ہوتا تھا، اس دور میں بدترین قسم کی تنگ نظری وجود میں آئی، لوگ اپنے امام کی تعریف میں مبالغہ کی آخری حدود کو بھی پار کرجاتے تھے اور مخالف نقطہ نظر کے حامل امام ذی احترام کی شان میں گستاخی اور بدکلامی سے بھی باز نہیں رہتے تھے یہاں تک کہ ان مذموم مقاصد کے لیے بعض خدا نا ترس لوگوں نے روایتیں بھی گھڑنی شروع کر دیں۔
چونکہ عوام میں فقہ حنفی اور فقہ شافعی کو زیادہ رسوخ حاصل تھا اس لیے معرکے بھی انھیں دونوں مکاتب فکر کے درمیان نسبتاً گرم ہوتے تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے بعض اوقات بہت ہی پست حرکات کی جاتی تھیں، سلطان محمود سبکتگین اصل میں حنفی تھا اور کچھ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا، ایک شافعی عالم نے اس کو متاثر کرنے کے لیے اس کے سامنے بے ترتیبی کے ساتھ جیسے تیسے وضو کیا، پھر جلدی جلدی نماز پڑھی اور سلام پھیرنے سے پہلے قصداً وضو توڑنے کا ارتکاب کیا اور بادشاہ سے کہا کہ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللّه کی نماز ہے پھر اچھی طرح وضو کیا اور بہتر طریقہ پر نماز ادا کی اور بادشاہ سے کہا کہ یہ امام شافعی رحمہ اللّه کی نماز ہے چنانچہ سلطان محمود نے اس واقعہ سے متاثر ہو کر شافعیت کو اختیار کر لیا اور نقل کرنے والوں کے بہ قول اس حرکت کا ارتکاب کرنے والا کوئی عامی نہیں تھا بلکہ یہ تھے ممتاز شافعی فقیہ قفال شاشی۔
تاریخ الفقہ الاسلامی، محمد علی سائس:132
اب یہ فقہی تعصبات ہی کا حصہ ہے کہ ہمارے کتابوں میں یہ بحث ملتی ہے کہ حنفی شافعی اور شافعی حنفی کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ رسول اللّه ﷺ نے تو فاجر کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی اور صحابہ نے تو حجاج بن یوسف کے پیچھے بھی نماز ادا فرمائی لیکن متأخرین کے ہاں یہ ایک سوال بن گیا، احکامِ نماز میں جو اختلافِ رائے مثلاً احناف اور شوافع کے درمیان پایا جاتا ہے، یہ صحابہ کے درمیان بھی تھا اور تابعین و ائمہ مجتہدین کے زمانہ میں بھی تھا لیکن وہ بے تکلف ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے اور یہ بات ان کے یہاں چنداں قابل اعتناء نہیں تھی۔
اسی طرح احناف کے یہاں یہ بحث ملتی ہے کہ شوافع سے نکاح دُرست ہے یا نہیں؟ اور
انا مؤمن انشاء اللّه
انشاء اللّه میں مؤمن ہوں
کہنے کی وجہ سے کیا ان کو مسلمان سمجھا جائے گا؟ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے لکھ دیا کہ ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کیا جائےــــــ یہ کس قدر تعصب انگیز اور مزاجِ دین کے مغائر باتیں ہیں؟ سلفِ صالحین کے زمانہ میں مناظرہ ایک طرح کا تبادلہ خیال ہوتا تھا، جس میں ایک دوسرے کا پورا احترام ملحوظ رکھا جاتا اور جو بات صحیح نظر آتی تھی اسے لوگ قبول کرتے تھے لیکن اس دور میں مناظرہ کے نام پر مجادلہ اور باہمی سب و شتم کا سلسلہ شروع ہوا، اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بادشاہوں اور رئیسوں کے دربار اور بڑی بڑی مسجدیں مناظرہ کا اکھاڑہ بن گئی تھیں اور بہت سے جاہل فرماں روا، جیسے مرغوں اور جانوروں کا مقابلہ کراتے اور تماشا دیکھتے تھے اسی طرح علما سے مناظرہ کرا کر ان سے لطف لیا جاتا تھا اسی لیے اس عہد کے بہت سے حنفی اور شافعی علماء کے حالات میں خاص طور سے اس کا ذکر ملے گا کہ یہ مذہب مخالف کے فلاں عالم سے مناظرہ کرتے تھے اور یہ کہ مناظرہ میں ان کو بڑا کمال حاصل تھا۔ اس عہد میں مقلد علماء نے دو اہم کام کیے، ایک تو اپنے دبستانِ فقہ کی آراء کے لیے دلائل کی تلاش اور استنباط کیونکہ اصحاب مذہب سے بہت سے مسائل میں صرف ان کی رائے ملتی تھی اور اس رائے پر دلیل منقول نہیں تھی لہٰذا کچھ تو علمی اور تحقیقی ضرورت اور کچھ مناظروں کی گرم بازاری اور فریق مخالف کی جواب دہی کے پس منظر میں نصوص اور عقل و قیاس سے مذہب کی آراء پر دلیل فراہم کی گئیں دوسرا کام ایک ہی مذہب فقہی کی حدود میں مختلف آراء کے درمیان ترجیح کا ہوا، یہ ترجیح کی ضرورت دو موقعوں پر پیش آتی ہے، ایک اس وقت جب امام سے مختلف راویوں نے الگ الگ رائے نقل کی ہو، اس صورت میں راوی کے استناد و اعتبار کے لحاظ سے ترجیح دی جاتی ہے کہ کونسی نقل زیادہ دُرست ہے؟ اسی بنا پر حنفیہ کے یہاں ظاہر روایت کو نوادر پر، مالکیہ کے ہاں ابن قاسم کی روایت کو ابن وھب، ابن ماجشون اور اسد ابن فرات کی روایت پر اور شوافع کے یہاں ربیع ابن سلیمان کی روایت کو مزنی کی روایت پر مقدم رکھا جاتا ہے، دوسرے اُس وقت جب امام سے ایک سے زیادہ اقوال صحیح و مستند طریقہ پر ثابت ہوں ایسی صورت میں امام کے اصول استنباط اور کتاب و سنت اور قیاس سے موافقت اور ہم آہنگی کی بنیاد پر بعض اقوال کو ترجیح دی جاتی ہے اس لیے ان میں اختلاف رائے کا پیدا ہونا فطری ہے اسی لیے ایک ہی مذہب کے مختلف مصنفین کے نزدیک اقوال وآراء کی ترجیح میں خاصا اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
اس دور کا ایک قابل ذکر کام ائمہ مجتہدین کے اقوال کی تشریح و توضیح بھی ہے، یعنی مجمل احکام کی توضیح، بعض مطلق اقوال سے متعلق شرائط و قیود کا بیان اور آراء کی تنقیح ـــ اس طرح اس عہد میں ائمہ متبوعین کے مذاہب کی تنظیم و تدوین اور توضیح و تائید کا بڑا اہم کام انجام پایا ہے۔
فقہ، سقوطِ بغداد تا اختتام تیرہوی صدی
یہ عہد بھی بنیادی طور پر پہلے ہی عہد کے مماثل ہے، جس میں مختلف مسالک کے اہل علم نے اپنے مذہب فقہی کی خدمت کی، مختلف مذاہب سے متعلق متون اور متون پر مبنی شروح و حدیث کی ترتیب عمل میں آئی، فتاویٰ مرتب ہوئے، فتاویٰ سے مراد دو طرح کی تحریریں ہیں، ایک متاخرین کے اجتہادات، دوسرے مستفتیوں کے سوالات کے جوابات اسی طرح علمی اعتبار سے اس دور کی خصوصیات کو تین نکتوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
