Ahl e Bait Athaar R.A or Qadyani

۞اہلِ بیت اطہار رضی اللّہ تعالی عنہم اور قادیانی ۞



امام الانبیاءﷺ کے گھر والوں کو اہلِ بیت کہا جاتا ہے۔سید الکونینﷺ کی اولاد کو امت میں عقیدت و احترام کا خاص مقام حاصل ہے۔جناب رسالتِ مآبﷺ کے بیٹے بچپن میں فوت ہو گۓ تھے۔حکمتِ ایزدی کے تحت آپﷺ کو اولادِ نرینہ کی بجاۓ خاتم الانبیاء کا اعزاز بخشا گیا۔رحمتِ دوعالمﷺ کا نسب پاک آپﷺ کی بیٹیوں کی وساطت سے آگے بڑھایا گیا۔

اہلِ بیتؓ سے محبت جزو ایمان ہے۔سرورِ کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا۔

اے اللّہ میں ان سے محبت رکھتا ہوں آپ بھی ان سے محبت فرمائیں اور جو ان سے محبت کریں ان سے بھی محبت فرمائیں۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ  سے روایت ہے کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے لیے جب آیات قرآنی نازل ہوئیں تو سرکار دوعالمﷺ،حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ  کو لے کر میدان میں نکلے اور فرمایا!

۞"یہ میرے اہلِ بیت ہیں"۞


حضرت عائشہؓ راوی ہیں کہ ایک روز جناب رسالتِ مآبﷺ گھر کے صحن میں کملی اوڑھے ہوۓ تھے کہ حضرت حسنؓ  باہر سے تشریف لاۓ۔آپﷺ نے انہیں اپنی کملی مبارک میں لے لیا۔اسی طرح حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کو بھی اپنی چادر میں لے لیا۔جب حضرت حسینؓ آۓ تو انہیں بھی اپنی کملی مبارک میں لے لیا اور فرمایا!

پروردگارِ عالم یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔یہ میرے مددگار ہیں۔انہیں نجاست سے اسی طرح پاک رکھیے جس طرح رکھنے کا حق ہوتا ہے۔

سرتاج الانبیاء ﷺ نے ازواجِ مطہرات کو امت کی مائیں قرار دیا۔حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا


۞"میں علم کا شہر ہوں، علیؓ اس کا دروازہ ہے۔"۞

حضرت فاطمہؓ کے متعلق فرمایا

۞"یہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے"۞

حضرت حسن و حسینؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا

۞"یہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں"۞

ایک مرتبہ جناب رسالتِ مآبﷺ مسجد نبوی میں جمعة المبارک کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ دونوں شہزادے حسنؓ اور حسینؓ مسجد میں داخل ہوۓ۔معصوم اور چھوٹے بچے تھے کبھی گرتے کبھی اٹھتے۔رحمتِ دوعالمﷺ نے دیکھا تو خطبہ روک دیا۔دونوں نواسوں کو اٹھایا،چوما اور پیار کیا۔سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ حضرت حسینؓ کا جسم اور حضرت حسنؓ کی شکل جناب رسالتِ مآبﷺ سے مشابہت رکھتی تھی۔سرکار دوعالمﷺ اہلِ بیت میں بالخصوص حضرت حسینؓ سے بہت پیار کرتے تھے۔سیرت میں ہے کہ آقاۓ نامدارﷺ حضرت حسینؓ کو چوما اور سونگھا کرتے تھے۔چومنا اولاد کی محبت کا فطری تقاضا تھا۔اور آپﷺ سونگھتے اس لیے تھے کے جسمِ حسینؓ سے جنت کی خوشبو آیا کرتی تھی۔نواسہ رسولؓ، جگر گوشہ بتولؓ نے میدان کربلا میں دین کی بقا اور اسلام کی سر بلندی کے لیے جرأت، شجاعت، صبر و استقامت کا ایسا فقید المثال مظاہرہ کیا جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جاۓ گا۔

؎ ستم شعار تو دنیا سے مٹ گٸے لیکن
      جبینِ دُہر   پہ  یادِ امام   باقی   ہے

مرزا غلام احمد قادیانی نے اہلِ بیت کی پاک طینت ہستیوں کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے خبثِ باطن کا ثبوت دیا ہے۔خاص طور پر حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضرت حسینؓ کی شان میں ایسی گستاخیاں کی ہیں کہ الحفیظ الامان۔

امت کے تمام علماءکرام نے ہر دور میں حضرت فاطمہؓ  اور حضرت حسن و حسینؓ کو خراج عقیدت پیش کیا اور جس بدزبان نے ان کے بارے میں زبان درازی کی امت نے ان کی زبانوں کو لگام دی اور ایسے فرد کو مسلمان تسلیم نہیں کیا۔






