Adaab-E-Talib-E-Hadees

آداب طالب حدیث 


 اَدِّبُو النَّفسَ اَیُّھَا الاَصحَابُ طَرق العِلمِ کُلّھَا آدَاب


چند آداب ترتیب وار لکھے جاتے ہیں ، آپ ﷺ کے فرمان عالی سے آغاز ہوتا ہے ۔

 مَن اَرَادَاَن یحفَظَ العِلمَ فَعَلَیہ اَن یُّلازِمَ خَمسَ خِصَالٍ

 الاولیٰ صلٰوة الیل ولو رکعتین 

الثانیة دٙوام الوضؤ

 الثالثة التَّقویٰ فی السرو العلا نیة 

 الرابعة ،اَن یَّاکُلَ لِلتقویٰ لاَلِلشّھو اَتِ 

 الخَامِسَة السواک۔ 


جو شخص حفاظت علم کا ارادہ پس لازم ہے اس پر پانچ خصلتوں کا التزام کرے 


پہلی نماز تہجد اگرچہ دو ہی رکعت ہوں

دوسری ہر وقت باوضو رہنا 

(طہارت ظاہری و باطنی کا اہتمام )

تیسری تقویٰ اختیار کرنا ظاہر و باطن 

میں چوتھی کھاوے وہ شخص واسطے 

تقوی کے نہ کہ شہوت کے

پانچویں مسواک کا اہتمام










١- اخلاص


علم حدیث میں محنت صرف اس لیے کرے کہ حق تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور احکام اسلامیہ کا علم ہو جاۓ۔کیونکہ:
ابوہریرہ سے مرفوع حدیث مروی ہے 

من تعلّم علماً مماّ یبتغی بہ وجہ اللّه ، لا یتعلمہُ ، اِلا لیصیبَ بہ عرضاً من الدنیا ، لم یجد عرف الجنة یوم القیام 


جو شخص علوم دینیہ کو دنیاوی سازو  سامان کے لیے حاصل کرتا ہے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہ پاۓ گا


(مشکوٰة ص ٣٤)



٢- اخلاق حمیدہ


علم حدیث کے طالب اور طالبہ کو عمدہ اخلاق کا اہتمام اور رذائل (عادات سئہ) سے اجتناب ضروری ہے۔


حضرت ابو عاصم بنیل رحمۃ اللّه علیہ فرماتے ہیں

 من طلب ھذالحدیث طلب اعلیٰ امورِالدین،فیجب ان یکون ھو خیرالناس 


جس نے علم حدیث کو حاصل کیا اس نے دین کے عمدہ مسائل کو حاصل کیا پس واجب ہے کہ خود بھی لوگوں میں بہتر اخلاق والا ہو 


 سؤ الخُلق لیفسِدُالعمل کما یُفسِدالخَلُّ العسل


بداخلاقی اعمال کو ایسے بگاڑ دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو فاسد کر دیتا ہے


  اخلاق حمیدہ میں سر فہرست تواضع اور برے اخلاق میں تکبر ہے۔


٣-  محنت   

                                             
ہر طالب حدیث کو چاہۓ طلب حدیث میں بساط بھر 
کوشش اور خوب محنت کرے اور زمانہ طالب علمی کو غنیمت سمجھے اور دن رات محنت کر کے علم حدیث حاصل کرے ، تن آسانی کی بجاۓ جانفشانی سے آگے بڑھیں


محدّث یحییٰ ابن ابی کثیر رحمتہ اللّه علیہ فرماتے ہیں

 لا یستطاع العلمُ بِراحة الجسم

 علم راحت جسمانی سے نہیں حاصل ہوتا


 امام شافعیؒ فرماتے ہیں

 لا یفلح من طلب ھذاالعلم بالتملُّل وغنی النفس وٰلکن من طلبہ بذلة النفس وضیق العیش وخدمة العلم افلح 


جس نے علم حدیث سستی و لاپرواہی سے حاصل کیا وہ کامیاب نہ ہو گا لیکن جس نے اس علم کو عاجزی نفس ، تنگی عیش اورخدمت سے حاصل کیا وہ کامیاب ہو گا ۔ 