اوّل: یہ کہ گذشتہ ادوار میں علماء کے درمیان باہمی ارتباط اور افادۂ و استفادہ کا دائرہ بہت وسیع تھا، خاص کر حج کا موسم ایک ایسی بڑی درسگاہ کی شکل اختیار کرلیتا تھا، جس میں پوری دنیا کے اہلِ علم ایک دوسرے سے کسب فیض کرتے تھے اور ان کی آراء اور علوم سے فائدہ اُٹھاتے تھے لیکن مذہبی تصلب اور مسلمان آبادیوں کی مختلف مملکتوں میں تقسیم وغیرہ کی وجہ سے اب افادہ و استفادہ کا یہ عالمی مزاج محدود ہو گیا اور ایک ملک اور ایک علاقہ کے علماء ایک دوسرے سے استفادہ پر اکتفاء کرنے لگے۔
دوسرے: متقدمین کی کتابوں میں طرزِ گفتگو مجتہدانہ ہوا کرتا ہے، متأخرین کے یہاں زیادہ سے زیادہ جزئیات کو جمع کرنے کا اہتمام پیدا ہوا، اس دور میں متقدمین کی کتابوں سے اہلِ علم کا رشتہ کمزور ہو گیا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جزئیات کی کثرت سے آدمی مسائل کا حافظ ہو سکتا ہے لیکن اس میں تفقہ کی شان پیدا نہیں ہوسکتی۔
تیسرے: متقدمین کے یہاں طریقہ تالیف سادہ، سلیس اور واضح ہوا کرتا تھا، عبارت سہل ہوا کرتی تھی اور اصل توجہ فن اور مضمون پر ہوتی تھی لیکن متاخرین کے یہاں الفاظ کی کفایت اور مختصر نویسی کمال ٹھہرا یہاں تک کہ عبارتیں چیستاں بن گئی پھر کئی کئی مصنفین نے اس کی عقدہ کشائی میں اپنا زورِ قلم صرف کیا، حاشیے، شرحیں؛ پھر ان شرحوں پر حواشی اور کبھی ان شروح پر شروح، نتیجہ یہ ہوا کہ فن سے توجہ ہٹ گئی اور غیر متعلق اُمور پر محنتیں صرف ہونے لگیں، اس اختصار نویسی کا نمونہ علامہ نسفی کی "کنزالدقائق" زکریا انصاری کی
منہج الطلاب اور مالکیہ میں "مختصرخلیل" میں دیکھی جاسکتی ہے، خاص کر مالکیہ کے یہاں مسائل کی تعبیر میں اور بی زیادہ اغلاق پایا جاتا ہے۔
اِس صورتِ حال نے فقہی ارتقا کے راستے روک دیے اور زیادہ تر متون کی مختصرات اور پھر ان مختصرات پر شروح و حواشی کا کام ہوتا رہا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سی گراں قدر تالیفات بھی اسی عہد کی یادگار ہیں خاص کر دسویں صدی ہجری کے اوائل تک متعدد صاحب نظر اہل علم پیدا ہوئے
فقہ عہدِ جدید میں
فقہ اسلامی کے ارتقا کے سلسلہ میں جدید دور کا نقطہ آغاز تیرہویں صدی ہجری کے اواخر کو قرار دیا جا سکتا ہے، جب خلافتِ عثمانیہ کے حکم پر
مجلۃ الاحکام العدلیۃ کی ترتیب عمل میں آئی، اس عہد میں فقہ اسلامی کی خدمت کا ایک رجحان پیدا ہوا ہے اور اس سلسلہ میں جو کاوشیں ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں، وہ یہ ہیں
مسلکی تعصب جو خلافتِ عباسیہ کے سقوط کے بعد سے بہت شدت اختیار کر گیا تھا اور فقہی مسائل مناظرہ و مجادلہ کا موضوع بن چکے تھے، الحمد للہ اب اس صورتِ حال میں بہتری آئی ہے، اب اہلِ علم مختلف ائمہ اور مجتہدین کی آراء کو پورے احترام اور انصاف کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، عوامی مجلسوں میں تمام ہی سلفِ صالحین کے موعظت آمیز واقعات نقل کیے جاتے ہیں، کتابوں میں مخالف دلائل کا بھی انصاف کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، حرمین شریفین میں چار علاحدہ مصلی کی صورت ختم ہوجانے کے بعد سے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرنے کا مزاج عام ہوا ہے، ان موضوعات پرمناظروں کی گرم بازاری ختم ہوئی ہے اور نئے مسائل پر غور کرنے کے لیے مختلف مسالک کے علماء ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے اور پورے جذبہ مسامحت کے ساتھ تمام نقاطِ نظر کو سنتے ہیں، یہ بہت ہی مثبت تبدیلی ہے، جو خاص کر گذشتہ نصف صدی میں اُبھر کر سامنے آئی ہے۔