دیکھیے نام نہاد احمدیت کا بانی،جھوٹا مدعی نبوت، خود ساختہ مسیح موعود ان پاکدامن، پاکباز،جنت کی بشارت پانے والے اہل بیت طہارؓ خاص طور پر حضرت فاطمہؓ،حضرت حسن و حسینؓ کے بارے میں کیا زبان درازی کرتا ہے اور کس طرح امت کی ان برگزیدہ ہستیوں کی شخصیت کو داغدار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔پڑھیے اور نعوذ باللّہ پڑھتے رہیے۔کانوں کو ہاتھ لگائیے اور ایسے شخص سے بیزاری کا اعلان کیجیے۔

کیا ایسے بدطینت شخص کو زیب دیتا ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرے یا نام نہاد احمدیت کو اسلام کا ایک فرقہ قرار دے؟۔ہرگز نہیں۔اسلام اور مسلمانوں کا ہر فرقہ،ہر مسلک،ہر جماعت ان تمام خرافات سے برأت کا اظہار کرتی ہے۔مرزا مسرور فیصلہ کرے کہ کیا یہی وہ اسلام ہے جس کا اظہار آپ اپنی قادیانی جماعت کی طرف سے کرتے ہیں؟

ملاحضہ کریں مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتیں


پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔اب نئی خلافت لو۔ایک زندہ علی (مرزا) تم میں موجود ہے۔"
اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کی تلاش کرتے ہو۔

(ملفوظات ص142، مرزا غلام احمد قادیانی)
°°°°°°°°°°°°°°°°°°


اور انہوں نے کہا اس شخص(مرزا) نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔میں کہتا ہوں ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔"  

(اعجاز احمدی ص 52،خزائن ص 164 ج 19)
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

 مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔

اعجاز احمدی ص69،خزائن181،ج 19 غلام احمد قادیانی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°

میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔

(اعجاز احمدی ص81،خزائن ص193،ج 19)
°°°°°°°°°°°°°°°°°°

؎ کربلاۓ است سیر ہر آنم
   صد حسین است گریبانم

ترجمہ
میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔سو(١٠٠) حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔

نزول المسیح ص99،خزائن ص477،ج18 از مرزا غلام احمد قادیانی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اے عیسائی مشزیو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے اور قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔"

دافع الابلاص13،خزائن ص233،ج18 از مرزا غلام احمد قادیانی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°


حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔

ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص11،خزائن ص213،ج18
°°°°°°°°°°°°°°°°

اے مسلمان! حضرات اہل بیت اطہارؓ کے متعلق قادیانی عقائد آپ نے ملاحضہ کیے۔کیا ان کفریہ عقائد کے حامل قادیانی گروہ سے مراسم آنحضرتﷺ کی ذات اقدس سے دشمنی کا نتیجہ تو نہیں؟ورنہ آپﷺ کی محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جاۓ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°


162 comments / Replies


  1. اہلِ بیتؓ سے محبت........... ہے۔

    ReplyDelete
  2. امام الانبیاءﷺ کے گھر والوں کو........ کہا جاتا ہے۔

    ReplyDelete
  3. حکمتِ ایزدی کے تحت آپﷺ کو اولادِ نرینہ کی بجاۓ.......... کا اعزاز بخشا گیا

    ReplyDelete
  4. رحمتِ دوعالمﷺ کا نسب پاک آپﷺ کی........ کی وساطت سے آگے بڑھایا گیا۔

    ReplyDelete
  5. یہ جنت کے نوجوانوں کے........ہیں

    ReplyDelete
  6. سرتاج الانبیاء ﷺ نے ازواجِ مطہرات کو امت کی......... قرار دیا۔

    ReplyDelete
  7. حضرت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی شکل جناب رسالتِ مآبﷺ سے مشابہت رکھتی تھی

    ReplyDelete
  8. چومنا اولاد کی محبت کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا۔

    ReplyDelete
  9. مرزا غلام احمد قادیانی نے اہلِ بیت کی پاک طینت ہستیوں کے خلاف......... کر کے خبثِ باطن کا ثبوت دیا ہے۔

    ReplyDelete

  10. میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین... ۔..کا کشتہ ہے۔پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔

    ReplyDelete
  11. حضرت فاطمہ نے..........میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔

    ReplyDelete
  12. السلام عليكم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
    دیکھیں تکرار کا صرف یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیں ۔آپ سب بہنیں آپس میں ایک دوسرے سے سوالات کریں اور جواب دیں ۔
    جزاک اللہ خیرا کثیرا

    ReplyDelete
  13. آج میں نے اسی لئے ذرا کم سوالات بناے ہیں تا کہ آپ سب بھی سوال بنا سکیں ۔

    ReplyDelete
  14. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں علم کا شہر ہوں ________اس کا دروازہ ہے۔

    ReplyDelete
  15. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے _____ کا ٹکڑا ہے۔

    ReplyDelete
  16. پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو ۔اب نٸ خلافت لو۔ایک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم میں موجود ہے

    ReplyDelete
  17. مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مل رہی ہے

    ReplyDelete
  18. کشفى حالت کا مطلب کیا ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.