اور مشہور شعر ہے

من  طلب  العُلیٰ  سَھِرَ اللیالی

جو بلندیوں کا طالب ہووہ رات کو جاگتا ہے۔


 بقدر  الکدِّتکتسب  المعالی

کیونکہ بقدر محنت ہی مراتب علیا حاصل ہوتے ہیں۔



 ٤- کلماتِ تعظیم 

                                                   
احادیث پڑھنے میں راویوں کے نام کے ساتھ دعاٸیہ کلمات کااہتمام کیا جاۓ

 اللہ تعالیٰ کے نام کےساتھ تعظیمی لفظ کہے مثلاً  عزّوجل ، عزّاسمُہ، جلّ مجدُہ، سبحانہ و تعالیٰ وغیرہ 
اور آنحضرت ﷺ کے نام پر درود شریف پڑھیں مثلاً 
صلّی اللّه علیہ وسلّم
 اور صحابہ کرام کے نام پر
رضی اللّه عنہ ، رضی اللّه عنھم 
اور صحابیات کے نام پر رضی اللّه عنھا، رضی اللّه عنھنّ
 اٸمہ و علماء کے نام پر 
رحمہ اللّه ، رحمھم اللّه ، رحمتہ اللّه علیہ نور اللّه مرقدہ ، مرحوم  ، مغفور کہیں ۔ 





۵- 

                                                    علم و عمل                                                                                            

 عبادات ، اخلاق ، آداب کی جو حديث پڑھیں اس پر عمل کریں کیونکہ اس سے حدیث محفوظ ہوجاتی ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔

 امام وکیعؒ فرماتے ہیں

 اذاردتَ ان تحفظ الحدیث فاعمل بہ

جب تو حدیث یاد کرنے کا ارادہ کرے تو اس پر عمل کیجیے


 امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں

ما کتبتُ حدیثاً الا وقد عملتُ بہ ، حتی مرَّبی انّالنبیﷺ اجتجم ، واعطیٰ ابا طیبة الحجام دیناراً ، فا حتجمت واعطیت الحجام دیناراً

 میں نے کوئی حدیث نہیں لکھی مگر اس پر عمل کیا حتیٰ کہ میرے سامنے یہ حدیث گزری کہ نبی ﷺ نے پچھنے لگواۓ ، اور ابو طیبہ حجام کو ایک دینار ( سونے کا سکہ) دیا تو میں نے اتباع میں پچھنے لگواۓ ، اور حجام کو ایک دینار دیا ۔



                                                    ٦-ادب       


اپنے شیخ،استاد، والدین، کتاب، مدرسہ،احباب،ہم مکتب تمام کی تعظیم وادب علم نافع کے حصول کے لیے ناگریز ہے ،ورنہ مشہور ہے
                                                     

بےادب محروم گشت از فضلِ ربّ


 چناچہ حضرت عمر ؓ کا ارشاد ہے 

تو اضعو المن تَعَلَّمونَ منہ  

جن سے علم سیکھتے ہو ان سے عاجزی و ادب سے پیش آٶ 



اسی طرح حضرت علیؓ فرماتے ہیں 


 اَنا عبدُمَن عَلَّمنی حرفاً، اِن شاءباع،وان شاءاعتق  


جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اسکا غلام ہوں اور وہ میرا آقا ہے اگرچہ مجھے بیچے یا آزاد کرے

استاد کی تعظیم کا معیار یہ ہے کہ پس پشت بھی کوئ ایسا قول وفعل نہ ہو جو استاد تک پہنچنے کی صورت میں اس کے لیے باعث اذیت ہو،اور یہ بھی ادب ہے کہ علمیت میں استاد کی ترجیح کا اعتقاد رکھے،ورنہ علم سے انتفاع نہ ہوگا۔
ادب کا حاصل ہے حفظ حدود اور اداۓ حقوق حدود کا خیال رکھتے ہوۓسب کے حقوق ادا کرنا۔ورنہ اس میں کوتاہی پر ندامت و حسرت ہوگی۔

بقول شاعر


افسوس ہے وقت سے مہلت نہ لے پاۓ ہم
جو استادوں کا حق تھا ان کو وہ عزت نہ دے پاۓ ہم
جو ہم سے ہو نہیں پایا وہ کام اب تم کرنا
مدرسے کی قدر کرنا معلم کا ادب کرنا