مقلدین کے مطابق موجوده دور میں دوسرا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں احناف و شوافع اور شوافع و مالکی کی بے معنی آتش جنگ بجھ چکی ہے، وہیں اس دور میں "ظاہریت" اپنے اسی مزاج کے ساتھ جو ابن حزم وغیرہ کی تحریروں سے ظاہر ہے، نئے لباس اور نئے پیکر میں ظہور پزیر ہوئی ہے، یہ حضرات اپنے آپ کو اہل حدیث، سلفی، محمدی، اثری، مختلف ناموں سے موسوم کرتے ہیں مقلدین کے نزدیک انھوں نے نماز سے متعلق چار، پانچ مسائل، طلاق سے متعلق ایک مسئلہ اور طریقہ مصافحہ کو اپنی تمام علمی کاوشوں اور محنتوں کا محور بنا رکھا ہے اور اپنے گمان میں اسے تبلیغ دین تصور کرتے ہیں مقلدین کے نزدیک اس فرقہ نے اُمت کے سوادِ اعظم اور سلفِ صالحین پر طعن و تشنیع اور فروعی مسائل پر مناظرہ و مجادلہ نیز دوسرے مسلمانوں کی تکفیر و تفسیق کا اس سے زیادہ بدترین طریقہ اختیار کر رکھا ہے، جو کسی زمانہ میں تنگ نظر مقلد عوام ایک دوسرے کے خلاف کیا کرتے تھے۔
مقلدین کے بقول یہ غلو پسند فرقہ برصغیر میں اپنی نسبت شیخ محمدبن عبد الوھاب نجدی اور عرب علما سے کرتا ہے لیکن بقول مقلدین شیخ نجدی نے خود اپنے آپ کو حنبلی قرار دیا ہے اور عام عرب علما و محققین ایسی تنگ نظری اور تعصب میں مبتلا نہیں ہیں جو اس فرقہ کا امتیاز ہے، بقول مقلدین خود ہندوستان میں اس مکتبِ فکر کے بزرگوں نواب صدیق حسن خان، ثناء اللّه امرتسری، مولانا عبد اللّه غزنوی وغیرہ کے یہاں اس طرح کا غلو نہیں ملتا، مقلدین کے بقول برصغیر میں غیر مقلدین کی جو نئی نسل نشو و نما پا رہی ہے افسوس کہ ان کی اکثریت اس وقت اُمت میں تفریق و انتشار کی نقیب و ترجمان بنی ہوئی ہے۔
سترھویں صدی کے انقلاب کے بعد سے جدید مسائل کی ایجاد، عالمی تعلقات میں قربت اور مختلف ممالک کے درمیان باہمی ارتباط میں اضافہ، تہذیبی اقدار میں تبدیلی اور سیاسی و معاشی نظام میں آنے والے تغیرات کے پسِ منظر میں جس تیزی سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، بحمدللّه علما اور ارباب افتاء کی توجہ ان مسائل کے حل کی طرف مبذول ہوئی ہے، اس سے دوہرا فائدہ ہوا، ایک تو شریعت اسلامی کو اس وقت جس خدمت کی ضرورت ہے، اہلِ علم کی صلاحیتیں اس خدمت میں صرف ہو رہی ہے، دوسرے گذشتہ دو تین صدیوں سے کسی نئے علمی کام کی بجائے تفصیل کا اختصار اور اختصار کی تفصیل؛ نیز غیر اہم مسائل کی تحقیق اور فریق مخالف کے نقطہ نظر کو کمزور ثابت کرنے پر جو کاوشیں ہو رہی تھیں، صحیح میدانِ عمل مہیا ہونے کی وجہ سے اب اس رویہ کی اصلاح ہوئی ہے۔
اس دور میں جو علمی کارنامے انجام پائے ہیں یا پا رہے ہیں، ان کو ہم چار حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں
اوّل فقہی مضامین کو دفعہ وار جدید قانونی کتابوں کے انداز پرمرتب کرنا کہ اس سے لوگوں کے لیے استفادہ آسان ہوجاتا ہے اور عدالتوں کے لیے یہ باب ممکن ہوتی ہے کہ وہ اس قانون کو اپنے لیے نشانِ راہ بنائے، اس کی ابتدا "مجلۃ الاحکام" سے ہوئی حکومتِ عثمانیہ ترکی نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، وزیر انصاف کی صدارت میں اکابر فقہا کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور انہیں حکم دیا کہ فقہ حنفی کے مطابق نکاح، تجارت اور تمام معاملات کے احکام کو دفعہ وار مرتبہ کریں، 1285ھ مطابق 1869ء میں یہ کام شروع ہوا اور سات سال کی محنت کے بعد 129 ھ مطابق 1876ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا پھر شعبان 1293ھ کو حکومت کے حکم سے اس کی تنفیذ عمل میں آئی، اس مجموعہ کے شروع میں فقہ، اس کی اقسام اور نوے قواعد پر مشتمل مقدمہ ہے، یہ مجموعہ سولہ مرکزی عنوانات اور اس کے تحت مختلف ابواب پر مشتمل ہے، ہر باب کے شروع میں اس باب سے متعلق فقہی اصطلاحات نقل کی گئی ہیں، کل دفعات (1851) ہیں، یہ مجموعہ فقہ حنفی کے راجح اقوال پر مبنی ہے البتہ بعض مسائل میں احوالِ زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے ضعیف اقوال کو بھی قبول کیا گیا ہے۔
اس کے بعد مختلف مسلم ممالک میں حکومت کی زیر نگرانی احوالِ شخصیہ سے متعلق مجموعہ قوانین کی ترتیب عمل میں آئی، یہ مجموعے کسی ایک فقہ پر مبنی نہیں تھے بلکہ ان میں مختلف مذاہب سے استفادہ کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مختلف ممالک میں یورپ کے اثر سے قانونِ شریعت میں ناقابلِ قبول تبدیلیاں کردی گئی ہیں، جیسے تعدادِ ازدواج کا مسئلہ، احکامِ طلاق، میراث میں مرد و عورت کے درمیان فرق، وغیرہ اسی طرح مجموعہ قوانین کی ترتیب کی بہت ہی قابل قدر انفرادی کوششیں بھی عمل میں آئی ہیں، اس سلسلہ میں فقیہ محمد قدری پاشاہ کی
"مرشدالحیران لمعرفۃ احوال الانسان" فقہ حنفی کے مطابق احوالِ شخصیہ، وقف اور معاملات سے متعلق احکام پر مشتمل ہے اور جس کی دفعات (1045) ہیں، شیخ ابو زہرہ کی "الاحوال الشخصیۃ"
جس میں کسی ایک مذہب کی پابندی نہیں کی گئی اور شیخ احمد بن عبد اللّه قاری کی مجلۃ الاحکام الشرعیۃ علی مذہب الامام احمد بن حنبل شیبانی جومجلۃ الاحکام کے طرز پر فقہ حنبلی کے نقطہ نظر سے معاملات کے احکامات کا مجموعہ ہے، 2384 دفعات پرمشتمل ہے
نیز جرم و سزا کے اسلامی قانون سے متعلق ڈاکٹر عبد القادر عودہ شہید کی
"التشریع الجنائی الاسلامی" (2/حصے، 984 دفعات) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں، عالم عرب میں اس طرح کی اور بھی بہت سی کوششیں ہوئی ہیں، جس نے عام لوگوں کے لیے استفادہ کو آسان کر دیا ہے۔