Sight of Right

214 comments / Replies

  1. جو شخص حفاظت علم کا ارادہ کرے پس لازم ہے کہ_____________ کا التزام کرے

    ReplyDelete
  2. پہلی _________ اگرچہ دو ہی رکعت ہوں

    ReplyDelete
  3. چوتھی کھاوے وہ شخص ________ کہ نہ کہ شہوت کے

    ReplyDelete
  4. تیسری________اختیار کرنا ظاہر و باطن میں

    ReplyDelete
  5. پانچویں خصلت ________ ہے

    ReplyDelete
  6. علم حدیث میں محنت صرف اس لیے کرے کے خدا تعالیٰ کی________ ہو

    ReplyDelete
  7. جو شخص ______ کو دنیاوی سازو سامان کے لیے حاصل کرتا ہے وہ قیامت کے دن________ بھی نہ پاۓ گا۔

    ReplyDelete
  8. علم حدیث کے طالب اور طالبہ کو _________ کا اہتمام اور _____________ سے اجتناب کرنا چاہیے

    ReplyDelete
  9. جس نے علم حدیث کو حاصل کیا اس نے دین کے__________ کو حاصل کیا

    ReplyDelete
  10. __________ اعمال کو ایسے بگاڑ دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو فاسد کر دیتا ہے

    ReplyDelete
  11. اخلاق حمیدہ میں سر فہرست ________ اور برے اخلاق میں _________ ہے۔

    ReplyDelete
  12. ہر طالب حدیث کو چاہیے طلب حدیث میں بساط بھر کوشش اور _________ کرے۔

    ReplyDelete
  13. علم _______ سے نہیں حاصل ہوتا

    ReplyDelete
  14. جس نے علم حدیث_______ سے حاصل کیا وہ کامیاب نہ ہوگا

    ReplyDelete
  15. جس نے علم حدیث کو _______,________ اور خدمت سے حاصل کیا وہ کامیاب ہو گا

    ReplyDelete
  16. جو _________ کا طالب ہو وہ رات کو جاگتا ہے۔

    ReplyDelete
  17. کیونکہ بقدر محنت ہی _________ حاصل ہوتے ہیں

    ReplyDelete
  18. احادیث پڑھنے میں راویوں کے نام کے ساتھ_______ کا اہتمام کیا جاۓ

    ReplyDelete
  19. جب تو حدیث یاد کرنے کا ارادہ کرے تو اس پر___________ کیجیئے

    ReplyDelete
  20. حضرت امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں :
    میں نے کوئ _____ نہیں لکھی یہاں تک مگر اس پر عمل کیا

    ReplyDelete
  21. اللّٰہ تعالٰی کے نام کے ساتھ _______لفظ کہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. عزّوجل ، عزّاسمُہ، جلّ مجدُہ، سبحانہ و تعالیٰ وغیرہ

      Delete
  22. ______________محروم از گشت فضل ربی

    ReplyDelete
  23. جن سے علم سیکھتے ہو ان سے ___________ سے پیش آؤ

    ReplyDelete
  24. عبادات،اخلاق،آداب کی جو ______پڑھیں اس پر عمل کریں

    ReplyDelete
  25. جب تو حدیث یاد کرنے کا ارادہ کرے تو اس پر_____کیجیے

    ReplyDelete
  26. حتٰی کے میرے سامنے سے یہ حدیث گزری کہ نبیﷺ نے _____لگواۓ

    ReplyDelete
  27. اور _____کو ایک دینار (سونے کا سکہ) دیا

    ReplyDelete

  28. اپنے شیخ،استاد، والدین، کتاب، مدرسہ،احباب،ہم مکتب تمام کی _____ کے حصول کے لیے ناگریز ہے

    ReplyDelete
  29. بے ادب ______ از فضلِ ربّ

    ReplyDelete
  30. تو اضعو المن ______ منہ

    ReplyDelete
  31. جن سے علم سیکھتے ہو ان سے _____ سے پیش آٶ

    ReplyDelete
  32. جس نے مجھے _____ سکھایا میں اسکا غلام ہوں اور وہ میرا آقا ہے اگرچہ مجھے ______ کرے

    ReplyDelete

  33. ادب کا حاصل ہے _____ خیال رکھتے ہوۓسب کے حقوق ادا کرنا۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. حفظ حدود اور اداۓ حقوق حدود

      Delete
    2. حفظ حدوداوراداۓحقوق حدود

      Delete
    3. حفظ حدود اور ادائے حقوقِ حدود

      Delete
    4. Hifz e hadood or adaye hoqooq e hadood

      Delete
  34. اس میں کوتاہی پر ______ ہوگی۔

    ReplyDelete

Powered by Blogger.