برصغیر میں اس سلسلہ میں جو کوشش ہوئی ہیں ان میں ڈاکٹر تنزیل الرحمن کی مجموعہ قوانین اسلام اور ہندوستان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر نگرانی پرسنل لا سے متعلق مجموعہ قوانین (جوغالباً 6/جلدوں پرمشتمل ہے) نہایت اہم ہے، یہ دونوں مجموعے بنیادی طور پر فقہ حنفی کے لحاظ سے مرتب کیے گئے ہیں البتہ بعض مسائل میں دوسرے دبستانِ فقہ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے اسی سلسلہ کی ایک اہم کوشش اسلام کے عدالتی قوانین سے متعلق قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی اسلامی عدالت ہے جو 740/دفعات پر مشتمل ہے اور اُردو زبان میں اس موضوع پر منفرد کتاب ہے، اس کا عربی ترجمہ بھی بیروت سے شائع ہوچکا ہے۔
اس دور میں قدیم کتابوں کی خدمت میں بھی بعض نئے پہلو اختیار کیے گئے ہیں، جیسے مضامین کی فقہ بندی، تفصیلی فہرست سازی، تعلیق و تحقیق اور ایک اہم سلسلہ حروفِ تہجی کی ترتیب پر مضامین فہرست سازی کا بھی شروع ہوا ہے، جو کتاب سے مراجعت کرنے والوں کے لیے بہت ہی سہولت بخش ہے، چنانچہ احمد مہدی نے "ردالمحتار" کی، محمد اشقر نے "المغنی لابن قدامہ" کی اور محمد منتصر کتانی نے "المحلی لابن حزم" کی ابجدی فہرست بنائی ہے اسی طرح فقہ مالکی میں "الشرح الصغیر للدردبر" ابجدی فہرست کے ضمیمہ کے ساتھ شائع ہوئی ہے، ان فہارس نے طویل کتابوں سے استفادہ اور مطلوبہ مضامین کے حصول کو آسان کر دیا ہے، خاص کر جن کتابوں کو کمپیوٹر میں فہارس کے ساتھ محفوظ کر دیا گیا ہے، ان سے استفادہ مزید سہل ہو گیا ہے۔
موجودہ دور میں مختلف علوم کی انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنے کا رحجان عالمی سطح پر اور ہر زبان میں بڑھ رہا ہے، بحمدللّه فقہ اسلامی میں بھی اس سلسلہ میں متعدد کوششیں کی گئی ہیں چنانچہ جب مشہور اسلامی مؤلف اور داعی ڈاکٹر مصطفی سباعی دمشق یونیورسٹی میں "کلیۃ الشریعۃ" کے صدر شعبہ بنے تو فقہ اسلامی کی "دائرۃ المعارف" کی ترتیب کا منصوبہ پیش کیا اور 1956ھ میں حکومتِ شام نے اسے منظور کر لیا، اس مقصد کے لیے ڈاکٹر مصطفی سباعی، ڈاکٹر احمد سمان، ڈاکٹر مصطفی زرقاء، ڈاکٹر معروف دوالیبی اور ڈاکٹر یوسف العش جیسے ممتاز اصحاب تحقیق پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی اور کام چار مراحل پر تقسیم کیا گیا، جن میں پہلا مرحلہ موسوعہ میں آنے والے فقہی موضوعات کی تعیین و ترتیب تھی، افسوس کہ طویل عرصہ گذرجانے کے باوجود اس کا پہلا مرحلہ ہی تشنہ تکمیل ہے۔
1958 میں جب مصر و شام کا اتحاد ہوا تو مشترک طور پر مصر اور شام نے مل کر اس موسوعہ کی ترتیب کا ذمہ لیا لیکن یہ اتحاد جلد ہی 1961ء میں ٹوٹ گیا چنانچہ 1962ء میں حکومتِ مصر نے ازسرنو اس کی منصوبہ سازی کی اور ایک مضحکہ خیز بات یہ ہوئی کہ جمال عبد الناصر جیسے دین بیزار شخص کی طرف منسوب کرکے اس کا نام
موسوعۃ جمال عبد الناصر فی الفقہ الاسلامی رکھ دیا گیا، موسوعۃ کے لیے مقررہ یہ کمیٹی کام کر رہی ہے اور اب تک اس کی پندرہ سولہ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں، اس موسوعۃ میں حنفیہ، مالکیہ، شوافع، حنابلہ اور ظاہریہ کے علاوہ امامیہ، زیدیہ اور اباضیہ فرقوں کے نقطہ نظر کو بھی ضروری دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اُصولِ فقہ اور قواعدِ فقہ کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔
اسی طرح کی ایک اور کوشش
جمعیۃ الدراسات الاسلامیۃ قاھرہ نے شیخ محمد ابوزہرہ کی صدارت میں شروع کی تھی، جس میں مذکورہ آٹھوں مذاہب کا نقطہ نظر جمع کرنا پیش نظر ہے لیکن غالباً یہ کوشش منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔
اس سلسلہ کی سب سے کامبیاب اور نتیجہ خیز کوشش وزارتِ اوقاف کویت کی طرف سے ہوئی ہے، جس نے 1966ء میں "الموسوعۃ الفقہیہ" کے منصوبہ کو منظوری دی اور اس مقصد کے لیے فقہی موسوعہ کا تصور پیش کرنے والی پہلی شخصیت ڈاکٹر زرقاء کی حدمات حاصل کیں، اس موسوعہ میں بھی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری، زیدی، اثناء عشری اور اباضی نقاط نظر کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، یہ عظیم الشان کام پینتالیس جلدوں میں مکمل ہوچکا ہے اور واقعہ ہے کہ اس موضوع پر ایک تاریخی علمی کام ہوا ہے، جو یقیناً فقہ اسلامی کی نشاۃ ثانیہ کا حصہ ہے، مقامِ مسرت ہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اس موسوعہ کو اُردو کا جامہ پہنایا ہے، تادمِ تحریر چالیس جلدوں کا ترجمہ مکمل ہوچکا ہے اور اس وقت نظرِثانی اور مراجعت کے آخری مراحل میں ہے، دُعا ہے کہ اللّه تعالیٰ اس کی اشاعت کو آسان فرمائے اور اُردو دنیا کو اس عظیم علمی ذخیرہ کے ذریعہ شاد کام کرے۔
انسائیکلوپیڈیائی کاوشوں میں ڈاکٹر رواس قلعہ جی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے عہدِ صحابہ اور عہدِ تابعین کے ان فقہا کی آراء کو یکجا، منضبط اور مرتب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، جن کے اقوال مختلف کتابوں میں بکھرے ہوئے تھے اور سلف کا ایک بہت بڑا علمی اور فقہی ورثہ لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہوتا جا رہا تھا، ڈاکٹر رواس نے الف بائی ترتیب سے عمر، علی، عبد اللّه بن مسعود، عائشہ،عبد اللّه بن عمر، حسن بصری اور ابراہیم نخعی وغیرہ کی فقہ کو جمع کیا ہے اور اس طرح اہلِ علم کی نئی نسل کو ابتدائی دور کے فقہا کے اجتہادات سے مربوط کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
اس عہد میں ایک بہتر رحجان نئے مسائل پر اجتماعی غور و فکر کا بھی پیدا ہوا ہے، جس میں مختلف فقہی مذاہب کے اہلِ علم سے استفادہ کیا جائے اور اس دور کی مشکلات کو حل کیا جائے؛ چنانچہ رابطہ عالم اسلامی کی مؤتمر منعقدہ مکہ مکرمہ 1384ھ میں "مجمع الفقہ الاسلامی" کے سلسلہ میں ڈاکٹر مصطفی زرقاء نے نہایت اہم تجویز پیش کی، یہ تجویز قبول کی گئی، مجمع کی تشکیل عمل میں آئی چنانچہ اب تک اس کے دسیوں اجلاس ہوچکے ہیں اور کئی درجن مسائل زیر بحث آچکے ہیں، ان ہی خطوط پر زیادہ وسعت کے ساتھ 1983ء میں جدہ (O.I.C) کے تحت فقہ اکیڈمی کی تشکیل ہوئی، جو اس وقت عالمی سطح پر سب سے زیادہ باوقار اور فعال اکیڈمی سمجھی جاتی ہے 2004ء تک اس اکیڈمی کے 14/سیمینار ہوچکے تھے اور اس میں 133/مسائل زیر بحث آچکے تھے، ان دونوں اکیڈیمیوں کے سمیناروں کی تجاویز کا اُردو ترجمہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا سے شائع ہوچکا ہے
اسی طرح یوروپ میں "یوروپی افتاء کونسل" قائم ہے، جس کا مرکز برطانیہ ہے اور جس کے عالم اسلام میں اور بھی کئی ادارے ہیں جو خاص کر مسلمانوں کو درپیش جدید فقہی مسائل کو اجتماعی غور و فکر اور تبادلہ خیال کے ذریعہ حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ہندوستان کے علما نے بھی اس سمت میں کوششیں کی ہیں، دار العلوم ندوۃ العلماء نے مجلس تحقیقاتِ شرعیہ اور جمعیۃ علماِ ہند نے "ادارۃ المباحث الفقہیۃ" کواسی مقصد کے تحت قائم کیا تھا، پاکستان میں مفتی محمد شفیع اور محمد یوسف بنوری وغیرہ نے "مجلس تحقیق مسائل حاضرہ" کی بنیاد رکھی تھی، ان مجالس نے وقتا فوقتا اجتماعات منعقد کیے ہیں اور متعدد مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے لیکن مسائل کی رفتار کے اعتبار سے کام آگے نہیں بڑھ سکا کیونکہ ان اداروں کی حیثیت ضمنی تھی اور جن تنظیموں اور اداروں کے تحت یہ رکھا گیا تھا، ان کے کام کا دائرہ خود بہت وسیع ہے۔
اسی پس منطر میں 1889ء میں قاضی مجاہد الاسلامی قاسمی نے اسلامک فقہ اکیڈمی کی بنیاد رکھی، اکیڈیمی نے اب تک 15سیمینار کیے ہیں اور ان سیمیناروں میں پچاس سے زیادہ مسائل زیربحث آئے ہیں، ان سیمیناروں میں پیش کیے جانے والے مقالات کی 20/سے زیادہ ضخیم جلدیں طبع ہوکر منظرعام پر آچکی ہیں، اس کے علاوہ فقہی تحقیق اور نئی نسل کو صحیح خطوط پر تربیت کے سلسلہ میں اکیڈیمی نے نہایت اہم اور ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔
اس عہد سے پہلے عام طور پر فقہی ذخیرہ عربی زبان ہی میں ہوا کرتا تھا یا چند کتابیں فارسی زبان میں لکھی گئی تھیں؛ لیکن موجودہ عہد میں فقہ کے عربی ذخیرہ کو اُردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کا ذوق پیدا ہوا اور مختلف علاقائی اور عالمی زبانوں میں فقہ کے موضوع پر یا تو ترجمے کیے گئے یا مستقل طور پر کتابیں لکھی گئیں، ان زبانوں میں اُردو زبان کو اوّلیت کا شرف حاصل ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت اُردو زبان میں علوم اسلامی اور فقہ کا جتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے، عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے بلکہ بعض کتابیں تو ایسی ہیں کہ عربی و انگریزی میں بھی ان کے ترجمے ہوئے اور انھیں قبول عام و خاص حاصل ہوا، ان میں اُصولِ فقہ، تاریخ فقہ، قواعدِ فقہ، فقہ کے تمام ابواب کوجامع اور فقہ کے کسی ایک باب نیز فقہ حنفی، فقہ شافعی اور فقہ سلفی سے متعلق ہر طرح کی کتابیں موجود ہیں۔
اور ظاہر ہے کہ بہت سی کتابیں نایاب ہوجانے یا ان تک رسائی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹ بھی گئی ہوں گی اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس موضوع پر اُردو زبان میں کم و بیش ڈیڑھ ہزار تالیفات موجود ہیں اور یقیناً یہ اُردو زبان کی بڑی سعادت اور اس کے لیے تمغہ افتخار ہے، سنہ2000ء تک کے جائزہ کے مطابق 1247/ کتابیں موجود ہیں
No comments: